کالم

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی

riaz-ahmed

10دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طورپر یاد کیا ہے۔1948ءمیں اقوام متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے عالمی منشور جاری کیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس کے حق میں 48 ممالک نے رائے دی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا۔ 30 دفعات پرمشتمل اس منشور کے تحفظ اورتجاویز کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا، جو مختلف اوقات میں عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔اس منشور کی ہرہرشق میں انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی ، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔
جس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور پوری شدومد کے ساتھ منظور کرایا گیا مگر دیکھنے میں آیاہے کہ اسی شدومدکےساتھ اس پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا ہے۔جہاں جس طاقتور ملک کا زورلگتا ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ میںعالمی سیاسی مفادات کیلئے سب کچھ تج دیتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصددنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔یہ خلاف ورزیاں انفرادی سطح پر ہوں ےا اجتماعی ہر دو سطح پرپورے کا پورا معاشرہ ظلم و جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔ فلسطین اورمقبوضہ کشمیر اس کی نمایاں مثال ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے ستائے کشمیری اقوام عالم کی بے حسی پر شکوہ کناں رہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کی آڑ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے عزیزو اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کی سیاہ ترین تاریخ کا ایک باب ہزاروں گمنام قبریں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے بھارت سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اس پربھارت کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب بلیک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت قابض انتظامیہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کران کا مستقبل تباہ کررہی ہے۔ بھارتی فوج کے شر سے کشمیری بچے بھی محفوظ نہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پارز ایکٹ کے بدنام زمانہ قانون کے تحت بھارتی فوج کےلئے کسی بھی کشمیری کی جان لینا معمولی بات ہے۔ اس غیر انسانی قانون کے خاتمے کا ہیومین رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کرچکی ہیں لیکن سب بے سود۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالے قانون افسپا کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے پروگرام ڈائریکٹر ششی کمار ویلاٹھ کی طرف سے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افسپا 1958ءاور 1990ءکی فوری واپسی کیلئے اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اہم مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کروانا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے دونمائندے مقبوضہ کشمیربھیجے۔ ان کی رپورٹس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کونسل ان پر غور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کے لئے کئی قراردادیں پاس کیں۔ مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرائے۔ عالمی برادری بھی کچھ نہیں کر رہی۔ وہ دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں تو فوراً عمل ہو گیا۔ مگر کشمیر اور فلسطین میں مسلمان پس رہے ہیں اورعالمی برادری خاموش ہے۔عالمی برادری کو یہ روش ترک کرنا ہو گی۔
کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ حق عالمی ادارے کی قراردادوں نے اسے دلا رکھا ہے لیکن بھارت آج تک حیلوں بہانوں سے استصواب رائے کو موخر کر کے شاید یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ کشمیر اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حالانکہ کشمیریوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور پاکستان کے یوم آزادی (14 اگست) کو وہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ اسی سے کشمیریوں کے جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے اور اگر بھارتی قیادت کو اس میں کوئی شک و شبہ ہے تو استصواب رائے کا راستہ کھلا ہے، بھارت اس کا اہتمام کرے اسے اندازہ ہو جائے گا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ کشمیر (مقبوضہ) میں جو انتخابات ہوتے ہیں کشمیریوں کی نمائندہ قیادت ان کا بائیکاٹ کرتی ہے۔ اس بائیکاٹ کے بعد جو چند فیصد ووٹ پڑتے ہیں ان کی بنیاد پر تو کشمیریوں کی رائے سامنے نہیں آتی۔
بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی عرصے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ کانگریس کے حال ہی میں ختم ہونے والے دس سالہ دور سے پہلے دس برس تک مسلسل بی جے پی کی حکومت رہی، لیکن وہ آرٹیکل 370 ختم نہ کر سکی جو ظاہر ہے بھارتی آئین میں کشمیری قیادت اور کشمیریوں کو خوش کرنے کے لئے شامل کیا گیا تھا ورنہ کیا مجبوری تھی کہ اسے آئین کا حصہ بنایا جاتا۔ کشمیر میں اکثریتی آبادی کا تعلق مسلمانوں سے ہے اس لئے آزادی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں جو بھی کٹھ پتلی حکومتیں رہیں وہ بہر حال مسلمان تھیں۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے ان حکومتوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی و حریت کی شمع ہمیشہ فروزاں رہی اور حالیہ برسوں میں تو یہ شعلہ اور بھی بھڑک اٹھا ہے۔ چند ہفتے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایک پاکستانی پرچم لہرانے پر بھارتی قیادت سیخ پا تھی اور پرچم لہرانے پر مسرت عالم کو گرفتار اور سید علی گیلانی کو نظر بند کر دیا تھا لیکن اب ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں اور بھارتی قیادت کے پاس اس جذبہ جنون کا کوئی توڑ نہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بھی بھارت کی مرکزی حکومت نے بہت سے پاپڑ بیلے جو کشمیری پنڈت کشمیر چھوڑ کر چلے گئے تھے انہیں واپس لا کر کشمیر میں آباد کرنے کے لئے پنڈتوں کی الگ بستیاں بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔ بی جے پی نے پہلی مرتبہ کشمیر کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بھی بہت سے پاپڑ بیلے پانچ مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا حالانکہ ریاست کے گورنر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اس کے باوجود بی جے پی ریاستی انتخابات میں 25 سے زیادہ نشستیں جیت نہ سکی اور وہاں بی جے پی کی حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تو ریاست میں گورنر راج لگا دیا گیا بالآخر بی جے پی کو مفتی محمد سعید کو وزیر اعلیٰ قبول کرنا پڑا اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔
کشمیر کے حالات بھی اس کے لئے ساز گار نہیں ہیں۔ کشمیری قیادت کی آواز کو اس وقت دنیا میں سنا جا رہا ہے۔ کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کو کلی طور پر سیاسی جدوجہد کے قالب میں ڈھال لیا ہے۔ وہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیریوں کے حق کے حصول کی کوشش کررہے ہیں جس پر دنیا کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کشمیریوں کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ان حالات میں بھارت کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مستقبل کی منصوبہ سازی کرے۔ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا تھا۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر کشمیر میں بھارت کی کسی بھی سیاسی جماعت کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔

پاکستان بھارت ٹریک ڈپلومیسی اور مسئلہ کشمیر

rana-baqi

دنیا بھر میں بڑی طاقتوں کے درمیان جنگوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور قوموں کے درمیان جذباتی وابستگی سے اُلجھے ہوئے دوطرفہ مسائل کو سلجھانے کےلئے فریقین اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق آپس میں معاہدے کرتے ہیں لیکن اگر متحارب قومیں نفسیاتی یا جذباتی دباﺅ کی کیفیت پر قابو نہ پا سکیں اور اُن کے درمیان نوبت جنگ تک آ پہنچے تو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق صورتحال کی بہتری اور امن و امان کی کیفیت بحال کرنے کےلئے ضروری اقدامات کرے۔ اِن اقدامات میں فوری جنگ بندی اور مسائل کے حل کےلئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل احکامات جاری کرتی ہے یا امن تجاویز کےمطابق متحارب قوموں کو دو طرفہ طور پر اپنے مسائل حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔دنیا کے ممالک چونکہ مختلف گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں اور دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کو سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور حاصل ہے لہذا، اِن بڑی طاقتوں کے مفادات اور متحارب طاقتوں کی ہٹ دھرمی کے باعث کچھ مسائل حل طلب رہ جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن مسائل کے حل کےلئے متحارب قوتوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کو مثبت انداز سے آگے بڑھانے کےلئے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر جو مربوط کوششیں کی جاتی ہیں اُس کےلئے آج کی دنیا میں ٹریک ون اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ٹریک ون ڈپلومیسی میں سرکاری سطح پر غیر رسمی انداز اختیار کرتے ہوئے اہم ریاستی مسائل اور قوموں کے درمیان جھگڑوں کے حل کےلئے متحارب ریاست یا فریق سے متعلقہ اہم افراد کے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کےلئے حکمت عملی تیار کی جاتی ہے جنہیں عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔ جبکہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں غیر رسمی طور پر متعلقہ فریق کےساتھ اثر و رسوخ رکھنے والے غیر سرکاری یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے مسائل کے حل کےلئے دوطرفہ لچک کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اگر ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے بات آگے بڑھتی ہے تو پھر عوامی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی ممکنہ حل کی اطلاعات کو غیر رسمی طور پر عوامی بحث و مباحثہ کےلئے لایا جاتا ہے۔
ایسے ہی اُلجھے ہوئے مسائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے جو 3 جون 1947ءکے تقسیم ہندوستان کے ایجنڈے کےمطابق حل طلب ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگوں کے باوجود خطے کے امن اور ترقی کےلئے بدستور خطرہ بنا ہوا ہے۔ بھارت 1948ءمیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا تھا لیکن سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے سے گریز کرتا رہا ہے چنانچہ بھارتی ہٹ دھرمی کے سبب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر بھارتی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان حمایت یافتہ آزاد کشمیر میں بٹی ہوئی ہے۔ 1971ءکی پاکستان بھارت جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کی روشنی میں ریاست جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائین کنٹرول لائین میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ البتہ سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 2 جولائی 1972 ءمیں دوطرفہ شملہ معاہدے پر دستخط کئے جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات اقوام متحدہ کے مقاصد، اصولوں اور چارٹر کےمطابق استوار کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدے کے آرٹیکل 4(ii) میں واضح طور پر کہا گیا کہ دونوں فریق حکومتیں اقوام متحدہ کی 17 دسمبر 1971ءکی جنگ بندی کی قرارداد کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں وجود میں آنے والی کنٹرول لائین کا ہر صورت میں احترام کریں گے جبکہ آرٹیکل 6 میں دونوں ممالک کے سربراہوں مستقبل میں پھر ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا تاکہ اِس دوران دونوں ممالک کے نمائندے تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے میں امن قائم کرنے کےلئے بات چیت کے ذریعے بشمول جنگی قیدیوں کی واپسی ، جموں و کشمیرکے مسئلہ کے حل (final settlement) اور سفارتی تعلقات کی بحالی کےلئے طریقہ کار (modalities) اور معاہدے طے کریں ۔ حیرت ہے کہ جنگی قیدیوں کی واپسی بہت پہلے ہو چکی ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے ، موثر تجارتی تعلقات قائم ودائم ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے دوطرفہ بات چیت سے گریزاں ہے ۔
اندریں حالات ، شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بھارت دو طرفہ ڈائیلاگ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر معمول پر لانے کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی کی نئی انتہا پسند ہندو قیادت حالات کو بگاڑ کی جانب لے جانے میں اپنی تما تر توانائیاں صرف کر رہی ہے جبکہ خطے میں امن لانے کےلئے مسئلہ کشمیر ہی کور ایشو ہے۔ حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کی دیگر قیادت کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ریاستی تحفظات کے باوجود شرکت کی۔گو کہ بھارتی وزیراعظم نے تعلقات معمول پر لانے کےلئے پاکستان کےساتھ خارجہ سیکریٹری لیول پر مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن عین مذاکرات سے چند روز قبل یہ کہتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینا اور پاکستانی ہائی کمشنر کا مقبوضہ کشمیرکے رہنماﺅں سے ملاقات کرنا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جوابی طور پر پاکستانی قیادت نے بھارت کےساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلئے بھارتی موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت سے حل کرنے پر مشروط کر دیا جو کوئی نیا موقف نہیں ہے بلکہ شملہ معاہدہ جسے بین الاقوامی طور پر ایک اہم دوطرفہ معاہدہ سمجھا جاتا ہے میں دونوں ممالک کی قیادت کشمیر کو متنازع مسئلہ تسلیم کر چکی ہے ۔ چنانچہ ہندوستانی دانشور صحافی برکھا دت نے ٹریک ڈپلومیسی کے حوالے سے سجن جندال اور حسین نواز شریف کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کی نریندر مودی سے کھٹمنڈو میں خفیہ ملاقات اور پھر ٹریک ون ڈپلومیسی سے ہٹ کر ٹریک ٹو کے ذریعے پیرس میں ملاقات کا تذکرہ کیا ہے ۔ وزیاعظم نواز شریف نے پیرس جانے سے قبل ہی بھارت کےساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلئے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی تھی لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے میں مخلص نہیں ہے بلکہ اپنی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی قیادت کو با ر بار نچوڑنے پر لگا ہوا ہے ۔ بھارت امریکہ کا دفاعی اتحادی ہے اور افغانستان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے لہذا، اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کےلئے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں ہر صورت میں شرکت کا متمنی تھا جس میںمیاں نواز شریف کے غیر مشروط بات چیت کے اعلان بعد بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج پاکستان تشریف لائی ہیں ۔ دریں اثنا پاکستان اور بھارتی دفاعی مشیروں کے درمیان بھی ملاقات ہوئی ہے جس میں کشمیر کنٹرول لائین کی صورتحال اور دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی ہے اور اِس گفتگو کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن بھارت اپنے مخصوص مفادات کی خاطر بات چیت شروع کرتا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مسائل کے حل سے گریز کرتا ہے۔ چنانچہ ، ہمارے پالیسی اداروں اور سیاسی قیادت کو اِس اَمر پر ضرور غور و فکر کرنا چاہیے کہ کہیں ہم بھارت سے غیر مشروط بات چیت پر آمادگی ظاہر کرکے کشمیروں کو ناراض تو نہیں کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر سرینگر میں پاکستانی پرچم بلند کرنا شروع کر دیا تھا اور جسے اب بھارت بات چیت کا ڈول ڈال کر محض کشمیریوں کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے درپے ہے؟

دس دسمبر ، انسانی حقوق اور بھارت

asghar-ali

دنیا بھر میں دس دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اسی پس منظر میں ماہرین کی رائے ہے کہ یوں تو دنیا کے ہر ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ کسی نہ کسی حد تک جاری ہے مگر اس ضمن میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارت کی صورتحال یقینا بد ترین ہے ۔ ہندوستان میں چائلڈ لیبر، خواتین کے خلاف ہر قسم کی زیادتیاں اور مذہبی اقلیتوں کے شہری حقوق کی پامالی آرڈر آف دی ڈے بن چکی ہیں ۔ ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں گم نام قبریں دریافت ہوتی ہیں تو دوسری طرف مقبوضہ ریاست کے نہتے عوام کے خلاف قابض بھارتی افواج نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ( AFSPA )) کے نام پر دہشتگردی کا بازار گرم کر رکھا ہے اور یہ سلسلہ محض مقبوضہ ریاست تک محدود نہیں بلکہ شمال مشرقی بھارت کے سبھی بھارتی صوبوں ناگا لینڈ ، میزو رام ، منی پور ، تری پورہ ، میگھالہ ، ارونا چل پردیش وغیرہ میں بھی AFSPA کے نام پر انڈین آرمی کو کھلی چھٹی دی جا چکی ہے اور دہلی کی اسی ریاستی دہشتگردی کے خلاف اروم شرمیلا نے گذشتہ چودہ برس سے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی ہے مگر بھارت کا برہمنی انصاف ملاحظہ ہو کہ اتنے طویل عرصے سے یہ مظلوم خاتون سلاخوں کے پیچھے بند ہے اور اس کو زبردستی ناک کے راستے غذا فراہم کی جاتی ہے ۔
ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی صحت ، تعلیم اور غذائیت کی کمی عام بھارتی شہریوں کا مقدر بن چکی ہے ۔ گذشتہ پندرہ برس میں سوا تین لاکھ سے زیادہ بھارتی کسان اپنی حکومت کے ان غیر انسانی رویوں کے ہاتھوں تنگ آ کر خود اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔ بھارتی معاشرت میں عدم برداشت اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ تحریر ، تقریر ، کھانے پینے اور اپنی مرضی کی رہائش جیسے بنیادی حقوق سے بھی مذہبی اقلیتوں کو محروم کر دیا گیا ہے ۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش ، اڑیسہ ، چھتیس گڑھ اور جھاکھنڈ کے صوبوں میں اکثر بچیوں کو پیدا ہوتے ہیں زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور ان معصوم روحوں کو دودھ کے بھرے ٹب میں ڈبو کر مار دیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود دہلی کے حکمران خود کو جمہوریت اور سیکولر اقتدار کا چمپئن قرار دیں تو اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہو گی ۔
بل گیٹس فاﺅنڈیشن کی جانب سے چند ماہ پہلے جو رپورٹ جاری ہوئی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بل گیٹس کی اہلیہ کی زیر قیادت ایک تحقیقی سروے میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ اعتدال پسند تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ زندگی کے تمام شعبوں میں عام ہندوستانی انسانی حقوق کے حوالے سے بہت مظالم سہہ رہے ہیں مگر اس ضمن میں سب سے زیادہ نچلی ذات کے ہندوﺅں کے خلاف یہ مکروہ سلسلہ جاری ہے ۔ بھارتی معاشرت میں اپنے ہی ہم مذہب اچھوت ہندوﺅں کو تو اس قدر مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جس کا تصور بھی کوئی نارمل انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔ تقریباً چوبیس کروڑ کی تعداد پر مشتمل یہ بد قسمت اچھوت اس قدر پس رہے ہیں کہ جس کے تذکرے کے لئے بھی مناسب الفاظ ڈھونڈ پانا مشکل ہیں نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔
ہندو مذہب کی عبادت گاہوں یعنی مندروں تک میں نچلی ذات کے ہندوﺅں کا داخلہ ممنوع ہے ۔ محض دو ہفتے قبل یعنی نومبر کے تیسرے ہفتے میں بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کی خاتون رکن ” کماری سلیجا “ نے انکشاف کیا کہ چند برس پیشتر جب وہ صوبہ گجرات میں واقع ” دوارکا “ مندر ( اس مندر کا پرانا نام سومنات ہے ) میں پوجا کے لئے گئیں تو داخلے سے پہلے مندر کے مرکزی دروازے پر موجود پجاری نے ان کی ذات پوچھی حالانکہ تب وہ مرکزی وزیر تھیں ۔ موصوفہ نے چھبیس نومبر 2015 ءکو بھارتی پارلیمنٹ میں آئین سے وابستگی کے موضوع پر بحث کے دوران یہ خوف ناک انکشاف کرتے ہوئے رقت آمیز لہجے میں کہا کہ ” میں اچھوت ضرور ہوں لیکن بہر حال ہندو ہوں اور اگر مرکزی وزیر ہوتے ہوئے میرے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو عام اچھوتوں کی حالت زار کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ جان کار حلقوں کے مطابق چھوت چھات کے اس نظام کو ہندو دھرم کے آئین کا درجہ حاصل ہے اس لئے اس میں بہتری کے امکانات آنے والے دنوں میں بھی نظر نہیں آتے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے انسانی حقوق کا عالمی دن مناتے ہوئے دنیا بھر کے انسان دوست حلقے بھارت میں نسلی بنیادوں پر ہو رہے اس ظلم عظیم کے خلاف وہی طرز عمل اپنائیں جیسا کہ پچیس سال پہلے تک جنوبی افریقا کی سابقہ سفید فام حکومت کی نسلی امتیاز کی پالیسیوں کے خلاف دنیا بھر نے اجتماعی بائیکاٹ کا راستہ اپنا کر کیا تھا۔

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس ایک تازہ ہوا کا جھونکا

uzair-column

خدا خدا کرکے طلسم ٹوٹا،پاک بھارت تعلقات میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہارٹ آف ایشیاء کی صورت میں نمودار ہوا ہے اور ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آخرکار مودی سرکار نے سری لنکا میںپاک بھارت سیریز کھیلنے کی اجازت بھی دیدی ہے اوربھارت نے پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو بھی انڈیا آنے کی اجازت بھی دی ہے ۔یہ دونوں خبریں تو خوش کن ہیں ہی کیونکہ کرکٹ شائقین اس سے بہت خوش ہوں گے اور پوری دنیا جو روایتی حریفوں کے کرکٹ میچ سے لطف اندوز ہوتی ہیں انہیں بھی دونوں ٹیمیں میدان میں نظر آئیں گی کیونکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کوئی بھی میچ ہو چاہے وہ کرکٹ ،ہاکی ،کبڈی ہو یوںمحسوس ہوتا ہے کہ جیسے مہا بھارت ہورہی ہے ۔ہر پاکستانی کی دعا اوردلی خواہش ہوتی ہے کہ شاہین بھارتی سورماﺅں کو دھول چٹائیں اور عموماً ایسا ہوتا ہے ۔اب ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے بھارت کے وزیرخارجہ سشما سوراج پاکستان آچکی ہیں اور انہوں نے آتے ہی میڈیا سے مختصراً گفتگو کی جس میں ا نہوں نے کہا کہ ہم پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔میںنوازشریف سے بھی ملاقات کروں گی پھر شام کو مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے سشما سوراج کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سے انتہائی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا ۔دونوں کی آپس میں نظریں چار ہوئیں ،ماحول بتارہا تھا کہ اس مرتبہ سشما سوراج کی آنکھوں کی چمک یہ گواہی دے رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کچھ نہ کچھ بہتری ضرور کارفرما ہوگی کیونکہ ویسے بھی یہ کانفرنس علاقائی سطح کے ممالک کے مشیروں کی ہے اور اس میں تمام شریک ممالک نے اپنی اپنی سرحدوں کی حفاظت اور آپس میں تعلقات کو بھی بہتر بنانا ہے ۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام ممالک اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔گو کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جو کہ آج پاکستان پہنچیں گے آنے سے قبل کچھ ایسے الزامات والے بیانات عائد کیے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ کچھ تعلقات بہتر بنانے میں اتنے مخلص نہیں ہیں ۔کیونکہ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کافی عرصے سے پاکستان کی جانب سے افغانستان کیخلاف ایک خاموش جنگ جاری ہے پھریہ بھی الزام عائد کیا کہ افغانستان کے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں ۔یہ ایسے بے بنیاد الزامات ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردوں کی بےخ کنی کردی گئی ہے ۔ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،شمالی اورجنوبی وزیرستان میں ان کے ٹھکانے ختم کردئیے گئے ہیں ۔لہذا دہشتگردوں کے ڈانڈے پاکستان سے ملانا انتہائی مضحکہ خیز بیان ہے ۔پھر اس کانفرنس میں تمام رہنماﺅں نے مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہے نہ کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ،ایک بات اور بھی انتہائی اہم ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے بھی ملاقات کریں گی اور یقینی طور پر وہ اس میں اپنے ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے خصوصی پیغام بھی وزیراعظم پاکستان تک پہنچائیں گی ۔کچھ یہ مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں کہ پاکستان کوچاہیے کہ وہ بھارتی وزیرخارجہ کو بلوچستان میں راءکی مداخلت کے بارے میں ثبوت فراہم کرے ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہاں پر بھارتی مداخلت موجود ہے ۔دراصل بلوچستان میں جو حالات اس وقت چل رہے ہیں ان پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے ۔وہاں کی اس وقت نوجوان قوم جو کہ پاکستان سے بے تحاشا محبت رکھتی ہے اس کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے ۔جس طرح کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے وہ علاقہ مستفید ہوگا ،پھر گوادر کی بندرگاہ بھی بن رہی ہے ،لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ وہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی ان منصوبوں میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔تاکہ وہ کسی بھی بے راہ روی کا شکار نہ ہوسکیں ۔کیونکہ جس طرح بلوچستان پر دشمن نے اپنی نظریں گاڑھی ہوئی ہیں اگر وہاں پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ وہ اپنے مذموم عزائم میںکامیاب ہوجائینگے ۔بلوچستان معدنیات کے حوالے سے انتہائی زرخیز صوبہ ہے اور وہاں پر اللہ تعالیٰ نے زمین میں اتنے خزانے رکھے ہوئے ہیں کہ جن کو دریافت کرکے پورے وطن عزیز کے بہت سارے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں ۔آج ملک بھر میں جو سوئی گیس چل رہی ہے اس کا بھی اصل اور بڑا منبع سوئی کا مقام ہے جو کہ بلوچستان میں واقع ہے ۔بلوچستان کے حوالے سے ہی چلتے چلتے ایک بات اور بھی کرتے چلیں کہ جب وہاں پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نامزد کیے گئے تو معاہدے کے تحت ان کا اس وقت ختم ہوچکا ہے اور خبریں تیزی سے گردش کررہی تھیں کہ اب اڑھائی سال کے بعد ثناءاللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنایا جائیگا لیکن معاملات نے کچھ کروٹ بدل لی ہے ۔اب یہ سنا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ عبدالمالک ہی رہیں گے کیونکہ ایسے وقت میں اگرانہیں تبدیل کردیا جائے تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لہذا اسی وجہ سے ثناءاللہ زہری کو آج وزیراعظم نے طلب کرلیا ہے ۔اس وقت وہاں پر جو مسئلہ اٹکا ہوا ہے وہ یوتھ کا ہے کیونکہ کچھ مطالبات محمود خان اچکزئی بھی سامنے آرہے ہیں اور کچھ یوتھ کے نمائندے وفاقی دارالحکومت میں موجود ہیں اب یہاں پرزیرک فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے کہ وہ یوتھ کے حوالے کیا اقدام اٹھاتے ہیں ۔

انسانی حقوق کا عالمی دن،کشمیریوں کو حق کب ملے گا

syed-rasool-tagovi

10 دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طورپر یاد کیا ہے۔1948 میں اقوام متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے عالمی منشور جاری کیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس کے حق میں 48 ممالک نے رائے دی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا ۔ 30 دفعات پرمشتمل اس منشور کے تحفظ اورتجاویز کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا، جو مختلف اوقات میں عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔اس منشور کی ہرہرشق میں انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی ، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس منشور میں جن حقوق اور آزادیوں کا اعلان کیا گیا ہے انہیں بعد میں دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ایک میں معاشی سماجی اورثقافتی حقوق کو یکجا کیا گیا ہے جبکہ دوسری فہرست میں شہری اور ریاستی حقوق کو رکھا گیا ہے۔جنرل اسمبلی نے 1966 میں ان دوعہدناموں کی منظوری دے دی ۔جس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور پوری شدومد کے ساتھ منظور کرایا گیا مگر دیکھنے میں آیاہے کہ اسی شدومدکےساتھ اس پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا ہے ۔جہاں جس طاقتور ملک کا زورلگتا ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ میںعالمی سیاسی مفادات کیلئے سب کچھ تج دیتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصددنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔یہ خلاف ورزیاں انفرادی سطح پر ہوں ےا اجتماعی ہر دو سطح پرپورے کا پورا معاشرہ ظلم و جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔اس پہ مستزاد یہ کہ یہ ظلم و جبر صرف پسماندہ معاشروں تک محدود نہیںبلکہ یہ سلسلہ جمہوریت پسند ترقی یافتہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردارامریکہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ میں نسلی تعصب اتنا عام ہے کہ اس کی مثال دوسرے معاشروں میں کم ہی ملتی ہے۔تعصب انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی ہے جس سے کئی نسلیں متاثرہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے توریاستی خلاف ورزیاں بھی عام ہیں۔ فلسطین اورمقبوضہ کشمیر اس کی نمایاں مثال ہیں۔فلسطین میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے باعث لاکھوں فلسطینیوںکا بنیادی حق آزادی پامال ہو رہا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے ستائے کشمیری اقوام عالم کی بے حسی پر شکوہ کنا ں رہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کی آڑ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے عزیزو اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کی سیاہ ترین تاریخ کا ایک باب ہزاروں گمنام قبریں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے بھارت سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اس پربھارت کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب بلیک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت قابض انتظامیہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کران کا مستقبل تباہ کررہی ہے۔ بھارتی فوج کے شر سے کشمیری بچے بھی محفوظ نہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پارز ایکٹ کے بدنام زمانہ قانون کے تحت بھارتی فوج کےلئے کسی بھی کشمیری کی جان لینا معمولی بات ہے۔ اس غیر انسانی قانون کے خاتمے کا ہیومین رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کرچکی ہیں لیکن سب بے سود۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالے قانون افسپا کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے پروگرام ڈائریکٹر ششی کمار ویلاٹھ کی طرف سے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افسپا 1958ءاور 1990ءکی فوری واپسی کیلئے اقدامات کرے۔ مقامی اور عالمی سطح پر افسپا کیخلاف بحث اور افسپا کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جاری سلسلے کے تناظر میں اس متنازعہ قانون کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہئے۔ماہرین کے ادارے اب اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ جہاں کہیں بھی افسپا لاگو ہے اس کی وجہ سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ ان اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افسپا نے ان علاقوں کو محفوظ بنانے کے بجائے عام لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا ہے۔ بھارتی حکام افسپا کے دفاع کیلئے قومی سلامتی کا بہانہ بنانے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہایوں کے دوران قابض فوج ہر حربہ آزما چکی ہے لیکن کشمیریوں کے حوصلے شکست نہیں کھا رہے۔آزادی کا حصول ہر کا کا بنیادی حق عالمی چارٹر بھی اس کی حمایت کرتا ہے لیکن بد قسمتی کہ اس چارٹر پر عملدرآمدکے ضامن ادارے خود مصلحت کوشی کا شکار ہیں۔یہ صورتحال عالمی امن کےلئے صرف خطرناک ہی نہیں تباہ کن ہے۔

نیب کی غیر تسلی بخش کارکردگی !

riaz-ahmed

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں دس درجے کمی خوش آئند ہے۔ حکومت اور نیب کی طرف سے اس رپورٹ کو ایک کامیابی قرار دیاجارہا ہے۔ کرپشن کے عالمی دن کے موقع پر جہاں پاکستان میں کرپشن کی تحقیقات کرنے والا سب سے بڑاادارہ قومی احتساب بیورو(نیب) پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں دس درجہ کمی کاکریڈٹ لے رہا ہے وہیں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیاملک میں کرپشن واقعی کم ہوئی ہے اور اس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نہیں۔قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نیب کے حکام اپنی کارکردگی سے زیادہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں نیب کی کاروائیاں اگرچہ سیاسی انتقام کی ایک صورت تھیں تاہم اس ادارے کی کارکردگی گزشتہ چھ برس کی جمہوری حکومتوں سے بہتر تھی۔ مشرف دور میں کئی سابق وزرائے اعظم سمیت سرکاری اہلکاران کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ کروڑوں اربوں روپے کی مالی بدعنوانی سے لے کر دس ہزار روپے کی کرپشن کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی تھی۔ جمہوری حکومتوں کے آنے کے بعد اس ادارے کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔چیئرمین نیب کی تعیناتی کا تمام تر دارومدار حکومت اور اپوزیشن کو مل جانے سے اس عمل کی شفافیت مجروح ہوئی اور نیب کی کارکردگی سیاسی دباو¿ کے باعث بری طرح متاثر ہوئی ۔پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت اور موجودہ حکومت کے اڑھائی سال کے دوران نیب کی کارکردگی میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا۔ قومی احتساب بیورو کی کارکردگی سرکاری اہلکاروں اور موسمی فراڈیوں کے حوالے سے تو بہت بہترہوئی ہو گی جیسے ڈبل شاہ سکینڈل یا مضاربہ سکینڈل کی صورت میں، لیکن سیاستدانوں کے خلاف نیب کی کارروائی غیر موثر رہی ہے۔ نیب کا حال یہ ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران رینٹل پاور ، سیف سٹی ، ریلوے ، سی ڈی اے ، نیشنل بنک ، ہاو¿سنگ سوسائٹیوں ،این ایچ اے ، پی ڈبلیو ڈی ، ایف بی آر ، این آئی سی ایل اوراین ایل سی کرپشن سکینڈل میں کسی اہم اور بڑی مچھلی کو نیب نے نہیں پکڑا۔ اگر قومی احتساب بیورو کی کرپشن کے خلاف تحقیقات غیر جانبدار اورسیاسی دباو¿ سے آزاد ہوتیں تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اورراجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر امین فہیم( مرحوم)، سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق اور دیگر بااثر افراد باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ نیب اٹھارہ کروڑ عوام کے ٹیکس پر کام کرنے کے باوجود بااثر شخصیات کے خلاف کافی شواہد اکٹھے نہیں کرپایا۔نیب کی کمزور تحقیقات کے باعث مالی بدعنوانی کے مرتکب افرادعدالتوں سے باآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔ بیاسی ارب روپے کی کرپشن کرنے والے توقیر صادق لاہور میں کھلے بندوں موجود ہیں ۔ یہ وہی توقیر صادق ہے جس کی گرفتاری کے لیے نیب نے کروڑوں روپے خرچ کیے تھے۔نیب کے سابق چیئرمین نے سرکاری سطح پر سات ارب روزانہ کرپشن تسلیم کی تھی تاہم اس کرپشن کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات اب تک نہیں کیے جا سکے۔ان اعدادوشمار کی تصدیق یوں بھی ہو سکتی ہے کہ ملک میں اس وقت سات سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ہر سرکاری منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کاامکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔نیب کے طریق کار میں دو اہم اوربڑی خامیاں ہیں جو اس ادارے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ نیب کی طرف سے ہر کرپٹ شخص کو دو آپشن دیئے جاتے ہیں ابتدائی انکوائری کے بعد ہزاروں روپے سے لے کر اربوں روپے تک کی کرپشن کرنے والوں کو وی آر (Voluntary Return) یعنی رضاکارانہ واپسی کااختیار دیا جاتا ہے۔ اس سہولت کے تحت اگر لوٹی ہوئی کرپشن کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کر دی جائے تو نیب اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ نیب ایسے افراد کو خوردبردکی جانے والی رقم قسطوں میں واپس کرنےکی سہولت بھی دیتا ہے اور سرکاری افسرہو نے کی صورت میں اس کی سرکاری نوکری کوبھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔دوسری صورت میں اگر کرپٹ شخص رضاکارانہ تعاون سے انکار کرے تو نیب انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کر دیتا ہے۔ تفتیش کے دوران اگر کرپشن ثابت ہو تو پھر نیب کرپٹ شخص کو پلی بارگین یعنی لوٹی ہوئی رقم جرمانہ کے ساتھ واپس کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ جرمانے کے ساتھ رقم کی واپسی پر نیب مقدمہ پر مزید کاروائی روک دیتا ہے۔ نیب کا یہ طریق کار متنازعہ ہے اور کرپشن بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ سات آٹھ برس کے دوران کسی اہم شخصیت ،سرکاری افسر ،سیاستدان یا فوجی افسر کو نیب عدالت سے سزا نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب کی تمام تر توجہ صرف لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی تک محدودہے۔نیب افسران کو لوٹی ہوئی رقم بازیاب کرانے میں اس لیے بھی زیادہ دلچسپی ہے کیوں کہ اس طرح نیب افسران ، ملازمین اور حکام کوانعامی رقم، سہولیات اور مراعات ملتی ہیں اور نیب رقم کی وصولی پر اپنی کارکردگی کی بہتر تشہیر کرسکتا ہے۔ نیب کا ادارہ جب سے بنا ہے تب سے ہی اس کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ یہ صرف مخصوص سیاست دانوں کو ہی اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کا ثبوت حالیہ مقدمہ ہے جس میں ایسے الزامات نیب نے لگائے ہیں جن کا وہ خود بھی سپریم کورٹ میں کو ئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ہے۔ جبھی تو معزز عدالت کے جج صاحبان کو کہنا پڑا کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیب نے عدالت میں بغرص ثبوت ایک سو پچاس سیاستدانوں اور بیورو کریٹس پر الزامات لگا کر اپنے ادارے کو ہی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہناہے کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتی ہے تو نیب کے قانون میں کیوں نہیں کر سکتی۔ کیوں نہ نیب کی اندرونی غیر تسلی بخش کارکردگی کی تفتیش ایف آئی اے کو دے دیں۔وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب درست کہتے ہیں کہ نیب کیلئے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ لگتا ہے آج واقعی نیب کے اپنے احتساب کی بھی بہت ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن کے خاتمے میں وفاقی حکومت کی دلچسپی ہے۔ کیا وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر چیئرمین کی تقرری کے بعد بری الذمہ ہیں ۔ چیئرمین نیب جو مرضی کرتا رہے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ کیا وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے نیب کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک لانے کیلئے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے ہاتھوں چیئرمین بننے والا شخص کس طرح حکومتی اور اپوزیشن کے کرپٹ اراکین کے خلاف تحقیق کرے گا۔

بنگلہ دیش میں دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل عام

naghma-habib

1947ءمیں پاکستان بنا تو اس کے بنانے والوں میں اس کے مشرقی اورمغربی دونوں حصوں کے لوگ شامل تھے ، کسی کے خلوص میں کسی دوسرے سے کمی نہ تھی، سب کی قربانیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھیں لیکن اس کی بدقسمتی کہیے کہ اس کے بننے کے فوراََ بعد یہاں کچھ ایسے لوگوںنے اس کی باگ ڈور سنبھالی جن کو ملک سے زیادہ اپنی ذات اور ذاتی مفادات میںدلچسپی تھی اسی چیز کا دشمن نے فائدہ اٹھایا اور ملک کے دونوں حصوں میں نفرت کا ایسا بیج بویا کہ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا ۔مشرقی پاکستان میں انہیں ایک انتہائی موثر مہرہ شیخ مجیب الرحمن کے نام سے میسرآ یا جس نے بھارت کے منصوبے کو ہر صورت پورا کیا۔ بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میںظلم و بر بریت کا جو بازار گرم کیے رکھا اس کے گواہ آج بھی زندہ ہیں ۔مکتی باہنی اور مجیب کے لیے ہر غیر بنگالی کسی انسانی سلوک کا حقدار نہیں تھا ان کو ہر جگہ مارا گیا اور بہت ظالمانہ طریقے سے مارا گیا۔مغربی پاکستان سے محنت مزدوری کے لیے گیا غریب رکشہ ڈرائیور بھی اُن کی نظر میںغاصب تھاحالانکہ وہ دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے کماتا تھا لیکن چونکہ وہ بنگالی نہیں پنجابی،پٹھان،بلوچی یا سندھی تھا لہٰذا واجب القتل تھااور یوں بھارت کے ایجنڈے کو بڑی خوبی سے پورا کیا اور پاکستان کو توڑ کر دم لیا۔ مجیب کو بہت خوبی سے بھارت نے استعمال کیا، حالات خراب کیے اور پھر بنگالیوں کی مدد کے بہانے مشرقی پاکستان میں گھس آیا، بین الاقوامی سرحدوں کا خیال رکھا اور نہ ہی سیاسی سرحدوں کا اور بنگلہ دیش بنا لیا، اور اعلان بھی کر دیا کہ یہ بھارت ہی کا کارنامہ ہے، اندرا گاندھی نے کھلم کھلا یہ اعلان کیا کہ ٓاج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اندر ا گا ندھی کا یہ کہنا ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہی دو قومی نظریہ ڈبونے کے لیے کیے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے پڑوس میں ایک اور اسلامی ملک کا اضافہ ہو گیا۔ ہاں شیخ مجیب اور اس کی او لاد نے جو بیعت بھارت سرکار کے ہاتھ پر کی اس کی لاج اب اس کی بیٹی شیخ حسینہ واجد رکھ رہی ہے ۔ اس نے بر سر اقتدار آکر ایک دفعہ پھر”را “کے ا یجنڈے پر کام کرنا شروع کر دیا اور ایک بار پھر بنگلہ دیشی عوام کو پاکستان کے خلاف کرنے کی مہم شروع کر دی۔اپنے خاندان پر بھارت کے احسانات کا بدلہ چکانے کے لیے اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس نے محب وطن پاکستانیوں کو پھانسیاں دینے کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ملا عبدالقادر کی پھانسی کے بعد شیخ حسینہ واجد نے کہا یہ پہلی پھانسی ہے ہم پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو ایک ایک کر کے ختم کریں گے اور اس نے بنگلہ دیش کو سیکولر ملک بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ۔ اس نے اپنے کہے پر عمل کرتے ہوئے اس سب کچھ کو جاری رکھا ہوا ہے اور ابھی حال ہی میں احسن محمد مجاہد جن کا تعلق جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے قدیر چوہدری کو پاکستان کی حمایت کے الزام میں پھانسی دی گئی اور انہیں غدار قرار دیا گیاجبکہ وہ حکومت وقت اوراُس وقت کے اپنے ملک کے وفادار تھے۔ غداری کی تعرلیف پر تو شیخ مجیب اور اس کی بیٹی پورا اترتے ہیںجنہوں نے اپنے ملک اور حکومت کے خلاف کام کیا۔شیخ حسینہ اور اس کی حکومت کا اپنے محسن کو خوش کرنے کے لیے یہ واحد اقدام نہیںبلکہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثقافتی اور دیگر معاہدے بھی کر رہی ہے۔بھارت، بنگلہ دیش کے عوام کو بھی نزدیک لانے کے لیے ہر ممکن کو شش کی جا رہی ہے اور اس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے کہ دونو ں ممالک میں سوائے اس کے کوئی رشتہ نہیں کہ ان کی سرحدیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں لیکن دل اگر مصنوعی طور پر جوڑ بھی دیے جائیںتو کیا یہ ایک مستقل رشتہ بن سکے گا یا شیخ حسینہ کے جاتے ہی یہ تمام محبت بھی دفن ہو جائے گی اور تاریخ کے صفحات کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو جائے گا ،جب بنگلہ دیش کے عوام اس حقیقت کو تسلیم کر لیںگے کہ 1971ءمیں اُن کے ملک میں قتل عام کا ذمہ دار بھارت تھا پاکستان نہیں، پاکستان اپنے عوام کی یوں نسل کشی کبھی نہیں کر سکتا بلکہ یہ سب کچھ اُس منصوبے کا حصہ تھا جو بھارت اور ”را“ نے تیار کیا جس کا مقصد دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کرنا تھا اور اُسی کے لیے اُس نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا،مشرقی اور مغربی پاکستان کے نام پر دونوں طرف کے مسلمانوں کو کاٹ کر رکھ دیا اور کمال چالاکی اور عیاری سے بنگا لیوں کو پاک فوج کے مقابل لا کھڑا کر دیا اور پھر اپنی دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل عام کروایا اور اُس کو پاک فوج کے حصے میں ڈال دیا گیا اور اس تعداد کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔عورتوں کی بے حرمتی بڑی بے دردی سے کی گئی اورا سے بھی پاک فوج کے حصے میں ڈال دیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ پھر آخر مکتی باہنی وہاں کیا کر رہی تھی اور وہ بھارت سے تربیت لے کر کیوں آرہی تھی اس کیوں کا جواب شیخ مجیب اور بھارت سے بڑھ کر کسی کے پاس نہیں ۔مجیب نے اپنے اقتدار کی خاطر نہ صرف اپنے ملک کی قربانی دی بلکہ اپنے لوگوں کا خون بھی بے تحاشہ بہایا اور اب اس کی بیٹی بنگالیوں کے خون کو اپنی جاگیر سمجھ رہی ہے۔ اُس کے لیے جماعت اسلامی تو قابل سزا ہے ہی اور اس نے 2013 ءسے اس پر پابندی بھی لگا رکھی ہے اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی کر رہی ہے تو کارخانوں میں، گھروں میں ،سڑکوں پر اورہر جگہ مرنے والے مغربی پاکستانیوں کے قاتلوں کو کون سزا دے گا ۔ کیا حسینہ واجد کی انصاف پسند عدالتوں میں ایسا کوئی مقدمہ درج کیا اور لڑا جا سکتا ہے۔
بھارت کا مکروہ چہرہ نہ صرف 1971ءمیں بلکہ اب بھی بنگلہ دیش میں نظر آرہا ہے اور پاکستانیوں کے خلاف اُس نے اپنا گھناوناکھیل اب بھی جاری رکھا ہوا ہے کہ کہیں بنگلہ دیش کے عوام اپنے اصل دشمن کو پہچان نہ لیںلیکن حقیقت کو شاید کچھ اور سال تو چھپایا جا سکے لیکن تا بکے انشاءاللہ بہت جلد بھارت، مجیب ،حسینہ واجد اوران جیسے دوسرے غداروں کا چہرہ بنگلہ دیشیوں کے سامنے آجائے گا اور وہ جان جائیں گے کہ ان کا اصل غدار اور اصل مجرم کون ہے ۔ پاکستان ، پاک فوج،یا پھر بھارت، مجیب اور اس کا بھارت نواز ٹولہ۔

قربانی تودینا ہی پڑے گی

uzair-column

کراچی کی صورتحال پر وفاق نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کراچی میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔اس حوالے سے سیاسی اورعسکری قیادت قطعی طور پر متفق ہے ۔وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ آپریشن کے باعث امن وامان بحال ہوا ،بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے ۔کراچی میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔دہشتگرد عناصر کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کیلئے موثر اقدامات پر توجہ دینا ہوگی ۔کراچی میں رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ خبر یہ بھی ہے کہ چار ماہ کیلئے اختیارات میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔عسکری قیادت نے بھی کہا ہے کہ آپریشن کا جو عمل جاری کیا گیاہے اس کو کسی صورت واپس نہیںلیا جاسکتا ۔یہ ایک غیرسیاسی آپریشن ہے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کیخلاف کیا جارہا ہے البتہ یہ بات ضرور سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایک بات طے شدہ ہے کہ امن وامان ہر صورت قائم رکھنا ہے تو ہر تین چار ماہ بعد یہ اختیارات کامسئلہ کیوں آن کھڑا ہوتاہے ۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپریشن کو کراچی اورسندھ سے نکل کر ملک کے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشتگرد اوردہشتگردوں کے سہولت کار ملک کے دیگر صوبوں میں بھی موجود ہونگے اور ان کی گرفتاریاں بھی انتہائی ضروری ہیں ۔شاید اس اقدام کے اٹھانے کے بعد پھر رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ درپیش نہ آئے کیونکہ یہ تاثر بھی جنم لے رہا ہے کہ آپریشن صرف کراچی اورسندھ میں ہی کیوں ؟ گو کہ وہاں پر دہشتگردی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں ،ٹارگٹ کلنگ بھی زیادہ ہے ،اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں بھی ہورہی ہیں،کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا وہاں پر انسانی خون ارزاں ہوگیا تھا لیکن اب وزیراعظم کی بہترین کاوشوں اورعسکری قیادت کی بہترین صلاحیتوں کے باعث شہر قائد میں رونقیں واپس آرہی ہیں تو اس سلسلے میں سب کا تعاون کرنا انتہائی ضروری ہے ۔یہ بات تو کراچی آپریشن کے حوالے سے ہورہی تھی ،اب ملک کے اندر کچھ اوربھی دیگر اہم مسائل اس وقت زیر بحث ہیں جن میں سب سے اہم مسئلہ پی آئی اے کی نجکاری ہے ،اس نجکاری کے حوالے سے اپوزیشن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ قومی اسمبلی سے روزانہ واک آﺅٹ کریں گے ۔نجکاری کرنے کی وجوہات کو سامنے لایا جائے اگر اسی طرح حکومت نجکاری کرتی رہی تو کل کوئی بھی ادارہ نہیں بچ سکے گا ۔تاہم وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی کارکردگی بہترین بنانے کیلئے قانون سازی کررہے ہیں ،قومی ائیرلائن کو منافع بخش قومی ادارہ بنانا چاہتے ہیں ،نئے آرڈیننس میں ملازمین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔پی آئی اے ملازمین کے حقوق کسی صورت سلب نہی ہونگے اور نہ ہی پی آئی اے کی نجکاری کی جارہی ہے ۔چیئرمین پی آئی اے نے تمام یونین کے عہدیداروں کو کل طلب کرلیا ہے تاکہ اس صورتحال پر قابو پایا جاسکے ۔دوسری جانب ایک اورصورتحال بڑی گھمبیر صورت اختیار کرتی جارہی ہے ،ڈاکٹر عاصم جو اس وقت مختلف الزامات کے تحت زیرحراست ہیں وہ جب عدالت میں پیش ہوئے تو گویا کہ پھٹ ہی پڑے انہوں نے کہا کہ گناہ کسی کا ہے اور پکڑا مجھے جارہا ہے ،مجھے اس طرح ذلیل نہ کیا جائے اگر مارنا ہے تو مجھے مار دیا جائے ۔میرے ہی ہسپتال میں مجھے ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا،میری بیوی کینسر کی مریضہ ہے وہ کچہریوں کے چکر کاٹ رہی ہے ،والدہ میری انتہائی بزرگ ہیں جومجھ سے ملاقات کیلئے تڑپ رہی ہیں گو کہ اگر سوچ بھی لیا جائے کہ ڈاکٹر عاصم کی یہ باتیں درست ہیں تو یہ تو اس وقت سوچنے کی بات تھی جب یہ سارے کام ہورہے تھے یا پھر کیے جارہے تھے ۔اس وقت کیوں نہیں ان کے آگے حد بندی کی گئی ۔آج جو تحقیقات کے دوران یہ بتارہے ہیں کہ غلطی کسی کی ہے پکڑا مجھے جارہا ہے تو واضح طور پر کیوں نہیں بتا دیتے کہ آخر غلطی کس شخصیت کی ہے ۔تاکہ وہ پابند سلاسل ہو انہی غلطیوں کے خاتمے کیلئے اس وقت پاکستان میں انتہائی اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔عمران فاروق قتل کے حوالے سے دیکھا جائے تو بہت اہم پیشرفت کی جارہی ہے ،ان ملزمان نے بھی اہم انکشافات کیے ہیں ،عدالت نے ان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر دیدیا ہے ۔امکانات یہ ہیں کہ کچھ ایسی شخصیات پرعنقریب ہاتھ ڈال دیا جائے گا جس کے بعد بہت سے حالات درست ہونا شروع ہوجائیں گے ۔گذشتہ روز اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ چند ایک بڑے سیاستدانوں کے پکڑنے سے حالات درست نہیں ہوتے ہم یہ کہیں گے کہ چند ایک ہوتے ہی ہوتے بہت سارے ہوجائیں گے ۔آخر کار کرپشن کو ختم تو کرنا ہے ،سہولت کاروں کی گردن گرفت میں لانی ہے ،دہشتگردوں کو انجام تک پہنچانا ہے ،ملک میں امن وامان قائم کرنا ہے ۔اس سب کیلئے قربانی تو دینا ہی پڑے گی ۔

Google Analytics Alternative