کالم

ٹوٹے اور ٹونے

بھنگ رنگ اور جنگ
بھنگ رنگ اور جنگ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے کہیں رنگ بکھرے ہوں اور کوئی آکر بھنگ ڈال دے تو نتیجہ جنگ ہوتا ہے اور کہیں جنگ ہو رہی ہو تو ماحول میں بھنگ ڈال دینا تسکین بخش ہوتا ہے اور رنگ بھی آتا ہے اور چوکھا آتا ہے کہیں بھنگ چل رہی ہو اور کوئی آ کر رنگ ڈال دے تو بھی نتیجہ جنگ ہو سکتا ہے مثلا بقول مشاہداللہ کے سائیں کار حالت بھنگ میں ہے اور صوبہ حالت جنگ میں ہے وفاق حالت رنگ میں ہے اب جب چوہدری نثار رنگ آ ڈالیں گے تو بھی نتیجہ جنگ ہی نکلے گا کیونکہ جنگ اور بھنگ میل نہیں کھاتی بھنگ سے بھنگ والوں کو سکون جنگ سے بے چینی ہوتی ہے بھنگ والے بھی جنگ نہیں چاہتے لیکن رٹ کا رنگ بھی تو رکھنا ہوتا ہے کبھی کبھی بھنگ سے بھی نتیجہ جنگ ہی نکلتا ہے اور کبھی جنگ کا علاج بھنگ سے کیا جاتا ہے حالت بھنگ سے رینجرز کی کار کردگی بھنگ ہونی شروع ہوئی تو کراچی کے شہری جنگ پہ آمادہ ہو گئے جب رینجرز کی کار روائیوں سیدہشتگردوں کے منصوبے بھنگ ہونے لگے تو امن کا رنگ اوردہشتگردوں پہ خوف کا رنگ چھانے لگا حکومتی چہروں کا رنگ آنے اور جانے لگا اور اسمبلی میں تشویش کا رنگ چھانے لگا وفاق کے چہرے پہ لال رنگ آنے لگا اینٹوں والوں پہ زرد رنگ چھانے لگا اہل بھنگ پر دو آتشہ دباؤ آنے لگا جس سے وہ تنگ ہیں سندھ کی حزب مخالف پہ احتجاج کا رنگ چھانے لگا سو ثابت ہوا کہ بھنگ رنگ اور جنگ کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور تنگ بھی شامل ہوا چاہتا ہے ‘
کپڑے کی ٹھپائی اور دھلائی
خبر ہے کہ ایک ٹیکسٹائیل صنعتکار جو ملک سے باہر تشریف فرما تھے اور ان کے معاملات ملک کے اندر موصوف اپنے بھولپن یا ریاست کو بھولا یامعاملے کو بھولا بسرا سمجھ کر ملک میں تشریف لے آئے اور دھر لئے گئے ابتداء میں بھولے بننے لگے تو ان کوبتایا گیا کہ آپ کی کپڑے کی صنعت سے پرانی وابستگی رہی ہے جس میں دھونا ٹھپا ٹھپی اور کپڑے کی کھمب ٹھپے جانے کے بعد استری سے وٹ (سلوٹیں ) نکال کر لپیٹ دینے کا عمل پورے process کا اہم حصہ ہوتا ہے ویسے بھی پنجاب انتظامیہ کو بڑے بڑوں کے وٹ نکالنے خاص طور پر مخالفین کے وٹ بڑی ریجھ (پیار محبت)سے نکالنے پر خصوصی ملکہ حاصل ہے مکو ٹھپنا ان کی اضافی قابلیت تصور ہوتی ہے کپڑے پر ٹھپے آج بھی ٹھپے جاتے ہیں اس پورے process جس کا عملی مظاہرہ باہر سے تشریف لانے والے موصوف کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جناب کی حب الوطنی دیکھیے انہوں نے دماغ کی پوری توانائی جھونک دی اور ان کو وہ کچھ بھی یاد آگیا جسے وہ بھولے ہوئے تھے اور پورا سچ نگل دیا یوں ان کی بھولی بسری یادیں تازہ ہوگئیں کسی حد تک طبق کی روشنیاں بھی لوٹ آئیں اور آج کل بڑی عافیت سے ہیں اور ان سے انس رکھنے والے ان سے کہتے ہیں ” ہن آرام ای” ویسے آپس کی بات ہے ہماری انتظامیہ یاداشتیں تازہ کرانے میں بھی کیسی کیسی فنکارانہ صلاحیتیں رکھتی ہے ان کو یہ صلاحیتیں برآمد کرنے پہ غور کرنا چاہئیے۔
ایس ایم ایس کی پھرتیاں
صوبہ پختونخواہ کی سیاسی شخصیت جناب ایس ایم ایس ایک بڑی ہنر مند شخصیت ہیں سرسوں کو نہ صرف ہاتھوں پہ جما لیتے ہیں بلکہ برگ و بار لانے کا اہتمام بھی بخوبی کر لیتے ہیں پانی اور کھاد کی ضرورت بھی نہیں ہوتی نام سے ظاہر ہے کہ کوندے کی طرح لپکتے ہیں اور چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتے ہیں اپنی ترنگاں ترنگ شخصیت کے ہمہ جہت پہلو رکھنے کے منفرد اعزاز کے حامل ہیں اور اپنی کی فنکارانہ صلاحتیوں کے بل پر دن کو رات باور کرالیتے ہیں اور رات کو دن ،کہنے کو تو شاید فرنٹ مین ہوں لیکن اپنے عملی کردار کی وجہ سے مرکزی شخصیت سے خصوصی تعلقات کی بدولت بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور معاملات فرنٹ فٹ پہ رہ کے لیڈ کرتے ہیں پلاٹوں کی الٹ پلٹ کے ماہر چاہے وہ بر سر زمین ہو یا خیال میں موصوف بہت صاحب فن شخصیت ہیں بلکہ ہر فن مولا’ پلی بارگین کے معاملات کی ڈیلنگ میں ید طولی رکھتے اپنے مربی کے اسلام آباد میں موجود قیمتی پلاٹ مکان اور بزنس کمپلیکس بچا لے گئے اور ان کے آبائی علاقے میں بہت سی جائیدادیں بھی بچا لے گئے سلام ہے نیب کو جس نے لوٹ مارکو سودے بازی سے جواز بخشنے کی لانڈری جو کھول رکھی ہے یہ ایک ایسی مشین ہے جس میں آپ حرام کا گوشت ڈال کر عین حلال پراڈکٹ بر آمد کر لیتے ہیں آپ قوم اور قومی وسائل کو رج (پیٹ بھر) کے لوٹیں یعنی دس ارب لوٹ لیں نیب سے تین چار ارب میں ڈیل کرلیں اور ایکدم اجلے اور صاف ستھرے ہو کر وہی کام شروع کر دیں وہ بھی اگر آپ کچے کھلاڑی ہیں اور اگر آپ پکے کھلاڑی تو حکومتوں میں بیٹھ قوم اور ملک کے حل کریں کونسی نیب کیسا احتساب پاکستان ۔

آپ کو کس نے روکا ہے..؟

آج یہ بات اچھی طرح میدانِ سیاست کا ہر ادنا و اعلیٰ نیا اور پرانا سیاسی کھلاڑی خوب جانتا اور سمجھتا ہے کہ میدانِ سیاست میں کوئی بھی وعدہ حتمی اور اٹل نہیں ہوتا ہے اور اِسی طرح کسی بھی سیاست دان کے منہ سے(خاص طور پر عوامی مفادات اور فوائد سے متعلق) نکلایا زبان سے کہا ہوا کوئی بھی لفظ اور جملہ کم ہی کم سچ ثابت ہوتا ہے اور اگر کوئی سیاستدان کبھی اپنے کہے پر ڈٹ بھی جائے تو اِس میں بھی اِسی کے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔بیشک ..!!آج اِس سے انکار نہیں ہے کہ بدقسمتی سے میرے دیس پاکستان میں میدانِ سیاست میں جتنے بھی سیاسی کھلاڑ ی اپنے اپنے سیاسی اکھاڑے سجائے ہوئے ہیں اوروہ سب کے سب اپنے تعین سیاسی پینترے بازی میں خود کو یکتا اور اعلیٰ سمجھتے ہیں اور چمگادڑ کی اِس خوش فہمی کی طرح جیسا کہ یہ درختوں اور چھتوں پر اُلٹا لٹک کریہ سمجھتاہے کہ اِس نے اُلٹا لٹک کر آسمان اور چھتوں کو اپنی ٹانگوں سے روکے رکھا ہے اگر یہ اِنہیں نہ روکے رکھے تو آسمان اور چھتیں گرجائیں اور اِنسانوں کی موت واقع ہوجائے برسابرس سے ایسا ہی کچھ خیال میرے مُلک کے سیاست دانوں کا بھی ہے کہ اگر یہ اپنے سیاسی اکھاڑے سے ایوانوں اور اداروں میں اپنے ہم خیال گروپس تشکیل دے کبھی فرینڈلی اپوزیشن تو کبھی لوولی (LOVELY)اپوزیشن کا کردار ادارکرکے سیاست نہ کریں تو عین ممکن ہے کہ اداروں کو مُلکی اُمور کی انجام دہی میں مشکلات پیدا ہوں اور حکومتیں اپنے کام ٹھیک طرح سے نہ چلاسکیں۔ جبکہ آج اِس حقیقت سے نہ صرف خود سیاستدان بلکہ عوام بھی واقف ہوچکے ہیں اور اَب یہ بات سب ہی اچھی سے جانتے اور سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کی چمکادڑ کی طرح کی خوش فہمی محض خوش فہمی ہی ہے کہ ہمارے یہاں سیاستدان اداروں اور حکومتوں کو چلانے میں اپنا کوئی کردار ادا کرتے ہیں آج سیاستدانوں کی اِس خوش فہمی کے برعکس یہ سب کو اچھی طر ح سے معلوم ہے کہ جب بھی مُلک میں کوئی سِول حکومت آئی ہے یہ کس کے زیرتسلط رہتی ہے اور اِسے کون کس طرح اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے …؟یہاں میں مختصر سے وقت اِس بحث میں گیا تو بات بہت دور تک چلی جائے گی ،بہرحال …!! ہمارے سیاستدانوں کو ہر حال میں اپنا محاسبہ کرتے رہناچاہئے ، خواہ وحکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر(حزبِ اختلاف ) میں ہوں اِنہیں یہ ضرور سوچتے رہنااور سمجھتے رہنا چاہئے کہ یہ آزاد نہیں ہیں کوئی اِن کی ایک ایک پل کی مانیٹرنگ کررہاہے اور اِن کی نقل و حمل کو بھی دیکھا جارہاہے اور اِن کی خا ص و عام یعنی کہ ایوانوں اور اداروں اور عوامی مقامات اور میڈیا میں استعمال کی جانے والی زبان و جملوں کو بھی کئی زاویوں سے تولا اور پرکھاجارہاہے..اکثر ہمارے سِول سیاستدانوں کی کبھی کبھی یہی بھول اور خوش گمانی کہ یہ حکومت میں ہیں یا حکومت سے باہر ہیں تویہ ہر غم اور قید سے آزاد ہیں اَب یہ جیسا جہاں چاہیں بولیں… جس کے بارے میں جس طرح سے چاہیں زبان اور جملے استعمال کریں… اِنہیں کوئی پکڑنے اور روکنے والا نہیں ہے اور یہ جس طرح سے چاہیں کسی بھی ا دارے کی جب چاہیں عزت اُتار کررکھ دیں اِن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے… ایسا نہیں ہے ہر ادارے کا اپنا ایک تقدس اور مقام ہے ہمارے سیاستدانوں کو کسی بھی ادارے ( اور اُس مقدس ادارے سے متعلق جس نے ہر دورمیں سِول حکومتیں بنائیں اور گرائی ہیں ) کے بارے میں زبان ہلانے سے پہلے خود اپنے گریبان میں ضرور سوسوبار جھانک لینا چاہئے کہ یہ خود کیا ہیں..؟؟اکثرجوجذبات کے آگے بے قابو ہوکر اداروں کے بارے میں ایسی زبانیں استعمال کرجاتے ہیں جنہیں سُن کر ادارے تو ادارے ایک عام پاکستانی شہری بھی شسدر رہ جاتاہے۔بہرکیف ..!! آج اگرپچھلے کئی مہینوں سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور مُلک کے سابق صدر آصف علی زرداری دُبئی میں قیام پذیر ہیں تو اِس کی بھی ایک بڑی خاص وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک عام عوامی اجتماع میں مُلک کے ایک مقدس ادارے جس کی داستانیں اور خدمات مُلک کی بقا و سا لمیت کے خاطر ہر لمحہ سرحدوں کی حفاظت او رمُلک میں جاری ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں سے بھری پڑی ہیں اِس ادارے کی خدمات کے بارے میں ایسی زبان اور جملے استعمال کئے تھے جواِس ادارے کی برداشت سے باہر تو تھے ہی مگر ہر محب وطن پاکستانی کوبھی بہت ناگوار گزرے تھے پھر اِس کے بعد گھمبیرہوتی صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے خود ہی پی پی پی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری دُبئی چلے گئے تھے اور یوں یہ تب سے اَب تک دُبئی میں ہی ہیں اور آج کل یہ وہیں ہی سے اپنی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں اور جب کوئی اہم فیصلے اور مشورے کرنے ہوتے ہیں تو یہ اپنی پارٹی قیادت کو وہیں دُبئی ہی مدعو کرلیتے ہیں اور اُدھر ہی سے احکامات جار ی کرتے رہتے ہیں۔جبکہ اِس سارے منظر اور پس منظر میں تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں اور اداروں اور عوام الناس کا قوی اور خیام خیال یہی ہے کہ جب تک زرداری صاحب کے لئے وطن واپسی کے حوالے سے حالات پوری طرح اطمینان بخش اور سازگار نہیں ہوجاتے ہیں اور اِن کے مقدس ادارے کے بارے میں استعمال کی گئی زبان اور زبان سے کہے ہوئے اُلٹے سیدھے جملوں پر منوں دھول نہیں چڑھ جاتی وہ کسی بھی صورت میں پاکستان واپسی نہیں آئیں گے ۔اگرچہ ..!!مدینہ منورہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں صحافیوں سے مختصراََ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورمُلک کے سابق صدر آصف علی زرداری نے یہ ضرور کہاہے کہ’’ کراچی آپریشن جاری اور رینجرز کو اختیارات ضرورملنے چاہئیں‘‘ مگر جب اِس موقع پر ایک صحافی نے اِن سے یہ سوال کیا کہ ’’ آپ کب پاکستان واپس آئیں گے..؟تو جواب میں اُنہوں نے اپنے مخصوص انداز سے ہنستے ہوئے یہ کہاکہ’’ جب چاہوں ،پاکستان جاسکتاہوں، کوئی مجھے روک نہیں سکتا، پاکستان میرا گھرہے بہت جلدواپس جاؤں گا‘‘یہاں اِن کے اِس کہے پر یقینایہ سوالات عوام الناس اور خود اِن کی پارٹی کے عہدیداران اور کارکنا ن اداروں کے سربراہان کے ذہنوں میں ضرور پیداہورہے ہوں گے کہ جناب آصف علی زرداری صاحب ..!! بیشک پاکستان آپ کا گھر ہے، جناب آپ کو کو ن پاکستان آنے سے روک رہاہے..!! آپ تو خود ہی فوج جیسے مقدس ادارے کے بارے میں کچھ کہہ کر اپنے انجام سے ڈرکر مُلک سے چلے گئے ہیں اور اَب خود ہی واپسی کانام نہیں لے رہے ہیں، اور اِس پر سُونے پہ سُہاگہ یہ کہ آپ اُلٹاخود ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’مجھے کوئی روک نہیں سکتاہے‘‘ ۔ارے بھائی..!! آپ کی واپسی آنے کا تو ساراپاکستان ہی بڑی بے چینی سے منتظر ہے،اِن دِنوں عوام اور ادارے تویہی چاہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان آجائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے جب کہ ایک آپ ہیں کہ خودہی وطن واپس نہیں آناچاہ رہے ہیں،اوراِسی طرح آپ نے سندھ میں رینجرز کے توسیع اور خصوصی اختیارات اور کراچی میں جاری آپریشن کے بارے میں جو فرمایا ہے اِس پر یہاں بس میں یہ کہہ کر اپنی بات کوختم کرناچاہوں گاکہ آصف علی زرداری صاحب حالات اور واقعات کے پیشِ نظر ’’برزبان تسبیح ودردل گاؤخر‘‘ جس کے معنی یہ ہے کہ ’’ زبان پر اللہ کانام اور دل میں بیلوں اور گدھوں کا خیال ہے یعنی کہ آج آپ کے دل میں کچھ اورزبان پر کچھ ہے۔

پولیس نظام میں خامیاں اور وزیر داخلہ کے نوٹسز

zia

وفاقی پولیس نے ایک پلازے پر قبضے کے الزام میں تین سالہ بچے پر مقدمہ قائم کردیا ۔ مقدمہ اسلام آباد کے تھانے شالیمار میں درج کیا گیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وفاقی پولیس پر سیاسی دباؤ تو ختم کردیا لیکن پولیس میں کرپٹ عناصر کو ختم نہیں کیاجاسکا ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ٹاپ کی لیڈرشپ ٹھیک ہو تو نیچے خودبخود بہتری آجاتی ہے لیکن اسلام آباد کی پولیس نے اس سوچ کی نفی کردی اور ثابت کردیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اسلام آباد کی پولیس نے تین سالہ بچے پر مقدمہ درج کرکے ثابت کردیا کہ اسلام آباد کے تھانوں میں مقدمات کا اندراج کیسے کیاجاتا ہے۔وفاقی پولیس نے عوام کو بتا دیا کہ وہ کون سے خطوط ہیں جن کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی نیت پر کسی صورت شک نہیں کیا جاسکتا وہ پولیس میں بہتری کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں لیکن وفاقی پولیس کے کرپٹ اہلکار انکی نیت کو تکمیل دینے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں اب معلوم نہیں کہ جان بوجھ کر ایسا کیا جارہا ہے یا وفاقی پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں اپنی فطرت سے مجبور ہیں۔3 سالہ بچے پر مقدمے کا وفاقی وزیر داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا ہے جبکہ ایس پی کو شوکاز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم خان سے بھی وضاحت طلب کرلی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ واقعے کی انکوائری کا بھی حکم جاری کردیا گیا ہے۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن کیا یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔یہ بڑا سوالیہ نشان ہے تو جناب اس سوال کا بظاہر جواب یہی نکلتا ہے کہ وقتی طورپر کسی ایک کوچند دن کیلئے سزا کے طورپر معطل کرکے بعد میں پھر بحال کردیا جائے گا اوراگر معطل شدہ فرمانبردار ہوا تو وفاقی پولیس میں ورنہ ٹریفک پولیس میں تعینات کردیا جائے گا جسکی وجہ ناقص انکوائری میں حقائق کومسخ کرکے اپنوں کو بچانا اورپرانے پولیس کے راز افشاں ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ کوچاہیے کہ انکوائری کمیشن قائم کریں جو کہ ہائی پروفائل پر مشتمل ہو اورغیرجانبدار تاکہ پولیس کی کرپشن اورناقص تفتیش سمیت غلط مقدمات اورغلط اخراج رپورٹ مرتب کرنے والوں کی تفتیش انہی کا محکمہ نہ کرے بلکہ ایک غیر جانبدار اورتگڑا فورم انکا احتساب کرے اور وہاں درخواست کا طریقہ کار آسان رکھاجائے اورپھر وہ فورم باقاعدہ سزا تجویز کرے ۔کرپٹ پولیس اہلکاروں پربھی مقدمات درج کرائے جائیں اس سے قبل انکو مکمل طورپر نوکری سے برخاست کیا جائے تاکہ بعداز مقدمات وہ کسی بھی صورت انکوائری پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔ورنہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب آپکے اس نوٹس کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ چند ماہ قبل جناح سپر مارکیٹ میں فائرنگ کے واقعہ کے نوٹس کاہوا ہے۔ اگر وفاقی وزیر دخلہ مستقل طورپر غیرجانبدار انکوائری کمیشن تشکیل نہیں دے سکتے تو پھر کم ازکم نوٹس شدہ معاملات کی انکوائری خودکریں جب تک ایسا نہیں ہوگا وفاقی پولیس میں شامل کالی بھیڑیں ختم نہیں ہونگی اور وہ سیاسی و جمہوریت حکومت کی کارکردگی پر بدنما داغ بن کر پورے نظام پر منڈلاتی رہیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان یہ تو تین سالہ بچے پر مقدمہ درج کرنے کی بات ہے لیکن وفاقی پولیس میں تو اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں لیکن چونکہ انکو پوچھنے والا کوئی نہیں اس لئے تمام لوگ مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر بچا لیے جاتے ہیں۔ وفاقی پولیس مقدمات میں غلط اخراج بناتی ہے تو اسکو کوئی پوچھنے والا نہیں اگر سائل اسکے خلاف درخواست دے تو اسکی بدقسمتی ہے کہ ڈی ایس پی کو وہ درخواست مار ک کردی جاتی ہے حالانکہ اگر اے ایس پی کو مارک کی جائے تو اس انکوائری کی نوعیت ہی تبدیل ہو لیکن نظام بنانے والوں نے عوام کو انصاف تھوڑی فراہم کرنا ہے ان کا مقصد تو صرف مجرموں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اسی لئے تو یہ نظام بنایا گیا ہے اس کے بعد ڈی ایس پی اخراج رپورٹ پر اعتراض لگاتا ہے ۔ اعتراض کے بعد اور سائل کی درخواست پر انکوائری کی جاتی ہے اور پھر انتہائی صفائی کے ساتھ ایف آئی آر کو غیرموثر کردیا جاتا ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ڈی ایس پی اپنی رپورٹ میں خودلکھتا ہے کہ ناقص تفتیش ہوئی لیکن اس کے باوجود تفتیشی کیخلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی جاتی ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایف آئی آر ری اوپن کرنے کے حکم کے باوجود تفتیشی ڈی ایس پی کے لکھے الفاظ کو دوبارہ تفتیش کے ذریعے بھی تبدیل کرنے کی جرات نہیں رکھتا جس کے باعث انصاف کا قتل ہوجاتاہے۔وفاقی وزیرداخلہ صاحب کبھی ان رینکرز افسران کے اثاثہ جات تو چیک کرائیں سارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ باقی اگر آپ نے مزید تفصیلات طلب کیں تو آپکی خدمت میں پیش کردی جائیں گی صرف اس امید پر کہ شاید کرپٹ پولیس اہلکار وفاقی پولیس میں سے ختم ہو جائیں اور عوام کو انصاف میسر آسکے کیونکہ معاشرے وہی قائم رہتے ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہو ۔وفاقی وزیر داخلہ آپ ایک جمہوری شخصیت ہیں اورعوام کی طاقت سے یہاں تک پہنچے ہیں اور جمہور ہی نظام میں وہ تبدیلی لا سکتے ہیں جس میں انصاف کاجھنڈا سربلند اور پائیداری ہو بصورت دیگر حکومت کی مقررہ مدت کے بعد عوام میں کیا رائے پروان چڑھے گی اس بارے میں سب جانتے ہیں۔ آج کا کالم لکھنے کی صرف اورصرف وجہ وفاقی وزیرداخلہ سے بہتری کی امید ہے کیونکہ اگر بہتری کی امید نہ ہو تو روشنی دینے والے دئیے بھی آہستہ آہستہ بجھ جاتے ہیں اور پھر وہی اندھیرے کا راج دوبارہ شروع ہوجاتا ہے جس کا غرور ایک چراغ کی کرن نے خاک میں ملا یاہوتاہے ۔ ملک اس وقت تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ دیگر شعبہ جات کی طرح پولیس میں بھی اصلاحات ضرور ہونگی اور عام آدمی کو انصاف مل کر رہے گا اور دولت و طاقت کے نشے میں دھت افراد کو خدا کی خدائی یاد دلائی جائے گی۔

بلوچستان،پنجاب مخالف بیانیہ بدلنے کی ضرورت

syed-rasool-tagovi

مری معاہدے کے تحت بلوچستان میں سیاسی تبدیلی وقوع پذیرہونے جارہی ہے۔ا ہم قبائلی رہنما اور زہری قبیلے کے سربراہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری بلوچستان کے 22 ویں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ وہ ڈاکٹر عبدالمالک کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گے۔ڈاکٹر مالک مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد 9 جون کو وزیراعلیٰ بنے تھے۔ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت انہیں اڑھائی سال کیلئے یہ منصب سونپا گیا تھا۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مالک نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر تربت سے صوبائی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ سردارثناء اللہ زہری سردار دودا خان زہری کے بیٹے ہیں۔1988ء میں وہ پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ چھ مرتبہ خضدار سے رکن اسمبلی جبکہ ایک بار سینیٹر بھی رہے ہیں۔ کئی اہم وزارتوں کے وزیر رہ چکے ہیں۔اڑھائی سال کے انتظار کے بعد بلوچستان کی باگ ڈوراب انکے حوالے کی جارہی ہے۔ بلوچستان میں حالات میں کافی بہتری آگئی ہے، تاہم ابھی یہ پھولوں کی سیج بھی نہیں ہے۔امن و امان کی قابو ہوتی ہوئی صورتحال کے تسلسل کو قائم رکھنے جیسی بھاری ذمہ داری ان کے کندھوں پرآن پڑی ہے۔مرکزی حکومت سے بہتر تعلقات اور پھران کو بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی کیلئے استعمال کرنا ایک الگ کڑا امتحان ہے۔ گزشتہ اڑھائی برس میں بلوچستان حکومت کا مقتدر حلقوں سے تال میل مثالی رہا ہے، جس سے جہاں امن و امان میں نمایاں بہتری آئی وہاں ناراض بلوچ دھڑوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ۔کئی ناراض رہنماؤں نے قومی دھارے میں واپسی کے مثبت اشارے دئیے، تاہم ابھی بھی ایک گہری سازش کے تحت نوجوانوں کو حکومتوں کی بیڈگورننس کی آڑ میں برین واش کیا جارہا ہے،انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اپنے حقوق کیلئے بندوق ہی واحد راستہ ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے محرومیوں کا خوب واویلا اور پروپیگنڈہ کیا جارہاہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف بلوچستان ہی نہیں چاروں صوبوں کے دوردراز دیہی علاقوں میں یہی صورتحال ہے۔جنوبی پنجاب کو دیکھیں یا اندرون سندھ تھر کو دیکھ لیں۔انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں۔مگر فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اس محرومی کو کوئی بیرونی ہاتھ اپنے مقاصد کے استعمال نہیں کررہا ہے۔بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی کا جہاں شورمچایا جاتا ہے وہاں پنجاب کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ ملک کے سب وسائل پنجاب کی اشرافیہ ہڑپ کررہی ہے، یہ اسی الزام تراشی اور پروپیگنڈے کا ہی نتیجہ ہے کہ بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاتاہے۔یہاں پنجاب اس کا الزام صوبہ بلوچستان پر نہیں بلکہ ان خفیہ ہاتھوں پر دھرتا ہے جوایک عرصہ سے اپنا گھناونا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس کوبہت ہوا دی جاتی ہے۔ زہری حکومت کو اس سلسلے میں بہت کام کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسے اپنی عوام کویقین دلانا ہوگا کہ پنجاب ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ابھی حال ہی میں بلوچستان کے استحکام کیلئے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا ہے جسمیں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک سمیت پنجاب کی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔ صرف یہی نہیں کہ پنجاب مذاکرے یا سیمینار منعقد کرارہا ہے بلکہ عملی طورپر حصہ بھی ڈال رہا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد طلباء پنجاب یونیورسٹی میں خصوصی تعاون اورسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے زیرتعلیم ہیں۔ بلوچستان کے رہنماؤں کو میڈیا سے شکایت رہتی ہے کہ مرکزی میڈیا انہیں اتنی بھی کوریج نہیں دیتا کہ جتنی وہ اپنے کتے بلیوں کودیتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میڈیا بلوچستان مسئلے پر بھرپور آواز اٹھاتا ہے ۔ بلوچستان کے مسئلے پر اخبارات تجزیوں سے بھرے پڑے ہیں چاہے دہشت گردی ،ٹارگٹ کلنگ یا لاپتہ افراد کا معاملہ ہو میڈیا نے ان مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ مسائل کے حل کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بھی اُٹھائی۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کامسئلہ ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ وسائل سے مالا مال ہے۔ ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اس صوبے کوعدم استحکام سے دوچار رکھنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں لیکن سیکورٹی ادارے ان عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی نگرانی میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی ادارے بیرونی مداخلت کی بیخ کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت خصوصاً’’را‘‘ پوری طرح متحرک ہے۔اپنے چند آلہ کاروں کے ذریعے کبھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کرائی جاتی ہے توکبھی محرومیوں کا واویلہ کروا کر ملک کے دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب کے خلاف نوجوان طبقے کو گمراہ کیا جانا ہے۔اغواء برائے تاوان ،حساس قومی اداروں پر دہشت گردانہ حملے ، لاپتہ افراد اوراجتماعی قبریں یہ وہ اہم ایشوز ہیں جن کو ہوا دے کر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کو بدنام کیا جاتاہے۔ ایسے ہی وہ معاملات ہیں جو بلوچستان کی نئی حکومت کیلئے کڑا امتحان ہیں۔ لہذا ثناء اللہ زہری حکومت کو اس سلسلے میں پالیسیوں کے تسلسل کوبرقراررکھتے ہوئے مزیدموثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
مالک حکومت نے امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ قدر اقدمات کیے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث گروہ کا خاتمہ ہوا، صوبے کے ڈاکٹر، اساتذہ، تاجر اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر کی زندگی کو تحفظ حاصل ہوا۔ حکومت کے اقدامات کی بناء پر سیاسی کارکنوں کے اغواء کا سلسلہ خاصا کم ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کا محور بلوچستان ہے۔یہ راہداری اقتصادی شہہ رگ کی حیثیت رکھتی۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کو ان ترقیاتی منصوبوں پرتحفظات ہیں۔ان کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں بلوچ نوجوانوں کا حصہ کم ہے ان خدشات میں کسی حد تک وزن ہے مگر اقتصادی ترقی ہی بلوچستان کے عوام کا تحفظ کرسکتی ہے۔ اگر بلوچستان کی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں ایک صفحے پر اکٹھی ہوں تو ان خدشات کودور کیا جاسکتا ہے۔ جلاوطن رہنماؤں اور علیحدگی پسندوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ غیر ملکی سہارے مخصوص مقاصد لئے ہوتے ہیں اور جب ان ممالک کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں توٹشو پیپر کی طرح اُٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔جیسے افغانستان میں طالبان عالمی استعمارکے کبھی چہیتے تھے۔

کراچی آپریشن کی تکمیل ناگزیر ہے

riaz-ahmed

دو روز قبل سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات کم کر کے اسے مزید ایک سال کیلئے کراچی میں اپریشنز کی اجازت دی۔ اس پر وفاقی حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم فوری طور پر شدید ردعمل سے گریز کیا گیا البتہ گورنر سندھ عشرت العباد نے کہا ہے کہ رینجرز کے اپریشن میں کمی آئیگی نہ کارروائی رکے گی۔ گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے انکے بیان کو اہمیت دی جا رہی ہے۔سندھ حکومت نے ر ینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے ایک ایسی قرار داد منظور کی اور نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت رینجرز کے بعض اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے قرار داد میں چند شرائط رکھی گئی ہیں ۔ شرائط کے مطابق رینجرز کو صرف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان سے متعلق اختیارات حاصل ہونگے۔ فرقہ وارانہ کلنگ کی روک تھام کے معاملے میں بھی کارروائی کر سکے گی۔ کوئی شخص جو براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے اور جس پر دہشت گردوں کی مدد اور اعانت کا شک ہو یا دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا شک ہو۔ اس شخص کو حکومت سندھ یعنی وزیر اعلیٰ سندھ سے تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قانون کے تحت حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جا سکے گا۔ قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی شخص پر مذکورہ بالا جرائم کا شک ہونے کی صورت میں اس شخص کے بارے میں مکمل شواہد کے ساتھ معقول اسباب حکومت سندھ کو فراہم کئے جائیں گے۔ جو اس کی حفاظتی نظر بندی کا جواز پیدا کرتے ہوں۔ حکومت سندھ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایسے شخص کی نظر بندی کی تجویز کو مسترد یا منظور کر دے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رینجرز حکومت یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے دفتر پر چیف سیکرٹری سندھ کی تحریری منظوری کے بغیر چھاپہ نہیں مارے گی۔ رینجرز اپنی کارروائیوں میں سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی مدد نہیں کرے گی۔ سند ھ حکومت کی شرائط کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست سابق وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور بعض دیگر چھاپوں کو پیش نظر رکھ کر قرار داد مرتب کی گئی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جو رینجرز کے دائرہ اختیارات میں شامل ہیں ان کے معاملے میں بھی رینجرز پر بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں یعنی دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے کے سلسلے میں بھی جس پر شبہ ہو اسے وزیر اعلیٰ سندھ کی تحریری اجازت کے بغیر حفاظتی نظر بندی کی تجویز کو مسترد یا منظور کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سندھ حکومت کے ساتھ رینجرز کی خط و کتابت کے دوران مشکوک شخص کو ملک سے باہر فرار ہونے کا موقع مل سکے گا۔ ایک اور مضحکہ خیز شق یہ ہے کہ رینجرز کو صوبے کے کسی سرکاری دفتر پر چھاپہ مارنے کے سلسلے میں چیف سیکرٹری سے تحریری اجازت حاصل کرنی ہوگی اور اپنی کارروائیوں کے معاملے میں سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی اعانت نہیں کرے گی۔ یعنی وہ خفیہ ایجنسی کی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر بھی اس کی معاونت میں کسی فرد کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گی۔ مذکورہ شرائط کے نتیجے میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہوگی اور دہشت گردوں کی مالی مدد کے باعث انہیں مزید تقویت حاصل ہوگی ۔ اس وقت رینجرز کے کراچی اپریشن کے حوالے سے وفاقی حکمران مسلم لیگ (ن) اور سندھ کی حکمران پیپلز پارٹی کے مابین مفاداتی سیاست کی بنیاد پر توتکار کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں اب تلخی کا عنصر غالب ہوتا نظر آ رہا ہے، اس سے اندیشہ یہی ہے کہ باہم دست و گریباں ان حکمران جماعتوں کی باہمی چھینا جھپٹی سے جمہوریت کی بساط الٹانے کی راہ ہی ہموار ہو گی اور اقتدار کی بوٹی پھر آزمودہ طالع آزماؤں کے ہاتھ آجائیگی۔ جس کے بعد انہی سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر پھر بحالی جمہوریت کی تحریک چلانا پڑیگی جو اس بار زیادہ طویل اور زیادہ صبر آزما ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں حکمران جماعتیں ملک کو کرپشن سے نجات دلانے میں مخلص ہیں تو پھر رینجرز اپریشن پر کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے مگر پیپلز پارٹی کو یہ اپریشن اس لئے سوٹ نہیں کر رہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد اسکی بڑی قیادتوں پر ہاتھ پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کراچی میں بے لاگ اپریشن منطقی انجام تک پہنچوانے میں معاون ہو تو اس اپریشن کا دائرہ کار پنجاب اور دوسرے صوبوں تک بھی وسیع ہو سکتا ہے جس سے کرپشن فری معاشرے کی بنیاد پڑ جائیگی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ دونوں حکمران جماعتیں باہم دست و گریبان ہونے اور جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کے بجائے کرپشن فری معاشرے کی بنیاد رکھیں جس سے جمہوری نظام ہی مستحکم ہو گا۔سیاستدانوں کے بارے بالعموم یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کی چھتری کے نیچے اپنے مفادات کیلئے تو ایکا کر لیتے ہیں مگر جمہوریت کے ثمرات کبھی عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔ جس کے باعث عوام جمہوری نظام سے بدگمان ہوتے ہیں جبکہ عوام کی اسی بدگمانی سے فائدہ اٹھا کر غیر جمہوری عناصر اور طالع آزماؤں کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع ملتا ہے۔ سیاستدانوں کو اس حوالے سے ماضی میں کئی تلخ تجربات حاصل ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی مفاداتی سیاست اور مفادات پر زد پڑنے کے باعث شروع کی جانیوالی محاذ آرائی کی سیاست کا خمیازہ چار مارشل لاؤں کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔ مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔ کراچی میں رینجرز کے اختیارات میں قدغن سے جرائم پیشہ افراد کیخلاف اپریشن متاثر ہو گا۔ تاجروں نے رینجرز کے اختیارات کم کرنے پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے جبکہ عام شہری میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کراچی کو ایک بار پھر دہشتگردوں کے ہاتھ جاتا برداشت نہیں کر سکتی۔ عمومی تاثر ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے لوگوں کی کرپشن چھپانے کیلئے رینجرز کے اختیارات محدود کر رہی ہے۔ مرکز کے پاس آئین کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اختیارات ہیں۔ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بھی کراچی میں رینجرز کو اختیارات دیئے جا سکتے ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت ایسا کوئی اقدام اٹھانے کے معاملہ میں محتاط نظر آتی ہے جس سے پیپلز پارٹی زچ ہو کر اس کے مد مقابل آجائے۔خدشہ ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے عائد کی جانے والی شرائط دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنیں گی اور اب تک کراچی میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف جتنی بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان کے ضائع ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے محاذ آرائی کا ایسا راستہ اختیار کر رہی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر کے آئندہ الیکشن میں اپنی ساکھ بحال کر سکے۔ بہر حال سندھ بالخصوص کراچی کے عوام نے سندھ حکومت کے رویے پر جس تشویش کا اظہار کیا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی غلط کاریاں چھپانے کیلئے سندھ اور پاکستان کی سیاست کو ڈھال بنا رکھا ہے اور کئی سال سے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹنے والے ہی سندھ پر حملہ آور ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائدین بھی محاذ آرائی کی سیاست میں آخری حدیں بھی پھلانگتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ کو باور کرایا کہ اب جنگ دور تک جائیگی ۔جبکہ سندھ حکومت کے سینئر وزیر نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکمران سندھ میں گورنر راج چاہتے ہیں تو لگا کر دکھائیں۔
سابق فوجیوں کی تنظیم پیسا نے حکومت سندھ کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں کمی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مفاد کیخلاف اس فیصلے سے کراچی کی روشنیاں لوٹانے والا ادارہ پولیس سے بھی کمزور ہو جائے گا بلکہ چوکیداری کے فرائض تک محدود ہو جائے گا اور کراچی دوبارہ دہشت گردی اور کرپشن میں ڈوب جائے گا۔ جنرل (ر) علی قلی خان نے کہا کہ رینجرز کے فرائض سے دہشت گردی کو منہا کرنا اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے سہولت کاروں کو تحویل میں لینے سے قبل وزیر اعلیٰ کی منظوری سب سے زیادہ نقصان دہ شق ہے جس سے دہشت گردوں کی گرفتاری ناممکن ہو جائے گی اگر حکومت سندھ رینجرز کے متعلق اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو رینجرز کو واپس بلا لیا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے

nasir-raza-kazmi

پاکستان کے 18-19کروڑعوام ایک طرف اور ایک طرف وہ چند دہشت گر د وں کا گروہ ،اُن کے حمائتی‘ اُن کے سہولت کار اور اُن کے فنانسرزہیں جو تعصب اور تنگ نظری میں اپنی جیسی غیر انسانی سوچ وفکر رکھنے والوں میں ایک دوسرے پر ہمہ وقت سبقت لیجانے میں مگن ملک بھر میں جھوٹے اور اپنے منفی‘بے سروپا مذہبی فرقہ واریت کی لایعنی دلیلوں کے ذریعہ نوجوان نسل کو گمراہی کے جہنم میں دھکیلنے کے ’کاروبار ‘ سے ایسے منسلک ہوئے ہیں کہ اُنہیں دنیا بھر میں مذہب کے نام پر خون کی ہولیاں کھیلنا ہی ’اچھا ‘ معلوم دیتا ہے ایک برس قبل جون2014 میں پاکستانی مسلح افواج نے ہر قسم کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف ایک یقینی جنگ کا جب اعلان کیا اور شمالی وزیر ستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کی ’محفوظ‘ پناہ گاہوں میں تعاقب کرکے اُن سفاک و ظالم دہشت گردوں پر پاکستانی سرزمین تنگ کرکے ایک مشکل ترین نہایت کٹھن کام‘ جو کل تک ناممکن تھا، اُسے پائیہ ِٗ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا ،انسانیت کے دشمن ظالم وسفاک دہشت گرد جب گروہوں کی شکل میں واصلِ جہنم ہونے لگے تو دنیا انگشت بدنداں ہوگی تھی چونکہ اِن سفاک درندہ صفت دہشت گردوں کے کچھ’’ حمایتی غیر ملکی‘‘ بھی تھے پاکستانی عوام کی واضح اکثریت نے آپریشن ضربِ عضب‘شروع ہونے پر سکھ کا سانس لیا پوری قوم اپنی بہادر ‘جراّت مند نڈر فوج کی پشت پر آکھڑی ہوئی، دہشت گردوں کے لئے پاکستان کی زمین تنگ ہوگئی پاکستان کے ہر شعبہ ِٗ زندگی سے وابستہ ذمہ دار بیدار ہوگئے ملکی سیاست اور سیکورٹی ادارے ایک طرح سے سوچنے لگے، یہ اہم تاریخی مقام ہماری سیاسی وسماجی اور معاشرتی قومی زندگی میں ایسا حیات آفریں پیغام لے کر آیا کہ کل تک جو سب کو مشکل نظرآرہا تھا پاکستان کی قومی زندگی رکاوٹوں سے بھری کانٹوں بھری نظر آنے لگی تھی یکایک پاکستانی قوم کی فطرت میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے افواجِ پاکستان کی صورت میں اُنہیں ایک بڑا نجات دہندہ قومی ادارے کے وجود کا مثبت احساس ہوا ،ہمارے صحافی ‘ ہمارے ادیب ‘ ہمارے شاعر ‘ہمارے فنکار‘ ہمارے امن پسند سماجی ادارے ‘ افواجِ پاکستان کے ہم قدم ہمارے سیاسی حکمران ‘ دوسری جانب ہمارے ’علمائےِ حق‘ دہشت گردوں کے سہولت کار ’علمائےِ سُو‘ کے خلاف صف آرا ہوگئے، پاکستانیوں نے شہر شہر دہشت گردی کا بازار گرم رکھنے والوں کو جب پسپا ہوتے دیکھا تو قو م بہت زیادہ مطمئن ہوگئی دہشت گردی کے خلا ف لڑی جانے والی اِس اہم’وائٹ کالر ‘جنگ میں پاکستانی بے گناہ شہریوں کے ساتھ ہماری پولیس ‘ ہمارے دیگر سیکورٹی کے قومی اداروں بشمول ہمارے سویلین اور فوجی اداروں کے اہلکاروں نے بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ،اِن ظالم و سفاک حیوانوں درندو ں صفت دہشت گردوں نے اپنی بہیمانگی کی اُس وقت انتہا کردی جب اُنہوں نے 6 ماہ کی مسلسل پسپائی کا اپنا بدترین انجام دیکھا یہی وہ وقت تھا جب وہ کھل کر 16 ؍دسمبر2014 کی ایک صبح پشاور کے آرمی بپلک اسکول پر حملہ اور ہوئے دیکھتے دیکھتے دنیا نے یہ انوکھا لہو رنگ نظارہ دیکھا کہ اسکول کے معصوم طلباء اور اُن کے معزز اساتذہ(ٹیچرز) اور انسانیت کے لئے قربانی کی حیرت انگیز تاریخ لکھنے والی اسکول کی پرنسپل نے جب اپنے آپ کو بچوں کی ڈھال بنایا تو یقین کیجئے عقل وفکر حیران وششد رہ گئی واقعی اِس میں کوئی ریاوشک کی کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستانی قوم 16 ؍دسمبر2014 کو غم و ا فسوس سے نڈھال ایک متعجب ’طاقت ‘ میں ضم ہوگئی واقعی کسی نے بالکل سچ کہا تھا کہ ’غم و اندوہ انسانوں کامشترکہ اثاثہ ہوتا ہے ’سانحہ اے پی ایس‘نے قومی غم والم کی اِس تاریخی کیفیت سے ہمارے اہلِ قلم کے دلوں ونگاہوں کو لرزدیا پاکستان سے ‘ پاکستانی جوانوں سے ‘ پاکستانی سرزمین اور پاکستانی درودیواروں سے محبت ‘بے پناہ والہانہ محبت کرنے والے بہت سے نوجوانوں کی طرح ایک نوجوان شہرتِ یافتہ فنکار’علی عظمت ‘ اور اُن کی ٹیم نے اِ س تاریخی افسوس ناک واقعہ پر ایک بڑا فنکارانہ ردِ عمل تخلیق کیا جسے جتنی بار سنیئے گا سننے والے میں ہر بار دہشت گردوں سے اپنی نفرت میں اضافہ اور قوم کے حِسّی جذبات میں طاطم خیز قومی یکجہتی کا ایک طوفان سا مچلتا ہوا محسوس ضرور کررہے ہیں ا یقیناًعلی عظمت اور اُن کی ٹیم کا یہ نغمہ کبھی فراموش نہیں ہوگا ’شاباش علی عظمت اور اُن کی ٹیم شاباش‘
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
ہم ڈرتے نہیں‘ ہم رکتے نہیں‘ خوابوں کو کیسے ماروگئے
تم بزدل ہو‘ ڈرپوک بھی ہو ‘ کتنے بھروپ تم دھاروگے، تم ہارو گے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
پھولوں کو مسلنے نکلے تھے،خوشبو کو کچلنے نکلے تھے
دہشت گردی کی وحشت میں زندوں کو نگلنے نکلے تھے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
قلم ‘ کتابیں اور یہ بستے‘آج بھی تم سے کہتے ہیں
یہاں کی دیواروں کے خون کے دھبے آج بھی تم سے کہتے ہیں
تم ظالم ہو ‘ تم قاتل ہو‘ بھٹکے ہوؤں میں شامل ہو
اپنے پر چم کو ‘ اپنے پرچم کو اُونچا رکھیں گے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
دہشتگرد ‘اُن کے حمایتی‘ اُن کے فنانسرز‘ اُن جیسی حیوانی سوچ رکھنے والے سن لیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل کے اُصول پر مبنی ہے، یہ ایک مستند اصول ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھرو گے، انصاف میں دیر ہے مگر کوئی دینے پر راضی نہ تو یہ نازل ضرور ہوتا ہے، جنابِ والہ! کوئی زمانہ اندھیر نگری کا نہیں ہوتا۔

بھارتی سیکولر ازم بے نقاب ۔۔!

asghar-ali

اٹھارہ دسمبر کو ہندوستانی سینما گھروں میں شاہ رخ خان کی فلم ’’ دل والے ‘‘ کی نمائش ہوئی تو ’’’ جودھپور ، اندور ، بھوپال ، دہلی ، پونا اور دیگرشہروں میں ہندو انتہا پسندوں نے شدید مظاہرے کیے اور تماشیاں سے ٹکٹ چھین کر پھاڑ دیئے ۔یہ متشدد احتجاج مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے شاہ رخ خان کے دیئے گئے بیانات پر ہو رہے تھے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف کس نوعیت کی سوچ پائی جاتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت انسانی حقوق کے احترام ، جمہوریت اور سیکولر ازم کا ہمیشہ سے ہی دعویدار رہا ہے اور یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے بارے میں اس تاثر کو خاصی پذیرائی حاصل ہے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ زمینی حقائق وقتاً فوقتاً ان بھارتی دعووں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ۔
اسی تناظر میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( IPRI ) کے زیر اہتمام پندرہ دسمبر کو ’’ بھارت میں اقلیتوں کی حالت ‘‘ ( Plight of Minorties in India ) کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر شاہین اختر ، ’’ ڈاکٹر مجیب افضل ‘‘ ، ’’ امبیسیڈر فوزیہ نسرین ( ر ) ‘‘ اور ’’ امبیسیڈر خالد محمود ‘‘ نے اپنے مقالات پیش کیے ۔ اپری کے سربراہ امبیسیڈر سہیل امین نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں مختصر لیکن موثر انداز میں بھارت میں رہ رہی اقلیتوں کی زبوں حالی کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ کس انداز میں بھارت میں سیکولر ازم کے دعووں کی نفی کی جا رہی ہے ۔
دیگر مقررین نے بھی بڑی وضاحت سے بھارتی سیکولر دعووں کی حقیقی صورتحال کو بے نقاب کرتے کہا کہ جب بھارتی آئین چھبیس نومبر1949 کو منظور ہوا اور چھبیس جنوری 1950 کو نافذ العمل تو اس میں بھارتی ریاست کو سیکولر قرار نہیں دیا گیا تھا البتہ 42 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اندرا گاندھی ‘‘ کی نافذ کردہ داخلی ایمر جنسی کے انیس ماہ کے دوران 1977 کے اوائل میں سیکولر ازم کے الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا مگر زمینی سطح پر دہلی کے حکمرانوں کی یہ سعی محض الفاظ تک ہی محدود رہی اور اسے کبھی بھی عملی شکل میں ڈھلنے کا موقع نہیں ملا بلکہ اس آئینی ترمیم کے نفاذ کے چند برس بعد اکیس اکتوبر 1984 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ’’ ست ونت سنگھ ‘‘ اور ’’ بے انت سنگھ ‘‘ کے ہاتھوں قتل ہوئیں تو اس کے فوراً بعد تین روز تک بھارتی دارالحکومت دہلی میں سکھ اقلیت کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا ۔ محتاط اندازوں کے مطابق بھی تقریباً پانچ ہزار خواتین اور بچوں سمیت نہتے سکھوں سے جینے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا گیا ۔اس سے پہلے چھ جون 1984 کو سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ پر انڈین آرمی نے چڑھائی کی اور گولہ باری کر کے دربار صاحب امرتسر کو پوری طرح مسمار کر دیا گیا ۔
اس کے بعد چھ دسمبر 1992 کو بھارتی صوبے ’’ یو پی ‘‘ کے مقام ’’ ایودھیہ ‘‘ میں واقع سینکڑوں سال پرانی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا ۔ تب مرکز میں کانگرس کے نرسیما راؤ کی حکومت تھی اور یو پی میں کلیان سنگھ کی سربراہی میں BJP صوبائی اقتدار پر براجمان تھی ۔ اس کے چند ہفتوں بعد 1993 کے اوائل میں ممبئی میں جو مسلم کش فسادات ہوئے ، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ علاوہ ازیں 28 فروری 2002 کو صوبہ گجرات میں مسلمانوں کی جو بدترین نسل کشی ہوئی ، اس سے ساری دنیا آگاہ ہے اور تب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر براجمان تھے ۔ غالباً گجرات کی اکثریتی ہندو آبادی نے مودی کے اس ’’ کارنامے ‘‘ کو اتنا پسند کیا کہ وہ دسمبر 2002 اور دسمبر 2007 کے بعد دسمبر 2012 میں بھی مسلسل بھاری کامیابی سے جیتتے گئے اور مئی 2014 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے تک موصوف اسی منصب پر فائز رہے ۔
اس معاملے کا یہ پہلو اور بھی قابل غور ہے کہ دسمبر 2002 اور 2007 کے گجرات اسمبلی کے تمام 182 حلقوں میں سے کانگرس نے بھی BJP کی مانند کسی ایک بھی سیٹ سے مسلمان کو اپنا امید وار نہیں بنایا ۔ یوں اس نے بھی بالواسطہ طور پر ہندو کارڈ کھیلا اور یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا بلکہ اکثر مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کی حالت زات کے لئے کانگرس شاید BJP سے بھی زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے پچاس برس سے زائد اپنے عہد اقتدار میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر تو استعمال کیا اور انھیں BJP کا ہوا دیکھا کر اپنی طرف مائل ہونے پر مجبور کیے رکھا مگر ان کی سیاسی اور سماجی حالت سنوارنے کی جانب دانستہ توجہ نہ دی ۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت ’’ منموہن سنگھ ‘‘ کی بنائی گئی راجندر ناتھ سچر کی رپورٹ ہے جس کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے ۔
اس تمام معاملے میں عالمی ضمیر نے بھی چشم پوشی کا مظاہرہ کیا ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت میں اتحاد اور قیادت کا فقدان ہے ۔ اسی کے ساتھ کانگرس کی بے حسی اور ریا کاری پر مبنی پالیسیاں اور RSS کا واضح ہندو ایجنڈا ہے ۔ عالمی برادری خاطر خواہ ڈھنگ سے اس لئے اس جانب توجہ نہیں دے رہی کیونکہ دنیا کے موثر ملکوں کے مفادات سٹریٹجک اور اقتصادی دونوں لحاظ سے بھارت سے زیادہ وابسطہ ہیں ۔ اس کے علاوہ سرد جنگ کے خاتمے خصوصاً نائن الیون کے سانحے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بنے اینٹی مسلم ماحول کی وجہ سے بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی حالت زار کی جانب دنیا ڈھنگ سے توجہ نہیں دے رہی ۔
بہر کیف آنے والے دنوں میں RSS اور کانگرس نے یہی روش بر قرار رکھی تو اس کے منفی اثرات نا صرف بھارتی سا لمیت بلکہ پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس ضمن میں قومی مفادات کے حوالے سے زیادہ محتاط اور فعال طرز عمل اپنانا ہو گا اور سول سوسائٹی ، میڈیا ، حکومت الغرض وطن عزیز کے سبھی حلقوں کو اپنا ملی فریضہ مربوط اور موثر ڈھنگ سے نبھانا ہو گا اور ملک کے اندر بھی باہمی اخوت اور قومی یکجہتی کو فروغ ، اقلیتوں کے ساتھ مزید بہتر طرز عمل اور گروہی ، لسانی اور دیگر تعصبات سے اوپر اٹھ کر پاکستان کی بہتری کی خاطر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنا ہوں گی ۔

’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘

syed-rasool-tagovi

ملی نغمے ہوں یا ترانے یا رزمیہ، وہ شعری بیانیہ ہوتے ہیں کہ جس سے پوری قوم کوحوصلہ اور اعتماد ملتا ہے۔ تاریخ کے اوراق اٹھا کردیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں دومحاذ پر بیک وقت لڑی گئیں۔ایک میدان جنگ کے اندراوردوسری میدان جنگ کے باہر۔ میدان جنگ کے اندر اس قوم کی سپاہ سینہ سپرہوتی ہے تو باہر اس قوم کے شعراء اپنے قلم اور کلام سے حوصلوں اور عزم کی آبیاری کرتے ہیں۔ قدیم ادب کے مطالعے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال، فتح و شکست میں شعرو نغمہ نے ہمیشہ دور رس اثرات مرتب کیے۔ ملی نغمے یا ترانے اصل میں نظم کی ہی ایک شکل ہوتے ہیں جس میں شاعر لطیف پیرائے میں اپنے ہیروز کی شجاعت اور مد مقابل دشمن کے نیست و نابود ہوجانے کی خواہش کا واضح اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ نغمے قومی وحدت میں مرکزی کردار اداکرتے ہیں جیسے قیام پاکستان کی جنگ میں فتح جہاں قائدؒ کے مضبوط اور دوٹوک بیانیے ( دوقومی نظریہ ) سے ممکن ہوئی، وہاں شاعر مشرق علامہ اقبال کے قلم نے قوم کے جذبوں کوایسی انگیخت دی کہ وہ ہندو اورانگریز سامراج سے ٹکراکرمنزل پاگئی۔ پھر ہم 1965ء کی جنگ میں بھی یہی کچھ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہندوبنیے کے غرور کو مضبوط قومی بیانیے اور شعرو نغمہ نے خاک میں ملا دیا ۔ بھارتی جارحیت ایک نازک وقت تھا مگر شعراء اور گلوکاروں نے جہاں قوم کے حوصلوں کو بکھرنے سے بچایاوہاں اپنی سپاہ کے عزم کو بھی سربلندکیے رکھا۔ توپوں اورگولوں کی گھن گرج سے فنکاروں اور گلو کاروں کے سُر کچھ اس انداز میں ہم آہنگ ہوئے کہ دشمن کے اعصاب جواب دے گئے۔ پاکستانی قوم ان ترانوں کوکبھی نہیں بھول پائے گی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں اتنے زیادہ ملی نغمے اور ترانے نہیں لکھے جاتے جتنے پاکستان میں لکھے جا رہے ہیں۔یہ سدا بہار دھنوں والے ملی نغمے کانوں میں ایسے رس گھولتے ہیں کہ انہیں بار بارسننے کو چی چاہتا ہے ، یہی ہے کہ جب بھی کوئی اہم قومی دن یا تہوار آئے یہ نغمے گلی کوچوں میں گونجنے لگتے ہیں۔ ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا، اب وقت شہادت ہے آیا، میرے ڈھول سپاہیا تینوں رب دی رکھاں،، اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ، اے راہ حق کے شہیدوں وفا کی تصویرو، وہ ترانے اور نغمے ہیں جو دلوں کو گرما دیتے ہیں۔1965 کی جنگ کے بعد اگلا نازک وقت 1971 میں درپیش ہوا تو ہمارا مشرق بازو کٹ گیا ۔ یہ ایک ایسا المیہ تھا کہ جس کی کسک آج تک محسوس کی جاتی ہے۔ اس سانحہ سے المیہ شاعری نے جنم لیا۔حبیب جالب اوراحمدفراز جیسے شعرو سخن کے سپاہیوں نے اپنے قلم اور کلام کے ذریعے قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وطن عزیز کی سالمیت پر یوں تو اب تک کیے وارہوچکے ہیں لیکن16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم طلباء پر ہمارے ازلی دشمن کے’’ طالبانی بہروپ‘‘ نے جو بربریت ڈھائی اس نے مردہ سے مردہ دلوں کو بھی رُلا کے رکھ دیا ۔ شعرو سخن سے تعلق رکھنے والے دل تو جہاں حساس ہوتے ہیں وہاں وہ نباض بھی ہوتے ہیں کہ وقت کی ڈوبتی نبض کو بر وقت محسوس کرکے اپنے کلام سے اسے ربط میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔سانحہ پشاور سکول کے بعد قوم کواس دکھ اور المیے سے نکالنا بہت ضروری تھا، چنانچہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس سلسلے میں ماضی کی روایت کوبرقرار رکھتے ہوئے شعرو نغمہ کا سہارا لیا۔ سانحہ کے بعد آئی ایس پی آر نے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے جیسا شاہکار نغمہ ریلیز کرکے اس صدمے کو جھیلنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس نغمے کے ایک ایک بول سے عزم وہمت اور دشمن کے بزدلانہ کردار کا نمایاں اظہارہوتا ہے۔ ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘‘ اس گیت کے شاعر ’’میجرعمران رضا‘‘ ہیں گیت کے موسیقار ’’ساحر علی بگا‘‘ ہیں، جنہوں نے اس گیت کی دلکش موسیقی اس طرح ترتیب دی جس کو سن کر دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں۔ اس گیت میں شامل گلوکار کی خوبصورت آواز ساحر علی بگا کے اپنے بیٹے کی ہے ۔اسی طرح سانحہ پشاور کو ایک سال مکمل ہونے پر شہید بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک اور نیا نغمہ ریلیزکیا گیا۔’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والے نغمے کی شاعری اور موسیقی نے بھی عوام بالخصوص طالب علموں میں نیا جذبہ اجاگر کیا ہے۔ نغمے میں دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے انوکھا انتقام لینے کا پیغام دیا گیا ہے۔معصوم ننھا بچہ اپنی مدھر اور سریلی آواز میں دہشت گردوں کو پیغام دے رہا ہے کہ میں تمہیں مار کر نہیں بلکہ تمہارے بچوں کو پڑھا کر اور انہیں شعور دے کر تم سے بدلہ لوں گا۔
وہ جس بچپن نے تھوڑا اور جینا تھا
وہ جس نے ماں تمہارا خواب چھینا تھا
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
جذبات سے بھرپور اس نغمے میں سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کا بلند حوصلہ بھی دکھایا گیا ہے، جو اپنے ایک بیٹے کو کھونے کے باجود اپنے دوسرے بیٹے کو اسی اسکول میں تعلیم دلوانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ساتھ ہی اس بھائی کی فریاد اور اس کے حوصلے کو بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو دوست جیسے بھائی کے گزر جانے کے بعد بھی تعلیم حاصل کر کے کچھ بننے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور ساتھ ہی دہشت گردوں کو بتا رہا ہے کہ وہ اس کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے کی ریلیز کے بعد ایک انٹرویو میں میجر عمران رضا نے کہا ’’جب پشاور سانحہ ہوا تو اس وقت میں ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھا اور اس صدمے کے باعث تین چار روز تک کام نہیں کر پایا۔ میں چاہتا تھا کہ اس حملے میں بچ جانے والے بچوں سے ملوں اور یہ جان سکوں کہ جب وہ اپنی درسگاہوں میں واپس جائیں گے، تو تب ان کے کیا احساسات ہوں گے۔انہوں کہا کہ انسانی تاریخ میں کبھی کسی جنگ میں یوں ارادتاً بچوں کا قتل عام دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ کبھی کسی نے اس فعل کو بہادری کی علامت سمجھا ہے۔ دہشت گردوں نے اس حملے کے ذریعے اپنا آپ پہلے سے کہیں بزدل اور کمتر ثابت کیا ہے۔ یہ گیت دشمن کو چھوٹا کرنے اور اس کمتری ظاہر کرنے کی ایک کوشش تھی۔‘‘ ان دونوں گیتوں کی شاعری دل کو چھو لینے والی ہے، جس میں ایک کمال ان گیتوں کی دھنوں میں ہے۔ جنہیں سنتے ہوئے دل کو حوصلہ ملتا ہے اور قوم کو یکجہتی کا سبق بھی۔ اس نغمے کے علاوہ علی عظمت کی آواز میں’’ یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے‘‘ کے عنوان سے ایک اور گیت بھی جاری کیا گیا ہے۔اس میں بھی ایک واضع پیغام دیا گیا ہے کہ دشمن یہ جان لے کہ آخر فتح امن کی ہوگی۔یہ نغمے دنیا بھرمیں سنے اور دیکھے جا رہے ہیں۔ ایسی قوم کو کبھی نہیں شکست ہو سکتی جس کے بچوں کی زباں پر ایسے گیت ہوں۔

Google Analytics Alternative