کالم

روس بھارت دفاعی تعاون مگر کس قیمت پر

۲۵دسمبر کو بھارتی وزیراعظم نواز شریف کو ملنے لاہور تشریف لائے ،ان کا غیر اعلانیہ لاہورآنا دنیا بھر کے میڈیا کیلئے بریکنگ نیوز بنا۔دورے کو اچانک دورہ کہا جا رہا ہے،لیکن باخبر حلقے اسے مسترد کررہے ہیں،انکاکہنا ہے کہ یہ میڈیا کیلئے ضرور سرپرائز تھا تاہم پاکستان میں بھارتی سفارتی حلقے الرٹ ہوچکے تھے۔بھارتی وزیراعظم مودی افغانستان سے سیدھے پاکستان تشریف لے آئے۔افغان دورہ کے دوران انہوں نے افغان پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کیا،جسے بھارتی حکومت نے تعمیرکروایا ہے۔افغان پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کیلئے بھارت نے نو کروڑ ڈالر خرچ کئے ،مودی کا بطور وزیراعظم یہ پہلا دورہ افغانستان تھا۔اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پڑوسی ممالک تعاون کریں۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ اس ضمن میں ضروری ہے کہ دہشت گردی افغان سرحدوں کے اندر نہ آنے پائے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ کی جائیں۔ انہوں نے افغان سکیورٹی دستوں کے مارے جانے والے اہلکاروں کے بچوں کیلئے بھارت میں تعلیمی وظیفوں کا اعلان بھی کیا۔ نریندرامودی کابل دورے سے ایک روز قبل روس کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے روس 16 سمجھوتوں پر دستخط کئے۔معاہدے کے تحت روسی ہیلی کاپٹر کاموف 226 بھارت میں تیار کیا جائے گا۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ براہموس میزائل بنانے میں بھارت کے ساتھ کامیاب تعاون رہا ہے، روس بھارت میں 6 نئے جوہری پاور پلانٹس لگائے گا۔انہوں نے بھارت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے اس کی حمایت کرے گا۔ ادھر بھارتی دفاعی فرم انڈیا ریلائنس ڈیفنس نے ائر ڈیفنس سسٹم تیار کرنے والی روسی فرم الماز آنتے کے ساتھ مینوفیکچرنگ اور مینٹیننس شعبوں میں شراکت داری کے لئے 6 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے۔دونوں فرموں کی ائر ڈیفنس سسٹمز، راڈارز، آٹومیٹڈ کنٹرول سسٹمز اور بھارتی وزارت دفاع کیلئے دیگر پیداواری سسٹم میں شراکت داری ہو گی۔ کمپنی ہیلی کاپٹر، آبدوزیں اور بحری جہاز ملک میں تیار کرنے کے سلسلے میں معاہدوں کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان اس طرح کی دوطرفہ بات چیت 2000ء کے بعد سے ہر سال ہوتی رہی ہے۔ بھارت اور روس سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے انتہائی قریبی اتحادی تھے لیکن حالیہ عشرے میںیہ تعلقات ذرا پیچیدہ نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان جہاں تقریباً دس ارب ڈالر کی سالانہ باہمی تجارت ہوتی ہے، وہیں روس بھارت کو فوجی ساز و سامان مہیا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کافی اہم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ بھارت کی تینوں افواج کی سپلائی کا سات فیصد روس سے حاصل ہوتا ہے۔بھارت کے پاس موجود ٹینک، جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر جتنے بھی تباہ کرنے والے ہتھیار ہیں، وہ سب بھارت نے روس سے لیے ہیں۔روس کیلئے بھی بھارت اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ بھارت ہتھیار درآمد کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان جن اہم سٹرٹیجک معاہدے پر بات ہو رہی ہے اس میں ایک جنگی بحری جہاز پر دستخط شامل ہیں۔بھارت جو پہلے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے خطرناک ملک بن چکا ہے اس پر مزید ایسی ’’مہربانیاں‘‘ کہ جس سے اس کے جوہری عزائم کو شہ ملے۔جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہے۔روس کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ وہ ایک ایسے وزیراعظم کیساتھ معاہدے کررہا ہے جسکی پشت پر شیوسینا اور بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعتیں کھڑی ہیں۔جسکے عزائم پڑوسی ممالک کے حوالے سے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت خود کو عظیم قوت بننے کی راہ میں پہلی رکاوٹ اب بھی پاکستان ہی کو سمجھتا ہے۔اسکے نزدیک پاکستان جب تک خطے میں اسکی برتری تسلیم نہیں کرتا، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی آواز اٹھاتے رہیں گے وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان جب تک اسے جنوبی ایشیا میں الجھائے رکھے گا عالمی سطح پر وہ کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرسکے گا، مثلاًبھارت چاہتا ہے کہ اسے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت مل جائے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مقابلے کی صلاحیت ختم کرنے کیلئے مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف کئی سیاسی و سفارتی محاذ کھول رکھے ہیں۔ اسکی پہلی کوشش اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف روایتی و ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔اسکی تازہ مثال مودی کا دورہ روس ہے جبکہ دوسری کوشش پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کی حیثیت سے پیش کر کے اسے عالمی برادری میں تنہا کرنا ہے۔پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے بلوچ علیحدگی پسندوں اور افغانستان کے راستے دہشت گردی کیلئے اینٹی پاکستان طالبان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اسی طرح خود پاکستان کے اندراقتصادی اور ثقافتی فوائدکی آڑ میں پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو ’’بھارتی شرائط پر‘‘ تعاون کیلئے قائل کیا جارہا ہے۔جہاں تک بھارت روس دفاعی تعاون کا تعلق ہے تو اس شعبے میں توازن تیزی سے بگڑ رہا ہے۔بھارت کی توسیع پسندانہ اور جارحیت پسندانہ سوچ کے باعث پاکستان کا کم از کم دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیاروں پر انحصار بڑھ چکا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین کشمیر سمیت کئی امورحل طلب ہیں،جبکہ دو بڑی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں، اس پر ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کے مزید معاہدے خطے کی صورتحال کو کسی بھی وقت دو�آتشہ کرسکتے ہیں۔

ہم اصلیت نہیں جانتے یا آنکھیں بند کر لیتے ہیں

صبح اتفاقاََ ٹی وی آن کیا تو خبر آرہی تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تھوڑی دیر میں لاہور پہنچ رہے ہیں۔ کیوں اور کیسے کے سوالات فوراََ ذہن میں ابھرے۔مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ یہ دورہ اچانک ہے اور کچھ زیادہ ہی اچانک ہے اب اس اچانک کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے یہ تووقت ہی بتائے گا لیکن چلیئے جب تک یہ راز نہیں کھلتا تب تک سمجھ لیتے ہیں کہ یہ اچانک ہی تھااگرچہ تقریب بہر ملاقات دو تھیں ایک وزیر اعظم کی سالگرہ اور دوسری ان کی نواسی کی شادی،اس کے باوجود بھی اچانک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ سربراہان حکومت یوں بغیر پروگرام کے راستوں میں نہیں رُکا کرتے اس کے باوجود بھی اچانک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ افغانستان میں زہر اُگل چکے تھے اور اپنی پارسائی ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زرو لگا چکے تھے وہ یہ بتا چکے تھے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ ہوں کیونکہ یہ اُن کے بُرے ارادوں کی راہ میں حائل ہیں یعنی سو چیے ان قونصلیٹس پر کس کو اعتراض تھا پاکستان کے علاوہ۔انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ قونصلیٹس افغان عوام کی خواہش پر ان کی خدمت کے لیے قائم کیے گئے ہیں انہوں نے بھارتی خدمات کا ضرورت سے زیادہ ذکر کیاحالانکہ ان تمام خدمات کا بھارت نے دوہرا صلہ وصول کیا، مالی صورت میں بھی اور پاکستان تک رسائی کی صورت میں بھی۔ یاد رہے کہ مودی افغان پارلیمنٹ کی عمارت کے افتتاح کے لیے کابل پہنچے تھے جسے بھارت نے 90ملین امریکی ڈالرز کے عوض تعمیرکیا تھا تحفتاََ نہیں۔پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکاری بھارتی وزیر اعظم نے افغان کرکٹ ٹیم کے لیے اپنی خدمات کا ذکر بھی ضروری سمجھا اور بلواسطہ طور پر افغانستان کو یاد کرایا کہ پاکستان یہ خدمات انجام نہیں دے رہالیکن یہ بھول گئے کہ ان افغان کھلاڑیوں نے پاکستان کی گلیوں میں کھیل کر کرکٹ سیکھی ہے جسے سازش کے تحت بھارت نے اُچک لیا۔ مودی کے پاس بھارتی فلموں کے فرضی کردار شیرخان اور کابلی والا کا ذکر تھا جن کے تذکرے سے حقیقی کرداروں کی کمی کوپورا کرنے کی کوشش کی گئی۔خیر اس تمام پراپیگنڈے کے بعدجب مودی نے اپنے ملک کا رُخ کیا تو راستے میں پاکستان رُکنے کا اچھوتا خیال انہیں آگیا، یا وہ پہلے ہی یہ خیال دہلی سے لے کر نکلے تھے کیونکہ ان کے ملک میں جو حالات ان کی محبوب شیوسینا نے اور ان کی پارٹی بی جے پی نے ان کی مکمل تعاون کو ساتھ بنا رکھے ہیں انہیں اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے ایسے مصنوعی سہاروں کی یقیناًضرورت تھی چنانچہ انہوں نے لاہور میں رُکنے کا پروگرام بنا لیا اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کے شدید طور پرخواہش مند ہیں۔ہمارے میڈیا پر بھی کچھ چینلز نے چیخ چیخ کر برف پگھلنے کا اعلان کر دیا،اسے امن کی خواہش قرار دیا اورکچھ سیاسی رہنماوءں نے بھی بغیر سوچے سمجھے اسے خوش آئند قرار دیا۔بالکل ایسا ہوتا اگر مودی صاحب واقعی پاکستان آئے ہوتے۔وہ لاہور ضرور آئے لیکن جاتی عمرہ جانے کے لیے جہاں انہوں نے شریف خاندان سے خوشگوار ملاقاتیں کیں نہ کشمیر کا ذکر ہوا نہ پانی کا نہ بلوچستان کا اور نہ مغربی سرحد سے قونصلیٹوں کے ذریعے دخل اندازی کا۔ وہ لاہور آئے ضرور لیکن وہاں سے انہیں سیدھا ذاتی رہائش گاہ پر لے جایا گیا۔اگر یہ واقعی دو وزیر اعظموں کی ملاقات تھی تو ہمارے وزیراعظم اگر کچھ دیر کے لیے اسلام آباد نہ سہی لاہور کے گور نر ہاوس میں ہی یہ ملاقات منعقد کراتے تو بھی اس میں کچھ سرکاری رنگ آجاتا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔دراصل مودی نے یہ دورہ کیا تو ضرور لیکن اس کا پاکستان کے ساتھ تعلقات سے کوئی تعلق نہ تھااور یہی چیز اُنہوں نے واپس دہلی پہنچنے پر اپنے ٹویٹ سے بھی ثابت کر دی جس میں جناب نواز شریف اور شریف فیملی کے حُسنِ سلوک کا بھی ذکر کیا اور مہمانوازی کا بھی لیکن پاکستان اور پاکستانیوں کو وہ بھول گئے۔اس مختصر دورے سے مودی نے جو دوسرا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی وہ دنیا کو یہ بتانا بھی تھا کہ وہ پاکستان کو دو گھنٹے کے دورے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اگر وہ پاکستان کو دو گھنٹے کے لیے اپنی مہمانوازی کا شرف بخشتے بھی ہیں تو اس ملاقات کو ذاتی حد تک محدود رکھ سکتے ہیں۔مودی کے موجودہ دورے کو چند پاکستانیوں نے جو پذیرائی دینے کی کوشش کی ہے اُنہیں پہلے پچھلا ریکارڈ چیک کرلینا چاہیے جب اس نے پاکستان کے خلاف بولنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور جب اُس نے بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر خود اعتراف کیا کہ وہ اور اُس کا ملک بنگلہ دیش بنانے با الفاظ دیگر پاکستان توڑنے کی سازش میں شامل تھے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے لیکن مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد جس طرح ہماری سرحدوں پر بار بار حملے کئے گئے بے گناہ سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا وہ مودی کی پاکستان دشمن پالیسی کا ہی نتیجہ ہے۔ مختلف اوقات میں نہ صرف فوجی اہلکاروں کو شہید کیا گیا بلکہ عام شہریوں حتیٰ کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیااگر مودی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا کوئی پروگرام لے کر آتے تو پاکستان واقعتا اُن کے دورے کی قدر کرتالیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے اقدامات کی مودی کی فطرت اجازت نہیں دیتی ۔کشمیر ،پانی یا بلوچستان اور فا ٹا میں اپنی مداخلت کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی تو دور کی بات وہ تو کرکٹ جیسے ثانوی مسئلے پر بھی کچھ نہیں بولے جس کے لیے ہمارے خوش فہم لوگوں نے سشما سوراج سے بھی امیدیں باندھ رکھیں تھیں اُنہوں نے تو یہ تک وعدہ نہیں کیا کہ آئندہ اُن کے ملک میں کوئی سمجھوتہ ٹرین نہیں جلائی جائے گی اور یا اس کے مجرموں کو سزا دی جائے گی اس وعدے میں تو شاید مودی کی گردن گجرات میں پھنس جاتی لیکن اُنہوں نے تو یہ تک نہ کہا کہ آئندہ بھارت جانے والے پاکستانیوں کی بے عزتی نہیں کی جائے گی اور منہ پر سیاہی مَلنے والے واقعات بھی روک دیئے جائیں گے ۔ ان تمام حقائق کے باوجود بھی اگر ہم میں سے کچھ لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ اس کے لیے خوشی کے علاوہ کوئی دوسرا نام بھی تجویز کر لیں تو بہتر ہو گا میں تو اسے ذاتی مفادات کاہی نام دونگی۔ عام لوگوں سے ہٹ کر اگر میں حکمرانوں کے رویے تک آو ءں تو وہ بھی افسوسناک ہی نظر آتا ہے جو مودی کے دورے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔گیارہ سال تک کسی بھارتی وزیر اعظم کا نہ آنا شاید اتنا توہین آمیز نہیں تھا جتنا دو گھنٹے کا یہ دورہ ۔ہمارے حکمران اگر اپنی ذات اور مفادات سے ہٹ کر سوچنا شروع کر دیں تو بہتر ہو گاوہ جو ایسے دوروں کی حقیقت جانتے ہیں شاید پھر اِنہیں اتنی اہمیت نہ دیں۔مودی تو اپنی چال چل گیا لیکن کیا ہم اصلیت واقعی نہیں جانتے یا اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عام آدمی کے پاس تو آنکھیں بندکرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے حکمرانوں کے پاس نہیں لہٰذا انہیں اس دورے کی اصلیت کو بھی سمجھ لینا چاہیے تھا اور اگر تب نہیں سمجھا تو اب ذرا حالات و واقعات کا دوبارہ سے جائزہ لے لیں اور قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کر دیں۔قوم یقیناًان کی مشکور ہو گی۔

جناح، بھٹو ، نواز شریف اور نریندر مودی

قارئین کرام ! بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اچانک کابل کے دورے کے بعد لاہور تشریف لائے ہیں ، باہنوں میں باہیں ڈال کر میاں نواز شریف کی سالگرہ کا کیک کاٹ کر واپس نئی دہلی چلے گئے ہیں ۔ اِس سے قبل میاں صاحب کے گذشتہ دور حکومت میں بھارتی وزیراعظم باجپائی لاہور تشریف لائے تھے تو اُنہوں نے مینار پاکستان کو سیلوٹ کیا تھا لیکن نامعلوم کیوں میاں صاحب اپنے آپ کو قائداعظم ثانی کہلوانے کے باوجود نریند مودی سے قائداعظم کے یوم پیدائش کا کیک کٹوانے کے بجائے اپنا کیک کٹوانے پر ہی اکتفا کیا جبکہ تقریباً اُسی وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ترجمان پاکستان اور بنگلہ دیس کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کی بات کر رہے تھے ۔بہرحال کیک کٹوانا یا نہ کٹوانا کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی قوم برصغیر جنوبی ایشیا میں انتہا پسند ہندوؤں کی اکھنڈ یا متحدہ بھارت کی تحریک سے کس طرح چشم پوشی کر سکتی ہے جبکہ 3 جون 1947 میں قائداعظم کی جہد مسلسل کے بعد کانگریس، مسلم لیگ اور سکھ رہنماؤں کی جانب سے ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقسیم ہند کے ایجنڈے کو من و عن تسلیم کرنے اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے نام سے ایک آزاد و خودمختار مملکت کے وجود میں آنے کے باوجود بھارت نے قیام پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور آج بھی انتہا پسند ہندو اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔جس کا اظہارماضی میں ریاست جموں و کشمیر ، ریاست جونا گڑھ اور ریاست حیدرآباد پر فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرنے کے بعد بھارت سابق مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کے ذریعے پاکستان کو دولخت کرچکا ہے جس کی تصدیق خود موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے حالیہ دورے میں بخوبی کر چکے ہیں ۔ چنانچہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت اپنا چولہ بدل کر افغانستان میں بیس کمپ بنا کر دہشت گرد گروپوں میں اپنے لنک قائم کرکے اکھنڈ بھارت کی جارہانہ تحریک کو فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں نہ صرف مہمیز دے رہا ہے بلکہ ایٹمی پاکستان کی جوہری استعداد کوکیپ کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ بھی بن چکا ہے ۔ اِسی تناظر میں بھارت، پاکستان چین تجارتی راہداری منصوبے کو نشانہ بناتے ہوئے واہگہ ، جلال آباد روٹ کو وسط ایشیا ئی ریاستوں تک پھیلانے کے بین الاقوامی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم کے ذریعے ہی ہندوستان میں اقتدار کی غلام گردشوں تک پہنچے ہیں تو کیا پاکستانی قوم یہ نہیں جاننا چاہے گی کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت جو پاکستان کیساتھ کسی تیسرے ملک میں کرکٹ کھیلنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے اب یکایک وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقاتیں کرکے بھارتی تجارت کو فروغ دینے کی آڑ میں کس خفیہ منصوبے پر کام کر رہی ہے ؟ کیا پاکستانی قوم یہ نہیں جانتی ہے کہ ماضی میں پاکستانی تجارتی حلقوں میں بھارتی خفیہ عزائم کو بھارتی ہائی کمیشن میں تجارتی قونصلر کے روپ میں سفارتی تحفظات کے تحت پاکستان میں بھارتی حمایت یافتہ تجارتی لابی کو مہمیز دینے والی انڈر کور شخصیت ہی اب نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کر رہی ہے؟ جناب وزیراعظم عوام جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت نے ابھی چند ماہ قبل ہی مسئلہ کشمیر کو متنازع کہنے اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کے حوالے سے ہی سیکریٹری لیول کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے وقت بھارتی وزیر داخلہ جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر بھی ہیں اور وزیر خارجہ شسما سوراج نے انتہائی سخت پاکستان مخالف بیانات دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا تو اب بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے غیر مخلص حوالے سے کیوں تجارتی پس منظر رکھنے والے پاکستانی وزیراعظم کے گرد جال بننے میں مصروف ہے ؟ حقیقتاً فوجی آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد پاکستان میں اپنے تجارتی مفادات کو فروغ دینے اور دفاعی صلاحیت کو فروغ دینے کیلئے بھارتی اسٹیل ملز کیلئے افغانستان سے سستا لوہا اور اسکریپ درامد کرنے کیلئے واہگہ ، جلال آباد روٹ کو فوقیت دینا چاہتا ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ بھارت اپنے مخصوص مفادات کی خاطر وقتی طور پر مفاہمت کا روپ دھارتا تو ضرور ہے لیکن اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد چناکیہ صفت سے اپنا چولہ بدل لیتا ہے۔
محترم قارئین ، ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے بھارت کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جب برّصغیر ہندوستان کی سیاست میں قدم رکھا اور پہلے کانگریس اورپھر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلم قومیت کے سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کیا تو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلائے چنانچہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے اُن کی بہترین کاوش 1916 کے لکھنو پیکٹ کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے لیکن جناح کی اِس کاوش کو 12 برس کے اندر ہی نہرو رپورٹ کے ذریعے سبوتاژ کر دیا گیا چنانچہ سرسید احمد خان کی طرح قائداعظم بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ انتہا پسند ہندو، مسلمان قومیت کیساتھ کبھی مخلص نہیں ہو سکتے۔ لندن میں ہونے والی پہلی گول میز کانفرنس میں بھی قائداعظم نے محسوس کیا کہ ہندو اپنی اکثریت اور ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کی شراکت میں مضبوط ہندو انتظامیہ کے توسط سے مسلمانوں کو گروہی سیاست میں اُلجھا کر اُنہیں سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کی پالیسی پر بدستور قائم ہیں۔ لہذا جب چند برس کے بعد قائداعظم واپس ہندوستان تشریف لائے اور مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرکے 1937 میں تحریک پاکستان کا آغاز کیا تو پھر اکھنڈ بھارت یا متحدہ ہندوستان کے تصور کے خلاف اُن کی جدوجہد کی گونج دنیا بھر میں سنی گئی۔ 22 جون 1939 میں وائسرائے کی کونسل میں ہندو اکثریت کو مخاطب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوا کرے اور تم سمجھا کرو کہ سروں کی گنتی ہی آخری فیصلہ ہے لیکن تم ہماری روح کو کبھی فنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو گے ، تم اس اسلامی تہذیب کو مٹا نہ سکو گے جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے ۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے ، زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا ۔ 23 مارچ 1940 میں لاہور میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے موقع پر قائداعظم نے فرمایا : قومیت کی تعریف چاہے کسی انداز میں کی جائے ، مسلمان ہر طرح سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور اِس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کی علیحدہ اور خود مختار ریاست ہو ۔ 18 دسمبر 1943 میں برطانوی صحافی بیورلے نکولس نے قائداعظم سے انٹرویو کے دوران یہ سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو ایک قوم کہتے ہیں تو کیا آپ کے پیش نظر مذہب ہوتا ہے ۔ قائداعظم نے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : کسی حد تک آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ اسلام صرف مذہبی عبادات یا اعتقادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل طریقِ حیات ہے ۔ میں جب مسلمانوں کو ایک قوم کہتا ہوں تو زندگی کے تمام شعبے اور زندگی کی تمام ضروریات میرے پیش نظر ہوتی ہیں ۔ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ، ہر اعتبار سے ہماری تاریخ علیحدہ ہے ، ہمارے ہیرو الگ ہیں ، ہمارا آرٹ مختلف ہے ، ہمارا فن تعمیر ، ہماری موسیقی ، ہمارے قوانین ، ہمارا آئین سب کچھ یکسر مختلف ہے ۔ ہندو گائے کو مقدس دیوی گردانتے ہیں لیکن گائے کا گوشت ہماری غذا میں شامل ہے ، ہم در اصل ہندوؤں سے ایک الگ وجود ہیں ، زندگی میں ہماری کوئی قدر مشترک نہیں ہے ، ہمارا لباس ، ہمارے کھانے ، ہماری معاشی زندگی ، ہمارے اصولِ تعلیم ، ہمارا خواتین کیساتھ رویہ ، ہمارا جانوروں کے متعلق نظریہ سب کچھ ہی مختلف ہے ۔ چنانچہ نہرو اور گاندہی کی تحریک پاکستان کی شدید مخالفت کے باوجود 27 مارچ 1947 میں بمبئی چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں ہندو قوم کی بہت عزت ہے ، اُن کا اپنا دھرم ہے ، اپنا فلسفہ ہے ، وہ اپنا تمدن رکھتے ہیں عین اُسی طرح جس طرح مسلمان اپنا ایمان ، فلسفہِ حیات اور تمدن رکھتے ہیں لیکن دونوں الگ الگ قومیں ہیں اور میں پاکستان کیلئے لڑ رہا ہوں کیونکہ ہمارے مسائل کا یہی حل ہے ۔ ہم ہندوؤں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کیساتھ منصفانہ اور برادرانہ سلوک کیا جائے گا ، اِس کے ثبوت میں(میثاق مدینہ) ہماری تاریخ شاہد ہے ، اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی سکھایا ہے ۔ لیکن اِن یقین دھانیوں کے باوجود بھارت نے پاکستان کو اقتصادی دباؤ ڈالنے کیلئے مشرقی پنجاب ، دہلی، بہار ، بنگال اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کو پاکستان میں دھکیل دیا جس کا کچھ ردعمل پاکستان میں بھی دیکھنے میں آیا۔پاکستان کو اندونی خلفشار سے دوچار کرنے کیلئے بھارت نے آزادی کے ایک ماہ کے اندر ہی اندر سابق صوبہ سرحد میں پختونستان تحریک کو ہوا دی اور سابق مشرقی پاکستان میں اُردو بنگلہ زبان کے جھگڑے کو کھڑا کیا لیکن قائداعظم کی سیاسی بصیرت کے سبب یہ دونوں تحریکیں ناکام ہوئیں البتہ مشرقی پاکستان میں کشیدگی قائداعظم کی وفات کے بعد پھر سے کشیدہ ہوگئی جسے منظم بھارتی تخریب کاری اور مسلح مداخلت سے دولخت کر دیا گیا۔سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کے منشور کیمطابق بھارت کیساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کئے۔جس میں بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ بات چیت کے ذریعے تجارتی اور سفارتی تعلقات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حتمی فیصلے کا وعدہ کیا لیکن 1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے کشمیر پر بات چیت کے دروازے کو بند کردیاالبتہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایٹمی صلاحیت کے زور پر پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کرنے سے گریزاں ہے ۔چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قائداعظم سے ذوالفقار علی بھٹو اور وزیراعظم میاں نواز شریف کی موجودہ حکومت تک بھارت مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی موقف کو نچوڑنے میں ہی لگا ہوا ہے ۔ درج بالا تناظر میں آنیاں جانیاں اپنی جگہ ہیں لیکن بھارت سے کسی خیر کی اُمید رکھنا ایک ناقابل فہم اَمر ہے لہذا ہمارے غور و فکر کرنے والے اداروں کو نریندر مودی کے منافقانہ طرز عمل پر بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت مسلمہ ہے۔

زلزلہ زدگان کی امداد

پاکستان میں سیلاب‘ زلزلوں اور فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوکر مسائل و مشکلات کا شکار ہوئے مگر الحمداللہ کسی ایک موقع پر متاثرہ افراد کی جانب سے پاکستان کیلئے منفی جذبات کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس میں ڈاکٹر آصف جاہ کے کردار کا بھی حصہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہوا ملک کے کسی بھی حصے میں ناگہانی صورتحال نے جنم لیا ہو اور ڈاکٹر آصف جاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچنے میں پہل نہ کی ہو۔ ان کی جانب سے متاثرین کی فوری خبرگیری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متاثرین کے کیمپ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دیکھا جائے تو ڈاکٹر آصف جاہ کی جانب سے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے تگ و دو میرے نزدیک ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا مشن بھی ہے۔
راقم الحروف سے ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر آصف جاہ نے حال ہی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں چترال اور دیگر علاقہ جات میں ریلیف کاموں کے متعلق معلومات دیں، جو پیش خدمت ہیں۔ ڈاکٹر آصف جاہ کہتے ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی سخت سردی میں 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلہ زدگان کا تصور کر کے دل پریشان ہو رہا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے کس حال میں ہونگے۔ شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کی دوبارہ خبر گیری کے لیے لاہور سے نکلے ۔ الحمدللہ! 26 اکتوبر 2015ء سے آج تک چترال اور شانگلہ کے زلزلہ زدگان کی مسلسل خدمت جاری ہے۔ وسائل بھی مہیا ہو رہے ہیں اور اشیاء بھی۔ میڈیکل کیمپ بھی لگ رہے ہیں اور ریلیف اشیاء بھی تقسیم ہو رہی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چترال میں زلزلہ زدگان کے گھروں کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی ہے۔
امدادی رقوم و سامان کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کراچی سے شیخ غلام احمد نے رقم بھجوائی۔ ملک میں ٹینٹ بنانے والے بڑے ادارے کے سربراہ فرحان سرور نے اپنے نوجوان آفیسر ساجد محمود کے ذریعے شانگلہ اور چترال کے زلزلہ زدگان کے لیے اعلیٰ اور دیدہ زیب خیمے ترپالیں مہیا کیں۔ خدمت اور ایثار کے لیے ہر دم تیار اعجاز سِکا نے پانچ سو رضائیاں تیار کروا کے بھیجیں اور کیش دیا۔ عمر رسید کرنل ظفر اور اُن کی اہلیہ کلینک آئے اور کیش کے علاوہ کپڑوں کا عطیہ دیا۔ ڈاکٹر نہدیٰ اشرف کے ماموں چوہدری امین کا بھی عطیہ پہنچ گیا۔ راشن اور ادویات کا بھی انتظام ہو گیا۔ سجاد شاہ، اقبال، فائزہ نے بچوں اور بڑوں کے لیے جیکٹس خریدیں۔ علی عمر اور حافظ اشعر نے ساہیوال سے بچوں کے لیے جرسیاں، سویٹرز اور ٹوپیاں بھیجوائیں۔ سجاد شاہ نے بچوں کے لیے گفٹ پیکس تیار کروائے۔ ہسپتال میں ساری رات رونق رہی۔ سب سے پہلے خیموں اور ترپالوں سے لدا پھدا ٹرک چترال روانہ کیا۔ مینگورہ سے صبح سویرے شانگلہ پہنچے۔ الپوری سے ہوتے ہوئے ڈھیری پہنچے جہاں ہمارے کارکنان شانگلہ کے علاقہ ڈھیری میں عبدالرؤف، توفیق اور سہیل خان پہلے سے سامان کے ساتھ گاڑیوں سے اترتے ہی فوراً کیمپ کا آغاز کر دیا۔ ڈاکٹر قدرت اللہ نیازی ڈھیری میں یونیسف کے طرف سے بنے نئے مرکز میں بیٹھ گئے۔
موبائل کلینک سج گیا۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور اشفاق مقامی ساتھیوں سے مل کر ریلیف اشیاء کی تقسیم میں لگ گئے۔ مریضوں کی آمد شروع ہو گئی۔ بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں، لڑکیاں سب جمع ہو گئے۔ سخت سردی میں مریضوں کا تانتا بندھ گیا۔ مریضوں کا چیک اَپ دوپہر تک جاری رہا۔ ہم اپنے علاج اور خدمت کے کام میں مگن رہے۔ 350 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج ہوا۔ میڈیکل کیمپ میں بچے، بوڑھے، عورتیں لڑکے، لڑکیاں سب چیک اَپ اور علاج کے لیے آئے۔ پٹھان عورتیں آج بھی مرد ڈاکٹر کے پاس جانے سے پرہیز کرتی ہیں۔ یہاں کی خواتین میں زیادہ تر خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری اور دردوں کی شکایت تھی۔ لڑکیوں کی بہت جلد شادی کر دی جاتی ہے۔ پھر پے در پے بچے پیدا ہونے کی وجہ سے 25 سال کی لڑکی 40 سال کی بوڑھی خاتون لگتی ہے۔ مگر یہاں کی عورت بڑی سخت جان ہے۔ صبح سے رات گئے تک گھر میں کام کرے گی مگر مجال ہے حرفِ شکایت زبان پر لائے۔
زلزلہ زدگان کا احوال ڈاکٹر صاحب نے یوں بتایا کہ اسلم مروت، اشفاق اور عبدالرؤف زلزلہ زدگان کی لسٹیں بنانے میں محو ہو گئے تاکہ بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت دیرپا اور دیدہ زیب ٹینٹ اور ترپالیں ایسے متاثرین کو دئیے جائیں۔ جن کے گھر زلزلہ میں تباہ ہوئے ہیں اور وہ اسی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ریلیف کی تقسیم میں ابھی خاصا وقت صرف ہونا تھا۔ ریلیف ٹیم کو چھوڑ کر آگے بڑھے۔ 5 کلو میٹر کے فاصلے پر چکٹ گاؤں میں کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں مریض کم تھے مگر آہستہ آہستہ مریضوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔
چکٹ میں 100 مریضوں کا چیک اَپ اور علاج کر کے جلدی فارغ ہوگئے تو آگے کا قصد کیا۔ کہروڑہ بازار آ کر گاڑیاں خود بخود رُک گئیں۔ موبائل ہسپتال اور ہماری گاڑی کو دیکھ کر اور پہچان کر ایک دم لوگ جمع ہوگئے۔ کئی لوگ محبت سے آگے بڑھ کر ملے۔ شناسا چہرے بھی نظر آئے ایک مہینہ پہلے زلزلے کے فوراً بعد اِدھر آنا ہوا تھا۔ یہاں آ کر زلزلہ زدگان کی خدمت کی تھی۔ مزید مریض آئے۔ زرولی سپیشل بچہ بھی اپنے والد کے ساتھ آگیا۔ پچھلی دفعہ بھی اس بچے کو خصوصی طور پر دیکھا تھا۔ خدمت کی تھی۔ بچے نے خوش ہو کر ہاتھ اُٹھا کر دعا دی تھی۔ زرولی کو دیکھا چیک کیا۔ دوا دی تو اس نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔ بابا گل جان کے گھٹنوں میں درد تھی۔ گرم پٹی باندھی تو مسجد میں سب لوگ پوچھنے لگ گئے۔ کہروڑہ میں 250 مریضوں کا علاج کر کے آگے بڑھے۔ کیمپ کے دوران خائستہ گل نے اپنی غریبی کا رونا رویا۔ اپنی داستان غم سنائی۔ اس کا چپک اَپ کیا۔ علاج کیا۔ خدمت کی تو دُعا دیتا رخصت ہوا۔ پتاؤ کی طالب علم علیمہ خان اپنے بھائی کے ساتھ آگئی میرے گاؤں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ لوگ بے گھر ہیں۔ ان کی مدد کریں۔ اُن کو خیمے دیں۔ بیمار ہیں ان کا علاج کریں اس کا اپنے لوگوں کے لیے جذبہ ہمدردی دیکھ کر اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ ڈھیری میں اسلم مروت اینڈ کمپنی ریلیف اشیاء تقسیم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ پچھلے ہفتے بھی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم شانگلہ آئی تھی اور شانگلہ کے سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں پیجوبانڈہ کے متاثرین میں گرم کپڑے، رضائیاں نئے کپڑے اور بچوں میں گفٹ تقسیم کیے تھے۔ اخوت کلاتھ بنک اور کارکنان ختم نبوت کی طرف سے آئے ہوئے کپڑے اور راشن کے پیکٹس پیجو بانڈہ کے متاثرین میں بٹے تو ان کے چہروں پر رونق آگئی اور وہ خوش ہو کر دعائیں دینے لگے۔ اسلم مروت، عبدالرؤف اور پرویز نے اکیلے شانگلہ تک سفر کر کے متاثرین تک ریلیف اشیاء پہنچائیں۔
ریلیف کیمپ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ شانگلہ ریسٹ ہاؤس کے نیچے جہاں آس پاس چند گھر آباد تھے، کیمپ کا آغاز کر دیا۔ شروع میں کیمپ میں زیادہ رش نہ تھا لیکن جونہی آس پاس کے لوگوں کو پتہ چلا کہ میڈیکل کیمپ لگا ہوا ہے۔ لاہور سے آئے ہوئے ڈاکٹر مریضوں کا مفت چیک اَپ کر کے ادویات دے رہے ہیں تو اوپر پہاڑوں سے بھی لوگ نیچے آنا شروع ہو گئے۔ راہ چلتے مسافر بھی آگئے۔ دو گھنٹے تک سخت سردی لیکن سہانے موسم میں کیمپ چلتا رہا۔ سورج نکلنے کے ساتھ ہی سردی کی شدت میں کمی آگئی۔ موبائل کلینک میں بھی دھوپ آگئی۔ جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس کیمپ میں زیادہ تر بچے کھانسی، بخار، پیٹ خراب، ڈائریا، جسم پہ دانے وغیرہ کی تکالیف کے ساتھ آئے۔ عورتیں بھی آئیں جن کو زیادہ تر سانس اُکھڑنے اور جسم میں دردوں اور معدہ خراب کی علامات تھیں۔
شانگلہ کے ساتھ چترال کے زلزلہ زدہ علاقوں میں بھی خدمت اور علاج کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلہ کے پہلے دن سے لے کر آج تک چترال کے تمام زلزلہ زدہ علاقوں میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے کارکنان گاؤں گاؤں نگر نگر پھر کر زلزلہ زدگان تک راشن اور دوسری ریلیف اشیاء پہنچاتے رہے اور تباہ شدہ گھروں میں پہنچ کر انہیں پُرسہ دیتے رہے۔ زلزلہ کے دوسرے دن کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں چترال کے دور دراز علاقوں اور تباہ شدہ بستیوں میں ریلیف اشیاء اور راشن پہنچایا۔ گرم کپڑے اور رضائیاں پہنچائیں اور سب سے پہلے چترال میں اپنا گھر ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیا۔ جس کے تحت زلزلہ زدگان کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ چترال کے تباہ شدہ گاؤں ہُون کے نذیر نے گورنمنٹ سے ملی رقم اور کچھ اُدھار لے کر اپنے گھر کی دیواریں کھڑی کر لی تھیں۔ چترال میں رضائیوں کے لیے بلقیس سرور فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کیے گئے خوبصورت خیموں اور ترپالوں کی تقسیم بھی جا رہی ہے۔
پورن شہر میں ہمارا علاج اور خدمت کا سلسلہ دوپہر تک چلتا رہا۔ یہاں بھی ہر طرح کے مریض آئے۔ اپنا حالِ دل و جسم سنا کر اور دکھا کر دوائی لیتے۔ خیبرپختونخواہ کے مختلف شہروں میں کام کرتے ہوئے تو اب لگتا ہے کہ صدیاں بیت گئیں ہیں۔ شانگلہ سے خوازہ خیلہ، مینگورہ، بری کوٹ، بٹ خیلہ، مالاکنڈ ٹاپ، درگئی، مردان سے ہوئے ہوئے اگلے دن صبح سویرے واپس لاہور پہنچے اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اتنی سخت سردی میں سینکڑوں میل سفر کر کے آفت زدوں کی مدد کرنے کی توفیق دی۔

حضور اکرم ﷺ بحیثیت قانون ساز

آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے قانون کی تعلیم لنکن ان (Lincoln’s Inn)سے حاصل کی۔ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ میں نے لنکن ان (Lincoln’s Inn)میں داخلہ اس لیے لیا تھا کیونکہ وہاں دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں نبی کریم ﷺ کانام سب سے اوپر لکھا ہے۔اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید سورت النجم میں فرماتے ہیں کہ “یہ رسول ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی پیش کرتا ہے جو اس کو وحی ہوتی ہے۔”رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا اور کیا، وہ خالصتاً اللہ رب العزت کی طرف سے ہی تھا۔اس لئے اس کی اطاعت قیامت تک سب پرفرض ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں انسانی کمزوری عاری آجاتی ہے لیکن رسول اللہ کی قانون سازی کی بنیاد وحی اور الہام پررکھی گئی ہے اس لئے اس کو استحکام اور دوام حاصل ہے۔ انسانی تجربات اورخیالات میں خامی پائی جاسکتی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین ہر نقص اور خامی سے مبرا ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی قانون سازی میں انسانی فطرت اور طبعی حدود کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔اس میں نہ بے جا سختی اور نہ زیادہ نرمی رکھی گئی ہے۔اس میں توازن اور اعتدال ہے۔اللہ رب العزت سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے ، تنگی اور دشواری نہیں چاہتا ہے۔اسی طرح اللہ رب العزت سورۃ المائدہ میں فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرے بلکہ اس کا اصل مقصد تمہیں پاک و صاف کرنا ہے۔”اللہ تعالی سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں کہ “اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔” آقاﷺ کارشاد مبارک ہے کہ” دین آسان ہے لیکن جو شخص دین میں مبالغہ کرتا ہے اس پر وہ غالب آجاتا ہے۔(بخاری شریف)۔ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ” لوگوں کیلئے آسانی پیدا کرنا، انہیں مشکل میں نہ ڈالنا، انہیں رغبیت دلانا، نفرت نہ دلانا، موافقت کو ابھارنا، اختلاف نہ ڈالنا۔ ” (مسلم، بخاری)آقاﷺ کے بنائے ہوئے قوانین متعدد ممالک میں رائج رہے ہیں، ان ممالک کے آب و ہوا، معاشرتی اور تہذیبی فرق ہونے کے باجود کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں ہوا جس سے ان کو اس قانون میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین میں برابری اور مساوات ہے۔کالا اور سفید، امیر اور غریب اور عربی اور عجمی سب برابر ہیں۔ اسلام میں ذلت اور حقارت کی قطعی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اس وقت قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جب اس کو کوئی اسمبلی ، سینٹ یا عدالت یاکوئی حاکم ، صدر یا بادشاہ منظوری دے تب اس کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کرنے کیلئے کسی کے محتاج نہیں ہیں۔انہیں ہر حال میں قانون کی حیثیت حاصل ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین سب مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ۔ان قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں امن و سکون کی فضاپیدا ہوتی ہے۔ ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ان قوانین سے انسانوں کی بہترین تربیت ہوجاتی ہے۔ جس سے جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بنائے قوانین ایک فرقے، ایک قوم ، ایک نسل، یاایک خطے کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔آقا ﷺ کے بنائے ہوئے فوجداری قوانین بھی بے نظیر ہیں ۔ان میں چند یہ ہیں ۔*ایک بے قصور کو سزا دینے کی نسبت نو(9)مجرموں کو بری کردینا بہتر ہے۔*قصاص اور دیت میں سب مسلمان برابر ہیں۔*جوشخص اللہ تعالیٰ کی مقررہ کردہ سزاؤں میں نرمی برتنے کی سفارش کرتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔*اگر کسی حاملہ خاتون کو مار ڈالاجائے تو اس رحم میں مرنے والے بچے کا بھی قصاص لیا جائے گا۔* کوئی قاتل اپنے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔* کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا ہے اور نہ مسلمان کسی کافر کا وارث بن سکتا ہے۔*کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ۔*بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک وہ اس کی اجازت نہ دے اور کنواری کا نکاح اس وقت کا نہ کیا جائے جب تک اس کی رضا مندی نہ لے لی جائے۔آقا ﷺ نے خرید و فروخت کے بارے میں بھی واضح قوانین بنائے ہیں۔*آپﷺ نے خرید و فروخت میں نقصان اور دھوکے سے بچنے کیلئے پکنے سے پہلے پھلوں کی فروخت کو ممنوع قرار دیا ہے۔*اگر کوئی شخص اپنا مکان یا زمین فروخت کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنے پڑوسی کا حق ہے کہ وہ یہ مکان یا زمین لے۔اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ کوئی ناپسندیدہ شخص ایسی جگہ نہ لے جس سے پڑوسیوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔*حضورﷺ نے فرمایا کہ فروخت کی جانے والی چیز فروخت کے وقت موجود ہونی چاہیے تاکہ خریدار اس کو دیکھ سکے۔* معاہدے میں کوئی ایسی شق نہ ہو جس سے ایک فریق کے لئے فائدہ ہو اور دوسرے کیلئے سراسرنقصان ہو۔قارئین کرام! حضور اکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین قیامت تک ہر انسان ، ہر نسل ،ہر قوم ، ہر ملک اور ہر خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہیں۔ان قوانین پر عمل کرنے سے انسان فلاح اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔اس لئے بحیثیت مسلمان ہم سب کو چاہیے کہ حضوراکرم ﷺ کے بنائے ہوئے قوانین پر من وعن عمل کریں اسی میں ہماری کامیابی ہے۔

کیا ادب زوال پذیر ہے؟

کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کی تہذیب، زبان،ادب اورفلسفے سے ہوتی ہے اہلِ علم کا خیال ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ میں شاعری موثر ترین ذریعہ ہے اور شاعری ادب کے تمام اصناف اور تمام فنونِ لطیفہ میں لطیف ترین صنف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ’’ادب‘‘ تہذیب کا چہرہ ہوتاہے اور شاعری چہرے کا حسن اور نزاکت ہوتی ہے ۔ چہرہ اور خاص کر چہرے کے حسن اور اس کی لطافت ونزاکت کے بغیر دنیا کی کسی بھی خوبصورت شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ شاعر کے دل سے نکلی ہوئی بات قاری یا سامع کے دل تک براہ راست پہنچتی ہے اوردیر تک اپنا اثرقائم رکھتی ہے۔ شاعری سے تخریبی اور تعمیری دونوں کام لیے جا سکتے ہیں اس لیئے باشعور قومیں علم وادب کی سرپرستی کرتی ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیوں نہ اس سے تعمیری کام لیا جائے اس لئے وہ شاعری میں کمال حاصل کرتے ہیں اور اس سے تعمیری کاموں کو انجام دینے کی ترغیب دلاتے ہیں اس لیئے جہاں بھی سماجی تبدیلی واقعہ ہوتی ہے اور یا انقلاب برپا ہوا ہے اس میں شعراٗ کا کردار کلیدی رہا ہے۔کہتے ہیں جو قومیں ماضی سے کٹ جاتی ہیں ان کا جغرافیہ مٹ جاتا ہے وہ تمام قومیں صفحہء ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو اپنی تہذیب اور اپنے ادب کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ وہ قومیں آج بھی زندہ ہیں اور اپنے وجود کا احساس ساری دنیا کو دلاتی رہتی ہے۔جنہوں نے اپنی تہذیب اور اپنے ادب کو مٹنے نہیں دیا۔لہٰذا ادب اور شاعری قوموں کو زندہ و تابندہ رکھنے کے وسیلے ہیں اور بیان کا سب سے بہتر ین ذریعے ہیں۔
زمانہ گواہ ہے کہ مشاعرے اور ادبی و شعری محفلیں جہاں عوامی تفریح کے ذرائع تھیں وہیں تہذیب سیکھنے ،ذہنی سکون حاصل کرنے اور تصوف کی پہلے زینہ سے آخری زینہ تک کا سفر طے کرنے کے لئے شاعری کی مدد لی جاتی تھی کیونکہ جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے اس سے بہتر اور موثر ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔شاعری کا جادو خانقاہوں سے شرفاء کی محفلوں تک اور گلی کوچوں سے طوائفوں کے کوٹھوں تک سر چڑھ کر بولتا تھا۔میر، غالب ، حالی، حسرت، اور اقبال جیسی عظیم شخصیات نے شاعری کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کی بات کی اور شعر ونظم لکھ کر معاشرے کی اصلاح کی تحریکات چلائیں۔ شاعری کی زبان میں اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیاہے۔ فارسی اور اردو کے بیشتر شعرانے صوفیوں کے نظریہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے مشکل ترین مسائل کو شاعری کی زبان میں آسان اور موثرطریقہ سے پیش کیا ہے مگر آ ج پوری دنیا کا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے ایک ملک کی تہذیب دوسرے ملک کی تہذیب پر اثر انداز ہو رہی ہے اورنوجوان طبقہ مشاعروں اور دیگر علمی و ادبی محفلوں سے محظوظ ہونے کے بجائے دیگر خرافات کے کلچر سے محظوظ ہو رہے ہیں اورذہنی و قلبی سکون ختم ہو رہا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں نوجوان نسل کو روحانیت اور تصوف کے راستے پر گامزن کر نے کی ضرورت ہے اور ان راستوں پر چلنے کے لئے جس راہبر کی ضرورت ہے وہ صرف صرف علم وادب ہے۔شاعری ہمیں عشق مجازی کے راستے عشق حقیقی کی منزل تک پہنچاتی ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا کے تمام غموں اور الجھنوں سے نجات پا لیتا ہے۔کیوں کہ اس مقام پر صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ۔اس بنا پر شاعری محض تفریح ہی نہیں بلکہ یہ ہمیں اعلیٰ اقدار اور فکر کی طرف لے جاتی ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شاعری کو کثافتوں سے بچایا جائے اور شعر وادب کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے تاکہ ہمارے قوم کے نوجوان تفریح کے ساتھ ساتھ ہماری کھوئی ہوئی تہذیب سے روشناس ہو سکیں اور قلبی وذہنی سکون پھر سے حاصل کر سکیں کیونکہ ادب سے انسان کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ وہ اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔ پھر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک صحتمند معاشرے کی تشکیل کا ضامن ایک ادیب ہی ہوتا ہے جو انسان کو خوش اخلاقی و خوش کرداری کا پیکر بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور ادب کسی کے پروفیشن میں قطعاً آڑے نہیں آتاہے ایک ادیب صرف ادیب ہوتا ہے اور کچھ نہیں، وہ اپنے آپ کو فنا کر کہ تخلیقی عمل سے گزرتا ہے اور اس میں اپنی ذندگی کھپا دیتا ہے اور پھر پکار کر کہتا ہے ؂
کر چکا جب وہ مر ا ہاتھ قلم
تب اسے میر ا ہنر یاد آیا

یونیسیف کی نیپالی بچوں کے بارے تشویش

رواں سال بچوں پر بھاری رہا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بچے جنگی علاقوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ بچوں کیلئے کام کرنے والی اس تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں پیدا ہونے والے ہر آٹھ بچوں میں سے ایک بچہ ایسے علاقوں میں پیدا ہو رہا ہے جہاں حالات معمول نہیں ہیں۔اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان میں زیادہ تر بچے پانچ سال تک زندہ بھی نہ رہ پائیں گے جبکہ جو زندہ رہ جائیں گے وہ دباؤ اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا شکار بن جائیں گے۔ بہت سارے بچے اپنی زندگی انتہائی سخت حالات میں شروع کرتے ہیں ۔قدرتی آفات سے متاثرہ بچوں کے بارے یونیسیف ایک کی اور رپورٹ کے مطابق رواں سال ماہ اپریل میں نیپال میں زلزلے سے دس لاکھ سے زائد بچے متا ثرہوئے تھے مگر اب ان بچوں کو ایک نئی مصیبت کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ نیپال میں موسم سرما کے آتے ہی ایندھن، خوراک، ادویات اور ویکسینز کی قلت سے 30 لاکھ سے زائد کم عمر بچوں کو ہلاکت یا بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے۔نیپال کے جنوبی علاقے میں دو مہینوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’میں نے نیپال کے اپنے حالیہ دورے میں دیکھا کہ زلزلہ متاثرین انتہائی بری حالت میں زندگی گزار رہے تھے تو اب انہیں ایک اور آفت کا سامنا ہے۔شدید سردی، ناکافی خوارک اور سردی سے بچنے کیلئے محفوظ مقام میسر نہ ہونا تشویش ناک ہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیپال کی مہیسی اقلیت نے بھارت سے ملحقہ سرحد کو گزشتہ دو ماہ سے بند کر رکھا ہے جسکی وجہ سے خوراک اور ادویات کی کمی ہو گئی ہے ۔ نیپال میں گزشتہ دنوں دارالحکومت کھٹمنڈو میں سکول کے ہزاروں بچوں نے انسانی زنجیر بنا کر مہیسی لسانی اقلیت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرے میں بچوں نے ’سرحدی بندش ختم کرو، تعلیم ہمارا حق ہے، ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ کے نعرے لگائے گئے۔ مہیسی اقلیت کے بارے میں نیپالی حکومت کا کہنا ہے بھارت ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ چونکہ نیپال میں 60 فیصد ادویات کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیا بھی بھارت ہی سے آتی ہیں لہذا سرحد کی بندش سے غذائی قلت کا شدید خطرہ ہے۔ نیپال نے حال ہی میں نیا آئین منظور کیا تو اس پر بھارت نے ناپسندیدگی کا اظہارکیا تھا جسکے بعدبھارت سے ملحقہ جنوبی علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا اور انڈیا نیپال کی سرحد پر ضروریات زندگی سے لدے ٹرک پھنس گئے۔مہیسی اقلیت کی طرف سے سرحد کی ناکہ بندی کو بھارتی سازش سمجھا جا رہا ہے جسکے رد عمل میں نیپالی ٹی وی کیبل آپریٹرز نے بھی احتجاجاً 42 بھارتی چینل بند کر دیے ہیں۔ ٹی وی چینل بند کرنے کا قدم نیپال میں انڈین ٹی وی چینلز اور فلموں کیخلاف سابق ماؤسٹ پارٹی کی مہم چلانے کے بعد اٹھایا گیا۔ نیپال کیبل ٹی وی ایسوسی ایشن کے صدر نے بی بی سی نیپال کو بتایا کہ یہ بلیک آؤٹ غیر معینہ مدت کیلئے ہے۔اسی طرح دارالحکومت کھٹمنڈو کے ایک سینما گھر نے بھی بھارتی فلمیں دکھانا بند کر دی ہیں۔جہاں بھارتی پالیسیوں پر تنقید اور احتجاج ہورہے ہیں وہاں نیپالی وزیر اعظم بھی ان پر برس پڑے اور نیپال کے اندرونی معاملات میں آئندہ مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ادھر نیپالی پولیس نے بھارت کو جانیوا لے سرحدی راستے پر دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے راستے کھول دیئے تو بھارت نے الزام لگایا کہ پولیس کی فائرنگ سے سرحد پر ان کا شہری ہلاک ہوگیا ہے، مودی نے رعب ڈالنے کیلئے اپنے نیپالی ہم منصب کو فون کیا تو آگے سے توقع سے ہٹ کر نیپالی وزیر اعظم نے وارننگ دی کہ آئندہ بھارت نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔نیپال کا محاصرہ ہندوتوا کا تسلسل ہے۔ دراصل یہ بیمارذہنیت کی لمبی کہانی ہے۔تقسیم ہند کے وقت جب برطانیہ برصغیرنکلا تو دو ممالک پاکستان اور بھارت نے جنم لیا، کئی دیگرریاستیں بھی وجود میں آئیں۔ شاطر انگریز سامراج نے بعض ایسے تنازعات بھی ادھورے چھوڑ ے کہ جن کا بھارت نے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قبضہ جمالیا۔ پاکستان اور چین کے متعددعلاقے جن میں اسکائی چن، ارونا چل پردیش، جموں اینڈ کشمیر، سیاچن گلیشئر، سالتارو، سرکریک شامل ہیں پر بھارت نے قبضہ جما رکھا ہے۔ صرف یہی نہیں مالدیپ، سری لنکا، برما، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تنازعات چل رہے ہیں، جن میں کالا پانی، نیپالی پٹی، منی کوئے، کچا چٹھایو، جنوبی تل پتی جزیرہ، بنگالی انکلیو اور دیگر شامل ہیں۔ان متنازعہ علاقوں کی وجہ سے بھارت پاکستان ، چین اور سری لنکا کے ساتھ جنگیں بھی کرچکا ہے۔مالدیپ بھی اپنے پڑوسی بھارت کی مداخلت کا شکار ہے، مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے بھارت سے نہ صرف اس کی شکایت کی ہے بلکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پرسخت انتباہ بھی کرچکے ہیں۔ پڑوسی ملکوں میں مداخلت اور وہاں تنازعات کو ہوا دینا بھارت کا شیوہ رہا ہے ۔

بسمہ اور عوام

ننھی بسمہ چلی گئی۔ مگر سوچ رہا ہوں کہ روزمحشر وہ کس کا گریبان پکڑے گی؟ ان مقدس لوگوں کا، جن کے پروٹوکول کی بھینٹ وہ ننھی جان چڑھ گئی یا ایک عدد نوکری اور چند ٹکوں کے عوض اپنا خون بیچ دینے والے اپنے باپ کا؟؟حیران ہوں کہ بیٹی کا لاشہ بانہوں میں اٹھائے جو باپ زاروقطار رو رہا تھا اور بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے سائیں کو کوسنے دے رہا تھا اور اپنی بچی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا چند ہی گھنٹوں بعد سائیں سے ملاقات کے بعد کس طرح مطمئن ہو گیا؟کیا روپوں کے عوض کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے؟ کچھ بھی۔۔۔؟؟پنجابی میں محاورتاً کہتے ہیں کہ فلاں نے تو فلاں کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہونے دی اور یہ کر دیا مگر یہاں تو اس محاورے کی عملی تفسیر ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ابھی بیٹی قبر میں پہنچی ہی تھی کہ باپ ایک نوکری لے کر ’’گواہیاں‘‘ دینے لگ گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نہیں، قائم علی شاہ نہیں ، کوئی بھی اس کی بیٹی کی موت کا ذمہ دار نہیں، بس اللہ کی یہی مرضی تھی، اس کے ’’نصیب‘‘ میں ہی مرنا لکھا تھا، اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔۔۔!!
ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ اپنے کرتوتوں کا موردِ الزام خدا کو ٹھہرانے سے بھی باز نہیں آتے۔ کوئی موٹرسائیکل پر ون ویلنگ کرتا ہوا حادثے کا شکار ہو اور مر جائے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی خودکشی کر لے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی کسی کا گلہ کاٹ کر مار ڈالے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی اس ملک کے مقدس لوگوں کے پروٹوکول کی بلی چڑھ جائے تو بھی بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ آج تک کوئی عالمِ دین میرے اس سوال کا جواب نہیں دے پایاکہ ’’اگر دنیا میں سب کچھ خدا کی طرف سے ہم پر مسلط کیا گیا ہے اور ہم جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں خدا کی مرضی سے ہے تو پھر قیامت کے روز خداہمیں ان کاموں کی سزا کیونکر دے سکتا ہے؟‘‘ جانتا ہوں میں بھی، کہ سب تقدیر میں لکھا ہوتا ہے مگر خدا وہ تقدیر اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، وہ عالم الغیب ہے، وہ جانتا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پر کیا کرے گا، پس وہ لکھ دیتا ہے کہ فلاں وقت پر فلاں شخص یہ کام کرے گا۔ یہ سب اللہ جل شانہ اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، اپنی طرف سے انسان پر مسلط نہیں کرتا کہ ’’تم نے فلاں وقت پر فلاں کام کرنا ہے۔‘‘یہی کچھ یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ اگر بسمہ کو 10منٹ پہلے ہسپتال پہنچادیا جاتا تو شاید اس کی جان بچ جاتی حالانکہ باپ ایک گھنٹے سے اسے لے کر سڑکوں پر دوڑ رہا تھا۔ مگر بعد میں وہی باپ کہہ رہا ہے کہ بس خدا کی یہی مرضی تھی، کسی اور کا کوئی قصور نہیں۔
بسمہ کے باپ نے تو سمجھوتہ کر لیا، وجہ غربت ہو یا کچھ اور۔ مگر اس وقت سوسائٹی اور عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ ایک بات تو طے ہے کہ جب تک عوام خود نہیں سدھریں گے اور معاملات اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے اس ملک کی بگڑی نہیں بننے والی۔ جس طرح محبت اور ہوس میں ایک باریک سا فرق ہے اسی طرح بغاوت اور عوام کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے درمیان بھی معمولی سا فرق ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عوام کو سرگرم ہونا ہو گا۔ کبھی بھی کوئی چوررضاکارانہ طور پر چوری سے تائب نہیں ہوتا۔ ہمارے یہ حکمران اور سیاستدان جنہیں پروٹوکول کا چسکا لگ چکا ہے کبھی بھی رضاکارانہ طور پر اس سے دستبردار نہیں ہوں گے خواہ بسمہ جیسی کتنی ہی ننھی جانیں کیوں نہ چلی جائیں۔ سڑکیں اسی طرح بند ہوتی رہیں گی۔ ایمبولینسیں اسی طرح سڑکوں پر پروٹوکول کے باعث پھنستی رہیں گی اور ان میں مریض دم توڑتے رہیں گے۔ مائیں اسی طرح بچوں کو رکشوں میں جنم دیتی رہیں گی۔ عوام ہی کو ’’اب نہیں‘‘ کہنا ہو گا۔ بڑھ کر ان حکمرانوں کا ہاتھ روکنا ہو گا اور نثار کھوڑو جیسے بے ضمیر انسان کو دکھانا ہو گا کہ عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں، وہی نثار کھوڑو جس نے بسمہ کی ہلاکت پر لاپرواہی کے ساتھ کہا کہ ’’ہمارے لیے تو بلاول بھٹو زرداری سب سے زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ یہ لوگ تو کھلے عام عوام کو للکارتے رہتے ہیں، آج بھی نثار کھوڑو نے للکارا کہ ہاں بسمہ کی کیا اوقات ہے، بلاول کے سامنے اس ننھی جان کی اوقات ہی کیا ہے۔ اب اگر عوام ہی بے شرمی اور بے حسی کی چادر اوڑھے دم سادھے تماشا دیکھتے رہیں تو اس میں ان حکمرانوں کا کیا قصور، کہ چور تو چور ہی ہوتا ہے اور سینہ زور، سینہ زور۔ عمران خان کو خیبرپختونخوا سے آغاز کر دیا ہے، اب وہاں کسی پروٹوکول کے باعث ٹریفک نہیں روکی جائے گی۔ مگر کیاپنجاب و دیگر صوبوں اور وفاق کے حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ ازخود ایسا اقدام اٹھا سکیں؟ اگر ہوتی تو بسمہ ایسی بے بسی کی موت مرتی۔ فیصلہ عوام ہی کو کرنا ہے، آج کر لے یا کل کسی اور بسمہ کی لاش اٹھانے کے بعد کر لے۔ جب سڑکوں ہزاروں لوگوں پر مسدود کر دی جاتی ہے تو ان ہزاروں کو آگے بڑھ کر اس دیوار کو توڑ دینا چاہیے۔ اب ہمیں کسی کے پروٹوکول کے باعث سڑکوں پر کھڑے نہیں ہونا۔ہمیں اب سوچنا ہو گا کہ ایک بسمہ ہی کافی ہے یا ہمیں جاگنے کے لیے مزید لاشوں کی ضرورت ہو گی۔

Google Analytics Alternative