کالم

جنرل راحیل شریف قوم اورپاکستان کو آپکی ضرورت ہے

اس میں شک کوئی نہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہونے میں ابھی10مہینے باقی ہیں ۔ مگرراحیل شریف نے سیاسی لیڈروں کے بیانات اورگر دشی افواہوں کے پیش نظر اس بات کی وضا حت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دوران ملازمت میں تو سیع کے خواہاں نہیں۔ ملک کے مختلف سیاسی پا رٹیوں،جس میںپاکستان پیپلز پا رٹی، پی ایم ایل (ن)،تحریک انصاف ،اور ایم کیو ایم شامل ہے ،انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی اس بیان کو سراہا اور اس کو جمہور یت اور ملکی جمہوری نظام کے لئے نیک شگون قرار دیا۔ایک معقولہ ہے کہ بغل میں چھری اور مُنہ پہ رام رام۔ پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی صورت راحیل شریف کی مدت ملازمت کی تو سیع کی حق میں نہیں۔وہ ملک میں اپنی مر ضی کی حکومت کرنا چاہتے ہیں جسکی راہ میں بڑی رکا وٹ فوج اور موجودہ سپہ سالار ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فوج کا ماضی میں کردار زیادہ اچھا نہیںرہا اور اُس سے ایسے ایسے غلطیاں سر زد ہوئی ہیںجو نا قابل معافی ہے۔ مگر ملک میںدہشت گردی اور انتہا پسندی کے پسے پاکستانی ،راحیل شریف کے ماضی قریب کے اقدامات سے متا ثر ہوکرآس لگائے بیٹھے ہیں کہ سپہ سالار وطن عزیز میں امن وآمان بحال کرنے میںضرور کامیاب ہوگا ۔ مسلح افواج اور سپہ سالار نے وطن عزیزمیں بحالی امن کے لئے جو اقدامات کئے ہیںعوام اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں تو سیع چاہیں یا نہ چاہیں مگر 90 فی صد عوام، مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین کی اس بات کی قطعاً حمایت نہیںکرتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچے۔عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی کی جنگ کو جاری رکھنے اور امن و آمان کی بحالی تک چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی دوران ملازمت میں تو سیع کرنی چاہئے۔ پا کستانیوں کاعوامی ر د عمل، اپنے 90 فی صد منتخب نمائندوں اورسیاست دانوں سے قطعاً مختلف ہے۔ 90 فیصد سیاست دانوں کے مطابق فو ج ایک ادارہ ہے اور فوج کی اداراتی سٹرکچر میں کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الحمد اللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج ایک مضبوط اور منظم ادارہ ہے۔سیاست دانوں کی اس بات سے اتفا ق نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ جس طرح ہاتھ کی تمام انگلیاں ایک برابر نہیںہیں اسی طر ح فوج کے سارے جنرلز بھی ایک جیسے نہیں ۔ اُنکے مزاج، سوچ ، فکر اور لائن آف ایکشن میں ہمیشہ فرق ہوگا اور رہے گا۔ میں ایسے بُہت سارے اداروں کی مثالیں دے سکتا ہوں کہ ایک سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی ایک ہوتی ہے اور دوسرے سربراہ کے دور میں اسکی کا رکر دگی کچھ اور ہو تی ہے ۔ پاکستان سٹیل ملز ما ضی میں منا فع بخش ادارہ ہوا کرتاتھا مگر اب نا اہل سربراہوں کی وجہ سے یہ مل بند پڑا ہے۔ اسی طر ح ہم پی آئی اے کی مثال بھی دے سکتے ہیں۔ جنرل نو ر خان کے دور میں پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ ہوا کرتا تھا اور پی آئی اے نے دنیا میں کئی ایر لائن کھڑے کئے جس میں بنگلہ دیش کی بو جا ائر لائن اور متحدہ امارات کی امیرٹ ائر لائنEmirat Air Line شامل ہے۔ مگر پی آئی اے اب خود نارمل قیادت کی وجہ سے تباہی اور بر بادی کے دہانی پرہے اور کئی سو ارب روپے خسارے میں ہے۔ ہم اپنی ملک کی مثال بھی دے سکتے ہیں جس وقت ما ضی میںوطن عزیز کو اچھی اور مخلص قیا دت میسر تھی تو اُس دور میں پاکستان بیلجیم، انڈونیشیائ، جرمنی اور دوسرے کئی ممالک کو قرضے دیا کرتا تھا مگر اب وہی پاکستان ناا ہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے جسکی وجہ سے پاکستان 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور اپنی جی ڈی پی کا 50 فی صد قرض اور سود کی ادائیگی میں دے رہا ہے۔ ان تمام باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طر ح ادارے اُ س مقام تک نہیں پہنچے جو کسی کے آنے اور جانے سے نہ بدلے ۔ خداوند لا عزال نے پاکستا ن کو جنرل راحیل شریف کی شکل میں ایک بھر پور صلاحیت والا اچھا لیڈر عطاکیا ہے اور وطن عزیز کو جتنے بھی اندرونی اور بیرونی مسائل درپیش ہیں اُسکو موثر انداز سے حل کر سکیں۔ وطن عزیز کاسب سے بڑا مسئلہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی ہے جسکی وجہ سے ۰۶ ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کی ضائع ہونے کے علاوہ پاکستان کو اقتصادی طورپر ۰۰۱ ارب ڈالر کا نُقصان بھی پہنچا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے دہشت گر دی اور انتہا پسندی پر بڑی حد تک قابو بھی پالیا ہے۔ اگر موجودہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں تو سیع کی جائے تو پو را یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس نا سو ر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قابو پالیا جائے گا۔پاکستانی سیاست دان بڑے بڑے دعوے کر تے ہیں مگر سیاسی پا رٹیوں اور قیادت کی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان کی سماجی، اقتصادی اور بد حالی ہمارے سامنے ہیں۔ اُس وقت تک ملک میں بے روز گاری، لاقانونیت، مہنگائی قابو کرنے میں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اورپاکستانی وسائل سے استفادہ نہیں کیا جا سکتاجب تک ملک سے دہشت گر دی کو جڑ سے نہیں اُکا ڑا جائے گا۔ اگر ہم موجودہ چیف آرمی سٹاف کی شخصیت پر نظر ڈالیں تو میرے خیال میں راحیل شریف واحد سپہ سالار ہے جو ملکی مسائل کو سمجھنے اور انکو حل کرنے کا ادارک رکھتے ہیں۔ اب تک پاکستان اورپو ری دنیا میں پاکستان کے موجودہ مقبول ترین کے بارے میں سروے کئے جا چکے ہیں اوران سروے اوررائے عامہ کے رپورٹس کے مطابق جنرل راحیل شریف پاکستان کے مقبول ترین جنرل اور لیڈر ہیں۔ میرے خیال میں یہ واحد پاکستانی جنرل یا لیڈر ہے جنکو پاکستانی عوام نے دور اقتدار اُنکی زندگی میں انتہائی پسند کیا ۔ میں پاکستانی عوام اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کی لیڈران سے استدعا کرتا ہوں کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اورفی ا لوقت مسلح افواج کی کمان کسی اور کو دینے سے پاکستان کی پالیسیوں کی تسلسل میں رکا وٹ ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں کسی کے آنے یاجانے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر پاکستان میں اداروں کی حالت وہ نہیں جو ترقی یافتہ اقوام میںہے یہاں جنرل راحیل شریف کے جانے سے اور دہشت گر دی کے خلاف جنگ کی تسلسل پر ضرور اثر پڑے گا۔ جنرل راحیل شریف شاید پاکستانی سیاست دانوں اور حکمرانو کو آپکی ضروت نہ ہو مگر ملک اور قوم کو آپکی ضروت ہے۔

مریم نوازاور ان کا انقلابی ویژن

مریم نواز کے بارے میں لکھناکچھ اس لئے بھی مشکل ہے کہ ان کے والد اس ملک کے اقتدار اعلیٰ کے سربراہ ہیں ۔ حکومت میں شامل کسی فرد کے حوالے سے اگر اچھی بات لکھی جائے تو اسے خوشامد کہا جاتاہے اور اگر تنقید کی جائے تو الزام لگتا ہے کہ اپوزیشن سے مفاد حاصل کیے جارہے ہیں میں کافی دن پہلے مریم نوازکے حوالے سے لکھنا چا رہا تھا مگر اسی گومگو کا شکار تھا کہ لکھوں یا نہ لکھوں بالآخر فیصلہ کیا کہ جو اچھی بات ہے اسے اچھا کہنا چاہیے کیونکہ اگر اچھا نہ کہا جائے تو یہ بھی قلم کا حق ادا نہ کرنے کے مترادف ہوتاہے ۔ ایک عام کہاوت ہے کہ بڑے درخت کے نیچے کوئی نیا پودا نہیں پنپ سکتا اور نہ ہی اس کا قد کاٹھ بلند ہوسکتا ہے مگر برصغیر پاک و ہند میں کچھ خاندان ایسے ہیں جن سے وابستہ افراد نے اپنی الگ پہچان بنائی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹوایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا مقام بنایا اوروزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچیں اور پھر اسی مقام کی حق دار ٹھہری جہاں ان سے قبل ان کے والد اور دوبھائی پہنچ چکے تھے ۔ اسی طرح گجرات کے دو بھائیوں نے ایک ہی دائرے میںرہتے ہوئے اپنا الگ الگ سیاسی مقام بنایا۔ بات مریم نواز شریف کی ہورہی تھی کہ برسبیل تذکرہ ان افراد کا ذکر بھی آگیا۔ مریم نواز وزیراعظم کی صاحبزادی ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیاسی و اخلاقی اقدار کی بھی مالک ہیں ان کا اپنا ایک ویژن ہے اور ایک اپنی الگ سوچ ہے ۔ مریم نواز سے میری پہلی
ملاقات برادرن مظہر برلاس نے برسوں قبل کروائی تھی اور یہ ملاقات صرف تعارف تک ہی محدود تھی اور یہ بھی اتفاق ہے کہ میری ان سے دوسری ملاقات بھی مظہربرلاس کے توسط سے ہوئی۔ اس ملاقات کا پھر کبھی بیان کرینگے ۔ زیر نظر تحریر میں مریم نواز شریف کی جانب سے شروع کیے جانے والے ان انقلابی اقدامات کا تذکرہ کرناہے کہ جن پر وہ عمل کرنا چا رہی ہیں۔ مریم نواز کو پہلی بار جب موجودہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ بنایا تو پاکستان سے غربت کے خاتمے کیلئے ان کے ذہن میں ایک طویل پروگرام تھا جس پر اگر عمل کیا جاتا تو پاکستان میں بسنے والا کوئی بھی غریب ہاتھ نہ پھیلاتا بلکہ وہ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہوکر معاشرے کی خدمت کرتا۔ ایک نشست میں مریم نواز شریف نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی میری خوش قسمتی تھی کہ میں بھی اس نشست میں موجود تھا۔ بھلا ہو میرے ساتھی اخبار نویسوں اور کالم نگاروں کا کہ جب انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ مقرر کیا گیا تو ان کے خلاف کچھ کالم لکھے گئے اور خدشہ یہ ظاہر کیا گیا کہ کھرب پتی باپ کی بیٹی جو غیر منتخب ہے وہ اس ادارے کا سربراہ بنا کر ظلمِ عظیم کردیا گیا ہے کہ اب اس فنڈ کی رقم غریبوں پر صرف ہونے کی بجائے رائیونڈ پہنچ جائے گی، الزام شدید تھا چنانچہ مریم نواز نے اس عہدے سے استعفیٰ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ میرا بسیرا اسلام آباد میں ہے اور کئی سالوں سے یہ میرا جائے مسکن بھی ہے۔ یہ شہر مجھے اچھا بھی لگتا ہے کہ میرے بچپن ، میرے لڑکپن اور میری جوانی کی بہت ساری یادیں اس شہر بے مثال سے وابستہ ہیں اس لئے ہر وہ شخص مجھے اچھا لگتا ہے جو اس شہر کی بہتری کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے یا اس بارے میں سوچتا ہے ۔ اسلام آباد شہر اقتدار ہے مگر یہاں کم آمدنی والے طبقہ کی بھی اکثریت ہے اور اسلام آباد کے فیڈرل ایریا میں جا کر یقین نہیں آتا کہ یہ وفاقی دارالحکومت کا حصہ ہے ۔ مریم نواز نے یہاں دو انقلابی اقدامات شروع کیے ہیں جن کی ستائش لازم ہے ۔ ایک روز وہ وزیراعظم ہاﺅس سے چادر اوڑھے بغیر کسی پروٹوکول سے نکلیں اور انہوں نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں قائم لڑکیوں کے تمام پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کا خودجاکر معائنہ کیا اور ان کی حالت زار کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا۔ وزیراعظم کی سیکورٹی پر مامور عملے کو جب علم ہوا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی فیڈرل ایریا میں سکولوں کے دورے کرتے پھر رہی ہیں اس سے پہلے کہ سیکورٹی سٹاف الرٹ ہوتا وہ اپنا دورہ مکمل کرکے واپس وزیراعظم ہاﺅس پہنچ چکی تھیں اب انکا ارادہ ہے کہ وفاق کے دیہی علاقوں میں جتنے بھی لڑکیوں کے پرائمری ، مڈل اور ہائی سکول ہیں انہیں اپ گریڈ کیا جائے اس اقدام کی بدولت وفاقی علاقے میں کوئی بچی تعلیم حاصل کیے بغیر نہ رہے گی ۔ مریم نواز کا دوسرا انقلابی اقدام صحت کے حوالے سے ہے انہوں نے ایک روز اچانک پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں یہ حالت زار دیکھی اس پر انہوں نے ڈاکٹر مصدق ملک سے مل کر ہیلتھ انشورنس کا پروگرام بنایا کہ وہ تمام لوگ جو غربت کی زیرو لائن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کیلئے سوشل سیکورٹی کے ذریعے علاج معالجہ کا اہتمام کیا جائے ۔ اس ضمن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کرائے جانے والے غربت کے سروے میں شامل تمام افراد کا ڈیٹا اٹھا لیا گیا ہے اور ان کے قریب ترین ہسپتالوں کو پینل پر شامل کرلیا گیا ہے ۔ اسلام آباد کے دو بڑے معروف ہسپتال اس پروگرام کے تحت اب غرباءکا علاج بھی کریں گے۔ ابتداءمیں یہ پروگرام اسلام آباد سے شروع ہوگا اور پھر ملک بھر میں پھیل جائے گا۔ کسی غریب کو ہنگامی حالت میں علاج کیلئے اگر 6لاکھ روپے کا آسرہ مل جائے تو اس سے بڑی نیکی کیا ہوگی ۔ اگر پرویز الٰہی اپنے دور میں 1122 پولیس وارڈن نظام اور پٹرولنگ پولیس کا نظام بنائے اور مریم نواز صحت عامہ اورتعلیم کے حوالے سے کوئی انقلابی اقدام کرے تو اس کی ستائش بھی ملک گیر سطح پر ہونی چاہیے۔ میں نے گزشتہ روز اس پروگرام کے حوالے سے اپنے دوست اور بھائی ڈاکٹر عاشر سے بات کی تو وہ حسب عادت مسکرایا اور کہا ۔
آﺅ ریت کی دیوار پر وہ نقش قدم چھوڑ چلیں
جس کی آتی ہوئی نسلوں کو ضرورت ہوگی

گریٹر پختونستان، ملکی سالمیت کیخلاف سازش!

امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان میں پختونستان تحریک زندہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس مرتبہ تحریک کو یورپ سے سپورٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد یورپ اور امریکہ میں قائم ”مشال“ اور ”دیوا“ ریڈیو سمیت بعض ٹی وی چینلز نے زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ جس سے یورپ میں مقیم اس تحریک کےلئے کام کرنے والے پختونوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جا رہی ہے کہ جب تک پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج موجود ہے ان کا قتل عام جاری رہے گا۔ پاکستان کے ساتھ رہتے ہوئے خیبر پختونستان میں امن نہیں آسکتا۔
ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر باچا خان یونیورسٹی پر حملے کو باچا خان کے فلسفے پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔باچا خان یونیورسٹی میں شہید ہونے والے پختونوں کی یاد میں پکتیا اور مشرقی افغانستان میں قوم پرستوں کی جانب سے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں کو بھارتی قونصل خانوں کی حمایت حاصل ہے۔ پکتیا میں ہونے والے ایک مظاہرے میں پاکستان کے خلاف اور آزاد پختونستان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا تاکہ پختونوں میں مزید اشتعال پھیلے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پختونوں کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد برطانیہ میں مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال اٹھائے گئے۔ میڈیا پر ’عسکری نہیں نظریاتی جنگ کی ضرورت ہے‘ کے عنوان سے یہ تھیوریاں پیش کی جا رہی ہیں کہ نظام تعلیم کو تبدیل کیا جائے اور نصاب میں جہاد کے اسباق کو نکال دیا جائے۔ پختونستان تحریک کےلئے امریکہ اور یورپ کی جانب سے قائم کئے گئے ”ریڈیو مشال“ میں کام کرنے والوں کی اکثریت خیبر پختون کے ان افراد کی ہے جن کا تعلق اے این پی کے اسٹوڈنٹ ونگ سے ہے اور وہ ماضی میں پختونستان تحریک میں بڑے سرگرم رہے ہیں۔ ریڈیو مشال سے پشتو زبان میں خبریں اور زہریلے تجزیے نشر کئے جا رہے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے ریڈیو مشال اور بعض ٹی وی چینلز کے پروپیگنڈہ پروگرامز کو ویب سائٹس پر شیئر کر کے افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقوں میں پھیلا جا رہا ہے۔ یہ ریڈیو امریکہ نے افغان طالبان کے خلاف قائم کیا تھا جسے اب پختونستان تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ملالہ یوسف زئی اور اس کے والد کی کوششوں سے اے این پی کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں لندن بلایا جا رہا ہے ۔ لندن میں اے این پی کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔ انہیں دفاتر بھی مہیا کیے گئے ہیں اور انہوں نے مظاہرے بھی شروع کر دیے ہیں۔لندن کے تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر پختونوں کو داخلے دیئے جا رہے ہیں جن کی سفارش قوم پرست جماعتوں کے قائدین کرتے ہیں۔ پختونستان تحریک کے حوالے سے سابق افغان صدر حامد کر زئی اور بعض پختون قوم پرستوں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکہ برطانیہ اور بھارت نے خیبر پختون میں پختونستان تحریک پر توجہ اس لئے بھی مرکوز کی کہ اقتصادی کوریڈور خیبر پختون کے ہزارہ ڈویژن، ضلع کوہستان اور ڈی آئی خان سے گزرے گا۔ جبکہ یہاں سے گلگت بلتستان اور چین کی سرحد بھی لگتی ہے۔ اسی لئے یہاں یہ منصوبہ زیادہ قابل عمل لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لندن، افغانستان اور امریکہ میں موجود بعض قوم پرستوں کو اقتصادی کوریڈور کے جعلی نقشے تھما کر بتایا گیا ہے کہ اصل نقشے یہ ہیں۔پاکستان میں ایک قوم پرست جماعت کی کانفرنس میں یہ نقشے دکھائے گئے تو وفاقی وزیر احسن اقبال حیران رہ گئے اور انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان نقشوں کو چیلنج کریں گے۔ اے این پی اور دیگر قوم پرستوں کے پاس جو نقشے ہیں وہ جعلی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختون کے جن علاقوں میں کوریڈور تعمیر ہوگا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اقتصادی کوریڈور ضلع کوہستان سے ہوتا ہوا ہزارہ ڈویژن سے اسلام آباد اور پھر ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا ژوب میں داخل ہوگا۔ اس روٹ میں تبدیلی ممکن نہیں کہ اس روٹ کا نقشہ چین نے خود بنایا ہے۔ لیکن خیبر پختون میں ایسے جعلی نقشے گردش کر رہے ہیں اور جو انٹر نیٹ پر بھی ڈالے گئے ہیں جن کے ذریعے لوگوں میں اشتعال پھیلا کر پختونستان تحریک میں جان ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں منظم منصوبے کے تحت گریٹر پختونستان کی تحریک دو ماہ سے جاری ہے۔ صوبہ میں کئی مقامات پر بڑے چوکوں میں ایسے بورڈ نصب کئیے گئے ہیں جن پر خیبر پختونستان کو افغانستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے اور افغانستان کے جھنڈے کے رنگوں سے بنا ایک درخت دکھایا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو ختم کر نے کی سازش کی جارہی ہے۔
افغانستان پر روسی قبضے کے بعد ہندوستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ کئی قونصل خانے قائم کرکے پاکستان دشمن عناصر اور ”را“ کے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی راہ ہموار کی۔ اس مقصد کیلئے غیر ملکی عناصر کو بڑے پیمانے پر پاکستانی کرنسی دے کر پاکستان میں دہشت گردی‘ تخریب کاری اور خودکش حملوں کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ ایسے عناصر کو امریکی افغان حکومت اور بھارتی حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ بھارت کی سرتوڑ کوشش اور خواہش ہے کہ سرحد میں گریٹر پختونستان اور بلوچستان میں گریٹر بلوچستان کے ناپاک منصوبوں کی راہ ہموار کی جائے۔
حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان ناپاک منصوبوں کا فی الفور نوٹس لے اور ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو پوری طرح منظرعام پر لائے تاکہ کسی غیر ملکی طاقت کی شہ پر یا اس کی درپردہ حمایت حاصل کرکے ہمارے ازلی دشمن ہمارے وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرسکیں۔ خیبر پختون کی صوبائی اسمبلی‘ ہماری سینیٹ اور قومی اسمبلی کو بھی اس مسئلے پر توجہ مرکوز کرکے ان تمام کرداروں کو سامنے لانا چاہئے‘ جو وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

افغانستان، دہشت گردی اور بھارت

قارئین کرام ! افغانستان میں جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے کچھ دانشور افغانستان کی زمینی صورتحال کو جانے بغیر بار بار تکرار کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا جائے جبکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔دراصل پاکستان افغان سرحد جسے تاریخ میں ڈیورنڈ لائین سے منسوب کیا جاتا ہے چین کی سرحد یعنی کوہ قراقرم سے شروع ہوتی ہے اور واخان کوریڈور سے لیکر کوہ ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، خطرناک کھائیوں اور سبزہ زار وادیوں سے ہوتی ہوئی ایران کی سرحد سے جا ملتی ہے چنانچہ پاکستان افغان سرحد جس کی کل لمبائی تقریباً 2416 کلو میٹر تک محیط ہے کو مکمل طور پر کبھی بند نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان کا تقریباً تین چوتھائی سے زیادہ رقبہ پہاڑی سلسلوں پر مثتمل ہے جبکہ ایک چوتھائی سے کچھ کم سرسبز وادیوں، جنگلات ، ریگستان ، ویرانوں اور دلدلی علاقے پر مثتمل ہے۔ پامیر ریجن سے ازبکستان تک آمو دریا افغانستان کی قدرتی سرحد کے طور پر افغانستان کی سرحد کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہوا، ازبکستان کی جانب چلا جاتا ہے۔ افغانستان ، دریائے ہاری رد جسے دریائے نیل سے تشبیہ دی جاتی ہے کے علاوہ دریائے ہلمند ، دریائے ارگند اور دریائے کابل کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کئی دریاﺅں اور ندی نالوں کی ایسی سرزمین ہے جہاں دریائے کابل کے سوا تمام شوریدہ دریا اور ندی نالے ، ڈیورنڈ لائین کے پار افغان وادیوں، ویرانوں اور ریگستانوں میں بڑی بڑی جھیلیں بناتے ہیں اور دلدلی علاقوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ صرف دریائے کابل ہی ایک ایسا دریا ہے جو پاکستان میں داخل ہوتا ہے لیکن وہ بھی اپنی شناخت دریائے سندھ میں گم کردیتا ہے۔ درحقیقت پہاڑی سلسلوں پر محیط افغان سرزمین جہاں بڑے بڑے دریا اور شوریدہ سر ندی نالے ویرانوں اور دلدلوں میں گم ہوجاتے ہیں یقینا ً عسکریت پسندوں اور افیون کی کاشت سے منسلک ڈرگ مافیا کےلئے ایک قدرتی پناہ گاہ بن جاتی ہے جنہیں اِن ویرانوں اور سرنگوں سے بچھے پہاڑی سلسلوں کے جال میں تلاش کرکے جڑ سے ختم کرنا ایک ناممکن اَمر بن گیا ہے ۔ یہ اَمر یقینا افسوس ناک ہے کہ امریکی سرپرستی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب افغان جہاد کے پیش منظر میں امریکہ نے افغان جہادی قوتوں کی افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کرنے میں مدد دینے کے بجائے افغان جنگی گروپوں کو مخصوص مفادات کے تحت عالم تنہائی میں چھوڑ دیاتھا جس نے افغانستان میں مختلف طاقت ور جنگجوﺅں (War Lords) ڈرگ مافیا ، اور قبائل کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ملا عمر کی قیادت میں طالبان نے پُرامن جدوجہد کے ذریعے اِس خانہ جنگی کو ختم کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی لیکن ملا عمر کی کوششیں اُس وقت ناکام ہوئیں جب افغانستان میں بن لادن کی آمد کےساتھ ہی دہشت گردی کی سیاست نے امریکی مفادات کے خلاف ٹرن لیا۔چنانچہ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکیوں کی جانب سے افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کو ختم کرنے کےلئے طالبان کے مضبوط علاقوں پر تاریخ کی بدترین بمباری ، تباہی اور وسیع پیمانے پر افغانوں کی ہلاکتوں کے سبب نہ صرف بےشمار افغان شہری ہمسایہ ممالک میں ہجرت کر گئے جبکہ بیشتر عسکریت پسندوں نے افغانستان کے ناقابل عبور پہاڑی سلسلوں ، ویرانوں ، سرنگوں اور دلدلی علاقوں کا رُخ کیا اور اِن ناقابل تسخیر پناہ گاہوں میں بیٹھ کر امریکہ و نیٹو اتحادیوں کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ ایسی ہی صورتحال نے پاکستان میں ڈیورنڈ لائین سے منسلک وزیرستان اور سوات کے دشوار گزار علاقوں میں جنم لیا جس نے وقت گزرنے کےساتھ دہشت گردی کے عفریت کی شکل اختیار کرلی۔درج بالا تناظر میں افغانستان پر امریکہ نیٹو اتحاد کے قبضے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں افغان طالبان مخالف عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں نادرن اتحاد کو منظم کیا جبکہ حامد کرزئی کو عبوری مدت کےلئے صدر بنایا گیا ۔ بہرحال امریکہ نے کٹ پتلی افغان حکومت کی سیاسی مدد کےلئے بھارت کو اہم کردار کےلئے منتخب کیا ۔ چنانچہ نئے آئین کے تحت اپریل 2014 میں نئے انتخابات ہوئے لیکن صدارتی انتخابات میں 27 اُمیدواروں میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی بل ترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر آئے لیکن کامیابی کےلئے کسی کو مطلوبہ ووٹ حاصل نہ ہوسکے چنانچہ جون 2014ءمیں اِن دونوں اُمیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوا جس میں اشرف غنی نے کامیابی حاصل کی لیکن بھارت حمایت یافتہ نادرن اتحاد کے عبداللہ عبداللہ نے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اِس مرحلے پر امریکہ نیٹو اتحاد نے مداخلت کی اور اشرف غنی کی صدارت میں عبداللہ عبداللہ کو افغانستان کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا۔لیکن اِن تمام سیاسی حربوں اور 15 برس سے زیادہ عرصہ پر محیط نیٹو امریکہ اتحادی افواج کی موجودگی اور بھارت کو اہم کرادار دئیے جانے کے باوجود افغانستان میں دہشت گرد گروپوں پر قابو نہیں پایا جا سکا چنانچہ بیشتر صوبوں میں افغان طالبان بدستور مضبوط پوزیشن میں ہیں جس کا اظہار گذشتہ برس افغانستان کے کچھ صوبوں میں طالبان کے مسلح حملوں ، عارضی قبضے اور پھر پسپا ہو جانے کے حوالے سے محسوس کیا گیا ہے ۔ البتہ جب تحریک طالبان پاکستان TTP نے دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے اِسکول کے بچوں اور بےگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے عزم صمیم نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں صورتحال کو بہت حد تک کنٹرول کیا تو دہشت گرد عناصر اور ڈرگ مافیا نے سوات اور وزیرستان سے نکل کر ڈیورنڈ لائین کے پار افغانستان میں اپنی کمین گاہیں بنانا شروع کیں تو بھارت نے نادرن اتحاد کی مدد سے پاکستانی سرحدی علاقوں کے نزدیک قائم بیشتر بھارتی قونصل خانوں میں تعینات بھارتی انٹیلی جنس RAW کے آپریٹرز کے ذریعے TTP میں اپنے ایجنٹ داخل کرنے اور پاکستان میں تخریب کاری کرنے کا موقع مل گیا چنانچہ سوات اور وزیرستان میں ملٹری آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کے دباﺅ سے متاثرہو کر ڈیورنڈ لائین پار جانے والے TTP کے ایجنٹوں نے بھارتی حمایت یافتہ تحریک طالبان بھارتیہ یعنی TTB کی شکل اختیار کر لی ہے ۔

راحیل شریف کا تاریخی فیصلہ

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ وہ رواں برس نومبر میں اپنی تین سالہ مدت ملازمت کی تکمیل پر اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گے اور اسمیں کوئی توسیع نہیں چاہیں گے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف کا اپنے موجودہ عہدے کی مدت میں اضافے سے متعلق حکومت سے کوئی درخواست کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیاں پوری شدومد سے جاری رہیں گے اور ان میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔جنرل راحیل شریف نے 2013ء میں فوج کی کمان سنبھالی تھی۔یہ بات اہم ہے کہ ان سے قبل پاکستان کے دو فوجی سربراہوں نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل پر سبک دوش ہونے کی بجائے اس میں توسیع لی تھی۔کافی عرصہ سے میڈیا پر یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ ممکنہ طور پر ماضی میں فوجی سربراہان کی طرح وہ بھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروا سکتے ہیں،مگرافواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کرکے توسیع کے حوالے سے پھیلنے والی بے بنیاد افواہوں کا خاتمہ کردیا ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل مقررہ وقت پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے ان تمام قیاس آرائیوں کی تردید کردی ہے کہ جو اس حوالے سے کی جارہی تھیں۔ فوج کے ادارہ تعلقات عامہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افواج پاکستان کے سپہ سالار اپنی ملازمت میں توسیع کے خواہشمند نہیںہیں۔ جنرل راحیل شریف کا یہ اعلان نہ صرف تاریخی ہے بلکہ آئین پاکستان کے عین مطابق بھی ہے کیونکہ افواج پاکستان آئین پاکستان سے وفاداری اور اس پرکلی عملدرآمد کا حلف اٹھاتی ہیں چنانچہ جنرل راحیل کا یہ اعلان پاکستان میں جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے اور اس عزم کا اظہار ہے کہ مسلح افواج ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالا دستی پر مکمل طورپر یقین رکھتی ہےں اور وہ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی عزم یا ارادہ نہیںرکھتیں۔ پاکستان آرمی کی روایات ہمیشہ سے تاریخی رہی ہیں۔ راحیل شریف کے استعفیٰ سے قبل جنرل اسلم بیگ، جنرل وحیدکاکڑ، جنرل کرامت جہانگیر نے اپنی مدت سے بڑھ کر کوئی توسیع نہیں لی کیونکہ یہ ادارہ پاکستان کا واحد مضبوط ادارہ ہے جس کی بنیادیں مستحکم اور روایات شاندار ہیں اس کا ایک ایک سپاہی فولاد کے مانند ہے اور اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہے اسے علم ہے کہ اس نے کس طرح ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی کرنی ہے یہی وجہ ہے کہ سیلاب ہو ، زلزلہ ہو یہ کوئی ناگہانی آفت ہو عوام کی نظریں فوج کی جانب ہی اٹھتی ہیں حتیٰ کہ سیاست دان بھی اس بات متفق ہیں کہ فوج میں ہیرا پھیری کی کوئی گنجائش نہیں یہی وجہ ہے کہ جب عام انتخابات کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو اس وقت بشمول حکومت تمام سیاستدانوں کا مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ یہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔جنرل راحیل شریف پاکستان کی عسکری تاریخ میں پہلے جرنیل ہیں جنہیں عوامی سطح پر بے پناہ مقبولیت ملی ہے۔انہوں نے ایک ایسے وقت میں افواج پاکستان کی کمان سنبھالی جب ملک دہشت گردی کی شدید ترین لپیٹ میں تھا اور افواج پاکستان حالت جنگ میں تھی۔انہوںنے پوری قوت کےساتھ دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مخلصانہ اقدامات کیے جنکے نتیجے میں دہشت گرد جو پاکستان کے اندر دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے میںمصروف تھے وہ سرپر پاﺅں رکھ کر بھاگے ۔ جنرل راحیل شریف کے ان اقدامات کی بدولت شہروں کی رونقیں واپس لوٹ آئیں اور کراچی جسے عروس البلاد کہا جاتا تھا ،ایک بار پھر امن و سکون کا گہوارہ بن گیا ہے،گو کہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے افواج پاکستان کو بے پناہ قربانیاں بھی دینا پڑی مگر جب ایک سپہ سالار کسی کام کو کرنے کا عزم کرلیتا ہے تو پھر یہ قربانیاں بھی معمولی نظر آتی ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے اس اقدام کو ملک کے سیاسی حلقوں میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور خاص طورپر ان کے پیش رو جرنیلوں نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے، مگر عوامی حلقوں اور سابق جنرل پرویز مشرف نے اس فیصلے کو مناسب قرار نہیں دیا۔ دراصل جس بہادری اور جرا¿ت کے ساتھ جنرل راحیل شریف نے ملک بھر سے دہشت گردی اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا ہے قوم انہیں ایک نجات دہندہ کے روپ میں دیکھ رہی تھی اور عوامی حلقے یہ توقع کررہے تھے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنرل راحیل شریف اپنی وردی پہنے رکھیں گے مگر جنرل راحیل شریف جو دو نشان حیدر پانے والے شہداءکے وارث ہیں انہیں اپنے ادارے پر اس قدر یقین واثق ہے کہ ان کے بعد آنے والا سپہ سالار ان کے پروگرام کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا جس جذبے کے ساتھ انہوں نے کمان سنبھالی تھی، چونکہ راحیل شریف ایک پروفیشنل فوجی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے وہ اپنی ذمہ داریوں کا تعین بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کرکے انہوں نے نہ صرف فوج کے اندر بلکہ بیرونی طورپر بھی اپنے قد کاٹھ میںاضافہ کیا ہے۔ قوم ان کی خدمات کو سراہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں قوم دہشت گردوں کیخلاف کی جانے والی کارروائیوں ، افواج پاکستان کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات کو یاد رکھے گی وہاں یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے جمہوری استحکام اور آئینی بالا دستی کیلئے دس ماہ قبل ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کرکے آئین اور جمہوریت کی بالا دستی پر مہر ثبت کردی تھی ۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں، ایک حاکم اور دوسرے محکوم یا ایک حکمران اور دوسرے عوام، تو غلط نہ ہو گا۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان دونوں طبقات کے انسانوں کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہے، ان کی ترجیحات ایک دوسرے کے برعکس ہیں اور ان کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکمران طبقے پر سوچ کے مزاج اور ترجیحات پر سوچ بچار کے دوران دیگر ممالک کے حکمرانوں اور عوام کے اطوار و افعال بھی ذہن کے کینوس پر چھائے رہے۔ سوال ایک ہی تھا کہ آخر دنیا بھر کے عوام اپنے لیے کس طرح کے حکمران چاہتے ہیں؟ پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایماندار ہوں، خلوص نیت کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں، کرپٹ اور چور نہ ہوں، قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل نہ کریں بلکہ اپنے باہر موجود اثاثے اور کاروبار بمعہ اولادیں ملک میں لے کر آئیں۔ بھارت سمیت تمام دنیا کے ساتھ بہتر تعلق استوار کریں، تجارت کو فروغ دیں اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر لے جائیں۔ جب بھارت کا ذکر آیا تو ذہن کھٹکا کہ وہاں کے عوام نے تو مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کے شدید مخالف نریندر مودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا وہ پاکستانی عوام کے بالکل برعکس سوچتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کے حوالے سے ان کی پسند پاکستانیوں کی پسند کے برخلاف ہے۔ پاکستان میں موجود بھارت مخالف قوتیں اور سیاسی جماعتیں جلسے جلوس تو بہت بڑے بڑے کرلیتی ہیں مگر جب عوام کے ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے تو وہ بمشکل چند ہی نشستیں حاصل کر پاتے ہیں۔ آج تک کوئی بھی ایسی جماعت پاکستان تو کیا پاکستان کے کسی ایک صوبے میں بھی حکومت نہیں بنا سکی۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی حامی اور نسبتاً معتدل مزاج جماعتیں بار بار اقتدار کے مزے لے چکی ہیں۔ میں نے پاکستانی اور بھارتی عوام کی پسند کے اس تضاد پر سوچنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے چند بھارتی دوست صحافیوں سے بھی گفتگو کی اور گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی۔ بھارتی دوستوں نے بتایا کہ بھارتی عوام نے نریندر مودی کو پاکستان اور مسلم دشمنی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم منتخب نہیں کیا۔ نریندر مودی جب ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ریاست کی تعمیروترقی کے لیے ایسے شاندار کام کیے جنہیں بھارت کی باقی ریاستوں کے عوام رشک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جب نریندر مودی وزیراعظم کے امیدوار بنے تو عوام کو اپنی خواہش کی تکمیل کا موقع مل گیا اور انہوں نے نریندرمودی کو وزیراعظم منتخب کر لیا۔ میں نے سوال کیا کہ آپ کی اس توجیح کو کیونکر سچ مان لیا جائے؟ فرمانے لگے کہ اگر نریندر مودی کو مسلم اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہی منتخب کیا گیا ہوتا تو ریاست بہار و دیگر ریاستوں کے الیکشن میں نریندرمودی اور ان کی
جماعت بی جے پی کی جو درگت بنی ہے وہ نہ بنتی، ان ریاستوں کے انتخابات کی مہم کے دوران بھی خود نریندر مودی اور ان کی جماعت کے رہنماﺅں نے پاکستان اور مسلم دشمنی کا کارڈ کھل کر کھیلا تھا مگر بے کار گیا۔ بتایا گیا کہ بھارتی عوام جان چکے ہیں کہ وزیراعظم نریندرمودی وہ نریندرمودی نہیں رہے جو گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، اب ان کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں، اس لیے عوام کی رائے بھی مختلف ہو گئی۔ ایران کی بات کی جائے تو ہمارے یہاں یہ بات یقین سے کہی جاتی ہے کہ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد ایرانی عوام کے دلوں میں بستے تھے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ و دیگر مخالف طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم صمیم کیے ہوئے تھے۔ مگر یہاں سوال اٹھا کہ اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو احمد نژاد گزشتہ الیکشن کیوں ہار گئے؟ اور آج صدر حسن روحانی جو احمدی نژاد کی پالیسیوں کے بالکل الٹ چل رہے ہیں وہ بھی ایرانی عوام میں اسی قدر کیوں مقبول ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ احمدی نژاد اپنی اس لڑنے بھڑنے کی پالیسی کی وجہ سے مقبول نہیں تھے، انہوں نے ایران بھر کے بے گھر عوام کو گھر دیئے تھے، ان نے کہا تھا کہ عوام کو گھر دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے دور میں کوئی ایسا ایرانی نہیں رہا جس کے پاس اپنا گھر نہ ہو۔ بالکل وہی سبب جس کے باعث ہمارے ذوالفقار علی بھٹو آج بھی عوام کے دلوں میں موجود ہیں۔ آج بھی پیپلزپارٹی کو اگر کچھ ووٹ ملتے ہیں تو ان میں زیادہ تر ووٹ 5مرلہ سکیم کے باسیوں کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد احمدی نژاد عوام کے لیے مہنگائی الاﺅنس کا اعلان کر دیا مگر ان کی یہ سکیم انہیں مہنگی پڑی، 90فیصد ایرانیوں نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا مگر اس کے باعث ایرانی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا، مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان آ گیا اور یہی طوفان احمدی نژاد کی مقبولیت کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ آج حسن روحانی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے مغربی ممالک کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنے ایٹمی پروگرام پرعالمی پابندیوں سے چھٹکارے، عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی خوشحالی کو ترجیح دی ہے تو لوگ انہیں بھی پسند کر رہے ہیں۔ اس سب کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا بھر کے عوام امن کے متلاشی ہیں، انہیں صحت، تعلیم اور روزگار چاہیے، پاکستانیوں کو بھارت سے، بھارتیوں کو پاکستان سے، ایرانیوں کو سعودی عرب سے اور سعودیوں کو ایران سے دشمنی سے کوئی غرض نہیں۔ یہ سب حکمرانوں کی ترجیحات ہیں۔اگر کسی ملک کے عوام کسی دوسرے ملک کے خلاف نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں تو یہ ان کی لاعلمی کا قصور ہے، ان کے ملک کے میڈیا اور حکمرانوں کا قصور ہے جو انہیں دوسرے ملک کی غلط تصویر دکھاتے ہیں۔ ہم بھارتیوں کے متعلق یہی رائے رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، بہت حد تک یہ سچ بھی ہے، مگر آج آپ بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کو لگام دے دیجیے، بھارتیوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق حقائق سے آگاہ کر دیجیے، یہی بھارتی ہوں گے جو پاکستان اور پاکستانیوں کے متعلق اچھے جذبات اپنے دل میں رکھیں گے۔ میری رائے تو یہ ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

یقیناً حملہ افغانستان سے کنٹرول ہوا ہے

اِن دِنوں جس چابک دستی اور مہارت کے ساتھ ہماری پاک فوج اپنے مُلک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دن رات آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے، آج اِس پر قوم کوبھی یہ قوی اُمیدہے کہ اَب وہ دن کوئی دور نہیں ہے کہ اِنشاءاللہ بہت جلد ہماری پاک فوج مُلک سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ہی سُرخروہوگی۔اگرچہ جنرل راحیل شریف نے 2016ءکو مُلک سے دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دے دیاہے جو کہ ایک طویل عرصے سے دہشت گردی میں جکڑی پاکستانی قوم کے لئے خوش آئندامر ہے تو وہیں آج ساری پاکستانی قوم بھی اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے اور الرٹ رہ کر اپنی پاک فوج کی ہر طرح سے مددکرنے کے لئے بھی باہم متحد اور منظم ہے۔جیسا کہ گزشتہ دِنوںچارسدہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اپنی نوعیت کا ایک اہم ترین اجلاس پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت کورہیڈکوارٹرز پشاور میں ہوااجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ہمارے ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہاکہ” باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے میں چاردہشت گرد اور چار سہولت کارشامل تھے سہولت کاروں کو پکڑلیاہے ، چارسدہ حملے کی یہ کارروائی افغانستان کے ایک علاقے سے کنٹرول کی گئی ، دہشت گردوں نے وہیں تربیت حاصل کی‘ ‘ اِس موقع پر اِن کا یہ بھی کہناتھاکہ ” اَب جو ہوگا سب دیکھیںگے، ہم نے یہ نہیں کہا کہ حملہ افغانستان نے کرایا“۔آج اِس میں شک نہیں کہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر اَب تک کی چارسدہ حملے کی ہونے والی صاف وشفاف تحقیقات کے بعد یہ بات روزِروش کی طرح حق وسچ پر مبنی ہے کہ ” چارسدہ حملہ افغانستان سے کنٹرول ہوا “اَب اِس پر کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی جانب سے قوم میں کسی بھی صورت دورائے کا پیدا کیاجانا یاپیداہونا ، دراصل ہمارے تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات اور شواہد کو جھٹلانا ہوگا یعنی یہ کہ ہمارے تحقیقاتی اداروں نے چارسدہ حملے سے متعلق جتنی بھی تحقیقات کیں اور جتنے بھی شواہداور تحقیقات قوم اور دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں اَب ایسے میں ہماری کسی مُلکی سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے شک کی بنیاد پر اِس تحقیقات کو مسترد یارد کرنا یا ردکیا جانا ،اصل میں مُلک اور قوم کے ساتھ غداری اور بغاوت کے مترادف ہوگااوریہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں غداراور بغاوت کرنے والے کی کیا سزاہے؟ ۔بہرحال،اِس سے بھی انکار نہیں کہ جب تک بھارت کی افغانستان میں بے لگام مداخلت جاری رہے گی افغانستان کے راستے دہشت گرد پاکستان میں سہولت کاروں کی مدد سے گھستے رہیں گے اور حملے کرتے رہیں گے،اورہمارے تمام شواہد پیش کرنے کے باوجود بھی کہ” چار سدہ حملہ افغانستان سے کنٹرول ہوا ہے “ ہمارے اِس کہے کو ہربار افغان صدارتی ترجمان اور حکومتِ افغانستان تسلیم نہیں کریںگی بلکہ اُلٹااِس طرح کہہ کراپنی جان چھڑائے گی کہ ” افغانستان کی حکومت باچا خان یونیورسٹی حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کے پاکستانی موقف کو یکسر مستر د کرتی ہے اور دوٹوک یہ کہتی ہے کہ افغان حکومت نے کسی دہشت گرد کو پناہ دی نہ چارسدہ حملے میں ہماری سرزمین استعمال ہوئی “ جیسے صریحاََ جھوٹ پر مبنی جملے اداکرکے افغانستان پاکستانی شواہد و ثبوتوں اور موقف کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے گا۔ بھارت دوسری جانب افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے اپنی گود میں بیٹھاکر لولی پاپ چوسارہاہے اور افغانستان میں روپوش طالبان قیادت سے اپنے رابطے بڑھاکرپاکستان پر حملے کے لئے ڈالرز کے عوض افغان دہشت گردوں اورشہریوں کو خرید کر استعمال کررہاہے تو دہیں آج افغان روس کے جنگ کے دوران پاکستان میں برسوں پناہ لینے اورمدتوں پاکستان کا نمک کھانے والی افغان قیادت اپنی لالچی فطرت سے مجبور ہوکر پاکستان سے نمک حرامی پر اُتر چکی ہے اور افغان قیادت بھارت جیسے مکار اور عیار مُلک کے ہاتھوں پاکستان دُشمنی میں لٹوبن کر بھارت کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اور ا فغان قیادت بھی اپنے دہشت گردشہریوں کو بھارت کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لئے بھیج کر بھارت سے اپنی دوستی کا حق اداکررہی ہے۔آج تب ہی اِن حالات اور واقعات کے تناظر اور افغانستان کی پاکستان سے نمک حرامی کے پیشِ نظر گزشتہ دِنوں کرنل شیرخان کیڈٹ کالج صوابی میں یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز سے کے پی کے کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک نے بھی یہ آواز بلند کرنی شروع کردی ہے کہ”ہم آخرکب تک لاشیں اُٹھائیں گے،وفاقی حکومت افغان مہاجرین کو واپس بھجوائے“ (اَب وفاق کو بھی کے پی کے کے اِس مطالبے پر سنجیدگی سے جلد عملی اقدامات کو یقینی بناناہوگا اور تمام اندرونی اور بیرونی مصالحتوں اور دباو¿سے بالاتر ہوکر افغانیوں کو واپس افغانستان بھجوانا ہوگا ورنہ آنے والے دِنوں میں مُلک میں ایک نیا سیاسی بحران پیداہوجائے گا)اور اِسی کے ساتھ ہی پرویز خٹک نے پولیس کو صوبے میں غیرقانونی طور پرمقیم افغان مہاجرین کو سرحد پاربھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے بلاجھجک یہ واضح کردیاہے کہ” اگر مُلکی سلامتی کو یقینی بناناہے تو پاک افغان بارڈرسمیت تمام سرحدوں کو بھی محفوظ بنانا ہوگا “اِن کاکہناتھاکہ ”جب تک ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہوگی تب تلک مُلک و قوم کی سلامتی خطرے میںرہے گی مُلک کو پر امن بنانے کے لئے فیصلہ کن مرحلہ آگیا، سب کو ملکر کام کرناہوگا “اِس موقع پر اُنہوں نے وفاقی حکومت کو پوری قوت سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ” بس وفاقی حکومت افغان مہاجرین کو واپس بھجوائے ، افغان بارڈر پر بغیرپاسپورٹ آمدورفت کا سلسلہ بندہوناچاہئے ، کب تک لاشیں اُٹھائیں گے ، افغانستان سے دوٹوک بات کرناہوگی ،“اور اتنا کچھ کہنے لینے کے بعد پرویزخٹک نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاکہ ” افغانوں کی واپسی پر یقینا کچھ لوگ ناراض ہوں گے“ مگریہاں اُنہوں نے یہ نہیں بتایاکہ پاکستان کے اِس اقدام سے کون سے لوگ ناراض ہوں گے..؟؟؟ ۔اگر اِس موقع پر پرویز خٹک ناراض ہونے والوں کے نام لے کر یہ بھی بتادیتے کہ افغانوں کی پاکستان سے واپسی پر یہ… یہ لوگ ناراض ہوں گے تو یہ کتنااچھاہوتاکہ ہم ایسے افغان ہمدردوں کو یہ کہتے کہ ہم نے تو اتنے عرصے افغانوں کو اپنے دامن میں چھپائے رکھا، اِنہیں اپنا نمک کھلایا اور اپنا خون پسینہ پلا کر پالااور اِنہیں اپنے یہاں پناہ دی، مگر یہ پھر بھی یہ کمبخت ہمارے لئے احسان فراموش اور آستین کے سانپ ثابت ہوئے اَب آج تم جو اِن افغانوں کے اتنے بڑے ہمدرد اور خیرخواہاں بن رہے ہوتو بھائی.. !! اِن سے ہماری جان چھڑاو¿ ،مگر چلوتم ہی افغانیوں کو اپنے یہاں پناہ دے دو، اور خود ہی دیکھ لو کہ یہ کیسے احسان فراموش اور نمک حرام لوگ ہیں؟ہمیں یقین ہے کہ یہ جب اتناکچھ اچھاکرنے کے باوجودبھی ہم پاکستانیوں کے نہیں ہوسکے ہیں تو یہ کسی کے بھی نہیں ہوسکتے ہیں، کیونکہ ہمیں تو یہ لگ پتہ گیاہے کہ افغانی مطلب کے یار اور ڈالرز کے بچاری لوگ ہوتے ہیں، یہ اپنے مطلب کے وقت دوست اور اپنامطلب نکل جانے کے بعد اپنے ہی دوست کے سب سے بڑے اور خطرناک دشمن بن جاتے ہیں اور اگر آ پ کا کوئی( بھارت جیسا ) دُشمن افغانیوں کو ڈالرز دکھادے تو پھر یہ اپنی دُشمنی کو ڈالرز کی چمک سے اتنی بڑھادیتے ہیں کہ بس پھر یہ ہوتے ہیں اور اِن کی دُشمنی ہوتی ہے جیساکہ آ ج کل پاکستان کا ازلی دُشمن بھارت افغانستان کواپنی گود میں بیٹھاکرلولی پاپ چوسارہاہے اور افغانستان پاکستان دُشمنی میں بھارت کے ہاتھوں استعمال ہوکر بھارت سے بھی دوہاتھ آگے نکل چکاہے    اَب ایسے میں بھارت کی گود میں بیٹھالولی پاپ چوستا افغا نستان پاکستان کے احسانوں اور پاکستان کے کھائے ہوئے نمک کو یاد کرے اور اپنے ماضی میں ایک بار ضرور جھانک کر یہ دیکھ لے کہ جب کہیں اِسے سرچھپانے کے لئے کوئی بھی مُلک اپنی سرزمین پرایک انچ بھی جگہہ نہیں دے رہاتھا حتیٰ کہ یہ بھارت بھی جو آج افغانستان کا بڑادوست بناہواہے اِس نے بھی اپنے یہاں افغانیوں کو پناہ دینے سے کھلی معذرت کرلی تھی اور یہ کہہ دیاتھاکہ یہ پہاڑوں میں رہنے والی جاہل قوم ہے اِس کی تہذیب جنگ وجدل اور ماردھاڑ سے بھری ہوئی ہے اِس پتھر کے دور میں رہنے والی جاہل قوم کو بھارت اپنے یہاں کسی صورت بھی پناہ نہیں سے سکتاہے ہمارے بھارتیوں کا بھی افغان مہاجروں کی وجہ سے ماحول خراب ہوگا تب اِس دنیاکے دھتکارے اور پھٹکارے افغانستان کو پاکستان ہی نے اپنی مقدس اور کلاشنکوف اور ہیروئین سے پاک سرزمین پر جگہہ دی تھی جس کے بدلے میں اِن افغانیوں نے پاکستان کو کلاشنکوف اور ہیروئین کا کلچردیا مگر آج افسوس یہ ہے کہ اِسی احسان فراموش اور نمک حرام افغانستان بھارت سے اپنی دوستی کاہاتھ بڑھاکر خود کو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے لئے بڑے فخریہ انداز سے پیش کرکے اپنی دوستی نبھارہاہے اَب ایسے میں افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کرنے سے باز آجائے ورنہ آج پاکستان بھی اپنے اِس موقف پر قائم رہے گااور امریکاسے اپنایہ مطالبہ اُس وقت تک جاری رکھے گاکہ جب تک امریکا ڈرون حملوں سے افغانستان میں موجود ملافضل اللہ اور دیگردہشت گردوں کاخاتمہ نہیں کردیتاہے۔

سوائن فلو، حکومت قوم کے سامنے اصل حقائق رکھے

19 جنوری 2016ءکو پنجاب ہاﺅس میں ایک اجلاس ہوا جس میں وزارت صحت سے متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ حمزہ شہباز نے بھی شرکت کی جسکے بعد وزیر مملکت نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ نے جاندار پریس کانفرنس کی اور بابانگ دوحل یہ کہا کہ ملک میں سوائن فلو کا کوئی وجود نہیں۔ میں بھی اس پریس کانفرنس میں شریک تھا ۔ پریس کانفرنس میں ڈبلیو ایچ او نمائندہ ، ڈاکٹرز ، این آئی ایچ کے ترجمان سمیت کافی نفری موجود تھی جو کہ بضد تھی کہ ملک میں سوائن فلو کا وجود نہیں خدارا عوام کو غلط خبریں دے کر ملک میں انارکی نہ پھیلائی جائے لہذا میڈیا عوام کو صحیح گائیڈ کرے اور موجودہ مریضوں جن کو سوائن فلو مریض کہا جارہا ہے جو غلط ہے میڈیا صحیح بتاتے ہوئے وائرس کا نام درست بتائے ۔ وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے وائرس کا نام بھی بتایا اور انکی ادویات بھی بتائیں کہ موجودہ علامات کی صورت میں یہ ادویات لیکر فوری طورپر ہسپتال سے رجوع کیا جائے ۔ بظاہر وزیر مملکت نے سوائن فلو کے معاملے کو ایسے پیش کیا جیسے ملک میں کوئی مسئلہ ہی نہ ہو اور سب ٹھیک چل رہا ہو حالانکہ اس وقت تک ملک بھر میں ایچ ون ، این ون وائرس کے باعث ہلاکتیں 30 سے زائد ہوچکی تھیں ۔ آپ اور ہم جانتے ہیں کہ برڈ فلو اور سوائن فلو جس کو اب انفلوانیزا کہا جارہا ہے جب بھی کسی ملک میں آتا ہے تو وہاںچکن کے نرخ آسمان سے زمین پر گر جاتے ہیں اور قوم جانتی ہے کہ اس وقت ملک میں چکن کے کاروبار کرنے والے بے تاج بادشاہ کون کون ہیں ۔ اب اس ساری صورتحال کے پیش نظر جب وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ پریس کانفرنس کررہی تھیں تو چند سوالات کاجنم لینا فطری بات تھی جس کے باعث ایسا لگ رہا تھا کہ سوائن فلو کے معاملے پر کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی سطح پر کچھ نہ کچھ دال میں کالا ضرور ہے اگر ہم اس بات کو مزید واضح کرنے کیلئے ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو تقریباً چار سال قبل سوائن فلو جس کے وائرس کا نام ایچ ون اور این ون ہے سے دنیا بھر میں 17 ہزار سے زائد انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی گئی تھیں جس کے بعد ڈبلیو ایچ او جو کہ ورلڈ وائیڈ بیماریوں کی مسلسل مانیٹرنگ کرتا ہے نے ایک رپورٹ جاری کی کہ اب ایچ ون اور این ون وائرس سوائن فلو ”وبائی مرض“ نہیں رہا یہ وبائی مرض سے موسمی مرض میں مبتلا ہوکر سیزنل فلو بن گیا ہے ( اب یہ کیسے بنا اس بارے بہت سا ابہام موجود ہے) کیا ڈبلیو ایچ او اس وقت غلط تھا یا اب غلط ہے معلوم نہیں اس کی تحقیق کرنے کا کوئی طریقہ کار دنیا میں موجود ہے یا نہیں۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او سے کوئی پوچھنے والا نہیں اسی لئے انسانی صحت بہت سی بیماریوں کی سازش کا شکار رہتی ہے ۔ دوسری جانب اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی مسئلہ ہے ڈبلیو ایچ او بھی سوچتا ہے کہ میں نے آخر کس حکومت سے رابطہ کرنا ہے۔ اب چونکہ سوائن فلو کا یہ معاملہ صوبائی معاملہ ہے تو آخر کسی صوبے کی جانب سے وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی اس پر بھی وہی سوالات جنم لیتے ہیں جو کہ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کی پریس کانفرنس کے دوران جنم لے رہے تھے بحرحال وزیر مملکت کی پریس کانفرنس کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ شاید سب ٹھیک ہے اور کوئی مسئلہ نہیں لیکن ایک بار پھر صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ سوائن فلو کے 3 مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک مریض میں سوائن فلو کی تصدیق ہوچکی ہے تو کیا وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ صاحبہ اب میڈیا پینک پھیلارہا یاصوبائی حکومت کی جانب سے پینک پھیلانے کی کوشش کی گئی یا پھر وہی سامنے آیا جو کہ حقیقت ہے۔ میڈیا یا پینک نہیں پھیلاتا میڈیا وہی خبر فائل کرتا ہے جو کہ اس کو باوثوق ذرائع سے موصول ہوتی ہے اور ٹیکنیکل خبریں تو ویسے بھی میڈیا اپنے پاس سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹ نہیں کرتا لیکن چونکہ ملک میں سوائن فلو موجود ہے اس لئے حکومت نے اپنا نزلہ کسی نہ کسی پر تو ضرور پھینکنا تھا سو اسکا آسان ہدف میڈیا تھا لیکن وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس بات کی تحقیق ضرور کریں کہ اس سارے معاملے کا ذمہ دار کون ہے اور بیماری کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ محض الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انسانی جسم نے آخر کونسی ایسی کروٹ لی جس کے باعث سوائن فلو جیسا جان لیوا وبائی مرض سیزنل فلو( موسمی نزلہ) میں تبدیل ہوکر رہ گیا ایسا تو نہیں کہ اس سوائن فلو کی خبروں کے باعث کسی مخصوص کاروباری طبقے کو نقصان سے بچانے کیلئے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر سب ٹھیک تھا تو پھر غیر متوقع ہلاکتیں کیوں ہوئیں اور ان ہلاکتوں کی تحقیق کون کرے گا اور اس کا جوابدہ کون ہوگا کیا کسی کو قرارواقعی سزا مل پائے گی۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارے حکمران صحت کے حوالے سے کتنے بے خبرہیں کہ قوم کس قرب سے گزر رہی ہے۔

Google Analytics Alternative