کالم

امت مسلمہ کیلئے پیغام

uzair-column

توہم پرستی بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور پھر بعض اوقات بڑے اچھے اورپڑھے لکھے انسان بھی کوئی نہ کوئی ایسی بات کرتے ہیں جس پر حیرانگی ہوتی ہے ۔بھلا تاریخوں اور مہینوں میں کیا رکھا ہے ساری تاریخیں ایک جیسی ہیں ۔گذشتہ روز سے میڈیا میں ایک بات چل پڑی ہے کہ آخر 11کے ہندسے میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ جب امریکہ میں چودہ سال قبل ٹوئن ٹاورز پر حملہ ہوتا ہے اس سے جہاز سے ٹکراتے ہیں تو وہ 9/11کی تاریخ تھی ۔پھر جب ممبئی حملے ہوئے تو وہ بھی 26/11 کی تاریخ تھی۔پاکستان کے درہ آدم خیل میں خود کش حملہ ہوا جس میں بہت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں یہ بھی 5/11کی تاریخ تھی ۔گذشتہ روز فرانس کے خوشبوﺅں والے پیرس میں جب بارود کی بدبو پھیلی تو وہ بھی 13/11کی تاریخ تھی ۔اب اس کو حسن اتفاق کہا جائے یا کوئی گیارہ کے پیچھے خاص کہانی سے منسوب کیا جائے ۔مہینہ تو گیارہواں ہی نکلتا ہے ۔ٹوئن ٹاور پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادیوں کوملا کر دہشتگردی کیخلاف ایک بھرپور جنگ کا اعلان کیا ۔واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دراصل امریکہ صلیبی جنگوں کا بدلہ لے رہا ہے اور پھراب تو یورپ سے یہ بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ پیرس کے حملے ہونے والے خود کش حملے اور فائرنگ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ۔بات دہشتگردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے ہورہی تھی تو جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے اس میں خصوصی طور پر بلکہ قطعی طور پر تمام ترکارروائیاں مسلمانوں کیخلاف ہی ہورہی ہیں ۔2001ءسے لیکر 2015ءتک دہشتگردی میں مرنے والے لوگوں کی اموات میں 45سو فیصد اضافہ ہوا ۔عراق میں 1892حملے خود کش حملے کیے گئے ،اسی جنگ کے دوران داعش نے بھی جنم لیا ،پاکستان میں 2001ءسے لیکر 2015ءتک 486خود کش حملے ہوئے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔دیکھنے اورسوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشتگردی کیخلاف جنگ قابو میں نہیں بلکہ بے قابو ہوچکی ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے بالکل صحیح کہا کہ جب امریکہ اوریورپ آگ لگائیں گے تو یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی ۔دوسروں کے گھروں سے ہاتھ تاپنے والے بھلا خود کیسے بچ سکتے ہیں ۔جتنے بھی اتحادی ہیں وہ انتہائی جدید ترین ملک ہیں پھر آخر پیرس میں اتنا بڑا دہشتگردانہ واقعہ کیونکر ممکن ہوا ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حملے سے بارہ گھنٹے قبل اطلاع کردی گئی تھی کہ حملہ کیا جائیگا ۔اس کے باوجود بھی اس کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ۔پھر عین دوسرے دن ٹوئٹر پر ایک پیغام چلا کہ فرانس کے ایک جہاز میں بم ہے جس کی وجہ سے اس فلائٹ کو بھی روک لیا گیا ۔امریکہ بھی اس وقت پھر سے میدان میں کود چکا ہے ۔ساری دنیا اس دہشتگردی کےخلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔مگر جو اصل اسباب ہیں ان کی جانب کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا کہ آخر یہ دہشتگردی کیوں پھیل رہی ہے ۔کس کے کیا عزائم ہیں ،کون کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ،کس کو کون تباہ کرنا چاہتا ہے ،کس کا بارود زیادہ فروخت ہورہا ہے ،کون تیل پر ڈکیتی مار رہا ہے ،کون مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ رہا ہے ،دنیا میں غلط تقسیم کار کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں ۔کیا صرف تمام دہشتگرد یا انارکی مسلمان ممالک میں ہی ہے ۔یہ وہ ایک اہم سوال ہے جس پر او آئی سی اور مسلم ممالک کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان ،افغانستان،بوسنیا ،چیچنیا ،عراق ، ایران ، شام ، فلسطین ،لیبیا، یمن اورسعودی عرب میں ہی آخر کار تمام دہشتگردانہ کارروائیاں کیو ہورہی ہیںاور دنیا میں جہاں کہیں سے بھی کوئی بھی دہشتگرد گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طریقے سے مسلم ممالک کے ساتھ جوڑ دئیے جاتے ہیں ۔آخر مسلمان ممالک میں کس چیز کی کمی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمت عطا کی ہے ،پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے ،سعودی عرب، ایران ،عراق کے پاس تیل جیسی نایاب دولت ہے ۔ہاں اگر کمی ہے تو صرف ایک بات کی کہ اس وقت امت مسلمہ قطعی طور پر اپنی راہ سے بھٹک چکی ہے ۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات سے دوری اختیار کرتی جارہی ہے ۔دنیا ومافیہا میں مسلمان اتنا گُم ہوچکا ہے کہ جیسے لگتا ہے کہ اس نے اس دنیا سے ناطہ ہی نہیں توڑنا ،کیا وہ 313مجاہدین والا جذبہ اب موجود نہیں ہے جنہوں نے اس پوری دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی تھی ۔انہیں بھروسہ تھا تو صرف اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ کا اور وہ لڑتے تھے تو اسلام اوراللہ کے محبوبﷺ کی خاطر ۔آج ہم مادیت پرستی میں دفن ہوچکے ہیں ۔دنیا کی لذتوں میں اتنا غرقاب ہیں کہ آخرت کا کوئی دھیان ہی نہیں ۔اس وقت جتنی بھی شیطانی قوتیں اسلام کیخلاف کارفرما ہیں ان کی صفوں میں اتحاد ہے اور مسلمان پوری دنیا میں آبادی کے اعتبار سے بھی زیادہ ہیں ،طاقت کے اعتبار سے بھی سب پر بھاری ہیں ،ٹیکنالوجی کی بھی کمی نہیں ،جذبہ بھی زیادہ ہے مگر اگر کمی ہے تو وہ صرف اتحاد اوراللہ اور اس کے محبوب ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی ۔جو شخص اپنے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اللہ کی ذات اسے کسی کے آگے جھکنے نہیں دیتی ۔یہی آج کی امت کیلئے ایک ایسا پیغام ہے جس پر وہ عمل کرلے تو دنیا کی کوئی طاقت بھی مسلمانوں کو جھکا نہیں سکتی ۔

کیلاش کے کافر اور ’ہجومِ مومنین‘

Asif-Mehmood

ایک جانب ’ صاحبانِ نظر‘ وزیر اعظم کو ہندوؤں کے تہوار میں شرکت پر مطعون و ملعون کر رہے ہیں تو دوسری طرف ’ اہلِ حق ‘ کی جانب سے زلزلوں ، سیلابوں اور دیگر آفتوں کا ذمہ دار کیلاش کے ’ کافروں ‘ کو قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔یہ دونوں رویے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہیں کہ یہ نیم خواندہ اور ناتراشیدہ سماج اپنے مذہب کی مبادیات کی تفہیم ہی سے قاصر ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے ایک ایسے فکری بیانیے کی ضرورت ہے جو اسے انتہا پسندی سے نکال کر اس کی تہذیب کر سکے۔

کینیڈا کے جواں سال وزیر اعظم ،ایک مسجد میں جا کر مسلمانوں سے ملے تو خوشگوار حیرت ہوئی۔دوسرے روز خبر ملی وہ سکھوں کے پاس بھی چلے گئے اور ہندوؤں کے ایک مندر میں جا کر دیوالی کی خوشیوں میں بھی شریک ہوئے۔جسٹن ٹروڈو نہ مسلمان ہیں نہ سکھ نہ ہی ہندو۔لیکن سب کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔تو کیا یہ ہماری اجتماعی منافقت ہے کہ ہم جسٹن ٹروڈو کی تو تعریف کر رہے ہیں لیکن ہمارا اپنا وزیر اعظم اپنے ہم وطنوں کی خوشیوں میں شریک ہو رہا ہے تو اس کی مذمت کر رہے ہیں۔دیوالی کی خوشیوں میں شرکت ایک ہم وطن قوم کے تہوار میں شرکت ہے۔ ایسا کر کے وزیر اعظم نے کون سی اسلامی تعلیمات کی نفی کی ہے کہ ان کی مذمت کی جائے؟ہاں وہ وہاں ہندوؤں کی عبادت میں شریک ہوتے تو ان پر تنقید ضرور کی جانی چاہیے تھی۔لیکن وہ ان کی عبادت میں نہیں ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔کیونکہ وہ ان کے بھی وزیر اعظم بھی ہیں۔جسٹن ٹروڈو مسجد ، مندر اور گردوارے میں جانے کے باوجود مسلمان ، ہندو یا سکھ نہیں ہوئے اور نواز شریف دیوالی کی تقریب میں شریک ہو کر بھی مسلمان ہی ہیں؟لیکن ایک کی تعریف کی جارہی ہے اور دوسرے کی مذمت؟فرق یہ ہے کہ کینیڈا کے لوگ جانتے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر چلے بغیر قومی ترقی کا عمل جاری رہنا ممکن نہیں اور ہم اپنی خود ساختہ دنیا کے وہ سادہ لوح ہیں جو دھوکے اور سراب اوڑھ کر جی رہے ہیں۔45 لاکھ ہندو ہمارے ہم وطن ہیں ،لیکن ہمیں پرواہ نہیں اور ہم کمال بے نیازی سے اپنے نصاب میں انہی بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ ’’ ہندو ایک تنگ نظر قوم ہے‘‘۔کبھی ہم نے سوچا کہ نفرتوں کا یہ نصاب ان پینتالیس لاکھ ہندوؤں کو قومی دھارے میں کیسے لا سکے گا؟۔

نیم خواندگی اور ناقص فہمِ دین، سماج میں آج بھی شعلہ بیان مقررین کی مانگ ہے ۔دھیمے انداز میں صرف قرآن و سنت کی کوئی بات کرے ہماری نگاہ انتخاب اس پر ٹھہرتی ہی نہیں۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔تازہ ارشاد یہ ہے کہ شمالی علاقوں میں زلزلے اور سیلاب کیلاش قبیلے کی وجہ سے آ رہے ہیں۔یہ قبیلہ گناہ کرتا ہے اور عذاب سب پر آ جاتا ہے۔قرآن و سنت کی روشنی میں اس موقف کا کوئی اعتبار نہیں۔ویسے بھی اگر آفات گناہوں کی وجہ سے آتیں تو ’ ریڈ زون‘ کیسے محفوظ ہوتا جہاں وہ پارلیمنٹ موجود ہے جس کے سب ممبران مبینہ طور پر نیک اور پاک ہیں۔ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا حق ہے۔لا اکراہ فی الدین کا حکم اس باب میں نہائت واضح ہے۔قبیلہ کیلاش اپنی مذہبی رسومات پر عمل کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے اور انہیں جبرا اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔نہ ہی کسی کو طاقت کا استعمال کر کے مسلمان کیا جا سکتا ہے۔کسی کا اپنا دل خود بلا خوف و ترغیب اسلام کی جانب مائل ہو جائے تو وہ ایک الگ بات ہے۔زلزلوں اور سیلابوں کی شانِ نزول میں یہ بیانیہ طوفانوں کی خبر دے رہا ہے۔اس کا راستہ نہ روکا گیا تو ہر بستی میں لوگ اٹھیں گے کہ زلزلے اور سیلاب کا ذمہ دار فلاں گرو ہ ہے

اور اللہ اس سے ناراض ہے۔نیم خواندہ قوم کی فکری تہذیب اور توازن کے لیے ایک متبادل بیانیہ نہایت ضروری ہے۔یہ بیا نیہ کسی گروہ کی جانب سے نہیں بلکہ دستورِ پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی طرف سے آ نا چاہیے۔لیکن برا ہو ٹاک شوز کا، اراکینِ پارلیمنٹ کے ذوق، اوبلندی فکر کے نوحے سرِ شام ٹی وہ چینلوں پر سننے کو ملتے ہیں۔جو لوگ اتنے اوسط درجے کے ہوں کہ ڈھنگ سے مکالمہ ہی نہ کر سکیں اور گفتگو کے پانچ منٹ بعد لوگوں کو پطرس بخاری یاد آ جائیں،کیا وہ کوئی فکری بیانیہ دے پائیں گے؟
آدمی کس دیوارِ گریہ پر سر رکھے؟

مشتری ہوشیار باش

uzair-column

نومبراوردسمبر کے مہینوں میں سخت سردی ہوتی ہے اورپھر وفاقی دارالحکومت میں بس ذرا بارش کی دیر ہے پھر تو یہاں کے باسی ٹھنڈ کی وجہ سے ٹھٹھرنے شروع ہوجائیں گے ۔مگر آمدہ دن کچھ اور ہی خبریں سنا رہے ہیں ۔ان یخ بستہ راتوں میں کوئی گرما گرم فیصلے ہونگے ۔اب چاہے کوئی چائے کی گرم پیالی میں طوفان برپا کرے یا اپنے اوپر رضائی لیکر گرم فیصلوں سے پہلے اس کی گرمی کو محسوس کرنے کی کوشش کرے مگر ایک بات تو طے شدہ ہے کہ اب کی بار بس ”مشتری ہوشیار باش “ذرا سی بھی غلطی کہیں چائے کی پیالی میں طوفان نہ برپا کردے اور اگر یہ تو طوفان کہیں چائے کی پیالی کے کناروں سے چھلک گیا تو گرم گرم چائے گرنے کی وجہ سے ادھر ادھر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بھی اس گرم چائے کی چھینٹیں پڑ سکتی ہیں لہذا بہتر تو یہ ہے کہ وقت آنے سے پہلے چائے کی پیالی کو پہلے سرد موسم میں ٹھنڈے پانی سے ٹھنڈا کرلیا جائے اور اس میں جو چائے ڈالی جائے اسے پھونکیں مار مار کر پی جائے ۔اگربراہ راست ٹھنڈی رات میں گرم چائے کی ”چسکی“ لگا لی تو اس سے پہلے ہونٹ جل جائیں گے اور پھر اس سے منہ اندر سے متاثر ہوگا ،زبان پربھی چھالے پڑ سکتے ہیں ،پھربولنے میں بھی مسائل پیدا ہوں گے اور چائے پینے والا اپنی آواز آگے تک واضح طور پر نہیں پہنچا سکے گا ۔پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی گرم چائے پی رہا ہے تو پہلی گرم چسکی میں وہ اچھل پڑے اور چائے ساری کی ساری گر پڑے اور اس سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے ۔بات شروع ہوئی تھی نومبر،دسمبر سے اور استعارے ،قافیے ملاتے ملاتے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھنے لگا تھا کہ خیال آیا کہ اس کو تھم جانا چاہیے کیونکہ کچھ دن پہلے اگر یہ طوفان برپا ہوا تو شاید خس وخاشاک بہا کر لے جائے ۔یہاں بات ذرا منصوبہ بندی کی ہوجائے تو ذرا زیادہ بہتر ہوگا ۔ہم لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ ہمیشہ عید کے پیچھے ٹر کرتے ہیں جب آفات آن پڑتی ہیں تو اس سے بچت کیلئے سرگرم ہوجاتے ہیں لیکن آفت آنے سے قبل کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ پہلے سے حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں ۔اگر پہلے سے ہی کسی مشکل وقت کے آنے کے بارے میں سوچ لیا جائے تو پھر انسان اس میں اچھے طریقے سے بچ جاتا ہے مگر جب اچانک سر ہتھوڑا آن پڑے تو اس وقت بچت کرنا مشکل ہوتی ہے یہ بات بھی یقینی ہے کہ جب بچت کیلئے پہلے سے اقدامات نہیں کیے جائیں گے تو ایسا شخص حالات میں مگن رہے گا اور وہ یہ سوچتا رہے گا کہ شاید اس پر کبھی آفت آنی ہی نہیں ،شاید وہ کبھی مشکل کا سامنا ہی نہ کرے مگر یہ بھی ایک آفاقی اصول ہے کہ عروج کو زوال لازم ہے اور پھر کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اللہ تعالیٰ کب شاہ کو گدا اور کب گدا کو شاہ بنا دے ۔بات تو ساری اعمال اورافکار کی ہے کہ کون کہاں تک اور کیسے اپنے معمولات زندگی بسر کررہا ہے ۔سردیوں کی راتوں میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ اب جو اس وقت موسم تبدیل ہونے جارہا ہے اس میں عموماً”فلو“زکام کا مرض لاحق ہوجاتا ہے اوریہ ایک ایسی وائرل بیماری ہے جو ایک سے دوسرے ،دوسرے کو تیسرے ،تیسرے سے چوتھے کو لگتی چلی جاتی ہے اور پورا علاقہ متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔اس وائرل کے پھیلنے کا موسم بالکل سر پر موجود ہے ۔ذرا سا بھی ٹھنڈ میں بے احتیاطی کرنے سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے ۔لہذا زکام سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں ،راقم یہاں یہ بتاتا چلے کہ یہ کوئی ”مینڈکی کا زکام نہیں “ اگر یہ لگ گیا تو اس سے چھینکیں آنے کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ماﺅف ہوسکتا ہے اور جب دماغ ماﺅف ہوجائے تو پھر آگے پیچھے کچھ نہیں نظر آتا ۔بعض اوقات تو اس طرح ہوجاتا ہے کہ جو شخص زکام سے متاثر ہو اسے بند کمرے میں بغیر رضائی کے بھی رکھ کر دھونی دینا پڑتی ہے تاکہ فلو کے زکام اپنی موت مر جائیں مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ فلو کے زکام مرتے مرتے مریض کیلئے بھی جان لیو ثابت ہوجاتے ہیں ۔بات کہنے کی دراصل یہ ہے کہ زندگی انسان کو صرف ایک مرتبہ ہی ملتی ہے لہذا اس زندگی میں اچھے اعمال کرلینے چاہئیں اور کچھ ایسی یادیں چھوڑ جانی چاہئیں کہ جانے کے بعد کوئی اچھے الفاظ میں یاد کرے ۔کسی کے حقوق کو سلب نہیں کرنا چاہیے جو جس کا حق ہو وہ اس کو دینا چاہیے ۔یہ حقوق چاہے ملکی سطح پر ہوں یا عوامی سطح پر اس میں کوئی عام آدمی ملوث ہو یا کہ حکمران کیونکہ حقوق العباد کو تو اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرتا اورپھربعض اوقات اس طرح بھی ہوجاتا ہے کہ حقوق کے سوال وجواب ایسے موسم میں ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ قابل برداشت نہیں ہوتا ۔ایک تو سرد ہوائیں چل رہی ہوں ،رات کا سناٹا ہو کہیں سے شائیں شائیں کی آواز بھی آرہی ہو اور اس میں اگر شڑاپ شڑاپ ہوجائے تو پھر مشکلات درپیش آجاتی ہیں ۔کتنا ہی اچھا ہو کہ ہر کوئی شخص اپنا تمام تر وقت اپنے پیاروں کے ہی ساتھ گزارے اگر کہیں کسی کو تنہائی میں بھیج دیا جائے تو پھر اسے ان پیاروں کی یاد ہوگی تو لہذا اپنے پیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ ساری قوم ہی پیاری ہے کہیں اس کے ساتھ تو زیادتی نہیں ہورہی ،یہ ملک بہت قیمتی ہے کہیں یہاں لوٹ مار تو نہیں ہورہی ،یہ زبان اور الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ اگر ایک دفعہ نکل جائیں تو واپس نہیں آتے جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آیا اور پھر جو کچھ بولا جاتا ہے اس کو بھگتنا پڑتا ہے ۔

ترکی کی اقتصادی ترقی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

ترکی میں دو نومبر کو ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں طیب اردگان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے فتح حاصل کر لی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک ترکی کی سیاست پر حاوی رہنے والی جماعت ’اے کے پی‘ نے پارلیمانی انتخابات میں 49.4 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ کی 550 میں سے 316 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس طرح حکمراں جماعت ایک بار پھر تنہا حکومت قائم کرسکتی ہے۔ حکمراں جماعت کا پارلیمانی انتخابات میں تقریباً 50 فیصد ووٹ لینا حیران کن ہے کیونکہ انتخابات سے قبل کیے جانے والے مختلف سروے کے نتائج سے یہ بات واضح ہورہی تھی کہ اے کے پی رواں سال ماہ جون کی طرح اس بار بھی انتخابات میں 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے گی، لیکن انتخابات کے نتائج اس سے مختلف رہے۔طیب اردگان کی جماعت کی بھاری اکثریت میں کامیابی پر صدر اور وزیراعظم پاکستان نے خصوصی پیغامات میں نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک باہمی تعمیر و ترقی کےلئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔پاک ترک تعلقات اسلامی ثقافت کے گہرے رنگوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔30ستمبر 1947ءکو جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے والا دنیا کا 56واں ملک بن رہا تھا تو پاکستان کی حمایت میں ترکی کے مندوب نے ایسی جاندار تقریر کی تھی کہ اجلاس میں موجود 54ممالک میں سے 53نے پاکستان کی حمایت کی،اس موقع پرصرف اکیلے افغانستان ہی ایسا ملک تھا جس نے مخالفت کی تھی۔
ڈیڑھ سال کے اندر چار بار انتخابی عمل سے گزرنے والا اور موجودہ جنگوں، مہاجرین اور اقتصادی بحران کے دلدل میں پھنسے علاقے کے عین وسط میں واقع ترکی دنیا میں تیز ترین طریقے سے ترقی کی جانب گامزن ساتواں ملک ہے۔ ترکی کی تاریخ کئی سیاسی و اقتصادی نشیب و فرازسے دوچار رہی ہے۔مگر اس کے ماضی قریب کے چند عشروں کا جائزہ لیا جائے تو جہاں اسے کمال اتا ترک نے نئی پہچان دی وہاں ایک طویل عرصہ بعد طیب اردگان اسے نئے ڈگر پر لے کر چل رہے ہیں۔پاکستان کی ہر حکومت ترکی ساتھ اچھے مراسم قائم رکھتی رہی ہے،مگر موجودہ حکومت بڑی تیزی کے ساتھ اردگان حکومت کے قریب ہو رہی ہے۔ابھی دو روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ترکی کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ ترکی اور پاکستان کی ثقافت میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ لاہور میں مال روڈ پر استنبول چوک کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استنبول چوک پاک ترک دوستی کی علامت ہے، پاکستان اور ترکی کے مابین دوستانہ تعلقات مفید معاشی روابط میں بدل رہے ہیں“۔ ایسے خیالات خوش کن ہیں ،یقیناً حکمرانوں کو اپنے دوست ملک کی تیز رفتار ترقی سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے ،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ترکی نے یہ مقام کیسے حاصل کیا ۔ کیا پاکستان میں وہ پوٹینشل نہیں کہ وہ کم از کم ترکی کے ہم پلہ بھی نہیں ہوسکتا؟۔ تجزیہ نگاروں کے نزدیک 1980ءاور1990ءکے عشرے تک ترکی کا حال بھی پاکستان سے کوئی مختلف نہیں تھا۔ معیشت اور سیاست سمیت ہر شعبہ زوال پذیر تھا، لیکن ایک مخلص سیاسی قیادت نے جب زمام اقتدار سنبھالی تو اس نے دو چیزوں پر خصوصی توجہ دی۔ایک تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، دوسرا ترک عوام اور معاشرے میں ملک اور وطن کی بہتری اور ترقی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ تعلیم، عوامی شعور اور اقتصادی بہتری نے ترکی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ آج ترک عوام اچھے اور ب±رے کی تمیز کر چکے ہیں، کون ملک کے لئے بہتر سوچ رہا ہے اور کون ذاتی مفاد کے لئے کام کر رہا ہے ، لہٰذا وہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔ ترکی کی ترقی سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان گزشتہ چند عشروں سے جن معاشی، سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان سے نجات کیلئے ترکی کی معاشی واقتصادی پالیسیوں سے فائدہ اُٹھاناچاہئے۔1981ءسے 2003ءتک چار فی صد شرح نمو کے ساتھ قابل تقلید ترقی کی ہے، جس کے نتیجے میںگزشتہ دس سال سے بھی کم عرصے میں ترکوں کی فی کس آمدن دس ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی میں سیاحت باقاعدہ صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور اس مد میں سالانہ آمد ساڑھے تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس سے ترکی کو سالانہ تئیس ارب ڈالرز کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ بینکنگ، تعمیرات، الیکٹرونکس، گھریلو آلات، ٹیکسٹائل، تیل کی صفائی، پیٹروکیمیکلز، خوراک، کان کنی اور لوہے کی صنعت میںبھی ترکی کوایک خاص مقام حاصل ہے۔
طیب اردگان جب اقتدار میں آئے تو ترکی نے آئی ایم ایف کا 23.5بلین ڈالر قرض دینا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکیمانہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے پہلے قرض اتارا اور پھر آئندہ کسی قسم کا قرض نہ لینے کی ٹھانی جس میں نہ صرف وہ کامیاب رہے بلکہ آئی ایم ایف کے چنگل سے جان خلاصی کرائی۔کامیاب پالیسیوں سے افراط زر پر قابو پایا،عوامی فلاح کے کئی پروگرام شروع کئے،مثلاً 18سال کی عمر سے تمام افراد کو مفت طبی سہولتوں کی فرہمی، ریٹائرمنٹ کی عمر میں دھیرے دھیرے اضافہ، جس سے2036ءسے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہو جائے گی اور 2048ءمیں مرد اور عورت کے لئے یہی عمر برابر ہو جائے گی۔جدید ترکی کی ترقی کا راز اس کی پالیسیوں اور ا±ن پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمدمیں ہے۔ مغرب کیترقی کی تقلید میں حرج نہیں لیکن یہی راز ہمیں اپنے کسی دوست ملک سے مل جائے تو اس سے زیادہ سستا سودااور کیا ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک میں ایسی بہت سی اشیا خام مال ،افرادی قوت،تجربہ ،مشنری ،موجود ہیں جس کی دونوں ممالک کو ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس ،کپاس ، ٹیکسٹائیل ،یارن ،جراحی کے آلات ،ادویات کھلیوں کا سامان خام چمڑہ،مصنوعات ،چاول ،زرعی اجناس ،پھل ،دودھ ،گوشت ،سیمنٹ ،ماربل ،سستی افرادی قوت،کوئلہ،نمک وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ ترکی کے پاس توانائی ،مشینری ،آٹو موبائل ،تجربات ،تعمیرات کا فن ،پیکنگ مصنوعات کا عالمی معیار ونڈ سولر،اور ہائیڈروانرجی سسٹم ،سیاحت جیسے کامیاب شعبے موجود ہیں جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب متوجہ کرنے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے لیکن اصل ضرورت ترکی کی پالیسیوں کو آزما کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

کیا بی جے پی کا زوال شروع ہو گیا ہے؟

riaz-ahmed

حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست بہار میں ذلت آمیز شکست نریندر مودی کیخلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور مسلم کش فسادات کی سیاست بھی بی جے پی کو شکست سے نہیں بچا سکی۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر کے بعد نہتے مسلمانوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی میں مظلوم کشمیریوں کیلئے اقتصادی پیکج کے دعوے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی نے ریاست بہار میں انتخابات سے قبل ہند وانتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دیکر نہتے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کر دی۔ کبھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر مسلم کش فسادات برپا کئے گئے۔ اخلاق احمد جیسے بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا تو کبھی عیسائیوں وسکھوں کی عبادت گاہوں اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی گئی۔ اسی طرح نچلی ذات کے ہندوﺅں پر بھی بربریت کی انتہا کر دی گئی اور پورے ہندوستان میں طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا۔بی جے پی کی قیادت سمجھتی تھی کہ شاید اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ وہ ہندوﺅں کے جذبات بھڑکا کران کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی لیکن بی جے پی کے اس نظریہ کو بہار کے غریب عوام نے مسترد کر تے ہوئے انتہا پسندوں کے غروروتکبر کو خاک میں ملا دیا ۔
بی جے پی نے مذکورہ ریاستی انتخابات جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ہندوﺅں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کیلئے پاکستان دشمنی کی بھی انتہا کر دی گئی لیکن اس سب کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ بہار کے 243 کے ایوان میں مودی کی قوم پرست پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو صرف 58 نشستیں حاصل ہو سکیں۔ جبکہ ان کے مدمقابل بہار کے سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار، لالو پرشاد اور کانگریس کے گرینڈ الائنس ”جنتا دل“ کو 178 نشستیں حاصل ہو گئیں جو ایوان کی دو تہائی اکثریت ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی کی اپنی صرف 53 نشستیں ہیں جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بہار کے عوام نے مودی کی انتہا پسند پالیسیاں یکسر مسترد کر دی ہیں چنانچہ پاکستان دشمنی اور گائے کارڈ بھی ان کے کسی کام نہ آیا۔ انہوں نے بہار میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے کے لیے ریکارڈ 30 انتخابی جلسے کیے اور مسلم دشمنی کے جذبات ابھارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر بہار کے عوام نے ان کو اس انتہا پسندانہ سوچ کی بنیاد پر ٹھینگا دکھا دیا اور ان کے ہندو ازم کے بھوت کی بھی خوب ٹھکائی کی۔ اس انتخاب کے نتیجہ میں دو بار وزیراعلیٰ رہنے والے نتیش کمار کی بطور وزیراعلیٰ تیسری ٹرم کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے جن کی پاکستان کے ساتھ سازگار دوستانہ تعلقات کی خواہش کے پیش نظر بھارت کے سیاسی پنڈت بھارتی سیاست میں ان کے مودی کے مدمقابل آنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
مودی سرکار نے ریاستی اسمبلی بہار کے انتخابات کے حوالے سے ہندوازم کے فروغ پر مبنی جارحانہ پالیسی اختیار کی اور اس پالیسی کے تابع ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے بھارتی مسلمانوں کی تضحیک کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان سے آنے والے دانشوروں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور دوسرے مکاتب زندگی کے لوگوں کو بھارت سے واپس جانے پر مجبور کرنے کے جارحانہ اقدامات کا بھی آغاز کیا۔ جن کے خلاف مودی سرکار نے کسی قسم کی کارروائی نہ کر کے ان غنڈوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کا عندیہ دیا ۔چنانچہ مودی سرکار کی ان انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بیرونی دنیا میں بھی سخت ردعمل پیدا ہوا اور خود بھارت کے اندر اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی۔ بھارتی دانشوروں اور فنکاروںنے مودی سرکار کی اس پالیسی کو بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ سے تعبیر کیا اور اپنے اعلیٰ سرکاری میڈل واپس کر کے اپنے سخت ردعمل کے اظہار کا سلسلہ شروع کیا۔
بہار میں بی جے پی کی شکست کو مودی کی تعصب اور عدم برداشت کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے لوگ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں اس لئے بہار کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی نفرت کی سیاست کو شکست دی ہے۔ اب بہار کے عوام کے مینڈیٹ کے مطابق نتیش کمار ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے جو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دوبار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور اپنے ملک واپس جا کر بھی پاکستان بھارت خیر سگالی کے دوستانہ تعلقات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ یقیناً اب ان کی یہ سوچ اور سیاست بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست پر حاوی ہو گی۔
اپنی انتہا پسندی کا مودی سرکار نہ صرف ریاستی انتخابات میں خمیازہ بھگت رہی ہے بلکہ اس کی قومی سیاست کو بھی سخت دھچکا لگ رہا ہے۔ چنانچہ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی اس سیاست کا بولورام ہونے کا قوی امکان ہے۔اگر یہی حال رہا تو بی جے پی کو آنے والے انتخابات میں دیگر ریاستوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عمران خان…. بعض ڈاکٹرحضرات ،چھوٹا نہیں، بڑا مافیا

ejaz-ahmed

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان سے کئی ایسی غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف اُسکی سیاسی ساکھ نُقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُنکی مقبولیت میں کمی کا با عث بھی بن رہی ہیں۔ مگر جہاں تک عمران خان کے اُس سٹیٹمنٹ اور بیان کا تعلق ہے جس میں عمران خان نے بعض ڈاکٹروں کو ما فیا کہا ہے ،تو میرے نا قص خیال میں عمران خان کا یہ بیان 100 فی صد نہیں بلکہ120فی صد صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔اگر عمران خان کے اس قسم کے بیان سے بعض ڈا کٹر حضرات سیخ پا ہو رہے ہیں یا اس بیان اور سٹیٹمنٹ کو غلط کہہ رہے ہیںتو اس میں کوئی عقلی دلیل نہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات پر غور کر لیں ڈا کٹروں کی اکثریت نے خیبر پختون خواکے زیادہ تر شہروں میں کلینکس، لیبا رٹریاں اور دوائیوں کے سٹورز، ایکسرے،ای سی جی ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی کی مشینیں لگائی ہوئی ہیں اور وہ ہفتے کے مختلف دنوں میں مختف شہروں میں قائم ان کلینکوں اور لیبا رٹریوں کا وزٹ کرکے، مریضوں کو دونوں ہا تھوں سے خوب لو ٹتے اور سرکاری ڈیوٹی سے جان چُھڑاتے ہیں۔ اپنی بھا ری فیسوں کے علاوہ دوائیاں بھی بیچتے ہیں اور مختلف قسم کے مہنگی ٹسٹ بھی مریضوں کو تجویز کرتے ہیں۔یہ ڈاکٹر حضرات سرکاری ہسپتا لوں کے بجائے زیادہ وقت اپنے کلینکوں اور لیباٹریوں کو دیتے ہیں۔ جن ہسپتالوں میںیہ ڈا کٹر کام کر رہے ہوتے ہیں،وہاں پر مریضوں کے ساتھ انکا رویہ وہ نہیں ہوتا جو اُنکا مریضوں کے ساتھ اپنےپرائیویٹ کلینکس میں ہوتا ہے۔کئی دوا ساز ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اپنی نئی پروڈکٹ تیار اور لنچ کر کے ڈا کٹروں کو بھاری رقوم اور مختلف سہولیات اور مراعات دیکر ان سے مریضوں کو لکھواتے ہیں۔ اسی طر ح دوا ساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات دونوں غریبوں کولوٹ کر خوب کمائی کرتے ہیں۔وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختون خوا میں ڈاکٹروں کی فیس لینے کے لئے کو ئی معیار اورقاعدہ مقرر نہیں۔ایک ڈاکٹر ایک سرجری کے لئے ایک فیس اور دوسرا ڈاکٹر اس قسم کی سر جری کی دوسری فیس لیتا ہے ۔اگر اس میں ہزار دو کا فرق ہو تو پھرکوئی بات نہیں مگر اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ان میں حد سے فرق اور تفاوت ہوتا ہے۔میں کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جو کئی دواسا ز کمپنیوں سے پیسے لیکرمریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی دوائیاں لکھواتے ہیں ۔ میں شام کو ایک کیمیسٹ کے دکان پر بیٹھا رہتا ہوں ۔ وہاں پر مخلف ڈاکٹروں کے نُسخے آتے ہیں ان نُسخوں میں کئی ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جنکی قیمتیں انتہائی زیادہ ہوتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر مریضوں کو اس قسم کی دوائیاں بلا ضرورت لکھواتے ہیں کیونکہ اسکے عوض وہ دواساز کمپنیوںسے مختلف قسم کی ناجائز مراعات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے اس قسم کے رویوں کا دو طریقوں سے علاج کیا جا سکتا ہے ایک دین سے اور دوسرا قانون سے۔ بد قسمتی سے دین کو ہم نے چھوڑا ہے ۔اور اگر ہم مسلمان ہیں تو برائے نام اور وراثتی۔ اگر ایک انسان کاصرف اس بات پر یقین ہو کہ اُس نے مرنا ہے اور اللہ کو جواب دہ ہو نا ہے تو میرے خیال میں اُس سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ بڑا گناہ یعنی گناہ کببیرہ سے پہلے وہ 100 دفعہ سوچے گا، مگر بد قسمتی سے اُس دین کو جس کو غیر مسلموں نے اپنا یا ہوا ہے اُس سے مُستفید ہو رہے ہیں اور ہم نے اس دین کے ساتھ برائے نام منسلک ہیں۔ دوسرا اس قسم کے مسائل علاج قانون سے کیا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے اسکانفا ذ صرف غریب کے لئے ہے ، امیر کے لئے کوئی قانون نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرا ت اس میںلو پ ہول نکالتے ہیں اور ناجائز کمائی کرتے ہیں۔اکثر دوا ساز کمپنیوں کی طر ف سے ڈا کٹر حضرات کو گا ڑیاں دی جاتی ہیں انکو بیرون ملک سیر و سیاحت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اُنکو عمرے اور حج کروائے جاتے ہیں ۔ اُنکی بچوں کی سکولوں اور کا لجوں کی فیسیس دی جاتی ہیں ۔ انکے لئے پلاٹ خریدے جاتے ہیں انکی کو ٹیاں دواساز کمپنیوں کی طر ف سے بنائی جاتی ہیں ۔ انکے کلینکس کیلئے فر نیچرز اور دوسری چیزیں خریدی جا تی ہیں۔اور یہ سب کچھ اسلئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کے کرتوتوں سے ڈاکٹر حضرات اور دواساز کمپنبیاں دونوں نا جائز طریقے سے اپنا پیٹ دو زخ کی آگ سے بھرتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے اپنے نر سنگ ہوم کھولے ہوئے ہیں ، جس میں وہ مریضوں کو ایڈ مٹ کرتے ہیں اور یوں ہسپتال کی جگہ ان نر سنگ ہومز اور میڈیکل سنٹرز میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک والد نے اپنے لخت جگر ہسپتال میں دا خل کر وایا ۔ ڈا کٹر نے بچے کو اتنے مہنگے انجکشن لکھوائے کہ والد نے جمع پو نجی ختم ہو نے کے بعد لخت جگر کی جان بچانے کےلئے جانور بیچنا شروع کئے۔اگر ہم غو ر کر لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری اور حکمت کا شعبہ جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے بعض ڈا کٹر حضرات نے اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں اور عبادت کے بجائے اس پیشے سے صرف لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ میں سٹیلائٹ ٹاﺅن میں واقع ایک ماہر چشم اور ہو لی فیملی ہسپتال کے ایک پروفیسر کے پا س چیک کر نے گیا ۔ایک ہزار روپے فیس دینے کے بعد ڈا کٹر صا حب نے میری آنکھوں کا معائنہ کیا ۔ اور دو ہزار مزید فیس ایک اور ٹسٹ کرنے کی لے لی۔پر و فیسر کے مطابق میرے آنکھوں میں سفید اور کالا مو تیا دونوں بن رہے تھے ´۔ میں نے ڈاکٹر صا حب سے نظر چیک کر نے کو کہا ´مو صوف نے میری نظر چیک کی اور عینک بنانے کا کہا۔میں نے نزدیک شفاءآپٹیکل میں عینک بنوانے کا آرڈر دیا ۔ دو دن بعد جب عینک پہن کے چیک کرنے لگا تواُن میں کچھ نظر نہیں آر ہا تھا۔میں ایک اور پر و فیسر اور ما ہر چشم کے پا س چلا گیا اور اس سے استد عا کی کہ وہ میری آنکھوں کا پو را طبی معائنہ کر لیں۔اُنہوں نے کا فی معائنے اور تشخیص کے بعد کہا کہ آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں البتہ نظر میں تھو ڑی سی تبدیلی آ رہی ہے ۔میں نے پو چھا کیا میری آنکھوں میں سفید یا کالا مو تیا بن رہا ہے ، ڈا کٹر نے کہا اللہ کے فضل سے ایسی کوئی بات نہیں۔ اُنہوں نے میری نظر چیک کی اور اُسی نُسخے کے مطابق عینک تیا ر ہوئی اور اب اللہ کے فضل وکرم سے میری دور اور نزدیک کی دونوں نظر ٹھیک ہے۔ اکثر زنانہ مریضوں کو بچے کے پیدائش کے دوران آپریشن کی بھی ضروت نہیں ہو تی مگر قصائی ڈاکٹر اُنکا آپریشن بغیر کسی ضرورت کے کر واتے ہیں۔ پنڈی میں ایک ای این ٹی سپیشلسٹ کو جانتا ہوں جو بھی مریض اُس کے پاس جاتا ہے وہ ۵۹ فیصد مریضوں کا گلے یا ناک کا آپریشن بلا ضرورت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ڈا کٹر چھوٹا ما فیا نہیں بلکہ بڑے بڑے اژدھے اور سانپ ہیں جو غریب وگوں کو نگل رہا ہے۔

بہار تا لندن ۔۔ مودی ان ٹربل !

asghar-ali

آٹھ نومبر کو بہار کے انتخابی تنائج آئے ۔ لگتا ہے کہ مودی کے خلاف مکا فات عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔ موصوف کا زوال اس تیزی سے شروع ہوا ہے جس کی توقع چند روز پہلے تک بھی کسی کو نہیں تھی ۔ایک جانب بہار سے BJP کے ارکان لوک سبھا ” حکم دیو نورائن “ اور ” بھولا سنگھ “ نے مودی اور RSS چیف ” موہن بھاگو “ ت کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی تو دوسری طرف BJP کی سینئر قیادت یعنی ” لعل کرشن ایڈوانی “ ، ” ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی “ ، ” یشونت سنہا “ اور ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ” شانتا کمار “ نے باقاعدہ مشترکہ بیان جاری کرتے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ BJP نے دہلی کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اسی وجہ سے اسے بہار میں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فتح کا سہرا تو مودی اور امت شاہ اپنے سر باندھ لیتے ہیں اور شرمناک ہار کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی ایک یا دو افراد ذمہ دار نہیں بلکہ یہ ہار پوری BJP قیادت کی ہے اور اس ہار کے ذمہ دار مودی اور امت شاہ خود ہی شکست کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھ گئے ہیں حالانکہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کے تحت اس صورتحال کے ذمہ دار خود جائزہ لینے یا تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔
بہار کے لوک سبھا حلقے بیگو سرائے سے رکن لوک سبھا ” بھولا سنگھ “ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ” مودی نے وزارت عظمیٰ کے منصب کی توہین کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک جانب سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں پر تنقید کر کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھارت کی داخلی سیاست میں انتخابی مُدّا بنا کر خوامخواہ سفارتی حوالے سے بھارت کو خفت کا سامنا کرایا اور مسلمانان ہند کو اجتماعی طور پر BJP کے خلاف کر دیا جبکہ بہار سے BJP کے رکن ” حکم دیو نارائن “ نے اس ہار کے لئے RSS کے چیف موہن بھاگوت کے اس بیان کو ذمہ دار ٹھہرایا جس میں موصوف نے بہار الیکشن سے عین پہلے نچلی ذات کے ہندوﺅں کو حاصل نوکریوں اور اسمبلیوں میں مخصوص کوٹہ آئینی طور پر ختم کرنے کی بات کی جس سے اچھوت ہندو BJP کے خلاف ہو گئے ۔
ممتاز فلمی ادارکار اور BJP کے رہنما شتر و گھن سنہا المعروف ” بہاری بابو “ اور BJP کے مرکزی جنرل سیکرٹری ” کیلاس وجے ورگی “ نے تو ایک دوسرے کو کتے سے تشبیہ دے دی ۔ اس کی پہل کیلاش وجے ورگی نے کی جن کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے ۔ انہوں نے شترو گھن سنہا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ” گاڑی کے نیچے چلنے والا کتا یہ سمجھتا ہے کہ گاڑی اس کے دم سے چل رہی ہے “ ۔ جواب میں شترو گھن سنہا نے ٹوئیٹ کیا کہ ” ہاتھی جائے بہار ۔۔کتے بھونکیں ہزار “ ۔ یوں اس جنونی پارٹی کے رہنماﺅں میں جوتیوں میں دال بانٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بیرونی محاذ پر نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں بہار میں شکست کے لئے پوری طرح مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ اقلیتوں اور دیگر پسماند ہ طبقات کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے سر پرست ہیں ۔ اسی طرح برطانوی اخبارات ” دی گارڈین “ ، ” ڈیلی ٹیلی گراف “ وغیرہ نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بارہ نومبر سے شروع ہونے والا مودی کا دورہ لندن بہار کی ہار سے بری طرح متاثر ہو گا اور بھارت کی نام نہاد ترقی کے دعوے اور مودی کی کرشماتی قیادت کا امیج گہنا کر رہ جائے گا ۔
عام مبصرین نے بھی کہا ہے کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی غیر انسانی پالیسیوں کی وجہ سے قانون فطرت ان کے خلاف حرکت میں آ چکا ہے اور ا ن کے حوالے سے مکا فات عمل کا آغاز ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گرد گھیرہ تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کے نتائج نہ صرف مودی کے لئے بھیانک ثابت ہوں گے اور دورہ برطانیہ میں ان کے خلاف سخت احتجاج ہو گا بلکہ مجموعی طور پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہو گی ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں نے اپنی پنشن کے حوالے سے ایوارڈ واپسی کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اسطرح اس امر کا حقیقی خدشہ ہے کہ انڈین آرمی کا مورال بھی متاثر ہو گا ۔ یوں مودی کے اچھے دن غالباً گزر چکے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چیئرمین سینیٹ کی توہین

Azam-Khanسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے دئیے جانے والے اردو زبان کے حق میں تاریخی فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر کا یہ عالم ہے کہ جس دفتر میں جائیں وہاں پہ کلرک سے لیکر آفسر اعلیٰ تک مقتدرہ قومی زبان کی شائع کردہ کتاب ” دفتری اردو“کے مطالعے میں غلط دکھائی دیتے ہیں اور ٹائپسٹ و کمپیوٹر حضرات اردو تختہ پہ تختہ مشق دکھائی دیتے ہیں اور ہو ں بھی کیوں نہ کہ حکم سب سے بڑی عدالت کا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ تمام تر عدالتی کارروائی اور سرکاری دفتری کارروائی اردو زبان میں ہونی چاہیے ۔ اردو زبان کے ساتھ برصغیر میں سوتیلی والا سلوک اس وقت شروع ہوا تھا جب انگریز بہادر نے مسلمان حکومت کا بسترا گول کرکے یہاں پر اپنے راج کا جھنڈا گاڑا چونکہ مسلمان شکست خوردہ تھے اس لئے ان کی زبان میں بات کرتے ہوئے انگریز بہادر اپنی تضحیک محسوس کیا کرتے اس لئے اردو کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئے انگریزی زبان کی گڈی چڑھائی گئی ، جگہ جگہ فروغ انگریزی زبان کے سکول کھولے گئے جسے اس وقت کے شرفاءفرنگی سکول سمجھتے تھے اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم دلوانا معیوب تصور کرتے تھے اس پیدا ہونے والے حلا ءکا فائدہ بنیاءجی نے اٹھایا اور اس نے انگریز کے ساتھ اپنی قربت کو بڑھانا شروع کردیا ۔ آزادی سے پہلے برصغیر پاک و ہند کی سرکاری زبان اردو ہی تھی جسے اردو معلیٰ کہا جاتا تھا مگر جب یہ معتوب ٹھہری تو پھر آہستہ آہستہ ، رفتہ رفتہ پس منظر میں جاتی گئی ۔ قیام پاکستان کے بعد اصولاً تو سرکاری زبان ،دفتری زبان ، عدالتی زبان اردوہونا چاہیے تھی مگر انگریزوں کی صحبت میں اپنے ایام گزارنے والے سیاستدانوں اور افسر شاہی نے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس طرح کیا کہ سرکاری زبان کو ٹھہری انگریزی اور قومی زبان کا درجہ اردو کو دے دیا گیا یہ بات کرتے ہوئے مجھے سکھوں کا لطیفہ بھی یاد آرہا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل امرتسر میں ایک خالصہ کالج بنایا گیا جہاں سکھوں کو ان کی مذہبی و دنیاوی تعلیم دینے کا اختتام کیا گیا تھا اس پر لاہور جہاں سکھوں کی کثیر آبادی قیام پذیر تھی اس فیصلہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے شور مچایا کہ ہمیں بھی خالصہ کالج کا حصہ چاہیے اس پر سردار صاحبان کے گورو سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ کیا کہ کالج تو امرتسر میں ہی رہے گا البتہ لاہور کے سکھوں کیلئے لاہور میں اس کالج کا ہاسٹل بنا دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد یہ طے کیا گیا کہ 25برس کے اندر اندر اردو سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرلے گی مگر یہ 25برس کبھی پورے ہونے میں نہ آئے ۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایک آزاد ریاست جموں وکشمیر کی حکومت نے سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ریاست کی سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان اردو قرار دے دی گئی چنانچہ آج وہاں پر بڑی کامیابی کے ساتھ یہ کام ہورہا ہے ۔ اردو زبان کے ساتھ ہمارے حکمران کس قدر مخلص ہیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں اردو زبان کے فروغ کیلئے بنائے جانے والے قومی ادارے کے دفتر کے باہر جو بورڈ نصب کیا گیا ہے وہ انگریزی زبان میں تحریر ہے اور اس پر جو تحریر درج ہے وہ کچھ یوں ہے ” نیشنل لینگویج اینڈ پروموشن اتھارٹی“ جب فروغ قومی زبان کا ادارہ انگریزی استعمال کرے گا تو ایک عام آدمی بھلا اردو سیکھ کر اپنا وقت کیوں ضائع کرے گا۔ مگر گزشتہ سے پیوستہ روز ایک اور عجیب واقعہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی چیئرمین سینٹ کی درخواست پر وہاں تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنا خطاب اردو زبان میں کیا یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ میزبان رضا ربانی صاحب جوٹھیٹ لاہوری کلچر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی قابلیت کا اظہار انگریزی زبان میں تقریر کرکے کیا۔ چیئرمین سینیٹ کو انگریزی زبان سے شاید لگاﺅ زیادہ ہے اسی لئے جب جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انہوں نے سینٹ کے ممبر کے طورپر حلف لینا تھا تو پہلے وہ احتجاج کرتے رہے کہ میں حلف نہیں لوں گا جب سب ارکان نے حلف اٹھا لیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اب اپنا حلف انگریزی زبان میں اٹھاﺅں گا۔ اکبر آلہ آبادی نے بہت عرصہ پہلے شاید ان جیسے لوگوں کیلئے کہاتھا۔
سنا ہے بہشت بریں میں زباں ہے عرب کی
اور ہم نے تو سیکھی ہے انگلش غضب کی
اپنی زبان کو نظر انداز کرکے کسی دوسری زبان کو فوقیت دینا یا اس زبان میں بات کرنااحساس کمتری کی علامت ہے ۔ چیئرمین سینٹ کو چاہیے تھا کہ وہ معزز مہمان کے احترام میں اپنی قومی زبان میں ہی بات کرتے تو اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کا پہلو بھی نہ نکلتا اور شاید میرے اس کالم کے لکھنے کا جواز بھی نہ بنتا۔

Google Analytics Alternative