کالم

پاکستان دشمنی کی بد طینتی میں مبتلا

برطانوی صحافی کارلوٹا گال نے پاکستان کے خلاف اپنے ازلی ذہنی تعصب کا اظہار کرتے ہوئے 6 فروری کو نیویارک ٹائمز میں اپنی ادھوری ‘ نامکمل معلومات پر مبنی ایک کالم جن بوگس‘ تصوراتی شرپسندی کے افسوس ناک مندرجات پر لکھا ہے کوئی بھی با شعور اور غیر جانبدار صاحب ِ قلم اُس کا یہ کالم کو پڑھنے کے بعد اپنی ہی پہلی نظر میں فوراً اندازہ لگا لے گا کہ یہ برطانوی صحافی مس گال جو اپنے آپ کو 9/11 سے لیکر آج کے افغانستان کے ماضی وحال اور مستقبل کی اپنے طور پر ثقہ بند یا جانکار دیدہ ور دانشور سمجھتی ہے اُس نے اپنے کالم میں پاکستان پر ایک ایسا بے تکا ‘ من گھڑت اور سراسر جھوٹا الزام عائد کیا جسے ہم پاکستانی کیا جھٹلائیں؟ ہمیں یقین ہے کہ اس کا کالم مغربی اور بعض امریکی حلقوں نے بھی ناپسندیدگی کی نظروں سے ہی دیکھا ہوگا ،مس گال نے اپنے کالم کی شہ سرخی میں دنیا کو یکدم اور بغیر کوئی دم لیئے گمراہ کرنے کی جو گھناونی اور شرمناک کوشش کی یعنی اُس کا یہ لکھنا کہ ”پاکستان :عالمی جنونی مذہبی جنگ کا حامی ہے‘ ‘ یہ دنیا کا سب بڑا سفید جھوٹ ہے، دنیا کے کسی بھی خطہ کا کوئی بھی صاحب ِ علم غیر جانبدار شخص جسے جنوبی ایشیا سمیت ایشیا میں تیزی سے فروغ پاتے امن وترقی کے اقدامات پر دلچسپی ہوگی وہ ضرور اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ 9/11 کے بعد سے جہاں افغانستان نے تباہی وبربادی دیکھی وہاں پاکستان کی معاشرتی وثقافتی اور تہذیبی انفراسٹر یکچر کی بھی بنیادیں ہل گئیںپورا ملک عالمی سازشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑتا چلا گیا پاکستان نے 9/11 کے بعد امریکی اور نیٹوافواج کے افغانستان میں اترنے کے بعد سے اب تک جس وحشیانہ دہشت گردی کا تن ِ تنہا مقابلہ کیا دنیا میں شائد ہی اِس کی کوئی ایک مثال کہیں دیکھنے کو ملے گی یہ بڑے افسوس اور ستم ظریفی کا مقام ہے کہ مس گال نے ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستانی عورتوں کی اجڑتی ہوئی گودوں کا لمحہ بھر بھی کوئی خیال نہیں کیا وہ خیال کرتی بھی تو کیوں ؟ ’کارلوٹا گال ‘ یہ وہ برطانوی خاتون صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے پیشہ کی حرمت وتقدس کا بھی ذرا احترام نہیں کیا اپنی ایک کتاب جس میں یہ فرماتی ہیں کہ’ 9/11 کے بعد سے اب تک امریکا بہادر افغانستان میں ایک ’غلط ‘ دشمن کے ساتھ نبرد آزما رہا ‘ اُن کا واضح اشارہ پاکستان کی طرف ہی تھا کہ امریکا کو اپنے دشمن پاکستان میں تلاش کرنے چاہیئے تھے، مطلب یہ کہ افغانستان میں اُس کا کوئی دشمن نہیں تھا مس گال کے سوچنے سمجھنے اور اُن کی تہہ تک پہنچنے کے متعصبانہ طرز ِ عمل ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا، مس گال پاکستان کو کسی اور کی نظر سے نہیں بلکہ بھارتی استبلیشمنٹ کی نظروں سے دیکھنے کی غالباً عادی معلوم ہوتی ہیںمس گال کی لکھی گئی کتاب سے اُن کے حالیہ مضمون تک ہمیںاُن کے اندرونی مذموم عزائم کو جاننے بغیر یہ کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہورہی ہے کہ وہ یہودیوں کے میڈیا کے سرکش گھوڑوں پر سوار افغانستان میں امریکا کی ہار ہوئی جنگ پر ’بدگمانیوں ‘ کی پلاسٹک سرجری کا کام کرنے کی ذمہ داری اُٹھا ئے لگتی ہیں 6 فروری کو نیویارک ٹائمز کے اپنے کالم میں’کارلوٹاگال‘ نے تیونس میں افغان صدر مسٹر غنی کے دئیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو کو اپنی تحریر کا بنیاد ی نکتہ بنایا جس انٹرویو میں مسٹر غنی نے تاش کے پتوں کی طرح اپنے ہی ادا کیئے ہوئے لفظوں کو اور اپنی پیشانیوں کے تیوروں کو بارہا تبدیل کیا ہمارے لیئے یہ باتیں یقینا اب ایک ماضی بن چکی ہیں ، دنیا کو اب تو سمجھ لینا چاہیئے چونکہ مسٹر غنی اور اُن کی کابینہ سمیت افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے فکرونظر کے رویوں میں تبدیلی آچکی ہے یقینا اِن نازک اور حساس لمحوں میں جبکہ دونوں طرف سے افغان طالبان کے مذاکرات غالباً اِسی ماہ کرانے پر کچھ مثبت کوششیں کی جارہی ہیں، ہم اپنے اِن سطور میں افغان قیادت کو ایک جانب رکھتے ہوئے خاص طور پر مغرب‘ امریکا اور بھارت پر اپنی توجہ مزکوررکھیں گے کہ وہ مغربی میڈیا میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اپنی ایسی مذموم مہم جوئیوں سے باز رہیں انسانیت نوازی ‘ امن پسندی کے نام پر جنوبی ایشیائی ممالک کے یقینی امن کی خاطر دشمنی پر مبنی مفروضات گھڑ کر ایسے مضامین اور تحریریں شائع کروانے سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیں، جن کی اشاعت کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو،کارلوٹا گال کا تازہ ترین مضمون اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے ‘پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی چاہے وہ کسی لبادے میں ہو اُس کی جڑ بیخ کو اکھاڑپھینکے کی جنگ میں مصروف ِ عمل ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ‘ جسے دنیا بھر میں تحسین وآفرین کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے، پاکستان تو خود افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے، تاکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مابین باہمی اعتماد کی فضاءہموار ہوسکے، پاکستان اور افغانستان دونوں پڑوسی ملک باہم یکسو ہوکر سرحدوں کے دونوں جوانب امن کی یقینی فکر اور ماحول کو پروان چڑھانے کی سعی و جدوجہد میں اپنا اپنا رول بخوبی ادا کریں دنیا کا کوئی ملک کوئی طاقت پاکستان کو ڈکٹیٹ کرئے نہ ہی افغانستان کو‘ یہ دو نوں قومیں آزاد و خود مختار اقوام کی مانند بین الااقوامی حیثیت کی حامل ہیں’ ’ امریکا نے افغانستان میںغلط دشمن کا انتخاب کیا‘ ‘ اُس موقع پر جبکہ امریکی اور نیٹو کے فوجی دستوں کی واضح اکثریت افغانستان سے اپنا بوریا بستر بغل میں دبائے نکل گئیں مس کارلوٹا گال کا یہ کہنا کیا معنیٰ؟ یعنی یہ سمجھیں کہ 2001ءسے2014ءتک امریکا اور نیٹو افواج ’سانپ ‘ کی لکیر ہی پٹتے رہے، جبکہ اصل دشمن کہیں اور تھا ؟دراصل اِس میں قصور مس گال کا بھی نہیں ‘جس سرزمین سے اُن کا خمیر اُٹھا ،سارا قصور اُس سامراجی واستبدادی ذہنیت کا ہے اُس سرزمین کا ہے ماضی میں جسے ہم ’فرنگی سامراج‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے افغانستان کے اِن سنگلاخ و سیسہ پلائے درّوں میں برطانیہ نے کم ذلت وخواری کی مٹی نہیں چاٹی دنیا کے کمزور مگر قدرتی دولت سے مالا مال خطوںمیں اپنا ’یونین جیک ‘ لہرانے کی آروز میں نجانے کہاں کہاں برطانیہ نے شکست و خواری کا سامنا نہیں کیا جیسا کہ افغانستان میں آج ہورہا ہے ،جن کا خمیر افغانستان سے اُٹھا نہ پاکستان کی سرزمین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں‘ اُنہیں کوئی حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِن دونوں پڑوسی مسلم ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کریں ،مغربی دنیا کو یقینا اِس خبر نے چونکا دیا ہوگا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے پر 4 ملکی گروپ کا اتفاق ہوچکا ہے اِیسے نازک اور حساس مو اقع پر طالبانزیشن کے فروغ کے نام پر کارلوٹا گال جیسی مسلم دشمنی کی طینت والی صحافیوں کے طنز کے تیروں سے چھلنی کردینے والے مضامین شائع کروانا یہ کسی کو زیب دیتا ہو یا زیب نہ دیتا ہو مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ سی آئی اے اور مغربی ایجنسیوں سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے پیٹوں میں پڑنے والے مروڑوں کا علاج کارلوٹا گال جیسے نسلی تعصب کے پیکروں میں ڈھلے قلمکاروں کی تحریروں سے ضرور ہوتا ہوگا ۔

تاریخ سے بے خبر ایک نجی ٹی وی کے اینکرز پرسن

جب سے ہمارے ملک میں نئے ٹی وی چینلز کھلنے شروع ہوئے ہیں ٹی وی اینکرز کی بھر مار ہو گئی ہے ۔ اس میں کچھ پرنٹ میڈیا سے منسک حضرات تھے جو ٹی وی اینکر بنے اور کئی نئے داخل ہونے والے حضرات ہیں۔ کچھ کے پاس پہلے سے عالمی حالات، ملکی معاملات اور تاریخ سے واقفیت اور تجربہ ہے اور کچھ ِادھر ُادھر سے کچھ نہ کچھ دھونڈ ڈھانڈ کے کام چلاتے رہتے ہیں۔ ہر ٹی وی چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے وہ اینکرز سے اپنی پالیسی کے مطابق کام کرواتے ہیں۔ دوسری طرف اپنے اپنے ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے ترقی یافتہ ممالک دنیا کے میڈیا کے لیے فنڈ مختص کرتے ہیں۔وہ اس فنڈ کو ترقی یافتہ ممالک خاص کر اسلامی ممالک کے میڈیا کو فنڈنگ کرتے رہتے ہیں۔امریکہ نے ۹۱۱ کے بعد اسلام کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑتے ہوئے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔اپنے اور اپنے زر خرید میڈیا کے زور پر پوری دنیا میں اسلام کو دہشت گرد قرار دے دیا گیاہے۔اسلامی ملکوں میں مذہب بیزار، روش خیال اور لبرل صحافیوں کو آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق اس پالیسی کے تحت امریکہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل قائم کرنے والے مالکان اور اور میڈیا میں کام کرنے والے ،خصوصاً اینکر پرسن کو بھی فنڈنگ کی جاتی ہے تاکہ ان سے اپنے ایجنڈے کے مطابق کام لیا جاسکے۔آج کل ایک نجی ٹی وی چینل جو پہلے بھی ملک کی محب وطن مایا ناز خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر اپنے ایک اینکر پر قاتلانہ حملے کا الزام ثابت کرنے کے لیے آئی ایس آئی کے سربراہ کو آٹھ گھنٹے تک بغیر ثبوت کے قاتل ظاہر کرتی رہی۔ بھارت سے مل کر پاکستان کے خلاف امن کی آشا پروگرام نشر کرتی رہی۔ ایک کوئس پروگرام”قرارداد پاکستان کے حوالے کیا پاکستان لبرل ہونا چاہےے یااسلامی“ میں عوام کی رائے کو الٹا بتا کر خیانت کر چکی ہے۔ اپنے ہی کروائے گئے سروے کے نتائج کو غلط جھوٹی شرانگیز سرخی لگا کر پیش کرنا نہ تو صحافتی انصاف ہے بلکہ بہت ہی بڑا مغالطہ بھی ہے۔حوالہ طارق جان کی لکھی ہوئی کتاب” سیکولزم مباحثے مغالطے“۔ وہی نجی ٹی وی آج کل ایک پروگرام”رپورٹ کارڈ“ کے نام سے شوکررہا ہے ۔جس میں ٹی اینکرز کے سامنے پاکستان کا ایک مسئلہ رکھا جاتا ہے اور اینکرز سے اس مسئلہ پر رائے لیکر نمبرز کے ذریعے اس مسئلے پر کوئی نہ کوئی رائے ناظرین کے سامنے رکھی جاتی ہے۔پچھلے پروگرام میں ایک مختلف رنگ بدلنے والے اینکر جو پہلے بھی شہید کون کے معاملے پر ایک بڑی دینی جماعت کے امیر کو بدنام کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔اس پروگرام میں دہشت گردی کے مسئلہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں اگر پاکستان کی دینی جماعتیں خصوصاً، منصورا،مریدکے لوگ جہاد کے فلسفے کو عام نہ کرتے تو موجودہ مذہبی دہشت گردی نہ ہوتی۔اس سوچ کو دوسرے لبرل، مذہب بیزار اورروشن خیال اینکر جس نے اسی نجی ٹی میں ایک فاحشہ عورت جو اپنے برہنہ جسم پر آئی ایس آئی لکھوانے والی ہے کا انٹرویو کیا تھا ،نے ا س سوچ کی تائید کی۔یہ دونوں اینکر ز حضرات یا تو تاریخ سے نابلد ہیں یا پھر کسی خاص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔روس ایک بڑتی ہوئی قوت تھی جدید روس کے بانی پیٹر اعظم (ایڈورڈ) نے اپنی قوم کو وصیت کی تھی کہ جو قوم خلیج پر تسلط قائم کر لے گی وہ ہی دنیا کی سپر پاور ہو گی حوالہ ” کتاب ترکستان مےں مسلم مذاحمت“ زےر احتمام انسٹی ٹےوٹ آف پالےسی اسٹڈےز اسلام آباد مصنف آباد شاہ اور” ہفت روزہ زندگی“لاہور18تا22 جنوری1980ءمقالہ برگےڈئےر گلزار احمد300 سال پرانا روسی منصوبہ ص18 وصےت نمبر9“۔ اس ڈاکڑائن پر عمل کرتے ہوئے زار روس اور کیمونسٹ روس نے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستیں ترکی سے چین تک تقریباً تین سوسال میں ترکوںسے لڑ کر حاصل کی تھی اور آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کی سرحد کے قریب دریائے آمو تک پہنچ گیا تھا۔افغانستان میں اپنے پٹھوظاہر شاہ، داﺅداور دوسرے حکمرانوں کے ذریعہ قبضے کی پلاننگ کے تحت ببرک کارمل کو روسی ٹینکوں پر بیٹھا کر روس میں داخل کر دیا۔سرحدی گاندھی کے پیرواور عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکر ٹیری اجمل خٹک نے اسی ضم میں مبتلا ہو کر پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ہم روسی ٹینکوں پر چڑھ کر پاکستان میں داخل ہو نگے۔ اسی دوران روس کی افغانستان میں مداخلت کی بُوسونگ کر کچھ افغانی پاکستان کے حکمران بھٹو کے پاس آئے تھے اور سارا قصہ بیان کیا تھا۔ بھٹو ایک ذہین اور تاریخ سے واقف شخص تھا وہ روس کے عزائم سے بھی باخبر تھا۔ بھٹو نے افغانیوںکی مدد پاکستانی اسلحے کے بجائے درے کا اسلحہ خرید کر کی تھی۔ افغانیوں نے روس کے خلاف اپنے ملک کو بچانے کے لیے مذاحمت شروع کی۔ اس دوران افغانستان کے حکمران داﺅد نے بھی پاکستان کا دورا کیا تھا۔اس پر ناراض ہو کر روس نے اسے قتل کرادیا تھااور افغانستان میں اپنے فوجیں داخل کر دیں تھیں۔ سرحدی گاندھی کے سرخ پوش پیروں کاروں، کیمونسٹ،لبرل بھارت اور روس کے ایجنٹوں نے پاکستان کے لوگوں کو روس سے ڈرایا تھا کہ وہ وہ جہاں داخل ہوتا ہے وہاں سے واپس نہیںجاتا اور میں سرخ ٹینکوںپر بیٹھ پاکستان میں بھی داخل ہو نگا جبکہ ایک اخباری خبر کے مطابق وہ گدھے پر سوار اور چھپ کر افغانستان سے پاکستان آیا تھا ۔ سیکرلر عناصر نے سرخ پوشوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو روس کا غلام بنانے میں پوری کوشش کی تھی ۔ بھٹو کے بعد پاکستان میں ڈکٹیٹر ضیاءپاکستان کے حکمران بن بیٹھے۔ ضیاءنے افغانستان کے متعلق بھٹو کی پالیسی پر ہی عمل کیااور افغانستان کی بھر پور مدد کی۔علماءنے اسی اسلامی جہاد کہا ۔ منصورہ اور مریدکے اور پاکستان تمام مسلمان اور مسلم دنیا کے عوام شریک ہوئے تھے۔ تین سال تک افغان مجاہد روس کی اسی درے کے اسلحے سے مزاحمت کرتے رہے۔مسلمانوںنے اسلامی جہاد کے تحت افغانستان کے مسلمانوں کی مدد کی تھی۔مخالفت میں اسی نجی ٹی وی کے یہ اینکرز اور ان کے ہم خیال، مذہب بیزار، لبرل،روشن خیال،روس نواز اور بھارت نواز سرخ پوش لوگ شامل تھے اور کہتے تھے یہ جہاد نہیں فساد ہے۔ یہ روس اور بھارت سے اس کام کے پیسے وصول کرتے تھے۔ گھر کے بیدی نیشنل عوامی پارٹی کے ایک منحرف کارکن کی کتاب”فریب ناتمام“جو کہ ایک سرخ پوش جمعہ خان صوفی نے لکھی ہے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پھر تین سال بعد امریکا اپنے مقاصد کے لیے افغان جہاد میں شریک ہو گیا۔ امریکا کے جدید اسلحہ خاص کر اسٹنگر میزائل نے کام کر دکھایا اور دنیا کی سب سے بڑی مشین روس کو افغانستان کے مجاہدین نے شکست سے دوچار کیا ۔ اس سے روس کے گرم پانیوں براستہ پاکستان آنے کے خواب چکنا چور کیا اور پاکستان کو ممکنہ روسی غلامی سے بچا لیا گیا۔ روس کوواپس دریائے آموں تک دکھیل دیا گیا۔وسط ایشیاکی ترک مسلمانوںسے چھینی گئیںچھ اسلامی رےاستیںقازقستان،کرغےزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائےجان،اور تاجکستان کی شکل مےں آزاد ہوئےں۔ مشرقی یورپ بھی روس کی گرفت سے آزادہوا۔ دیوار برلن گرا دی گئی۔بھٹو کی ترتیب دی ہوئی پالیسی اور ڈکٹیٹرضیاءاور ہماری فوج کے اسلام سے محبت رکھنے والے جرنیلوں اور آئی ایس آئی کی کامیاب پالیسی ، منصورہ ، مریدکے اور عام مسلمانوں کی مدد کی وجہ سے پاکستان بچ گیا۔ کیا ان لبرل اینکرز کے مطابق اس پالیسی پرپاکستانی قوم کو شرمندگی ہونی چاہےے یا ایک مسلمان کی سوچ کے مطابق فخر کرنا چاہےے؟ تھالی کے بیگن ،لبرل، روشن خیال اور کیمونسٹ جو روس اور بھارت کی بولیاں بولتے تھے روس کے زوال کے بعد امریکا کی گود میں ڈالر کے لیے جا کربیٹھ گئے ہیں۔ اس کا ثبوت بیگم نسیم ولی خان نے اپنے پریس کانفرنسوں میں بیا ن کیا ہے۔ اب یہ نجی ٹی وی کے اینکرز پرسن پھر سرخ پوشوں کی ہاں میں ہاں ملا کر پہلے جیسی ہی مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ بھارت اور امریکا کی بولیاں بولنا شروع کر دی ہیں۔اب بھی فاقہ مست افغانوں نے امریکا کو شکست دے دی ہے جیسے روس کو دی تھی۔امریکا افغان جنگ کو پاکستان میں لے آیا ہے۔اب بھارت اور امریکا سرخپوشوںکے حامی طالبان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کے سرحدی علاقوں سے استعمال کر رہا ہے۔ سیکولر عناصر اور نجی ٹی وی کے اینکرز اپنے تبصروں کے ذریعے سرحدی گاندھی کے ان سرخ پوشو ں کی مدد کر رہے ہیں جو پاکستان کے خلاف پہلے کی طرح اب بھی سازشوں میں مصروف ہے۔ افغانستان کے طالبان اپنے ملک کو امریکا سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کر رہے ہیں جو ان کا حق ہے۔جیسے امریکا نے داعش کو بنایا ہے اسی طرح پاکستانی طالبان کو بھی امریکا نے بنایا تھا۔ا س کا اعلان امریکا کے سابق وزیر دفاع اپنی سینیٹ کی تقریر کے دوران وضاحت کر چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں ضرب عضب کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام تاریخ سے نابلد نجی ٹی وی اینکر پرسن کی عوام کی سوچ کو بدلنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے5مطالبات اور سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

آج مُلک میں غیرفرینڈلی رول اداکرنے والی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر عمران خان نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے سمیت 5مزیدمطالبات کی عدم منظوری کی صور ت میں ایک بار پھر تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کا عندیہ دے دیاہے اَب اِس صورتِ حال میں ایسا لگتاہے کہ جیسے عمران خان المعروف مسٹرسونامی نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ اِنہوں نے اب کی بار نواز حکومت کا پانسہ نہ پلٹ دیاتو عمران خان المعروف مسٹرسونامی اِن کا نام نہیں ہے۔
اگر چہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کو حتمی شکل دینے کے لئے مُلک کے چاروں صوبوں سے رپورٹیں جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنا ن کو ہدایات بھی جاری کرنی شروع کردی ہیں کہ وہ نوازشریف حکومت کے خلاف آنے والے دِنوں میں چلائی جانے والی تحریک کے لئے اپنی تیار یوں کو مکمل رکھیں اور جیسے ہی کہاجائے کہ نوازحکومت کے خلاف تحریک اور ایجی ٹیشن شروع ہوگیاہے تو اِس پر فوراََ عمل کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل جاو¿ پھر یہ کوئی نہ دیکھے کہ اِس راہ میں کیا کچھ کرناپڑے گا؟، بس کمر بستہ ہوکر حکومت مخالف تحریک کا حصہ بن جاو¿پھردیکھوکیاہوتاہے؟۔
اِس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے اپنے سب سے بڑے مخالف نوازشریف کی حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ پھر بھرپورطاقت سے ایجی ٹیشن کا فیصلہ کیا ہے اور ایسا لگتاہے کہ اگر اِس مرتبہ عمران خان اور اِن کے ساتھی حقیقی معنوں میں ثابت قدم رہے تو عین ممکن ہے کہ یہ نوازشریف کی حکومت کو ہلاکر ہٹانے اور گرانے میں کامیاب ہوجائیں گے ورنہ واپسی کا راستہ تو بندنہیں ہے۔
بہرحال، اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے بانی و چیئرمین عمران خان اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف نوازشریف اور اِن کی حکومت کے خلاف انتہائی دانشمندی اور لومڑی جیسی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ ایجی ٹیشن کرنے اور تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں،پچھلی مرتبہ تو عمران خان کا نوازشریف حکومت کے خلاف 120کا دیاگیادھرنابہت ساری اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بناپر نوازشریف کی حکومت کو ہٹانے میں ناکام ثابت ہواتھامگر اِس بار قوی اُمیدکی جاسکتی ہے کہ عمران خا ن ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے ضرورسبق سیکھیں گے اور اپنے آج کو کل سے بہتر بناتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کی جیسی تحریک چلائیں گے وہ پہلے ہی دن سے حکومت کے وجود پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔
جیسا کہ اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان( المعروف مسٹرسونامی) نے خالصتاَ عوامی مسائل جن میں بالخصوص حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںمزیدکمی، گیس پرٹیکسز کا خاتمہ، ماضی و حال کے پی آئی اے واسٹیل ملز جیسے دیگر قومی منافع بخش اداروں کی نجکاری نہ کرنے، سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پاکستان کا(زرداری اور نوازشریف کے ہاتھوں) لوٹا ہواپیسہ بیرون مُلک سے واپس لانے کے لئے پانچ مطالبات پیش کردیئے ہیں اور اِنہیں پاکستانی قوم سمیت دنیا کے سامنے عیاں کرتے ہوئے حکومت کو واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے اور حکومت نے کسی قسم کی ہیچر مچر کا مظاہرہ کیا اور کسی قسم کی عدم منظوری اور بیزاری کا اظہار کیا تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پھر فیصلہ وہیں ہوگا “۔
اگرچہ اِس مرتبہ عمران خان کی زبان اور لہجے میں سختی کا تو بہت احساس ہوامگر پھر بھی کچھ نہیں کہاجاسکتاہے کہ نہ جانے کب عمران خان اپنے اِس کہے سے پلٹاکھاجائیں اور اِدھر اُدھر کی چھوڑنے لگیں مگر پھر بھی قوم خاطر جمع ضرور رکھے کہ اِس مرتبہ عمران خان اپنی ذات میں تھوڑابہت تو سنجیدہ ضرورہوں گے اور اَب جس ایجنڈے کو لے کر یہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن اور تحریک لے کر نکلیں گے اِس میں ثابت قدم رہ کر کامیاب ہوجائیں ورنہ پھر کچھ عرصہ سیاسی کھیل تماشہ رچا کر حسبِ عادت بنی گالہ واپس لوٹ جائیں گے۔
بہرکیف ،آئیں دیکھتے ہیں کہ گزشتہ دِنوں تحریک انصاف کے چیئرمین مسٹرعمران خان المعروف مسٹرسونامی نے ڈیرہ مرادجمالی میں جلسے میں خطاب کے دوران اورکیاکیاکہا؟اِس موقع پر عمران خان کا یہ بھی کہناتھاکہ وزیراعظم چلتے چلتے دستی بم کو ٹھوکرمارتے ہیں نوازشریف کے لئے 2018ئبہت دور ہے تب تک وزیراعظم کا چلنا مشکل ہے، سی پیک کے ذریعے پاکستان کو جوڑنے کا شاندار موقع تھا مگرلوگوں کو دھوکہ دیاگیااور اِسی کے ساتھ عمران خان کا اپنے اِس خطاب میں یہ بھی کہنا اپنے موجودہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے طویل سمندر میں طلاطم کے لئے کافی ہے کہ” مسٹرنوازشریف نے نجکاری کے نام پر لوٹ مارکابازار گرم کررکھاہے جواربوں روپے کمیشن ہڑپ کرجاتے ہیں، نوازشریف کے اقتدار کا سورج جلدغروب ہوجائے گااور اپنے مخصوص اور انتہائی تشویشناک انداز سے عمران خان کا اپنے خطاب میں یہ کہنا یقینا ہمارے اِن جمہوریت کے پجاری اور اپنی مطلب کی جمہوریت کی گھٹی کی چاشنی میں تر غیرت مندحکمرانوں کے سینوں کوچیڑتاہو ااِن کے دماغ کے خلیوں میں جاچھپاہوگااوراِن کے جسموں کو ضرور چھلنی کرگیاہوگاکہ”شریف خاندان نے مُلک میں جمہوریت کے بجائے بادشاہت قائم کررکھی ہے، نواز شریف نے مُلک کے غریبوں کی خون پسینے سے کمائی ہوئی قومی دولت جو 200ارب ڈالر ہے اِن 200ار ب ڈالرکو نوازشریف نے بیرون مُلک منتقل کئے اِن کو واپس لاکر مُلک کا قرضہ اتاراجائے“۔
اَب ایسے میں کیا قوم کواِس کا یقین کرلینا چاہئے کہ آج عمران خان جوکچھ کہہ رہے ہیں وہ سب سچ ہے؟؟ مگر کیا اپنے اِس کہے ہوئے اِس سچ پر عمران خان اُس وقت عمل کرواسکتے ہیںجب عمران خان نوازشریف حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کرنے کے لئے خود سنجیدگی کامظاہر ہ کریں؟؟ تواِس میں کوئی شک نہیں کہ ایساسوفیصد ممکن ہوسکتاہے کہ مسٹرسونامی یعنی کہ عمران خان نوازشریف کی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہوجائیں ورنہ سابقہ 102دنوں کے دھرنے کی طرح عمران خان کی اگلی ایسی ویسی ایں ویں سیاسی حکمتِ عملی ایک بار پھر سیاسی مذاق اور عمران خان کے عمرانی سیاسی لطیفوں کی نظرہوکر نوازشریف کی حکومت کے لئے باعثِ تقویت ثابت ہوگی اور نوازشریف پہلے کی طرح اور زیادہ طاقتور انداز سے سامنے آئیں گے اورعمران خان اپنی رہی سہی سیاسی عزت اور وقار کا اپنے ہی ہاتھوں خود جنازہ نکال دیں گے۔ (ختم شُد)

پھر وہی الزامات ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

پاکستانی حکومت ، عوام اور قومی سلامتی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی روش اگرچہ مغربی میڈیا کا دیرنہ شغف رہا ہے مگر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اس سلسلے میں کچھ زیادہ شدت آ گئی ہے اور افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی کے طور پر برطانوی صحافی ” کالوٹا گال “ نے سات فروری کے نیو یارک ٹائمز میں یہ گوہر افشانی کی ہے کہ ” پاکستان عالمی دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ ایک جانب افغانستان میں شدت پسندی کی سرپرستی کی جا رہی ہے“ ۔ دوسری جانب داعش کی ” پیدائش اور پرورش “ کو بھی موصوفہ نے وطنِ عزیز کے کھاتے میںڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ در حقیقت پاکستانی کے ازلی مخالفین گذشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے ملکِ عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پسِ پردہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدرِ جثہ ڈال رہے ہیں ۔ کار لوٹا گال “ کی حالیہ افواہ سازی بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ اگر اس کی ٹائمنگ کا جائزہ لیں تو بہت سے حقائق خود بخود سب کے سامنے آ جاتے ہیں مثلاً اس تحریر کی اشاعت کے لئے عین اس دن کو چنا گیا جب افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ کے مذاکراتی عمل کا تیسرا دور اسلام آباد میں جاری تھا ۔ اور ان مذاکرات کا مقصد ہی افغانستان میں بد امنی کا خاتمہ کر کے وہاں امن قائم کرنے کے طریقوں کا عملی جائزہ لینا ہے اور اس ضمن میں ٹھوس اور قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے ۔
دوسری جانب عین اسی دن ایک بھارتی عدالت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ” رچرڈ ہیڈ لی “ کا ” بیان “ بذریعہ ویڈیو کانفرنس لیا اور اس حوالے سے آٹھ فروری کو سارا دن بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنی شہہ سرخیوں میں ہیڈلی کے مبینہ بیانات کو نمک مرچ لگا کر نشر کرتا رہا اور اس ضمن میں پاک قومی سلامتی کے اداروں کو ملوث کرنے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ بھارتی عدالت میں اس نام نہاد مقدمے کے سرکاری وکیل ” اجول نکم(Ujjwal Nikam ) “ بھارت کے تمام ٹی وی چینلوں پر چھایا رہا۔
اس تناظر میں اعتدال پسند قلم کاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مغربی یا بھارتی میڈیا اس جانب ذرا سی بھی توجہ نہیں دے رہا کہ عالمی دہشتگردی کے خلاف حالیہ لڑائی میں پاکستان سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے اور دنیا کو دہشتگردی سے پاک کر نے کے لئے پاکستانی قوم گذشتہ چند برسوں میں اپنی 65 ہزار شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانی دے چکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے اور یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی قریب میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس امر کا ایک سے زائد مرتبہ اعتراف کر چکی ہیں کہ پاکستان کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے وہ در حقیقت امریکی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے ۔
کسے علم نہیں کہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے دوران اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو صورتحال قطعاً مختلف ہوتی ۔ تب تو امریکی صدر ” رونالڈ ریگن “ اور دیگر زعماءانھی افغان شدت پسندوں کو ” وائٹ ہاﺅس “ میں بلا کر باقاعدہ دعوتیں دیتے رہے اور انھیں آزاد دنیا اور انسانی قدروں کے ہیرو قرار دیتے رہے مگر بعد میں سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا ۔ بہر حال توقع کی جانی چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک زیادہ موثر ڈھنگ سے کیا جائے گا کہ پاک فوج ، حکومت اور عوام عالمی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لا زوال قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی اس جدو جہد میں پاک فوج کے ایک جوان سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کی سطح تک کے افسران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ ایسے میں ” کار لوٹا گال “ اور اس جیسے دوسرے عناصر کی حقائق سے طوطا چشمی کے رویہ کے پیشِ نظر یہی کہا جا سکتا ہے۔
لو ، وہ بھی کہہ رہے ہیں بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر ، نہ لٹاتا گھر کو میں

رحمتیں جو سمیٹ نہیں سکتا

2016ءکا سال یقینی طور پر راقم کیلئے انتہائی رحمتوں والا بن کر آیا ہے ۔ان رحمتوں کا میں جتنا بھی رب تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرں انتہائی کم ہے۔اگرباقی ماندہ ساری عمربھی سجدہ ریزی میں گزار دوں تو پھر بھی جو رحمتیں رب باری تعالیٰ نے عطا کی ہے ان کا شکر ادا نہیں کرسکتا ۔یہ بابرکات لمحات جب آنکھوں سے آنسوﺅں کی لڑی جاری تھی محفل میلادﷺ پوری عقیدت واحترام سے جاری تھی ۔حاضرین محفل باادب دست بستہ ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔ہرعاشق رسولﷺ کی آنکھوں سے حب رسولﷺ میں آنسوﺅں کی جھڑی جاری تھی ۔راقم کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی ۔میرے اہلخانہ کی بھی آنکھیں نم تھیں ۔یقینی طور پر اس وقت میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص بن چکا ہوں ۔یہ دنیاوی معاملات اب راقم کیلئے ثانوی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور شاید خاصے عرصے سے کوئی کالم بھی نہیں لکھا ۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس متبرک تحریرسے پہلے کوئی اور تحریر نہ لکھوں ۔بس یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کے فیصلے ہوتے ہیں ۔میرا رب جیسے چاہتا ہے ویساہی ہوتا ہے ۔ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا ۔ویسے تو یہ اتنی طویل بات ہے کہ اس کو اس کالم میں محیط کرنا ممکن نہیں ۔جب سے اس دنیا میں آنکھ کھولی ،ہوش سنبھالا تو ایک مگن تھی کہ مجھے میرا رب اپنے گھر خانہ کعبہ کا دیدار نصیب کرادے ۔اپنے محبوبﷺ کے گنبد خضریٰ کی ٹھنڈی چھاﺅں میں بیٹھنا مقدر بنا دے ۔پھر 2007ءمیں والدہ مرحومہ مغفورہ کے ہمراہ یہ سعادت حاصل ہوئی ۔روضہ رسولﷺ کے گنبد خضریٰ کی چھاﺅں میں ایک ماں جو کہ ولی تھیں ان کے ہاتھ اٹھے اور راقم (بیٹے)کے مقدر کو چار چاند لگے ۔بھلا رحمت اللعالمین ﷺ کا در پاک ہو،والدہ کے ہاتھ ہوں اور مجھ جیسے گہنگار کیلئے ایک ماں نہیں بلکہ ولی کی صورت میں ماں دعا مانگ رہی ہو پھر کیوں نہ مقدر جاگیں ۔وہ دن اور آج کا دن بس رحمتیں ہی رحمتیں ہیں ۔2012ءپھر 2014ءکا حج اکبر جو کہ والدہ مرحومہ مغفورہ کا حج بدل ادا کررہا تھا یہ جو تمام سفر حج مبارک تھے ۔ایک خیال بار بار امڈ کر آتا تھا کہ وہ دنیا کا کتنے خوش نصیب ترین شخص ہوگا ۔جس کے پاس آپﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک،موئے مبارک ہونگے ۔یقینی طور پر ان افراد کو اس دور کا خوش نصیب ترین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔عمر پھر کی تپسیا،والدین کی دعائیں ،بیوی،بچوں،بہن بھائیوں کی نیکیاں ،سب کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے راقم کو آپﷺ کی زلف مبارک عطا کی ،ساتھ ریش مبارک اور موئے مبارک بھی عطا ہوئے ۔بات یہاں تک ہی نہیں ٹھہری،مزید رب کی ذات راضی ہوئی اس کے محبوب کریمﷺ کی نظر کم ہوئی ۔راقم کو آپﷺ کا پسینہ مبارک بھی عطا ہوا ۔یہاں میں الحاج خورشید اورالحاج غلام مرتضیٰ کاذکرکرنا انتہائی ضروری سمجھتا ہوں ۔2016 کا 31جنوری کا دن الحاج خورشید صاحب کا گھر اورالحاج غلام مرتضیٰ کی آمد ،یہاں پر وہ وہ پرنور تقریب کاانعقاد ہونے جارہا تھا جس کے بعد راقم اس دنیا کا خوش نصیب ترین شخص بن گیا ۔جی ہاں رسول کریمﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک اور موئے مبارک کے غسل مبارک کی تقریب ہوئی ۔مشتاق صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا،دورد وسلام کے گلہائے عقیدت نچھاور کیے ۔الحاج غلام مرتضیٰ نے غسل مبارک دیا ،الحاج خورشید صاحب نے اس پاک محفل کے انعقاد کا بندوبست کیا ،آپ ﷺ کی زلف مبارک،ریش مبارک اور موئے مبارک جو کہ میری صاحبزادی کو عطا ہوا اور پسینہ مبارک میرے صاحبزادے کو عطا ہوا ۔ایک خوبصورت کیس میں سجایا گیا ۔اس متبرک محفل کے یوں تو تمام لمحات ہی اتنی رحمتوں والے تھے کہ ان کو قلمبند نہیں کیا جاسکتا ۔تاہم ایک بات انتہائی ا ہم ہے کہ جیسے ہی آپﷺ کی زلف مبارک کو غسل مبارک دینے کا آغاز ہوا ۔آب زم زم سے زلف مبارک ﷺ کو غسل دیا گیا ،جیسے ہی زلف مبارک آب زم زم میں رکھی گئی تو آب زم زم میں واضح طور پرزلف مبارکﷺ سے ”م ح“ یعنی محمدﷺ لکھا گیا ۔کیا روح پرور منظر تھا جو کہ بیان سے باہر ہے ۔اس موقع پر مشتاق صاحب نے جو گلہائے عقیدت پیش کیے ۔
الحاج غلام مرتضیٰ صاحب نے بھی بتایا کہ جب انہیں لندن میں زلف مبارکﷺ عطا ہوئی تو اس وقت بھی یہ گلہائے عقیدت بارگاہ رسول کریمﷺ میں پیش کیے جارہے تھے ۔اس میں سے ایک نعت شریف کا مصرعہ بار بار دہرایا گیا ۔اسی وقت الحاج غلام مرتضیٰ صاحب کو زلف مبارکﷺ عطا ہونے کی اطلاع مبارک ملی جبکہ راقم کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ درپیش ہوا ۔وہ نعت کا مصرع کچھ اس طرح ہے باقی مکمل نعت آگے چل کر پیش کرنے کی جسارت حاصل کرونگا
آجائیں مقدر سے میرے گھر جو شہہ دیں
واللہ میں کیسا لگوں گا میرا گھر کیسے لگے گا
مجھے جو رحمتوں کی صورت میں آپﷺ کے تبرکات عطا ہوئے اورغسل مبارک دیا گیا تو اس وقت بھی مشتاق صاحب نے اسی نعت کے گلہائے عقیدت پیش کیے ۔آج جس فرط جذبات سے لکھ رہا ہوں میرے الفاظ ختم ہورہے ہیں ۔وہ جملے ،وہ الفاظ ہی نہیں ،جن سے میں رب تعالیٰ اوررحمت اللعالمین ﷺ کا شکر ادا کروں۔میںتو اس درکی خاک در خاک درخاک در خاک ہوں ۔میری اتنی حیثیت کہاں ”یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے “ آج راقم اتنا خوش ہے کہ پھولے نہیں سمارہا ۔ہر لمحے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اپنے در پر بلالے ،پھر روضہ رسولﷺ پر حاضری دینے کی توفیق عطا کرے ۔بس زندگی میں اللہ تعالیٰ ویسا بنا دے جیسا کہ وہ چاہتا ہے ،کم ازکم اس قابل بنا دے کہ راقم ان کو چاہنے والا بن جائے جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کا محبوبﷺ چاہتے ہیں ۔دنیاوی چیزوں کی زندگی میں کوئی حیثیت نہیں ۔جورحمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کیں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ بس اب رب تعالیٰ باقی ماندہ زندگی میں رحمتیں ہی رحمتیں عطا کرے ۔(آمین ثمہ آمین)۔ نعت شریف پیش خدمت ہے

” نعت شریف“
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگے گا
رکھ دوں درِ سرکار پہ سر کیسا لگے گا
آجائیں مقدر سے میرے گھرجو شہہِ دیں
واللہ میں کیسا لگوں گامیرا گھر کیسا لگے گا
جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبدِ خضرا
اس پار سے ایسا ہے ا±دھر کیسا لگے گا
سرکار نے در پہ تجھے بلوایا ہے منگتے
جب کوئی مجھے دیگا خبر کیسا لگے گا
جس ہاتھ سے لکھوں گا محمدﷺکا قصیدہ
ا±س ہاتھ میں جبریل کا پر کیسا لگے گا
غوث الوریٰ سے پوچھ لو اک روز یہ چل کر
بغدا د سے طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
آجائیں مقدر سے میرے گھر جو شہہِ دیں
واللہ میں کیسا لگونگا میرا گھر کیسا لگے گا
رکھ لوںگا جو سر پر میں وہ نعلینِ مقدس
شاہوں کے مقابل میرا سر کیسا لگے گا

دولت مند اشرافیہ کی دنیا

جنوری 2016ءمیں آکسفیم نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کے امیرترین 62افراد دنیا کی آدھی آبادی سے زیادہ امیرہوچکے ہیں۔دنیا کی امیرترین ایک فی صدآبادی یعنی 73ملین افراد دنیا کی آدھی دولت پرقابض ہےں نچلی 50فیصد آبادی دنیا کی کل دولت کے محض ایک فی صد حصے کی مالک ہے۔ دنےا کی 80فیصد نچلی آبادی کے پاس دنےا کی کل دولت کا 5.5 فیصد حصہ ہے جبکہ بالائی 20صد طبقہ امراءکے پاس دنےا کی کل دولت کا 94.5فیصد حصہ ہے۔ دنیا کے ہر 9میں سے ایک آدمی کو دووقت کا کھانا میسرنہیں اورایک ارب افراد 1.9ڈالر روزانہ سے بھی کم پرگزارا کر رہے ہیں۔گزشتہ پچیس سالوں میں نچلے 10فی صد لوگوں کی تنخواہوں میں محض 2.6ڈالرفی کس کے حساب سے اضافہ ہوا ۔اجرت پرہاتھ سے کام کرنے والوں اورعورتوں کو دنیا میں سب سے کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔جبکہ 2008ءکے بعدامریکہ میں ہائی ٹیک ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں سے منسلک منیجروں اورتکنیکی سٹاف کی تنخواہوں میں 54.3فی صداضافہ ہواہے۔
جی7اورجی 20مملک کے رﺅساء،ہائی ٹیک ملٹی نیشنل کمپنیوںکے منیجروںاورتکنیکی سٹاف اورترقی پذیرممالک میں ان سے گٹھ جو ڑ کیئے ہوئے امیرطبقوں پرمشتمل ایک دولت مند اشرافیہ کا طبقہ جنم لے چکا ہے ۔اس امیر(Super rich) طبقہ کی وابستگی اوروفاداری اپنے آبائی ممالک کی نسبت اپنے طبقہءامراءکے کلب کے ساتھ ہوتی ہے۔اس اشرافیہ اورذیلی اشرافیہ کا گٹھ جوڑاپنے لوگوں کے مفادات کے برعکس اپنے گروہی مفادات کے فروغ کے لےے ساری دنیا میںسرگرم ہوتا ہے۔ان کی ایک اپنی قوم اوربین الاقوامی نقطہ ہائے نظر ہے۔ان کی شہریت بین الاقوامی اورمفادات بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک ہوچکے ہیں۔ کسی ایک ملک کے بجائے ان کے اثاثے ،محل اورکاروبار ی مراکز ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی دولت منداشرافیہ کی زیادہ تردولت اپنے آبائی ملک کی نسبت دوسرے ممالک یعنی آف شور(Offshore)میں بکھری ہوئی ہے۔اس وقت بین الاقوامی دولت مند اشرافیہ کی آف شوردولت 7.6ٹریلین ڈالر کے قریب ہے جوکہ جرمنی اوربرطانیہ کی مشترکہ جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔بین الاقوامی کمپنیوں اورطبقہءرﺅساءکی اپنے ممالک سے باہردولت ہراس خطے میں سرمایہ کاری،اثاثوں اوربنک ڈپازٹ کی صورت میں موجود ہے جہاں ٹیکسوں سے بچا جاسکے،دولت پوچھنے والا کوئی نہ ہواورجہاں ٹیکس سے استثناءموجودہو۔ 2011ءکی نسبت 2014ءمیں میں بڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری ان علاقوں میں چارگنا بڑھ چکی ہے جہاں پرسرمایہ کاری کو ٹیکس سے استثناءحاصل ہے۔افریقہ کے امیرترین لوگوں نے ٹیکس سے مستثناءعلاقوں میں 500ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔جس سے افریقی ممالک کو سالانہ 14ارب ڈالر کا ٹیکس خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔دنیا کی دس بڑی کمپنیوں میں سے 9نے ایسی جگہ سرمایہ کاری کررکھی ہے جہاں انہیں ٹیکس استثناءملا ہوا ہے۔دنیا کے امیرترین افراداورکمپنیوں کو نہ صرف مختلف ممالک میں ٹیکس سے استثناءملا ہوا ہے بلکہ یہ ٹیکس چوری اورمالی کرپشن کے ذریعے بھی اپنی دولت میں بے دریغ اضافہ کررہی ہیں۔اگرصرف یورپی یونین رﺅساءاوربڑی کمپنیوں کے ٹیکسوں پرچھوٹ ختم کردے تو 100سے 120ارب پاﺅنڈ کی آمدن ہوگی۔یہ رقم دنیا بھر کو دی جانے امداد سے دوگنا ہے۔امریکہ کی 24ملٹی نیشنل کمپنیاں جن میں امازون،والٹ ڈزنی اوروال مارٹ شامل ہیں ،کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ مل کر کینیڈا کو خریدسکتی ہیں۔
کاروبارمیں اختراع،سرمایہ کاری،قرضوں پرسود،سٹاک مارکیٹ میں اتارچڑھاﺅاورخفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے 1988ءاور2011ءکے درمیان دنیا کی مجموعی دولت میں جتنا بھی اضافہ ہوا ہے اس میں سے 46فی صد محض 10فی صد بالائی امراءکے طبقہ کی دولت میں ہوا۔یہ طبقہءرﺅساءہرقسم کے قانون سے اس وقت تک ماوراءہوتا ہے جب تک کہ ان کا تصادم کسی اپنے طبقہءامراء سے نہ ہوجائے۔یہ اتنے قوی اوروسیع الجثہ ہوتے ہیں کہ جیل کی کوٹھڑی انہیں پابند سلاسل نہیں کرسکتی۔امریکہ میں ادویہ سازکمپنیوں نے 2014ئمیں واشنگٹن میں لابی کے لےے 224ملین ڈالرخرچ کئے۔امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق کانگریس کے ہررکن پر 200افراد لابی کررہے ہوتے ہیں۔تھائی لینڈکی حکومت نے مقامی سطح پرسستی ادویات تیارکرنے کے لےے مقامی کمپنیوں کواجازت دیناچاہی تو ادویہ سازکمپنیوں نے امریکی حکومت سے لابی کرکے تھائی لینڈ پر تجارتی پابندیاں لگوانے کی دھمکی دلوادی۔امریکی جمہوریت میں دولت اورسرمائے کے اسی کردار کی بناءپرچومسکی نے امریکی جمہوریت کو “ڈالرڈیموکریسی”کانام دیاہے۔
بیشتر ماہرین نے بین الاقوامی طبقہءرﺅساءکے ظہور کے موجودہ دورمیں دنیا کی سیاسی اورجغرافیائی بلاکوں میںتقسیم کے برعکس دومعاشی بلاکوں یعنی 0.1فی صد بمقابلہ 99.9فی صدیعنی ”دولتمنداشرافیہ بمقابلہ بقایادنیا ”کا نام دیا ہے۔سوویت یونین کے ٹوٹنے ،دنیا میں سوشلزم کے خوف کے خاتمہ،رسمی معیشت اورمزدوریونین تحریک کے کمزور پڑجانے کے بعد جو منڈی کی معیشت کا نیا ورلڈآرڈر قائم ہواہے اس میں فنانس میں عالمگیریت آچکی ہے۔کنٹرول منصوبہ بندی کی جگہ کھلی منڈی کی معیشت نے لے لی ہے۔ریاستوں کی معاشی پالیسیاںخفیہ کمروں اوربین الاقوامی اداروں کے دباﺅ میں بن رہی ہیں۔جمہوریت میں سے جمہور کا کردارختم ہورہا ہے اورریاستی مالیاتی اورصنعتی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے۔ان تمام تبدیلیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کی دولت میں کمی اورامراءکی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔2010ءکے بعد امراءکی دولت میں1.76ٹریلین ڈالر یعنی 44فی صداضافہ ہواہے جب کہ 3.5ارب غریب ترین دنیا کی نصف آبادی کی غربت میں ایک ٹریلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
یعنی غربت میں میں گزشتہ پانچ سالوں میں 41فی صداضافہ ہواہے اس کا مطلب ےہ بھی لےا جا سکتا ہے کہ طبقہءرو¿ساءکی دولت مےںزےادہ تراضافہ عام آدمی کی غربت مےں اضافہ کر کے ہوا ہے۔پوسٹ ماڈرن نظریہ سازوں کے نزدیک موجودہ دورمیںمشترکہ نظریہ اوربیانیہ کے خاتمہ کے بعددنیا میں دولت مندوں کی دولت میں ہوش رباءاضافہ برائی کی فتح سے زیادہ اچھائی،نیکی اورجدوجہد کے مشترکہ معیار اوربیانیہ کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ” جب کوئی بھی چیزمقدس نہ رہے توطاقتور کو روکنے والے آدرش ختم ہوجاتے ہیں اورعام آدمی تباہ ہوجاتا ہے”۔

لطیف اللہ محسود کا اعتراف اور پاکستان میں دہشتگردی

آج کے کالم کیلئے موضوع تو پانی و توانائی کا بحران اور پاکستانی دریاﺅں پر بھارتی ڈاکے چنا تھا کیونکہ بھارت بڑی تیزی سے پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضہ کرتا جارہا ہے جبکہ اس آبی تنازعے پر وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی بات سننے اور ماننے بھی کو تیار نہیں اور روایتی ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے لہذا پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلدورلڈ بنک تک لے جائے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کا ثالث ورلڈ بنک ہی ہے ۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس دوران حکیم اللہ محسود کے بھائی لطیف اللہ محسود کے اعترافی بیان کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جسمیں انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغانستان ایجنسی NDS کے گہرے مراسم اور روابط ہیں ۔ لطیف اللہ محسود 2013ءسے گرفتار ہے اسے امریکی فورسز نے اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ افغان فوج کے ایک قافلے میں خفیہ طریقے سے اس وقت کے صدر حامدکرزئی کی ایما پر افغان خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام سے ملنے جارہے تھے۔ بعدازاں امریکی فورسز نے اسے پاکستان کے حوالے کردیا تھا لیکن حامد کرزئی نے اس پر امریکی حکام سے خوب احتجاج کیا تھا۔ لطیف اللہ محسود کا یہ اعترافی بیان یقیناً نہایت ہی اہم ہے۔ انہوں نے وہی کچھ کہا ہے جو پاکستان ایک عرصہ سے کہتا آرہاہے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کے پیچھے بھارتی اور افغان ایجنسی این ڈی ایم کا مشترکہ ہاتھ ہے۔ محسود نے برملا کہہ دیا ہے کہ یہ دونوں ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کراتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”را“ مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے عبدالولی کو پیسہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ اغواءکیلئے لوگوں کو ٹیلی فون پر دھمکیاں دیتا تھا ۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان پر دباﺅ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ بھارت کو مطلوب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ٹھوس شواہد اورخودبھارتی آلہ کاروں کے اعتراف کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیںرینگتی ۔ پاکستان کی بھارتی سازشوں کےخلاف دہائی پر عالمی طاقتوںکا گونگا اور بہرہ ہو جانا پاکستانی عوام میں ان طاقتوں کے خلاف نفرت کو مہمیز دیتا ہے ۔کئی پاکستانی سیاسی حلقے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو حکام سے عدم تعاون پر زور دینا شروع کردیتے ہیں۔ لطیف اللہ محسود کا یہ بیان امریکی حکام کے کان کھول دینے کیلئے کافی ہے جو پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ اٹھتے بیٹھتے کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا نے یہ کیوں طے کرلیا ہے کہ خطے میں ہونے والی ہردہشت گردی کی کارروائی کے پیچھے پاکستان کاہاتھ ہے۔ افغانستان میں کوئی واقعہ ہوتو الزام پاکستان کے سر، اور بھارت میں کوئی دہشت گردی ہوتو ذمہ دار پاکستان کوٹھہرا دیا جاتا ہے ۔کیا بھارت جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے جہاں صرف فرشتوں کا بسیرا ہے کیا دنیا نہیں جانتی کہ بھارت میں کتنی علیحدگی پسند تحریکیں مودی کے بھارت سے الگ ہونے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔ کیا سکھوں کو گولڈن ٹیمپل میں زندہ جلا دینا اور ٹیمپل کو ان کا قبرستان بنا دینا کیا کبھی سکھ برادری بھول سکتے ہیں کبھی نہیں ۔ خالصتان تحریک ایک بار پھر منظم ہورہی ہے ۔بھارت کو اپنے دشمن اپنے گھر سے ڈھونڈنے ہونگے۔ پرائی منجی تلے ڈانگ پھیرنے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔ عالمی برادری خصوصاً امریکی حکام کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حقائق کو نظر انداز کرکے صرف پاکستان کا بازو مروڑنے کی کوشش میں لگے رہیں۔یہ رویہ پاکستان کو بلاجواز دباﺅ میں رکھنے کے مترادف ہے جبکہ بھارت کے پاکستان کے خلاف ارادے اور کارروائیاں تسلیم شدہ ہیں مگر امریکی حکام پھر بھی اس تاثر کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آئندہ بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوا تو پاک بھارت جنگ بھڑک سکتی ہے۔ ابھی گزشتہ ماہ امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف انتھونی بلنکن نے دورہ بھارت میں ایک بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو میں یہی کچھ کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک غیر ارادی جنگ کا امکان ہے اور امریکہ کو اس پر تشویش ہونی چاہیے۔ امریکی اہلکار نے ارادی طورپر اس تاثر کوہوا دی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ پاکستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی ہوگی لیکن کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کوئی دہشت گردی نہیں ہوسکتی ۔ بھارت نے براستہ افغانستان جو سلسلہ شروع کررکھا ہے وہ پاکستان کے صبروتحمل کے امتحان سے کم نہیں ہے۔ لہذا امریکی حکام معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حقائق کوTwist نہ دیں اور ایسا ماحول نہ پیدا کریں کہ جس سے بھارت کو کسی قسم کی ہلہ شیری ملے۔ یہ دو ایٹمی قوتوں کا معاملہ ہے جبکہ تیسری ایٹمی قوت چین سے بھی بھارت کی کشیدگی بھی ڈھمکی چھپی نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کو ذرا سی بھی ہلہ شیری یا تھپکی پورے جنوبی ایشیاءکو ایٹمی جہنم میں دھکیل سکتی ہے۔ بھارت خطے کا وہ ملک ہے جس کی جارحیت پسند سوچ کے باعث اپنے تمام پڑوسیوں سے بیسیوﺅں تنازعات ہیں ۔پاکستان کا وجود تو اسے قیام پاکستان سے ہضم نہیں ہوتا اوروہ اسے ختم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مودی حکومت کے کئی وزراءکھلم کھلا دھمکی دے چکے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے تو اب چار اور پھر اسے ہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔ اسی ناک پاک سوچ کو لے کر ہر حربہ آزماتا رہتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو ، معاشی ہویا سرحدی۔ مشرقی سرحد پر گولہ باری اور اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر دہشت گردی کروانا اور کشمیر میں پاکستان کی آبی ناکہ بند ی کرنا اس کے مذموم عزائم کا حصہ ہیں جو وہ برسوں سے پال رہا ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی تو ٹی ٹی پی کے ذریعے کرواتا ہے مگر آبی دہشت گردی کو وہ براہ راست خودکروارہاہے ۔پاکستان میں آنے والے تمام دریاﺅں کے منبعے مقبوضہ کشمیر میں ہیں جنہیں وہ پاکستان کےخلاف استعمال کررہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ بھی پچھلے پچاس سال سے چل رہا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت پوری ڈھٹائی کےساتھ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے لئے بڑے بڑے ڈیم بنا رہا ہے جبکہ بعض دریاﺅں سے پانی نہروں کے ذریعے موڑ کر دوسرے دریاﺅں میں ڈال رہا ہے۔ جس سے دریائے چناب اور جہلم کا دامن خشک ہوچکا ہے۔ کشن گنگا ہائیڈروپراجیکٹ اور ریٹلے ہائیڈرو پروجیکٹ ایسے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے اس سلسلے میں پاکستان بھارت کا منتظر ہے لیکن اب جب بھارت اس سلسلے میں تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طورپر یہ کیس ورلڈ بنک تک لے جائے،یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ڈبلیو بی کی ہی نگرانی میں طے ہوا تھا اور وہی اسکا ضامن بھی ہے۔ حکومت مزیدکسی قسم کی تاخیر نہ کرے ورنہ پانی سر سے گزر جائے گا اور آنے والی نسلیں پیاسی مر یں گی۔

بابری مسجد کی شہادت

بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے اپنی نئی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات اور سیاسی شخصیات پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کھولنا راجیو گاندھی کا غلط فیصلہ تھا اور بابری مسجد کو شہید کرنا ایسی غداری تھا جس پر تمام بھارتیوں کے سرشرم سے جھک جانے چاہئیں۔ مسجد شہید کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ 1980ءسے 1996ءکے دور کا احاطہ کرنے والی پرناب مکھرجی کی کتاب ”دی ٹربولینٹ ڈائیرز“ میں لکھا ہے کہ بابری مسجدکی شہادت اس دورکے صدرنرسیما راو¿ کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔ انہوں نے نرسیما راو¿سے کہا تھا کہ کیا انہیں کسی نے بھی خطرے سے خبردار نہیں کیا تھا کہ بابری مسجدکی شہادت کے عالمی اثرات بھی ہوں گے۔ انہیں سینئر رہنماو¿ں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ انہیں ایک اسلامی ملک کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اس طرح مسجد تو اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں بھی شہید نہیں کی۔ ایک اور مقام پر پرناب مکھرجی نے لکھا ہے کہ جنگ عظیم دوم کی فتح کی تقریبات میں شرکت تحریک آزادی کی بے عزتی کے مترادف ہے۔مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راو¿ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راو¿ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی ،نرسمہا راو¿ سوتے رہے۔ کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی۔ پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک نرسمہا راو¿ کی مجرمانہ لاعلمی برقرار رہی ہے ۔اس لئے بابری مسجد کی شہادت کا کلیدی مجرم نرسمہا راو¿ کو کہا جاتا ہے۔مسجد کی شہادت یقینی طورپر دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز اقدام تھا اس لیے پوری دنیا میں مسلمان ہندوﺅں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت وقت نے مسجد کی شہادت کے وقت فوج اورپولیس کومشتعل ہندوﺅں کے کیخلاف مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی حکومت مسجد کی شہاد ت کے بعد مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتی رہی اوراندرون خانہ ہندو انتہا پسندوں کی سپورٹ کرتی رہی۔ بعد میں بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بابری مسجد پراپنی سیاست چمکائی لیکن کسی میں اس مسجد کو تعمیر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوںلیڈر مسجد کے سامنے واقع ”رام کتھا کنج“ کی عمارت میں موجود تھے جوبابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوﺅں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔ہندوو¿ں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی۔اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا۔ 30 ستمبر 2010 ءکو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔بابری مسجد شہید کرنے کے واقعہ کے دس دن کے بعد جسٹس لبراہن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر یعنی 16 مارچ 1993ءتک اس بات کا پتہ لگا کر اپنی رپورٹ دینی تھی کہ کن حالات کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی۔ لیکن یہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے طویل انکوائری کمیشن ثابت ہوا اور اس کی مدت کار میں ریکارڈ 48 مرتبہ توسیع کی گئی اورکمیشن میں متعدد مرتبہ توسیع دیے جانے کے باعث لیبرہان کمیشن کافی عرصے سے تنازعات کا شکار رہا اور بالاخر17 سال بعد جسٹس لیبرہان نے 30 جون 2009 ءکو رپورٹ ہندوستانی وزیراعظم کو پیش کردی اور یہ رپورٹ نومبر2009ءکو ہندوستانی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ تاہم اس دوران بابری مسجد کی عدالتی کارروائی بھی جاری رہی اور دونوں فریقوں کی جانب سے15 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کی گئیں ۔اس وقت سب کی نظریں اس ملک کی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں اور فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ تاہم آج دنیا بھر میں عدالتیں متعلقہ مقدمات کو مقررہ وقت پر نمٹا کر مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ہندوستان کی عدلیہ نے ایک انتہائی اہم نوعیت کے مقدمہ کو گزشتہ 22 سال سے لٹکا کر رکھا ہوا ہے اور اس عرصے میں قتل و غارت میں ملوث کئی اہم مجرم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ کئی دندناتے پھر رہے ہیں۔اگر بھارتی صدر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت میں حقائق بیان کریں تاکہ عدالت کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور حق دار کو حق مل جائے ۔

Google Analytics Alternative