کالم

مشتری ہوشیار باش

uzair-column

نومبراوردسمبر کے مہینوں میں سخت سردی ہوتی ہے اورپھر وفاقی دارالحکومت میں بس ذرا بارش کی دیر ہے پھر تو یہاں کے باسی ٹھنڈ کی وجہ سے ٹھٹھرنے شروع ہوجائیں گے ۔مگر آمدہ دن کچھ اور ہی خبریں سنا رہے ہیں ۔ان یخ بستہ راتوں میں کوئی گرما گرم فیصلے ہونگے ۔اب چاہے کوئی چائے کی گرم پیالی میں طوفان برپا کرے یا اپنے اوپر رضائی لیکر گرم فیصلوں سے پہلے اس کی گرمی کو محسوس کرنے کی کوشش کرے مگر ایک بات تو طے شدہ ہے کہ اب کی بار بس ”مشتری ہوشیار باش “ذرا سی بھی غلطی کہیں چائے کی پیالی میں طوفان نہ برپا کردے اور اگر یہ تو طوفان کہیں چائے کی پیالی کے کناروں سے چھلک گیا تو گرم گرم چائے گرنے کی وجہ سے ادھر ادھر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بھی اس گرم چائے کی چھینٹیں پڑ سکتی ہیں لہذا بہتر تو یہ ہے کہ وقت آنے سے پہلے چائے کی پیالی کو پہلے سرد موسم میں ٹھنڈے پانی سے ٹھنڈا کرلیا جائے اور اس میں جو چائے ڈالی جائے اسے پھونکیں مار مار کر پی جائے ۔اگربراہ راست ٹھنڈی رات میں گرم چائے کی ”چسکی“ لگا لی تو اس سے پہلے ہونٹ جل جائیں گے اور پھر اس سے منہ اندر سے متاثر ہوگا ،زبان پربھی چھالے پڑ سکتے ہیں ،پھربولنے میں بھی مسائل پیدا ہوں گے اور چائے پینے والا اپنی آواز آگے تک واضح طور پر نہیں پہنچا سکے گا ۔پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی گرم چائے پی رہا ہے تو پہلی گرم چسکی میں وہ اچھل پڑے اور چائے ساری کی ساری گر پڑے اور اس سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے ۔بات شروع ہوئی تھی نومبر،دسمبر سے اور استعارے ،قافیے ملاتے ملاتے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھنے لگا تھا کہ خیال آیا کہ اس کو تھم جانا چاہیے کیونکہ کچھ دن پہلے اگر یہ طوفان برپا ہوا تو شاید خس وخاشاک بہا کر لے جائے ۔یہاں بات ذرا منصوبہ بندی کی ہوجائے تو ذرا زیادہ بہتر ہوگا ۔ہم لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ ہمیشہ عید کے پیچھے ٹر کرتے ہیں جب آفات آن پڑتی ہیں تو اس سے بچت کیلئے سرگرم ہوجاتے ہیں لیکن آفت آنے سے قبل کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ پہلے سے حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں ۔اگر پہلے سے ہی کسی مشکل وقت کے آنے کے بارے میں سوچ لیا جائے تو پھر انسان اس میں اچھے طریقے سے بچ جاتا ہے مگر جب اچانک سر ہتھوڑا آن پڑے تو اس وقت بچت کرنا مشکل ہوتی ہے یہ بات بھی یقینی ہے کہ جب بچت کیلئے پہلے سے اقدامات نہیں کیے جائیں گے تو ایسا شخص حالات میں مگن رہے گا اور وہ یہ سوچتا رہے گا کہ شاید اس پر کبھی آفت آنی ہی نہیں ،شاید وہ کبھی مشکل کا سامنا ہی نہ کرے مگر یہ بھی ایک آفاقی اصول ہے کہ عروج کو زوال لازم ہے اور پھر کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اللہ تعالیٰ کب شاہ کو گدا اور کب گدا کو شاہ بنا دے ۔بات تو ساری اعمال اورافکار کی ہے کہ کون کہاں تک اور کیسے اپنے معمولات زندگی بسر کررہا ہے ۔سردیوں کی راتوں میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ اب جو اس وقت موسم تبدیل ہونے جارہا ہے اس میں عموماً”فلو“زکام کا مرض لاحق ہوجاتا ہے اوریہ ایک ایسی وائرل بیماری ہے جو ایک سے دوسرے ،دوسرے کو تیسرے ،تیسرے سے چوتھے کو لگتی چلی جاتی ہے اور پورا علاقہ متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔اس وائرل کے پھیلنے کا موسم بالکل سر پر موجود ہے ۔ذرا سا بھی ٹھنڈ میں بے احتیاطی کرنے سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے ۔لہذا زکام سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں ،راقم یہاں یہ بتاتا چلے کہ یہ کوئی ”مینڈکی کا زکام نہیں “ اگر یہ لگ گیا تو اس سے چھینکیں آنے کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ماﺅف ہوسکتا ہے اور جب دماغ ماﺅف ہوجائے تو پھر آگے پیچھے کچھ نہیں نظر آتا ۔بعض اوقات تو اس طرح ہوجاتا ہے کہ جو شخص زکام سے متاثر ہو اسے بند کمرے میں بغیر رضائی کے بھی رکھ کر دھونی دینا پڑتی ہے تاکہ فلو کے زکام اپنی موت مر جائیں مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ فلو کے زکام مرتے مرتے مریض کیلئے بھی جان لیو ثابت ہوجاتے ہیں ۔بات کہنے کی دراصل یہ ہے کہ زندگی انسان کو صرف ایک مرتبہ ہی ملتی ہے لہذا اس زندگی میں اچھے اعمال کرلینے چاہئیں اور کچھ ایسی یادیں چھوڑ جانی چاہئیں کہ جانے کے بعد کوئی اچھے الفاظ میں یاد کرے ۔کسی کے حقوق کو سلب نہیں کرنا چاہیے جو جس کا حق ہو وہ اس کو دینا چاہیے ۔یہ حقوق چاہے ملکی سطح پر ہوں یا عوامی سطح پر اس میں کوئی عام آدمی ملوث ہو یا کہ حکمران کیونکہ حقوق العباد کو تو اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرتا اورپھربعض اوقات اس طرح بھی ہوجاتا ہے کہ حقوق کے سوال وجواب ایسے موسم میں ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ قابل برداشت نہیں ہوتا ۔ایک تو سرد ہوائیں چل رہی ہوں ،رات کا سناٹا ہو کہیں سے شائیں شائیں کی آواز بھی آرہی ہو اور اس میں اگر شڑاپ شڑاپ ہوجائے تو پھر مشکلات درپیش آجاتی ہیں ۔کتنا ہی اچھا ہو کہ ہر کوئی شخص اپنا تمام تر وقت اپنے پیاروں کے ہی ساتھ گزارے اگر کہیں کسی کو تنہائی میں بھیج دیا جائے تو پھر اسے ان پیاروں کی یاد ہوگی تو لہذا اپنے پیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ ساری قوم ہی پیاری ہے کہیں اس کے ساتھ تو زیادتی نہیں ہورہی ،یہ ملک بہت قیمتی ہے کہیں یہاں لوٹ مار تو نہیں ہورہی ،یہ زبان اور الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ اگر ایک دفعہ نکل جائیں تو واپس نہیں آتے جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آیا اور پھر جو کچھ بولا جاتا ہے اس کو بھگتنا پڑتا ہے ۔

ترکی کی اقتصادی ترقی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

ترکی میں دو نومبر کو ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں طیب اردگان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے فتح حاصل کر لی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک ترکی کی سیاست پر حاوی رہنے والی جماعت ’اے کے پی‘ نے پارلیمانی انتخابات میں 49.4 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ کی 550 میں سے 316 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس طرح حکمراں جماعت ایک بار پھر تنہا حکومت قائم کرسکتی ہے۔ حکمراں جماعت کا پارلیمانی انتخابات میں تقریباً 50 فیصد ووٹ لینا حیران کن ہے کیونکہ انتخابات سے قبل کیے جانے والے مختلف سروے کے نتائج سے یہ بات واضح ہورہی تھی کہ اے کے پی رواں سال ماہ جون کی طرح اس بار بھی انتخابات میں 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے گی، لیکن انتخابات کے نتائج اس سے مختلف رہے۔طیب اردگان کی جماعت کی بھاری اکثریت میں کامیابی پر صدر اور وزیراعظم پاکستان نے خصوصی پیغامات میں نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک باہمی تعمیر و ترقی کےلئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔پاک ترک تعلقات اسلامی ثقافت کے گہرے رنگوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔30ستمبر 1947ءکو جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے والا دنیا کا 56واں ملک بن رہا تھا تو پاکستان کی حمایت میں ترکی کے مندوب نے ایسی جاندار تقریر کی تھی کہ اجلاس میں موجود 54ممالک میں سے 53نے پاکستان کی حمایت کی،اس موقع پرصرف اکیلے افغانستان ہی ایسا ملک تھا جس نے مخالفت کی تھی۔
ڈیڑھ سال کے اندر چار بار انتخابی عمل سے گزرنے والا اور موجودہ جنگوں، مہاجرین اور اقتصادی بحران کے دلدل میں پھنسے علاقے کے عین وسط میں واقع ترکی دنیا میں تیز ترین طریقے سے ترقی کی جانب گامزن ساتواں ملک ہے۔ ترکی کی تاریخ کئی سیاسی و اقتصادی نشیب و فرازسے دوچار رہی ہے۔مگر اس کے ماضی قریب کے چند عشروں کا جائزہ لیا جائے تو جہاں اسے کمال اتا ترک نے نئی پہچان دی وہاں ایک طویل عرصہ بعد طیب اردگان اسے نئے ڈگر پر لے کر چل رہے ہیں۔پاکستان کی ہر حکومت ترکی ساتھ اچھے مراسم قائم رکھتی رہی ہے،مگر موجودہ حکومت بڑی تیزی کے ساتھ اردگان حکومت کے قریب ہو رہی ہے۔ابھی دو روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ترکی کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ ترکی اور پاکستان کی ثقافت میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ لاہور میں مال روڈ پر استنبول چوک کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استنبول چوک پاک ترک دوستی کی علامت ہے، پاکستان اور ترکی کے مابین دوستانہ تعلقات مفید معاشی روابط میں بدل رہے ہیں“۔ ایسے خیالات خوش کن ہیں ،یقیناً حکمرانوں کو اپنے دوست ملک کی تیز رفتار ترقی سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے ،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ترکی نے یہ مقام کیسے حاصل کیا ۔ کیا پاکستان میں وہ پوٹینشل نہیں کہ وہ کم از کم ترکی کے ہم پلہ بھی نہیں ہوسکتا؟۔ تجزیہ نگاروں کے نزدیک 1980ءاور1990ءکے عشرے تک ترکی کا حال بھی پاکستان سے کوئی مختلف نہیں تھا۔ معیشت اور سیاست سمیت ہر شعبہ زوال پذیر تھا، لیکن ایک مخلص سیاسی قیادت نے جب زمام اقتدار سنبھالی تو اس نے دو چیزوں پر خصوصی توجہ دی۔ایک تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، دوسرا ترک عوام اور معاشرے میں ملک اور وطن کی بہتری اور ترقی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ تعلیم، عوامی شعور اور اقتصادی بہتری نے ترکی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ آج ترک عوام اچھے اور ب±رے کی تمیز کر چکے ہیں، کون ملک کے لئے بہتر سوچ رہا ہے اور کون ذاتی مفاد کے لئے کام کر رہا ہے ، لہٰذا وہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔ ترکی کی ترقی سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان گزشتہ چند عشروں سے جن معاشی، سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان سے نجات کیلئے ترکی کی معاشی واقتصادی پالیسیوں سے فائدہ اُٹھاناچاہئے۔1981ءسے 2003ءتک چار فی صد شرح نمو کے ساتھ قابل تقلید ترقی کی ہے، جس کے نتیجے میںگزشتہ دس سال سے بھی کم عرصے میں ترکوں کی فی کس آمدن دس ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی میں سیاحت باقاعدہ صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور اس مد میں سالانہ آمد ساڑھے تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس سے ترکی کو سالانہ تئیس ارب ڈالرز کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ بینکنگ، تعمیرات، الیکٹرونکس، گھریلو آلات، ٹیکسٹائل، تیل کی صفائی، پیٹروکیمیکلز، خوراک، کان کنی اور لوہے کی صنعت میںبھی ترکی کوایک خاص مقام حاصل ہے۔
طیب اردگان جب اقتدار میں آئے تو ترکی نے آئی ایم ایف کا 23.5بلین ڈالر قرض دینا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکیمانہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے پہلے قرض اتارا اور پھر آئندہ کسی قسم کا قرض نہ لینے کی ٹھانی جس میں نہ صرف وہ کامیاب رہے بلکہ آئی ایم ایف کے چنگل سے جان خلاصی کرائی۔کامیاب پالیسیوں سے افراط زر پر قابو پایا،عوامی فلاح کے کئی پروگرام شروع کئے،مثلاً 18سال کی عمر سے تمام افراد کو مفت طبی سہولتوں کی فرہمی، ریٹائرمنٹ کی عمر میں دھیرے دھیرے اضافہ، جس سے2036ءسے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہو جائے گی اور 2048ءمیں مرد اور عورت کے لئے یہی عمر برابر ہو جائے گی۔جدید ترکی کی ترقی کا راز اس کی پالیسیوں اور ا±ن پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمدمیں ہے۔ مغرب کیترقی کی تقلید میں حرج نہیں لیکن یہی راز ہمیں اپنے کسی دوست ملک سے مل جائے تو اس سے زیادہ سستا سودااور کیا ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک میں ایسی بہت سی اشیا خام مال ،افرادی قوت،تجربہ ،مشنری ،موجود ہیں جس کی دونوں ممالک کو ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس ،کپاس ، ٹیکسٹائیل ،یارن ،جراحی کے آلات ،ادویات کھلیوں کا سامان خام چمڑہ،مصنوعات ،چاول ،زرعی اجناس ،پھل ،دودھ ،گوشت ،سیمنٹ ،ماربل ،سستی افرادی قوت،کوئلہ،نمک وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ ترکی کے پاس توانائی ،مشینری ،آٹو موبائل ،تجربات ،تعمیرات کا فن ،پیکنگ مصنوعات کا عالمی معیار ونڈ سولر،اور ہائیڈروانرجی سسٹم ،سیاحت جیسے کامیاب شعبے موجود ہیں جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب متوجہ کرنے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے لیکن اصل ضرورت ترکی کی پالیسیوں کو آزما کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

کیا بی جے پی کا زوال شروع ہو گیا ہے؟

riaz-ahmed

حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست بہار میں ذلت آمیز شکست نریندر مودی کیخلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور مسلم کش فسادات کی سیاست بھی بی جے پی کو شکست سے نہیں بچا سکی۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر کے بعد نہتے مسلمانوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی میں مظلوم کشمیریوں کیلئے اقتصادی پیکج کے دعوے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی نے ریاست بہار میں انتخابات سے قبل ہند وانتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دیکر نہتے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کر دی۔ کبھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر مسلم کش فسادات برپا کئے گئے۔ اخلاق احمد جیسے بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا تو کبھی عیسائیوں وسکھوں کی عبادت گاہوں اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی گئی۔ اسی طرح نچلی ذات کے ہندوﺅں پر بھی بربریت کی انتہا کر دی گئی اور پورے ہندوستان میں طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا۔بی جے پی کی قیادت سمجھتی تھی کہ شاید اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ وہ ہندوﺅں کے جذبات بھڑکا کران کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی لیکن بی جے پی کے اس نظریہ کو بہار کے غریب عوام نے مسترد کر تے ہوئے انتہا پسندوں کے غروروتکبر کو خاک میں ملا دیا ۔
بی جے پی نے مذکورہ ریاستی انتخابات جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ہندوﺅں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کیلئے پاکستان دشمنی کی بھی انتہا کر دی گئی لیکن اس سب کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ بہار کے 243 کے ایوان میں مودی کی قوم پرست پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو صرف 58 نشستیں حاصل ہو سکیں۔ جبکہ ان کے مدمقابل بہار کے سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار، لالو پرشاد اور کانگریس کے گرینڈ الائنس ”جنتا دل“ کو 178 نشستیں حاصل ہو گئیں جو ایوان کی دو تہائی اکثریت ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی کی اپنی صرف 53 نشستیں ہیں جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بہار کے عوام نے مودی کی انتہا پسند پالیسیاں یکسر مسترد کر دی ہیں چنانچہ پاکستان دشمنی اور گائے کارڈ بھی ان کے کسی کام نہ آیا۔ انہوں نے بہار میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے کے لیے ریکارڈ 30 انتخابی جلسے کیے اور مسلم دشمنی کے جذبات ابھارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر بہار کے عوام نے ان کو اس انتہا پسندانہ سوچ کی بنیاد پر ٹھینگا دکھا دیا اور ان کے ہندو ازم کے بھوت کی بھی خوب ٹھکائی کی۔ اس انتخاب کے نتیجہ میں دو بار وزیراعلیٰ رہنے والے نتیش کمار کی بطور وزیراعلیٰ تیسری ٹرم کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے جن کی پاکستان کے ساتھ سازگار دوستانہ تعلقات کی خواہش کے پیش نظر بھارت کے سیاسی پنڈت بھارتی سیاست میں ان کے مودی کے مدمقابل آنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
مودی سرکار نے ریاستی اسمبلی بہار کے انتخابات کے حوالے سے ہندوازم کے فروغ پر مبنی جارحانہ پالیسی اختیار کی اور اس پالیسی کے تابع ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے بھارتی مسلمانوں کی تضحیک کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان سے آنے والے دانشوروں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور دوسرے مکاتب زندگی کے لوگوں کو بھارت سے واپس جانے پر مجبور کرنے کے جارحانہ اقدامات کا بھی آغاز کیا۔ جن کے خلاف مودی سرکار نے کسی قسم کی کارروائی نہ کر کے ان غنڈوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کا عندیہ دیا ۔چنانچہ مودی سرکار کی ان انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بیرونی دنیا میں بھی سخت ردعمل پیدا ہوا اور خود بھارت کے اندر اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی۔ بھارتی دانشوروں اور فنکاروںنے مودی سرکار کی اس پالیسی کو بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ سے تعبیر کیا اور اپنے اعلیٰ سرکاری میڈل واپس کر کے اپنے سخت ردعمل کے اظہار کا سلسلہ شروع کیا۔
بہار میں بی جے پی کی شکست کو مودی کی تعصب اور عدم برداشت کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے لوگ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں اس لئے بہار کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی نفرت کی سیاست کو شکست دی ہے۔ اب بہار کے عوام کے مینڈیٹ کے مطابق نتیش کمار ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے جو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دوبار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور اپنے ملک واپس جا کر بھی پاکستان بھارت خیر سگالی کے دوستانہ تعلقات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ یقیناً اب ان کی یہ سوچ اور سیاست بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست پر حاوی ہو گی۔
اپنی انتہا پسندی کا مودی سرکار نہ صرف ریاستی انتخابات میں خمیازہ بھگت رہی ہے بلکہ اس کی قومی سیاست کو بھی سخت دھچکا لگ رہا ہے۔ چنانچہ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی اس سیاست کا بولورام ہونے کا قوی امکان ہے۔اگر یہی حال رہا تو بی جے پی کو آنے والے انتخابات میں دیگر ریاستوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عمران خان…. بعض ڈاکٹرحضرات ،چھوٹا نہیں، بڑا مافیا

ejaz-ahmed

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان سے کئی ایسی غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف اُسکی سیاسی ساکھ نُقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُنکی مقبولیت میں کمی کا با عث بھی بن رہی ہیں۔ مگر جہاں تک عمران خان کے اُس سٹیٹمنٹ اور بیان کا تعلق ہے جس میں عمران خان نے بعض ڈاکٹروں کو ما فیا کہا ہے ،تو میرے نا قص خیال میں عمران خان کا یہ بیان 100 فی صد نہیں بلکہ120فی صد صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔اگر عمران خان کے اس قسم کے بیان سے بعض ڈا کٹر حضرات سیخ پا ہو رہے ہیں یا اس بیان اور سٹیٹمنٹ کو غلط کہہ رہے ہیںتو اس میں کوئی عقلی دلیل نہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات پر غور کر لیں ڈا کٹروں کی اکثریت نے خیبر پختون خواکے زیادہ تر شہروں میں کلینکس، لیبا رٹریاں اور دوائیوں کے سٹورز، ایکسرے،ای سی جی ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی کی مشینیں لگائی ہوئی ہیں اور وہ ہفتے کے مختلف دنوں میں مختف شہروں میں قائم ان کلینکوں اور لیبا رٹریوں کا وزٹ کرکے، مریضوں کو دونوں ہا تھوں سے خوب لو ٹتے اور سرکاری ڈیوٹی سے جان چُھڑاتے ہیں۔ اپنی بھا ری فیسوں کے علاوہ دوائیاں بھی بیچتے ہیں اور مختلف قسم کے مہنگی ٹسٹ بھی مریضوں کو تجویز کرتے ہیں۔یہ ڈاکٹر حضرات سرکاری ہسپتا لوں کے بجائے زیادہ وقت اپنے کلینکوں اور لیباٹریوں کو دیتے ہیں۔ جن ہسپتالوں میںیہ ڈا کٹر کام کر رہے ہوتے ہیں،وہاں پر مریضوں کے ساتھ انکا رویہ وہ نہیں ہوتا جو اُنکا مریضوں کے ساتھ اپنےپرائیویٹ کلینکس میں ہوتا ہے۔کئی دوا ساز ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اپنی نئی پروڈکٹ تیار اور لنچ کر کے ڈا کٹروں کو بھاری رقوم اور مختلف سہولیات اور مراعات دیکر ان سے مریضوں کو لکھواتے ہیں۔ اسی طر ح دوا ساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات دونوں غریبوں کولوٹ کر خوب کمائی کرتے ہیں۔وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختون خوا میں ڈاکٹروں کی فیس لینے کے لئے کو ئی معیار اورقاعدہ مقرر نہیں۔ایک ڈاکٹر ایک سرجری کے لئے ایک فیس اور دوسرا ڈاکٹر اس قسم کی سر جری کی دوسری فیس لیتا ہے ۔اگر اس میں ہزار دو کا فرق ہو تو پھرکوئی بات نہیں مگر اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ان میں حد سے فرق اور تفاوت ہوتا ہے۔میں کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جو کئی دواسا ز کمپنیوں سے پیسے لیکرمریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی دوائیاں لکھواتے ہیں ۔ میں شام کو ایک کیمیسٹ کے دکان پر بیٹھا رہتا ہوں ۔ وہاں پر مخلف ڈاکٹروں کے نُسخے آتے ہیں ان نُسخوں میں کئی ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جنکی قیمتیں انتہائی زیادہ ہوتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر مریضوں کو اس قسم کی دوائیاں بلا ضرورت لکھواتے ہیں کیونکہ اسکے عوض وہ دواساز کمپنیوںسے مختلف قسم کی ناجائز مراعات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے اس قسم کے رویوں کا دو طریقوں سے علاج کیا جا سکتا ہے ایک دین سے اور دوسرا قانون سے۔ بد قسمتی سے دین کو ہم نے چھوڑا ہے ۔اور اگر ہم مسلمان ہیں تو برائے نام اور وراثتی۔ اگر ایک انسان کاصرف اس بات پر یقین ہو کہ اُس نے مرنا ہے اور اللہ کو جواب دہ ہو نا ہے تو میرے خیال میں اُس سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ بڑا گناہ یعنی گناہ کببیرہ سے پہلے وہ 100 دفعہ سوچے گا، مگر بد قسمتی سے اُس دین کو جس کو غیر مسلموں نے اپنا یا ہوا ہے اُس سے مُستفید ہو رہے ہیں اور ہم نے اس دین کے ساتھ برائے نام منسلک ہیں۔ دوسرا اس قسم کے مسائل علاج قانون سے کیا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے اسکانفا ذ صرف غریب کے لئے ہے ، امیر کے لئے کوئی قانون نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرا ت اس میںلو پ ہول نکالتے ہیں اور ناجائز کمائی کرتے ہیں۔اکثر دوا ساز کمپنیوں کی طر ف سے ڈا کٹر حضرات کو گا ڑیاں دی جاتی ہیں انکو بیرون ملک سیر و سیاحت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اُنکو عمرے اور حج کروائے جاتے ہیں ۔ اُنکی بچوں کی سکولوں اور کا لجوں کی فیسیس دی جاتی ہیں ۔ انکے لئے پلاٹ خریدے جاتے ہیں انکی کو ٹیاں دواساز کمپنیوں کی طر ف سے بنائی جاتی ہیں ۔ انکے کلینکس کیلئے فر نیچرز اور دوسری چیزیں خریدی جا تی ہیں۔اور یہ سب کچھ اسلئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کے کرتوتوں سے ڈاکٹر حضرات اور دواساز کمپنبیاں دونوں نا جائز طریقے سے اپنا پیٹ دو زخ کی آگ سے بھرتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے اپنے نر سنگ ہوم کھولے ہوئے ہیں ، جس میں وہ مریضوں کو ایڈ مٹ کرتے ہیں اور یوں ہسپتال کی جگہ ان نر سنگ ہومز اور میڈیکل سنٹرز میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک والد نے اپنے لخت جگر ہسپتال میں دا خل کر وایا ۔ ڈا کٹر نے بچے کو اتنے مہنگے انجکشن لکھوائے کہ والد نے جمع پو نجی ختم ہو نے کے بعد لخت جگر کی جان بچانے کےلئے جانور بیچنا شروع کئے۔اگر ہم غو ر کر لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری اور حکمت کا شعبہ جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے بعض ڈا کٹر حضرات نے اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں اور عبادت کے بجائے اس پیشے سے صرف لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ میں سٹیلائٹ ٹاﺅن میں واقع ایک ماہر چشم اور ہو لی فیملی ہسپتال کے ایک پروفیسر کے پا س چیک کر نے گیا ۔ایک ہزار روپے فیس دینے کے بعد ڈا کٹر صا حب نے میری آنکھوں کا معائنہ کیا ۔ اور دو ہزار مزید فیس ایک اور ٹسٹ کرنے کی لے لی۔پر و فیسر کے مطابق میرے آنکھوں میں سفید اور کالا مو تیا دونوں بن رہے تھے ´۔ میں نے ڈاکٹر صا حب سے نظر چیک کر نے کو کہا ´مو صوف نے میری نظر چیک کی اور عینک بنانے کا کہا۔میں نے نزدیک شفاءآپٹیکل میں عینک بنوانے کا آرڈر دیا ۔ دو دن بعد جب عینک پہن کے چیک کرنے لگا تواُن میں کچھ نظر نہیں آر ہا تھا۔میں ایک اور پر و فیسر اور ما ہر چشم کے پا س چلا گیا اور اس سے استد عا کی کہ وہ میری آنکھوں کا پو را طبی معائنہ کر لیں۔اُنہوں نے کا فی معائنے اور تشخیص کے بعد کہا کہ آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں البتہ نظر میں تھو ڑی سی تبدیلی آ رہی ہے ۔میں نے پو چھا کیا میری آنکھوں میں سفید یا کالا مو تیا بن رہا ہے ، ڈا کٹر نے کہا اللہ کے فضل سے ایسی کوئی بات نہیں۔ اُنہوں نے میری نظر چیک کی اور اُسی نُسخے کے مطابق عینک تیا ر ہوئی اور اب اللہ کے فضل وکرم سے میری دور اور نزدیک کی دونوں نظر ٹھیک ہے۔ اکثر زنانہ مریضوں کو بچے کے پیدائش کے دوران آپریشن کی بھی ضروت نہیں ہو تی مگر قصائی ڈاکٹر اُنکا آپریشن بغیر کسی ضرورت کے کر واتے ہیں۔ پنڈی میں ایک ای این ٹی سپیشلسٹ کو جانتا ہوں جو بھی مریض اُس کے پاس جاتا ہے وہ ۵۹ فیصد مریضوں کا گلے یا ناک کا آپریشن بلا ضرورت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ڈا کٹر چھوٹا ما فیا نہیں بلکہ بڑے بڑے اژدھے اور سانپ ہیں جو غریب وگوں کو نگل رہا ہے۔

بہار تا لندن ۔۔ مودی ان ٹربل !

asghar-ali

آٹھ نومبر کو بہار کے انتخابی تنائج آئے ۔ لگتا ہے کہ مودی کے خلاف مکا فات عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔ موصوف کا زوال اس تیزی سے شروع ہوا ہے جس کی توقع چند روز پہلے تک بھی کسی کو نہیں تھی ۔ایک جانب بہار سے BJP کے ارکان لوک سبھا ” حکم دیو نورائن “ اور ” بھولا سنگھ “ نے مودی اور RSS چیف ” موہن بھاگو “ ت کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی تو دوسری طرف BJP کی سینئر قیادت یعنی ” لعل کرشن ایڈوانی “ ، ” ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی “ ، ” یشونت سنہا “ اور ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ” شانتا کمار “ نے باقاعدہ مشترکہ بیان جاری کرتے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ BJP نے دہلی کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اسی وجہ سے اسے بہار میں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فتح کا سہرا تو مودی اور امت شاہ اپنے سر باندھ لیتے ہیں اور شرمناک ہار کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی ایک یا دو افراد ذمہ دار نہیں بلکہ یہ ہار پوری BJP قیادت کی ہے اور اس ہار کے ذمہ دار مودی اور امت شاہ خود ہی شکست کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھ گئے ہیں حالانکہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کے تحت اس صورتحال کے ذمہ دار خود جائزہ لینے یا تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔
بہار کے لوک سبھا حلقے بیگو سرائے سے رکن لوک سبھا ” بھولا سنگھ “ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ” مودی نے وزارت عظمیٰ کے منصب کی توہین کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک جانب سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں پر تنقید کر کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھارت کی داخلی سیاست میں انتخابی مُدّا بنا کر خوامخواہ سفارتی حوالے سے بھارت کو خفت کا سامنا کرایا اور مسلمانان ہند کو اجتماعی طور پر BJP کے خلاف کر دیا جبکہ بہار سے BJP کے رکن ” حکم دیو نارائن “ نے اس ہار کے لئے RSS کے چیف موہن بھاگوت کے اس بیان کو ذمہ دار ٹھہرایا جس میں موصوف نے بہار الیکشن سے عین پہلے نچلی ذات کے ہندوﺅں کو حاصل نوکریوں اور اسمبلیوں میں مخصوص کوٹہ آئینی طور پر ختم کرنے کی بات کی جس سے اچھوت ہندو BJP کے خلاف ہو گئے ۔
ممتاز فلمی ادارکار اور BJP کے رہنما شتر و گھن سنہا المعروف ” بہاری بابو “ اور BJP کے مرکزی جنرل سیکرٹری ” کیلاس وجے ورگی “ نے تو ایک دوسرے کو کتے سے تشبیہ دے دی ۔ اس کی پہل کیلاش وجے ورگی نے کی جن کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے ۔ انہوں نے شترو گھن سنہا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ” گاڑی کے نیچے چلنے والا کتا یہ سمجھتا ہے کہ گاڑی اس کے دم سے چل رہی ہے “ ۔ جواب میں شترو گھن سنہا نے ٹوئیٹ کیا کہ ” ہاتھی جائے بہار ۔۔کتے بھونکیں ہزار “ ۔ یوں اس جنونی پارٹی کے رہنماﺅں میں جوتیوں میں دال بانٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بیرونی محاذ پر نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں بہار میں شکست کے لئے پوری طرح مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ اقلیتوں اور دیگر پسماند ہ طبقات کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے سر پرست ہیں ۔ اسی طرح برطانوی اخبارات ” دی گارڈین “ ، ” ڈیلی ٹیلی گراف “ وغیرہ نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بارہ نومبر سے شروع ہونے والا مودی کا دورہ لندن بہار کی ہار سے بری طرح متاثر ہو گا اور بھارت کی نام نہاد ترقی کے دعوے اور مودی کی کرشماتی قیادت کا امیج گہنا کر رہ جائے گا ۔
عام مبصرین نے بھی کہا ہے کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی غیر انسانی پالیسیوں کی وجہ سے قانون فطرت ان کے خلاف حرکت میں آ چکا ہے اور ا ن کے حوالے سے مکا فات عمل کا آغاز ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گرد گھیرہ تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کے نتائج نہ صرف مودی کے لئے بھیانک ثابت ہوں گے اور دورہ برطانیہ میں ان کے خلاف سخت احتجاج ہو گا بلکہ مجموعی طور پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہو گی ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں نے اپنی پنشن کے حوالے سے ایوارڈ واپسی کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اسطرح اس امر کا حقیقی خدشہ ہے کہ انڈین آرمی کا مورال بھی متاثر ہو گا ۔ یوں مودی کے اچھے دن غالباً گزر چکے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چیئرمین سینیٹ کی توہین

Azam-Khanسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دئیے جانے والے اردو زبان کے حق میں تاریخی فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر کا یہ عالم ہے کہ جس دفتر میں جائیں وہاں پہ کلرک سے لیکر آفسر اعلیٰ تک مقتدرہ قومی زبان کی شائع کردہ کتاب ” دفتری اردو“کے مطالعے میں غلط دکھائی دیتے ہیں اور ٹائپسٹ و کمپیوٹر حضرات اردو تختہ پہ تختہ مشق دکھائی دیتے ہیں اور ہو ں بھی کیوں نہ کہ حکم سب سے بڑی عدالت کا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ تمام تر عدالتی کارروائی اور سرکاری دفتری کارروائی اردو زبان میں ہونی چاہیے ۔ اردو زبان کے ساتھ برصغیر میں سوتیلی والا سلوک اس وقت شروع ہوا تھا جب انگریز بہادر نے مسلمان حکومت کا بسترا گول کرکے یہاں پر اپنے راج کا جھنڈا گاڑا چونکہ مسلمان شکست خوردہ تھے اس لئے ان کی زبان میں بات کرتے ہوئے انگریز بہادر اپنی تضحیک محسوس کیا کرتے اس لئے اردو کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئے انگریزی زبان کی گڈی چڑھائی گئی ، جگہ جگہ فروغ انگریزی زبان کے سکول کھولے گئے جسے اس وقت کے شرفاءفرنگی سکول سمجھتے تھے اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم دلوانا معیوب تصور کرتے تھے اس پیدا ہونے والے حلا ءکا فائدہ بنیاءجی نے اٹھایا اور اس نے انگریز کے ساتھ اپنی قربت کو بڑھانا شروع کردیا ۔ آزادی سے پہلے برصغیر پاک و ہند کی سرکاری زبان اردو ہی تھی جسے اردو معلیٰ کہا جاتا تھا مگر جب یہ معتوب ٹھہری تو پھر آہستہ آہستہ ، رفتہ رفتہ پس منظر میں جاتی گئی ۔ قیام پاکستان کے بعد اصولاً تو سرکاری زبان ،دفتری زبان ، عدالتی زبان اردوہونا چاہیے تھی مگر انگریزوں کی صحبت میں اپنے ایام گزارنے والے سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس طرح کیا کہ سرکاری زبان کو ٹھہری انگریزی اور قومی زبان کا درجہ اردو کو دے دیا گیا یہ بات کرتے ہوئے مجھے سکھوں کا لطیفہ بھی یاد آرہا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل امرتسر میں ایک خالصہ کالج بنایا گیا جہاں سکھوں کو ان کی مذہبی و دنیاوی تعلیم دینے کا اختتام کیا گیا تھا اس پر لاہور جہاں سکھوں کی کثیر آبادی قیام پذیر تھی اس فیصلہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے شور مچایا کہ ہمیں بھی خالصہ کالج کا حصہ چاہیے اس پر سردار صاحبان کے گورو سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ کیا کہ کالج تو امرتسر میں ہی رہے گا البتہ لاہور کے سکھوں کیلئے لاہور میں اس کالج کا ہاسٹل بنا دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ طے کیا گیا کہ 25برس کے اندر اندر اردو سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرلے گی مگر یہ 25برس کبھی پورے ہونے میں نہ آئے ۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایک آزاد ریاست جموں وکشمیر کی حکومت نے سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ریاست کی سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان اردو قرار دے دی گئی چنانچہ آج وہاں پر بڑی کامیابی کے ساتھ یہ کام ہورہا ہے ۔ اردو زبان کے ساتھ ہمارے حکمران کس قدر مخلص ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں اردو زبان کے فروغ کیلئے بنائے جانے والے قومی ادارے کے دفتر کے باہر جو بورڈ نصب کیا گیا ہے وہ انگریزی زبان میں تحریر ہے اور اس پر جو تحریر درج ہے وہ کچھ یوں ہے ” نیشنل لینگویج اینڈ پروموشن اتھارٹی“ جب فروغ قومی زبان کا ادارہ انگریزی استعمال کرے گا تو ایک عام آدمی بھلا اردو سیکھ کر اپنا وقت کیوں ضائع کرے گا۔ مگر گزشتہ سے پیوستہ روز ایک اور عجیب واقعہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی چیئرمین سینٹ کی درخواست پر وہاں تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنا خطاب اردو زبان میں کیا یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ میزبان رضا ربانی صاحب جوٹھیٹ لاہوری کلچر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی قابلیت کا اظہار انگریزی زبان میں تقریر کرکے کیا۔ چیئرمین سینیٹ کو انگریزی زبان سے شاید لگاﺅ زیادہ ہے اسی لئے جب جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انہوں نے سینٹ کے ممبر کے طورپر حلف لینا تھا تو پہلے وہ احتجاج کرتے رہے کہ میں حلف نہیں لوں گا جب سب ارکان نے حلف اٹھا لیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اب اپنا حلف انگریزی زبان میں اٹھاﺅں گا۔ اکبر آلہ آبادی نے بہت عرصہ پہلے شاید ان جیسے لوگوں کیلئے کہاتھا۔
سنا ہے بہشت بریں میں زباں ہے عرب کی
اور ہم نے تو سیکھی ہے انگلش غضب کی
اپنی زبان کو نظر انداز کرکے کسی دوسری زبان کو فوقیت دینا یا اس زبان میں بات کرنااحساس کمتری کی علامت ہے ۔ چیئرمین سینٹ کو چاہیے تھا کہ وہ معزز مہمان کے احترام میں اپنی قومی زبان میں ہی بات کرتے تو اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کا پہلو بھی نہ نکلتا اور شاید میرے اس کالم کے لکھنے کا جواز بھی نہ بنتا۔

فیاض الحسن چوہان بمقابلہ شیخ رشید

uzair-column

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں اسپیکر کیلئے اپنا امیدوار کھڑا کرنا ،مقابلہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کپتان نے این اے 122کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرلیا ہے اور اب عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو اسی طرح پٹڑی پر رواں دواں رہنے دیں مگرابھی وہ یہ کہتے سنے جارہے ہیں کہ مجھے این اے 122میں تیسری مرتبہ انتخابات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ یہاں پر الیکٹرول دھاندلی ہوئی ہے ۔پہلی مرتبہ بھی پی ٹی آئی کو یہاں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا پھر دوسری مرتبہ بھی اسی طرح کے نتائج نکلے ۔جیت ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے جیت جیت ہوتی ہے پھر پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ یہ بات ایاز صادق سے نہ کہنا وہ تو تیسری مرتبہ بھی مقابلے کیلئے تیار ہوجائیں گے کیونکہ اب یہ بات ایاز صادق کو معلوم ہے کہ عوام نے جو فیصلہ دیا ہے پھر بھی وہ یہی فیصلہ دینگے ۔پاکستان تحریک انصاف اس انتخاب کے بعد بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں بھی اوندھے منہ گر پڑی ہے ۔ایک امیدوار جس کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ اس کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے وہ بھی فتح حاصل کرنے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوگیا۔ابھی تک باقی دیگر آزاد امیدواروں کی جانب سے بھی کچھ ایسی ہی آوازیں آرہی ہیں کہ وہ بھی ن لیگ ہی کی حمایت کریں گے ۔سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی تقریباً سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق ہی کی حمایت کی اور وہ دو تہائی اکثریت سے فتحیاب ہوکر سپیکرقومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں ۔اس کے بعد شفقت محمود نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ان سے تعاون کریں ۔اب پی ٹی آئی کے پاس تعاون کرنے کے علاوہ اور کون سا راستہ اب تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ہی پی ٹی آئی کوسیاست کرنا پڑے گی ۔پی ٹی آئی جو اپنے آپ کو اس وقت ملک کی دوسری سیاسی جماعت کہتی ہے ہوسکتا یہ صحیح بھی ہو بہرحال دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔پی ٹی آئی کا ایک بڑا ہی جذباتی سپوکس مین جو کہ اکثروبیشتر نجی ٹی وی چینلز پر بڑی ہی دھواں دار گفتگو کرتا تھا اور پی ٹی آئی کا نقطہ نظر بھرپور انداز سے پیش کرتا تھا ۔اس کے پاس ثبوت بھی تھے وہ آﺅٹ سپوکن بھی تھا مگر نامعلوم کون سی ایسی وجوہات ہوئیں کہ اس کو ایک دن اس کے عہدے سے فارغ کردیا گیا وہ بے چارہ اس معاملے میں بڑا پریشان تھا اس نے تو ایک طویل اننگ کھیلنے کا سوچ رکھا تھا جہاں بھی جاتا تھا کپتان کی پگڑی کو بلند رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا ۔پھر جب ایک ایسا انہونا فیصلہ سامنے آیا تو وہ گویا کہ جیسے پھٹ پڑا کہتا رہا کہ میرا کیا قصور ہے پھر آخرکار اس نے ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں اس نے حلف اٹھایا اور یہ کہا کہ میرے خلاف شیخ رشید نے یہ سارا جال بنایا ہے ۔اب قارئین کرام سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف فیاض الحسن چوہان ہے ۔فیاض الحسن چوہان ایک انتہائی ایکٹو سیاسی کارکن ہے ۔یہ بہت پہلے شباب ملی میں رہا ،پھر راولپنڈی میں ایک آسیہ ایوب کیس ہوا اس میں فیاض الحسن نے آواز ٹھا کر بہت شہرت پائی پھر یہ آہستہ آہستہ سفر چلتا رہا،چونکہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی پھر جب فیاض الحسن چوہان نے یہ دیکھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کا بول بالا ہونے والا ہے تو اس نے چھلانگ لگا کر پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا کیونکہ اس نوجوان سیاستدان کے اندر ایسی صلاحتیں موجود تھیں جس کی وجہ سے یہ ترقی کرتا چلا گیا مگر چونکہ اس کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ سفر بہت کٹھن ہے اوراس میں آگے نکلنے کیلئے بہت ٹھنڈے ٹھنڈے اور دھیمے دھیمے چلنا پڑتا ہے گرم گرم نوالہ کھا لینے سے اپنا ہی منہ جل جاتا ہے اور تیز چلنے سے اگر آدمی گر پڑے تو اس کے اپنے ہی دانتوں کو نقصان پہنچتا ہے اب دیکھنے کی یہ بات ہے کہ فیاض الحسن نے جو یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا شیخ رشید کا تھا تو اس میں کتنی حقیقت ہے ۔دوسری جانب سے اس کی نہ کوئی تردید آئی ہے اور نہ ہی تصدیق ہوئی ہے ۔کچھ واقفان حال اور بھی کہانی سناتے ہیں کہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ درپیش آیا۔کچھ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات تھے ،کوئی کچھ چاہ رہا تھا کوئی چاہ رہا تھا ۔ان کی تقسیم کی وجہ سے بھی مسائل درپیش ہوئے ۔بہرحال اب تو کپتان نے فیصلہ کرلیا ہے اور ابھی کے پی کے حکومت میں بھی ایک ممبر کے لیے نوٹیفکیشن تقریباً تیار ہوچکا ہے اسے بھی تحریک انصاف سے اللہ حافظ کہہ دیا جائیگا ۔اب کپتان جب اس قسم کے ایکشن لے رہا ہے تو اس کو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی کی ٹرین میں کون کون سوار ہورہاہے اب پھر پارٹی سے نکالنے پر یہ لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کریں گے ۔پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی اتنا نقصان ا ٹھا چکی ہے اور اب پھر ان فیصلوں کے بعد 2018ءکے انتخابات میں بھی نئے نقصان کیلئے تیار رہے ۔ابھی تو دوسرا باب کھلا ہی نہیں ہے ۔ریحام خان نے پاکستان واپس آنا ہے اوراس کے بعد وہ سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گی اور بہت زیادہ امکانات یہ غالب ہیں کہ انہیں کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت شمولیت کی دعوت دے گی اور پی ٹی آئی بہت خوب جانتی ہے کہ کون سی جماعت ریحام کو شمولیت کی دعوت دے سکتی ہے اس کے بعد پی ٹی آئی کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین بھی برباد ہوجائیگا ۔

مودی کے منہ پر طمانچہ

uzair-column

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جو اس وقت انڈیا میں ایک مطلق العنان کی حیثیت اختیار کرچکا ہے شاید وہ اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو اس زمین سے نیست ونابود کردیا جائیگا ۔کبھی وہ پاکستان کیخلاف زہرافشانی کرتا ،کبھی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی پھر اس نے گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور وہاںپر کشمیریوں کے خون کا اس نے سودا بھی کیا اور ہر طرح سے جھوٹ سچ جوڑ کر مودی نے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی حمایت حاصل کرلے ۔پیکجز کا بھی اعلان کیا گیا اور بھی بڑے سبزباغ دکھائے گئے اور مودی نے یہ بھی کہا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پرکسی کی رائے قبول کی جائے گی ۔اس کے دورے سے قبل وادی میں ایک ہو کا عالم تھا کشمیری رہنماﺅں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا تھا ،نوجوانوں کیلئے سڑکوں پرنکلنا ممنوع قرار دیدیا گیا تھا،فضائی نگرانی علیحدہ کی جارہی تھی جبکہ سڑکوں پر اس کے پالتو فوجی ہی فوجی نظر آرہے تھے ۔اتنے سخت حفاظتی اقدامات میں مودی کا آنا اس بات کی واضح مثال تھا کہ اس کو یہاں پر کوئی حمایت حاصل نہیں پھر یہ بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب مودی کے جلسے میں آنیوالوں نے انڈیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زبردستی ٹرکوںمیں بھر کر لایا گیا اس کے عوض پیسے دئیے گئے اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ تمہاری ملازمتیں پکی یعنی کہ ریگولر کردی جائیں گی ۔اس دھوکا دہی سے لوگوں کو لاکر اس جلسے کو کامیاب بنانے کی ناکام کوشش کی گئی چونکہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی کشمیری نے مودی دہشتگرد کے جلسے میں شرکت نہیں کی پھر کانگریس کے رہنما اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مودی ایک فاشسٹ حکمران ہے اس کے دن اب گنے جاچکے ہیں ۔جیسے ہی یہ دورہ ختم کرکے گیا اگلے دن بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں انتخابات کا انعقاد تھا ۔دراصل مقبوضہ کشمیر کا مودی کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کیخلاف اورکشمیر کیخلاف زہراگلے گا اور پھر اسے بہار میں ووٹ ملیں گے ۔مگر اس کے ظلم وستم سہ سہ کر اب بھارتی عوام یہ جان چکی ہے کہ اگر مودی حکمران رہا تو بھارت میں کوئی مذہب ،کوئی غریب ،کوئی مسلمان ،کوئی سکھ ،کوئی شودربھی محفوظ نہیں،ظلم تو یہاں تک پہنچا کہ اگر کسی نے گائے کا گوشت کھانا تو دور کی بات یہ بھی کہہ دیا کہ یہ صحت کیلئے مفید ہے تو اس کیخلاف مودی کے پالتو شرپسند سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے وہ انارکی مچائی جس کی وجہ سے جمہوریت کا منہ سیاہ ہوگیا اورشاید اب کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے ۔ریاست بہار کے انتخابات میں مودی کے منہ پر طمانچے ہی طمانچے لگے اوراس بری طرح سے اسے شکست ہوئی کہ شاید وہ خواب میں بھی نہ سوچ سکتا ہو اس کا کوئی بھی منجن فروختگی میں کامیاب نہ ہوسکا اورجوبھی اس نے دارو کیے وہی اس کے کیخلاف گئے ۔لالو پرساد نے تو مودی کو کہہ دیا ہے کہ وہ یا تو حکومت چھوڑ دے نہیں تو ہمیں دہلی پر چڑھائی کریں گے ۔جہاں تک انتخابات کا معاملہ ہے تو بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے انتخابات میں مودی سرکار کی انتہا پسندی ہار گئی ،بی جے پی کو عبرتاک شکست کا سامنا،جنتا دل نے سادہ اکثریت حاصل کر لی، حکمران جماعت نے شکست تسلیم کرلی ۔مودی کو نہ پاکستان کی مخالفت کام آئی ، نہ گائے کے گوشت کا منجن بِکا۔بہار نے مودی کو آئینہ دکھادیا ،مودی سرکار کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پاکستان اور مسلم مخالف اقدامات،بیانات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔بھارتی جنتا ، نے بی جے پی کے تخت کا تختہ کردیا۔ فیصلہ سنادیا کہ بھارت میں عوام کو ایک دوسرے سے نہیں لڑایا جاسکتاہے۔بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق کل 243سیٹوں میں سے جنتا دل یونائیٹیڈاور آر جے ڈی نے 177پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ بی جے پی محض 60سیٹیں ہی لے سکی ہے ،6سیٹیں دیگر جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال نے بہار اسمبلی الیکشن کو نفرت کی سیاست کرنے والے لوگوں کے ’گال پر طمانچہ‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی کو ’بیرون ممالک گھومنا چھوڑ کر‘ حکومت چلانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا رےاستی انتخابات مےں ناکامی کے وزیراعظم مودی یا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ، پارٹی کی شکست کے اسباب کا جائزہ لےا جائے گا۔جبکہ لالو پرساد نے بی جے پی حکومت کے خلاف تحرےک چلانے کا اعلان کردیا اور کہا کہ تیش کمار ہی بہار کے وزیر اعلی رہیں گے،مودی سرکار کو بھارت سے اکھاڑ پھینکیں گے۔اب بھارتی عوام مودی کو اس طرح نیست ونابود کرے گی کہ نہ صرف مودی عبرت کا نشان بنے گا بلکہ شیوسینا کو بھی بھارتی قوم زمین کی گہرائیوں میں اتار کر ہی دم لے گی ۔آنیوالے بھارتی انتخابات میں بھی مودی کو کہیں بھی منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

Google Analytics Alternative