کالم

آرمی پبلک اسکول پشاور کا واقعہ اور16 دسمبر سقوط ڈھاکہ

mir-afsar

پتہ نہیں کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے آرمی پبلک اسکول پشاور کا واقعہ بھی ۶۱ دسمبر سقوط ڈھاکا کی نسبت سے رکھا تھا جس میں ہمارے مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ دیا گیا تھا یا آرمی پبلک اسکول پشاور میں انسانیت سوز دہشت گردی کر کے وہ ہمیںذہنی طور پر مفلوج کر نا چاہتا تھا۔یا یہ اتفاق ہے کہ بھارت کی ایما ءپر افغانستان میں بیٹھے پاکستان دشمن دہشتگردوں نے ۶۱ دسمبر کو دنیا کا منفرد دہشت گردی کا واقعہ کر کے ہمیں سبق سکھانا چاہتا تھا۔ کچھ بھی ہر واقعے کے پیچھے قدرت کی تدبیروں کا بھی دخل ہوتا ہے۔ہم دو دن سے سوچ رہے تھارہے کہ ۶۱ دسمبر کے حوالے ڈھاکہ پر کالم لکھیں یا ۶۱ دسمبر آرمی پبلک اسکول کے واقعے پر لکھیں دونوںواقعات ہماری کا حصہ بن چکے ہیں ہمیں ان کو ہر حالت میں یاد رکھنا ہے اس پر لکھنا ہے اس سے سبق حاصل کرنا ہے۔ دونوں واقعات میں بھارت کی دہشت گردی نے ہمیں خون میں نہلا دیا تھا۔۶۱ دسمبر کی دہشت گردی میں ہمارا مشرقی بازو ہم سے الگ ہو گیا تھا وہ تو اب تاریخ کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ ۶۱ دسمبر آرمی پبلک اسکول پشاور کے واقعہ سے ہمارا پاکستان یک جان ہو گیا تھا جس نے آگے چل کر پاکستانی قوم کو ایک لڑی میں پررو دیا ہے۔ظلم ظلم ہے جو کوئی بھی کرے۔ہمارا مذہب تو کہتا ہے کہ ایک انسان کے بغیر قصور کے قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کو بچاناپوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے مگر دہشت گردوں نے پشاور میںمعصوم بچوں کو جس طرح دہشت پھیلا کر شہید کیا تھاوہ پاکستانی قوم کو ہمیشہ یاد رہے گا۔اس کی ذمہ دارے طالبان ے قبول کی تھی۔ طالبان کیا ہیں یہ کہاں کی پیدا وار ہیں ان کی اصل کیا ہے اس پر بہت لکھا گیا ہے مگر ہمارے نزدیک سب سے بڑی بات وہ ہے جو امریکی پالیسی سازوں نے افغانستان کے اوپر حملہ کرنے سے پہلے اپنی کانگرس کا سامنے رکھی تھی ۔جس کانگرس نے ان سے کہا تھا کہ اس سے قبل افغانستان پر حملہ کرنے والے برطانیہ اور روس کا کیا حال ہواتھا۔اس پر امریکی منصوبہ بنددوں نے کانگرس کے سامنے یہ بات رکھی تھی کہ اس کا انتظام ہم ے کر لیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کو سمجھنے کے لیے امریکا نے کیا انتظامات کئے تھے اگر ان کو ہم سمجھ لیں تو ٓآرمی پبلک اسکول پشاور اور پاکستان میں جتنے بھی منظم حملے ہوئے ہیں آسانی سے سمجھ آ سکتے ہیں۔ چاہے وہ حملے ہمارے دفاعی انسٹالیشن پر ہوں یا عام پبلک جگہوں پر ہوں۔ خیبر پختون خواہ کی پٹھان آبادی اور افغانستان کی پٹھان آبادی کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں جب بھی افغانستان پر بیرونی حملہ ہوا پاکستان کی پٹھان آبادی نے افغانستان کا ساتھ دیا تھا۔ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے اور اسی بات کو افغانستان پر ۹۱۱ کے بعد حملہ کرنے امریکی منصوبہ بندوں کے سامنے امریکی کانگرس نے رکھی تھی۔امریکہ نے سب سے پہلے خیبر پختونخواہ کی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے معاملہ طے کیا کہ وہ امریکا کا ساتھ دیں جو انہوں نے خیبرپختونخواہ کی پٹھان آبادی کو مختلف طریقوں سے اپنے صوبے میں ہی مصروف رکھااورنیٹو سپلائی کو تحفط دے کر ثابت کیا تھا۔ اس پر پریس میں بیگم نسیم ولی خان نے نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ پر امریکا سے ڈالر لینے کا الزام بھی لگایا تھا۔ بھارت جو پاکستان کی نیشنل عوامی پارٹی کا ہمیشہ اتحادی رہا ہے نے بھی ان سے اور افغانستان کے قوم پرسٹ پٹھانوں سے مل کر امریکا کی مدد کی ہے۔ بھارت نے فاٹا میں دہشت گردی کے کیمپ قائم کیے تھے۔اس کا ذکر(ر) جنرل؟(ر) جنرل شاہد عزیزکی کتاب میں موجود ہے جس میں وہ ڈکٹیٹر مشرف کو بتاتے ہیں کہ فاٹا میں بھارت دہشت گردوں کے ٹرنینگ کیمپ چلا رہا ہے مگر ڈکٹیٹر مشرف نے ان کی ایک نہ سنی جس کا انہوں نے اپنی کتاب میں ڈکٹیٹر مشرف سے احتجاج بھی کیا تھا۔ افغانستان کے اندر قوم پرست پٹھان اور شمالی اتحاد کے ازبک ، تاجک اورہزارہ نے امریکا کی مدد کی ہے۔جب امریکا نے پاکستان مخالف طالبان کو منظم کر لیا پھربلیک واٹر تنظیم کو پاکستان خلاف کاوائیوں پر لگایا اور پریس میں امریکی اہلکاروں کا بیان موجود ہے کہ بلیک واٹر نے عراق میں امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا اب پاکستان میں بھی ساتھ دے رہی ہے۔ پاکستان میں بلیک واٹر دہشت گردی کی کاروائی کرے گی اور مقامی طالبان اس کو اون کریں گے۔پاکستان کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ڈکٹیتر مشرف نے کی تھی کہ امریکا کو سمندر، بری اور بحری راستے مہیا کر دیے تھے کہ وہ ان انتظامات کے تحت افغانستانپاکستان میں جو بھی کاروائی کرے اس کو کوئی بھی رکاوٹ نہ ہو۔ افرادی قوت کو پاکستان اس وقت کے امریکا میں پاکستان کے وزیر خارجہ غدار حسین حقانی نے امریکیوں کو ویزے دے کر پوری کر دی تھی۔ صاحبو! ان انتظامات کے تحت امریکا نے افغانستان اور پاکستان میں اپنے بنائے ہوئے طالبان سے دہشت کی کاروائیاں کروائیں اور افغانستان اور پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی پاکستان کا سوارب سے زائد کو مالی نقصان ہو چکا ہے ہماری بہادر فوج اور عام شہری ساٹھ ہزار سے زائد شہید ہو چکے ہیں۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ہمارے جنرل ہیڈ کواٹر،کامرہ ایروناٹیکل بیس،کراچی میں ایئر پورٹ اور نیوی کی جہازوں پر دہشت گردی کی کاروائیاں صرف اور صرف مدرسوں سے پڑھے ہوئے طالبان کر سکتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کو بھارت اور امریکا کی ٹرنینگ اور مقامی پاکستان دشمن سیاسی قوتوں کی مدد ہی سے پاکستان میں ایسی کاروائیاں کرتے رہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ درجنوں کونسل خانے قائم کیے ہوئے ہیں جو دہشت گردوں کو ٹرنینگ دیتے ہیں اور وہ پاکستان میں آکر کاروائیاں کرتے ہے ہیں ایسی ہی کاروائی ۶۱دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں کی جس میں سیکڑوں بے گناہ ننے منے بچے ان کا نشانہ بنے ہیں۔ ان بے گناہ بچوں کی شہادت پر دل برداشتہ ہو کر ہماری مسلح افواج کے سربراہ نے بر وقت اس دہشت گردی کے خلاف ساری پاکستانی قوم کو اکٹھا کیا عمران خان اپنا دھرنا چھوڑ کر اور دوسری ساری سیاسی پارٹیوں نے پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں متفقہ قرادا پاس ہوئی اور اس کو قانون بنا دیا گیا۔ دہشت گردوں کو فوری سزا کے لیے فوجی ٹرائل کی عدالتیں قائم ہوئی جو ان کو سزائیں سنا رہی ہیں۔دکھوں کی ماری پوری پاکستانی قوم نے پاکستان کی مسلح افواج کا ساتھ دیا۔ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایپکس کمیٹیاں صوبوں اور مرکز کے تحت قائم ہوئی ہیں جو قوم کے ترتیب شدہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں ،اس کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دے رہی ہے کل ہی آرمی پبلک اسکول پشاور کے چار دہشت گردوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا یہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی ننے منے بچوں کی شہادت کی وجہ ہے جو ملک میں امن وامان کی حالت پہلے سے بہتر ہو رہی ہے ۔ ان شاءاللہ ایک د ن ضر رآئے گا کہ ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان سے آخری دہشت گرد بھی ختم ہو جائے گا یہی ہماری مسلح افواج کے سربراہ اور پاکستانی قوم نے طے کیا ہوا ہے۔اللہ ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو آمین۔

آرمی پبلک اسکول کے شہدائ

azmat-shir

پاکستان اپنے وجود میں آنے کے بعد سے سازشوں کا شکار رہا ہے اس میں ہمارا مشرقی پڑوسی پاکستان اور مسلمان دشمنی میں منفرد اعزاز رکھتا ہے اس کی نفسیاتی ساخت میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ہمارا شمالی پڑوسی کے بھی کسی تاریخی مغالطے کا شکار رہا ہے اور ان کی لیڈر شپ پاکستان کے حوالے بے سروپا تحفظات رکھتی ہے اور ہندوستان کی ہلا شیری سے بھی افغانستان کے ان بے سروپا تحفظات کو مہمیز ملتی رہی ہے اسی کا شاخسانہ 1947ءمیں پاکستان کے خلاف صرف ایک ووٹ تھا اور وہ افغانستان کا ووٹ تھا پاکستان کی تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود بھی یہ نام نہاد اور غیرمنطقی تحفظات بر قرار رکھے گئے اور پاکستان کی پالیسی آپ کی جانب مثبت رہی آپ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالعہ فرما لیجئے جس میں افغانستان کو پاکستان جانب سے جو مراعات دی گئی اس کا دنیا میں کہیں اور تصور بھی محال ہے کاش کوئی افغان لیڈر ہندوستان اورنیپال کے درمیاں ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالعہ فرما لیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ پاکستان نے آپ کو کس قدر مراعات دے رکھی ہیں جس سے پاکستان کا بے حد اقتصادی نقصان ہوتا ہے ٹی وی پر ایک افغان اہلکار یہ فرماتے پائے گئے کہ ان کے پاس ایران کا ٹرانزٹ آپشن موجود ہے تو ان کی خدمت میں گزارش ہے جس طرح اخوت کے رشتے سے پاکستان نے آنکھیں موند رکھی ہیں اور پاکستان میں افغان تاجروں نے اودھم مچا رکھا ہےیہ سہولت صرف پاکستان نے ہی آپ کو دے رکھی ہے ذرا یہ دوسرا آپشن استعمال کر کے دیکھ لیں تو سمجھ آ جائے گی اس کے علاوہ پاکستانی عوام نے بے حد و حساب قربانیاں دیں جس سے پاکستان کا امن تہ و بالا ہو گیا روس کے افغانستان میں در آنے کے بعد پاکستان نے 35 لاکھ افغان بھائیوں کے لئے در و دل وا کردئے اس حد تک کہ پاکستان کا اپنا قومی وجود داﺅ پر لگ گیا پاکستانیوں کے کاروبار سمٹ گئے اور افغانیوں کے کاروبار پھیل گئے پاکستان میں دھماکوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا سینکڑوں معصوم پاکستانی دہشت گردی اور بم دھماکوں کا شکار ہوئے اس میں افغانستان کی اس وقت کی حکومت مکمل طور پر ملوث رہی اور اس سے پاکستان کا معاشرہ شدید متاثر ہوا مقامی ٹرانسپورٹ تباہ ہو کے رہ گئی پاکستان میں اس سے پہلے 12 بور کی شاٹ گن بہت بڑا ہتھیار سمجھا جا تا تھا ہیروئن کا نام تک کسی کو معلوم نہیں تھا پھر کیا ہوا ان تمام چیزوں کا ایک سیلاب آگیا کلاشنکوف اور ہیروئن کا کلچر عام ہو گیا ہتھیاروں کی عام دستیابی سے اندرون پاکستان میں امن و امان شدید متاثر ہوا عام افغان بھی اس ابتلاءکے دور میں شدید متاثر ہوا اس دوراں ہندوستان روس اور افغان حکومت کے ہم رکاب رہا اور تمام سازشوں میں برابر کاشریک ایک طرف پاکستان کی بے شمار قربانیوں کے باوجود افغان مقتدر آج بھی اسی پالیسی پر کار بند ہیں ریاست پاکستان نے پاکستان میں برپا دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ضرب عضب کی ابتدائ کی تو دہشت گرد افغانستان فرار ہو کر افغان حکومت کے سایہ عاطفت میں چلے گئے اور افغان حکومت نے ان کو نہ صرف پناہ اور امداد فراہم کی بلکہ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ہندوستانی را اور افغان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کو استعمال کرنا شروع کیا اور پاکستان اور اللہ کے ان باغی خوارج جن کو نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کلا ب النار یعنی جہنم کے کتے قرار دیا ہے نے آرمی پبلک اسکول میں معصوم فرشتہ صفت بچوں اور ان کے اساتذہ کو بہیمانہ انداز سے شہید کردیا جو پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے اس ظلم کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی اس دوران یہ مجرم افغانستان میں موجود ہندوستانی سرکاری اہلکاروں سے رابطے میں تھے ا ن شہیدوں نے اپنی قربانیاں پیش کرکے اس قوم پر احسان کیا اور پاکستانیوں کے جذبوں کو جلا بخشی یہ شہید ہمارے پھول ہیں ہمارے چاند ستارے ہیں اور اللہ کے مقرب جنات النعیم کے مکیں ہیں اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ہم ہندوستانی اور افغان قیادت پر واضح کرنا چاہتے ہیں جو کھیل خطے میں آپ نے شروع کر رکھا ہے اور آپ نے داعش کے لیڈروں سے ملاقاتیں اور ان کو خطے میں لانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اس کے نہایت دور رس اور بھیانک نتائج نکلنے کے بہت امکانات ہیں یہ آگ جس کو پاکستان نے اپنے لہو کی دیوار سے روک رکھا ہے کل کلاں یہ آگے نکل گئی تو آپ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا کسی کو معلوم نہیں شاید غزوہ ہند تک بات چلی جائے آئیے ملکر دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں امن اور انسان کی فلاح ہی اسلام کا پیغام ہے رب کریم کے حضور دست بہ دعا ہیں اللہ ان عظیم شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے قوم آپ کو نہ بھولی ہے نہ ہی بھولے گی آپ سدا ہمارے دلوں میں رہیں گےاور دعا گو ہیں کہ اللہ رب جلیل لواحقین کو اس نقصان عظیم پر صبر کی توفیق عطا فرمائے آمیں ثم امین ۔

جناب وزیراعظم پاکستانی کر کٹ کو بچالیجئے

amjiad

پاکستانی کرکٹ ذلت ورسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبکیاں کھارہی ہے۔ مگر پاکستانی کرکٹ کا یہ المنا ک انجام روز روشن کی طرح عیاں تھا۔ نوشتہ ءدیوار تھا۔ پاکستانی کرکٹ کے ٹھیکے دار بڑے منجھے ہوئے شکاری ہیں۔ اُن کا نشانہ چوکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس دن پاکستانی کرکٹ کی ڈوبتی ناﺅ جناب نجم سیٹھی اور بعد میں نواب صاحب کے سپرد کر دی گئی۔ وہ دن اور آج کا دن ہر روز غیور پاکستانی قوم کے کرکٹ سے جڑے زخموں پر نمک پاشی ہوتی رہی۔بلکہ کا لا نمک چھڑ کا جاتا رہا۔ گزشتہ سال پاکستانی ٹیم نے ایشیا کپ کا فائنل بنگلہ دیش ٹیم کے خلاف جیتا تو بنگلہ دیش کی پاکستان دشمن وزیراعظم حسینہ واجد فائنل میں تقسیم انعامات کی تقریب کو اپنے سینڈل سے ٹھوکر مار کر سٹیڈیم سے چلی گئیں۔ یہ ایک طرح سے پاکستانی جیت اور پاکستانی ٹیم پر ذلت اور رسوائی کا پہلا بھر پور وار تھا۔ کرکٹ کے ٹھیکے داروں کو یہ ذلت و رسوائی راس آئی اور پھر بنگلہ دیش پاکستان کا مختصر دورہ کرنے کاوعدہ کر کے صاف مُکر گیا یوں پاکستانی حکام کو منتیں ترلے کروانے کے باوجود پاکستانی کرکٹ کے کشکول میں آخری وقت تھوک دیا۔ پاکستانی قوم نجم سیٹھی اور شہریا ر سے سوال کرتی ہے کہ وہ آخر کیوں وطن کی عزت کو داﺅ پر لگا رہے ہیں۔کھیلیں اور باقی تمام سرگرمیاں عزت کے لئے ہی کی جاتی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کے یہ ٹھیکے دار وقومی عزت ووقار کی نفی کرکے کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پاکستانی کرکٹ کے یہ دونوں ٹھیکے دار دو تین ہفتے پہلے جب بغیر کسی دعوت کے ممبئی جاپہنچے تھے۔ تو جو سلوک ہندوستانی میزبانوں نے ان کے ساتھ کیا، پوری پاکستانی قوم کا دل اس بے عزتی پر خون کے آنسو رورہاہے۔ چونکہ یہ سلوک چڑیا والے نجم سیٹھی اور ملک کی عزت ووقار کو بار بار خاک میں ملانے والے شہر یار خان سے نہیں بلکہ پاکستان کے نمائندوں سے ہوا۔ یہ سب کچھ اس قدر ذلت آمیز تھا کہ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان نے بروقت اور بھرپور ردِعمل دیا۔ چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ بھارت کے ہاتھوں اور کتنے منہ کب تک کالے کرواتے رہو گے پاکستانی قوم کے دل کی آواز تھی۔ مگر کرکٹ کے نواب صاحب نے اُسی دن چوہدری نثار علی خان کا ذکر کتنی حقارت سے کیا ۔ اُسی دن وزیراعظم ہاﺅس سے کرکٹ حکام پر پابندی لگادی گئی۔ کہ بھارت سے کرکٹ تعلقات ومعاملات پر بات نہ کی جائے۔اور حکومت کی منظوری کے بغیر معاملات پر پیش رفت نہ کی جائے۔ چڑیوں والی سرکار تو بھارت کے متنازعہ دورے پر ممبئی میں شیو سینا کے ہاتھوں درگت اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہاتھوں اخلاقیات کی پامالی حتیٰ کہ ملنے سے انکار پر ممبئی سے ہی متحدہ عرب امارات سدھار گئی۔ اور اس کے بعد آج تک نجم سیٹھی صاحب نے کرکٹ معاملات پر چُپ سادھ رکھی ہے۔مگر نواب صاحب کی بولتی ہے کہ بند ہونے میں نہیں آرہی۔ وہ کبھی بھارت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں۔ پھر خود ہی اس الٹی میٹم میں 12 گھنٹے کا اضافہ کرتے ہیں۔ اور پھر تمام حدیں کراس کرتے ہوئے جناب وزیراعظم کے ساتھ بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات میں کرکٹ کے معاملات پر بات نہ ہونے کو افسوس ناک قرار دیتے ہیں۔اور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ ہم 3,4 دن اور بھارتی جواب کا انتظار کرلیں گے۔ اور پھر خود ہی انگلش جائلز کلارک کے سامنے روتے ہیں۔ اور یوں ہر جگہ میرے پیارے وطن کی عزت ووقار کو بٹے پہ بٹہ لگائے چلے جاتے ہیں۔جناب وزیراعظم آپ سے لاکھ اختلافات کے باوجود کوئی پاکستانی بھی اس یقین محکم پر دورائے نہیں رکھتا کہ آپ کو وطن عزیز کی عزت ووقار اور مفادہر شے سے عزیز تر ہے۔ خدا کےلئے کرکٹ معاملات پر توجہ دیجئے۔ آپ کے پاس بہترین لوگ موجود ہیں۔ یقین کیجئے آپ اس Resolve اور Courage کے مالک ہیں جس نے 1998 ءمیں پاکستان کو دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بنا دیا تھا۔ ضربِ عضب اور وطن عزیز کو ہر طرح کے جرائم سے پاک کرنے کے لئے آپ کی کمٹمنٹ قابل ستائش ہے۔ کھیلوں کا شعبہ بھی آپ کی ایسی ہی کمٹمنٹ کا تقاضہ کرتا ہے۔کرکٹ ، ہاکی اور دیگر تقریباََ سبھی کھیلوں میں تنزلی اور بد انتظامی نے وطن عزیز کا خوبصورت روش چہرہ پیلا زرد کردیا ہے۔ اُس کو سُرخ وسفید اور روشن بنادیں۔ شہریار، نجم سیٹھی اینڈ کونے پاکستانی کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان تو پہنچا یا ہے ہی حکومت کی رٹ اور گورنس کے معاملات کو بھی دھند لا بنادیا ہے۔کرکٹ کی موجودہ حالت کے بارے میں فقط ایک لطیفہ پیش خدمت ہے۔ پنجاب کا ایک مشہور رنگیلا حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن اس کو کیا شوق چرایا کہ بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لئے گلیوں اور بازاروں میں نکل کھڑا ہوا۔ صبح کا وقت تھا۔ ایک تندور پر رش دیکھ کر وہ لائن میں لگ گیا۔ چونکہ اُس کا مقصد نان خریدنے کا نہ تھا۔ اس لئے ایک دو مرتبہ اُس نے لائن سے آگے نکل کر تندور تک پہنچنے کی کوشش کی۔ تندورچی بدتمیز بھی تھا اور رش کی وجہ سے غصے میں بھرا بیٹھا تھا۔ اُس نے جب رنجیت سنگھ کو دیکھا کہ لائن توڑ رہا ہے تو لوہے کی کنڈی سے رنجیت سنگھ کو ٹھوکر دی اور کہا کہ پیچھے ہٹ او کانے لائن مت توڑ۔ مہاراجہ رنجت سنگھ نے بہت بے عزتی محسوس کی اور فوراََ واپس چلا گیا۔ محل میں جاتے ہی اُس نے پہلا حکم دیا کہ اس تندورچی کو مہاراجہ کے دربار وعدالت میں پیش کیا جائے۔ کچھ ہی دیر میں سرکاری اہلکار اس تندورچی کو پابجولاں پکڑ لائے۔ مہاراجہ نے اس تندورچی پر مختلف الزمات لگائے اور سزائے موت دے دی۔ تندورچی بہت رویا پیٹا ، معافی، ترلے کیے مگر بے سود۔ جب اہلکار اس کو دربار سے گھسیٹ کرلے جانے لگے تو وہ بڑبڑایا کہ مجھے پہلے ہی پتا تھا ۔ یہ بات سن کر مہاراجہ سنگھ نے اہلکاروںکو روکا اور تندورچی سے کہا کہ تمہیں پہلے سے کیا پتا تھا۔ تو اس نے رو رو کر عرض کی کہ جناب مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ میرا آج کا دن انتہائی درد ناک گزرے گا کیونکہ سویرے سویرے ایک کانا متھے لگا تھا اور مجھے یقین تھا کہ آج کا دن صیحح نہ گزرے گا۔وزیراعظم صاحب کرکٹ کی ناﺅ نجم سیٹھی اور شہریار کے حوالے کی گئی تو پوری قوم کو یقین تھا کہ یہ کرکٹ کی ناﺅ کو بیچ منجدھار ڈبوئیں گے اور انہوں نے سچ کر دکھایا۔ جناب وزیراعظم آپ کرکٹ اور ہاکی کو کسی ائیرمارشل نورخان کے حوالے کردیں۔ آپ کی ٹیم میں کئی ائیرمارشل نورخان موجود ہیں مثلاََ آپ کے سیکرٹری فواد حسن فواد روزانہ ایک گھنٹہ اگر کرکٹ معاملات کو دیکھ لیں تو کرکٹ کا سنہری دور واپس آسکتا ہے۔

ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس اور افغانستان

syed-rasool-tagovi

 افغانستان میں امن کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس کے میزبان پاکستان اور افغانستان تھے ۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شریک ہوئیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں ان کی شرکت اہم تصور کی جارہی تھی ۔ علاوہ ازیں دس دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی جبکہ کل 44 ممالک کے وفود نے شریک ہوکر اس کانفرنس کی اہمیت کو دوچند کردیا ۔ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق تمام افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کومزید تیز کیاجائے گا۔ پاک افغان وزرائے خارجہ نے بھی میڈیا سے مشترکہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری اور احترام کیاجائے جبکہ رکن ممالک امن اورمفاہمتی عمل کوآگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون اور اپنا بھرپور کردار اداکریں ۔ انہوں نے بتایا کہ امن کے عمل کوآگے بڑھانے اور پائیدار امن کیلئے طالبان کومذاکرات کی میز پر لاکر بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع کیا جائے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کیلئے مل کرکام کریں۔ ہارٹ آف ایشیاءاستنبول پروسیس کے سلسلے میں اب تک چار کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں لیکن نتائج اب تک توقع کے مطابق حاصل نہیں ہو پائے تھے حالانکہ اب تک افغانستان میں امن کی کوئی نہ کوئی شکل ابھر کر سامنے آجانی چاہیے تھی۔حالیہ پانچویںکانفرنس میں جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے اگر ان پر حقیقی معنوں میںعملدرآمد شروع کردیا جائے تو جلد پائیدار امن کی صورت گری ہو جائے گی۔ پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے ۔ اگر مری بات چیت کا سلسلہ بوجوہ معطل نہ ہوتا تو یقیناً آج افغان میں بہتری کے آثار نمایاں ہوچکے ہوتے۔ پاکستان ایک عرصہ سے کوشاں ہے کہ افغانستان میں فریقین مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی خواہشات کوکمزوری سمجھتے ہوئے اس پار بدنیتی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔خصوصاً سابق صدر حامدکرزئی جسے ذاتی سیاسی مفادات زیادہ عزیز تھے، لہذا وہ نہیں چاہتے تھے کہ طالبان سے بات چیت کرکے ان کا وجود تسلیم کرکیا۔ عبداللہ عبداللہ، حامدکرزئی اور افغان انٹیلی جنس NDS کی شیطانی مثلث پاکستان دشمنی میں بھارتی مفادات کے تابع تھی۔اب بھی یہی شیطانی مثلث بھارتی مفادات کی تابعداری میں ڈاکٹر اشرف غنی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ اس بات کا اندازہ افغان انٹیلی جنس NDS کے سربراہ کے مستعفی ہونے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے اختتام کے اگلے روز ہی این ڈی ایس کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کے بعد استعفیٰ دے کر پاکستانی موقف کو خود ہی دلدیل فراہم کردی۔ پانچ برس سے این ڈی ایس کے سربراہ رہنے والے رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں لکھا کہ مجھے آپ کی پالیسیوں سے اختلافات ہے۔ رحمت اللہ نبیل کے حوالے سے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وہ پاکستان مخالفت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ جب سے این ڈی ایس کی سربراہی ان کے ہاتھ تھی اس نے نہ صرف پاکستان سے بھاگ کر افغانستان پہنچنے والے دہشت گردوں کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ بھارتی ایجنسی ”را“ کی بھی بھرپور معاونت کی۔ پاکستان اس حوالے سے اس وقت حامد کرزئی حکومت کو باربارآگاہ کرتا رہا لیکن موصوف اسے درخور اعتنا نہیں جانتے تھے۔ڈاکٹر اشرف غنی کوبھی ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے ہیں کہ کس طرح این ڈی ایس پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔کابل چونکہ اب تک بھارتی لابی کے زیر اثر ہے تو اس سلسلے میں ڈاکٹر غنی کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔پاکستان اور اشرف غنی حکومت ا نٹیلی جنس تعاون پر ہر وقت آمادہ رہتے ہیں بلکہ چند ماہ قبل اس سلسلے میںباقاعدہ بات چیت میں معاملات طے پا گئے تھے مگر این ڈی ایس نے اسے ناکام کردکھایا ۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت این ڈی ایس کے ساتھ مل کر طالبان کے توڑ کیلئے داعش کی راہ ہموارکررہا ہے۔ اب اگر رحمت اللہ نبیل نے استعفیٰ دے دیا یا اسے استعفے پر مجبور کیا گیا ہے تو امید ہے کہ اس سے نمایاںبہتری آئے گی اور پاک افغان حکومتیںمل کر آگے بڑھیں گے۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے موقع پر پاکستان ،افغانستان ، امریکہ اورچین کے اعلیٰ سطح وفود کے مشترکہ اجلاس جس میںوزیراعظم پاکستان، صدر اشرف غنی ، چینی اور امریکی نائب وزرائے خارجہ کی شرکت سے توقع ہے کہ اس کے نتیجے میںجہاں افغان امن میں اہم پیشرفت متوقع ہے وہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخیاں کم اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع بھی ملے گا۔کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دہشت گردی کے خلاف کابل حکومت کی کوششوں کوسراہا اور افغان صدر کو یقین دلایا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیںجبکہ ڈاکٹر اشرف غنی نے کہاکہ دہشت گرد دونوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کاملک پاکستان سے سیاسی و سماجی تعلقات کے علاوہ ملٹری ٹو ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں میں رابطے بڑھانے کا خواہاں ہے۔دونوں رہنماﺅں نے جس طرح خیر سگالی کا مظاہرہ کیا اور خطے کے امن کیلئے مل کرکام کرنے کا عزم کیا ہے وہ وقت کا تقاضا بھی ہے اورضرورت بھی ۔ کیونکہ پچھلے ایک عشرہ سے جاری دہشت گردی کی جنگ میں دونوںممالک بھاری جانی و مالی نقصان اٹھاچکے ہیں جبکہ بعض مفاد پرست ممالک دونوں میں دوریاں پیدا کرکے دونوںکو ہی عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان سے وابستہ ہے تو افغانستان کا استحکام پاکستان سے جڑاہوا ہے۔ افغان صدر دائیں بائیں کی سازشی تھیوریوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنی پہلے دن کی پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے تووہ پاکستان کو اپنے ساتھ ہم قدم پائیں گے۔ اسی لئے میاںنواز شریف نے کہاکہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ہمسایوںسے پرامن تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور سشما سوراج

rana-baqi

سشما سوراج اسلام آباد میں افغانستان کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے بعد نئی دہلی واپس پہنچیں تو ہر طرف ایک ہاہاکار مچی تھی ۔ بھارتی میڈیا تجزیہ نگاروں کی فوج ظفر موج کے علاوہ کانگریس پارٹی اور خود حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی عسکریت پسند تنظیموںبشمول راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے رہنما ﺅں نے اُنہیں آڑے ہاتھ لیتے ہوئے اُن پر سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی کہ اُن کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران بھارتی ترنگا پرچم کس بھول بھُلیّاں میں کھو گیا تھا۔ اُن کے نقاد تسلسل سے یہ الزام دھراتے رہے کہ وہ اسلام آباد میں بھارت کا وقار قائم رکھنے میں نہ صرف ناکام رہی ہیں بلکہ توہینِ پرچم کی مرتکب بھی ہوئی ہیں ۔ چنانچہ نئی دہلی واپسی پر اُنہوں نے پریس سے خطاب کرنے کے بجائے انٹر نیٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں بھارتی پرچم سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی دوطرفہ اجلاس نہیں تھاجس میں بھارتی پرچم کی موجودگی ضروی ہوتی ۔غالباً اِس ٹویٹ میں اُنہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان سے اُن کی میٹنگ محض ایک کرٹسی کال تھی۔ محترمہ سشما سوراج ٹویٹ لکھتے وقت شاید اِس اَمر کو بھول گئیں کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں جبکہ سرتاج عزیز محض اُن کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔اگر یہ دوطرفہ میٹنگ نہیں تھی تو پھر اُن کے دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ کیوں جاری کیا گیا ؟ یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے وزیر خارجہ کا عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے سرتاج عزیز جناب نواز شریف کی جنبش اُبرو کے بغیر کسی مشترکہ اعلامیہ کو جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیںچنانچہ سشما سوراج کی وزیراعظم سے ملاقات کا تذکرہ مشترکہ اعلامیہ کے شروع میں ہی کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ، یہ اَمر باعث اطمینان ہے کہ سشما سوراج کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام امور بشمول جموں و کشمیر، سیاچین ، وولر بیراج، سر کریک ، معاشی و تجارتی تعاون ، انسداد دہشت گردی وغیرہ پر خارجہ امور کے سیکریٹری لیول پر جامع دوطرفہ ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بشمول جموں و کشمیر جامع مذاکرات مکمل ہوتے رہے ہیں لیکن بھارت اپنے مفاد کے سوا کسی مسئلے بل خصوص کشمیر پر مذاکرات سے پہلو تہی کر لیتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی بھارت نے کشمیر کو اٹوٹ کہتے ہوئے محض اِس لئے سیکریٹری لیول مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینا اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے نئی دہلی میں کشمیری رہنماﺅں سے بات چیت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر پر بات چیت کا نئے سرے سے ڈول کر دراصل بھارت افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارت کےلئے واہگہ ، جلال آباد زمینی راستہ کھولنے کی سہولت کا متلاشی ہے اور اِسی مقصد کےلئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شمولیت کےلئے بھارت نے نریندر مودی ، نواز شریف پیرس ملاقات میں بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ سشما سوراج بڑی دھڑلے والی خاتون ہیں چنانچہ سوشل میڈیا میں اُن کی جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کی وڈیو کے چرچے اتنے پاپولر ہوئے کہ اُن کی محترمہ مریم نواز شریف اور خود جناب نواز شریف سے ملاقاتوں کی خبریں پس پشت چلی گئیں ۔ سشما سوراج جب جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کےلئے آئیں تو اُنہوں نے تمام سفارتی پروٹوکال کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر بڑی گرم جوشی سے جناب سرتاج عزیز کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چند سیکنڈوں تک تو پروٹوکال اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں کو مبہُوت کرکے رکھ دیا لیکن بات گولڈن جھپی تک نہ پہنچ سکی چنانچہ سشما سوراج نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وڈیو کیمرے آن ہیں وہ پیچھے ہٹ گئیں اور ہاتھ جوڑ کر ہندوانہ پروٹوکال کا انداز اختیار کر لیا جبکہ جناب سرتاج عزیر ہاتھ ہلاتے ہی رہ گئے کہ یہ کیا ہوا ہے ۔ البتہ امیتاب بچن اور زینت امان کی مشہور فلم لاوارث کے ایک خوبصورت گانے کی یاد ضرور تازہ ہوگئی یعنی “کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج کہاں آ کے ملے” ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں جناب سرتاج عزیز نے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستانی عدالتوں میںمقدمات کے جلد فیصلے کرنے کا تذکرہ تو کر دیا لیکن بھارت میں سمجھوتہ ایکپریس میں پاکستانی شہریوں کے قتل عام سے متعلق تذکرہ کرنا بھول گئے جس پر کچھ سیاسی حلقوں بشمول شیریں مزاری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ جمیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نریندر مودی سے نواز شریف کی ملاقات اور سشما سوراج کے دورہ پاکستان میں بھارت کےساتھ کیا طے پایا گیا ہے پر قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
اندریں حالات ،بھارت ایک جانب تو چین پاکستان تجارتی راہداری منصوبے کی مخالفت میں پیش پیش ہے تو دوسری جانب وہ اپنی تجارت کو زمینی روٹ کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن یہ توقع رکھنا کہ جموں و کشمیر پر بات چیت کے دوران بھارت اٹوٹ انگ سے ہٹ کر کوئی اور موقف اختیار کرے گا ناقابل فہم بات ہے۔ کشمیر کنٹرول لائین کے حوالے سے جولائی 1972 میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوافقار علی بھٹو کے درمیان ہونے والا دو طرفہ شملہ معاہدہ جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی بات کی گئی تھی پر سیکریٹری لیول بات چیت کے متعدد دور منعقد ہونے کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے رضامند نہیں ہوا تھا اور ایٹمی طاقت کے زور پر پاکستان کو دبامہ چاہتا تھا۔بھارت کی ہٹ دھرمی کا تذکرہ سابق وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین کے اختتا م پر مئی 1976 میں بیجنگ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں بھی بخوبی کہا گیا ہے۔ ” وزیراعظم پاکستان نے چینی وزیراعظم کو بتایا کہ شملہ معاہدے کے تحت تمام معاملات پر مطلوبہ پراسس مکمل کر لیا گیا ہے ۔ صرف جموں و کشمیر کا تنازعہ جسے پُر امن طریقے سے اقوام متحدہ کی حق خودارادیت کی قرارداد جسے پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا تھا کےمطابق دونوں ملکوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے تعلقات مکمل طور پر معمول پر لانے کےلئے حل کیا جانا رہ گیا ہے ۔ مشترکیہ اعلامیہ میں چینی وزیراعظم کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ چینی حکومت اور عوام پاکستان کی قومی آزادی ، علاقائی سلامتی ، اقتدارِ اعلیٰ اور جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے رہیں گے ۔
چنانچہ بھارت کی یہ عادت کبھی نہیں بدلے گی کہ وہ اپنی جدوجہد کے تسلسل سے اپنے مفاد کے حامل مسائل کو حل کرنے کےلئے تو پیش پیش رہتا ہے لیکن جموں و کشمیر کے عوام کو حق خوداردیت دینے گریزاں ہے ۔ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ یہ بات زور دیکر کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں کوئی بھی حکومت ہو وہ کشمیر کنٹرول لائین سے ہٹ کر کشمیر پر کبھی کوئی معاہدہ نہیں کریگی۔ ہمارے اداروں کو حالات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ ختم شد

پاکستانی میڈیا میں ’استعماری آقاوں‘ کے زر خرید؟

nasir-raza-kazmi

یقین کیجئے گاذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ کوئی بھی فرد ‘ چاہے وہ اِس اہم شعبہ میں نووارد ہو یا سینئر‘ یا پھر وہ اپنے شعبہ ¾ ِ صحافت کا ’ہیرو‘ ہو، یہاں لفظ ’ ہیرو ‘ ہم نے کیوں استعمال کیا؟ ہم یہ بھی لکھ سکتے تھے کہ ذرائع ِ ابلاغ کی وہ شخصیت ’سینئر ترین ممتاز قابل ِ احترام مقام پر فائز ہو ’ہیرو‘ یا تو فلموں کے ہوتے ہیں یا ٹی وی ڈراموں سے اُن کاتعلق ہوتا ہے، لیکن جب سے ملک میں آزادی ¾ ِ اظہار کے نام سے دی جانے والی الیکٹرونک صحافت کے ٹی وی ٹاک شوز کے جمعہ بازار وں میں طرح طرح ٹاک شوز کے” اینکر پرسنز “کی گردنوں میں آئے ہوئے ’سرئیے‘ ہم نے محسوس کیئے اور اُن کی اکڑی ہوئی گردنوں کی ’اٹھانیں ‘ دیکھیںاُن کے رنگا رنگ قیمتی لباسوں کی دل لبھانے والی تراش خراش میں اُنہیں اپنے اردگرد سے بے خبر اُن کی چال میں ایک تکبر ونخوت کا احساس نمایاں دیکھا تو معلوم ہوا کہ کیا یہ’ لوگ‘ یا ایسے’ لوگ‘ ہماری سماجی زندگیوں کے ہمارے رابطہ  ِ عامہ کے ماہرین کہلائے جانے کے مستحق ہوسکتے ہیں ؟ یعنی کیا یہ لوگ” دیانت دار“ صحافی کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟ تقسیم ِ ہند سے قبل اور تقسیم ِ ہند کے بعد کئی دہائی تک ذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ حقیقی ’قلمکاروں ‘ کو ہم نے ابھی 15-20 برس قبل ایسی ’لچ پچ زندگی ‘ بسر کرتے کبھی نہیں دیکھا، ٹھیک جناب! آپ صحیح کہتے ہیں کہ اب ’صحافت ‘ بڑی کمرشل از م ہوچکی ہے اور آجکل جس طرح کی صحافت ہورہی ہے تو اِن سے ایسے ہی ’لچ پچ نتائج‘ برآمد ہونگے پیسہ آجانا کوئی بُری بات نہیں صرف شرط یہ ہے کہ یہ پیسہ جائز طریقے سے کمایا جانے والا ہو،کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی چکاچوند پر کوئی نگرانی چوکی بٹھلانے کا جب کوئی باضابطہ نظام ہی وضع نہیں کیا گیا تو پاکستانی کے ازلی دشمنوں یعنی بھارت بشمول امریکا‘ مغرب اور اسرائیل نے ہمارے الیکٹرونک میڈیا میں سے چند ’ایک ایسوں‘ کو (سوائے روز ٹی وی نیوز کے) اُنہیں ہر قیمت پر گود لے لیا ظاہر ہے کیمرہ نے دکھانا ہے ‘ سیٹ سامنے لگا ہوا ہے، مائیکروفونز لگے ہوئے ہیں، کیمرہ کے سامنے، جب تک کوئی نہیں آئے گا تو یہ سب کچھ بیکار ہے اِن بے جان چیزوں کو خرید کر کوئی کیا تیر مارسکتا ہے ٹی ویژن اسکرینوں پر بحیثیت ِ میزبان یا اینکرپرسنزبننے والوں کو اگر کوئی خرید لے اُس کی ذہنی ’ڈی بریفنگ ‘ کردی جائے اور اُس کو باور کردایا جائے کہ’ اندرون ِ ملک اور بیرون ِ ملک اُس کے اکاونٹس میں ’مقررہ ‘ رقوم میں کبھی کمی نہیں آئے گی دنیا بھر میں وہ جہاں اور جس پُرتعش ملک میں جانا چائے گا وہاں اُس کی مرضی ومنشا کے مطابق اُس کی آوبھگت ہوگی جس کا معاوضہ صر ف اتنا ہے کہ وہ جہاں پر بھی اُٹھے بیٹھے ‘ جس محفل میں جائے محفل پر چھا جائے دنیا کے جس اہم ملک کے سفیر سے وہ جب چاہے مل سکتا ہے اصل میںذرائع ِ ابلاغ ایک ایسا ’حساس‘ مگر ہر کس و ناکس کے نزدیک اِس قدر قابل رسائی کا شعبہ ہے جسے ہر کوئی جب اُس کا دل چاہے اپنا ’شعبہ ‘ کہہ سکتا ہے، اگر آپ پروفیسر ہیں آپ کا دل چاہا کہ کوئی مضمون یا کالم لکھنا چاہیئے لیجئے آپ بھی صحافی بن گئے ‘ انجینئر‘ ڈاکٹرز ‘ اخبارات کے مسلسل قارئین‘اسکولوں کے استاد ‘ چند ایک دن کسی نامور اور مشہور صحافی کے ساتھ وقت گزارنے والے اگر اپنے آپ کو ’صحافی ‘ کہلوانا شروع کردیں تو اُنہیں کوئی کیسے چیلنج کرئے واقعی لکھنا پڑھنا ایک معتبر کام ہے، اگر یہ اہم و حساس کام ہم سبھی لوگ ’معتبرانہ دیانت داری ‘ کے ساتھ انکسارانہ او رعاجزانہ طرز ِ عمل اپنا کر کریں جیسا چند سطروں قبل تحریر کیا گیا کہ پاکستان کی مشرف حکومت نے نجانے اِتنی جلدی میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر الیکٹرونک میڈیا کو اِتنی بے لگام آزادی کیوں دیدی؟نتیجے میں پاکستان کو کیا ملا ؟ ہوش ربا دیو قامت ‘ بے تحاشا دولت و طاقت کے نشے میں بد مست چند ڈھیٹ الیکٹرونک میڈیا ہاو¿سنز؟اِسی پر بس نہیں، اُن میڈیا ہاو¿سنز کے چند ’اینکر پرسنز ‘ جو آج 10 برس ہونے کو آئے ابھی تک جنہیں اگر کسی سے کوئی پرخاش ہے تو وہ ہمارے قابل ِفخر عسکری ادارے اور خاص طور پر اُنہیں آئی ایس آئی کا وجود زہریلے کانٹوں کی طرح سے اُن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے گزشتہ دنوں پاکستان بھر میں غالباتین مراحل میں بلدیاتی انتخابات ہوئے 2008ءمیں عام انتخابات ہوئے2013ءمیں عام انتخابات ہوئے سابقہ آرمی چیف جنرل کیانی کے دورمیں ہی اُس وقت کی عسکری قیادت نے ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ’پاکستانی فوج کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ‘ اب جنرل راحیل شریف ہیں فوج اپنا آئینی کام کررہی ہے اور جمہوری ادارہ اپنا سیاسی کام کررہی ہے پاکستانی فوج اور سیاست کو ہمہ وقت ایک پیج پر لانے کی باتیں ہم اور اپنے الیکٹرونک میڈیا پر سنتے ہیں الیکٹرونیک میڈیا کو اپنا جو پیشہ ورانہ کام کرنا ہے اِس کے علاوہ وہ ہر کام کررہی ہے ملک کے ایک مشہور متنازعہ ایکٹر نما اینکر پرسنز اُن کا نام کیا لکھیں ہم نے اتناہی لکھا اور آپ کی زہانت کی داد کہ آپ اُن تک پہنچ گئے، آجکل یہ حضرت جس محفل میں بیٹھتے ہیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو متنازعہ بنانے کی نیت سے لفظوں کے ایسے پینترے بدل رہے ہیں، جیسے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ ’اِس بار بلدیاتی الیکش میں آئی ایس آئی جو کچھ کرنا چاہتی تھی وہ نہیں کرسکی، نتائج اپنی مرضی سے مرتب کرنے میں آئی ایس آئی کی ایک نہیں چلی؟ چونکہ بقول اُن ’حضرت‘ کے اِس بار ’پاپولر شخصیات کو پالولر ووٹ ملا ‘ بات ہماری بھی سمجھ میں بالکل نہیں آئی کہ اِن کے دماغ میں ہر وقت کیا چلتا رہتا ہے؟ ہمہ وقت تیکھی آنکھوں سے باتیں کرنا ‘ مبہم اشاروں کنایوں سے اپنے ’ جیسوں ‘ اپنے مطلب کی باتیں کرنا جہاں کوئی ایسا نامور اور قابل ِ احترام پاکستانی قوم پر ست صحافی کا اِن ’جیسوں ‘ کی میٹنگ پوائنٹ کے قریب سے گزر ہو تو بلا وجہ ’ قہقہہ ‘ لگادینا ہمیں ایک حوالے سے ایسوں پر ترس آتا ہے چونکہ سوسائٹی نے اِن کا بائیکاٹ کیا ہوتا ہے اور انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام یہ ہے اِنہیں اِس عبرت انگیز بائیکاٹ کا بالکل احساس تک نہیں ہوتا ملک کی آئی ایس آئی جیسی اہم سپریم ایجنسی کا کسی بھی عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ،جناب ِ والہ! یہ اکیسیویں صدی کے پاکستان کا سپریم قومی سیکورٹی ادارہ ہے دفاع ِ پاکستان پر اپنی نگائیں چوکسی سے جمائے پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہے ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر کے دشمن بھی اپنی سی بڑی کوشش کرچکے مگر ‘ ہربار ناکامی ‘ عبرت ناکامی بلکہ شرمناک ناکامی نے اُن کے ہر حربوں کو خاک نشین کیا یقینا ہمارے ملکی میڈیا کی صفوں میں (روز نیوز ٹی وی اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد) کے علاوہ کئی بڑے نامور اداروں میں پاکستان دشمن عناصر اہم پوسٹوں پر آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ بڑی تلخ اور کڑوی سچائی ہے ۔

شاہ صاحب! یہ قوم واقعی احمق ہے

khalid

خورشید شاہ صاحب ! یقین رکھیے ہم واقعی احمق ہیں۔ یہ پوری کی پوری قوم واقعی احمق ہے۔ یہ احمق قوم آپ کی باتوں کا مطلب قطعی نہیں سمجھ پائے گی۔ آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں کہ وفاقی حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ اس قوم کو آپ کی اس بات کا بھی کماحقہ یقین ہے یہ وفاقی حکومت ہی ہے جو رینجرز نے جو اچھے کام کیے ہیں ان پر بھی پانی پھیر رہی ہے۔ یہ جو رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے اور اس کے بعد ان میں توسیع نہیں ہو کر نہیں دے رہی، اس میں آپ کی پیپلز پارٹی کا تو کوئی قصور ہی نہیں، معاملہ سندھ اسمبلی میں گھسیٹنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے یہ بھی وفاق ہی کا کیا دھرا ہے، سندھ حکومت کا اس میں کیا دوش۔ رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے اورجو ڈاکٹر عاصم طوطے کی طرح بول رہا تھا اور ہر الزام قبول کر رہا تھا، یہی نہیں بلکہ عدالت کے سامنے بھی اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا اعتراف کر چکا تھا، اسے راتوں رات سندھ پولیس نے بے گناہ قرار دے ڈالا، یہ احمق قوم بالکل بھی نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، قوم جانتی ہے کہ یہ بھی وفاقی ہی کا کیا دھرا ہے، آپ کی پیپلز پارٹی کا بھلا اس میں کیا قصور۔ بالکل آپ نے بجا فرمایا کہ آپ تو چاہتے ہو کہ کرپشن کے خلاف آپریشن ہو مگر وفاقی حکومت نہیں ہونے دے رہی، رینجرز کو توسیع نہیں دے رہی، پولیس کی کالی بھیڑوں کے ذریعے ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ قرار دلوا چکی ہے۔ وہ تو شاہ صاحب آپ کے اور اس قوم کی خوش نصیبی کہ نیب آڑے آ گیا ورنہ ڈاکٹر عاصم صاحب تو اب تک بیرون ملک پدھار چکے ہوتے اور آصف زرداری کے پہلو نشیں ہو چکے ہوتے۔ ہاں یاد آیا یہ جو آصف علی زرداری ملک واپس نہیں آ رہے اور ان کی ”بیماری“ اس قدر طویل ہوتی جا رہی ہے اس کے پیچھے بھی وفاقی حکومت ہی کا ہاتھ ہے، یہ آپ کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ قوم پہلے ہی جانتی ہے۔ قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی کتنی معصوم ہے اور مسلم لیگ ن کتنی مکار اور چالاک۔ یہ احمق قوم جانتی ہے کہ وہ جو ایان علی پکڑی گئی تھی، لاکھوں ڈالرز کے ساتھ، وہ ڈالرز بھی وفاقی حکومت ہی کے تھے۔ اور شاہ جی آپ نے تو وفاقی حکومت کی سینہ زوری ملاحظہ فرمائی ہو گی کہ اپنی ہی پارٹی کے ایک وکیل کو اس کی وکالت پر نامزد کر دیا اور پھر انکار بھی کرتی رہی کہ ہمارا ایان علی سے کوئی تعلق نہیں۔کس طرح اس وفاقی حکومت نے راستے کے سب سے بڑے کانٹے”انسپکٹر اعجاز“ کو ہٹایا ، کس طرح اس کے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا اور آج ایان علی آزاد ہے۔ اس وفاقی حکومت کو کون نہیں جانتا شاہ جی، یہ ہے ہی ایسی ظالم کہ فرعون و شداد کی مثالیں اس کی فتنہ گریوں کے سامنے ماند پڑ رہی ہیں۔اس وفاقی حکومت کا کیا کیا ظلم گنواﺅں۔ آصف علی زرداری سے ہوتے ہوئے براستہ محترمہ فریال تالپورجو بات لیاری کے دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہے، اس کی بھی قوم کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔ محترمہ فریال تالپور پاکستان کے نامور بدمعاشوں بلکہ دہشت گردوں کو اپنا بیٹا قرار دیتی رہی ہیں یہ بات بھی ان کے منہ میں مسلم لیگ ن ہی نے ڈالی تھی۔ یہ جو پیپلز پارٹی ہی کے چشم و چراغ اور آصف علی زرداری کے سب سے قریبی دوست ذوالفقار مرزا”بونگیاں“ مار رہے ہیں یہ بھی ان سے مسلم لیگ ن ہی کروا رہی ہے۔ شاہ صاحب! آپ کو ایک اندر کی بات بتاﺅں؟ آپ کو یقینا علم نہ ہو گا کہ یہ جو مسلم لیگ ن ہے ناں، یہ پیپلزپارٹی اور اس کے رہنماﺅں پر کالا جادو کروا رہی ہے،اسی لیے ان یہ دھڑادھڑ پیپلز پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں اور پھر اپنی ہی پارٹی قیادت کے خلاف ایسی بونگیاں مارنے لگ جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ ناہید خان اور صفدر عباسی سے شروع ہوا تھا اور اب صمصام بخاری اور اشرف سوہنا تک آپہنچا ہے۔ آپ تو خود سید بادشاہ ہیں، اس کالے جادو کا کوئی توڑ ڈھونڈیں۔ ہاں یاد آیا، وہ آصف علی زرداری کے جو ”باواجی“ ہیں، وہی پیر اعجاز صاحب، ان سے ہی اس کا کوئی حل کروا دیکھیں، شاید بات بن جائے۔ قوم اس مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑی ہے، ڈٹ جائیے اس سازشی مسلم لیگ ن کے خلاف۔ یقین رکھیے یہ قوم احمق ہے، یہ بالکل بھی نہیں سمجھے گی کہ آپ آصف زرداری اور اپنے دیگر پارٹی رہنماﺅں کی کھربوں کی کرپشن، دہشت گردوں کی معاونت، چائنہ کٹنگ وغیرہ وغیرہ پر نہیں ڈٹے ہوں گے،یقین رکھیے، قوم یہی سمجھے گی کہ آپ مسلم لیگ ن کی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، یہ مسلم لیگ ن ہے ہی ایسی شرپسند۔

16دسمبر۔۔۔ننھے شہیدوں کو سلام

uzair-column

آرمی پبلک سکول کے سانحے کو آج ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے ۔گذشتہ سال کے 16دسمبر کویاد کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔مگر ان بہادر بچوں کو بھی خراج عقیدت اورخراج تحسین پیش کرنے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے دہشتگردوں کا کس طرح مقابلہ کیا ۔جب معصوم بچوں کو سفاک بھیڑیوں نے نشانہ بنایا معصوم فرشتوں کے لہو سے زمین کو سرخ کیا ۔ایک قیامت خیز منظر تھا کہ ماؤں نے اپنے لالوں کو تیار کرکے سکول بھیجا تھا ۔مگر جب وہ انہیں واپس ملے تو وہ صاف ستھری سکول کی یونیفارم خون میں رنگی ہوئی تھی ۔کتابیں بکھڑی پڑی تھیں یوں لگ رہا تھا کہ یہ معصوم کونپلیں جن کودہشتگردوں نے مسلنے اور کچلنے کی کوشش کی وہ سورہے ہیں ۔معصوموں کا خون پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ ماں پریشان نہ ہونا ۔ہم نے تو مادر وطن کیلئے اپنا لہو قربان کیا ہے ۔آج اس وطن کی جڑوں میں ہمارا لہو ہے ۔ہم وطن کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں تم خفا نہ ہونا ،تم نے تو ہمیں تیار کرکے بھیجا تھا ہاں آج ہم وطن پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوئے تھے ۔ماں رونا نہیں ،دہشتگردوں کو پیغام دیا کہ ہمارے سپوتوں نے وطن کی آن بلند رکھنے کیلئے قربانی دی ،آج ہی سے ان وطن دشمنوں کیلئے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ماں ہمارا لہو رنگ لائیگا۔ملک میں امن وامان قائم ہوگا ۔وطن ترقی کرے گا ،دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا جائیگا،ہمارا قیمتی لہو کسی صورت رائیگاں نہیں جائیگا ۔ماں تم بڑا دل رکھنا جب جب ہماری یاد آئے وطن میں قیام امن کیلئے دست دعا بلند کرنا ،تمہیں صبر آئیگا،تمہارا دل خوش ہوگا،آج جب وطن خوشی کا گہوارہ بن رہا ہے ان خوشیوں میں ہمارا لہو شامل ہے ۔دہشتگرد یہ نہ سمجھیں کہ وہ کامیاب ہوگئے ہیں ۔ان کے آخری دن آن پہنچے ہیں ماں بس تم صرف انتظار کرنا ۔آنکھوں میں آنسو نہ لنا ،کف افسوس نہ ملنا،ہم تمہارا نام بلند کریں گے ۔اپنے والد کی آن کی پگڑی کا شملہ بھی بلند رکھیں گے ،آج کی قربانی کل کے امن کی نوید دے رہی ہے ۔ماں دیکھنا اب دہشتگردوں پر زمین کس طرح تنگ کردی جائے گی ۔پھر کچھ اسی طرح ہوا آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کررکھ دی ۔شمالی،جنوبی وزیرستان جو شرپسندوں کے گڑھ تھے ۔پاک فوج نے بہادرانہ کارروائیاں کرتے ہوئے وطن دشمن عناصر کا خاتمہ کردیا۔متعدد کیفر کردار تک پہنچے ،گرفتارہوئے ،تحقیقات ہوئیں ،نامعلوم کتنے ماسٹر مائنڈ پکڑے گئے ،آج اے پی ایس کے سانحہ کوجوسال مکمل ہوا اس ایک سال پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج نے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملادئیے پھر پوری قوم دہشتگردی اوردہشتگردوں کیخلاف متحد ہوگئی ۔پاک فوج کیساتھ کندھا سے کندھا ملاکرکھڑی ہوگئی ۔فوج اور حکومت ھبی ایک پیر نظر آئے ۔دیکھا ماں ہمارے خون کی قربانی کانتیجہ ۔اس پاک سرزمین پر اب کوئی دہشتگرد نہیں بچے گا ۔ہمارے دوست،ہمارے ساتھی ،ہمارے کلاس فیلوز اسی طرح سکول جارہے ہیں ان کے حوصلے بلند ہیں ان کے عزائم میں کوئی متزلزل نہیں آیا ۔ماں میرے کلاس فیلوز کے تو ویسے بھی حوصلے بلند ہیں ۔مگر تم انہیں اورحوصلہ دینا کہ ہم نے ان کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی جانیں نچھاورکردی ہیں ماں تم خوش نصیب ماؤں میں سے ہو کہ تم نے ان شیر بہادروں کو جنم دیا ۔جنہوں نے وطن پر آنچ نہ آنے دی اوراپنے وطن کی مٹی کی حفاظت کیلئے جانیں قربانی کردیں ۔16دسمبر ہر سال آئیگا مگر ہر دن دہشتگردوں کیلئے ہمیشہ ایک پیغام لیکر آئے گا کہ اس وطن کے معصوم فرشتے بھی ہر لمحہ تیار ہیں ۔دہشتگردوں تم نے معصوموں کو شہید کردیا ۔مگر ان ننھے شہیدوں نے تمہارے مذموم عزائم خاک میں ملا دئیے ۔تخریب کارو تمہیں ہر جانب شرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا ۔اس دھرتی سے تمہیں ختم کردیا جائیگا ۔ہمارے نام تاقیامت تک زندہ رہیں گے ،ہماری مائیں فخر سے سراٹھا کر زندگی گزاریں گی ۔ہمارے معاشرے میں ہمارا ایک مقام ہوگا ۔مورخ ہماری قربانیاں سنہرے حروف میں لکھے گا ۔مگر تمہارے لیے دو لفظ بھلے کے بھی نہیں بولے گا ۔ماں تم حوصلہ رکھو ۔جب تک اس وطن میں تمہاری جیسی جی دار مائیں موجود ہیں ۔کوئی دشمن بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ماں تم نے ہی تو کہا تھا کہ اصل ماں ہمارا وطن ہے ۔تو ہم نے تو اپنی ماں کی حفاظت کرنا تھی ۔ماں کی حفاظت کیلئے جان کی قربانی دینا کوئی مہنگا سودا نہیں ۔ہمارا وطن قائم ودائم رہے ۔بس ہماری قربانی کی یہی منزل ہے ۔اے وطن تجھے سلام ۔۔پاک فوج تجھے سلام ۔۔۔ماں تیری عظمت کو سلام ۔۔۔!

Google Analytics Alternative