کالم

واقعہ پٹھان کوٹ پاکستان سے نتھی کرنے کی کوشش

آج ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بھارت نے2 جنوری 2016کو پٹھان کوٹ کے ائیربیس کے سانحہ کو پاکستان سے نتھی کرنے کی اپنی سر توڑ اور سینہ زور کوششیں تیز کردی ہیں جس کے لئے بھارتی حکومت، عسکری قیادت، اپوزیشن جماعتیں، بھارتی علیحدگی و انتہاپسند تنظیمیں،بھارتی تحقیقاتی ادارے اور میڈیاسمیت بھارتی عوام نے بھی اپنی تمام توپوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑدیاہے اوراَب یہ سب کے سب اپنے اپنے انداز سے دھیرے دھیرے یہ باورکرانے میں لگے ہوئے ہیں کہ بھارت میں پیش آئے پٹھان کوٹ کے واقعے کے ڈانڈے سرحد پار پاکستان سے ملتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف ایک اٹل حقیقت جِسے اَب تک بھارتی حکومت وبھارتی عسکری قیادت اور بھارتی تحقیقاتی اداروں اور بھارتی میڈیا نے بھی چھپا رکھی ہے وہ یہ ہے کہ 2جنوری 2016ء کو بھارت میں پیش آئے سانحہ پٹھان کوٹ کی اَب تک کی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق بھارت اِس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ سانحہ پٹھان کوٹ میں اِس کی اپنی علیحدگی پسند اور انتہاپسندہندوتنظیمیں اور بھارتی فورسز میں شامل علیحدگی و انتہا پسند اہلکار اوربھارتی شہری ہی ملوث ہیں جنہوں نے حملہ آوروں کی معاونت کی اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ‘ ‘
مگر افسوس ہے کہ اِس حقیقت کے باوجود بھی بھارت اپنی اندرونی چپقلش پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہے اور سانحہ پٹھان کوٹ کا ذمہ دار سرحد پار پاکستان کو قراردینے کی کوششوں میں لگا پڑاہے۔اَب اِس منظراور پس منظر میں بھارت اپنی خامیوں اور کوتاہیوں اور اپنی ڈرامہ بازیوں پر پردہ ڈال رہاہے اور اِس نے پاکستان سے سیکریٹری خارجہ مذاکرات پٹھان کوٹ حملے کی موثر تحقیقات سے مشروط کردیئے ہیں اِس یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ جیسے بھارت اپنی نالائقی اور نااہلی کو چھپانے کے لئے پاکستان کودباؤ میں لیناچاہ رہاہے اِس نے تب ہی پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کردیاہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہی پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھاسکتی
ہے،خبرہے کہ بھارت نے پاکستان سے یہ بھی کہاہے کہ’’ پاکستان کی جانب سے ٹھوس تحقیقات اوربھارت کو اعتماد میں لینے کی صورت ہی میں سیکریٹری خارجہ مذاکرات کا آغاز15جنوری کو ہوگا ‘‘ اوراِس پرمزید یہ کہ بھارتیوں نے ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان سے یہ بھی کہاہے کہ ’’اگرپاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کئے جانے والے ثبوتوں کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی اور اِس ساری صورت حال سے بھارت کو آگاہ کیا تو اِسی صورت میں پاکستان سے سیکریٹری خارجہ مذاکرات شروع کئے جائیں گے ورنہ مذاکرات ملتوی کردیئے جائیں گے‘‘ جبکہ اِدھر بھارت کی جانب سے بیجامطالبات اور خدشات کے جواب میں پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی بھارت پر دوٹوک انداز سے یہ واضح کردیاہے کہ ’’ اَب تک بھارت کی جانب سے جو ثبوت فراہم کئے گئے ہیں اِس پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے بھارت کو اگر شک ہے کہ حملہ آورسرحدپارسے آئے ہیں یا اُن کی کسی قسم کی کوئی معاونت(حالانکہ یہ بھارتیوں کا محض شک اور ڈرامہ بازی ہے) پاکستان کے کسی شدت پسند گروپ نے کی ہے تو بھارت اِس سلسلے میں پاکستان کو مکمل دستاویزات اور تفصیلی ثبوت فراہم کرے تاکہ پاکستان موثر تحقیقات کرکے بھارت کے تحفظات دور کرسکے ،اور اگر بھارت نے مزیدثبوت فراہم نہ کئے تو پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات آگے نہیں بڑھ سکیں گی اورپاکستان اور بھارت کے درمیان سیکریٹری خارجہ مذاکرات ملتوی ہونے کا خدشہ ہے‘‘ ۔جبکہ پاکستان میں سول اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف
ایک پیچ پر ہے اورپاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے یہ دنیامیں اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے اپنی سرزمین اور سرحد کے پار دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا عزم کررکھاہے اور پاکستان نے اِس کا بھی اعادہ بھی کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہاجائے گا، اور دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف بھر پور تعاون جاری رکھیں گے، اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے جانے عزم بھی کیا گیاہے اور اپنے مذاکراتی عمل کو کسی بھی صورت میں سبوتاژ نہیں ہونے دیاجائے گا،اور کہاگیاہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی مُلک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، چونکہ پاکستان پہلے ہی اپنے یہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں آپریشن ضرب عضب شروع کیئے ہوئے ہے پاکستان یہ کبھی نہیں چاہئے گا کہ پاکستان اپنی سر زمین کو کسی مُلک کے خلاف استعمال کرنے اجازت دے،اگر بھارت پٹھان کوٹ کے معاملے میں ثبوت دے گا تو پاکستان صاف وشفاف تحقیقات کرکے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دے گا۔ابھی 25دسمبر 2015ء کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے اچانک پاکستان دورے کے بعد پاک بھارت استوارہوتے تعلقات اور مثالی دوستی کے ساتھ دو ملکوں کے حکمرانوں اور عوام کے درمیان مضبوط ہوتے محبتوں کے رشتوں کی رکھی جانے والی بنیادوں پر دونوں ممالک میں ہونے والے تبصرے اور تجزے جاری ہی تھے کہ بھارت نے سانحہ پٹھان کوٹ کے چند دِنوں بعد ہی پاکستان پر الزام تراشی اور منفی پروپیگنڈوں والی اپنی پرانی روش پھر بھی نہ چھوڑی ۔اَب بھارت پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد ہمارے کان یوں پکڑے یا پھر فوراََ اُسی طرح ہمار ے کان پکڑے جیسا کہ یہ اپنے یہاں ہردہشت گردی کے پیش آئے واقعات کے بعد ماضی میں پکڑتا آیاہے۔ اگرچہ آج بھی ایسا ہی لگ رہاہے کہ جیسے سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد بھارت کے کل اور آج میں کوئی فرق نہیں ہے، کل بھی بھارت کاکام یہی تھاکہ یہ اپنی زمین میں ہونے والی ہر دہشت گردی کا فوراََ ہی ساراالزام پاکستان پر دھردیاکرتاتھا اور آج بھی جب پاکستان یہ سمجھتارہاکہ مودی اپنے 120افراد کے ہمراہ پاکستان آئے اور پاکستانی نمک اپنی زبان اور حلق کے راستے اپنے پیٹ میں اُتارچکے ہیں تو کچھ تو نمک حلالی کریں گے مگر ایسانہیں ہواآج تین ہفتے بعد پھر بھی بھارتیوں نے وہی کردیا جس کی توقع ہم اِن سے بھول چکے تھے ۔اِس میں شک نہیں ہے کہ سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد بڑی شدت سے یہی محسوس کیا جانے لگا ہے کہ بھارت پٹھان کوٹ کا ذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دے رہاہے۔مگر آج فرق صرف اتنا ہے کہ اِس مرتبہ بھارت نے پاکستان پر فوراََ الزام تراشی تو نہیں کی ہے مگر کچھ دنوں بعد بڑے ڈرامائی انداز سے وہی کچھ کررہاہے جیسا بھارت ہر بار کرتاآیاہے ۔آج بس..!! 2جنوری 2016کے سانحہ پٹھان کوٹ پر بھارت نے یہ کیا ہے کہ اِس نے پاکستان پر الزام تراشی کے لئے بڑے ڈرامائی انداز سے جس مہارتی تیکنیک کا مظاہرہ کیا ہے اَب یہ بھی پاکستانیوں سمیت ساری دنیا کو سمجھ آنے لگاہے۔ اِس مرتبہ بھارت اپنے جس ڈرامائی انداز کو اپنارہاہے اور اپنے بھارتی شہریوں اور دنیا والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ بھارت تو اپنے پڑوسیوں سے اچھے دوستانہ تعلقات استوار کرناچاہ رہاہے، تب ہی اِس نے سرحد پار کسی مُلک کا تُرنت نام نہیں لیا ہے مگر سرحدپار کسی مُلک کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے لئے بھی کھلا میدان نہیں چھوڑے گا۔ایسے میں یہاں یہ بات واضح ہوئی کہ ہم پاکستانی کچھ بھی اچھاکرلیں مگر بھارت پاکستان کا کبھی بھی اچھاپڑوسی اور اچھا دوست نہیں بن سکتاہے ، اِس کے دل اور دماغ میں ہمیشہ سے جو پاکستان سے نفرت کی چنگاری موجودتھی وہ آج بھی موجودہے اور کل بھی موجودہ رہے گی، جو کبھی بھی کسی بڑے شعلے کو بھڑکا کرکوئی بھی سانحہ جنم دے دیگی اور یوں بھارت ہر مرتبہ اپنی اندرونی چپقلش کا الزام بھی پاکستان کے سر دے مارتارہے گا۔

اقتصادی راہداری کو کالا باغ ڈیم نہ بنایا جائے

صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔دونوں کو ہر روز بلکہ اب تو ہر لمحے ایک نئے موضوع ایک نئی ہیڈ لائن یا نئے ٹکر کی ضرورت رہتی ہے۔اور اس میں کافی حد تک مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کسی نے کچھ تو بیچنا ہوتا ہے۔صحافی نے اپنی خبر کو بیچنا ہوتا ہے۔اور سیاستدان نے اپنے نئے بیان کو بیچنا اور کیش کرنا ہوتا ہے۔میڈیا کی بھی بہتات ہے۔پرنٹ میڈیا بھی ان گنت اخبار شائع کر رہا ہے۔اور الیکٹرانک میڈیا بھی ہر سیکنڈ میں نئے ٹکر اور نئی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے۔مقابلے کے اس چکر میں بعض اوقات بڑی غیر ذمہ دارانہ بیان بھی شائع ہو جاتے ہیں۔ہم نے شاید اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ دنیا اور خاص طور پر پاکستان کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔اس کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی ہیں یا نہیں۔اور اس کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کرنے پڑیں گے۔بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ رویے اپنے مخالفین کو زچ کرنے یا ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جس سے ملکی ترقی برسوں، دہائیوں بلکہ صدیوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ان میں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بھی ہے۔اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف وہ لوگ بھی بیان بازی کرتے رہے۔جو اس خطے کے جغرافیے سے کوئی واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ ان کو ڈیم کی اصل لوکیشن کا ہی پتہ نہیں ہے۔لیکن وہ اپنے بیان کو تین چار کالم سرخی کے ساتھ شائع کرانے کے لئے متنازعہ بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔اس ڈیم کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ہر سال کتنا نقصان ہو رہا ہے ۔ کتنی زمینیں ، فصلیں ، مکان اور جانور سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کتنے ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں ۔ جو زمینیں سیراب ہو کر سونا اگل سکتی ہیں وہ بنجر اور ویران پڑی ہیں۔لیکن کچھ لوگ ذاتی انا کا مسئلہ کھڑا کر کے اس منصوبے کے خلاف بیان دئیے جا رہے ہیں۔انہوں نے روزِ اول سے اس منصوبے کی مخالفت میں بیانات جاری کئے اب اس کے حق میں بیان دینے کو اپنی ہتک سمجھ رہے ہیں۔اسی طرح جب پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات چیت شروع ہوئی ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان جھاڑ دیا جاتا ہے۔لیکن اس منصوبے کا آغازکرنے سے پہلے تما م سیاسی پارٹیوں اور تمام صوبوں کی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔اس سلسلے میں ایک سے زیادہ میٹینگز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی ہوئیں جس دن فائنل بریفنگ لینے کے بعد تمام پارٹیاں مطمئن ہوئیں۔اس کے بعد ہر جگہ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔پہلے یہ باتیں مشہور کی گئیں کہ گوادر سے اقتصادی راہداری کا روٹ براستہ لاہور ہوگا۔لیکن جب صوبائی حکومتیں اور سیاسی قوتیں اعتماد میں لی گئیں تو ایک فیصلہ ہو گیا ۔ بلکہ ایک سادہ سا خاکہ اور روٹ کے راستے میں آنے والے علاقہ کا نقشہ بھی شائع کیا گیا۔اس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف متعدد بار اس بات کا واشگاف الفاظ میں اظہار کر چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مقرر کردہ روٹ کو بالکل تبدیل نہیں کیا جائے گا۔اور یہ روٹ صرف بننے والی سڑکوں کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ ہوٹلز، پٹرول پمپس کے علاوہ بہت سارے تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔یہ اقتصادی راہداری صرف گوادر سے کاشغر تک نہیں بلکہ سارے سنٹرل ایشیاء تک استعمال ہوگی۔ پاکستان میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو ہو گا۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہاں ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ابھی شاید یہ لوگ اس بات کا اندازہ نہ کر سکیں کہ یہاں کتنی بڑی ترقی ہوگی۔پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔وزیراعظم پاکستان نے اس راہداری کو پہلے ہی دو رویے سے تبدیل کر کے چار رویہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بلکہ موٹروے جھنگ باہتر سے لے کر ڈیرہ اسمٰعیل خان تک مولانا فضل الرحمن صاحب کا آبائی شہر ہے۔لیکن اس کے باوجود اقتصادی راہداری پر مولانا صاحب کے مخالفانہ بیان سمجھ سے بالاتر ہیں۔یہاں میں ایک ذاتی قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں مجھے واپڈا میں روزگار کے سلسلے میں چند سال گزارنے کا موقع ملا۔میری پہلی پوسٹنگ سرگودہا میں تھی۔میں سرکاری جیپ لے کر فیلڈ کے ایک گاؤں میں گیاتو اس گاؤں کے بڑے کو ملنے کی ضرورت پیش آئی۔وہ بہت اخلاق سے پیش آئے ۔ میری بہت آؤ بھگت کی۔اٹھتے ہوئے بظاہر التجا لیکن تحکمانہ لہجے میں درخواست کی کہ یہاں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔لیکن آپ نے ایک مہربانی کرنی ہے کہ ہمارے علاقے کے کسی بھی فرد کو اپنے محکمے میں دیہاڑی دار (ڈیلی ویجز) کے طور پر بھی کام پر نہیں لگانا۔یہ میرے لئے عجیب درخواست تھی۔میرا خیال تھا کہ یہ مجھے اپنے دوچار بندے کام پر لگانے کے لئے کہیں گے ۔ لیکن وہ تو الٹا منع کر رہے تھے۔میں نے عاجزانہ انداز میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو وہ چوہدری صاحب بولے کہ پھر ان لوگوں کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں اور ہمارے ذاتی کام نہیں کرتے۔ان کی اس وضاحت کے بعد مجھے اندازہ ہو اکہ یہ لوگ اپنے علاقے میں اچھے تعلیمی ادارے اور اچھے ہسپتال کیوں نہیں بننے دیتے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ گاؤں کا ہر شخص ہر وقت ہر کام کے لئے ان کا محتاج رہے۔اسی قسم کی سوچ آج بھی بہت سارے علاقوں میں موجود ہے۔خاص طور پر غیر ترقی یافتہ علاقوں میں ایسی ذہنیت ہر جگہ موجود ہے۔بلوچستان تو آج تک اسی ذہنیت کا شکار رہنے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبا رہا۔اب جب ان لوگوں کو جگمگاتا ہوا بلوچستان اور جنوبی خبر پختونخواہ نظر آتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں ۔ ان کو نظر آ رہا ہے کہ یہاں کا نوجوان ان کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔اس اقتصادی راہداری کے ساتھ ارد گرد بین الاقوامی تعلیمی ادارے (کالجز ،یونیورسٹیاں ) اور ہسپتال تعمیر ہونگے۔بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ نوجوان جو سارا دن روٹی خرچے پر ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں وہ ہنر سیکھ کر ہزاورں روپے ماہوار کے مزدور بن جائیں گے۔یہ منفی ذہنیت انہیں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔مجھے ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان شخص وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی بیان بازی پر بڑی حیرانگی ہوئی کہ ہمارے حقوق نہ دئیے گئے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔بھائی حقوق تو آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جہاں سے اقتصادی راہداری کا روٹ ہوگا۔اس کے اردگرد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔کیااس علاقے کی گاڑی اس روٹ پر سفر نہیں کر سکیں گی؟یا وہاں کے لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔جیسا کہ کالم کے آغاز میں میں نے ذکر کیا کہ کچھ لوگ صرف بیان بازی کے لئے بیان جاری کر دیتے ہیں اور خواہ مخواہ ایک شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اقتصادی راہداری کا روٹ باقاعدہ اور باضابطہ طے ہو گیا تھا۔اس کی تفصیل بھی جاری کر دی گئی تھی۔لیکن کچھ لوگ صرف سستی شہرت کے لئے کچھ نہ کچھ معاملہ کھڑا کئے رکھتے ہیں۔یہ روٹ پہلے دن سے کسی قسم کا متنازعہ نہیں تھااور نہ اب ہے۔لیکن اس کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔اور پھر سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے جن کو بالکل ہی اندھیرے میں رکھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی جارہی ہے۔یہ وقت ہے کہ ملک کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے ہر ادارہ ، ہر سیاسی قوت اور ذی شعور انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا اپنا حصہ ڈالے اور جو لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے بلاوجہ شور کرتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے

درپیش چیلنجز اور ہمارا کردار!

اس وقت پاکستان کو بین اقوامی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے ۔ایران اور سعودی عرب کے درمیاں جو تلخی بڑھ رہی ہے اس کی زد میں دیگر خلیجی ممالک بھی آرہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس صورتحال کو جلد از جلد کنٹرول کیا جا ئے ۔ ہم خود کو مو جو د صورتحال میں الگ نہیں رکھ سکتے کیو نکہ اس کے نتیجے میں شیعہ سنی آگ بڑھتی جائے گی جس سے پاکستان بھی بچ نہیں سکے گا۔عالم اسلام کو چاروں طرف سے جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ عالم اسلام کا دفاعی، سیاسی ، معاشی اور علاقائی سطح پر ایک بہتر اتحاد اور عالم اسلام کو دوٹوک مو قف اپنانا چائیے۔ٰیہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں ورنہ ماضی کی یہ ایک روایت ہے رہی ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن نے ہمیشہ برملا طور پر امریکہ کو پاکستان کا نااعتبار دوست ٹھہرایا ہے ،لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امریکہ کی چھتری میں حکومت کرنے میں اپنی عافیت سمجھی ہے۔ اس تناظر میں یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ روز اول سے ہم سامراج کے حق میں استعمال ہوئے ہیں اور آج بھی سامراج ہمیں کھلونا بنانے پر تلا ہوا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم آگے کے جانب بڑھ رہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اتحادی کے طور پر مشہور ہیں ، اور سرمایہ دارانہ نظام کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔یہ کہنا کہ موجودہ حکمران اس راستے پر چل پڑے ہیں درست نہیں ان کے لیئے تو اس راستے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ملک کو موجودہ ڈگر پر چلانے کیلئے اسے بھر حال اس راستے پر چلنا ہوگا جس کے نقوش ماضی کے حکمرانوں نے چھوڑے تھے ۔ہمارے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مئی 1950 ؁ء کو امریکہ کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پہلا دورہ کیا تھا اس دورے کا مقصد انہوں نے پاکستان کیلئے دفاعی امداد کا حصول قرار دیا تھا جس کیلئے اکتوبر 1947 ؁ء میں پاکستان امریکہ سے مطالبہ کر چکا تھا آئندہ پانچ سال کی ضروریات کے لئے پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دو ارب ڈلر کی امداد کی ضرورت ہوگی چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان اس عزم اور ارادے سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے اور بظاہر کامیاب لوٹے تھے ۔وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پہلے دورے میں امریکی حکام سے اپنی بات چیت میں انہیں یہ باور کرایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے جڑا رہے گا اور اس نظام کے استحکام کے لیئے امریکہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتا رہیگا اور انہوں نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ’’ ہم جانتے ہیں کہ آپ جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں اس کام میں آپ پاکستان کو اپنا دوست پائینگے ‘‘ چنانچہ ان کی اس یقین دہانی کے بعد پاکستان کا ہر حکمران ان کے اس عہد کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرسکتا ہے اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کی دوستی قائم اور دائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا سفر جاری ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوبی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کونسل نے جنوری 1951 ؁ء کو یہ قراداد منظور کر لی تھی اور اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین نے اس پر دستخط ثبت کئے تھے کہ ہمیں جنوبی ایشا میں ایک ایسا رویہ چائیے جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی اس بات میں مدد کریں زمانہ امن میں جن چیزوں کی خواہش ہوتی ہے انہیں اور اور زمانہ جنگ میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو اس علاقے سے حاصل کر سکیں اور ان میں سے کوئی چیز سویت یونین حاصل نہ کر سکے ۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس قراداد کی روشنی میں اگر اپنی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے جنگ اور امن ہر دو حالات میں ہمیں استعمال کیا ہے اگر چہ امریکہ نے ہمیں فوجی امداد دی اور اقتصادی قرضے بھی عنایت کئے لیکن اس کے بدلے میں ہماری آذادی سلب کی گئی اور ہمیں آلہ کار بنا کر اس نے ہمیں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کا راستہ روکنے کی کوشش کی اس طرح امریکہ نے دو فوائد حاصل کئے ایک یہ کہ اس نے یہاں اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم کیا اور دوسرا یہ کہ اس نے سویت یونین کے خلاف ہمیں استعمال کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی۔ہمارے وزیر اعظم کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد اسی سال میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کا فوجی ساز وسامان خریدنے کا معاہدہ ہوا اور اس کے دو سال بعد مزید معاہدات ان دونوں دوستوں کے درمیان طے پاگئے اور یوں دوستی کا سفر جاری ہوا جو آج تک جاری ہے اور آج بین الاقوامی دنیا میں ہماری شناخت بھی امریکہ کے دوست کی حیثیت سے مشہور ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور اس دوستی میں مزید گرم جوشی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان 1954 ؁ٗ ؁ٗ ؁ء کو کا ممبر بنایا گیا اور ایک سال بعد 1955 ؁ء میں سینٹو کا رکن بنا ان معاہدات میں شمولیت سے ہم امریکہ کے تو قریب ہوگئے مگر پڑوسیوں کی نظروں ہم ناقابل اعتبار ٹھہرگئے ہمارا تعارف سامراج کیلیے ایک آلہ کار کی حیثیت سے مشہور ہوا سامراجی مفادات کو اپنا نصب العین بناکر اپنے خطے کے ممالک کو ہم نے اپنادشمن بنا لیا اور یوں ہمارا ملک ناعاقبت اندیش اور آلہ کار قیادت کی وجہ سے سامراج کے حق میں خوب استعمال ہو اور تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ فرعونی طرز سیاست کو اپنا کر اپنے عزائم کے پورا کیا ہے ،فرعون نے بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو اوالہ فارمولا اپنایا تھا اور اسی فارمولے پر ہر دور میں سامراج نے بھی خوب عمل کیا ہے چنانچہ امریکہ نے ایک طرف کمیونزم کا ہوا کھڑا کر کے اس کا راستہ روکنے کیلئے کسی دور میں انتہا پسند مذہبی تحریکوں جماعتوں کی آکی نشوونماں کی اور انہیں پروان چڑھایا اور انہیں اسلحہ اور بود وباش فراہم کی سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یہ حربہ خوب اپنایا جو کامیاب رہا اور جو بھی راستہ میں مزاحم ہوا اسے منظرہی سے ہٹادیا گیا اور یا عوام الناس میں اسکی حیثیت ہی مشکوک بنادی گئی جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان میں ذولفقار علی بھٹواور صدام حسین جیسے لیڈروں کو راستے سے ہٹادیا گیا اور مصر کے جمال عبد الناصر فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور شام کے حافظ الاسد کی کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا اور ان پر فتوے وغیرہ داغے گئے ر انہیں مطعون کیا گیا۔ایک طرف امریکہ نے تقسیم کرنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری طرف اس نے ہماری معیشت کو نشانہ بنایا اور ملک کی سیاست کو کمزور کیا اس مقصد کیلئے اس نے اپنے سیاسی اور بیوروکریسی کو آ لہ کار کے طور پر استعمال کیا ہماری سیاست امریکہ کی تابع ہوگئی اور اور معاشی طور پر ہم مفلوج ہوگئے امداد اور قرضوں کے نام پر ہمارا استحصال کیا گیا اور یوں غریبوں کے نام پر حاصل کیا گیا قرضہ ملک کی غربت کا باعث ہوا ملک کی مصنوعات کو فیل کردیا گیا اور پورا ملک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تابع ہوگیا اور یوں امریکہ کے ساتھ ہمای دوستی کی پینگی ہمارے گلے کا روگ بن گیا اور محتاجی ہمارا مقدر ٹھر گئی اور اب جبکہ حالات نے پلٹا کہایا ہے اور ہمارے فیصلے خود ہونے لگے ہیں اور سوات اپریشن کے تناظر میں معلوم ہوتا ہے کہ سامراج کو زک پہنچ رہی ہے اور اس کا میڈیا چیخ رہا ہے دیکھتے ہیں حالات کیا پلٹا کھاتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر : مفتی سعید کاانتقال اور یومِ حق خود ارادیت

مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید اگلے روز دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن تھا۔ مفتی سعید 12 جنوری 1936ء کو ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر انہوں نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر میں کانگریس کی کمان سونپی تھی اور دہلی میں سیاسی جلاوطنی کے دوران انھوں نے مسلم خطوں میں انتخابات جیتے اور جنتا دل کے دور حکومت میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیرداخلہ بن گئے۔ گذشتہ برس یکم مارچ کو مفتی سعید نے دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن اقتدار کی سالگرہ سے پہلے ہی وہ علیل ہوگئے۔ مفتی سعید کی دو بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی ہیں۔ ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں جن کی مفتی سعید کی جانشین کے طور پر ریاست کی وزیرِ اعلیٰ بننے کی خبریں گرم ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مفتی سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گی۔مرحوم ساری عمر بھارت کے رحم و کرم پر رہے اور کشمیریوں کو ان کا احق خود ارادیت دینے میں ناکام رہے۔ انکی زندگی میں کشمیریوں کی طرف سے آخری یوم حق خود اراردیت صرف دوروز قبل ہی5جنوری کو منایا۔کشمیری عوام کو ان سے ہمیشہ ہی گلہ رہا کہ مرحوم اقتدار کے مزے تو لیتے رہے لیکن کشمیری عوام کے لئے کچھ نہ کیا۔ ’’حق خود ارادیت‘‘ کشمیر یوں کا جائز مطالبہ ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا گھڑا ہو امطالبہ نہیں بلکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب رائے کا موقع دیا جائے گا۔شومئی قسمت کہ پچھلے 66برس سے یہ موقع فراہم نہ کیا گیا،اس ظلم اور زیادتی کے خلاف کشمیری ہر سال پانچ جنوری کو عالمی برادری کو ضمیر جھنجوڑتے ہیں۔بھارت عالمی ضمیر کی بے حسی فائدہ اُتھاتے ہوئے اپنے قبضے کو جہاں طول دے رہا ہے وہاں اسے مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ایسے میں پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی بات بھارت کو قطعاً قبول نہیں ،وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول کر دیگر معاملات پر بات چیت کرے۔تنازعہ کشمیر بھارت کا پیدا کردہ ہے اسے یواین کی قراردوں کے آگے ستینڈر کرنا ہوگا۔یہی اس کا واحد حل ہے۔اگرچہ مودی نے گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران پاکستان سے تعلقات کو نارمل رکھنے کی ایک کوشش کی ہے لیکن اس سے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ کشمیر ایشو پر کیا پیشرفت کرنے پر آمادہ ہے۔بھارت کی اب تک کی چالوں سے تو کوئی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔اس سلسلے میں اگر گزشتہ برس کا طائرانہجائزہ لیا جائے تو وہ بھارت کی روایتی ہت دھرمی کا واضح ثبوت ہے،اس سلسلے میں سال 2015 لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اورگولہ باری کا بدترین سال ثابت ہوا۔سال بھر بھارتی فوج نے 68 بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں رینجرز کے آٹھ جوانوں کے علاوہ 25 پاکستانی شہری جن میں بچے ،خواتین، اور بوڑھے شامل تھے شہید ہوئے جبکہ ایک سوتیس افراد زخمی ہوئے۔پچھلے برس 2جنوری 2015 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے شکر گڑھ سیکٹر پر گولہ باری سے نئے سال کاآغاز کیا تھا۔ 65 برسوں سے کشمیری اپنے جدوجہد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں نے 6 لاکھ اپنے شہداء، 10 ہزار لاپتہ افراد، 67 سو نامعلوم قبروں کے کتبوں کو فراموش نہیں کیا اور بھارتی افواج اور پولیس کے آگے سینہ سپر دیوار ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارتی حکومت اور سیاسی قوتوں سے دوست کے راگ الاپ رہی ہے۔ مگر پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے بھارت میں چاہے جو بھی حکومت ہو، انکی سوچ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جیسی رہے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 1947ء سے موجودہ سال کے اختتام تک پانچ لاکھ افراد شہید اور 9988 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ جبکہ ایک لاکھ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں بھارت کے کالے قوانین پوٹا’ ٹاٹا اور آفسپا کے تحت 24 افراد مختلف جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ شہید کئے گئے افراد میں زیادہ تر تعداد گیارہ سال سے 60 سال تک کے بچوں اور بوڑھوں کی ہے مگر اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے آخر کب تک۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو فوری روکنا ہوگا

چیف آف آرمی سٹاف نے ضرب عضب آپریشن پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جنرل راحیل نے حال ہی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کو سراہا اور کہا کہ ان آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے گٹھ جوڑ توڑنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آرمی چیف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی وہ پائیدار امن اور سلامتی کی صورتحال کے حصول تک آپریشن پر توجہ برقرار رکھیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 50ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی ہیں۔ 60کی دہائی میں کشمیر کی آزادی کے لئے بعض گروپ قائم ہوئے۔
کالعدم جہادی تنظیمیں اسلام اور پاکستان کیلئے خطرہ ہیں۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں نے انتہاپسندی دہشت گردی کو فروغ دیکر پا کستان کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دیا اور آج پھر یہ انتہاپسند دہشت گرد ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کا سہارا لیکر انتہاپسندی، دہشت گردی کو طول دینا چاہتے ہیں۔ جب ملک کی سالمیت و بقا کو ان انتہاپسند وں سے خطرات لاحق ہوئے اور پا کستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شا مل کیا گیا تو ان پر پابندی عائد کی گئی۔
اس حوالے سے پیمرا نے تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعو اور فلاحِ انسانیت فانڈیشن سمیت تمام 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔بظاہر اس میں اختلاف کی گنجائش کم ہے کہ کالعدم تنظمیوں میں بعض ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو ہر قدرتی آفت کے موقعہ پر دکھی پاکستانیوں کی مشکلات حل کرنے میں پیش میں پیش رہتی ہیں مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کی سرگرمیاں یقینی طور پر درست نہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں قرار پاچکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کام کرنے والے حکام کے مطابق اس وقت بہتر کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تازہ حکم میں پیمرا حکام نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ یعنی کالعدم تنظیموں کی کسی قسم کی کوئی کوریج نہ کی جائے۔ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانا بھی منع قرارپایا ہے۔ یعنی ایسے پروگرام کو نشر کرنا یا س کا نشرِ مقرر ممنوع ہے جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو یا نقصِ امن کا خدشہ ہو۔مذید یہ کہ اس قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے جولوگوں کو تشدد پر ابھارے، اس کی معاونت کرے، ترغیب دیاور اسے اچھا بنا کر پیش کرے۔
وطن عزیر میں اس وقت تک امن وامان کی حقیقی صورت حال بحال نہیں ہوسکتی جب تک آئین اور قانون کا حقیقی معنوں میں نفاز عمل میں نہیں آجاتا۔اگرچہ اس حکم نامے میں کالعدم تنظیموں یا ان سے منسلک امدادی اور فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کی ترویج کا ذکر نہیں تاہم ملک میں زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے موقعے پر کالعدم تنظیمیں امدادی کارروائیوں میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ حکم ملک میں انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے رواں سال کے اوائل میں متعارف ہونے والے’قومی ایکشن پلان’ کے بعد عمل میں آیا ہے۔
بلاشبہ وطن عزیزمشکل حالات سے گزر رہا ہے اسے ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے تو دوسری جانب حکومتی نظم ونسق مثالی انداز میں اپنا کام کرنے سے تاحال قاصر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکام محض عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں جن سے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں۔حکومت وقت موجودہ حالات میں ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھیں جو کالعدم تنظیموں سے نکل کر دوسری تنظیموں کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہ انشاء اللہ ہمیشہ قا ئم دائم رہیگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں اتفاق اتحا د کیساتھ امن، محبت، بھائی چارگی کے فلسفے کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔

سعودیہ ایران کی کشیدگی اور پاکستان

دو اہم مسلم ملکوں میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور امتِ مسلمہ کے ملکوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ کس طرح ان کے درمیان تعلوقات واپس دوستی میں تبدیل ہو جائیں۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں ان ہی مفادات کے تحت ملکوں سے تعلقات ترتیب دیتے ہیں ۔ سعودیہ اور ایران کے پہلے سے خراب تعلقات مذید اس لیے خراب سے خراب تر ہوئے کہ تہران میں سعودیہ کے سفارتخانے کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سلامتی کونسل نے بھی تہران واقعے کی مذمت کی ہے گو کہ اس فعل پر ایران نے واجبی سی معذرت کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ جس کو سعودیہ نے ماننے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب نے ایران سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیے ہیں ۔سعودیہ کی حمایت میں خلیج کی ریاستوں نے ایران سے اپنے اپنے سفیر واپس بلالیے ہیں جس میں کویت بھی شامل ہو گیا ہے۔ کویت نے کہا ہے کہ سفارت خانے پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف وردی ہے۔ عرب لیگ کا اور خلیج کونسل کے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔جس میں مذید فیصلے کیے جائیں۔
اگر انصاف کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو یہ احساس سامنے آتا ہے کہ کئی عرصے سے ایران کا رویہ سعودیہ کے ساتھ جارحانہ رہا ہے۔منیٰ کے حادثے کو جو مسلمانوں کے درمیان کا معاملہ تھا کو ایران نے بین الاقوامی بنا دیا تھا جو اسلامی دنیا میں کسی طرح بھی مناسب نہیں سمجھا گیا تھا۔اس سے قبل ایران کے لیڈروں کے بیانات بھی بڑے تلخ نظر آئے تھے۔علاقہ کے مسلم ملکوں کو سامنے رکھ کر چند دن پہلے ایران کے ایک طاقت ور شخصیت سابق وزیر انٹلیجنس اور موجودہ صدارتی مشیر علی یونس کی طرف سے بیان تھا کہ ا یران عظیم الشان سلطنت بن چکا ہے عراق ہمارا ہے۔کھوئی ہوئی زمین واپس لے رہے ہیں۔ اس بیان کو سامنے رکھ کر اگر تجزیہ کریں تو یہ خطے کے مسلمان ملک جس میں سعودیہ بھی شامل ہے کوایک دھمکی ہے۔ ایران آخر کس کی شہ پر ایسے بیان دیتا ہے جس پڑوسی ملکوں میں تشویش کی لہر دوڑ جائے۔ دوسری طرف ترکی دو مسلمان ملکوں میں تعلوقات واپس نارمل کرنے کی بات کرتا ہے مگر نہ جانے ایران کے لیڈر کس کے کہنے پر دشمنوں جیسے بیان دے رہے ہیں۔ ایران شام میں بشار اسد کی مدد کر رہا اس کے فوجی شام میں لڑے رہے ہیں۔ بشاراسد کا خاندان شام پر کئی عرصہ سے حکومت کر رہا ہے۔ جعلی طریقے سے الیکشن کروا کے حکومت پر ذبردستی قابض ہے۔ ظلم کی انتہا کر دی ہے لا کھوں کو قتل کر دیا ہے لاکھوں کو مہاجرت پر مجبور کر دیا گیا۔شام کے مسلمان دنیا میں در بدر ہو گئے ہیں۔ مجبوراً سعودیہ بھی شام میں بشار اسد کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔یمن میں بھی ایران کے فوجی لڑ رہے ہیں ایک مدت سے یمن کے باغیوں کی مدد ایران کر رہا ہے۔ایران نے عراق میں صدام حسین کی حکومت کو امریکا کے ساتھ مل کر ختم کی، یہ واقعات ہیں جس کی وجہ سے سعودیہ میں پہلے سے خطرہ محسوس کر رہاتھا۔اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے اپنے قوانین ہیں جس پر اس کے ہر شہری کو پابندی کرنی پڑتی ہے ۔ قوانین کی پابندی نہ کرنے کی شکل میں سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ گو کہ کسی بھی ملک کو اپنے شہریوں کے خلاف بنیادی حقوق کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔جس بات پر ایران نے سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ جہاں پر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس سے قبل ایران میں دہشتگردی کی وجہ سے ھانسیاں نہیں دی گئیں؟کیا دوسرے ملکوں نے ایران کے اس فعل پر ایسا پرتشدد ردعمل ظاہر کیا اور ایران کے سفارت خانے جلائے؟ یقینانہیں کیے تھے تو پھر ایران کو بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ بہر حال الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر دو مسلمان ملکوں میں لڑائی یااختلافات ہو جائے اور معاملات بگڑنے لگیں تو دوسرے مسلمان ملکوں کو درمیان میں پڑھ صلح کرا دینی چاہیے۔اسی لیے پاکستان کے علماء اور سیاست دانوں نے یک زبان ہو کر اخبارات میں اس بات کا اظہار کیا ہے کی پاکستان آگے بڑھ کران اختلافات کو دور کرنے کی کوششیں کرے جو ان شاء اللہ ضرور ہو گی۔
آج سعودیہ کے وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہین۔ ایران کے وزیر خارجہ کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے اور مل جل کر اس تنازہ کا حل نکانا چاہیے۔ نہ جانے مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی کس کام کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ابھی تک اُس کے طرف سے کوئی کاوارئی سننے اور دیکھنے میں نہیں آئی۔ کیا اس موقعہ پر اُسے فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ؟ضرور کرنا چاہیے ۔مسلمان ملکوں کے خلاف عیسائیوں حکومتوں نے اتحاد کیا ہوا ہے۔وہ ان کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں اور مسلمان ان کے آلہ کار بنتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے مسلمان ملکوں کی کوئی اپنی سوچ نہیں ہے۔ باہر سے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اپنی بربادی کے سامان خود مہیا کرتے رہتے ہیں۔ ابھی دودن پہلے کی خبر تھی کہ امریکا کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے داعش کو بنایا ہے ۔وہ اس لیے بنایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نقشے کو تبدیل کرنا ہے۔ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس نے سو بیس سے زیادہ اتحادی ملکوں کا دورہ کیا تھا اور داعش کے ذریعے خلافت کے اعلان کی تاریخ بھی طے کر لی گئی تھی۔ مگر ایک دم سے حالات بدل گئے۔
امریکا نے ہی داعش کو اردن میں تربیت تھی ۔ عراق میں داعش کو اسلحہ دیا۔ داعش نے عراق اور شام کے درمیانی علاقوں پر قبضہ کیا ۔ تیل کے کنویں پر قبضہ کیا ۔مارکیٹ میں تیل فروخت کیا اور اپنے خزانے کو خوب بھرا۔داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے خلافت کا اعلان کیا اور دنیا سے اسلام سے محبت کرنے والے سادہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ۔ اس کے بھی پاکستانی طالبان کی طرح قتل و غارت کے واقعات سامنے آئے جس سے عام مسلمانوں میں اس کے خلاف نفرت پھیلی۔ آج کی ہی اخبارات میں خبر لکھی ہے کہ داعش نے ایک خاتون صحافی کا سر قلم کر دیا۔امریکا نے پہلے داعش کو بنایا اس کو اسلحہ دیا آرام سے عراق اور شام کے درمیانی علاقعے پر قبضہ کرنے دیا۔ اب اس کے خلاف ایران کی فوجوں کو ملا کر لڑ رہا ہے۔ اب اس گھتی کو کون حل کرے کہ داعش کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ کیا یہ امریکا کی طرف سے مسلمانوں میں ڈس انفارمیشن کی کوئی مہم ہے۔ عام لوگوں تک تو اسلامی دنیا سے کوئی بھی خبر نہیں ملتی صرف وہ ہی خبر ملتی ہے جو مغربی یہودی ؍صلیبی میڈیا دیتا ہے۔ مسلمان ملکوں کی تو اپنی کوئی خبر رساں ایجنسی بھی نہیں ہے جو مسلمانوں کی رہبری کر سکے مسلمان حکمران امریکا کے پٹھو بن کر عام مسلمانوں پر زبردستی حکومتیں کر رہے وہ امریکا کے ہاتھ تاش کے پتوں کے طرح ہیں امریکا جیسے چاہیے ان پتوں سے کھیلے ۔اس میں سعودیہ، مصر،شام،اور دوسرے مسلمان ملک شامل ہیں۔ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر خمینی ؒ نے امریکا مردہ باد کا نعرہ لگا کر اسلامی دنیا میں نام کمایا تھا۔امریکا ہی سعودیہ اور ایران کو لڑا رہا ہے۔سعودیہ میں بھی داعش کاروائیاں کرتی رہی ہے اسی لیے سعودیہ نے داعش کیلئے دہشتگردی کرنے کی پاداش میں لوگوں کی گردنیں کاٹی ہیں۔کاش کہ اسلامی دنیا امریکا یا کسی بیرونی طاقت کا آلہ کار نہ بنیں اپنے معاملات آپس میں بیٹھ کر حل کریں یہی اس دور کا مسلمانوں کیلئے پیغام ہے یہی سعودیہ اور ایران کیلئے پیغام ہے۔یہی سعودیہ اور ایران کی کشیدگی کا حل ہے۔ بتان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا۔ نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی۔اللہ امتِ مسلمہ کا نگہبان ہو آمین۔

ہندوستانی پالیسیاں اور پاکستان

گزشتہ سے پیوستہ

ہندی بولنے والے لوگوں کا نفسیاتی مسئلہ کچھ زیادہ ہی سوا ہے ان کے اندر ایک احساس برتری یااپنی عظمت یا ایک عظیم نسل ہونے کا خناس سما گیا ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے عام آدمی کے ذہن میں اپنے احساس عظمت کو راسخ کرنے کے لئے نئے نئے ڈرامے لکھے جا رہے ہیں جس میں دکھایا جاتا کہ ہندو سائنس اور ٹیکنولوجی میں ایجادات میں سب سے آگے تھے مثلا مہابھارت میں کوروں اور پانڈؤوں کی لڑائی میں ایسے projectile استعمال کئے گئے تھے جو موجودہ میزائلوں سے مشابہ تھے وغیرہ وغیرہ اور اس طرح کی چیزیں جن کا حقیقیت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کو پروپیگنڈے کے زور پر راسخ کیا جا رہا ہے genetcally ہندو شجاع نہیں ہوتا اور عموما مصلحت سے کام لیتا ہے جس کی ایک کلاسیکی مثال پنڈت چانکیا کی کتاب ارتھ شاستر ہے جس میں جھوٹ اور دھوکہ بنیادی وصف ہے جسے ذہانت کا نام دیا جاتا ہے اور انڈیا کے موجودہ سیاستدانوں کی اکثریت اس کتاب سے استفادہ کرتی ہے بلکہ یہ شدت پسند RSS کے فلسفے کی بنیادی دستاویز ہے اور یہی ہندی بولنے والی اقلیت ہی اکثریت کی گردن پر سوار دہلی کے طاقت کے مراکز پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہے اب چونکہ موجودہ ہندوستان بھانت بھانت کی بولیوں اور الگ الگ کلچر کی چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر مشتمل ہے مذہبی طور پر بھی ہندو دو انتہاؤں پر ہیں مثلا شمال میں راون کی مذمت کرتے ہوئے آگ میں جلایا جاتا ہے لیکن جنوبی ہندوستان میں اس کی پوجا کی جاتی ہے یعنی بہت کم مشترکات ہیں اب اتنے بڑے ملک کو جو اصل میں بھان متی کا کنبہ ہے اس کو متحد رکھنے کے لئے ایک عدد دشمن کی ضرورت تھی جو پاکستان سے پوری کی جارہی ہے لیکن کیا موجودہ مسلط ٹولے نے کبھی سوچا ہے کہ اس سوچ اور عمل کی انڈیا کیا قیمت اداکر چکا ہے اور ادا کر رہا ہے آپ اگر بر صغیرکا نقشہ اٹھا کر دیکھیں جنوب مشرق سے شمال مغرب کی طرف انڈیا ایک مٹکے کی شکل میں دکھے گا جس گردن پر پاکستان سوار ہے شمال میں چین اور مشرق کی سمت میں نیپال بھوٹان شکم اور میانمار ہے جہاں کی انڈیا کیا لیجا کر بیچے گا سارا خریدار تو مغرب میں ہے جس میں مشرق وسطی پورا افریقہ اور یورپ ہے اس کے علاوہ توانائی کے بہت بڑے اور untapped ذخائر ازبکستان تاجکستان اور ترکمانستان میں ہیں جس کا واحد راستہ صرف پاکستان کے پاس ہے جہاں انڈیا انجنیرنگ پراڈکٹس بیچ سکتا ہے اور وہاں کے توانائی کے ذخائر سے استفادہ کر سکتا ہے یاد رہے کہ یہ علاقے Locked land ہیں شمال میں سمندر تو ہے جو ایک تو دور ہے اور سال کے 10 ماہ برف کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہتا اب انڈیا کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کیاوہ اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرے گا کیا اسے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزافزوں غربت احساس ہے جس میں پاکستان دشمنی کی وجہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کشمیر میں 7 لاکھ فوج اور کشمیریوں پربد ترین تشدد کے باوجود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اور پاکستانی پرچم لہرائے جا رہے ہیں یہ سب کب تک چل سکے گا اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو ختم کر سکے گا تو جواب ہے کہ ایسا ممکن نہیں اس کی پہلی وجہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ملک اللہ کی خصوصی عطاء4 ہے اور جس اللہ کے نام سے بنا ہے وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا دوسرے پاکستانی عوام کا شماردنیا کی ذہین ترین قوموں میں ہوتا ہے جو اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سب کچھ کر گزرنے کی اہلیت اور جذبہ رکھتے ہین پاکستان کی مسلح افواج اپنے آپ کو دنیا کی بہترین فوج ثابت کر چکے ہیں پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام انڈیا سے کئی دہائیاں ایڈوانس ہے انڈیا کا اپنا فائٹر جہاز تیجس کئی دہائیوں سے آزمائشی مراحل میں ہے اور اب بھی آزاد فضاؤں میں اڑسکنے کا متمنی جبکہ پاکستان کا fj 17 تھنڈر مارکیٹ میں اپنے ہم پلہ جہازوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور بہترین جہازوں میں بہتر جو پاکستان کی اپنی پروڈکٹ ہے آئندہ بلاک 2 مزید ترقی یافتہ ہوگا انڈیا کو چاہئے کہ اپنے نفسیاتی مخمصے سے باہر نکلے قوموں کا مزاج بنتے بنتے بنتا ہے فلمیں یا ڈرامے بنانے سے نہیں دنیا آپ کی جادوگریاں دہائیاں پہلے سمجھ چکی ہے امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم کے بیانات ریکارڈ کاحصہ ہیں جو آپ کشمیر کے حل سے فرار چاہنے کے لئے نت نئے ڈرامے ترتیب دیتے ہیں کبھی پارلیمنٹ پر خود حملہ کرواتے ہیں کبھی ممبئی حملہ کبھی مالیگاؤں یہ سب آپ کے ذہن سرا کے کارنامے ہیں مغرب کشمیر اور دیگر معاملات پر آپ سے بہت بڑی قیمت وصول کر چکا ہے یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے آپ جو پاکستان کے ساتھ کرنا چاہ رہے ہیں کبھی نہیں کر پائیں گے لہٰذا آئیے ایک بار پھر آپ کی طرف اچھی ہمسایگی اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو بعد ازاں دست تعاون بن سکتا ہے تاریخ کے غلط رخ ہر مت جائیے نوشتہ دیوار ہے کہ جو کام آپ کو 15 ،20 سال بعد حالات کے جبر سے کرنا پڑے گا آج کر گزریے اسی میں خطے کے تمام عوام کا بھلا ہے تاریخ میں اپنے لئے اچھی یادیں اور اچھا نام چھوڑ جائیے یہی تاریخ کا سبق ہے اللہ سے آپ کی صحیح سمت میں رہنمائی اور حقیقی دانش اور فراست کے لئے دعاگو ہیں اور رب جلیل سے تمام انسانوں کیلئے رحمت اور عفو کے طالب۔

علاج اِس کا کوئی چارہ گراں ہے کہ نہیں

قارئین کرام ! خطے میں محل وقوع کے اعتبار سے سرزمینِ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں خلیج کے دروازے پراِس کی موجودگی مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے پیش نظر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چنانچہ جغرافیائی اِسٹرٹیجک لوکیشن اور حساس قومی سلامتی امور کے پیش نظر خطے میں وقوع پزیر ہونے والی کسی بھی غیرمعمولی صورتحال سے پاکستان کا متاثر ہونا غیر ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ نیا سال شروع ہوا تو دنیا بھر میں حالات کی بہتری کی توقعات کی جا رہی تھی لیکن نئے سال کے پہلے ہی ہفتے میں خطے میں دو ایسے غیرمعمولی حساس واقعات نے جنم لیا ہے جن سے پاکستان کا متاثر ہونا لازمی اَمر ہے ، بھارت میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے کو آگ لگائی گئی ہے ۔بھارت میں پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈے پر ہونے والی دہشت گردی کی واردات جس میں ماضی کی طرح کسی ثبوت کے بغیر ہی بھارتی میڈیا اور ریاستی ادارے پاکستان کو ملوث کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں پر غور و فکر کیا جانا چاہیے ۔ماضی میں ممبئی دہشت گردی کے حوالے سے کئی برسوں تک پاکستان ، بھارت تعلقات اُتراؤ چڑھاؤ کا شکار رہے حتیٰ کہ دس ماہ تک بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں پر تعینات رہی ۔ بہرحال ، بھارت میں نئے وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کی حلف وفاداری کے موقع پر جنوبی ایشیا میں امن و امان کی فضا کے قیام کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے غیر مشروط طور پر نئی دہلی جا کر نہ صرف نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی بلکہ ایک خط کے ذریعے نئے بھارتی وزیراعظم کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنیکی دعوت بھی دی ۔ گو کہ بھارت نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل پر بات چیت کیلئے پاکستانی مشیر خارجہ سے ابتدائی مذاکرات پر رضامند ہوا تھا لیکن بات چیت سے قبل ہی بھارتی حکام اور میڈیا نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ کہنے پر پاکستانی مشیر سے ملاقات کیلئے آنے والے کشمیری نمائندوں کی گرفتاری و نظر بندی کے حوالے سے نئی دہلی میں ہونے والے ڈائیلاگ کو شروع ہونے سے قبل ہی سبوتاژ کردیا تھا۔ اِس پر طرہّ یہ کہ بھارت نے کشمیر پر پاکستانی موقف پر دباؤ بڑھانے کیلئے جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کیمطابق بھی ایک متنازع مسئلہ ہے ، نہ صرف کشمیر کنٹرول لائین کو ہتھیاروں کے استعمال سے گرمانا شروع کیا ہے بلکہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بھی سکولوں کے بچوں اور شہری آبادیوں کو بلا اشتعال گولہ باری کے ذریعے قتل و غارتگری کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ لیکن پاکستان کے اصولی موقف اور واہگہ بارڈر کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک بھارتی تجارتی رسائی کے مخصوص مفادات کے حصول کے پیش نظر بھارت نے پہلے تو چولہ بدل کر گزشتہ ماہ افغانستان پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کو اسلام آباد بھیجا گیا اور جامع مذاکرات کے ذریعے پاکستان کیساتھ تمام مسائل پر گفت و شنید کا عندیہ ظاہر کیا گیا۔ پھر اچانک وزیراعظم مودی بنفس نفیس دورہ افغانستان کے بعد 25 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف سے غیر شیڈول ملاقات کیلئے لاہور پہنچے لیکن یہ سحر جلد ہی ٹوٹ گیا جب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے جس کی ذمہ داری مبینہ طور پر ایک نام نہاد کشمیر جہاد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے جس کا پہلے کبھی چرچا نہیں ہوا ۔ اِسی طرح افغانستان کے شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے اور کابل ایئرپورٹ پر بظاہر طالبان کی جانب سے خودکش دھماکہ ہوا ہے جس کا سر پیر بھی ے بغیر کسی جواز کے پاکستان کے سر باندھنے کی سازش کی جا رہی ہے۔یہی صورتحال بھارت میں پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے اُبھرتی نظر آ رہی ہے جس میں یہ جانے بغیر کہ پٹھانکوت واردات کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے بھارت ایک مرتبہ پھر پاکستان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کیلئے خطے میں حالات کو بگاڑ نے پر مائل نظر آتا ہے۔
محترم قارئین ، دوسری جانب سعودی ایران تعلقات ایک مرتبہ پھر خرابی کا شکار ہیں ۔سعودی عرب میں مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث 47 سعودی شہریوں جن میں ایک سعودی شعیہ عالم شیخ نمر باقر النمر بھی شامل تھے کو چند روز قبل موت کی سزا دئیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران اور مشہد میں بل ترتیب سعودی سفارتی خانے اور قونصل خانے میں آگ دی جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی، تجارتی اور فضائی روابط ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ سوڈان اور بحرین نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ سعودی شہریوں پر ایران جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے البتہ ایرانی زائرین پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے پُرامن احتجاج تو کیا جاتا ہے لیکن ایران میں سفارت خانے اور قونصل خانے کو آگ لگا کر جس شدت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ کوئی احسن اقدام نہیں ہے ۔ ماضی میں تہران میں امریکی سفارت خانے کو بھی ایسے ہی عوامی شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھاجس کا خمیازعہ اقتصادی پابندیوں کی شکل میں ایرانی حکومت کو کافی عرصہ تک بھگتنا پڑا تھا ۔ بہرحال ایرانی حکومت کی جانب سے اِس بے حکمت شدید عوامی ردعمل کو روکنے میں ناکامی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال کافی کشیدہ ہے اور امریکہ نے اِسے خطے میں فرقہ پرستی کے رجحانات کو مہمیز دینے کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ روس اور چین نے دونوں ممالک کو تحمل سے کام لینے کیلئے کہا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی ایران تعلقات یمن کی خانہ جنگی میں حوثی قبائل کو ایرانی حساس اسلحہ اور تربیت کی فراہمی پر پہلے ہی سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں جسے گذشتہ حج کے موقع پر بھگدڑ میں ایرانی اور دیگر ممالک کے حجاج کی شہادت جس میں ایک سو سے زیادہ پاکستانی حجاج بھی شہید ہوئے تھے پر ایرانی سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خمینائی نے سعودی حکومت سے مبینہ ناقص حج انتظامات کی ذمہ داری قبول کرنے اور مسلم دنیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں حج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو دلخراش قرار دیتے ہوئے اِس کی ذمہ داری سعودی حکومت پر ڈالتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ البتہ سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سانحۂ منیٰ کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور تحقیقات کی روشنی میں منظر عام پر آنے والے حقائق کو منظر عام پر لایا جائیگا ، بظاہر اِس بھگدڑ میں مبینہ طور پر ایرانی حجاج کی غلطی کو بھی بیان کیا گیا تھا ۔ باوجود اِس کے کہ ماضی میں اسلامی فقہی اختلافات کے باوجود ساٹھ کی دھائی سے سعودی ایران تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے حتیٰ کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بحرین پر ایران کے دعوی کا متنازع معاملہ بھی 1961 میں سعودی عرب اور بحرین کے مابین تیل کی دولت میں شراکت کے معاہدے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا ۔ لیکن 1979 میں ایران میں امام خمینی شعیہ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی حجاج کی جانب سے حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کی سڑکوں پر سیاسی اجتماعات کے انعقاد کے ذریعے نہ صرف سیاسی نعرہ بازی کی گئی بلکہ ایرانی حکومت کی جانب سے سعودی حکومت کی حرمین شریفین پر کسٹوڈین حیثیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا جس کے باعث اسّی کی دھائی میں دونوں ملکوں کے درمیان اسلامی فقیہی اختلافات کے حوالے سے بھی معاشرتی خلیج وسیع تر ہوئی تھی۔اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 1979 ء میں شاہ ایران کی حکومت کے خاتمے پر امام خمینی کے ایرانی شیعہ انقلاب کے ابتدائی دور میں ہمسایہ ممالک میں ایرانی انقلاب کو پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بدترین اثرات فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان میں بھی محسوس کئے گئے تھے ۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں قائم فرقہ وارانہ معاشرتی ہم آہنگی بھی کچھ مذہبی حلقوں کی شدت پسندی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ جس کے سبب سپاہ صحابہ اور نفاذ فقہ جعفریہ نامی شدت پسند تنظیموں کے سایہ تلے سنی لشکر جھنگوی اور شعیہ سپاہ محمد کے نام سے دہشت پسند تنطیموں نے ملک میں جنم لیا اور اِن فقہی اختلافات کے پس منظر میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے المناک واقعات دیکھنے میں آئے۔ اِسی دوران اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بھی شر پسندوں نے آگ لگائی جبکہ تحریک فقہ جعفریہ نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے اسلام آباد میں وفاقی سیکریٹریٹ پر کئی دنوں تک قبضہ جمائے رکھا ۔ چنانچہ سعودی ایران اختلافات کے ضمن میں یہ سمجھنا کہ سب ٹھیک ہے اور ہم اِس قضیئے میں غیر جانبدار رویہ اختیار کر کے معاملات سے پہلو تہی کر سکتے ہیں فکری حوالے سے درست نہیں ہے ۔ اندریں حالات ، ایک ایسے مشکل وقت میں جبکہ مشرق وسطیٰ میں مسلم امّہ بدترین سیاسی، سفارتی اور معاشرتی اختلافات کا شکار ہے ۔ سعودی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ التوا میں رکھا گیا ہے ، دوسری جانب پٹھانکوٹ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول کا دورۂ چین منسوخ ہوا ہے ۔ بھارتی میڈیا اور ریاستی اداروں کی جانب سے افغانستان میں کابل ایئرپورٹ پر خود کش اور مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر مبینہ طالبان حملے کیساتھ ساتھ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے الزامات بلا کسی جواز کے پاکستان پر ثبت کئے جا رہے ہیں، پاکستان کی جانب سے بروقت سوچ بچار کی ضرورت مسلمہ ہے۔ حیرت ہے کہ اہم سلامتی امور پر نگاہ رکھنے اور خطے میں پاکستانی مفادات کا بروقت تحفظ کرنے کے بجائے وزیراعظم کو غیرملکی دوروں سے ہی فرصت نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر پاکستان کسی حد کسی بڑی دہشت گردی سے محفوظ ہے تو اِسکا کریڈٹ آپریشن ضرب عضب کے چیف جنرل راحیل شریف کو ہی جاتا ہے۔ جناب وزیراعظم وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو مسلم دنیا کی اہم ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بدترین بگڑتے ہوئے تعلقات میں بہتری لانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ منفی ردعمل کا موثر جواب دینے کیلئے قوم کویکجہتی کی لڑی میں پرونے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کرنا ہو گا اور اگر ضرورت پڑے تو ملک میں قومی ھکومت قائم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ حالات کوئی بھی خطرناک ٹرن لے سکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال…….. ؂
وطن کی فکر کر ناداں ، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

Google Analytics Alternative