کالم

سانحہ کوئٹہ پر محمود اچکزئی کا بیان قابل مذمت

 قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر بحث کے دوران پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہر دہشتگرد حملے کے بعد ”را” کے ملوث ہونے کا شور نہیں مچانا چاہیے ”را” پر الزام عائد کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے یہ ایوان صرف دعاﺅں کیلئے رہ گیا ہے۔ میں آئندہ پارلیمنٹ میں فاتحہ خوانی نہیں کروں گا ۔دہشتگردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی لازمی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔ یہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے۔ ہماری ایجنسیاں گدلے پانی سے سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں تو دہشتگردوں کی تلاش میں کیوں ناکام رہیں ۔ محمود خان اچکزئی کی اس گفتگو پر شیخ رشید احمد نے انہیں ”را” کا ایجنٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت سے سب سے زیادہ مراعات لینے والا یہ شخص ”را” کا ایجنٹ ہے۔ وہ ان کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کی ایجنسیاں محدود وسائل میں بہترین کام کررہی ہیں۔ محمود اچکزئی نے خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کا کوئی جواز نہ تھا جبکہ قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے جس طرح بغیر سوچے سمجھے محمود خان اچکزئی کو ”را” کا ایجنٹ قرار دے دیا یہ انداز گفتگو بھی سراسر نامناسب تھا۔ ارکان اسمبلی کو اس طرح حکومتی اداروں یا ایک دوسرے پر سطحی الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کی گفتگو ہمارے نزدیک لاعلمی پر مبنی ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دانستہ حقائق سے چشم پوشی کی ہے۔ ملک میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ”را” کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے مذموم مشن کے بارے میں تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ تازہ ترین مثال کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جس نے سی پیک منصوبوں کو سبوتاژ کرنے اور بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے عزائم واضح کئے ہیں۔ یہی نہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سمیت متعدد حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ گزشتہ حکومت کے دور میں بھی اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت مداخلت کے سلسلے میں ڈوزئیر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو پیش کئے تھے اس لئے جب ”را” کی بات ہوتی ہے تو یونہی نہیں ہوتی، ٹھوس ثبوت کے ساتھ کی جاتی ہے۔کوئٹہ سانحہ کو ہرگز خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیت عالمی طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ محمود اچکزئی دہشتگردی کے ان درجنوں واقعات کا علم نہیں رکھتے جنہیں ایجنسیوں نے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنایا ۔ ان کا یہ الزام بہت سطحی اور دشمنوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں۔ موقع کی مناسبت سے یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں کیا ذمہ داریاں ہیں؟ کیا اچکزئی صاحب کی یہی ذمہ داری ہے کہ ان کی پارٹی افغان مہاجرین کے شناختی کارڈ بنوا کر انہیں اپنے ووٹروں میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی حیثیت سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کیا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ وزارتیں سنبھالنے اور مفادات حاصل کرنے والوں کو صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔اسی طرح اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیاسے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا ہے کہ ”را“ کا راستہ میں نے روکنا ہے، اچکزئی یا نواز شریف نے روکنا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ ہماری ایجنسیوں نے ہی ”را“ کا راستہ روکنا ہے۔ ہماری ایجنسیاں کیوں بار بار’ را‘پر رک جاتی ہیں؟۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماء محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ سانحہ کے معاملہ پر ایجنسیوں کی جانب انگلی اٹھائی تو سیاسی رہنماو ¿ں نے مذمت کردی۔ نعیم الحق، سراج الحق اور رضا ہارون نے کہا ہے اس وقت ایسا بیان قومی اتحاد کیلئے نقصان دہ ہے۔ جو بلوچستان میں دشمنوں کے ٹھیکیدار ہیں، وہی انتشار چاہتے ہیں۔ قوم دشمن کو پہچان چکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا یہ وقت پارلیمنٹ میں سیاست چمکانے کا نہیں، واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ، ہم نے دہشتگردی کو ختم کرنے کا جو عزم کیا ہے اس واقعہ سے اس کو غیر متزلزل نہیں کیا جاسکتا۔ ہم پہلے سے زیادہ عزم سے آگے بڑھیں گے اور ان کا قلع قمع کرینگے۔ گمراہ عناصر کبھی اسماعیلی برادری کو کبھی کوئٹہ میں ہزارہ برادری ’ کبھی پشاور میں چرچ تو کبھی آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ملک بھر میں ہر طبقہ فکر’ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقلیتی برادری کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیاں کی جارہی ہیں’ ایسے عناصر عوام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم نے ہر قیمت پر اس نظریئے کو شکست دینی ہے۔ ان کے پیچھے کارفرما ذہن انتہائی مکروہ ہے اور وہ پاکستان میں امن و امان بہتر ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ بلوچستان بہتر ہوتا اسے برداشت نہیں۔ ہم ان مکروہ عزائم کو خاک میں ملائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیر اعظم نے بالکل درست کہا کہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے پاکستان کی سرحدوں اور پاکستان کے اندر سخت اقدامات کرنے میں حق بجانب ہیں۔ ریاست کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے اندر زندگی کو محفوظ بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے دن رات محنت کرکے دہشتگردی کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دہشتگردی کے سینکڑوں منصوبے ناکام بنائے۔ دہشتگردوں کا براہ راست ہدف پاکستان کی اساس ہے۔ مسلح افواج سے عام شہریوں تک ہر پاکستانی ’ قوم کے ان دشمنوں کا ہدف تھا۔ ہمارے ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اب کا پاکستان کہیں زیادہ محفوظ اور توانا ہے۔ انٹیلی جنس حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے سے متعلق بھی اہم معلومات ملی ہیں۔ اسی لئے سول و عسکری قیادت نے دہشتگردوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کا دائر ہ ملک بھر تک وسیع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اور وہاں امن کی فضاء قائم ہے جو دہشت گرد بچ گئے ہیں وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمیں ان دہشت گردوں کو ان خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر ختم کرنا ہے ۔

افغانستان حقیقت سے آنکھیں نہ چرائے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر پر دونوں اطراف کی آمدورفت کےلئے تعمیر کردہ گیٹ کھول دیا گیا ہے۔گیٹ کو پاکستانی پرچم کے رنگوں سے رنگا گیا ہے، پاکستان کا افغانستان کےساتھ سرحد پر 7 مقامات پر گیٹ کی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چترال میں ارندو، بلوچستان میں چمن، قبائلی علاقے باجوڑ میں گروسل ، مہمند ایجنسی میں نوا پاس، کرم ایجنسی میں کلارچی، شمالی وزیر ستان میں غلام خان اور جنوبی وزیر ستان میں انگور اڈہ شامل ہیں۔یہ بات بھی واضح رہے کہ رواں سال 13 جون کو پاک افغان سرحدی علاقے طورخم پر گیٹ کی تعمیر کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے علی جواد چنگیزی بھی دیگر 2 سیکیورٹی اہلکاروں اور 10 افراد کے ہمراہ زخمی ہوئے تھے، بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کراسنگ پر باڑ لگانے کے تنازع کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں اضافی فوج اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کردی تھیں اور سرحد پار معمول کی نقل و حرکت معطل رہی۔دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈلائن یا سرحد پرایسی کشیدگی کوئی پہلا واقعہ نہیں۔قیام پاکستان کے بعد سے ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن ہی ہے جو 2430کلومیٹر لمبی ہے۔
آج افغانستان بھارت کی ایما پر گڑے مردے اکھاڑنے پر تلا ہوا ہے۔بھارتی لابی افغانستان میں بیٹھ کر ہر سازش بروئے کار لا رہی ہے جس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہو۔ڈیورنڈ لائن کے سو سالہ معاہدے کے خاتمے کا شوشہ بھی برطانیہ میں مقیم ایک بھارتی پروفیسر نے چھوڑا تھا۔ڈیورنڈ لائن کی تاریخی حقیقت سے آگاہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے میں کسی مدت کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔یہ تھیوری اسی پروفیسر ڈاکٹر سدھو نے گھڑی تھی۔ان کے علاوہ ایک افغانی ڈاکٹر جی اوف روشن نے یہی پروپیگنڈا کیا۔ناگاساکا یونیورسٹی کے ایک بھارتی پروفیسر دیپک باسو مزید دور کی کوڑی لائے کہ جس طرح ہانگ کانگ کو 99سال کی لیز پردیا گیا تھا اسی طرح فاٹا اور دیگر قبائلی علاقے انگریزوں کو لیز پر دیے گئے تھے جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ معاہدے میں لیز کا لفظ بھی کہیں استعمال ہی نہیں ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے آرٹیکل 2اور 3 میں لکھا ہے کہ افغانستان اس پار کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔اس حقیقت سے افغان حکام کا آنکھیں چرانا دن کو رات کہنا ہے۔کیا افغان حکام نہیں جانتے کہ جب تاج برطانیہ نے ہندوستان کی سونے کی چڑیاکو اپنے پنجرے میں بندکیاتواسے روس جیسی بڑی طاقت سے خطرہ تھا۔چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں وائسرائے ہند نے افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن سے خط و کتابت شروع کی اور برطانوی ہندوستان کے امور خارجہ کے نگران سرہنری ڈیورندکو کابل بھیجا تاکہ اس خطرے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔مختصر کوشش کے بعد نومبر1893ءمیں دونوں حکومتوںکے درمیان باقائدہ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتےجے میں سرحدی پٹی کا تعین کردیاگیا۔یہ سرحدی پٹی ”ڈیورنڈ لائین“ کہلائی اور اسی نام سے آج تک یاد کی جاتی ہے۔اس معاہدے کے تحت واخان،کافرستان کا کچھ حصہ، نورستان، اسمار، مہمندلعل پورہ اوروزیرستان کاکچھ علاقہ افغانستان کو سونپ دیاگیاجب کہ استانیہ، چمن، نوچغائی،وزیرستان، بلند خیل، کرم، باجوڑ، سوات،بنیر،دیر،چلاس اور چترال برطانوی ہندوستان کے حصے میں آگئے۔ مشترکہ برطانوی اور افغان سروے اور نقشہ سازی کی کوششوں کے نتیجے میں ابتدائی اور بنیادی حد بندی (ڈیمارکیشن ) میں 800 میل کا احاطہ کیا گیا تھا اور یہ کام 1894 ءسے 1896 ءمیں مکمل ہوا۔ امیر عبدالرحمان خان افغانستان کے وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنے ملک میں 1880 ءمیں پہلا پاسپورٹ جاری کیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں اپنے ملک کے مسافروں کی نقل و حرکت کے حوالے سے دستاویزات کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ 1893 ءمیں برطانیہ افغانستان کو ایک آزاد اور شاہی ریاست سمجھتا تھا، حالانکہ اس کے خارجہ امور اور سفارتی تعلقات کے امور برطانیہ کے پاس تھے۔ (حوالہ: سنتھیا سمِتھ کی کتاب : اے سلیکشن آف ہسٹوریکل میپس آف افغانستان۔دی ڈیورنڈ لائن)
تقسیم ہند کے ا علان کے ساتھ ہی شمال مغربی سرحدی صوبے کے مستقبل کا سوچا گیا اور فیصلہ ہوا کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے معلوم کی جائے چنانچہ 6جولائی کو برطانوی حکومت کے تحت ریفرنڈم ہوانتائج کے مطابق 99.2%را ئے دہندگان نے پاکستان میں شمولیت کے حق میں رائے دی اور 0.98% رائے دہندگان نے اس سے اختلاف کیا۔ صرف یہی نہیں قبائلی سرداران وعمائدین کے جرگے نے بھی اس ریفرنڈم کے فیصلے کی توثیق کر دی۔اس عوامی فیصلے کے بعد بات ختم ہوجاتی ہے،لیکن افغان حکمرانوں کو یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد جب اس تنازعہ نے سر اٹھایا توقائداعظم نے اپنے تدبر سے اسے حل کیا ،حتی کہ افغان حکام نے یو این او میں پاکستان کو تسلیم بھی کرلیا۔ بعدازاں بھی متعدد مواقع پر ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد کے طورپر تسلیم گیا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سرحدی معاہدے کو جھٹلا دیا جائے جس پر خود افغانستان کے حکمرانوں کے دستخط موجود ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کوآج سے تین چار برس امریکہ بھی تسلیم کرچکا ہے۔ مارک گراسمین نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا ڈیورنڈ لائن کوعالمی سرحد سمجھتا ہے۔اس انٹرویو کے چند روز بعد کابل حکومت نے امریکہ کے خصوصی نمائندے کے موقف کو مسترد کردیا لیکن واشنگٹن میں محکمہ خارجہ نے فوراً ہی گراسمین کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر اس کا اعادہ کیا تھا۔1947 سے ہی افغانستان میں ایسی حکومتیں آتی رہی ہیں جو داخلہ اور خارجہ پالیسی کے خدوخال پر مختلف سوچ کی حامل رہیں۔چوں کہ کابل کے کمیونسٹ حکمرانوں کو ا ±س وقت سوویت یونین کی پشت پناہی حاصل تھی لہذا ا ±ن کا پختونستان اور ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر ان کی سوچ کٹر ہی رہی۔ڈیورنڈ لائن ایک مسلمہ حقیقت ہے اور آئے روز سرحد پار حملوں کے الزامات میں لفظ سرحد استعمال کر کے خود افغان حکومت اسے ایک لحاظ سے تسلیم کرتی ہے۔ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب مسلح سیکورٹی اہلکاروں کی چوکیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کابل دراصل اسے سرحد تسلیم کرتا ہے۔
یہ بات افغانی حکومت کو سمجھنی چاہیے کہ سرکاری سطح پر ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی بڑھے گی اور ایک تنازعہ ختم ہوگا اور دونوں کو مشترکہ دشمن سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ہیلر ی اور ٹر مپ نبلہ دبلہ

امر یکی صد راتی الیکشن مہم جا ری ہے اور دنیا بھر میں امر یکی ا لیکشن میں دلچسپی لینے والے اپنے اپنے امیدوارو ں کےلئے زو ر لگا رہے ہیں۔ امر یکی پہلے کا لے صد ر اوباما ڈو نلڈ تا ریخی امیدوار ہیلر ی کلنٹن کےلئے بڑے زور شو ر سے ڈونلڈ ٹر مپ پر دو سر ے مخا لفین کی طر ح رکیک حملے کر رہے ہیں ! ارب پتی امید وار ٹر مپ کو ئی پا گل کہہ رہا تو کچھ اسے امر یکی سا لمیت کےلئے خطر ہ قرار دے رہے ہیں ۔ کو ئی اسے مسلما ن دشمن قرار دے رہے ہیں توکوئی اس پر کچھ الزام لگا رہا ہے ۔ ٹر مپ بیچا رے کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ بے سو چے سمجھے بیا ن دیتے ہیں ۔ خصو صاً وہ مسلما نو ں کے خلا ف ہر وقت بلا جو از الزاما ت لگا کر مسلما نو ں کےلئے تو انتہا ئی نا پسند ید ہ آ دمی کے طو ر پر مشہو ر ہو چکے ہیں ! عر اق میں امر یکی افواج کی طر ف سے لڑکر ہر نے والے پا کستا ن کپتا ن کے خلا ف زہر اگل کر اپنے سا تھی نا ےب صد ر کی بھی حما یت کھو بیٹھے ہیں ! ممکن ہے کہ مسلما نوں کے خلا ف زہر اگل کر وہ یہو دیو ں ، عیسا ئیوں ، ہند ﺅ و ں میں مقبول ہو جا ئیں اور اپنا بڑا مقصد حا صل کر کے کا میا ب بھی ہو سکتے ہیں ! دو سر ی طر ف ہیلر ی صا حبہ !امید وار ہیں ۔ جو پہلی خا تو ن امید وار ہیں ! حصو صاً خوا تین کی ہمدردی ان کی کا میا بی کی راہ ہموار کر سکتی ہے ! ٹر مپ کی مسلم دشمنی کی وجہ سے مسلما نو ں کو ہیلر ی کو مجبو راً سپو رٹ کر نا پڑے گا! ادھر پا کستا ن تحر یک کے سینئر رکن ،سا بق وزیر خا رجہ شا ہ محمو د قر یشی نے بھی ہیلر ی سے دو ستی کے نا طے امر یکہ جا کر مسلما ن ووٹر کو ہیلر ی کی حما یت کر نے کےلئے امر یکہ دورہ کا اعلا ن کر رکھا ہے ! یقینا ٹرمپ کو مختلف حوالوں سے مسلما ن بھی اچھا نہیں جا نتے ہو نگے ! پھر پا کستانی و مسلما ن کمیو نٹی کی حما یت ہیلر ی کےلئے دو دھا ری تلو ار بھی ثا بت ہو سکتی ہے ! کیو نکہ دو سرے مذاہب کے لو گ ہیلری کو مسلما نو ں کے سپو رٹ ہو نے کی وجہ سے تعصب کر تے ہو ئے رد بھی کر سکتے ہیں ! یہ بھی ممکن ہے کہ ہیلر ی کو مسلما نو ںکی حما یت ہونے کی وجہ سے کا میا بی بھی نصیب ہو سکتی ہے ۔ کیو نکہ ڈ و نلڈ ٹر مپ کے منہ پھٹ اور مسلما ن مخالف ہو نے کی وجہ سے تما م امر یکی ومسلما ن ا س سے نا خو ش ہیں ۔ دیکھتے ہیں پا کستانی وزیر خا رجہ یا وزیر اعظم ہیلر ی کی سپورٹ کر تے ہیں کہ ٹر مپ کو ! اسطر ح مسلم لیگی قیا دت نے امر یکی صدارتی مہم میں کوئی کردار نہ کیا تو امر یکی صد ر بننے والا اور ہا رنے والا دو نو ں لیگی قیا دت سے خو ش نہ ہو نگے ! اور امر یکی صدارتی امیدوار ہیلر ی کی جیت سے امر یکہ میں مقیم مسلما ن جیت کا جشن منا ئیں گے ! اور سا بق پا کستانی وزیر خا رجہ شاہ محمو د قر یشی ہیلر ی سے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے اخلا قی امداد بھی طلب کر نے کے حقدار ہو نگے ! کشمیر ی تحر یک آزادی کی حما یت نہ ہیلر ی کر یں گی اور نہ ہی ڈر نلڈ ٹر مپ ہیلر ی اور ٹر مپ نیلہ دیلہ ہیں کیو نکہ دو نو ں امر یکی جما عتوں رپبلیکن اور دیمو کر یٹک اسلا م اور پا کستا ن دشمن ہیں اور ہم مسلما ن و پا کستانی کہیں بھی متحد و متفق ہو کر کا م کر تے نظر نہیں آ تے کہ افغا نستا ن میں ہر گلی ڈرﺅ ن اور افواج روزانہ سیکڑو ں افغا نو ں کو قتل کر رہی ہیں، شا م میں امر یکی ، روسی اور ان کے اتحا دی روزانہ بے گنا ہ شہر یو ں ، بچو ں جو ا نو ں ، خوا تین کو مختلف ہتھیا رو ں سے نشا نہ بنا رہے ہیں ۔ صدام حسین کا عراق بڑا پر امن اور خو شحا ل تھا اب امر یکہ نے اپنے ایجنٹ صدام حسین کو پھا نسی دیکر اپنے عراق میں حکمران بنا کر عرا قیوں کا قتل عا م شر وع کر رکھا ہے ۔! یمن میں اقتدار کی رسہ کشی کےلئے جنگ بھی امر یکہ کی سر پر ستی میں چل رہی ہے! تر کی میں بغا وت بھی امر یکی سا زش کی بوآ تی ہے ۔ مصر میںاخوان المسلمین کی حکومت کو بھی امر یکی امداد سے فو جی جر نیل کے ذریعے ختم کیا گیا۔ غر ضیکہ دنیا میں جہاں بھی مسلم تکلیف میں ہیں ! امر یکی کردار شا مل ہے ! امر یکہ میں مقیم مسلما ن کمیو نٹی نے اتحا د کر کے ہیلر ی کی حما یت کر کے اُسے فتح سے ہمکنا ر کیا تو ہیلر ی پھر مسلما نو ں کےلئے کرم کو ششہ رکھتے ہو ئے مسلما نو ں سے ہمددری کا اظہارکر سکتی ہیں ۔ امت مسلمہ خود پا رہ پا رہ ہو چکی ہے! اس کا کو ئی اتحا د نہ ہے ! اسلئے ہر مسلمان ملک میں اسلا م دشمن کا روائیاں جا ری رکھیں گے! مسلما ن ہر ملک میں پر یشان وانتشا ر کا شکا ر رہیں گے ! فلسطین اور کشمیر کے مسا ئل دنیا کے دوسب سے پر انے آزادی ما نگنے والے مسا ئل ہیں ! ان کے حل اور دنیا ئے اسلا م میں امن سلا متی و خو شحا لی کےلئے مسلم امہ کی قیا دت کو ذولفقا ر علی بھٹو ، عد ی امین ، شا ہ فیصل اور کر نل معمر قذاقی کی طر ح متحد ہو نا پڑ ے گا ! ورنہ دنیا ئے اسلا م کے ہر ملک ! عراق ، افغا نستان ، مصر اور شام کی طر ح خا نہ جنگی کا سا منا کر نا پڑ ے گا ! سعو دی عر بییہ کو دنیا ئے اسلام کی قیا دت کےلئے نکلنا ہو گا !

صدر مملکت کا مرکزی جشن آزادی کی تقریب سے خطاب

صدر ممنون حسین نے جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے، دیدہ اورنادیدہ دشمنوں کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا، شہدا کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی عالمی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ اس تقریب میںوزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ایئر چیف اور نیول چیف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور ملک کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی ۔ صدر ممنون حسین نے پوری قوم کو آزادی کی مبارکباد دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے۔ یقین ہے کہ آخری کاری ضرب لگا کردہشت گردوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیں گے۔مسلح افواج اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے جان پر کھیل کر ملک کا دفاع کیا ہے۔ دشمن کی چال کو سمجھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے کام لیا جائے اوراختلافات کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے۔ہمیں یوم آزادی پر کشمیری بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق چاہتا ہے۔ کشمیری بھائیوں کی اخلاقی سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ ملک کی ترقی اور استحکام کا راز جمہوریت میں پوشیدہ ہے۔ اقتصادی استحکام اور بدامنی کے خاتمے کیلئے قومی ایجنڈے پر کام کرناہوگا۔ قومی زندگی میں ہر سطح پر قانون کی حکمرانی یقینی بنایا جائے۔ سانحہ کوئٹہ کے غمزدہ خاندان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں۔ سانحہ پر ہمارے دل دکھی ہیں۔ کوئٹہ کے شہدا کا خون ہم پر قرض ہے۔ شہدا کے خون کا پورا حساب لیا جائے گا۔ صدر مملکت نے بجا فرمایا مسائل کے ادراک کیلئے جدوجد آزادی جیسے جذبے کی ضرورت ہے اگر ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو جائے تو عدل و انصاف کا بول بالا بھی دکھائی دے گا ۔ قوم تو چاہتی ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو آج ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ان کا مقابلہ کرنے کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی ضرورت ہے اور سیاسی مکالمے سے ہی مسائل اور الجھے معاملات حل ہوا کرتے ہیں لیکن جب تک سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام نہ لیا جائے اس وقت تک سیاسی استحکام قائم نہیں ہوسکتا۔ صدر نے جشن آزادی پر جو خطاب کیا ہے وہ قومی امنگوں کا ترجمان ہے لیکن آج پاکستان کا 69 واں یوم آزادی ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ اس ملک کو جس نظریہ کے تناظر میں بنایا اس کی پاسداری کی جائے اس کو اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھالا جائے اور اسے اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے ۔ آج قائد اور علامہ اقبال اور شہداءتحریک پاکستان کی روحیں تڑپ تڑپ کا ہم سے یہ سوال کررہی ہیں ۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہم نے کیا کیا؟ آج پاکستان میں دہشت گردی ، بدامنی ، کرپشن ، مہنگائی اور بیروزگاری اور اقربا پروری کارجحان بڑھ رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے جہاں تک پاک فوج کی قربانیوں کا تعلق ہے قوم ان کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پائے گی ۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کا کردار بے مثال ہے جس کو عالمی سطح پر سرہا جارہا ہے ۔ اس ملک کو مسائل سے نکالنا ہے تو پھر سیاسی استحکام لانا ہوگا ورنہ ترقی و خوشحالی کی منزل ہم سے کوسوں دور رہے گی اور مکار دشمن کی سازشیں ہوتی رہیں گی ۔ یوم آزادی کے حقیقی مقاصد کا حصول ہی ملکی ترقی کا ذریعہ قرارپاسکتا ہے چنانچہ اس ضمن میں حکومت کو سنجیدہ غور وفکر کرنی ہوگی۔حکومت سیاسی حکمت عملی اورتدبرکامظاہرہ کرتے ہوئے الجھے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرے۔حقیقی خوشی اس وقت ہوگی جب پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بن کرابھرے گا۔
پیپلز پارٹی کا (ن )لیگ کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پازٹی قائدین کو( ن) لیگ کو ٹف ٹائم دینے کیلئے فری ہینڈ دے دیا ۔ کرپشن کے خلاف ملک بھر جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں کے حوالے سے آئندہ ماہ میں حتمی فیصلے کیلئے مشاورت کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ آئندہ چند روز میں اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقات کریں گے ۔ یہ ردعمل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کے بعد سامنے آرہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ شریف برادران جمہوریت نہیں کرپشن بچانا چاہتے ہیں ان کے تمام ٹوپی ڈرامے ناکام ہونگے ۔ ملک میں جتنی کرپشن آج ہورہی ہے وہ دنیا میں ایک ریکارڈ ہے ۔ پانامہ لیکس پر پارلیمانی ٹی او آرز کمیٹی اپنی موت مرچکی ہے ہمیں ن لیگ کے ٹی او آرز قبول نہیں کرپشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ایک ہوسکتی ہیں ہم بھی میدان میں آنے کیلئے تیار ہیں ۔ حکمرانوں کو اپنی لوٹ مار اور کرپشن کا حساب دینا ہوگا ان کو کسی صورت بھاگنے نہیںدیں گے ۔ پہلے ہی تحریک انصاف ، عوامی تحریک سڑکوں پر احتجاج کرتی دکھائی دیتی ہیں اور پیپلز پارٹی بھی اس احتجاجی تحریک کا حصہ بن جاتی ہے تو پھر سیاسی گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش ہونے کا امکان ہے اور سیاسی ابر آلود موسم جمہوریت کیلئے کسی بھی لحاظ سے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے جب گرم کرنے کی روش اپنائے گی تو اس کے نتائج خود حکومت کے مخالف ہی جائیں گے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی رفاقت ٹوٹتی ہے تو پھر سیاسی حالات گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے ۔ پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے مطالبے کو حکومت سنجیدہ لے اور خودکو احتساب کیلئے پیش کرنے میں ٹال مٹول سے کام نہ لے ورنہ پانامہ کا ہنگامی اس کو بے بس کردے گا اور سڑکوں پر کرپشن کرپشن کی صدائیں حکومت کی شہرت کو دھچکا لگانے کا باعث بن سکتی ہیںتاہم پیپلز پارٹی کا مصلحت پسندی سے نکلنا ہی اس کیلئے سود مند قرار پاسکتا ہے ورنہ اس کی ساکھ خراب ہوگی ۔ بلاول بھٹو نے پارٹی قائدین کو فری ہینڈ دے کر حکومت کو یہ باور کرایا ہے کہ وفاقی وزیر کے الزام ان کی برداشت سے باہر ہیں سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر الزام درالزام کا سلسلہ جموری کلچر پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے ۔ الزام کو ثابت اور پھر سزا کے عمل سے گزارنا ہی اصل کام ہے جس میں دیدہ دانستہ سرد مہری اور طوطا چشمی کی جارہی ہے ۔ حکومت کیلئے بہتر یہی راستہ ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے اور ان کے تحفظات دور کرے۔
بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز فائرنگ
یوم آزادی کے موقع پر کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیز فائرنگ پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔بھارتی افواج نے نیزہ پیر سیکٹر میں سویلین آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا ۔ پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں ۔ بھارتی مکاری اور دوعملی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف یہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتے چلا آرہا ہے تو دوسری طرف بھان متی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان سے مذاکرات کا ڈھونک رچائے دکھائی دیتا ہے اور پیشگی شرائط بھی مشروط کررہا ہے ۔ بھارت کا مخاصمانہ اور جارحانہ رویہ پاکستان کیلئے تشویش کن بنتا جارہا ہے بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کروا کر عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہا ہے اور مسئلہ کشمیر کو بھی جان بوجھ کر حل نہیں کررہا پاکستان اس مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے

محمود خان اچکزئی کا بیان عقل سے بعید ہے

کوئٹہ خود کش حملے میں کل 90 افراد شہید ہوئے جس میں 50 وکیل حضرات بھی شامل تھے ۔ اس واقعے میں 110 کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔حسب سابق اس بار بھی جنرل راحیل شریف سب سے پہلے مو قع پر پہنچ گئے ۔ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا کہ کوئٹہ دہشت گردی کے اس واقعے بھارت کی خفیہ ایجنسی “را “شامل اوراس قسم کے کاروائی کا مقصد عوام کے جذبوں کو پست کرنا اور” سی پیک “کے منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم نواز شریف کی بات ہے تو نواز شریف بھی مو قع پر پہنچ گئے تھے۔ مگر انہوں نے دبے الفا ظ بھی بھارت اور” را” پر تنقید نہیں کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی “را “نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور پاک چین اقتصادی کو ریڈور کو ناکام کرنے کے لئے فنڈ بھی مختص کیا ہوا ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی کی کو شش ہے کہ اس منصوبے کو ناکام بنا دیا جائے۔ ایک مشہو ر اخبا ر” ڈیلی میل” کا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اُنکا نام” رامیش ور ناتھ کاﺅ” تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام” کاﺅ” سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اور انکو ایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے” را “کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ “کاﺅ “منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، ان میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں۔”کاﺅ منصوبے “کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رامیش ور ناتھ کاﺅ نے اس منصوبے کو بنا یا ۔” اندرا گاندھی نے منظور کیا”،” مرار جی ڈیسائی نے اس کو اگنو ر کیا” ، “راجیو گا ندھی نے اسکو ریفیوز کیا” اور سونیا گاندھی نے اسکو شروع کرنے کا حکم دیا۔ ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی” را “اور امریکی “سی آئی اے” کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طر ح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلو چستان کو پاکستان سے جدا کرنے کے لئے منفی کا روائیاں شروع کیں اور ابھی بلو چستان، فا ٹا اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں جو کچھ تخریبی کا روا ئیاں ہو رہی ہیں اُس میں دوسرے عوامل کے علاوہ امریکہ کی” سی آئی اے”، بھارت کی “را “اور اسرائیل کی “مو ساد “، وطن عزیز کے کچھ شر پسند عنا صر اور قادیانی افسروں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ قادیانی بھی کسی صو ر ت بھارت کی “را”، امریکہ کی” سی آئی” اے اور اسرائیل کی” مو ساد” سے کم نہیں۔بلو چستان کی علیحدگی کے لئے کا ﺅ منصوبہ 2004-5 میں شروع ہو ا اور پو رے صوبے میں تخریبی کا روائیوں نے کا فی زور پکڑا ہے۔”دی میل “کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کا نگرس نے حال ہی میں بلو چستان کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بلو چستان، کراچی اور قبائلی علاقہ جات میں” بلیک واٹر” پاکستان کو غیر مستحکم کر نے لگی ہوئی ہیں۔ایک صحافی وائن میڈسن Wayne Madsenجنہوں نے فو کس ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، سی بی ایس،پی بی ایس، سی این این ، بی بی سی الجزیرہ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی چینلوں پر کام کیا ہے ،انکا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تہہ تک پہنچا ہوں کہ پاکستان اور بلو چستان میں بلیک وا ٹر دہشت گر دی کے حملوں میں ملو ث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیک واٹر پاکستان کے کراچی، پشاور،اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں تخریبی کا روائیوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اور یہ تمام تخریبی کا روائیاں امریکہ سی آئی اے کی ایما پر ہو رہی ہے ۔وائن میڈسن کا کہنا ہے کہ ما ضی قریب میں کوئٹہ میں جو 54 شیعہ لوگ مارے گئے تھے ان حملے کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دی گئی ہے ، جبکہ حقیقت میں یہ کا روائی بلیک واٹر نے سی آئی اے، اسرائیلی مو ساد اور بھارت کی را کی مدد سے کی ہے۔ اس جرنلسٹ کے مطابق را، مو ساد اور سی آئی اے بلو چستان لبریشن آرمی،بلوچ ری پبلیکن آرمی اور بلو چستان لبریشن فرنٹ کی مدد کر رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے جس طرح پاکستان نے1965 میں بھارت کی فوج کو عوام کی مدد شکست دی تھی اب انشاءللہ پاکستان عوام کے مصمم جذبے کی وجہ سے ہم را اور دوسرے ملک دشمن ایجنسیوں کے اس عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔ اگر پاکستان کے عوام اکٹھی ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھارت ، اسرائیل یا امریکہ سے ما ر کھائیں۔کیونکہ فوج اُس وقت منظم اور اچھے طریقے سے لڑ سکتی ہے جب مسلح افواج کو عوام کی تائید اور حمایت اور تا ئید حاصل ہو۔ میںما ضی کی فو جی قیادت کی بات نہیں کرتا مگر مسلح افواج کی موجودہ قیادت جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اب تک جتنے ایکشن کئے پاکستان کی 19کروڑ کی عوام کی تائید اور حمایت اسکو حا صل ہے۔ میں اس کالم کی تو سط سے سیاست دانوں کو بھی استد عا کرتا ہوں کہ وہ وطن عزیز میں امن وآمان کی خاطر مسلح افواج کا ساتھ دیں ۔ اور چیف آف دی آرمی سٹاف راحیل شریف سے بھی استد عا ہے کہ وہ بلا امتیاز جہاں بھی دہشت گردی کے آثار نظر آئیں ضرب عضب کی طرح اپریشن شروع کردیں ۔علاوہ ازیں نیشنل ایکشن پلان من و عن نا فذ کرنا چاہئے۔ جہاں تک محمود خان اچکزئی نے مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں پر کڑی تنقید کی تو محمود خان اچکزئی کو را کی ڈیفنس کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کیونکہ بلو چستان کے گو رنر اُنکے بھائی اور وزیر اعلی اُنکے شریک اتحادی ہے اور میرے خیال میں اچکزئی صا حب کا پورا خاندان کسی نہ کسی حکومت میںہے تو ہسپتال کی سیکورٹی اچکزئی صاحب کی ڈیوٹی بنتی تھی ۔ اگر وہ اچھے طریقے سے ہسپتال کو یا سیکیورٹی کا نظام بہتر بناتا تو ہو سکتا ہے کہ یہ بد قسمت واقع رونما نہ ہوتا۔

لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ !

گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے کشمیر میں جاری دہلی سرکار کی ریاستی دہشتگردی سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے ۔ اس پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا تھا اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مختلف ممالک کے مابین تنازعات کو پر امن ڈھنگ سے حل کرنے کے ضمن میں یہ تنظیم بنیادی کردار نبھائے تا کہ نسل انسانی کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے اور پوری دنیا سے جہالت اور افلاس جیسی برائیوں کا خاتمہ کر کے مجموعی عالمی ماحول کو مثالی بنایا جا سکے ۔ اس ضمن میں تمام غیر جانبدار حلقوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول کی جانب زیادہ موثر ڈھنگ سے توجہ دے تا کہ بنی نوع انسان کی اجتماعی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے ۔ دنیا بھر کے رہنماﺅں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشور حلقوں نے بھی اس عالمی ادارے کی کارکردگی کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ اس موقع کی مناسبت سے با ضمیر عالمی حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ستر سال میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو عام کرنے میں خاصا کلیدی رول ادا کیا ہے مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جن کے حوالے سے ان عظیم ادارے کی کارکردگی توقعات سے بہت کم تر رہی ہیں اور غالباً یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں اس عالمی تنظیم کی کارکر دگی خاصی گہنا کر رہ گئی ہے اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن عظیم مقاصد کے لئے اس کا قیام عمل میں آیا تھا یہ ادارہ ان کے حصول کی جانب خاطر خواہ ڈھنگ سے پیش رفت نہیں کر سکا ۔ اور اس سلسلے کی دو نمایاں ترین مثالیں تنازعہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ ہیں جسے ستر سال سے بھی زائد عرصہ عرصہ گزرنے کے باوجود حل نہیں کیا جا سکا اور ان خطوں میں بھارت اور اسرائیل آج بھی وہاں کے نہتے عوام کے خلاف بد ترین قسم کی ریاستی دہشتگردی کا گھناﺅنا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور کشمیر اور فلسطین میں بے بس عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ اپنی پوری شدت سے جاری ہے اور یہ واقعات نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ پوری عالمی برادری کے لئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ اسے اتفاق کہا جائے یا حالات کی ستم ظریفی کہ انہتر برس بیشتر جموں و کشمیر کے حریت پسند عوام نے بھارتی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی خاطر اپنی الگ حکومت قائم کی تھی مگر دوسری طرف ہندوستان نے مقبو ضہ ریاست کے دو تہائی سے زیادہ حصے پر اپنا نا جائز تسلط قائم کر رکھا ہے اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم کشمیریوں کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا گیا ۔ بے شمار کشمیری خواتین اور معصوم بچے آج بھی ہندوستانی فوج کی ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں ہر طرح کے غیر انسانی مظالم سہہ رہے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ ایسی صورتحال میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگست 1948 ءاور جنوری 1949 میں ایک سے زائد مرتبہ متفقہ طور پر یہ قرار دادیں منظور کر چکی ہیں کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کی بابت حتمی فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے اور اقوام عالم کی نگرانی میں کشمیر یوں کو رائے شماری کا آزادانہ اور منصفانہ موقع فراہم کیا جائے گا تا کہ وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کے خواہش مند ہیں یا پھر بھارت غلامی میں ہی رہنے کو تیار ہیں ۔اس سارے معاملے کا افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ حق خود ارادیت کا جو وعدہ پوری عالمی برادری نے کیا تھا خود بھارت بھی اس میں نہ صرف شریک تھا بلکہ وہ خود ہی اس تنازعے کو لے کر اقوام متحدہ گیا تھا ۔ ایسی واضح صورتحال کے باوجود کشمیری عوام کو دیئے گئے عہد کی پاسداری نہ کرنے سے یقیناً اس عالمی ادارے کا وقار خاصی حد تک مجروح ہوا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہندوستانی حکومت نے نہتے کشمیری عوام کے خلاف ظلم و زیادتی اور مختلف سازشی ہتھکنڈوں کا سلسلہ برابر جاری رکھا ہوا ہے حالانکہ کشمیری عوام کی بھارتی اکثریت اپنے قول و فعل سے بار بار اس حقیقت کو واضح کر چکی ہے کہ وہ نہ تو بھارتی آئین کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی خود کو بھارتی شہری سمجھتے ہیں ۔ کشمیری عوام نے اپنی اس عزم کا اعادہ گذشتہ ڈیڑھ مہینے میں مسلسل مزاحمت کے مظاہرے سے بھی کیا ہے ۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو اس پیش رفت سے بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ مقبوضہ ریاست کے عوام بھارتی قبضے کے کس قدر خلاف ہیں ۔ ایسے میں اگر یہ بین الاقوامی ادارہ اپنی ساکھ کو مزید مجروح نہیں کرنا چاہتا تو اسے فوری طور پر کشمیر کے تنازعے کو اپنی منظور کردہ قرار دادوں ے مطابق حل کرنے کی جانب عملی پیش رفت کرنی چاہیے وگرنہ غیر جانبدار ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اقوام متحدہ بھی لیگ آف نیشنز جیسے حشر سے دو چار ہو سکتی ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر اپنا محاسبہ کر کے مظلوم کشمیریوں اور فلسطین کے عوام کو بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی سے نجات دلانے کے سلسلہ میں اپنا انسانی اور اخلاقی فریضہ نبھائے گا ۔

آخر کار بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنی اوقات دکھا دی

گزشتہ روز بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی ہندووانہ سوچ ظاہر کر دی اور پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بلوچستان،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پاکستانی حکمرانی پر سوال اٹھائے ہیں۔میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر سن رہا تھا اور حیرانی کے ساتھ ساتھ دل میں ہنسی بھی آ رہی تھی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک کا وزیر اعظم کی تقریر ہے جو تعصب سے بھری ہوئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی بے بس انسان کی حیثیت سے نظر آ رہا تھا۔جس کے پاس اپنے ملک کے عوام کیلئے کوئی ایجنڈا نہیں ماسوائے اس کے کہ اس نے پاکستان کو برا بھلا کہ کر بھارتی کینہ پرور ہندووں کا ووٹ اپنی مٹھی میں رکھنا ہے۔بھارتی وزیر اعظم کی تقریر نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک چائے والے کا بیٹا ہے اور اس کی سوچ آج بھی ملکی قیادت کی نہیں بلکہ ایک چائے بیچنے والے کی ہے یہی وجہ تو تھی کہ گجرات میں اس ہندو کو مسلمانوں کے قتل عام کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا۔یہی چھوٹی سوچ ہی تو ہے جس کے باعث مودی دوسرے ممالک کے سربراہان سے زبردستی گلے ملتے ہیں اور پھر اس کوشش میں شرمندگی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔مودی کی چھوٹی اور گھٹیا ذہنیت ہی تو ہے جودوسرے سربراہان مملکت کے ساتھ تصاویر کھنچوا کر فخر محسوس کرتے ہیں،مودی کی یہ گھٹیا سوچ ہی تو ہے جس کے باعث بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم کا ذکر تک نہیں کیا جس میں گزشتہ ایک ماہ میں 85افراد کو شہید اور 5000سے زائد افراد کو زخمی کر دیا گیا ہے ۔گزشتہ 3عشروں سے بھارتی فوج معصوم کشمیریوں پر ڈائریکٹ فائرنگ کر رہی ہے لیکن اس بھارتی ظلم و بربریت کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ گھٹیا سوچ ہی تو ہے کہ بھارت میں ہندو مسلمانوں کو سرعام قتل اور غیر ملکیوں کو ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت انتہا پسند ہندﺅوںکیخلاف کچھ نہیں کر رہی۔یہ بھارتی وزیر اعظم کی گھٹیا سوچ ہی تو ہے جس کے باعث بھارت میں ہر ڈھائی منٹ کے بعد ایک لڑکی کی عصمت دری کی جارہی ہے (یہ اعدادو شمار رپورٹ کئے جانے والے اعدادوشمار ہے۔جن کیسز کو درج نہیں کرایا جاتا ان کی بھی بڑی تعداد ہے)۔بھارتی عوام کے لئے ایجنڈا نہ رکھنے والے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ گھٹیا سوچ ہی تو ہے جس کے باعث بھارت کی 10کروڑ کی آبادی کے پاس ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں۔یہ مودی کی گھٹیا سوچ ہی تو ہے کہ بھارت کی سوا ارب کی آبادی میں 90کروڑ افراد کی یومیہ آمدنی 20روپے ہے جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اور بھارت بجٹ کا بڑا حصہ جنگی سازوسامان کی خریداری اور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جمائے رکھنے پر خرچ کر رہا ہے۔بھارت میں آج کے دور جدید میں بھی عوام کے پاس چھت نہیں اور وہ کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔بھارت میں آج بھی کرپشن عروج پر ہے ۔بھارت آج بھی زات پات کی سوچ کے محور میں پھنسا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ دلت ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔بھارت میںاس سے بھی کہیں زیادہ مسائل ہیں مگر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس اپنے ملک و عوام کے لئے یوم آزادی کے موقع پر سوائے پاکستان کے خلاف بولنے کے کوئی ایجنڈا نہیں۔بھارت وہ واحد ملک ہے جس کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نہیں بنتی۔بھارت کے چین ،نیپال،پاکستان،سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی مسائل رہے اور تاحال ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور پھر دوسروں پر نظر ڈالے۔بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں پاکستان کا یوم آزادی بھرپور طریقے سے منایا گیا اور ریلیوں،عمارتوںاور گھروں پر نہ صرف پاکستانی پرچم لہرایا گیا بلکہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔گلگام،اسلام آباد،پلوامہ اور بانڈی پورہ سمیت دیگر اضلاع میںکشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کیا۔70سال سے قابض بھارت آج بھی کشمیریوں کے دل میں گھر نہ کر سکا جس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔اگر بھارت مقبوضہ کشمیر کو آزادی دے دے تو کشمیریوں کی نظر میں بھارت کیلئے تھوڑی بہت عزت بن سکتی ہے لیکن عزت لفظ سے بھار ت کا کیا تعلق۔کیونکہ بھارت میں تھوڑی بھی غیرت ہوتی تو نریندر مودی کو پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات سے روک دیا جاتاکیونکہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روزبھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا گیااور بھارتی پرچم کے بجائے سیاہ پرچم لہرائے گئے۔70سال سے قابض بھارت کو ڈوب مرنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی دہائیوں کے بعد بھی کشمیری بھارتی نہیں بن سکے۔بھارت پاکستان کی طرف دیکھے اور سمجھے کہ یہ پاکستان ہے جس کا یوم آزادی پاکستان کے چپے چپے میں بھرپور ملی جذبے کے تحت منایا گیا۔پاکستان بھارت کیلئے مثال ہے اور مثال بنتا رہے گا۔اور ہاں مجھے یقین ہے کہ بھارت پاکستان کو کبھی مثال نہیں مانے گا کیونکہ بھارت ہمیشہ دھوکہ دیکر جیتنے کی کوشش کرتا رہا ہے جس کی وجہ وہا ں پر بسنے والے ہندوہیں۔ہندوﺅنہ سوچ نے کبھی مسلمانوں کو قریب نہیں آنے دیا اور یہی سوچ ایک دن بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیگی۔

بلوچستان کا حل جناح ؒ فارمولے میں ہے

 مودی نے حوادث آئندہ کا انتساب لکھ دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہمارا فیصلہ کیا ہے۔
اگر ہم مسئلہ بلوچستان کو سمجھنا اور حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہو گا کہ وہ کیا حالات تھے جنہوں نے حضرت قائد اعظمؒ جیسے آدمی کو جو ،جو تین عشرے متحدہ ہندوستان کا پیش منظر ترتیب دینے کی سنجیدہ کوششیں کرتے رہے ، بالآخر تقسیم ہند کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔آپ سوچ رہے ہوں گے بلوچستان کے مسئلے کا تقسیم برصغیر سے کیا تعلق، لیکن مکرر عرض کرتا چلوں کہ مسئلہ بلوچستان کو درست طور پر سمجھنے اور حل کرنے کا اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔
1916میں معاہدہ لکھنﺅ سے لے کر 1946کے کیبینٹ مشن پلان تک،قائد اعظم ؒ متحدہ ہندوستان کے تصور سے متفق تھے۔۔وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان کی قوم آنے والے دنوں میں اجتماعی زندگی سے الگ کر کے ایک غلام نہ بنا لی جائے۔تین عشروں پہ پھیلی اس جدوجہد میں وہ اپنی قوم کے مفادات کے تحفظ کی گارنٹی طلب کرتے رہے۔لیکن جب انہیں آخری حد تک یقین ہو گیا کہ کانگریس کے متحدہ ہندوستان کے تصور میں مسلمانوں کے لئے عزت سے جینے کا کوئی امکان موجود نہیں تو پھر انہوں نے تقسیم ہند کا مطالبہ کیا۔۔۔۔یاد رہے کہ اقلیت مذہبی ہو یا معاشی، یا حتی کہ محض نفسیاتی،اس کے وہی مطالبات ہوتے ہیں جو قائد اعظم ؒ کے تھے اور جب ان مطالبات کے ساتھ کانگریس جیسا متعصبانہ سلوک کیا جائے تو پھر علیحدگی کی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
قائد اعظم ؒ اس وقت مسلمانوں کے لئے جومانگ رہے تھے متعصب ذہن کہہ سکتے ہیں کہ وہ مروجہ جمہوری اصولوں کے خلاف تھا۔لیکن روائتی جمہوریت کی روائتی وارداتوں کو دیکھ کر قائد اعظم ؒ روایت سے ہٹ کر مسلمانوں کے لئے کچھ طلب کر رہے تھے۔ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے متناسب نہیں ہوں گی بلکہ زیادہ ہوں گی۔اب جمہوریت کی روایات بھلے کہتی رہیں کہ یہ مطالبہ ان کے مطابق نہ تھا، اقلیت کے تحفظا ت کی روشنی میں یہ ایک برحق مطالبہ تھا۔قائد اعظم ؒ دیکھ رہے تھے کہ اگر متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے تناسب سے ہوئیںتو قانون سازی کے عمل سے مسلمان ہمیشہ کے لئے لا تعلق ہو جائیں گے۔( اسی طرح جیسے آج ہم نے بلوچستان کو آبادی کی بنیاد پرقومی اسمبلی میں محض 17نشستیں دے کر قانون سازی کے عمل سے لاتعلق کر دیا ہوا ہے)۔دوسرا مطالبہ تھا کہ مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی سے کم نہ ہو۔تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ مسلمانوںکو ملازمتوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ کوٹا دیا جائے کیونکہ قائدؒ دیکھ رہے تھے اگر ایسا نہ ہوا تو ملازمتوں میں مسلمان دیوار سے لگا دیے جائیں گے۔(ایسے ہی جیسے آج بلوچستان کو لگا دیا گیا ہے۔پوری فوج میں ایک جرنیل بھی بلوچستان سے نہیں اور پورے اسلام آباد میں ایک بھی فیڈرل سیکرٹری کا تعلق بلوچستان سے نہیں)
1916میں کانگریس نے یہ مطالبات قریب قریب مان لیے۔مگر 1928کی نہرو رپورٹ میں کانگریس جداگانہ انتخابات کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی مکر گئی کہ مسلمانوں کی نشستین ان کی آبادی سے زیادہ ہوں گی۔اس نے مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی کرنے کی بات کر دی۔قائد اعظم ؒ نے بھانپ لیا کہ ایک چوتھائی نشستوں کے ساتھ تو مسلمان قانون سازی کے معاملات میں بے بس ہو جائےں گے۔وہ نہ کوئی قانون بنوا سکیں گے اور نہ کوئی قانون بننے سے روک سکیں گے۔یعنی معاملات ریاست میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔( بالکل ایسے ہی جیسے آج بلوچستان کو قومی اسمبلی میں صرف 17نشستیں حاصل ہیں۔یہ صوبہ قومی اسمبلی میں اکٹھا بھی ہو جائے تو یہ نہ کوئی قانون بنا سکتا ہے نہ کسی قانون کو بننے سے روک سکتا ہے۔)چنانچہ مستقبل کے اس ہولناک منظر سے بچنے کے لئے علیحدگی کا نعرہ لگا اور متحدہ ہندوستان کی بجائے تقسیم ہند پر معاملہ ہوا۔یہی وہ پس منظر ہے جو جسونت سنگھ کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ کانگریسی رویوں نے مسلم لیگ کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ علحدگی کی بات کرے۔
اس پس منظر کے ساتھ اب آپ بلو چستان کی طرف آئیے۔بلوچستان اس ملک کا 46%رقبہ ہے اور باقی کے تین صوبے مل کر 54 فی صد۔لیکن ہم نے قائد اعظم کا نہیں بلکہ کانگریس کا اصول اپنایا ہے اور انہین ان کی آبادی کی بنیاد پر نشستیں دی ہیں چنانچہ342 کی قومی اسمبلی مین بلوچستان کے پاس صرف 17نشستیں ہیں۔وہ نہ کوئی قانون بنا سکتے ہیں نہ کوئی قانون بننے سے روک سکتے ہیں۔پنجاب کی زمین اپنا خزانہ باہر اگلتی ہے اور یہ خزانہ گندم ہو یا چاول اس کا ہوتا ہے جس کی زمین ہو۔بلوچستان کی زمین کا خزانہ اس کے پیٹ میں ہے چاہے گیس ہو یا تیل۔مگر یہ خزانہ بلوچ کا نہیں ہوتا۔اس پر مرکز نے اپنا حق جتلا رکھا ہے۔کوئٹہ یونیورسٹی میں بلوچ دوستوں نے جب یہ نکتہ اٹھایا کہ آصف محمود کی زمین کی فصل آصف محمود کی ہے مگر آصف بلوچ کی زمین کی گیس یا تیل آصف بلوچ کا نہیں ہے تو آنکھیں کھل گئیں۔عرض کیا آپ یہ قانون بدلوا لیں۔جواب آیا آپ لوگوں نے ہمیں17نشستیں دے کر اس قابل ہی کہاں چھوڑا کہ ہم آپ کے ظالمانہ قوانین بدل سکیں۔اس لمحے مجھے قائد اعظم بہت یاد آئے،میرے قائد کی کیا بصیرت تھی۔قائد اعظم کے اس پہلے اصول کی نفی ہم نے کی۔بلوچستان عملا ہم سے کٹ چکا ہے۔جس صوبے میںصرف 17نشستیں ہوں ، نواز شریف یا زرداری وہاں جا کر وقت کیوں ضائع کریں۔سیاسی جماعتوں نے بلوچستان جانا وقت ضائع کرنے کے مترادف جاناچنانچہ آج فیڈریشن میں بلوچستان سٹیک ہولڈر ہی نہیں رہا۔ہمارا میڈیا پورے بلوچستان سے زیادہ صرف ایک اکیلے شیخ رشید کو کوریج دیتا ہے۔
ملازمتوں میں یہ عالم ہے کہ سول سروس میں پورے بلوچستان کی نمائندگی پنجاب کے ایک ضلع سرگودھا سے بھی کم۔(یادرہے کہ قائد اعظم نے ملازمتوں میں کیا تناسب مانگا تھا)
تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بلوچوں کے وہی خدشات ہیں جو قائد اعظم ؒ کے کانگریس سے تھے۔اور ہم بلوچستان کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ بلوچوں کا ردعمل وہی ہوتا جا رہا ہے جو مسلم لیگ اور قائد اعظم ؒکا تھا۔ہم آج قائد اعظم ؒ کی فکر پر عمل کرتے ہوئے بلوچستان کو ان بنیادوں پر حقوق دے دیں جن بنیادوں پر بابائے قوم نے کانگریس سے بات کی تھی تو ہم حادثے سے بچ سکتے ہیں۔بلو چستان کو فکر قائد پر عمل کر کے بچایا جا سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative