کالم

کچھ نہیں ہونے والا

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اور بیرونی دنیا میں پذیرائی کا پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے حکمران طبقے میں فہم و فراست کتنی ہے ،معاملہ فہمی کس حد تک ہے، عوام اور ملک کے مسائل کا ادراک کس قدر ہے اور انہیں حل کرنے کے لیے درکار فیصلہ گری کی قوت کس درجہ ہے؟اگر حکمران ملک و قوم کواس کا صحیح تشخص دے سکتے ہوں، قومی اور ملکی مفاد میں دانشمندانہ فیصلے کر سکتے ہو ں اور اپنے کیے گئے فیصلوں کو جرأت مندی کے ساتھ نافذ العمل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں تو ہر کسی کو یقین کر لینا چاہیے کہ ملک اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔کیا ہمارے ملک کے حکمران اس پیمانے پر پورا اترتے ہیں؟یا وہ، جو حکمران بننے کے خواہش مند ہیں، وہ اس پیمانے پر پورے اترے ہیں؟ اگر حکمران ایسے ہوں جو فہم و فراست کی نعمت سے عاری، حکمت کی دولت سے محروم، قوت فیصلہ سے خالی اور فیصلوں کونافذ کرنے کی جرات سے تہی داماں ہوں تویہی حال ہوتا ہے جو اس وقت ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اہل دانش کی بجائے بے وقوف ملک پر مسلط ہیں، دانشمندوں کے بجائے دولت مند ،فیصلہ کی قوت رکھنے والوں کے بجائے دوسروں کے چابک سے ہانکے جانے والے، قومی اور ملکی مصلحتوں کے بجائے ذاتی اور خاندانی منفعتوں کے گردابِ رذالت میں گھرے ہوئے۔ ایسے کاروباری لالچی افراد اقتدار سے چمٹے ہوں تو زمین اپنے باسیوں پر اسی طرح تنگ ہوتی ہے جس طرح آج پاکستانیوں پر ہو رہی ہے۔
قصور کا واقعہ، جس میں سینکڑوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں پامال کی گئیں، پاکستان کے ماتھے پر وہ بدنما داغ لگا گیا کہ قیامت تک نہ دھل پائے گا۔ دنیا بھر میں ایسی کھلی بربریت کی کوئی انسانیت سوز مثال نہیں ملتی۔اس واقعے میں بھی مسلم لیگ ن ہی کے ایک وزیر کا نام آیا کہ وہ مجرموں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں اور اتنے عرصے تک انہوں نے پولیس کو مجرموں کے خلاف کارروائی سے روکے رکھا۔ ادھر معصوموں کی زندگیاں پائمال ہوتی رہیں، عزتیں اور مال لٹتے رہے اور ادھر مسلم لیگ ن کے اس وزیر نے قانون کو اپنے انگوٹھے کے نیچے دبائے رکھا، شاید اپنا حصہ لے کر۔ گزشتہ روز پھر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس میں ایک 14سالہ معصوم طالبہ کو لاہور میں ایک ہوٹل میں رکھ کر کئی روز تک درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ایک نہیں، کئی درندے اس معصوم کو نوچتے بھنبھوڑتے رہے۔اور اس واقعے کے پیچھے بھی مسلم لیگ ن ہی کے ایک وزیر کا نام آ رہا ہے۔ ’’مجرم‘‘ کی تصاویر میڈیا پر دیکھ کر حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، رانا مشہود، غرض کون سا مسلم لیگ کا رہنماء تھا جس کے ساتھ اس درندہ صفت انسان کی تصویر موجود نہ تھی۔
قصور کے واقعے کے بعد کیا ہوا؟ اور اس بیچاری طالبہ کا کیا ہو سکے گا؟؟دونوں سوالوں کا ایک ہی جواب ہے، ’’کچھ نہیں۔‘‘قصور کا واقعہ ہوا، میڈیا نے دو چار دن تک ماتم کیا، سیاستدانوں نے دعوے کیے، مجرموں کا پشت پناہ وزیر کچھ دن کے لیے خاموش ہو گیا۔ میڈیا کو نئی سٹوری ملی، وہ قصور کے واقعے کو بھول گیا، ساتھ ہی سیاستدان اپنے دعوے بھول گئے، مجرموں کا پشت پناہ جو خاموش ہو چکا تھا اس نے پس پردہ اپنی پشت پناہی سرگرم کر دی اور حالات ایسے ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ ایسا واقعہ کسی مہذب ملک میں ہوا ہوتا تو قیامت بپا ہو جاتی۔ یہاں ایک تنکا تک نہیں ہلا۔ جہاں تین سو کے قریب معصوموں کی عزتوں اور خون پسینے کی کمائی کی یہ وقعت ہے وہاں اس ایک بیچاری طالبہ کی اوقات ہی کیا ہے۔ہر ایک رطب اللسان ہے کہ ہمارے حکمران کرپٹ، مفاد پرست اور ذاتی منفعت کے لیے حکومت میں آتے ہیں۔ مگر یہ کوئی نہیں کہتا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی صرف وہی دکھاتا ہے جو ’’اِن‘‘ ہے اور بک رہا ہے۔ کوئی یہ بھی نہیں کہتا کہ ہمارے عوام اس قدر خودغرض، مفادپرست، لالچی اور سرد مہر ہیں کہ کسی دوسرے پر پڑنے والی افتاد کو دو دن سے زیادہ یاد بھی نہیں رکھ سکتے، اس پر ماتم کناں ہونا تو دور کی بات۔آپ نے میڈیا کے ایک دن ’بین‘‘ سن لیے جو اس نے لاہور کی اس طالبہ کی زندگی مسلے جانے پر کیے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے عوام کی دردمندی بھی آپ نے ایک دن کے لیے ملاحظہ فرما لی۔ اب جس دن یہ میڈیا اور عوام اس واقعے پر دوبارہ کوئی بات کریں، اس واقعے کو یاد کریں، اس دن مجھے ضرور بتائیے گا۔
یہ ایک طالبہ نہیں ہے، ایسی سینکڑوں ہیں جو ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کے پالتو کتوں کے ہاتھوں پائمال ہو رہی ہیں، مگر اس ایک کا کیس کسی طرح منظر عام پر آ گیا۔ یہ سب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس ملک کے عوام ذاتی مفاد پرستی اور خودغرضی ترک نہیں کر دیتے۔ جب عوام نے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا خیال رکھنا شروع کر دیا، دوسروں کا درد پالنا شروع کر دیا اس دن اس ملک کے حکمران بھی کسی اور طرح کے ہوں گے۔میں مایوسیت پھیلانے والوں میں سے نہیں ہوں مگر حقیقت پسندی بھی کوئی چیز ہے۔مجھے نظر نہیں آ رہا کہ اس حوا کی بیٹی کو بھی اس ملک میں انصاف مل پائے گا۔ اس کا کیس بھی قصور کے معصوموں کی طرح کسی عدالت میں اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک یہ ہمت نہ ہار جائے، یا پھر ملزموں سے کوئی سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہونے والا۔

نجکاری کے بجائے اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت

واپڈا، پی آئی ار اور پنجاب میں سکولوں کے نجکاری کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔اب جبکہ تیسری دفعہ نواز شریف دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم مُنتخب ہوئے ہیں، حسب سابقہ ایک دفعہ پھر انکے ارد گر د سر مایہ دار اور کا رخانہ دار جس میں منشاء اور دوسرے بڑے بڑے سرمایہ دار اور کا رخانہ دار اکٹھے ہوگئے ہیں اور انکی پو ری کو شش ہے کہ نواز شریف حکومت سرکاری اداروں ، کا رپوریشنوں اور بڑے بڑے سرکاری فر موں کو پرائیویٹا ئز کر کے انکو کو ڑی کے بھاؤ دیں ۔ ان بڑے بڑے65 سرکاری اداروں میں ریلوے، پی آئی اے، سٹیٹ لائف انشو رنس کا ر پو ریشن، آئل اینڈ گیس ، سوئی گیس کا ا دارہ اور اسکے علاوہ ا یسے بُہت سارے ادارے ایسے ہیں ،جس پر ملک کے کا رخانہ داروں اور سرمایہ داروں کی نظریں لگی ہوئی ہیں، جسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ لاکھوں مزدور اور ورکر ز بے رو ز گار ہوجائیں گے۔ 1985ء سے لیکر 2008ئتک مختلف حکومتوں نے496 ارب روپے کے 184اداروں کی پرائیویٹا ئزیشن کی منظو ری دی تھی۔ جبکہ اُ س وقت کی ما رکیٹ کے مطابق اسکی قیمت اس سے 20گنا زیادہ تھی۔ وطن عزیز میں سب زیادہ نج کاری پرویز مشرف اور نواز شریف کے دور حکومت میں ہوئی۔ نواز شریف کے نج کاری کا مقصد اس سے حا صل شدہ رقم کو دفاع، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور فلاحی کاموں کے لئے برابر برابر تقسیم کرنا اور ان شعبوں کو دینا تھا۔ جبکہ جنرل پر ویز مشرف کی نج کا ری کا مقصد 90فی صد رقم کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور 10 فی صد رقم کو عام لوگوں کی سماجی اور فلا حی کاموں پر خر چ کرنا تھا مگر بد قسمتی سے نج کا ری سے حا صل شدہ رقم نہ تو غیر ملکی قر ضوں کی ادائیگی پر خر چ کی گئی اور نہ ہی اس سے لوگوں کے فلا ح و بہبو د کے کام کئے گئے۔ بلکہ پاکستان کا غیر ملکی قرضہ جو 1991ء میں 23ارب ڈالر تھا سال 2008 ء میں 45 ارب ڈالر اور سال 2012ء میں 85 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے قرض دار ہے۔ غُربت کی شر ح بڑھتے بڑھتے 45 فی صد سے تجاوز کر گئی۔ پر ائیویٹائزیشن کے عمل سے لوگوں کا معیار زند گی بڑھنا چاہئے تھا مگر بد قسمتی سے سرکاری اداروں کی نج کا ری سے لوگوں کا معیار زندگی میں کوئی مُثبت تبدیلی نہیں آئی بلکہ نج کا ری کے بعد تقریباً 86 فی صد یو نٹس، جو سرمایہ داروں اور کا ر خانہ داروں نے بینک سے قر ضے لے کر خریدے تھے،بند پڑے ہیں۔ ڈا کٹر حبیب احمد کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق نج کا ری کے بعد نہ تواس سے قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور نہ اس سے مقابلے کے رُحجان میں اضا فہ ہوا بلکہ اس سے مختلف اشیاء کی قیمتوں بے تحا شااضا فہ ہوا ۔ مثلاً فر ٹیلائزر کے کا رخانوں کی نج کاری سے پہلے کھاد کی قیمت 1300 روپے فی بو ری تھی جو نج کا ری کے بعد یکدم 4000روپے تک پہنچ گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ اب کسان اور ہاری کے لئے کا شتکاری کرنا مشکل ہوگیا۔ اور مختلف قسم کے اجارہ دار استخصالی گروہوں کا قیام وجود میں آیا جن میں آئل، آٹو موبائیل، چینی، سیمنٹ، ٹیلی کام اور فر ٹلائزر میں اجارہ دار گروہ وجود میں آئے جس سے غریبوں کو یہ نُقصا ن ہو رہا ہے ۔کہ یہ اپنی مر ضی سے جس طر ح چاہے اپنی اشیاء اور پر و ڈکٹ کی قیمتیں بڑھاتے ہیں۔ جب سے نج کا ری شروع کی گئی اس سے تقریباً 15 لاکھ مزدور براہ راست بے روز گا ر ہوئے جبکہ 15 لاکھ خاندانوں اور ایک کروڑ لوگوں کو نُقصان بھی ہوا۔علاوہ ازیں کا رخانوں اور فیکٹریوں میں رجسٹرڈ ٹریڈ یو نین کی تعداد جو 80 کی دہائی میں 9 لاکھ کے قریب تھی ،کم ہو تے ہوتے تین لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی طر ح ٹریڈ یونینز جو مزدوروں کی حقوق کا ضامن ہوا کرتی تھی وہ تقریباً ختم ہو گئی اور اب کسی ادارے کے مزدور یا ورکرز انکے مالکان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ما ہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں نجکاری کا مقصد وطن عزیز میں سماجی ضروریات کو پو را کرنے کے بجائے ذاتی لالچ کو پر وان چڑہا نا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کے بعد پاکستان میں 20 فی صد پرائیویٹا ئز یو نٹس اچھے طریقے سے کام کرتے ہیں جبکہ 78 فی صد کی حالت مزید دگر گوں ہوگئی۔ علاوہ ازیں وہ کہتے ہیں کہ نج کاری سے سماجی سرمائے کے بجائے ذاتی سرمائے بڑھانے میں مدد ملی۔ ہا ہر معا شیات رؤف احمد کاکہنا ہے کہ مشرف اور شو کت عزیز کے دور میں 1998ء سے 2007ئتک نج کا ری میں 50ارب ڈالر کی کر پشن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حبیب بینک کے 51فی صد شیرز یعنی حصص 22 ارب روپے کے بیچے گئے حالانکہ اُس وقت کی ما رکیٹ کے حساب سے اُسکی قیمت 600 ارب روپے تھی۔ وطن عزیزمیں 1437 برانچوں کے علاوہ حبیب بینک کی 40 برانچیں 26 ممالک میں بھی تھیں۔ پی ٹی سی ایل کے 26 فی صد شیرز 2.59ارب ڈالر کے عوص دوبئی کے ایتصا لات کو دئے گئے جبکہ اسکی قیمت 60ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ بد قسمتی سے مطلق العنان پر ویز مشرف نے پی ٹی سی ایل کا پو را اختیارایتصالات کو دے دیا حالانکہ 26 فی صد شیر یعنی حصص کے حساب سے اس ادارے کو اتصالات کو حوالے کرنا ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔بد قسمتی سے اس ادارے کے زیادہ تر ورکرز اب بھی اپنی حقوق کے لئے مختلف عدالتوں میں انصاف کے لئے در بد ر ٹھو کریں کھا رہے ہیں۔کراچی الیکٹرک سپلائی کا پو ریشن کو 16 ارب روپے کے عوص بیچا گیا جبکہ اُس وقت کی ما رکیٹ کے حساب سے اسکی قیمت کئی سو ارب روپے بنتی تھی۔پاک سعودی فر ٹیلائزر میر پو ر متھیلو کو 8 ارب روپے کے عوص بیچا گیا جبکہ اس کمپنی کا سالانہ منافع 6 ارب روپے ہوا کرتا تھا۔پاک سعودی عرب فرٹیلائزر کو ملک کے ایک سرمایہ دار عارف حبیب کو 13ارب روپے پر حوالہ کیا گیا جبکہ اُس وقت صرف اسکی زمین کی قیمت ہی40 ارب روپے سے زیادہ تھی۔اسی طر ح لاہور فلیٹیز کو 1.21روپے کا بیچا گیا جبکہ بلڈنگ کے علاوہ لاہور کے وسط میں اسکی 50کنال زمیں کی قیمت اربوں روپے ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مشیر کے مطابق پاکستان میں نج کاری کا نظام صاف اور شفاف نہیں۔ نج کاری کے سلسلے میں کمپنیوں کی اہلیت کی اچھی طر ح چھان بین نہیں کی جاتی۔امریکہ کے ایک نوبل انعام یا فتہ معاشی سائنس دان نے اپنی ایک حالیہ کتاب میں لکھا ہے کہ روس میں آئی ایم ایف کی ایما پر تیزی سے جو نج کاری کی جاتی رہی اس سے روس میں معا شی زوال شروع ہوا۔چین نے اس صدی میں سب سے زیادہ یعنی چا ر گنا ترقی کی حالانکہ چین نے بین الاقوامی اقتصادی دباؤ کے با وجو د بھی نج کاری کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ یہی حالت وینزویلا کی بھی ہے وہاں پر حکومت نے پراویٹائز اداروں کو دوبارہ نیشنیلائز کیا۔ میں اس کالم کے تو سط سے وزیر اعظم نواز شریف اور اسکی اقتصادی ٹیم سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ سرکا ری ادارو ں کی نجکاری سے باز رہیں بلکہ کو شش کریں کہ جو جو ادارے احسن طریقے سے کام نہیں کرتے انکو منفعت بخش اداروں میں تبدیل کیا جائے اور انکے ایسے سر براہ گان مقرر کئے جائیں جو معاملات کو اچھے طریقے اور خوبی سے نباہ سکیں ۔ اور ابھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نجکاری معاشی معامالات کو حل کرنے کانام نہیں ۔ اس ملک کے لوگوں کوپہلے سے ہی مہنگائی ، لاقانونیت اور بے روز گا ری کی وجہ سے تنگ ہیں نجکاری کے کے ذریعے ان غریبوں کو مزید ذلیل اور رسوا نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں سرکاری اداروں کے سربراہوں سے بھی یہ استد عا ہے کہ وہ اپنے اداروں کو مُنفعت بخش بنا دیں اور ہمارے سیاست دانوں کو یہ مو قع نہ دیں کہ وہ ان اداروں کو مُنفعت بخش نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹائز کر لیں۔جہاں تک سرکاری اداروں کی کا رکر دگی اور فرفرمنس اُنکو چاہئے کہ وہ اپنے کو زیادہ مُنفعت بخش بنائیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اداروں کو اچھی حکمرانی کے ذریعے منا فع بخش ادارے بنایا جائے جب تک ہم اچھی حکمرانی کو دوام نہیں دیں گے اُس وقت تک ہم کسی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتے۔ بد قسمتی سے پو ری دنیا میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا رُحجان ختم ہو گیا ہے اور سرکاری اداروں کی نجکاری بھی نہیں کی جاتی مگر بد قسمتی سے نواز شریف حکومت پھر بھی آئی ایم سے قرضہ لیکر اور سر کاری اداروں کی نجکاری کرکے غریبوں کو غُربت، افلاس ، مہنگائی اور بے روز گاری میں دھکیل رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو چاہئے کو وہ ظالم ملک اور مزدور دشمن نجکاری کے خلاف ایک مو قف اختیار کریں نواز حکومت کو نجکاری سے روکیں۔

صحرائی زندگی اور عرب

اللہ رب العزت نے جب دنیا تشکیل دی تو اس دن کو ہر نوع کے رنگ جمال سے بھر دیا پرند چرند حیوان اور بنی آدم کی تخلیق سے اپنی صناعی کے جو رنگ بھرے وہ اپنی مثال آپ ہیں جہاں چٹیل میدان تخلیق کئے وہیں پہاڑوں کو جھیلوں آبشاروں سے نوازا سبزے سے ان کو سجایا اور اس میں رزق پیدا کیا پانی پیدا کیا جھیلیں اور تالاب بنائیاور دریا بہائے کہیں وادیوں کو برف کا لبادہ اوڑھایا اور کہیں تپتے صحراؤں کی چادر تخلیق ہوئی اور کہا پھرانسانوں کو کئی رنگوں اور نسلوں میں بانٹا اور کہا انسان کے جوڑے بنائے اور اسکیلئے حیوان پیدا کئے گئے تاکہ وہ انسان کے کام آئیں اناج اور پھل کی صورت میں رزق عطا کیامعاشرت سکھائی اور فطرت کے مطابق جینا سکھایا اور پھر کہا فطرت نے ارد گرد کے ماحول سے انسان کو متاثر کیا اور اس کی عادات واطوار اسی مناسبت تبدیل ہوتے رہتے ہیں کہیں سردی کی شدت بچنے کے لیے اونی لباس زیب تن کیا جاتا ہے توکہیں گرمیوں میں سائبانوں تلے بسیرا ہوتا ہے اور کہیں ریت کے طوفان مد مقابل ہوتے ہیں تو کہیں پانیوں پہ پا بہ رکاب یہی تنوع ہماری دنیا کی رنگینیوں کا سبب ہے اہل بادیہ کی زندگی شہری باسیوں کی بودوباش کلیا مختلف ہوتی ہے جہاں اونٹ ان کا قابل اعتماد ساتھی ہوتا ہے کھجور اور اونٹنی کا دودھ بنیادی غذا جس سے آج بھی بے انہیں بے حد رغبت ہوتی ہے ہماری زندگی کا زیادہ حصہ انہی صحرائی لوگوں میں گزرا جن کی سب سے بڑی خوبی ان کا کھلا پن سچائی اور بے تکلفی ہوتی ہے بہت اچھے دوست اور غمگسار ہوتے ہیں عربی میں خوش آمدید کہنے کیلئے ایک لفظ اہلا بولا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ ہمارے اہل میں سے ہیں اور دوسرا لفظ سہلا بولا جاتا ہے جس کا مطلب سہل ہو جانا یعنی easy ہو جانا اس کا حقیقی مفہوم آپ کو تب سمجھ میں آتا ہے جب آپ ان کے گھر جاتے ہیں اور ان کا عملی رویہ دیکھتے ہیں یعنی ا ہلا و سہلا آپ ہمارے اہل ہیں اور ایزی ہو جائیں جب بھی آپ کسی عرب کے گھر جائیں کچھ نہ کچھ کھائیں ضرور جس کو عرب بہت پسند کرتے ہیں مہمان خانہ جس کو عرب مجلس کہتے ہیں فروٹ کی ایک آدھ ٹرے اور قہوہ موجود ہوتا ہے آپ اگر بے تکلفی سے اس میں سے کچھ کھا لیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ نے ان کا دل جیت لیا وہ صحراء4 کیاور صحراء4 ان کا دوست ہوتا ہے توکل ان کا اوڑھنا بچھونا مادی وسائل پہ انحصار کم کم صحرا ء کی وسعتوں میں بسیرا انہیں خوب بھاتا ہے جب کبھی موقع ملتا ہے خاص کر اختتام ہفتہ کی چھٹیاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ صحرا ء کے طبعی ماحول میں گزارنا انہیں زیادہ مرغوب ہے گو ان لوگوں نے مادہ پرستی کا کچھ نہ کچھ اثر قبول ضرور کیا ہے لیکن نئی نسل کے عادات اطوار میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی خاندان کا بہت خیال رکھتے ہیں بلاشبہ کہیں کہیں تکبر کا عنصرتو موجود لیکن بہت ہی کم لوگ اس کا شکار ان کے حکمران بے تکلف پروٹوکول سے بے نیاز اور متوکل علی اللہ ایک مرتبہ خلیج کے نہایت نامور اور بہت بڑے لیڈر نے دوران شکار کھلے میدان میں کھانا کھایا اس کے بعداپنے سامنے زمین پر گرے ہوئے چاول اٹھائے اور پھانک لئے کہ رزق قدر اور احترام چاہتا ہے اور نہ جانے برکت والا دانہ کون سا ہو اب ان اداؤں پر اللہ رب العزت مہربان کیوں نہ ہو صحرائی لوگوں کا مزاج مبنی برتوکل ہوتا ہے جھوٹ اور خاص طور پر دوغلا پن تو جیسے انہیں معلوم ہی نہیں بزرگ لوگ کی جدید سہولیات سے رغبت نہ ہونے کے برابر ہے ایک مرتبہ کسی عرب دوست کے ہاں رات کے کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا ہم سر شام پہنچ گئے اس دوران ان کے والد گرامی سے ملاقات بھی ہوئی انہیں کی اقتداء میں نماز عشاء بھی ادا کی رات خاصی دیر بعد بمشکل اجازت مرحمت فرمائی جیسے نکلنے کے لئے اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے تو سامنے دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں بنے ریت کے ٹیلے پر کوئی شخص لیٹا ہے ابھی پوچھنے والے تھے کہ میزبان کہنے لگے ریت کے ٹیلے پر خوابیدہ شخص ان کے والد ہیں جن کو بستر پر گہری اور مزیدار نیند نہیں آتی لہذا ان کی خاطر گھر کے اندر 4 /5 ٹرک ریت کے ڈلوا رکھے ہیں تا کہ یہ سکون کی نیند سو سکیں یاد آیا کہ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کے لئے ان کے شہر میں روٹ لگا ہوا ہے ہمارے علم کے مطابق تو وزیراعظم اسلام آباد میں ہیں تحقیق پہ پتا چلا کہ یہ ان کے صاحبزادے کا روٹ لگا ہے جو شیو کرانے کے لئے جانا چاہ رہے ہیں اور سڑک پچھلے ایک گھنٹے سے بند ہے لیکن یہاں حکمران حضرات بھی نہایت بے تکلف کبھی کبھی صحراء کی ریت پر ایسے لیٹ جاتے ہیں جیسے مخملی بستر ہو صبح فجر کی نماز کے لئے عام ٹینکوں میں بھرے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لیتے ہیں کسی تکلف کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا تکبر نام کو نہیں بغیر پروٹوکول کے شاپنگ سنٹرزمیں آ نکلتے ہیں لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں عام لوگوں سے عام سی باتیں کرتے ہیں ہر بات چاہے ذاتی ہی ہو خوش دلی سے جواب دیتے ہیں Twitter پر براہ راست عوام سے رابطے میں رہتے ہیں لوگ بھی ان سے بے حد محبت اور ادب و احترام کرتے ہیں۔

یہ مودی کی آنیاں جانیاں

25دسمبر کی صبح قوم معمول کے مطابق ملی جوش و جذبے کیساتھ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا139 واں یوم پیدائش منا رہی تھی کہ اچانک یہ خبر سامنے آئی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے ملنے لاہور پہنچنے والے ہیں۔ یہ خبر میڈیا پر ایسی بجلی بن کر گری کہ پھر کسی چینل کو قائداعظمؒ کا یوم پیدائش یاد رہا نہ ایسی تقریبات۔ سارا دن میڈیا پر مودی کی آمد کا اودھم مچا رہا ۔ امکانات ،خدشات ، تحفظات اور خطرات کے تمام پہلو چھان مارے گئے۔ایسا شاید اسلئے ہوا کہ ایک ڈیڑھ ماہ قبل تک انہی مودی جی کی زبان پاکستان کے خلاف روز شعلے اُگل رہی تھی۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ مودی اور اس کی پاکستان دشمن انتظامیہ پاکستان کے خلاف زہر نہ اُگلتی یا کوئی بھونڈا الزام نہ لگایا جاتا۔حیرت ہے کہ عین اسی روز جب وہ روس سے افغانستان کی نئی پارلیمنٹ بلڈنگ کا افتتاح کرنے کابل پہنچے تو وہاں بھی اپنی تقریر میں پاکستان کو نہ بخشا اور نام لئے بغیر الزام لگایا کہ جب تک سرحد پار ٹھکانے تباہ نہیں ہوتے افغانستان میں امن نہیں آسکتا ۔ پھر اچانک مودی کے من میں کیا سوجھا کہ وہ کابل سے اڑان بھر کر لاہور تشریف لے آئے اور میٹھی میٹھی زبان میں کہتے رہے کہ ہاں ہم اکٹھے ہی ہیں۔ اپنی پسند کا ساگ بھی کھایا اور کشمیری چائے بھی نوش فرمائی ۔ شایدمودی کو وہ اقبال جرم بھول گیا تھا جب چند ماہ قبل بنگلہ دیش کے دارالخلافہ ڈھاکہ میں انہوں نے کہا کہ ہاں پاکستان توڑنے میں مکتی باہنی کے ساتھ وہ اور ان کاملک بھی شامل تھا۔یہ اچانک پاکستان نے ایسا کونسا معرکہ انجام دیا یا کوئی ایسا کام کیا کہ مودی جی سب کچھ بھول گئے۔پاکستان بھی وہی پاکستان کے سیکورٹی ادارے بھی وہی، مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی بھی وہی، جو آئندہ بھی وہی رہے گی کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت نے جابرانہ قبضہ جما رکھا ہے۔کشمیریوں کو انکا بنیادی حق،حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ اس کے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی جی اگر اچانک موم ہوئے ہیں تو پھر یقیناً دال میں کچھ ضرور کالا ہے۔ اس لئے پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ نمستے کے انداز میں ادا کیے جانے والے خیر سگالی کے الفاظ کے چنگل میں پھنسنے کی بجائے عملی اقدامات پر دھیان دیں۔ منہ سے رام رام کہنا بنئے کی فطرت ہے مگر پاکستان کو اُس چھری پر نظر رکھنی ہے جو اس نے بغل میں چھپا رکھی ہے۔سفارتی دنیا کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ دشمن کی سرزمین پرکھڑے ہوکردشمنی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار نہیں کیا جاتا بلکہ باہمی مسائل کو مل کر حل کرنے کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ حقیقت وہ ہوتی ہے جب وہ اپنی سرزمین پر اترتا ہے، جیسے رواں ماہ کے آغاز میں7دسمبرکو سشما سوراج اسلام آباد آئیں تو مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کی۔ لیکن اپنے دورہ پاکستان کے حوالے سے بھارتی لوک سبھا میں اپنے پالیسی بیان کے اگلے ہی روز یہ بیان دے کر بھارتی ہٹ دھرمی کا اعادہ کر دیا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات مقبوضہ کشمیر پر نہیں بلکہ پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر پر ہوں گے جس پر ان کے بقول پاکستان نے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ ہے ان کا اصل چہرہ ، انکے دانت جو دکھانے کے اور کھانے کے اورہیں ۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں کہ جنکے باعث سنجیدہ محب وطن پاکستانی حلقے تشویش میں مبتلا رہتے ہیں ۔ وہ بجا طورپر اعتراض کرتے ہیں کہ پچھلے 68 سال کی تاریخ بھارتی حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں اور مکرو فریب سے بھری پڑی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جائے۔ ہمیں دوستی اور تعلقات کی بحالی کے لئے بھارتی وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت پر انتہائی محتاط رہنا ہو گا،یہ مرحلہ سنجیدگی کا متقاضی ہے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ کیا مودی حکومت کشمیر پراٹوٹ انگ والی رٹ چھوڑ کر یو این قراردادوں کی روشنی میں اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہے۔ درپیش حالات تو اس جانب ایسا کوئی امکان ظاہر نہیں کرتے کیونکہ اوفا ملاقات، پیرس ملاقات‘ بنکاک میں پاکستان بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اور پھر سشما سوراج کی اسلام آباد میں خوش بیانیاں اور سازگار تعلقات کی خواہش کے اظہار کے باوجود مسئلہ کشمیر پر بھارتی پالیسی کی سوئی وہیں کی وہیں اڑی نظر آتی ہے۔ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رکھ کر مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جارہا ہے جس کیلئے خود نریندر مودی سب سے زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں تواس تناظر میں مودی کی ’’اچانک‘‘ لاہور آمدکو خارجہ امور کے ماہرین عالمی برادری کو بے وقوف بنانے سے تعبیر کر رہے ہیں۔مودی سرکار انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث اس وقت عالمی دباؤ میں ہے۔بین الاقوامی طاقتیں بی جے پی کے وزیراعظم کی پالیسیوں کو علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ محسوس کررہی ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ اور امریکہ مودی پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دو طرفہ مسائل حل کرنے کے لئے دباؤ بڑھارہے ہیں۔یہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے ’’آلے دوآلے‘‘ پھر رہے ہیں اوراسے بھارتی چال سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی بھاری اکثریت مودی کی نمودونمائش والی ان خیر سگالیانہ پھرتیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں ہے۔جب تک بھاتی حکمرانوں کے قول فعل میں فاصلے کم نہیں ہوتے ایسی آنیاں جانیاں گونگلیوں سے مٹی جھاڑنے یا پھر پاکستان سمیت عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

بھارت میں غربت اور اسلحہ کی دوڑ

بھارت میں غربت اور مہنگائی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بھیک مانگنے والوں میں اکیس فیصد بھکاری پڑھے لکھے ہیں۔ ہتھیاروں کی دوڑ میں پیش پیش رہنے والے بھارت میں غربت و افلاس عروج پر ہے۔
روزگار نہ ملنے کے باعث لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بھارت کے سرکاری اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 3 لاکھ بہتر ہزار افراد بھیک مانگتے ہیں جن میں پچہتر ہزار افراد پڑھے لکھے ہیں جو بھکاریوں کا 21 فیصد بنتے ہیں۔ان پڑھے لکھے بھکاریوں نے بارہویں کا امتحان پاس کیا ہوا ہے اور تین ہزار سے زائد ایسے بھکاری ہیں جنہوں نے پروفیشنل ڈپلومہ ، گریجوایٹ یا پوسٹ گریجوایٹ کی ڈگری لی ہوئی ہے۔یہ صورتحال بھارتی حکومت کی جانب سے ترقی کے دعووں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔
جنگی جنون کا شکار اور اسلحہ پر بے شمار دولت خرچ کرنے والے بھارت میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی ایک تہائی انتہائی غریب لوگ بھارت میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک ارب 25 کروڑ کی آبادی والے بھارت میں 30 کروڑ سے زائد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جو تعلیم، صحت، پانی سیوریج سسٹم اور بجلی جیسی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اِسی غربت کے باعث بھارت میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور ہر سال ایک کروڑ 40 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے قبل ہی موت کے بے رحم شکنجوں میں پھنس جاتے ہیں جب کہ ان میں سے 60فیصد لوگ گھر جیسی نعمت سے بھی محروم ہیں اور کھلی فضا میں اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ پیسفیک کے انڈر جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کو انتہائی غربت کے خاتمے کے لئے کوششوں میں تیزی لانا ہوگی اورغربت کے بڑھتے ہوئے گراف کو کم کرنے کے لئے کوششیں میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بھارت کی وجہ سے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر پائے گا۔
چین نے بھارت کو کبھی جنگ کی دھمکی نہیں دی اور نہ کبھی بھارت پر حملہ کیا ہے۔ یوں اس خطے میں بھارت کے لئے کوئی ایسا ملک نہیں کہ جس سے بھارت کے وجود کو خطرہ ہو پھر کیا وجہ ہے کہ بھارت اپنی عوام کی حالت سدھارنے، غربت کے خاتمے اور ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کو اچھے طریقے سے ختم کرنے کی بجائے بے تحاشہ جدید سے جدید اسلحہ جمع کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کشمیری مجاہدین یا ماؤنوازوں اور دیگر آزادی پسندوں کے خلاف تو بھاری اسلحہ استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے بعد صرف پاکستان ہی رہ جاتا ہے کہ جس کے ساتھ بھارت کے سمندری حدود سرکریک سے لے کر کشمیر، سیاچن تک سرحدوں پر تنازعات ہیں جس کے وہ دو ٹکڑے کر چکا ہے، جس کے کئی حصوں پر اس نے قبضہ جما رکھا ہے۔
اس کی پالیسی یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان مضبوط و مستحکم نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اتنے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے۔ ان سنگین حالات میں اب ہمیں ضرور سوچنا چاہئے کہ بھارت کے ان خوفناک اور خطرناک عزائم پر کیسے قابو پانا اور مقابلہ کرنا ہے۔ بھارت کی ساری تیاری کا مرکز و محور پاکستان ہے۔ ہم جنگ کے طالب ہیں نہ رسیا، لیکن اپنی خودداری کسی صورت قربان نہیں کر سکتے۔اگر بھارت اپنے سارے مْلک کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ ہم نے کب تک یوں نرم پالیسی اختیار کئے رکھنا ہے۔

سال ۲۰۱۵ء میں قوم نے کیا حاصل کیا؟

سال۲۰۱۵ء میں کون کون سے قومی ہداف حاصل کئے گئے اور کون سے حاصل نہ ہو سکے ۔ہر مملکت کے چلانے کے لیے چار ستون مانے گئے ہیں عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ اور صحافت، اگر یہ چار ستونوں نے اس سال کچھ ترقی کی ہے یا اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ قوم نے کچھ حاصل کیا ہے اور اگر یہ چار ستون ویسے ہی پہلے جیسے چلتے رہے تو کہا جائے گا کہ سال رواں میں بھی پہلے کی طرح ہی رہا۔ ملک کا سب سے پہلا اور بنیادی ڈھانچہ اسلام ہے جس کے نام پر یہ ملک قائد ؒ محترم نے پاکستان حاصل کیا تھا۔ نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں سیکولر کی بات کر کے ملک کے ساتھ زیادتی کی ہے جس پر انہیں رجوع کرنا چاہیے۔اگرسب سے پہلے عدلیہ کی بات کی جائے تو سپریم کورٹ کے معز زجج نے اُردو کو حکومت میں رائج کرنے کا حکم جاری کیا انہوں نے خود اردو میں فیصلہ لکھ اور اردو میں تقریر کی۔ موجودہ چیف جسٹس نے بھی سینیٹ میں اُردو میں تقریر کی۔گو کہ حکومت نے حسب روایت اس پر عمل کرنے میں ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا اور اقوام متحدہ میں جہاں دوسری حکومتوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے ملک کی زبانوں میں تقریریں کیں وہاں ہمارے حکمران نے اُردو میں تقریر نہ کر کے اپنے غلام ہونے کا ثبوت دیا۔عدالتی نظام کی کمزروی کی وجہ دہشت گردی کے مجرم عدالتوں سے بری ہوجاتے رہے ہیں۔ اب قانون کے مطابق فوجی عدالتیں قائم ہوئی ہیں ان سے دہشت گردوں کو سزائیں ہورہی ہے جس سے عوام کو انصاف ملنا شروع ہو ہے ۔ عدلیہ کا کام ہے کہ وہ پاکستان کی عوام کو قانونی مدد فراہم کرے اور عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہو اور دستور کی اسلامی دفعات کی محافظ بنے۔ مگرسپریم کورٹ نے دستوری ترمیم والے کیس میں پارلیمنٹ کو کھلا اختیار دے دیا ہے کہ جب وہ چاہے دستور کے اسلامی ڈھانچے کو ختم کر سکتی ہے اسلامی نظریاتی کونسل اوروفاقی شرعی عدالت کوختم کیا جاسکتاہے۔ حدود آرڈیننس ،قانون قصاص ودیت،قانون شہادت،زکوٰۃ و عشر کا قانون،احترام رمضا ن ایکٹ حتہ کہ قرارادا مقصد اور ساری دینی دفعات جیسے ریاست کا مذہب اسلام ہے سب ختم ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلہ سے اسلامی حلقوں میں تفتیش کی لہر دوڑ گئی ۔ دوسری بات جس سے عوام عدلیہ سے مایوس ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سود کے بارے میں ایک معزز جج نے فرمایا’’ہم سپریم کورٹ کے باہر مدرسہ کھول کر وعظ نہیں کر سکتے کی سود حرام ہے۔ جو سود نہیں لینا چاہتا نہ لے، جو لیتا ہے اس سے اللہ پوچھے گا‘‘۲۱ ؍سال قبل وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تھا مگرحکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داہر کی ہوئی ہے جس پر عدالت نے کے ایک معزز جج نے یہ فرمایا ہے۔عوام تو گذشتہ ۲۱؍ سال سے انتظار کر رہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کب ختم ہوتی ہے۔ انتظامیہ کی بات کی جائے تو ملک کا نظم ونسق مسلم لیگ(ن) جو ۲۰۱۳ء سے ملک کی حکمران ہے کے ہاتھ میں ہے جس نے عوام سے و عدہ کیا تھا کہ وہ الیکشن جیت کر ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر خزانے میں داخل کرے گی۔ چھ ماہ کے اندر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرے گی ملک سے دہشت گردی ختم کرے گی۔لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیابلکہ جب رینجرز نے اُن پر ہاتھ ڈالا تو مفاہمت کی پالیسی کے تحت ان کو تحفظ دینے کی باتیں سنی گئی ہیں۔چھ ماہ میں بجلی اور گیس لوڈ شیدنگ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا سردی کے آتے ہی گیس کے بند ہونے پر لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ بجلی کی وجہ سے کارخانے بند پڑے ہیں۔ہاں دہشت گردی کچھ ختم کم ہوئی ہے۔ اس کی وجہ ضرب عضب کی کامیاب کاروائیوں ہیں۔کراچی میں دہشت لسانی تنظیم جس کے کارکن را سے ٹرنینگ لے کے آئے ۔را سے فنڈنگ لیتے رہے ،ہر پکڑے جانے والے دہشت گرد نے اعتراف کہا کہ اُس نے اِتنے قتل کئے ہیں۔ اخباری خبروں کے مطابق باہر سے حکم ملنے پر ان سے نرم رویہ اختیار کیا گیا ہے جس سے ابھی تک عوام میں خوف کی فضا قائم ہے۔ فوجی اور سپریم کورٹ تک نے حکومت کے بیڈ گورننس کی باتیں کیں ہیں ۔ حکومت بھارت سے دب کر بات کرتی ہے جس سے عوام کے دل میں نواز لیگ کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔مودی کے پاکستان کے اچانک دورے کو ذاتی مفادات تک رکھا گیا جس ملک میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔یہ صحیح ہے کہ ضمنی اوربلدیاتی انتخابات میں حکومت کو کامیابی ہوئی مگر اس کی وجہ حلقے قومی خزانے سے ترقیاتی اخراجات بتاتے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول کے دہشت گردی کے واقعے پر مقننہ نے دہشت گردی کے خلاف قانون بنا کر بہت بڑی پیش رفعت کی ہے پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا اس پر بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا اسی قانون کے تحت ایپکس کمیٹیاں بنیں۔ قومی اور صوبائی ایپکس کمیٹیاں نیشنل ایکشن پلان کی کارکردی کا جائزا لے رہی ہیں۔ گو کہ اس پر حکومت مکمل عمل درآمد نہ کرا سکی اس پر تنقید بھی ہوتی رہتی ہے۔ بہرحال اس سے ملک میں دہشت گردی پر کافی حد تک کنٹرول ہو گیا ہے پھر بھی دہشت گردوں نے بڈھ بیر اور کل نادرہ کے دفتر کے گیٹ پر خود کش حملہ کیا جس میں شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔کراچی کی لسانی فاشسٹ تنظیم کے قائد جو برطانوی شہری ہے کی پاک فوج پر گالی گلوچ پر مقدمہ قائم ہوا ۔ عدالت نے الطاف حسین کی تقریر اور فوٹو پر پابندی لگادی ۔اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس غلط حرکت پر الطاف حسین کے خلاف عوام نے عدالتوں میں سو سے زائد مقدمے داہر کئے۔ پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے ساتھ پیپلزپارلیمنٹرین کا صدر بھی منتخب کر لیا۔ اخباری خبر کے مطابق صرف آٹھ ممبران نے ہاتھ کھڑے کئے تھے باقی خاموش بیٹھے رہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے دہشت گردوں کے علاج اور کرپشن پر رینجرز کے ہاتھوں کرفتار ڈاکٹر عاصم کے حق میں رینجرز کے اختیارات کو ختم کر دیاتھا۔ بے نظیر بٹھو کے پروگرام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے قومی نیشنل ایکشن پلان کو متنازعہ بناتے ہوئے نواز شریف نیشنل پلان قرار دے دیا ہے۔ وفاق نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے رینجرز کو واپس دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت دوبارہ اختیارات دے دیے ہیں جو قانون کے مطابق ہیں۔اس پر بات کرنے کے لیے سندھ کے وزیر اعلیٰ مرکزی حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔صحافت مملکت کا چوتھا ستون ہے اگر یہ قومی مفادات کے مطابق کام کرتا رہے تو قومی ترقی آگے کو بڑھتی ہے۔ ہماری صحافت ماشاء اللہ آزاد ہے پل پل کی خبروں سے عوام کو مطلع رکھا جا رہا ہے۔حکومت کے غلط کاموں پر بڑے اچھے اور مثبت انداز میں گرفت کی جاتی رہی ہے۔کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑے بڑے پروگرام ہو تے رہے ہیں۔حکومت کے گورننس تو مثالی نہیں رہے جس پر کور کمانڈرز اور سپریم کورٹ نے بھی تفتیش کا اظہار کیا تھاپھر بھی ڈھائی سال میں حکومت کا کرپشن میں کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہیں آیا اس کی تصدیق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپوٹ میں کیا تھا۔اب نیپ نے راولپنڈی؍ اسلام آبادمیٹرو بس میں کرپشن کی تحقیق کے لیے نوازحکومت کے دو اہلکاروں پر گرفت کی ہے۔ حکومت کی ڈھائی سالہ کار کردگی پر میڈیا کی گرفت رہی ہے حکومتی اہلکاروں کو ٹی وی شوز میں بلا کر ان کے کاموں اور اورعوام کے خزانے کے متعلق بعث مباحثے ہوتے رہے ہیں۔ حکومت کی کچھ کچھ خوبیوں کو بھی اُجاگر کیا۔ میڈیا چاہے پرنٹ ہو یاالیکٹرونک جب عوام کی آواز بن جاتا ہے تو عوام حکومتوں کو کارکردگی کی بنیاد پر تبدیل کر سکتی ہیں۔ صاحبو! پاکستانی عوام پاکستان میں قائد اعظمؒ کے وژن کے مطابق اسلام کی فلاعی ریاست کے حصول میں اس سال بھی ناکام رہی۔بلکہ آئینی طور پر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے آئین کے خلاف اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اعلانیہ سیکولر ہونے کی باتیں ملک کے حکمران کی زبان سے سن کر پاکستان کے عوام دکھوں میں اس سال بھی اضافہ ہی ہوا۔ اسلامی نظام کی خواہش مند، دکھوں ، مصیبتوں ، دہشتگردی ، لا اینڈ آڈر، مہنگاہی، لوڈشیڈنگ اور سیاست دانوں کی وعدہ خلافی کی ماری پاکستانی عوام کو اس سال بھی میگا پروجیکٹ کی خوش خبری تو ضرور سنائی گئی مگر کوئی بھی فوری خاص ریلیف نہیں ملا۔ہاں سیاست دانوں کی مراعات میں اضافہ ضرور ہوا۔

نیا سال مبارک

سی این جی بند، گیس بند، چولہے بند، ناشتے بند، بجلی بند، پانی بند،کاروبار بند، دفاتر بند، روزگار بند، سڑکیں بند، ٹریفک بند،ہسپتال بند، علاج بند، پارک بند،سکول بند کالج بند، زبان بند ،، اذہان بند ۔اور نا جانے،، کیاکیا بند،، لیکن نیا سال مبارک ہو کہ جمہوریت چھا گئ ہے۔ کیا واقعی جمہوریت چھا گئی ہے یا اندر سے کھا گئ ہے، کیا قران و سنت کے آفاقی نظام کی موجودگی میں، یا دنیا کے دیگر درجنوں ملکوں جہاں جمہوریت کو قریب سے پھٹکنے نہیں دیا جا تا وہ اس کے بغیر آج ترقی کی انتہاووں کو چھو رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ہی کیوں واحد اور آخری راستہ قرار د یا جاتا ہے،،، یہ ایک بڑا سوال ہے جسکا احاطہ شاید ان گنے چنے الفاظ میں ممکن نہ ہے۔؟ لیکن دورِ جدید کا جمہوری فلسفہ آسمانوں کو چھو رہا ہے اور اتنا سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اذہانوں میں ایسا کچھ ٹھونس دیا گیا ہے کہ چاہے انسان کو اسکی بنیادی ضرورتیں ملیں نہ ملیں، عزت، جان ومال محفوظ ہو نہ ہو، لیکن جمہوریت کی کچھ اس طرح کی۔ چِتر کاری ۔کی جا رہی ہے کہ انسان کو اور وہ بھی خاص طور پر ہم پاکستانیوں کو یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ اگر اپنی باقی ماندہ سا نسیسں برقرارکھنی ہیں، تو یہ صرف اور صرف موجودہ سیٹ اپ کے اندر ہی ممکن ہے جسکے بغیر ہماری زندگی شاید زندگی نہیں درندگی کے مترادف ہے۔ اوراس کامیاب نسخہِ کیمیا کے کاریگر استاد جنا بِ زرداری اور محترم نواز شریف صاحب ہی ہیں، جنکا بنیادی جمہوری فلسفہ اقتدار سے ہر قیمت پر چمٹے رہنا اور گھوم پھر کر باریاں لینا ہے۔ قوم کو دور جدید کے یہ دونوں ار سطو اور افلا طون بھی مبارک ہوں۔سرکاری ٹی وی بلکہ اب تو تمام کے تمام چینلز پر لمبے طویل اشتہار دیکھ کر ہم ٹھٹک جاتے ہیں کہ یہ کس خوش قسمت ملک کی ترقی کا سنہرا دور دکھایا جا رہا ہے ، لگتا ہے کہ ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو چکی ہیں یا ابھی چند لمحوں میں اس طلسماتی دنیا کا کوئی بڑا سا دروازہ کھلنے ہی والا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پی پی دور کی لوٹ مار،تباہ کاریوں اور غلط کاریوں کے بعد اب لیگی دور میں تو غریب اور سفید پو ش طبقے کا توسانس لینا مشکل ہو چکا ہے، لوٹ مار، اقربا پروری ، کمیشن خوری اب بھی کم نہیں اور طبقاتی تفاوت کا میدان وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ گیس بجلی بند لیکن بِل دوہر ے تہرے، تاجر ظالمانہ ٹیکس سے پر یشان، مزدور روزگار کی عدم دستیابی پر بچوں سمیت زہر کھا کر اس دنیا سے منہ موڑ رہے ہیں،، کسان فصلوں کو آگ لگاتے پھرتے ہیں، لیکن لینے والا کوئی نہیں، مجبوراً آڑہتی کے ظالمانہ شکنجے میں اپنا سر دینے پر مجبور۔کھاد مہنگی، پانی نایاب، اوپر سے چوری، جائیں تو جائیں کہاں۔ فصل نا ہو تو پوچھتا کوئی نہیں اور اگر ہو جائے تو بمپر کراپ کا سہرا حکومت اپنے ماتھے پر سجانے میں زرا دیر نہیں لگاتی۔پنجاب میں ہزاروں سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہیں، لاکھوں مزدور، بیروزگار بیٹھے ہیں، لیکن شرارت کے طور پر اچانک چند دنوں کیلئے دوبارہ سے سپلائی جاری کر دی جاتی ہے، گیس اسٹیشنوں پر عملے نے سموسوں پکوڑوں کی ریڑھیاں لگا لی ہیں، چند ایک پر تو میں نے بکرے بندھے دیکھے ہیں، لیکن جب اچانک گیس آتی ہے تو اس سے نا گیس بکتی ہے نا پکوڑے۔ اور چند دنوں بعد بکرے پھر سے ۔مےَں، مَیں ۔کی صدا لگا کر وزیرِ پیٹرولیم کی۔ کامیاب پا لیسیوں ۔ پر مبارک باد دیتے نظر آتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدہام، ہزاروں گاڑیاں نیچے پھنسی ہوئی لیکن کمال جمہوری ناز و نخروں سے اِکا دُکا میٹرو ان سب کا اوپر سے منہ چڑاتی گذرتی جا رہی ہے۔ گھروں میں گیس بجلی پانی کے بلیک آو ٹ اور گیس کی بندش پرروزانہ سڑکوں پر گھنٹوں بچے بوڑھے، عورتیں، تَوے، تسلے اور بیلنے لہراتی جمہوریت کو کوسنے دے رہی ہوتی ہیں، جمہوریت کو بیلنے لہراتی عوام کے کوسنے مبارک۔جمہوریت کی فنکاریا ں دیکھیں کہ اپنی دُم پر پیر آیا تو رینجرز کے اختیارات پر قدغن لگانے کو چڑھ دوڑے اور کرپشن کے خاتمے پر اُٹھائےجانے والے اب ہر اچھے قدم کو سندھ پر چڑھائی تک قرار دے دیا اور اسی جمہوریت کی چمتکاریاں دیکھیں کہ وی آئ پی پروٹوکول کی بھینٹ چڑھی بچی بسمہ کا باپ فیصل،،، پورے پاکستان کو گھنٹوں رُلاتا،، چند منٹوں میں رام ہو کر کیسے سب کے سب کو بری الزمہ قرار دے دیتا ہے اور وہاں پر موجود عظیم پروٹوکولی فرعونکس فخریہ انداز میں کروڑوں بہتے آنسووں کامذاق اُڑاتا ہے۔ کراچی میں موجود کرپشن کے فرعونوں اور اس غریب فیصل کو بلکہ پوری لیاری کو فوری اور تیز ترین انصاف ملنے پر مبارک ہو۔ کہتے ہیں بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے، ہو گی ضرور ہو گی، لیکن سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو اس فلسفہ کی ابھی تک سمجھ کیوں نہیں آ رہی، اگر جمہوریت واقعی ایسی اچھی چیز ہے تو پچاس سال بعد بھی سڑکوں پر ٹرکوں پر صدر ایوب کی دیو ہیکل تصاویر کیوں ہمیں بار بار دکھا ئی دیتی ہیں،کسی عوامی یا جمہوری شخصیت کی تصاویر کیوں نہیں نظر آتیں۔ تمام کے تمام بڑے منصوبے اور انقلابی صنعتی اقدامات کس کے دور میں سر انجام پائےجب پاکستان حقیقتاً ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا ؟ ان سب سوالواں کا جواب بھی اس نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو اپنے گریبان میں جھانک کر فوری طور پر دینا ہو گا۔ آخر میں قارئین کرام نئے سال ک مبارک کے ساتھ ساتھ ایک اور مبارک باد کہ سال کے آغاز سے صرف چند دن قبل ایک نئی سیاسی پارٹی کا ظہور ہوا ہے جسٹس ڈیموکریٹک پارٹیً جسکا نعرہ ہی صدارتی طرز حکومت ہے جو اس جمہوریت زدہ دور میں خاصہ حیران کن ہے ۔ ماضی میں ہم نے ایک نعرہ مستانہ بہت سُنا ہے، چیف تیرے جان نثار، بیشمار بے شمار، لیکن د یکھتے ہیں کہ وہ چیف اب اس بار کتنے مستانے۔ اپنے گرد جمع کر پاتے ہیں اور کسطرح اپنے از خود اقدامات سے اس حبس زدہ ماحول میں اپنی جگہ بنا پاتے ہیں، تاہم یہ اتنا بھی کو ئی مشکل کام نہیں، کیونکہ لوگ پاکستان کے مضبوط اور طاقت ور ترین سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور انکے کردار کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انکا نعرہ بھی اچھوتا ہے اور نام بھی،بس صرف کام اچھا ہونا چاہیے ۔

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

یہ وہ نغمہ ہے جس نے1965ء کی جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔اس وقت ایسے نغمے لکھے گئے کہ دشمن کے دل بزدلی میں تبدیل ہو گئے۔جو سیالکوٹ وزیرآباد کے راستے لاہور فتح کرنے آئے تھے۔ان کو کھیم کرن کے لالے پڑ گئے۔اسی قسم کا ایک بار پھر ماحول بنا۔جب گزشتہ سال دہشت گرد پاکستانی عوام اور خاص کر پاک فوج کے افسروں کے بچوں کو شہید کر کے بہت سخت پیغام دینا چاہتے تھے۔لیکن سچ ہی کہتے کہ بعض حادثے قوموں کی تقدیر بدلنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ حادثہ بھی ایسے وقت پر ہوا جب پاکستان میں سخت سیاسی کھچاؤ کا ماحول تھا۔ادھر ضربِ عضب جاری تھی۔12/13لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر تھے۔یقینی طور پر ایسے حالات میں اتنا بڑا سانحہ رونما ہواجس سے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اب فوجی جوان دہشت گردوں کا پیچھا چھوڑ دیں گے۔پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخواہ کے تعلیمی ادارے خالی ہو جائیں گے ۔لوگ اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے سے اجتناب کریں گے۔لیکن ماحول اس کے بالکل برعکس ہوا۔سکولوں ، کالجوں میں طلباء و طالبات کی تعدادبڑھ گئی۔ فوجی جوان زیادہ جوش و جذبہ سے دہشت گردوں کا پیچھا کرنے لگے۔دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کے ایک مشیر نے آکر اسے خبر دی کہ ہماری افواج چاروں طرف سے دشمن کے گھیرے میں آ گئی ہیں۔اب ہمارے لئے لڑنا مشکل ہو گیا ہے۔ تو ہٹلر نے جواب دیا کہ اب ہمارے لئے جنگ جیتنا اور لڑنا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔اب ہمیں کسی بھی سمت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔چاروں طرف بغیر سوچے سمجھے اور تاخیر کئے اپنی تو پوں کا منہ کھول دو۔پھر ایسا ہی ہوا کہ ہٹلر کو اس جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ۔16دسمبر 2014ء سے پہلے پاکستان میں بھی بیرونی طاقتوں کے پیسوں پر چلنے والی تنظیموں اور اسلام کا نام الاپنے والی پارٹیوں کے رہنما شہادتوں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والے افواج پاکستان کے لوگوں کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ گمراہ لوگ کہتے کہ پاک فوج کے جوان شہید نہیں ہوئے۔بلکہ وہ شہید ہیں۔جو پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہو رہے ہیں۔لیکن اللہ تبارک تعالیٰ کویہ بات منظور نہیں تھی کہ اللہ کی راہ پر شہید ہونے والوں کو شہید نہ کہا جائے۔اللہ نے اپنا یہ فیصلہ صادر فرمانا تھا کہ شہید کون اور ہلاک کون ہے۔16دسمبر 2014ء سوات، خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں شہید ہونے والے شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ پکار اٹھاکہ شہداء ہم ہیں۔شہید ہم ہیں۔جو اللہ کی راہ پر لڑ رہے ہیں۔اس دن حق اور باطل کا فیصلہ ہو گیا تھا ۔ اس حملے نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پردہ چاک کر دیا ۔ اس نے حق کو فتح سے ہمکنار کیا۔پاکستان میں بھی دہشت گردی کا ساتھ دینے والوں کو چپ کا تالا لگ گیا۔لیکن یہ سب کچھ دلیر اور بہادر عسکری اور سول قیادت کی بہتر حکمتِ عملی سے ممکن ہو سکا ۔اس دن یا اس کے بعد اگر قیادت بزدلی کا مظاہرہ کرتی یا دہشت گردوں کے رعب کے نیچے آجاتی تو آج پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔آدھے سے زیادہ تعلیمی ادارے خالی ہو چکے ہوتے۔فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادتوں کو (نعوذو باللہ میرے منہ میں خاک) متنازعہ بنا دیا چکا ہوتا۔لیکن قیادت کابر وقت اور دلیرانہ فیصلے نے ضربِ عضب کی جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔16دسمبر 2014ء کی نسبت آج 16دسمبر 2015ء کوپاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردوں کے خلاف اسی جوش و جذبے کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہے۔ جس جذبے کے ساتھ پاکستانی افواج کے جوان اور افسر لڑ رہے ہیں ۔16دسمبر 2105ء کو پاکستان ٹیلی ویژن پر اسی آرمی پبلک سکول کے بچوں کے انٹرویو نشر ہوئے تو وہ کہہ رہے تھے کہ پہلے ہم ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے تھے ۔لیکن اس حملے کے بعد ہم نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔اب ہم فوج میں بھرتی ہو کر دہشت گردوں کا پیچھا کرنا چاہتے ہیں۔کچھ والدین کے بھی انٹرویو نشر ہوئے جن کے بچے اس حملے میں جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں۔ان کے دوسرے بچے اسی سکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ان کا جوش و جذبہ بھی دیدنی تھا۔اور وہ بھی اپنے بچوں کو فوج میں بھیجنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے122تعلیمی اداروں کا نام بھی ان شہید بچوں کے نام پر رکھنے کے احکامات جاری فرمائے۔جو اس حادثے میں شہید ہوئے۔اب ان بچوں کا نام رہتی دنیا تک زندہ و جاوید رہے گا۔جن بچوں کو دہشت گرد موت سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اب خود شہادت کا مطالبہ کریں گے۔اس سانحہ میں آرمی پبلک سکول کی پرنسپل نے جس ہمت ، حوصلے اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔اس کو تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا۔ان کے علاوہ بھی موقع پر موجود بچوں نے اپنے اساتذہ کی جس انداز میں تعریف کی۔ وہ بھی قابلِ رشک ہے کہ وہ اساتذہ کس طرح چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لئے باہر نکالتی رہیں۔اور جن بچوں کو وہ سکول سے باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں ان کے اوپر لیٹ گئیں۔اور ان بچوں سے پہلے اپنے جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔اب صرف وہ بچے اپنے آپ پر فخر نہیں کریں گے۔جو اس آرمی پبلک سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بلکہ ان بچوں کو بھی اپنے آپ پر فخر ہوگا جو اس سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے نام پر چلنے والے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہونگے۔ہم لوگ تنقید اور الزام تراشی کے بہت عادی ہیں بلکہ اس کو فخر سمجھتے ہیں۔16دسمبر 2015ء کو ان شہیدہونے والے بچوں کے ساتھ اظہارِ محبت اور ان کے والدین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لئے تعلیمی اداروں بھی چھٹی دی گئی۔جس پر کچھ لوگوں کوحکومت کے خلاف باتیں کرنے کا موقع ملا ۔کیا وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یکم مئی کو شکاگو کے سانحے میں مارے جانے والے مزدوروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے آج پوری دنیا کے ساتھ ہم بھی چھٹی نہیں کرتے۔کیا یہ سانحہ شکا گو کے مزدوروں سے کم ہے ؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ16دسمبر کو دنیا بھر کے تعلیمی ادارے پاکستان کے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے بند ہوتے۔اگر پوری دنیا نہیں تو کم از کم مسلمان ممالک کو16دسمبر کو چھٹی ہونی چاہیئے۔اگر وہ بھی ممکن نہ تھا تو جو جو ملک دہشت گردی کا شکار ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف اور ان 122بچوں کی شہادت کے سوگ میں چھٹی کرتے۔پاکستان بھر میں 16دسمبر کو چھٹی کے علاوہ 15دسمبر کو دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا۔تاکہ تعلیم حاصل کرنے والے بچے دہشت گردی کے خلاف آنے والی نسلوں کی رہنمائی کر سکیں۔موجودہ حکومت نے شہدائے آرمی پبلک سکول سے محبت کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔اب ساری قوم کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک ہو جائے۔نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں میں حکومت کاساتھ دے۔ یاد رہے دشمن اپنے ایجنڈے پر شب و روز کام کر رہا ہے۔اگر ان حالات میں بھی ہم نے حساس اداروں کے چھاپوں اور ان کی کارکردگی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی تو ہم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کریں گیاور اپنے ملک کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی کریں گے۔

Google Analytics Alternative