کالم

اور کچھ سوالات میرے بھی۔۔۔

خبر چربہ، کالم تعصبات کی جگالی، اسلوب جیسے بیوہ کا بڑھاپا، تدبر غائب، علم عنقا اور ادار یہ مرغ کے وظیفۂ زوجیت کی طرح مشق مستعجل۔ شورش کاشمیری نے لکھا تھا ، ’’اخبار ہیں یا خواجہ سراؤں کا غول‘‘۔ غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری اور جہالت کے آسیب نے گلیاں سونی کر دی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آج کسی سنجیدہ آدمی کے لیے اردو صحافت سے وابستہ رہنا یا فیض یاب ہونا ممکن نہیں رہا۔ تنہائی اسے آغوش میں لے لیتی ہے اور اوسط سے کم تر ماحول میں وہ بالکل اجنبی ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس عالم میں وجاہت مسعود اگر بہار رتوں کا کوئی سندیسہ بھیجتے ہیں تو مضمحل امیدوں کے مقفل کواڑ گو یا کھل سے جاتے ہیں ۔
وجاہت ،حق الیقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے ،اردو صحافت کے جملہ عوارض سے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ بات ان سے کہنا کسی طائر جواں کو درس پرواز دینے کے برابر ہوگا کہ اس غول کا حصہ بننے سے کیا حاصل؟ ردی کا ڈھیر جتنا اونچا ہو جائے، ہمالہ نہیں بن سکتا۔ آج سنجیدہ مباحث کے متلاشی اور یونیورسٹیوں کے وہ نوجوان جو کچھ تفہیم کے آرزو مند ہوں، انگریزی صحافت کے تعاقب میں نظر آئیں گے۔ زمانہ طالبعلمی کے سارے ساون اردو صحافت میں بھیگ کر گزاریں گے ۔مگر جیسے ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع ہوئی یا انٹرویو کا مرحلہ درپیش ہوا، انگریزی اخبار کامطالعہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کی ارد و صحافت پر خوفناک عدم اعتماد ہے۔ بزرگان مجھے معاف رکھ سکیں تو اردو کے اخبارات اب گرم حماموں اور نیم خواندہ معاشرے کی زخمی انا اور تعصبات کے لیے سامان آسودگی کے سوا شاید ہی کچھ فراہم کر رہے ہیں۔
مستثنیات یقیناًموجود ہیں مگر عمومی صورت حال یہی ہے کہ لوگ تفنن طبع کے لیے اردو اور تفہیم کے لیے انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ایک ہی ادارے کے اردو اخبار میں شائع کسی خبر کا اسی ادارے کے انگریزی اخبار میں چھپی خبر کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھ لیں ،آپ کو معلوم ہوگا کہ اردو کی خبر سطحیت اور سنسنی خیزی کا مرقع ہے جبکہ انگریزی میں معقولیت کی جھلک غالب ہے ۔
اردو اخبارات کے اداریے تو شاید ہی کوئی پڑھتا ہو ،ان میں خوفناک حد تک غیر معیار ی اسلوب و دلائل ملتے ہیں۔ اداریہ ایک رسم ہے جو نباہی جا رہی ہے۔ افادیت کے باب میں ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ خبر اپنی صحت کے اعتبار سے مجسم سوال ہے اور کالم خواہشات و جہالت کا دیوان۔ متن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ تصویر ہی سے پتا چل جاتا ہے کس معزز کالم نگا ر نے کس کا نمک حلال کرنا ہے۔ صحافت کو لاحق اس تازہ عارضے کو پالتو صحافت کہتے ہیں۔ اور یہ عارضہ کسی ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ کہ جو کھو نٹے سے نہیں بندھا، اس کی آنکھیں کشکول ہو جاتی ہیں، گداگرانِ سخن ہجوم در ہجوم پھرتے ہیں۔
درد اس وقت کچھ اور بڑھ جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں صحافت کی تاریخ خا ص تا بناک رہی ہے۔
ابو لکلام آزاد سے لے کر چراغ حسن حسرت تک ایسے ایسے لوگ اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں، اردو جن کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھی۔ سترہ سال کی عمر میں ابو الاعلی مودودی مدھیہ پردیش کے ’’تاج‘‘کے مدیر بنے اورآخر تک صحافت کو وجۂ افتخار جانا۔ پاسپورٹ پر کبھی علامہ ،مولانا یا مذہبی سکالر نہ لکھا۔ ہمیشہ خود کو صحافی لکھا۔ اسلوب، متانت اور علم! ہم نے سب کچھ گنوا ڈالا۔
وے ’گہر‘ تو نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
ان حالات میں وجاہت مسعود ایک نیا اخبار بلکہ یوں کہیے کہ آن لائن اخبار لارہے ہیں۔جس اخبار کی پیشانی پر وجاہت کا نام چھپے ،آدمی اگر اس اخبار سے امید یں وابستہ نہ کریں تو کیا کرے ۔علم کی دنیا کا وہ آدمی ہے، مکالمے کے فن سے بھی آشنا کہ اختلاف رائے اس وسعت ظرفی سے برداشت کرتا ہے گا ہے آدمی ششدررہ جاتا ہے ۔خبر کیا ہے اسے معلوم ہے۔ اسا لیب سے خوب آگاہ اور شورش کے ’’زاغوں‘‘ سے بے زار۔ ایک سنجیدہ اور باوقار اخبار نکالنے کے لیے جو خوبیاں درکار ہوتی ہیں ،میری شہادت پر اگر کوئی اعتبار کرسکے تو ان میں موجود ہیں ۔
ادھر معاملہ یہ ہے کہ طلاق بائن کے بعد رجوع نہیں ہوتا اور واقعہ یہ کہ اردوکے قاری اور سنجیدگی میں طلاق بائن کبریٰ ہو چکی۔ پاپولر جرنلزم کی قباحتیں اوڑھنے سے اجتناب کی بہرحال ایک قیمت ہوتی ہے اور ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں یہ قیمت خاص بھاری ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دانش اور بازار کے تقاضوں کو وجاہت کیسے لے کر چل سکتے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ آدمی صرف اسی چیز کا مکلف ہوتا ہے جو اس کی استطاعت میں ہو ۔اس پیمانے سے دیکھیں تو وجاہت کا اصل امتحان اور ہے ۔ سنجیدہ اور باوقار اخبار تو وہ دیں گے ہی کہ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، سوال تو یہ ہے ’’دنیا پاکستان ‘‘لاہور کے صفحات ایک خاص فکر کے تر جمان بن جائیں گے یا آزاد اور باوقار مکالمے کی بنیاد فراہم کریں گے۔۔۔ جس وجاہت کو میں جانتا ہوں، میرا حسن ظن ہی نہیں، اعتبار بھی ہے کہ’ ’دنیا پاکستان ‘‘ میں کسی مخصوص سوچ کی ترجمانی نہیں ہو گی، مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔
میری دعائیں اجمل شاہ دین کے ہم رکاب اور میری تمنائیں اپنے دوست کے دامن گیر رہیں گی۔

جب ایچی سن کالج میں میرٹ تھا ،تب کون سی توپ چلائی تھی؟

نیوز کاسٹر کے لہجے میں ایک جہاں کا دکھ سمٹ آ یا تھا۔ کیا اب ایچی سن کالج جیسے ادارے میں بھی میرٹ پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ اس نے اشرافیہ کے نالائق بچوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا؟
متعفن اشرافیہ کے خلاف ایک لمحے کو میری ’ غیرت ایمانی‘ بھی جوش میں آئی لیکن فورا ہی ایک اور خیال آیا۔ جب ایچی سن کالج میں میرٹ پامال نہیں ہوا تھا تب اس ادارے نے کون سی توپ چلا لی تھی۔اس سماج میں کتنے رجال کار ایسے ہیں جو ایچی سن سے پڑھ کر آئے ہوں؟کوئی بڑا دانشور،کوئی سائنسدان، کوئی باکمال آدمی؟سماج میں حقیقی معنوں میں کوئی ایک صاحب قدرو منزلت جس کی فکری اٹھان اس ادارے سے ہوئی ہو؟وڈیروں ، نوابوں ، سرداروں، سیٹھوں، جاگیرداروں اور نودولتیوں کے فرزندوں کے علاوہ یہاں کون داخلہ لے سکتا ہے؟کیا یہ درست نہیں کہ اس ادارے کی بنیاد ہی میرٹ کی پامالی پر رکھی گئی ہے؟کیا یہ غلط ہے کہ یہاں داخلے کے لیے قابلیت نہیں، با پ کی تجوری کا سائز شرط اول ہے؟ یہاں پاکستانی بچوں کو قابلیت پر نہیں، حسب نسب کی بنیاد پر داخلہ ملتا ہے اور اس ادارے کا مقصد حکمران خانوادوں کی آبیاری کرنا ہے۔ میاں منشا، ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی اولاد کو یہاں داخلہ نہ مل سکا تو کیاقیامت آ گئی۔کیا داخلہ لینے والوں میں سے کسی خیر دین، نور دین یا اللہ رکھے کا کوئی لائق اور قابل بیٹا بھی تھا؟
چنانچہ پورے ادب سے عرض کی: بی بی میری بلا سے ،مجھے اشرافیہ کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ برہمنوں کے معاملات پر جگالی کرنا بند کرو، کبھی ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کر شودروں کی بات بھی کیا کرو۔ایچی سن اور اس کا میرٹ، میری طرف سے جائے بھاڑ میں۔۔۔ مجھ سے کسی ٹاٹ سکول کا دکھ پوچھو ،جہاں چاردیواری ہوتی ہے نہ گیٹ، بجلی ہوتی ہے اور نہ چھت۔ ایچی سن کالج کا میرٹ جائے بھاڑ میں ۔۔۔ ہمارے شیخوپورہ کے بیٹے نے پھلوں کی ریڑھی پر بیٹھ کے خربوزے اور امرود بیچتے ہوئے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایچی سن کالج کے معاملات، مائی فٹ۔۔۔

Google Analytics Alternative