کالم

ٹامک ٹوئیاں

Darwesh-sherazi

سر راہ ملتے ہی بیتابانہ انداز میں وہ جھٹ سے بولے ,,یہ آپ ہر وقت لکھتے رہتے ہیں اسکا فائدہ کیا ہے؟ کیا ایسا کرنے سے آپ کی انگلیاں نہیں گھستی ؟،،ہم نے کہا ’’آپ ہر وقت نوٹ گنتے رہتے ہیں کیا ایسا کرنے سے آپ کی انگلیاں نہیں دکھتی ؟،،کہنے لگے یہ کیا ’’میں نے مزاح کیا اور آپ سنجیدہ ہوگئے ؟،،ہم نے عرض کیا ’’آپ نے سوال کیا ہم نے اسکا جواب دیا اسمیں رنجیدہ ہونے کی کیا بات ہے ؟،،’’آپ لکھنے والوں کا دل بہت چھوٹا ہوتا ہے ،زرہ زرہ کو آپ محسوس کرتے ہیں ،احساس کی یہ بیماری آپ کا کیا حال کردیگی کیا آپ کو اسکا احساس ہے؟،،احساس کا جزبہ ہمارے دل میں موجود ہے ،اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ ہم جو محسوس کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں،،ہم نے کہا ’’ویسے احساس کسی مرض کا نام نہیں ہے ،ہم جس مرض میں مبتلا ہیں وہ حساسیت ہے اور آپ ہوس کے مریض ہیں،ہے نا؟،،کہنے لگے ’’کیا آپ محبت کی مرض میں مبتلا ہیں ؟ایسی بات توکبھی میں نے آپ میں محسوس نہیں کی ؟یہ آپ کا کہتے ہیں؟َ ویسے آپکی محبوبہ کا کا نام ہے ؟اور وہ کونسی بلا ہے؟’’شائد آپ کانوں کے بھی کچھ بھاری ہوگئے ہیں،، ہم نے زرا اونچی وآواز میں ان کی کان میں کہا’’ہم نے احساس کی بات کی ہے،رھ گئی بات محبت کی تو یہ بھی کوئی بیماری نہیں ہے ،یہ بھی ایک جزبہ ہے جس سے آپ عاری ہیں ، کیا خیال ہے آپ کا ؟،،’’حساسیت کس مصیبت کا نام ہے؟یہ نام تو پہلی مرتبہ میں نے سنا ہے،،انہونے دشمن کی نظر سے ہمیں دیکھتے ہوئے کہا ۔آپ اسے الرجی کا نام دیتے ہیں ،جیسے ہمیں گن گن کر نوٹ جمع کرنے والوں سے الرجی ہے اور آپ کو تہی دامن غریبوں سے الرجی ہے ،بات بیٹھ گئی آپ کی دماغ میں ،،ہم نے انہیں جواب دینے کی کو شش کرتے ہوئے کہا ۔’’آپ کی نظروں میں اتنا گیا گزرا ہوں ،مجھے تو غریبوں سے بڑی ہمدردی ہے ،کیونکہ میرے پاس جو کچھ بھی دولت ہے وہ غریبوں کی بدولت ہے ،،’’بلکل آپ سچ فرمارہے ہیں ،کسی نے سچ کہا ہے اگر غریب نہ ہوتے تو سر مایہ دار کبھی جنم نہ لے سکتا ،،’’جی ہاں !میں کوئی گیا گزرا رتھوڑا ہوں ، مجھے اس کا احساس ہے ،واقعی غریب اگر نہ ہوتے توہمارے کارخانوں کی چمنیاں کون صاف کرتا ؟الفاظ کی قلابازیاں کھانا اور بات کا بتنگڑبنانا تو ویسے آپ لوگوں کی عادت ہے ،وہ ہمارے کارخانوں کی چمنیاں صاف کر تے ہیں اورہم انکا پیٹ بھرتے ہیں ‘حساب برابر ہے‘ تالی ہمیشہ دونوں ہاتوں سے بجتی ہے ‘سرمایہ دار اور مزدور کا رشتہ ازل سے ہے اور یہ رشتہ قائم رہیگا ‘یہ خدائی تقسیم ہے میں اور آپ کون ہوتے ہیں اس تقسیم میں مداخلت کرنے والے؟ہم اس تقسیم پر راضی ہیں اور آپ کو بھی اس پر راضی ہوجا نا چائیے‘سرمایہ دار اور مزدور کا تنازعہ آپ جیسے غلط نظریات کے حامل قلم کاروں کی اختراع اور یہ ذہنی عیاشی کے زمرے میں آتا ہے،،انہونے لمبی تقریر کر تے ہوئے کھا اس دوران ان کے منہ سے جاگ وغیرہ بھی خارج ہورہے تھے۔آپ کے ارشادات بجا ہیں اور غصہ بے جاہے ، آپ ہی کی بات حرف آخر ہے کیونکہ آپ کی ذات ایک اتھارٹی ہے اور یہ سچ ہے کہ جو کسی کا قسمت ہوتا ہے وہ اسے نصیب ہوتا ہے ، آپ کی قسمت میں مال و دولت کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری ہے اور غریبوں کے نصیب میں آپ کیلئے مال و دولت جمع کرنے کی ذمہ داری ہے ، آپ اور مذدور ایک دوسرے کیلئے لازم اور ملزوم ہیں بلکل اس طرح جس طرح میاں اور بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ،بیوی کا نام سنتے ہی ان کا رنگ کچھ لال پیلا ہونے لگا اور گول گول آنکھوں کے ساتھ ہمیں گھورتے ہوئے کہنے یہ کس موقع پر آپنے ہمیں بیگم کی یاد دلا دی ہے ، پٹڑی سے اتر کر بات کرنا آپ کی عادت ہے بات کو آپ ایک دم مذدور سے بیگم تک لے گئے ہیں یہ جو کچھ ہم کرتے ہیں یہ بیگم ہی کیلئے ہوتا ہے ، ہماری دماغی صلاحیت اور مذدوروں کی محنت مل کر جو نتیجہ نکالتے ہیں اس کا صلہ بیگم کا ہی ہوتا ہے ،اور یہ کھتے ہوئے وہ رخصت ہونے لگے کہ ہم تو گھرچلے بیگم انتظار کر رہی ہوگی اور آپ جانے اور آپ کے عوام ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان؟

sadar-adeel

سعودی عرب نے 34 ممالک پر مشتمل ایک ایسے نئے اتحاد کی بات کی ہے جن میں سے اکثر موجودہ65 سے زیادہ ممالک کے اتحاد کاحصہ ہیں جو امریکہ نے داعش کے خلاف بنایا ہے۔ بہرحال حکومت پاکستان ،ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کو بھی یہ سن کوحیرانی ہوئی ہے کہ پاکستان بھی کی نئے اتحاد کا حصہ ہے۔اگر خبربین الاقوامی سطح سے ہوتی ہوئی پاکستان پہنچی تو کچھ نہ کچھ صداقت ہوگی۔ پاکستان میں اکثر سیاسی و مذہبی گھرانوں میںیہ بات زیر بحث ہے کہ پاکستان میں ر ہتے ہوئے ہمیں اس خبر کا پتہ نہ چل سکا۔ بہرحال یہ خبر تو ہے ہی اس خبر کا تعلق ہماری خارجہ پالیسی سے ہے اور الاماشاء اللہ ہمارے وزیر خارجہ کا وجود ہے ہی نہیں البتہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ خارجہ امور کی کچھ نہ کچھ ذمہ داریوں کو پورا ضرور کررہے ہیں۔ ان کی تعیناتی سے یہ بحث بھی چھڑ گئی تھی کہ فوجی ذہن رکھنے والی ہر شخصیت ریٹائرہونے کے بعدخارجہ امور میں بھی سیاسی فیصلوں کے کرنے کے بجائے فوج کی ذہنیت سے فیصلے کریں گے لیکن حکومت نے انکو تعینات کرکے سب کوقائل کرنے کی کوشش کی کے ان کی تعیناتی سیاسی حکومت نے کی ہے اور فیصلہ جات بھی سیاسی یعنی پاکستان کے مفادات کے عین مطابق ہوں گے لیکن حقائق کیا کہتے ہیں کہ سیاسی تربیت سے محروم شخص حکمت سے بھری سیاست کرسکتاہے؟مثلاً عمران خان کی کیا سیاسی تربیت ہے اور ایک پریشر گروپ سے بڑھ کر ان کی سیاست صحیح معنوں میں ایک سیاسی شخص کی آئینہ دار ہے اس طرح بلاول بھٹو کی طرز سیاست حقیقی معنی میں سیاست کے مفہوم سے واقف ہے اس لئے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ تو پھر ایک مستقل وزیرخارجہ کے بغیر جوکہ سیاسی بھی نہ ہو تو پاکستان کے سیاستدان اور مذہبی حلقہ سوچ و بچارمیں ہی رہے گا۔سعودی عرب کے اس اقدام میں پاکستان کے نام کیسے آگیا ۔کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اس مقام کی زیارت کرکے جس کودنیا میں اسلام کا مرکز اور عرب کے اندر سیاسی فیصلوں کا سرپرست سمجھاجاتا ہے ۔ جنرل راحیل کو اطمینان تو ضرور ہوا ہوگا لیکن سعودی فرمانروا سے ملاقات کی داستان ظاہر ہے ۔خارجہ پالیسی کے اصولوں کے تحت خفیہ ہی رہنی تھی لیکن اس خبر کے آنے کے بعد دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔اگرہمارا مستقل طورپر سیاسی خارجہ پالیسی کا نمائندہ کوئی نہیں تودیکھنے سے یوں ہی لگے گا کہ حقیقت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی سیاستدان نہیں فوج کے ذمے ہے ۔ یہ خیال پیش کرنے والوں کی تعداد پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہے ہوسکتا ہے کہ پاکستان اتحاد کا حصہ نہ اور محض یہ شرارت بھی پاکستان کے مستقل وزیر خارجہ کہ نہ ہونے کی طرف فوج پر انگلیاں اٹھنے کا سبب ہوں اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی افواج کو مضبوط ادارہ تصور کرتے ہوئے سعودی عرب کو فوج کی حمایت درکارہو۔اگر پاکستان اس اتحاد کا حصہ بن جانا چاہتا ہے تو سیاسی و مذہبی حلقوں کوفوج پر نہیں بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ آج تک مستقل وزیر خارجہ کیوں نہیں متعین ہوا۔ پاکستان کے سامنے تاریخ کے اوراق بھی موجود ہیں کہ امریکہ کا اتحادی ہوکر ہم نے کثیر تعداد میں اپنے لوگ شہید ہوتے ہوئے دیکھے اور آج دنیا میں داعش کے خلاف پاکستان کا چاہے فوجی سطح پر ہو یا خفیہ معلومات دینے کے حوالے سے ہو یا جہاد کے نام پر نوجوان نسل کو اس اتحاد کا حصہ بننا ہے ان تینوں صورتوں میں پاکستان کی عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔داعش کی یہ کارروائیاں محض علاقوں کے حصول کیلئے نہیں بلکہ ایک ایسا سبب پیدا کرتے جارہی ہیں جس میں شیعہ سنی فسادات لازمی و ملزوم نتیجہ ہیں ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت کے حوالے سے کتنی دور اندیش ہے اس کا گمان شاید سول و عسکری قیادت کواس جنگ میں کودنے کے بعد ہی ہوگا۔اگر آج امریکہ سعودی عرب کے اس نئے اتحاد کو خیر مقدم کررہاہے تو اس کی خوشی پاکستان کی عوام کیلئے موت کا باعث نہ ہوجائے اس سوال کا جواب کیا ہم پھراس کو تجربے کے نام پر ٹال دیں گے۔ ان سوالات کی روشنی میں ہمیں سیاسی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کے نکات پر غورکرنا ہوگا۔ جب بھی نوعیت کی مدد ہم داعش کے خلاف دیتے جارہے اس پر چیک کون رکھے گا یہ سوال میرا نہیں عوام کا ہوگا؟ لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان مستقل بنیادوں پر وزیر خارجہ تعینات کرے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کوبدلتے ہوئے حالات کے مطابق متعین کرے تاکہ جولوگ اس بات کا غم کھائے ہوئے ہیں کہ سعودی عرب کے بنائے گے34 ممالک والے اتحاد میں پاکستان کا نام کس نے دیا ۔ اگرجلدا زجلد ایسا نہیں ہوا تو سفارتی سطح پر یہ ہماری بہت بڑی ناکامی ہوگی ۔ نیز اتحادکا حصہ بننے سے پہلے حکومت کو اس کے اعدادوشمار بھی نہ صر ف قوم کے سامنے رکھنا ہوں گے بلکہ پارلیمنٹ سے اس کی منظوری بھی ضروری ہوگی

بینش پرویز۔۔۔بہادری کی ایک مثال

khalid

سانحہ پشاور کو ایک سال بیت گیا۔ کل آرمی پبلک سکول کی یاد میں ملک بھر میں قومی ، صوبائی و عوامی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ سفاک درندوں کے ہاتھوں معصوموں کے خون کی ہولی پر دل درد سے لبریز تو تھا ہی، مگر اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ اس قوم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا۔ گزشتہ کچھ حالات و واقعات سے لگ رہا تھا کہ شاید ہم آرمی پبلک سکول کے شہداء کو بھول چکے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد جس عزم کے ساتھ پوری قوم متحد ہوئی اور فورسز نے دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے کمر باندھی تھی، لگ رہا تھا کہ اس عزم میں کہیں کوئی جھول آ رہی ہے، کہیں کوئی رکاوٹ آ رہی ہے۔ مگر کل جس طرح قوم کے ان معصوم شہداء کو یاد کیا گیا اس نے ایسے تمام تاثرات کو زائل کر دیا۔یقین ہو گیا کہ قوم اپنے ننھے شہیدوں کو نہیں بھولی اور ان شہیدوں کے خون کا قرض چکانے کے لیے آج بھی پرعزم ہے۔آج سانحہ پشاور کے ملزمان کو توکیفرکردار تک پہنچایا جا چکا ہے مگر اپنے باقی بچوں کو ان درندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہمیں اسی عزم کے ساتھ کمربستہ رہنا ہو گا جس عزم کا مظاہرہ گزشتہ برس سانحہ پشاور کے بعد کیا گیا اور اس کا ایک مظاہرہ کل دیکھنے کو ملا۔سانحہ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے کئی استاد بھی شہید ہوئے جن میں سے اکثر نے کمال بہادری کے ساتھ خالی ہاتھوں سے دہشت گردوں کی کلاشنکوفوں کا مقابلہ کیا۔شہید اساتذہ میں سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی شامل تھیں۔ ان کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہوجاتیں لیکن انہوں نے اپنے سکول کے بچوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اورکمال جرأت و ہمت سے دہشت گردوں کو للکارا، بزدل دہشت گردوں نے ان کو شہید کردیا۔شہید اساتذہ میں ایک بینش پرویز بھی تھیں جوپانچویں کلاس کے بچوں کو پڑھانے پر مامور تھیں۔انہوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا، افسوس ہے کہ اس کا ذکر کم ہی کیا گیا ہے۔ وہ فوج کے ایک میجر کی اہلیہ اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ جب دہشت گرد ان کی کلاس میں داخل ہوئے اور انہوں نے ڈیسکوں کے نیچے چھپے بچوں کو مارنا شروع کیا تو بینش سے برداشت نہ ہوا اور وہ بے اختیار ان دہشت گردوں پر جھپٹ پڑیں۔ ایک کمزور اورنہتی خاتون استاد کی یہ جرأت اور ہمت ننگِ انسانیت دہشت گردوں کو پسند نہ آئی اور انہوں نے بینش پرویز کو قابوکرکیااور زندہ جلادیا۔ بینش پرویز کی بہادری کی مثال ہمیشہ اس قوم کی راہبر رہے گی۔ آرمی پبلک اسکول کے ایک استاد سعید خان بھی دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے۔
سانحہ پشاور کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں دہشت گردوں کی سرکوبی کا جو لائحہ عمل اختیار کیا تھاہم اس پر عملدرآمد میں کہاں تک کامیاب ہوئے۔اگر ہم نیشنل ایکشن پلان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کریں تو ان میں ایک طالبان اور ان جیسی بڑی دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کرنا تھا اور دوسرے ہماری صفوں میں موجود ان کے حامیوں کا قلع قمع۔افواج پاکستان بے جگری سے لڑیں اور طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے میں تو ہم اس ایک سال میں بہت حد تک کامیاب ہو چکے مگر ان دہشت گردوں کے حامی آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ ہم سے کچھ ڈھکے چھپے بھی نہیں۔ اگر جان کی امان پاؤں تو صرف ایک مثال دینا چاہوں گا، مولانا عبدالعزیز۔ جس نے سانحہ پشاوراور اس میں ملوث درندوں کی مذمت تک کرنے سے انکار کر دیا تھا، دہشت گردوں کی اس سے بڑی اور کھلی حمایت کیا ہو سکتی ہے؟یہ وہی مولانا عبدالعزیز ہے جس نے لال مسجدآپریشن کے وقت کئی معصوموں کو یرغمال بنا کر ان کی جانیں لیں اور جب اپنی جان دینے کی بار آئی تو ’’برقع‘‘ پہن کر فرار ہوئے۔ ظاہر ہے جن بزدلوں کی یہ لوگ حمایت کرتے ہیں تو یہ خود کیسے بہادر ہو سکتے ہیں۔یہاں میں اس قوم کی بیٹی، اے پی ایس کی ٹیچر بینش پرویز کی بہادری کی مثال تو دینا چاہتا ہوں مگر میں ان جیسے بزدلوں کے ساتھ اس عظیم خاتون کا موازنہ ہی نہیں کرنا چاہتا۔مفادات کی گندگی کے ڈھیر میں رینگنے والے ان کیڑوں کا قوم کی اس بیٹی کے ساتھ نام لینا ہی میں گناہ خیال کرتا ہوں۔خیبرپختونخوا سے لے کر کراچی تک جاری آپریشن میں ہم نے بے بہا کامیابیاں سمیٹی ہیں مگر ان جیسے سنپولیے آج بھی ہماری آستینوں میں موجود ہیں اور ہم کہ سدا سے مصلحت کے مارے، اب بھی مصلحت پسندی ہی میں پڑے ہیں۔ اے پی ایس کے شہیدوں کا خون ہم پر قرض ہے، بہتر ہے کہ ہم مصلحت پسندی سے اپنے آپ کو نجات دلائیں اور ان کے خون کا قرض یہیں اتار جائیں، ایسا نہ ہو کہ روزِ محشر ان معصوم شہیدوں کے ننھے ہاتھ ہمارے گریبان پر ہوں۔

سانحہ اے پی ایس اور سندھ حکومت کی قرارداد

zia

پاکستان کے ہر دلعزیز صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ حکومت گزشتہ سات سال سے قائم ہے گزشتہ وفاقی حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی تھی لیکن اتنے بڑے مینڈیٹ کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں یکسر ناکام رہی جسکے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت وفاق میں قائم ہوگئی۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی بڑھتی وارداتوں کے باعث عوامی دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر کراچی میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا اور کراچی آپریشن کا کپتان وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو وزیراعظم نواز شریف نے مقرر کیا ۔ سالہا سال کی ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور کرپشن کے ناسور پر رینجرز نے دن رات محنت کرکے قابو پایا اور کراچی کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ، یہی حقائق ہیں کوئی مانے یا نہ مانے لیکن کراچی میں امن قائم ہوا اوردیرپا امن کے لئے جاری اقدامات کا تسلسل ناگزیر ہے ورنہ سارے کا سارا کیادھرا ضائع ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام اقدامات کا ثمر ازسرنو حاصل کیاجاسکتا ہے لیکن اگر عوام کا بھروسہ ختم ہو جائے تو اسکو واپس لانا مشکل ہوتا ہے ۔ اگر عوام کا موجودہ نظام سے اعتماد اٹھ گیا تو مشکل ہو جائے گی۔ اس لئے ایسی صورتحال کو پیدا نہیں کرنا چاہیے لیکن کراچی آپریشن کے کپتان جو کہ ایک منتخب حکومت کے وزیراعلیٰ ہیں نے ایسی ہی صورتحال اس وقت پیدا کی جب کراچی میں عوام کو سکھ کا سانس دینے والے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو لٹکایا گیا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی سے ایک قرارداد پاس کرائی جس کے تحت کراچی میں رینجرز صرف ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان اور فرقہ وارانہ کلنگ سے متعلق اختیارات حاصل ہونگے۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت یا سہولت فراہم کرنے کے شک کی بنیاد پر کسی شخص حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جائے گا نظر بندی کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری اجازت لینا ہوگی۔ تمام شواہد موجود ہونے کے باوجودوزیراعلیٰ سندھ کا اختیارہوگا کہ وہ نظر بندی کی تجویز کو منظور یا مسترد کردیں ۔ چیف سیکرٹری سندھ کی اجازت کے بغیر رینجرز سرکاری ادارے پرچھاپہ نہیں مارسکتی۔ پہلی شق کے مطابق رینجرز سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی معاونت بھی نہیں کرسکتی۔ اگر سندھ حکومت کی اس قرارداد کی صاف الفاظ میں تشریح کی جائے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ جمہوری نمائندے اس پاک وطن کے ساتھ جو مرضی کھلواڑ کریں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جمہوری حکومت کو غیرجانبدار احتسابی اداروں کی ضرورت نہیں۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور،کرپٹ افراد اگر جمہوری نمائندوں کے دست و بازو بن جائیں تو وہ مکمل محفوظ ہو جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ کی مرضی کے ساتھ انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی پولیس کو جانبدار بنا دیتی ہے اس لئے جمہوری چھتری تلے جرائم پیشہ افراد کو پولیس سے پہلے ہی تحفظ حاصل ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے عام آدمی جو کہ غریب ہو وہ ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا اور حق حلال کی کمائی کرنے والے کبھی بھی اپنی دولت داؤ پر نہیں لگاتے ماسوائے ان لوگوں کے جو کہ خاندانی طورپر اچھی پوزیشن میں ہیں اور عوام سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں کمی کی قرارداد منظور کرکے کراچی کے عوام کو حکمرانوں پر عدم اطمینان اورموجودہ نظام پر سے اعتماد اٹھنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جب بطور وفاقی وزیر داخلہ چارج سنبھالا تو کچھ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب ملک میں بہتری آئے گی اور ملک سے لاقانونیت کا راج ختم ہوگا ۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات اور پولیس کی سرزنش نے اس امید کو تقویت دی لیکن سندھ حکومت کے اقدام نے ثابت کردیا کہ وفاقی وزیر داخلہ صرف اور صرف اسلام آباد کے وزیر داخلہ ہیں ان کا سندھ میں کوئی اختیار نہیں ہم اس پہلوکو آئینی بیان کریںیا سادہ الفاظ میں لکھیں لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد آئین و قانون کے مطابق امن و امان کے حوالے سے وفاق کے اختیارات انتہائی محدود ہوگئے ہیں اور جو اختیارات وفاق کے پاس موجود ہیں ۔وہ سیاسی مصلحت کے پیش نظر استعمال نہیں کیے جارہے تو کیا وفاق بھی سندھ حکومت کی قرارداد سے خوش ہے اگر ایسا ہے تو پھر یقیناً یہ ملک آئینی و سیاسی بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر حکومت سندھ سانحہ اے پی ایس والے دن ہی رینجرز کے اختیارات میں کمی کرے تو یہ اقدام کن عناصرکیلئے حوصلہ افزا ہوگا ۔ ڈاکٹرعاصم کے بعد متعدد وزراء سمیت سیاسی شخصیات پربھی ہاتھ ڈالاجاتا تھا لیکن رینجرز کے ساتھ باندھنا بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کو ممکن بھی بنانا تھا ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہوتی اس کا اندازہ عوام خود لگائے۔ اب اگر بالا تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو گہری سوچ رکھنے والے ملک میںآئینی و سیاسی بحران میں اضافہ ضرور دیکھ رہے ہونگے۔سندھ میں اس وقت لاقانونیت کی جوتلوار لٹک رہی ہے اگر سیاسی و عسکری قیادت نے مل بیٹھ کر اس مسئلے کو غیرجانبداری سے حل نہ کیا تو مسائل بڑھیں گے ۔ جمہوریت ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے اور عوام کو حقوق دلانے کیلئے ہوتی ہے لیکن سندھ حکومت کے اقدام کے تمام جمہوری فوائد پر سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے اب اس کو کیسے ہونا ہے اس بارے میں سیاسی و عسکری قیادت مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں اور اس معاملے کو طول نہ دیا جائے ورنہ عوام میں مایوسی بڑھے گی۔

کسان بھی لگ گئے لائن میں

yasir-khan

چاچا فضل دین بہت تھوڑے زرعی رقبے کا مالک ہے دوسرے کسانوں کی طرح اس کی کپاس کی فصل بھی اس دفعہ سیلاب کے پانیوں اور بیماریوں کی وجہ سے متاثرہ تھی،وہ ان دنوں بڑا ہی پریشان رہتا ہے کیونکہ اس کی اوسط فی قلعہ بہت ہی کم تھی بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔اس کا اپنا خرچ کردہ روپیہ بھی و اپس آنے کی امید اب کم ہی تھی،بیج،کیڑے مارادویات اور ٹیوب ویل کا مہنگا پا نے لگا نے کے تمام مراحل اس نے بڑی ہی مشکل سے ادھار کی رقم سے پورے کئے تھے،اسے یہ اخراجات پورے کر نے کی خاطر مزید ادھار کی رقم لینا پڑے گی وہ یہ سوچ کر پریشان ہوجاتا،پھر اسے کسی نے بتایا کہ حکومت نے ایک زرعی پیکج کا اعلان کر رکھا ہے جن کسانوں کی فصل سیلاب یا بیماری کی وجہ سے خراب ہوئی ہے انھیں چا ر ہزار سے پانچ ہزار روپیہ فی قلعہ کے حساب سے مالی امداد مل رہی ہے ،چا چا فضل دین نے بھی معلومات حاصل کر کے پٹواریوں کے پاس اپنا نام بھی متاثرہ کسانوں کی لسٹ میں ڈال دیا۔دو ماہ ہو نے کو آئے،چا چا فضل دین اپنے گاؤں سے ہر ہفتہ اپنی رقم کے حصول کی خاطر پٹوار خا نے جاتا ہے مگرپٹواری صاحبان اسے یہ کہ کر واپس بھیج دیتے ہیں کہ تمہارا نمبر ابھی نہیں آیا،حالانکہ اس کے ساتھ کے کئی بڑے کسان ایک بھاری رقم کب کے وصول کر چکے ہیں،اس آخری چکر پر تو اسے ایک نئی بات ہی بتائی گئی کہ تمہارا چیک بن گیا ہے بڑے شہر کے کسی بڑے افسر نے آنا ہے جو سب کسانوں کو چیک تقسیم کرے گا ،بڑی تقریب ہوگی،اخبار ٹی وی والے آئیں گے اور سب کو چیک مل جائیں گے۔چا چا فضل دین اب تو امیدی اور نا امیدی کی سولی پر لٹک رہا تھا کیونکہ اس کے بقول اب تو وہ پٹوار خا نے کے چکر لگا لگا کر تھک چکا ہے اور اب تو اس کی گندم کی بوائی کا وقت بھی ہاتھ سے نکلا جارہا ہے،وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے لائن میں لگ لگ کر اکتا چکا ہے اور اس عمر میں اب مزید لائن میں لگنا اس کے بس کی بات نہیں رہی۔حکومت کی طرف سے کسانوں کو لائن میں لگا کر اس طرح بھیک دینے سے تو بہتر تھا کہ کوئی بہتر زرعی پالیسی سامنے لائی جاتی،زرعی اصلاحات کے نام پر ہر سال کروڑوں روپیہ حکومتی اللوں تللوں پر تو ضائع کر دئے جاتے ہیں مگر کسان تک ان نام نہاد زرعی اصلاحات کے کچھ بھی ثمرات نہیں پہنچ پاتے،نتیجا چا چا فضل دین جیسے غریب کسانوں کی حالت زار جوں کی توں رہتی ہے۔چاہئے تو یہہ تھا حکومت بہتر زرعی اصلاحات لاتی،چھوٹے کسانوں کو بجلی کی مد میں سبسڈی دی جاتی،اگرچہ پانی دستیابی شائد نہری علاقوں کا اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو مگر مہاڑ اور اس جیسے ہارڈ ایریاز کے کسان جہاں ٹیوب ویل کے مہنگے پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہے وہاں سب سے بڑا فصلات پر اٹھنے والا خرچ پانی کا ہی ہے۔اگر بجلی کے فلیٹ ریٹس پر کسانوں کو پانی دستیاب ہو تو ان کیلئے بہت بڑی سہولت ہوگی،چا چا فضل دین کا تعلق بھی اسی ہارڈ ایریا سے ہے،جہاں بجلی کے ریٹس اتنے زیادہ ہیں کہ خدا کی پناہ،ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کہ بلوچستان کے ہارڈ ایریاز کو دی گئی فلیٹ ریٹس کی سہولت پنجاب کے مہاڑ اور ہارڈ ایریاز کو بھی دی جائے،اس کے باوجود حکومت آئے روز نت نائے ہتھکنڈوں سے اس میں روڑے اٹکا رہی ہے۔سستی بجلی کے ساتھ ساتھ کسانوں کو کھاد اور بیچ کی سستے داموں فراہمی شائد ایک بہت بڑا ریلیف ہوتی،مگر کھاد اور بیج ،بوائی کے دنوں میں اس قدر مہنگے کر دئے جا تے ہیں یا مافیاز کی طرف سے ان کی اس قدر خود ساختہ قلت پیدا کر دی جاتی ہے کہ کسان بیچارہ مجبورا انتہائی مہنگے داموں کھاد اور بیچ ان مافیاز سے حاصل کر نے پر مجبور ہوتا ہے۔چونکہ پراؤیٹ سیکٹر کے ان مافیاز اورسٹاکسٹ کیلئے کسی قسم کی کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے اس لئے ان دنوں میں یہ اپنی مرضی کرتے ہیں اور مجبور کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔چلو اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حکومت ایسے حالات میں کسانوں کو نہ تو بجلی کی مد میں کوئی ریلیف دے سکنے کی پوزیشن میں ہے اور نہ کھاد،بیج یا کیڑے مار ادویات کو سستا کر سکتی ہے تو پھر کم از کم ،موجودہ حکمران یہ تو کر سکتے ہیں کہ گندم ،کپاس،چاول جیسی فصلات کے فی من ریٹس تو اتنے مقرر کئے جاسکتے ہیں کہ کسان کی ان فصلات کی بوائی سے لیکر اسے اٹھا نے تک کے اخراجات تو کم از کم اسے واپس مل سکیں تا کہ اسے کچھ نہ کچھ ریلیف تو مل سکے۔اوپر سے کسان پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے تو دوسری طرف اس کی محنت کا پھل اسے مٹی کے مول دیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنے تمام تر پیکجز اور بڑے اعلانات،اشتہارات اور دعووں کے باوجود اس قابل نہیں ہو پارہی کے زرعی پیداوار کے بہتر احداف کا حصول ممکن بنا یا جاسکے ،یا کم از کم تیزی سے کم ہوتے زرعی رقبے اور مزید علاقوں کو زرعی بنا نے میں مکمل طور پر نا کام نظر آرہی ہے۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم بس نصاب کی کتابوں میں ہی پڑھتے آئے ہیں کہ زراعت ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔مگر کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ چا چا فضل دین جیسے غریب چھوٹے کسان جو دن رات ایک کر کے اپنے خون پسینے کی محنت سے ہمارے لئے اجناس اگاتے ہیں ،ہم نے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان کیلئے ایسی سخت زراعت کش پالیسیاں ترتیب دے رکھی ہیں کہ یہ غریب کسان فاقوں پر مجبور ہیں،انھیں نہ تو بجلی کی مد میں کوئی ریلیف مل رہا ہے،نہ کھاد ،بیج اور کیڑے مار ادویات کی مد میں،کیا حکومت کے پاس کسانوں کو بھیک کی خاطر لائن میں لگا نے کے علاوہ اور کوئی پالیسی نہیں ہے۔

قلم کی نوک سماج کی آنکھیں!

syed-rasool-tagovi

آج مشین کا دور ہے اور اس مشین نے انسان کوبھی مشین بنادیا ہے اور وہ مشین کی گراری کی طرح چلتا ہے اور اس نے اتنا اثر اتنا گہرا ہے کہ اس نے انسانوں اور معاشروں سب ہی کو تجارتی رنگ میں رنگ دیا بلکہ محبتیں بھی تجارت ہونے لگیں اور محبتوں کی باتیں کرنے والوں کی اکثریت بھی تاجر بن گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکل گیا ہے کہ ہر فرد انفرادیت پسندی کے نشہ میں مبتلا ہے، جمود کا شکار اور ’’شارٹ کٹ‘‘ کی تلاش میں ہے اور سب ہیملک کو کچھ دے نہیں رہے بلکہ اس سے چھیننے جھپٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ نفسا نفسی یہ ہے کہ جس کے ہاتھ جو لگ جائے بس چھین لو ، چُرا لو یا لُوٹ لواور اس چھینا جھپٹی میں جوکامیاب ہے وہی سکندر ہے ۔اور ہمارے رجعت پسند کہتے ہیں یہی اس کی قسمت ہے جو اسے ملا ہے اور جو محروم ہے وہ صبر کرے اس کو اجر ضرور ملے گا۔اس افرا تفری کے ماحول نے ہر چیز پر اثر ڈالا ہے یہا تک کہ شعر وادب سے وابستہ شاعر اور ادیب جن کا کام معاشرے کوآئینے میں اس کا چہرہ دکھا کر اسکی نوک پلک سنوارنا ہوتا ہے وہ بھی اس کا شکار ہیں زبان دراز ، خوشامدی اور چالاک آگے صفوں میں کھڑے ہیں اور ادب کے نام پر سارا رس چوس رہے ہیں اور صحیح معنوں میں درباری ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور ادب کی خدمت کے نام پر مال سمیٹ رہے ہیں گویا ادبی سانپ بنے ہوئے ہیں۔ادبی تمغے اور ادب کے فروغ کے نام پر مراعات دھڑا دھڑ بک رہی ہیں ، وصول کرنیوالے اپنے شو کیس بھر رہے ہیں مگر اس سے ادب کی کیا خدمت ہورہی ہے اور ادب کو فروغ کے نام پرکیا کچھ ہورہا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تنقید کمز ہے اور مال سمیٹنے والے زور آور ہیں مفاد پرستی نے بھی ذوقِ شعری سے زیادہ سکالرشپ پر اعتماد کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں”ادب سے ذیادہ بے ادبی بڑھ گئی ہے اس ماحول میں ادب تخلیق تو ہو رہا ہے مگروہ ا دب ہے کم اور جمو د ذیادہ ہے۔ جس طرح مقدس عنوانات اور انقلاب کے نام پر تماشہ ہوتا ہے اسی طرح ادب کے نام پر بھی تماشے ہوتے ہیں ، اگرایک چیز کا نام بار بار استعمال کیا جائے اور اس کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو یہ در اصل اس کا رد ہوتا ہے اور اس کے نتائج نہایت ہولناک ہوتے ہیں۔ ایک طرف شاعری نے جہاں لوگوں کے دلوں میں انقلابی جد و جہد میں شریک ہونے میں تاریخ ساز کردار ادا کیاتو دوسری طرف صحافت، افسانہ نگاری، طنز و مزاح اور دیگر اصناف ادب میں اہل قلم کسی طرح پیچھے نہیں رہے اور برملا اعلان کیا گیا کہ۔
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہوں تو اخبار نکالو
مگر وہ اس دور کا تقاضا تھا جب آزادی کی جنگ لڑی جارہی تھی اور آج کا تقاضا یہ ہے کہ جب ’’ ضرب عضب‘‘ جاری ہے تو اہل قلم ملک کو فساد سے پاک کرنے کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں وہ افواج جس کا طرہ امتیاز ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے پوری قوم اس وقت ایک قدم ایک آواز ہے البتہ کنویں کے مینڈک سامراجی ایجنٹ، رجعت پسند اور قنوطی ذہنیت کے مالک عناصر کا اپنا نقطہ نظر ہے جو ہمیشہ فنڈز کھانے کے چکر میں ہوتے ہیں اور معکوس سوچتے ہیں بلکل یہاں پر نام نہاد مذہبی رجعت پسند اور درباری اہل قلم یک جا ہوجاتے ہیں۔بھر حال دعوے کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہمعاشرے کی اصلاح اور سماجی تبدیلی کیلئے قلم نے ہمیشہ نشتر کا کام کیا ہے شاعری کی زبان میں دور کے تقاضوں کے مطابق معاشرتی اصلاح اور یا سماجی تبدیلی کیلئے اہل قلم نے بھر پور کوشش کی ہے اور شعر لکھ کر معاشرے اور سماج کی ترقی کیلئے کام کیا۔ شعرانے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کیا اور ان کا حل بھی بتایا اورعوامی مسائل کی نشاندہی بھی کی اور قلم کی زبان میں اس کاآسان اور موثرطریقہ سے حل بھی بتایا اور یہ ثابت کردیاکہ اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے قلم کے نوک سے بہتر اور موثر ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ’’ادب‘‘ تہذیب کا چہرہ ہوتاہے اور شاعری چہرے کی لطافت و نزاکت ہوتی ہے کیوں کہ چہرہ اور خاص کر چہرے کی لطافت ونزاکت کے بغیر دنیا کی کسی بھی خوبصورت شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ’’جس طرح کسی کی خوبصورت آنکھیں اہل نظر پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ آنکھیں کتنے بھی دور کیوں نہ ہو بس ایک جھلک دیکھنے کیلئے دور ددراز کی سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور آنکھوں کی شاعری کرتے ہیں’’ادب‘‘ اور چہرے کی نزاکت شاعری ہے اور کچھ لوگوں کی آنکھیں بھی شاعری کرتی ہے جس پر کسی الگ موقع پر قلم اٹھایا جاسکاتا ہے اور اچھے اشعار کی تخلیق میں بھی آنکھوں کا ہی کردار ہوتا ہے ۔ شاعری محض تفریح ہی نہیں بلکہ کچھ اور بھی ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شاعری کو کثافتوں سے بچایا جائے اور شعر وادب کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے تاکہ ہمارے قوم کے نوجوان تفریح کے ساتھ ساتھ ہماری کھوئی ہوئی تہذیب سے روشناس ہو سکیں اور قلبی وذہنی سکون پھر سے حاصل کر سکیں، کچھ لکھ سکیں کچھ پڑھ سکیں۔ آج ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ وہ شاعر اور ادیب جو شعور کا دیا جلاتے ہیں اور جہالت اورذہنی غلامی سے نجات دلانے کیلئے قابل رشک کردار ادا کرتے ہیں معاشرتی جبر اور استبداد کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے قلم کا سہارا لے کر ظالمانہ سماج ، فرقہ واریت اور استحصال کے خلاف جنگ لڑتے ہیں کہیں ہم نے ان کے خلاف تو جنگ نہیں شروع کردی ہے؟ ہمارے شاعروں اور ادیبوں نے ہر دور میں قلمی جنگ لڑی شعوری بیداری کیلئے ان گنت نظمیں، غزلیں اور مضامین لکھے اور وطن سے اپنی وفاداری بخوبی نبھائی لیکن کیالیکن آج ہم کس سمت چل پڑے ہیں اور شعر وادب کیلئے کیا حق ادا کر رہے ہیں؟۔ کیا ہم نے اس کے ساتھ وفادارہیں؟ کیا ہم نے شعر وادب کے فروغ اوراور قلم کاروں کے جائز حقوق دلانے کی یا دینے کی کبھی کوشش کی؟

ایک عہد کی سرگزشت، جمیل اطہر قاضی کی ایک عمدہ تصنیف

riaz-ahmed

جمیل اطہر قاضی کے بارے میں کچھ کہنا کچھ لکھنا آسان نہیں یہ تقریباً نصف صدی کا قصہ ہے۔ دو چار برس کی بات نہیں۔قاضی صاحب مرنجان مرنج شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہمیشہ بڑی محبت و خلوص سے ملتے ہیں کبھی اپنی بات منوانے کے لیے نہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کوئی حربہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ان کا کمال ہے کہ اس کے باوجود وہ اپنی بات منوا ہی لیتے ہیں۔دیانت، شرافت اور صحافت انہیں وراثت میں ملی ہے ان کے والد محترم اور ان کے چچا بھی صحافت سے وابستہ تھے۔ اس طرح اگر یہ کہوں کہ وہ ایک خاندانی صحافی ہیں تو غلط نہ ہوگا یا یہ کہ صحافت انہیں گھٹی میں پلائی گئی ہے۔
جمیل صاحب کا شمار اب ملک کے چند انتہائی سنجیدہ، منجھے ہوئے اور پیشہ ورانہ اپروچ کے حامل صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشؔ ؔ ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ پاکستانی صحافت کا ایک بہت اہم باب ہے جو 616 صفحات پرمشتمل ہے۔ یہ شعبہ صحافت میں جمیل اطہر جیسے سکہ بند صحافی کے ذاتی مشاہدات و مطالعات کا حاصل ہے۔ جمیل صاحب نے بڑا انصاف یہ کیا کہ پاکستانی صحافت کے وہ خاموش کردار جو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے حوالے سے یوں انتہائی قابل قدر ہیں کہ انہوں نے صحافتی اقدار اور پیشے کا معیار قائم کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کی طویل کاوشوں کو بھی ریکارڈ کردیا ہے۔
جمیل اطہر قاضی تو خود ایک عہد ہیں انہوں نے اپنی کتاب کا نام بھی سوچ بچار کے بعد ہی رکھا ہے۔ انہوں نے صحافت کی ابتدا بطور اخبار فروش یعنی اخباری ہاکر کے طور پر کی۔ انہوں نے بتدریج اس مقام تک پہنچنے میں، جس پر آج وہ فائز ہیں بڑی محنت و جاں فشانی سے کام لیا ہے یقیناً ان کی یہ سرگزشت ان کی صحافت سے عہد کی سرگزشت بھی ہے۔ جمیل اطہر صاحب نے لمحہ لمحہ قدم قدم صحافت کے میدان میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔
مشتاق احمد قریشی کہتے ہیں کہ جمیل اطہر قاضی صاحب عہد کے بڑے پابند ہیں ۔وہ جو عہد کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے وہ ضرور پورا کریں اور کرتے بھی ہیں۔میرے سامنے ایک بہت ہی خوب صورت بلکہ حسین و جمیل کتاب کھلی ہوئی ہے۔ اسے جناب جمیل اطہر صاحب نے بڑے ہی خوب صورت انداز میں شائع کیا ہے ۔یہ کتاب یوں تو بقول جمیل صاحب، ان کی وہ یادداشتیں اور مضامین ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً مختلف شخصیات کے بارے میں تحریر کیے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مضامین صحافت سے وابستہ افراد کے لیے اور نوواردان صحافت کے لیے (وہ نوجوان جو یونیورسٹیوں سے صحافت کی ڈگری لے کر نکل رہے ہیں) ان کی راہ متعین کرنے کے لیے صحافت کے نشیب و فراز سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک بہترین اور آسان نسخہ ہے۔پروفیسر رفعت مظہر لکھتے ہیں کہ جمیل اطہرقاضی کی’’ایک عہد کی سرگزشت’’پڑھ کریوں لگا کہ یہ اْس شخص کی داستانِ حیات ہے جس نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں120 روپے تنخواہ پرکوچہ صحافت میں قدم رکھااورپھر اپنی محنت ،ریاضت اورماں کی دعاؤں سے آسمانِ صحافت کی رفعتوں کو چھولیا۔ وہ آج چار اخبارات کامالک ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی آپ بیتی ہے جو نہ صرف قومی سیاسی تاریخ کاشاہد ہے بلکہ اسے معروف ترین قومی شخصیات کے قرب نے ایساصیقل کیاکہ اْس نے باتوں ہی باتوں میں پاکستان کی مستندتاریخ رقم کرڈالی۔ڈاکٹر مجاہد منصوری نے بالکل درست لکھا۔ ’’ایک عہد کی سرگزشت’’ تاریخِ صحافت پر تحقیقی کام کرنے والے پی ایچ ڈی، ایم فِل سکالرز اور ایم اے کے طلباء کے لیے بہت مفید ریفرنس بْک کے طور پر صحافتی تاریخ کے لٹریچر میں انتہائی مفید اضافہ ہے’’۔جمیل اطہر صاحب کی یہ کتاب 108 بچھڑے ہوؤں کی عملی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں علمائے کرام ،اخبارات کے مدیران ،کارکن صحافی ،اساتذہ کرام ،سیاستدان ،روحانی شخصیات ، احباب ،اخبار فروش رہنماء، بیوروکریٹس اور شعراء کرام شامل ہیں۔
ان کی کتاب ظاہری حسن ہی نہیں بلکہ باطنی حسن بھی رکھتی ہے جمیل اطہر قاضی صاحب ایک منجھے ہوئے صحافی اور اہل قلم ہیں۔ انہیں لفظوں کی نشست و برخاست کا خوب سلیقہ ہے (جو انہیں ان کے والد سے ورثے میں ملا ہے)۔ ان کی تحریر کے حسن کو ان کے خوب صورت جملوں نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کی تمام تر تحریریں ان کی صحافیانہ زندگی سے متعلق ہیں لیکن ان کے انداز بیان کا کمال ہے کہ جب ان کا قاری ان کی کسی تحریر کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ اس کے دلچسپ اور موثر انداز کے باعث تحریر کو پوری طرح پڑھنے میں از خود محو ہوجاتا ہے اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ کب مضمون شروع ہو کر ختم ہوا۔ چھوٹے چھوٹے فقروں خوب صورت جملوں نے کتاب کے باطنی حسن کو زندہ کردیا ہے۔
اس طرح ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ تاریخ صحافت پر تحقیقی کام کرنے والے پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالرز اور ایم اے کے طلبہ کیلئے بہت مفید ریفرنس بک کے طور پر صحافتی تاریخ کے لٹریچر میں انتہائی مفید اضافہ ہے۔ پیشہ صحافت میں میری عمر کے صحافیوں میں کون نہیں جانتا کہ جناب جمیل اطہر اقبال وقائد کے تصور پاکستان پر گہرا یقین رکھنے والے کہنہ مشق وہ صحافی ہیں جو کارکن سے کامیاب مالک بنے۔ لیکن وہ تاریخ مرتب کرتے وقت نہ کہنہ مشق کارکن صحافیوں کو بھولے۔ پھر انہوں نے اس پر نظریاتی چپقلش اور اختلاف کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا۔ اساتذہ و طلبہ صحافت اور کارکن صحافی جمیل اطہر صاحب کی اس تحقیقی کاوش سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کتاب ایک عہد کی سرگزشت کی کیا اہمیت وقعت ہے۔ یقیناً وہ وقت دور نہیں کہ اس کتاب کو صحافت کے نصاب میں شامل کر دیا جائے میں جمیل بھائی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔

پاکستان کے غریبوں پر مزید 40 ارب روپے کا ناجائز ٹیکس

ejaz-ahmed

حال ہی میں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے 313 در آمدی اشیاء پر عائد ڈیوٹی میں 10 اضافے کااعلان کیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ محصولات کی وصولی میں 40ارب کمی کی وجہ سے درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں موجودہ حکومت نے ودہو لڈنگ ٹیکس 0.3فی صد بر قرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نو ٹیفیکیشن کے مطابق دہی،مکھن، پنیر،ڈیری کے اشیاء اور شہدپر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ اننا س، امرود، آم،ما لٹے، پو ٹری،کوکونٹ،بادام، اور کوکوبٹر، پر 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔ نو ٹی فیکیشن کے مطابق واٹر ڈسپنسرمائیکرو ویوز اوون،ائر کنڈیشنز،ریفریجیریٹر کی در آمد پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے کو کنگ رینج،سلینگ، پیڈسٹل اور ایگزاسٹ فین کی در آمد سنگ مرمر دوسرے پتھروں اور ان سے بنی اشیاکی در آمد پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی ٹیکس لگا دی ہے،جبکہ شیمپو، ٹوتھ پیسٹ،شیونگ آئٹمز، پر فیومز کی در آمد، اور میک اپ کے سامان پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی ہے ۔وزیر خزانہ کے مطابق 259 در آمدی اشیاء پر 5 فی صد جبکہ 61 پر 10 فی صد ریگو لیٹری ڈیوٹی ؂لگا دی گئی ہے۔گا ڑیوں کی امپو رٹ پر بھی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ سگریٹ کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تاہم وزیر خزانہ نے کہا کہ عام آدمی کے استعمال کے اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں لگائی گئی۔اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مندرجہ چیزوں میں وہ کونسی آٹیم ہیں جو عام اور متوسط طبقے کے لوگ استعمال نہیں کرتے۔ کیا اس قسم کی بے تُکی باتیں کرنا ملک کے غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی نہیں۔اس میں دہی سے لیکر پیڈسٹل، سیلنگ فین شیونگ کریم ، مر غی ، امرود تک وہ کونسی چیز ہے جو غریب استعمال نہیں کرتے۔انتہائی بے حسی اور غیر ذمہ وارانہ روئے کی بات تو یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ٹی وی انٹر ویو میں کہا کہ اس سے جو 40 ارب روپے حا صل ہونگے وہ ضرب عضب اور قبائیلی لوگوں کی با عزت واپسی پر خرچ کئے جائیں گے۔اگر حکومت نے عالمی مالیاتی ایجنسی کے دباؤ پر پاکستان کے غریبوں اور پسے ہوئے طبقات پر ٹیکس لگانا تھا تو اسحق ڈار اُلٹے سیدھی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ سیدھا سادھا ٹیکس کیوں نہیں لگاتے ۔اُلٹے سیدھے باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اصل بات یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ایجنسی نے اُس وقت تک پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں 550ملین ڈالر کی وہ قسط نہیں دینی تھی جب تک وہ عوام پر 40 ارب روپے کا ٹیکس نہ لگائیں ۔ اور یہ کام ایف بی آر کاتھا مگرایف بی آر یہ کام نہ صحیح طریقے سے نہ کر سکی نتیجتاً اسحق ڈار نے بھانے بنا بنا کر مہنگائی، بے روزگاری اور غُربت میں پسے ہوئے طبقات پر مزید 40 ارب روپے کا ٹیکس لگا دیا۔پاکستان کے غریبوں کے مسائل ناواقف وزیر خزانہ صا حب دہی اور دودھ سامان تعیش نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ان دونوں میں پانی ملا ملاکر اس سے لسی بناکر اسکے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سالن پکا نا افو رڈ نہیں کر سکتے۔لہذا پورا خاندان آدھا کلو دودھ یا دہی منگوا کر اس سے لسی بنا کر اسکے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ جہاں تک ٹیکس کی بات ہے تو پاکستانی حاکم جب تک اپنے شاہ خرچیوں کو کم نہیں کریں گے تو حکمران پاکستانی عوام کے سروں پر مزید قرضے لیتے رہیں گے اور مہنگائی ، بے روز گاری اور غُربت میں پسی ہوئی قوم نسل در نسل مقروض ہوتے رہینگے۔ایک طر ف غُربت کی چکی میں پسے ہوئے غریبوں پر ٹیکس لگا یا جا رہا ہے اور دوسری طرف نواز شریف کے رائے ونڈ کی چا ر دیواری پر 35کروڑ اور انکے سیکو رٹی پرمامور اہل کا روں کے لئے اربوں کا بجٹ رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طر ف لاہور اور پنڈی کے میٹرو جیسے فضول منصوبیوں پر 200 ارب روپے خرچ کئے گئے۔اس وقت پاکستان کے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے بین الاقوامی بینکوں میں تقریباً 3500 ارب ڈالر پڑے ہوئے جبکہ پاکستان کا کل قرضہ اسکے بر عکس تقریباًً 100 ارب ڈا لر ہے۔

Google Analytics Alternative