کالم

”معاہدے قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں”

khalid

2013ءمیں عام انتخابات ہوئے اور نتائج آنے کے بعد صوبوں اور مرکز میں حکومتیں بنانے کا مرحلہ شروع ہوا۔وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی اور انہوں نے چپ چاپ حکومتیں بنا لیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ ملا تھا، چنانچہ وہ بھینس سے بکری پر آئے اور اس کا دودھ دوہنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں اگرچہ تحریک انصاف کے پاس واضح مینڈیٹ نہیں تھا، وہ اکیلے صوبے میں حکومت نہیں بنا سکتی تھی۔ مسلم لیگ ن کے پاس بھی اچھی خاصی سیٹیں تھیں ، جماعت اسلامی کے پاس بھی اور مولانا فضل الرحمن کے پاس بھی۔ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ ن کو شیشے میں اتارنے کی بہتیری کوششیں کیں اور کہا کہ وہ دونوں مل کر خیبرپختونخوا میں حکومت بنائیں، مگر مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا اور کوئی سازش کرنے کی بجائے اسے وہاں حکومت قائم کرنے دی۔ باقی رہ گیا بلوچستان، اس صوبے میں مسلم لیگ ن کے پاس سب سے زیادہ 22سیٹیں تھیں، مگر ن لیگی قیادت نے یہاں بھی دانشمندی کا ثبوت دیا اور بلوچ قوم پرستوں کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ ن لیگی قیادت کے اس اقدام سے ایک انتہائی خوشگوار تاثر یہ ملا تھا کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
بلوچستان میں حکومت کے قیام کے لیے فریقین میں ایک معاہدہ ہوا تھا جسے مری معاہدہ کہتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت پہلے اڑھائی سال بلوچ قوم پرست جماعت کے رہنماء ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ صوبے کے وزیراعلیٰ رہیں گے اور اگلے اڑھائی سال کے لیے وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ن کے رہنماء سردار ثناء اللہ زہری کو سونپ دی جائے گی۔ اس معاہدے پر وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈاکٹر عبدالمالک اور سردار ثناء اللہ زہری کے علاوہ کچھ موجودہ وفاقی وزراء نے بھی دستخط کیے تھے۔ اب ڈاکٹر عبدالمالک کی وزارت اعلیٰ کے اڑھائی سال مکمل ہو چکے ہیں اور معاہدے کے مطابق حکومت سردار ثناء اللہ زہری کو سونپ دی جانی چاہیے تھی مگر اب ”وسیع تر قومی مفاد” کو جواز بنا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک چونکہ ناراض بلوچوں کو منانے اور بلوچستان کے حالات سدھارنے کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں اس لیے اگلے اڑھائی سال بھی انہیں کو دے دیئے جائیں۔ایسے میں سردار ثناء اللہ زہری نے احتجاج اور ڈاکٹرعبدالمالک کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے سیاستدان معاہدوں کو کیا سمجھتے ہیں؟کیا کسی بھی صورت میں کسی معاہدے کی خلاف ورزی کی جا سکتی ہے؟ ایک معاہدہ رسول اللہۖ نے بھی کیا تھا، معاہدے میں ایک شق تھی کہ ”کوئی مسلمان مکہ سے بھاگ کر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس مکہ کے کافروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔”ابھی معاہدہ ہوا ہی تھا کہ کفارِ مکہ کے مظالم سے تنگ ایک صحابی بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آ گئے۔رسول اللہۖ نے اس صحابی کو واپس کفار کے حوالے کر دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اب معاہدہ ہو چکا ہے۔ کیا اس سے بڑی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے کہ کوئی مسلمان کفار سے جان بچا کر آیا ہو اور معاہدے کی وجہ سے اسے واپس ان کے حوالے کر دیا جائے؟ کیا ہمارا وسیع تر ملکی مفاد اس صحابی رسولۖ کی جان سے زیادہ اہم ہے؟ یہ بات تو تحریری معاہدے کی تھی، رسول اللہۖ نے تو زبانی ”وعدے” کا بھی اس طرح پاس رکھا گویا معاہدہ ہو۔ ایک بار سرِ راہ کسی نے آپ ۖ کورکنے کو کہا کہ میں ابھی آتا ہوں، وہ شخص جا کر بھول گیا کہ اللہ کے نبیۖ کو رکنے کا کہہ کے آیا ہوں، اگلے دن ادھر سے گزرا تو اللہ کے نبیۖ کو وہیں کھڑے اپنا منتظر پایا۔
معاہدوں کی پاسداری نہ کرنا ہماری ملکی سیاست کا سیاہ ترین باب ہے۔ یہاں قرآن مجید کے اوراق پر لکھے ہوئے معاہدے سیاستدانوں نے یہ کہہ کر توڑ ڈالے کہ معاہدہ قرآن مجیدکے حاشیے پر ہی لکھا تھا، اس کا نبھانا ضروری نہیں۔اب وزیراعظم نواز شریف کو چاہیے کہ معاہدہ مری کو توڑ کر تاریخ میں اپنا نام آصف علی زرداری کے ساتھ نہ لکھوائیں، جنہوں نے کہا تھا کہ ”معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔” معاہدے قرآن و حدیث ہی ہوتے ہیں کیونکہ جن پر قرآن مجید نازل ہوا اور جن کی زبان سے نکلے لفظ حدیث بنے ، اس عظیم ہستیۖ نے معاہدوں کو جس قدر اہمیت دی وہ ہمارے سامنے ہے۔ اگلے اڑھائی سال وزارت اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کا حق ہے اور بہرحال انہیں ملنا چاہیے۔ ان کا حق غصب کرنے کے لیے خواہ کوئی بھی جواز گھڑا جائے غلط ہے۔
٭٭٭٭٭

ریحام کی آمد۔۔۔۔ خطرے کی گھنٹی

uzair-column
ایک وقت تھا جب وہ دونوں ساتھ چلتے تھے تو قوم اپنی پلکیں بچھاتی تھی ،خوب پذیرائی ہوتی تھی ،مزے مزے کے کھانے اوردعوتیں اڑائی جاتی تھیں ،جس شہر جاتے تھے وہیں پر وارم ویلکم ہوتا تھا ،کیا کیا وعدے وعید کیے تھے ،ایک دوسرے کی خوب اچھائیاں کرتے تھے ،کہا کرتے تھے کہ ایک دوسرے جیسا کوئی نہیں ،مگرکبھی کبھی گفتگو میں ہلکی پھلکی چبھن سی محسوس ہوتی تھی۔پھر یہ ترشی آہستہ آہستہ وقت کیساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی ،عجیب وغریب خبریں آنا شروع ہوگئیں ،کوئی کچھ کہتا تھا ،کوئی کچھ کہتا تھا ،کسی نے پہلے سے دعوے کردئیے ،کوئی جوتشی بن بیٹھا،حالات آہستہ آہستہ رواں دواں تھے کہ پھر ایک دن ایسا آیا کہ جب خبر بجلی بن کر ٹوٹی ،ہم تو کہیں گے کہ بیڑہ غرق ہو اس آئی ٹی کا اس کے ذریعے ایک ایسے پاپولر جوڑے میں علیحدگی کا پیغام بھیجا گیا جو ملک بھر میں ہردلعزیز تھا ۔نہ دنیا گلوبل ویلج ہوتی نہ اتنی جلدی پیغام پہنچتا ،شاید کچھ دیر ہوتی تو بھلا ہو ہی جاتا ۔وہ لندن چلی گئی وہ پاکستان میں ہی رہا ۔اس کے کیا ثمرات اورنقصانات ہوئے اس پر تو بہت سے تجزیہ نگاروں نے سیر حاصل تجزئیے کیے ،نقصانات سامنے بھی آتے رہے ،مگر دونوں پارٹیاں مضبوط اعصاب کی مالک نکلیں ،ایک نے اپنی سیاسی مہم جاری رکھی تو دوسری نے لندن نے ا پنی گفتگو جاری رکھی،طویل ترین انٹرویو دئیے ،ٹویٹر پر شعروشاعری شروع کردی ،نام نہ لیا مگر ہدف ایک ہی تھا جس کو ہر ذی شعور جانتا تھا ۔ایک فریق تعریف کرتا رہا ،پھر وہ وقت بھی آیا جب دونوں فریقین ایک شہر میں تھے ،ایک ہی ہوٹل میں بھی تھے کہ دوسرے فریق نے پہلے کی موجودگی کی وجہ سے اپنی ہوٹل سے بکنگ منسوخ کرالی کہ کہیں مڈبھیڑ نہ ہوجائے ۔ائیرپورٹ پر اترتے ہوئے بڑا سخت انٹرویو دیا جس کے مطابق ریحام خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف تنقید کرنے والے 4لوگ ہیں،ایجنٹ ہونے کا ثبوت ہے تو سامنے لائیں،مجھے دھمکیاں دینے والے جان لیں کہ میں ڈرنے والی نہیں ،پٹھان ہوں ، عزت کی خاطر جان دینا بھی آتاہے اور لڑنابھی جانتی ہوں ،کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ خاتون ہے خاموش ہو جائے گی،ایک دو لوگوں سے نمٹ لوں گی، کسی نے گالم گلوچ کی تو خاموش نہیں رہوں گی، کچھ لوگوں نے اپنی اوقات دکھائی، اپنے بارے میں نازیبا باتیں سن کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا، سیاست میں آنے سے پہلے گندگی صاف کرنا ضروری ہے ۔اگرچہ واپس آنے پر بہت گھبراہٹ تھی لیکن پاکستان آکرسب سے زیادہ خوشی ہوئی۔ خوشی ہے کہ پاکستانیوں میں محبت اور شفقت کی کمی نہیں آئی۔مجھ پر تنقید کرنے والے چار لوگ ہیں اور میں ان چار افراد کا ذکر نہیں کرنا چاہتی تاکہ ملک کی بدنامی نہ ہو۔ کسی کے پاس میرے پیسے لینے ،فلیٹ حاصل کرنے اور ایجنٹ ہونے کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے،غلط باتیں کرنے والوں نے اپنی اوقات دکھائی ہے۔میرا دل کوئی نہیں دکھا سکتا،میں اپنے ذاتی کام سے لاہور آئی ہوں۔ سیاست سے پہلے گندگی کی صفائی ضروری ہے ۔ریحام خان کی گفتگو کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اس وقت قطعی طور پر جارحانہ موڈ میں ہیں اور ان کا سیاست میں آنے کا بھی کچھ کچھ ارادہ دکھائی دے رہا ہے جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کا انٹرویو کریں گی تو انہوں نے کہا کہ تو کیا کافی انٹرویو نہیں ہوگیا ہے ۔پھر وہ مسکرا دیں۔بہرحال میڈیا کو جوائن کرینگی اور پھر وہ اہم خبروں کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً انکشافات کرتی رہیں گی ۔جس سے ان کی شہرت کو مزید چار چاند لگیں گے ۔اسی دوران بہت زیادہ امکانات ہیں کہ وہ سیاست کی دنیا میں بھی قدم رکھیں گی ۔کیونکہ حکومت کواڑھائی مکمل ہونے جارہے ہیں اور باقی عرصہ بھی پی ٹی آئی حکمرانوں کو کوئی خاص سکون نہیں لینے دے گی ،ابھی آئے دن انہوں نے مختلف ایشوز پر وائٹ پیپر جاری کرنا شروع کردئیے ہیں ۔اسلام آباد کے ہونیوالے بلدیاتی انتخابات پر بھی انہیں عدم تحفظات ہیں لہذا ایسے میں کوئی بھی ایک بڑی سیاسی جماعت ریحام کیلئے اپنے دروازے کھول کر اسے انہیں شمولیت کی دعوت دیگی اورپھر وہ وقت بھی آئے گی کہ ریحام خان شاید پی ٹی آئی کیخلاف تقاریر بھی کریں ۔بہرحال سیاست اورجمہوریت میں سب کو آزادی حاصل ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں کیونکہ ریحام خان نے کہا ہے کہ وہ سیاست میں آنے سے قبل گند صاف کرنا چاہتی ہیں ۔اب وہ گند کس نوعیت اور کس قسم کا ہے اس کے بارے میں تو ریحام خان ہی وضاحت کرسکتی ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ریحام پاکستان تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینگی اوراس ٹف ٹائم کے ذریعے پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے بہتر تو یہ ہے کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر سیاسی فائربندی کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرلیں تاکہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالی جائے اورذاتیات سے ہٹ کر سیاست کی جائے ۔ابھی تک کپتان کی جانب سے کوئی ایسا جارحانہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم ان کیلئے خطرے کی گھنٹی ضرور بج گئی ہے ۔جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

کشمیریوں کے قتل عام کےلئے مودی حکومت کے نئے منصوبے

riaz-ahmed

کشمیر کے ہائی ہامہ اور منی گاہ کپواڑہ کے جنگلوں میں مجاہدین کو تلاش کرنے کیلئے پچھلے 17 دنوں سے جاری آپریشن کے دوران سات مرتبہ کشمیری مجاہدین بھارتی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہو چکے ہیں اگرچہ فورسز نے پورے جنگل کو محاصرے میں لے رکھا تھا تاہم ابھی تک عسکریت پسندوں کا سراغ نہیں لگا۔ لہذا وادی میں موجود فوجی افسران نے مرکزی وزارت داخلہ کو آگاہ کیا ہے کہ گھنے جنگلات میں موجود مجاہدین کو قابو کرنے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی اور ہتھیار بچ گیا ہے۔ فورسز اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے اور جنگلوں میں موجود عسکریت پسندوں کو مار گرانے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ غور ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں وادی میں تعینات فوج نے وزارت دفاع کو ہری جھنڈی دکھائی ہے اور اب شمالی کشمیر کے جنگلوں میں موجود مجاہدین کے خلاف بھارت ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے اسرائیل سے جنگی ڈرون خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے فضائیہ کی درخواست پر 10جدید ترین مسلح ڈرون ہیرون ٹی پی خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ان ڈرونز کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باو¿نڈری پر مامور کیا جائے گا۔منصوبے پر 400ملین ڈالر لاگت آئے گی۔2004ءمیں اسرائیل کے ایرو سپیس انڈسٹریز میں تیار کیاجانے والا یہ ڈرون 250 کلو گرام تک وزن اٹھانے اور 370کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی صلاحیت رکھتاہے۔
مسلح ڈرون ہیرون ٹی پی انتہائی بلندی سے بھی کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتاہے۔ بھارت نے کم بلند ی تک پرواز کرنے والے اسرائیل سے خریدے گئے ڈرون پہلے ہی چینی سرحداورکنٹرول لائن کی جاسوسی کیلئے تعینات کررکھے ہیں لیکن اب پاکستانی ڈرون کے شمالی وزیرستان میں کامیاب کارروائی کے بعد بھارتی حکومت نے بھی مقبوضہ جموں کشمیر میں مجاہدین کیخلاف مسلح ڈرون خریدنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے شعبہ پلاننگ کے آرمی آفیسر نے بتایاکہ یہ ڈرون مقبوضہ جموں کشمیر کے دشوار گزاری پہاڑی علاقوں میں مجاہدین کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔
بھارتی سراغ رساں ادروں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ عسکری تنظیم لشکر طیبہ ریاست جموں و کشمیر میں مسافر برادر جہاز اغواہ کرنے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہے تاکہ وہ بدلے میں جیل جیلوں میں بند پڑے اپنے 20 ساتھیوں کو چھڑا سکے۔
ریاست جموں و کشمیر میں قندھار طرز پر جہاز اغواہ کرنے کے خفیہ اطلاعات کے پیش نظر ٹنل کے آر پار زمین سے فضا تک سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں جس کے تحت جموں اور سرینگر میں موجود طیران گاہوں کے ساتھ ساتھ سیول سکریٹریٹ، ریلوئے اسٹیشن، فلائی اوروں کے علاوہ اہم سرکاری تنصیبات پر بھی اضافی فورس کے دستوں کا گشت تیز کردیا گیا۔ سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ارد گرد فورسز کے گشت میں تیزی لائی گئی ہے۔جموں اور سرینگر میں موجود سول سیکرٹریٹ، فلائی اوور، پولیس ہیڈ کوارٹر اور دوسری پولیس عمارات اور شہر سرینگر کے تمام پولیس تھانوں کے اردگرد بھی حفاظتی سخت انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور بینکروں کے اردگرد بھی چوکسی بڑھائی گئی ہے۔
بھارتی افواج نے کشمیر میں داخل ہوکر غاصبانہ قبضہ کرکے معصوم و مظلوم کشمیریوں پرظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ ڈالے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے نریندر مودی کے دور حکومت میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مثبت پیش رفت کی توقع رکھنا فضول ہے۔نریندر مودی ہندوستان کو تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے۔ نریندر مودی کے نظریات دوسرے مذاہب کے لوگوں کا بھارت میں رہنا ناممکن بنانا ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھار کر ان کے قتل و غارت کیلئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو اس نے فروغ دیا ہے ہندوستان کی حکومت اور فوج کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے اس پار کشمیریوں کو نشانہ بنارہے ہیں تو ہندوستان کی اس پالیسی کو تبدیل کرانے کیلئے اور اس کے اصلی چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے ضروری ہے کہ تمام کشمیری و پاکستانی کمیونٹی ملکر مظاہرہ کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ جب تک بھارت کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا یہ پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

انسانی حقوق کی نام نہاد چمپئن۔ مغربی دنیا کی تسلیم شدہ چاپلوس

nasir-raza-kazmi

 ریڈیو پاکستان کے شعبہ  نیوز سے وابستہ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے نام تھا اُن کا ’واعظہ الدین ‘ زند گی بھر وہ ’ واعظو بھائی ‘ کے نام سے مشہور رہے، شعبہ  نیوز سے وہ بحیثیت ڈپٹی کنٹرولر ‘ ریٹائر د ہو ئے غالباً دو ڈھائی بر س قبل اُن کا انتقال ہوچکا ہے، کمال کی دوست نواز شخصیت‘ پاکستان کی سیاست اُن کی انگلیوں کی پُوروں ‘ پر تھی چلتے پھرتے پاکستانی تھے ‘ بڑے بڑے بنگلہ دیشی لیڈروں کی منٹوں سیکنڈوں میں ایسی تیسی کرنے میں اُن کی زبان اِس قدر تیزی تھی کہ الا امان الحفیظ ‘غرض یہ کہ سیاست پر اگر اُن سے کوئی بات چھڑ جائے تو سامنے والے کو ایک منٹ کے لئے بھی’ واعظو بھائی ‘ اپنا موقف بیان کرنے کی مہلت تک نہیں دیتے دوست اگر ناراض ہوں تو ہوتے رہیں دلائل پر دلائل کے انبار لگا کر فریق مخالف سے اپنی بات من وعن منوانے میں اگر کامیاب نہیں بھی ہوتے تو50% اُسے اپنا نظریاتی طرفدار ضرور بنالیتے تھے اب وہ تو دنیا میں نہیں رہے اُن کی باتیں رہ گئی ہیں ’ واعظو بھائی ‘ مرتے دم تک پاکستان کا دم بھرتے رہے برصغیر ‘ پھر تقسیم ِ ہند ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ پر اُن کے سامنے کوئی بات شروع کردی جائے تو اُن کی باتوں کی رمزیات کون تو کیا سنئے ؟اِن کی باتوں کے دھڑ دھر کے دوران جو سیاست وان آئے فوجی حکمران ہو یا پاکستان مخالف کوئی بیوروکریٹس ہو، مذہبی علماءہوں ‘وکلاء‘ ججز یا پھر زندگی کے کسی بھی شعبے کی کوئی شخصیت انسانی حقوق کی کوئی ایکٹوسٹ ہو یا کوئی ایکٹر کریکٹر ایکٹر’میل ‘ہو یا‘ فی میل ‘ ہمارے دوست صحافی ’ واعظو بھائی ‘ اُن کے ایسے ‘تاریخی‘ لتے لیتے کہ رہے نام سائیں کا‘ ایک بار ( چونکہ ہم عمر میں بھی اُن سے چھوٹے تھے، ریڈیوپاکستان میں اُن کا عہدہ ہم سے بڑ ا ’ جبکہ ہم ٹھہرے اسٹاف آرٹسٹ) ہمارا نام پکار کر اُنہوں نے ہمیں اپنے قریب بلا یا اور کہنے لگا ’ ہمیں معلوم ہے تم اپنے نام بدل کر اخبار میں کالم لکھتے ہو تم نہیں جانتے کہ یہ عاصمہ جہانگیر کون ہے جو اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے بڑا ’ہیومن رائٹس کی’ ایکٹوسٹ‘ سمجھتی ہے ‘ اپنا تعلق صرف روب جمانے کے لئے اقوام ِ متحدہ کے ساتھ ملاتی ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے یہ سب پاکستان کے دشمن نہیں بلکہ یہ اصل میں پاکستان کی فوج کے دشمن ہیں ‘ الغرض اُس روز واعظو بھائی سے بہت سی باتیں ہوئیں بات آ ئی گئی ہوگی آج وہ اِس دنیا میں نہیں مگر اُن کی کہی ہوئی بہت ساری باتیں ہمارے دماغ میں اتھل پتھل مچا ئے ہوئے ہیںواقعی پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میں اپنے آ پ کو واحد اور تنہا ’ایکٹیو سٹ‘ سمجھنے والی محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، جبکہ پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت جانتی ہے کہ یہ ’صاحبہ ‘ انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ تو ضرورکرتی ہیں مگر اِن کا اصل کام ’پاکستانی فوج ‘ کو ہمہ وقت اپنے نشانے پر لیئے رکھنا ہے کہ کب کہاں فوج پر یہ ’صاحبہ‘ اپنے تیر وتبّر چلانے میں کوئی وقت ضائع نہ کرتی ہوں اِتنی لائق فائق ‘ اعلیٰ تعلیم یافےہ ‘ بیرسٹر‘ مختلف سول سوسائٹیوں کی فعال عہدیدار کے بارے میں تنقید ی مضمون لکھنے پر ہمیں اِن کی ایسی ہی حرکتوں نے مجبور کیا کوئی دن نہیں جاتا جب اِن صاحبہ کا نام کسی ارود انگریزی اخبار میں نہ چھپتا ہو یہ بھی شائد بہت سوں کی طرح ’ سستی شہرت پرستی ‘ کے فوبیا میں بُری طرح مبتلامعلوم ہوتی ہیں ایک زمانہ ہوگیا ہے اِن ’صاحبہ ‘ کو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی میڈیا میں آوازیں بلند کرتے ہوئے کوئی اِن سے پوچھے کیا دنیا میں صرف پاکستانی فوج ہی وہ ایک اکیلی قوت ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کو کچلتی ہے ؟ عاصمہ جہانگیر صاحبہ! اپنی انسانی حقو ق تنظیم کو اقوام ِ متحدہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کا زعم رکھنے والی ذرا یہ تو بتائیں بنگلہ دیش میں بھارت نواز جماعت عوامی لیگ کی وزیر اعظم کی طرف سے دی جانے والی پھانسیوں کی سزا کا سعودی عرب جیسے بڑے اہم اسلامی ملک سے موازانہ کرکے پاکستان کو’ مطعون‘ کرکے کیا اپنے ضمیر کو مطمئن سمجھتی ہیں ؟ کیا اُن کا ضمیر مطمئن ہے رو ہنگیا مسلمانوں کو جس بہیمانہ شدت پسندی کی اذیت ناکی سے لاکھوں کی تعداد میں شہید کردیا گیا آپ نے اِس پر کیا انسانی حقوق کا کیا کانامہ انجام دیا ؟ بنگلہ دیش میں لاکھوں مسلمانوں اندھیرے کیمپوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم بدترین ساعتوں سے گز ر رہے ہیں اُن کے بارے میں کسی نیکی یا خیر کاکام کوئی کام آپ نے سرانجام دیا؟ جہاں تک آپ کا یہ رونا ہے کہ پارلیمنٹ نے پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے جو آپریشن ضرب ِ عضب شروع کیا، سیاسی حکومت نے پارلیمنٹ سے نیشنل ایکشن پلان ایک ایکٹ کے طور متفقہ منظور کرایا جس کے تحت ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں اگر اُنہیں اِس پر کوئی اعتراض ہے تو وہ حکومت کو براہ ِ راست تنقید کا نشانہ بنائیں مگر ایک سوال کا جواب خود اپنے ضمیر کو دے لیں کہ” یہ فوجی عدالتیں جن دہشت گردوں کو حکم ِ قرآن ِ پاک کی تعلیمات کے مطابق ’خون کا بدلہ خون ‘ جنہوں نے ایک دو کو نہیں بلکہ اجتماعی قتل ِ عام میں کیا ہو سینکڑوں مسلمانوں کو جن عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں کیا اُن کی اِن انتہائی سزاو¿ں پر بھی اِن کا ضمیر مطمئن ہے امریکا دنیا بھر میں کھلے عام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے گونتا موبے میں انسانوں کو جانوروں کی طرح پنجروں میں قید رکھا جاتا ہے وہاں انسانی حرمت و عظمت کی کھلے عام تذلیل ہورہی ہے اُن پر محترمہ اظہار ِ تاسف کیوں نہیں کرتیں امریکی کی ایسی حرکات کے خلاف وہ اپنے نام سے انگریزی اخبارات اور نامور جرائد میں مضامین کیوں نہیں لکھتیں ؟ بھارت یقینا نجانے کیوں اِس ’کیوں ‘ کا جواب وہ خود جانتی ہونگی وہ بھارت جائیں وہاں آجکل انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے ایک دو سلسلے نہیں بھارت میں دیش میں انسان کو صرف مسلمان ہونے کی سزائیں دی جارہی ہیں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ ’بھارت میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا ‘ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پورے دیش میں ایسی عظیم انشان انسانی ہمدردیوں کی نئی تاریخ مرتب ہوچکی ہے ’دنیاوی مطلب پرست ‘ انسانی حقوق کی ایکٹوسٹس کو زیادہ سنجیدگی سے بھارت کے اندرونی حالات پر اپنے ضمیروں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا ،پاکستانی مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹ کرکے محترمہ عاصمہ صاحبہ بلاوجہ جمہوری حکومت کی آئینی اتھارٹی کو چیلنج نہ کریں ویسے زندگی بھر اُنہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کی طرز ِ سیاست کو ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنائے رکھا مگر الطاف حسین نے جب افواج ِ پاکستان پر حد سے گری ہوئی زبان استعمال کی تو اُن کی وکالت کی ذمہ داری عاصمہ جہانگیر نے فوراً اپنے ذمہ لے لی اِ سے اُن کا فوج کے خلاف دلی بغض وعناد اور کھل کر سامنے آگیا ہاں یاد رہے یہ صاحبہ صرف فوج کے خلاف ہی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ ’جنابہ‘ ہر ایسے پھڈے میں فوراً کود پڑتیں ہیں جس معاملے کو مغربی میڈیا زیادہ کوریج دہتے ہیں مثلا جیسے جہلم میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی تفصیلات میں ہم جانا نہیں چاہتے زیادہ کیا کہیں مغر بی ممالک کی ’ہمہ وقت کی چاپلوسی کرنے سے ایک عاصمہ جہانگیر کیا چاپلوسی کرنے والوں کا ایک جہاں جمع ہوکر آجائے ایک مضبوط نظریاتی ریاست کی جڑوں سے وہ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کر تباہ ہوجائے گا نظریاتی ریاسے اپنی جگہ قائم رہے گی یاد ہے کہ یہ کالم Double standard hangings alleged کے عنوان سے لکھے گئے24 نومبر2015 کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے ایک کالم کے جواب میں تحریرکیا گیا ہے۔

9/11 میں بھارت ملوث تھا

naghma-habib

امریکہ میں 9/11 ہوا اور پوری دنیا میں جیسے زلزلہ آگیا خاص کر مسلم دنیا میں، جب امریکہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسلمان ملکوں کو اپنی وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا۔ افغانستان پر آتش و آہن کی بارش کردی گئی نہ شہری آبادی کو دیکھا گیا ،نہ بچوں کواور نہ عورتوں کو گناہ بے گناہ سب مارے گئے اور وجہ بتائی گئی ٹوئن ٹاورز پر حملہ افغانستان سے ہوا اور طالبان نے کیا۔ ساتھ ہی پاکستان کو بھی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس میں کچھ اپنے حکمرانوں کی نااہلی تھی اور کچھ امریکہ کی شرپسندی ،اور نقصان ہوا تو پاکستان کا اور دہشت گردی کی اسی آگ سے ہم ابھی تک نہیں نکل سکے ہیں ۔پاکستان پر مسلسل یہ الزام لگایاجاتارہا ہے اور اب بھی لگایاجارہاہے کہ یہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور یہی سے دنیا بھر میں دہشت گرد بھیجے جاتے ہیں اور یہ الزام لگانے میں خود وہ لوگ پیش پیش رہتے ہیںجو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی ملک میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی اور بدامنی پیدا کرتے ہیں ۔بھارت جو ہمیشہ پاکستان کو نہ صرف اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتا ہے بلکہ دنیا بھر کی دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان کو دیتا ہے پاکستان کے ذمے وہ جرائم بھی لگا دیتا ہے جو خوداس کی کارستانی ہو تی ہے۔لیکن اس بار تو خود بھارت سے ہی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے اور اس کے ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر یعنی دہلی پولیس کے سابق کمشنر نیراج کمار نے بتایا اور لکھا کہ ایک دہشت گرد آصف رضاخان نے اپنے بیان میں انہیں بتایا کہ 9/11کے لیے سرمایے میں بھارت نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور دوطرف سے ڈالا ،پہلا یوں کہ عمرشیخ کو رہا کیا تاکہ اپنا ہائی جیک کیا ہوا طیارہ چھڑا سکے جسے مولوی مسعود اظہر نے اغوا کیا اور اس کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے مشتاق احمدزرگر سمیت عمرشیخ کو رہاکردیاگیا۔ عمر شیخ کوآفتاب انصاری نے اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقم دی۔ یہ آفتاب انصاری وہی شخص ہے جس نے کولکتہ میں امریکن سنٹر پر2002ئمیں حملہ کیاتھا جس میں چار پولیس اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈہلاک اور 20افراد زخمی ہوئے تھے۔یہی رقم جو آفتاب انصاری نے عمر شیخ کو دی تھی اس میں اس نے ایک لاکھ ڈالر9/11کے ایک حملہ آور محمد عطا کو دےے ۔محمد عطا ان حملہ آوروںکا لیڈر تھا جنہوں نے ٹوئن ٹاورز پر حملہ کیا تھا۔ یوں بھارت نے اس حملے میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگرچہ بظاہر تو اس واقعے میں بھارت کے شہری ملوث ہوئے لیکن بھارت سرکار بھی شکوک سے بالا تر نہیں۔ یہ سب کچھ کوئی اور نہیں بلکہ خودبھارت پولیس کا ایک اعلیٰ اہلکار بیان کررہا ہے اور مستند ذریعے سے بیان کررہاہے مستند اس لیے کہ ان تمام واقعات میں شامل ایک مجرم کے حوالے سے یہ سب کچھ کہا جارہا ہے۔
بھارت وہ ملک ہے جو دہشت گردی کاشور زیادہ کرتا ہے حالانکہ وہ اس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں اور ادھرہونے والے واقعات کو وہ بغیر کسی حیل وحجت کے پاکستان کے ذمے لگا دیتا ہے لیکن خود وہ ایسے واقعات میں ملوث ہے اور اس کے شہری بڑی سہولت سے کوئی بھی ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ 9/11جیسے انتہائی اہم اور بڑے منصوبے کو بنانے والے بھارت میںاگر پائے جائیں تو یہ کس بات کی نشانی ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ بھارت اپنے جرائم دوسروں اور خاص کر پاکستان کے کھاتے ڈال کر بڑے آرام سے ایسے منصوبے بناتا ہے۔اگر وہ اپنے ان سقہ اور ثابت شدہ مجرموں کو قابو میں رکھتا تو شاید ان واقعات میں کچھ کمی ہوتی لیکن اس کی تو حکومت بھی ایسے لوگوں کو مدد فراہم کرتی ہے جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتے ہیں۔ پاکستان میں بلوچستان اور فاٹا میں تو اس کی مداخلت کھل کر سب کے سامنے آچکی ہے اور پاکستان کے دوسرے علاقے بھی اس فساد سے محفوظ نہیں۔ پاکستان میں مقامی دہشت گرد تو ہیں ہی لیکن انہیں آخر فنڈنگ ہوتی کہاں سے ہے اور اس کہاں کاجواب اس بھارتی پولیس افسر کی اس کتاب سے حا صل ہو جاتا ہے اگر امریکہ میں حملے کے لیے بھارت سے پیسہ پہنچ سکتا ہے تو پاکستان تو بالکل پاس ہے اور تسلےم شدہ دشمن بھی ہے جسں کی سرحد پر بھارت اپنی بر بریت کا اکثر مظاہرہ کرتا رہتا ہے ،اور سرحدوں کے اندر بھی اسی کی مدد دشمنوں کو حاصل رہتی ہے۔ نیراج کمار کی اس کتاب میں کیے گئے ا نکشافات کے بعد بھی اگر امریکہ اور مغربی دنیابھارت کی سر گرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کرے اور ان پر نظر نہ رکھے توپھر تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دونوں کے درمیان کچھ نہ کچھ گٹھ جوڑ ہے۔ بھارت جو خود کو امن کا بڑا داعی کہتا ہے اُس کے ہاں مذہبی ، نسلی ہر قسم کی شدت پسندی موجود ہے اور اگر دنیا اس خوش فہمی میں مبتلاءہے کہ بھارت کی شدت پسندی صرف پاکستان تک محدود رہے گے تو اُسے یہ معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اس کا یہ رویہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گاجس کے لیے وہ نان سٹیٹ ایکٹرز کو بھی استعمال کرتا رہے گا اور چاہے وہ اس کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرے، افغانستان کی ےا کسی اور ملک کی ۔لہٰذا امریکہ اور دوسرے مغربی مما لک کو بھا رت کے بارے میں اپنا نکتہءنظر تبدیل کر کے حقیقت پسندی کا مظا ہرہ کرناچاہیے تاکہ کسی آئندہ نائن الیون اور ایسے ہی دوسرے واقعات کو روکا جا سکے۔

بائیو گیس پلانٹ لگوانے کے لئے تکنیکی امداد کی پیش کش

ejaz-ahmed

 کائنات میں اللہ تعالی نے ہر چیز کوایک خا ص نظام اور قاعدے میں بنایا ہے اور جو بھی خداوند لا عزال کی بنائی ہوئی چیزوں اور نظام میں بگا ڑ پیدا کرے گا ، اس سے بنی نو ع انسان کو نُقصان ہو گا۔ اللہ تعالی نے اگرایک طرف انسانوں کی تباہی اور بر بادی کے لئے مضر چیزیں پیداکی ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالی نے انسانوں کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی اور کا ر آمد چیزیں بھی عنایت فر مائی ہیں، مگر بد قسمتی سے انسان اللہ تعالی کے نظام اور انکی بنی ہوئی چیزوں میں تبدیلی اور بگا ڑ لاتے ہیں جس سے ہمیں انتہائی نُقصان ہو تا ہے۔ ایک طر ف اگر کسی حد تک کا ربن ڈائی آکسائید انسان کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی چیز ہے ،جس سے درختوں پو دوں اور گھاس پوس کی نشوونما ہوتی ہے ،جو انسان و دیگر جا ندار کھاکر زندہ رہتے ہیں ،تو دوسری طرف اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ہمارے ارد گر د ما حول میں اپنی مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے تو اس سے مختلف قسم کی بیماریاں اور ما حولیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، جس میں دمہ، آنکھوں کی بیماری، سانس کی بیماریاں، مختلف قسم کی سکن اور دوسری الر جیز، درجہ حرارت کا بڑھ جانا، گلیشیر کا پگل جا نا، مختلف مو سمی تغیرات، وقت سے پہلے با رشوں اور سیلابوں کا آنا ، ہوا میں معلق مضر ذرات کا اضا فہ ہو نا شامل ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ درخت یا جنگلات کی کٹائی سے ما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ اور آکسیجن کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس سے ہم مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کھانے پکانے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہو تی ہے نتیجتاً ہم در ختوں کو کا ٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات پو ری کر تے ہیں۔ما ہر ما حولیات کہتے ہیں کہ ایک کلو گرام لکڑی جلانے سے تقریباً ڈہائی کلو گرام کا ربن دائی آکسائیڈ خا رج ہو تی ہے۔ جو ہمارے ما حول اورہمارے لئے انتہائی خطر ناک ہے۔ اگر وطن عزیز میں جنگلات کی کٹائی کا یہ سلسلہ اسی طر ح رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے ارد گردما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کے اضافے کی وجہ سے انسان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں ایندھن کا فی خاندان خرچ 7 کلو گرام رو زانہ ہے اور ہم اپنی ایندھن کی 82 فی صد ضرورت لکڑیوں کے استعمال سے پو ری کر تے ہیں۔ ما ہر ما حو لیات کہتے ہیں کہ سال 1990ءسے لیکر سال 2010 ءتک پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں 34فی صد کمی واقع ہو ئی۔ اگر کھانے پکانے اور ایندھن کی دوسری ضروریات کے لئے جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ اسی طر ح جا ری رہا تو پاکستان میں جنگلات کا رقبہ جو 5 فی صد ہے مزید کم ہو کے رہ جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی معیار کے مطابق کسی ملک کی خو شگوار اور صحت مند آب و ہوا کے لئے جنگلات کا رقبہ21فی صد ہو نا چاہئے۔ جبکہ کئی ترقی یا فتہ ممالک میں جنگلات کی شرح 70 اور 80 کے درمیان ہے۔ما ہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ایکڑ درخت سالانہ 3 ٹن کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر تا ہے اور اسی تناسب سے آکسیجن چھو ڑتا ہے۔ایک طر ف اگر کا ربن ڈائی آکسائیڈ اگر ہمارے جسم اور ما حول کے لئے اچھی نہیں تو دوسری طر ف کا ربن ڈائی آکسائید ہمارے گلیشیرز کو بھی ختم کر تی ہے۔ ما ہر ما حولیات کے مطابق کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی مقررہ حد سے زیادتی کی وجہ سے سالانہ 180 فٹ گلیشیر ز ختم ہو تے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہماری بے حسی اور نا لائقی کی وجہ سے ہمارے پہا ڑوں پر کوئی برف نہیں ہو گی اور ہم اپنے دریاﺅں سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طر ح ایک طر ف اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کے لئے لکڑیوں کا استعمال کر تے ہیں تو دوسری طرف ہم تیل کی درآمد پر سالانہ 12 ارب ڈالر کا زر مبا دلہ خرچ کرتے ہیں جو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے ایک بُہت بڑا بو جھ ہے۔ ہمیں کو شش کر نی چاہئے کہ ہم ملک میں توانائی کے ایسے ذرائع استعمال کریں جس سے کا ربن دائی آکسائیڈ کاا خراج بھی کم ہو اور اسکے علاوہ ہم اپنے ملک میں تیل کے خریدنے پر زر مبادلہ بھی نہ خرچ کر نا پڑے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو بے تحا شا وسائل سے مالا مال فر مایا ہے جس میں ہوا سے ، سورج ، کوئلے اور اپنی سے توانائی کا حصول شامل ہے، مگر اس میں سب سے اہم جا نوروں کے گو بر سے گیس بنانا شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 60 ملین جا نور پائے جاتے ہیں، جسکے گو بر پر لاکھوں بائیو گیس پلانٹ لگا کر تقریباً 70 فی صد گھریلو ایندھن کی ضروریات پو ری کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انرجی ٹیکنالوجیز، جو وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا ما تخت ادارہ ہے وہ متبادل ذرائع توانائی اور خا ص طو ر پر بائیو گیس پلانٹ لگانے میں کا فی مہارت رکھتا ہے۔ ادارے کے ماہرین کے مطابق 5 مربع میٹربائیو گیس پلانٹ پر تقریبا70 اور80 ہزار روپے کے قریب خر چہ آتا ہے ۔ ایک فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ ہمیں ماہانہ 100 لیٹر مٹی کا تیل یا با الفاظ دیگر 840کلو گرام لکڑیو ں کی بچت کر تا ہے۔ اوربائیو گیس پلانٹ کی تنصیب پر ہم جو خر چہ کرتے ہیں وہ ہم 6 مہینے بعد گیس کی شکل میں پو ری کر سکتے ہیں۔پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انر جی ٹیکنالوجیز نے اپنے پہلے مر حلے میں2002-2007) ( 1606 بائیو گیس پلانٹ لگائے ہیںاور دوسرے مر حلے میں(2007-2012)تقریباً 2513 با ئیو گیس پلانٹ لگائے ہیں جو انتہائی کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں عا م طو ر پر لوگ جانوروں کے فضلے کو ضائع کرتے ہیں ۔ لہٰذاءکو شش کرنی چاہئے کہ ہم بائیو گیس بنائیں اور گو بر کو زیادہ سے زیادہ استعال کر کے اس سے فائدہ لیں۔اس کالم کی وساطت سے اُن تمام افراد، این جی اوز، اور رفاہ عامہ کے اداروں کو جو گھریلو اور صنعتی سطح پر توانائی کی ضروریات بائیو گیس سے پورا کرنے اور یا انکی ترویج چاہتے ہیں ۔وہ مزید معلومات کے لئے ادارہ ہذا سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ ادارہ ان ٹیکنالوجی کی فروع اور لگانے کے لئے بُہت کم اور معمولی معاوضے پر دلچسپی رکھنے والے افراد, این جی اوز اور رفا ع عامہ کے اداروں کی تکنیکی معاونت کرے گا۔اگر کسی کو بائیو گیس یا متبادل ذرائع توانائی مثلاً شمسی توانائی، ہوا سے توانائی ، سولر ککر، گیزرز ہوا سے بجلی سے متعلق کے بارے میں انفار میشن لینی ہو تومتعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پررابطہ کرسکتے ہیں۔

ماہِ دسمبر ، دہشتگردی اور بھارت !

asghar-ali

 دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور اس امر سے تو ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یقینا سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ 44 سال قبل پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے مختلف سازشوں کے نتیجے میں اسے دو لخت کر دیا تھا ۔ 43 برس کے بعد یعنی 16 دسمبر 2014ءکو اس دن کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ یہ سانحہ اتنا بڑا تھا کہ اسے سن کر کوئی بھی ذی شعور آنکھ نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ مگر جن لوگوں نے یہ مکروہ کام انجام دیا ، ان کے لئے حسب حال لفظ ڈھونڈ پانا بھی تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ سفاکی ، بربریت ، درندگی اور شیطانیت جیسے الفاظ اس مکروہ کاروائی کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتے ہیں ۔
اس کھلے رازسے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے غیر ملکی سازشوں کے گھیرے میں ہے اور ان عناصر نے ملک کے اندر اپنے لئے ایسی کٹھ پتلیاں تیار کر لی ہیں جو کسی بھی اخلاقی مذہبی یا انسانی ضابطے کو ماننے پر آمادہ نہیں ۔ غالباً ان کے نزدیک دہشتگردی پر عمل کرنا ہی حرف اول بھی ہے اور حرفِ آخر بھی ۔تبھی تو گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور تقریباً دس ہزار سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار ان درندوں کی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
گذشتہ برس سولہ دسمبر کو منگل کی صبح ان درندہ صفت دہشتگردوں نے جو گھناﺅنا وار کیا تھا اس کا تصور بھی بالعموم کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان نہیں کر سکتا کیونکہ بچے تو بھلے ہی کسی بھی مذہب ، قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، ان کو دانستہ نقصان پہنچانا بدترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری دنیا بچوں سے شروع ہوتی ہے اورکبھی ہر شخص بچہ تھا اور اس کے بزرگ بھی بچے تھے لہذا جب یہ دنیا ہے ہی بچوں کے لئے ، بچپن ہی اس کا آغاز ہوتا ہے اور بالآخر ہر شخص اس دنیا کو اپنے بچوں کے حوالے کر کے چلا جاتا ہے تو سوچنا چاہیے یہ قتل و غارت گری ، یہ تخریب کاری بچوں کی معصومیت کو کیسے قائم رہنے دے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی ، سیاسی، لسانی ، اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھا کر دہشتگردی کی عفریت کا سر ہمیشہ کے لئے کچلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ہر فرد کو توقع ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ سبھی سیاسی رہنما جماعتیں ، مذہبی عمائدین اور سبھی سول سوسائٹی اور میڈیا کے تمام ذمہ داران اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زبان اور عمل سے ثابت کریں گے کہ وہ وطنِ عزیز کی پاکیزہ فضا کو دہشتگردی اور تخریب کاری کی لعنت سے چھٹکارا دلا کر رہیں گے اور آنے والے دنوں میں ہر فرد اور گروہ کا یہی ایک نکاتی ایجنڈہ ہو گا ۔ امید ہے کہ افواجِ پاکستان ، حکومت اور قوم کا ہر فرد اس قومی فریضے میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ضربِ عضب میں اور بھی شدت پیدا کر کے اس لعنت کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا جائے گا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے یو این سیکرٹری جنرل ” بان کی مون “ اور دیگر عالمی قوتوں کو پاکستان میں ہو رہی دہشتگردی کے سرپرست یعنی بھارت کے حوالے سے دستاویزی ثبوت فراہم کر دیئے ہیں اور یہ ” ڈوزیئر “ اپنے اندر اتنے شواہد رکھتا ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار فرد یا ادارہ بخوبی جان سکتا ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری دہشتگردی میں دہلی سرکار ملوث ہے اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے حوالے سے انڈین میڈیا جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے اس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب سے ہٹا کر اپنے خود ساختہ الزامات کی جانب مبذول کرنا ہے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ عالمی رائے عامہ اس صورتحال کا صحیح ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گی ۔ یہ توقع بھی بے جا نہ ہو گی کہ قومی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی اخلاقی اور ملی فریضہ احسن ڈھنگ سے انجام دیں گے ۔

ہندو پنڈتوں کی بحالی کا مودی پلان

syed-rasool-tagovi

دو تین عشرے قبل90ءکی دہائی میں پرتشدد صورتحال کے باعث تقریباً دو اڑھائی لاکھ سے زائد ہندو مقبوضہ کشمیر چھوڑ کر بھارت منتقل ہوگئے تھے اس عرصہ میں تمام ہندوخاندان بھارت میں رچ بس چکے ہیں لیکن نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقبوضہ کشمیر پربھارتی قبضے کی جڑیں مزید گہری اورمضبوط بنانے کی ٹھانی تو انہیں نے دیگر کئی سیاسی کوششوں کے علاوہ ان ہندو پنڈتوں کو واپس مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کااعلان کیا کہ ان ہندو پنڈتوں کو الگ بستیوں میں آباد کیاجائیگا۔ اس مقصد کیلئے گزشتہ سال ریاستی بجٹ میں تقریباً پانچ سو کروڑ روپے کاخصوصی بجٹ بھی مختص کروا دیا گیا۔ مودی کے اس اعلان کے بعد کشمیری سراپااحتجاج ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حریت پسند کشمیری کیوں احتجاج کررہے ہیں جب یہ ہندو حالات کی خرابی کے باعث کشمیر چھوڑ گئے تو کیا ان کو حق حاصل نہیں کہ وہ واپس اپنے وطن لوٹ جائیں۔اس سوال کا جواب حریت رہنما سید علی گیلانی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ہندو خاندانوں کی واپسی کیخلاف نہیںبلکہ ان کیلئے الگ بستیوں کے قیام کیخلاف ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ریاست کی ڈیمو گرافی کو بدلنے کی مودی سازش کو ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ گزشتہ سال ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو سیاسی ناکامی کے بعد مودی اب نئے پلان پرعملدرآمد چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بستیوں کی طرح یہاں مقبوضہ کشمیر میں بھی ہندوپنڈتوں کیلئے الگ بستیاں بنائی جائیں تاکہ اس کے مقبوضہ کشمیر کیلئے مذموم ایجنڈے کی تکمیل ہوسکے ۔اس سے قبل نریندرامودی مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کو بھی ختم کرنے کی کوششیں کرچکا ہے۔ بھارتی اورریاستی عدالتیں بی جے پی کو دوٹوک کہہ چکی ہیں کہ وہ اس حرکت سے دوررہے ،عدالتوں نے 370کے خلاف دائر درخوستوں کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کو عدالت تو کیا حکومت بھی نہیںتبدیل کرسکتی۔ ہندو پنڈتوں کی الگ آباد کاری سے جہاں وادی کی آبادی پرمنفی اثرات مرتب ہونگے وہاں استصواب رائے بھی متاثر ہوگی۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوںکواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کاوعدہ کررکھا ہے جو اسے آج نہیں توکل بحرحال انہیں دینا ہے، مگرگزشتہ 68 سال سے وہ اس وعدے سے بھاگ رہا ہے ۔ایسے حربے اب تک تو اس کے کام نہیں آرہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہندو پنڈتوں کی آباد کاری میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے۔مودی پلان کے مطابق بھارت بھر سے 60 سے62 ہزارہندو خاندانوں کو وادی میں لا کر بسایا جائیگا۔پہلے مرحلے میں10 ہزار ہندوخاندانوں کو چار مختلف ٹاﺅنز میں2500 خاندان فی ٹاﺅن آباد کرنے کاعندیہ بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے سری نگر اور اننت ناگ میں الگ بستیاں(ٹاﺅن)بنانے کیلئے ریاستی حکومت پرجگہ کے حصول کیلئے دباﺅ ڈالا جارہاہے۔ پنڈت بحالی پروگرام کے تحت ہرخاندان کی مالی مدد بھی کی جائے گی، وہ خاندان جن کے مکانات مکمل یا جزوی تباہ ہوئے انہیں7.5 لاکھ روپے فی خاندان، مکان کی مرمت کیلئے دولاکھ جبکہ نئے گھر کی خریداری کیلئے بھی ساڑھے سات لاکھ روپے فی خاندان کی خطیررقم کی فراہمی بھی بحالی پلان کاحصہ ہے۔ ایک طرف بی جے پی حکومت کی یہ منصوبہ سازیاں ہیں تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے وہ بات کہہ دی جوبھارت پچھلے سات عشروں سے سننے کوتیار نہیںہے۔ فاروق عبداللہ نے اپنے ایک تازہ بیان میںکہا ہے کہ بھارت کی تمام فوج بھی کشمیر آجائے تو وہ مجاہدین کامقابلہ نہیںکرسکتی،مسئلے کاواحد حل صرف مذاکرات ہیں۔ فاروق عبداللہ کا بیان کیا آنا تھا کہ بی جے پی اس پرٹوٹ پڑی ہے ۔بی جے پی کے لیڈر اورریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1994ءکی پارلیمانی قرارداد میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر بھارت کاحصہ ہے ،پاکستان نے اس پر جبری قبضہ کررکھا ہے۔ ایک کانگریسی لیڈر وجے سنگھ نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے ہی پارلیمنٹ میں ایک قراردادمنظورکی گئی ہے۔ فاروق عبداللہ نے ان دونوں رہنماﺅں کے اعتراض کے جواب میںکہا کہ کیا بھارت یہی چاہتا ہے کہ مظلوم کو مارا جائے، آخرکتنی فوج ہماری حفاظت کرسکتی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں قرارداد ہے تو اس پرپارلیمنٹ نے اب تک کیاکیا ہے۔قراردادیںتو اقوام متحدہ میں بھی پاس کی گئی ہیں،ان پرکتنا عمل ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اوربھارت کو مذاکرات کی میز پر آناچاہیے۔ فاروق عبداللہ یہ کہنے پرکیوں مجبورہوئے ہیں،کیاوہ پاکستان کے ساتھ آملنے کی طرف راغب ہورہے ہیں یا پھر وہ جذبات میں یہ سب کچھ کہہ گئے ہیںتو یہ بات سب پرعیاں ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں ہیں، دراصل کشمیریوں کی واضح اکثریت بھارت سے جان چھڑانا چاہتی ہے اسکے باوجود کہ بھارتی فورسز ہر روزقیامت ڈھا رہی ہیں۔اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ 16\17 روز سے مختلف علاقوںمیں خصوصاً ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کی خونی کارروائیوں کے باعث کشمیریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے ,لوگ گھروں میں عملاً محصورہیں۔ حریت پسندسیاسی قیادت گھروں میں نظر بند ہے۔نوجوان سینہ سپر ہوکر بھارتی افواج کامقابلہ کررہے ہیں۔نوجوانوں میں بھارتی قبضے کیخلاف مسلح جدوجہد میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ فرانس کے ایک سرکاری چینل فرانس- 240 نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ I india pakistan: A new genration takes up arms in kashmir جو کرنٹ افیئر کے پروگرام فوکس میںپیش کی, میںکہا ہے کہ بھارتی آرمی کیخلاف مقامی جوانوں کی مسلح جدوجہد میں خاصی تیزی آچکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی آبادی بھارت کی بجائے پاکستان سے الحاق چاہتی ہے۔یہ وہ حقائق ہیں جو بھارت کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔بھارت کو نوشتہ دیوار پڑ ھ لینا چاہیے۔

Google Analytics Alternative