کالم

سیاست نہیں کرکٹ

uzair-column

ہمارے یہاں سیاست ایک ایساشعبہ ہے جس میں کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھل سکتی ہے مگراس کا نشہ اتنا برا ہے کہ جس کو ایک دفعہ لگ جائے تو وہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا چونکہ سیاست میں سیاسی قلابازیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس وقت کون سا سیاستدان کہاں چلا جائے ،کس کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہوجائیں ،انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد کس کی حمایت کرے ،مفادات اٹھانے کیلئے کس کا دامن تھام لے ،اس ہی کو سیاست کہتے ہیں ۔سیاست سے ہی ملتا جلتا ایک اورکھیل ہے وہ سیاسی کھیل نہیں کرکٹ کا کھیل ہے ۔کیونکہ کرکٹ میںبھی گگلی چلتی ہے اور گگلی کا پتہ نہیں چلتاکہ گیند کہاں سے کیسے گھوم کر وکٹ کو جا ٹکرائے پھر کبھی ان سوئنگ ہوتی ہے،کبھی آﺅٹ سوئنگ ہوتی ہے،کبھی یارکر ہوتا ہے ،کبھی باﺅنسر ہوتا ہے تو کبھی گیند سیدھی رہتی ہے ،کبھی وائڈ ہوجاتی ہے ،کبھی سنک ہوجاتی ہے ،کبھی کاٹ بیہائینڈ ہوجاتا ہے ،مطلب اورمقصد یہ ہے کہ کسی بھی آنیوالے بال کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ کھلاڑی آﺅٹ کرے گی،اس کو چوکا لگا،اس کو چھکا لگے گا ،یہ نو بال ہوجائے گی یا پھر وائڈ یا کھلاڑی اس کو کھیلتے وقت کیچ آﺅٹ ہوجائیگا۔اسی طرح سیاسی حالات ہیںکہ آنیوالے لمحے کے بارے میں سیاستدان کچھ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کس وقت اس کی اورکہاں پر پگڑی اچھل جائے ۔وہ بھی جذبات سے سیاسی میدان میں نعرے لگا لگا کر شور مچا رہا ہوتا ہے اور کھلاڑی بھی پچ پر کھڑا ہوکر پوری طاقت سے شارٹ کھیل رہا ہوتا ہے ۔یہ تو سیاست اورکرکٹ کا موازنہ ۔اب بات دراصل یہ ہے کہ کون کہاں کامیاب ہوتا ہے ،ابھی تک پاکستان کے حصے میں ایک ورلڈ کپ آیا ہے جو کہ 1992ءمیں جیتا گیا اور اس کا سہرا عمران خان سرجاتا ہے ۔بس اسی جیت نے کپتان کا دماغ خراب کردیا اور انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے گیارہ افراد کی ٹیم سے ورلڈ کپ کو جیت سکتے ہیںتو وہ کیوں نہ سیاست کی دنیا میں چھلانگ لگائیں اسی طرح وہ ملک کا انتظام وانصرام چلا سکتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ کرکٹ ٹیم کو چلانا اور ملک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ایک اچھا منیجر وہی ہوتا ہے جو اپنی زندگی کو مینج کرے اور پھر آگے نکلتا چلا جائے ۔بہرحال کپتان نے سیاست میں قدم رکھا پاکستان تحریک انصاف بنائی ۔خراماں خراماں سفر طے کرتے رہے پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کیا وہیں سے کپتان نے محسوس کیا کہ اب اس کے مقابلے کا اس ملک میں کوئی نہیں ۔بس پھر پی ٹی آئی کی ہوا چلی ،اس ٹرین میں لوگ سوار ہوتے چلے گئے ،جاوید ہاشمی جیسے بھی زیرک سیاستدان کپتان کے ساتھ مل گئے ۔مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ کپتان یہ جان لے کہ میں باغی ہوں اور پھر وہی ہوا کہ جاوید ہاشمی نے بغاوت کردی ۔عمران خان کو معاملات سمجھ نہ آئے اور وہ چلتے رہے ان کی پارٹی میں لوگ شامل ہوتے گئے ۔اس زوعم میں انہوں نے دھرنا بھی دیا ،طاہرالقادری کی جانب بھی قدم بڑھایا ،مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا ۔ایوانوں کا بائیکاٹ کیا ،استعفے دئیے ،این اے 122میں دھاندلی ثابت کرنے کیلئے اتنا شوروغوغا مچایا کہ وہاں پر آخر دوبارہ الیکشن ہوئے مگر پھر بھی منہ کی کھانا پڑی ۔شاید کپتان یہ سمجھ رہاتھا کہ یہ کوئی بھی ورلڈ کپ جیسا میچ ہے مگراس سیاسی وکٹ پر بڑے بڑے مہاپُرش کھلاڑیوں سے واسطہ پڑا انہوں نے عمران خان کو ایسی ایسی گگلی کرائی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ گیند کہاں سے گھوم کر کیسے آرہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ این اے 122میں انہیں باﺅنسر لگا تو غلط نہ ہوگا۔اب جہاں تک آزاد امیدواروں کی بلدیاتی انتخابات میں کامیابیوں کی کہانی ہے تو ان میں سے بھی اکثریت ن لیگ ہی کی طرف جارہی ہے ۔گو کہ عمران خان کرکٹ کی ٹیم کیلئے کامیاب کپتان ہوں گے لیکن سیاست کی پچ پر نوازشریف نے عمران خان کو باﺅنسر پر باﺅنسر مارے ،قدم قدم پر کلین بولڈ کرتے رہے ،ان سوئنگ کرا کر وکٹ کے پیچھے کیچ آﺅٹ بھی کیا ،ان سے چھکے بھی لگوائے مگر باﺅنڈری پر پھر کیچ کرلیا مقصد یہ ہے کہ پی ٹی آئی گراﺅنڈ کے اندر بھاگتی رہی ن لیگ نے اس کو خوب فیلڈنگ کرائی ،تھکا تھکا کر اتنا دوڑایا کہ آخرکار کپتان کو یہ تسلیم کرنا ہی پڑا کہ اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے ۔اس بیان کے بعد تو کم از کم کپتان کو یہ چاہیے تھا کہ وہ اس سیاسی دنیا کو خیرآباد کہہ دیتے کیونکہ یہ بھی جان لینا چاہیے تھا کہ وہ اس سیاست کیلئے ان فٹ ہیں ۔لہذا عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس سیاسی پچ کو خیر آباد کہہ دیں اوربہتر تو یہ ہے کہ دنیائے کرکٹ میں واپس جاکر نئے آنیوالے کھلاڑیوں کی کوچنگ کریں کیونکہ اس وقت کپتان کی عمر لگ بھگ 62سال کی ہوچکی ہے ۔2018ءکے ہونیوالے انتخابات میں وہ 65سال کے ہوجائیں گے اور جب 2023ءکے انتخابات ہوں گے تو وہ ستر سال کے ہوچکے ہوں گے ۔2018ءمیں تو ایسا کوئی چانس نظر نہیں آرہا کہ وزارت عظمیٰ کا تاج عمران خان کے سر پر سجے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ مخلوط حکومت بنے اور اس مرتبہ وزارت عظمیٰ کا تاج شہباز شریف کے سر پر سجے ۔پنجاب کے حالات بھی کچھ اسی طرح ہونگے ۔2023ءمیں تو حالات پھر کچھ اور ہی فیصلہ کریں گے لہذا یا تو کپتان سیاست کو خیرآباد کہیں یا پھر 2018ءکے انتخابات میں کچھ وزن بنانا ہے تو کے پی کے پر جاکر بھرپور توجہ دیں ۔

ریحام خان کا مقدمہ

asif

میڈیا میں عمران کا مقدمہ پورے اہتمام سے پیش کیا جا رہا ہے،ریحام کامقدمہ کہاں ہے؟

عصبیت اور رومان شمشیر بکف ہو کر عمران کے دفاع میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ارشادِ تازہ یہ ہے کہ عمران تو بہت سادہ، بہت معصوم اور نہایت درویش صفت انسان ہیں، یہ تو ریحام تھی جو شیطان کی خالہ تھی،صبح شام منادی ہے،عمران نے تو اسے بہت موقع دیا وہی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ ئی،عمران تو گھر بسانا چاہتے تھے ریحام کے لیکن عزائم ہی کچھ اور تھے، وہ تو دولت کی ہوس میں مبتلا تھی،وہ تو ہے ہی ایک لالچی خاتون، اس نے پہلے خاوند کے ساتھ بھی یہی کیا،یہ اس کی عادت ہے،اس نے تحریکِ انصاف کے مالی معاملات میں دلچسپی اسی لیے لینا شروع کی کہ مخیر حضرات سے براہِ راست رابطہ کر کے مالی مفادات سمیٹ سکے، وہ ایک ایجنڈا لے کر آئی تھی، وہ برطانوی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ تھی، اس نے عمران کو قتل کر کے ان کی جگہ لینا تھی،وہ اتنی خطرناک عورت تھی کہ اس نے عمران کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اسی لیے اس نے آتے ہی بنی گالہ کے سارے ملازم تبدیل کر دیے تھے اور اپنے بندے تعینات کر دیے تھے، وہ تو خفیہ ایجنسی نے عمران کو بتا دیا اور ریحام کا منصوبہ ناکام ہو گیا ورنہ اس عورت نے تو عمران خان کو قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ایک صاحب نے جن کے ہر پروگرام میں خطرہ رہتا ہے کہ بریک لینے سے پہلی ہی قیامت نہ آ جائے آ گے بڑھ کر گرہ لگائی کہ صاحب زہر کا خطرہ نہیں تھا زہر دے دیا گیا تھا،یہ زہر عید کے موقع پرمٹھائی میں ملا کر دیا گیا جس سے عمران کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں اسلام آباد کے ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا معدہ واش کر کے ان کی جان بچائی گئی۔گویا ریحام ایک ایسی خونی عورت تھی جس نے شادی کی پہلی عید پر ہی اپنے سہاگ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ایک بڑھیا نے لکھا ریحام نے شادی کی ہی صرف اس لیے تھی کہ اس کا پروفائل ہائی ہو جائے ۔اب جب پروفائل ہائی ہو گیا تو اسے آگے بڑھ جانا تھا۔بڑھیا معلوم نہیں غصے میں تھی یا ماضی میں ایسی ہی کوششوں میں ناکامی کے دکھ اس کے قلم سے پھوٹ پڑے؟

عمران کا مقدمہ پیش کرنے والے معلوم ہوتا ہے کسی محاذ پر ہیں اور ایسا ایک منظم منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ہمیں پورے خشوع و غضوع کے ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ’مغرب زدہ ‘ ہونا بھی ہے جس نے مسائل کھڑے کیے۔عمران کی فیملی ایک مغربی عورت کو قبول نہ کر سکی۔یعنی ایک تیر سے دو شکار کیے گئے۔ایک تو ریحام کے کردار پر انگلی اٹھا لی گئی دوسرا عمران خان کو ایک انتہائی مذہبی شخص اور ان کے گھرانے کو ایک انتہائی مذہبی گھرانے کی صورت پیش کیا گیا تا کہ دنیائے سیاست میں سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آ ئے۔لیکن حیرت ہے بنی گالہ کے درباری یہ نہیں بتا رہے کہ جب عمران نے ریحام کو شریکِ حیات بنانے کا فیصلہ کیا تھااس وقت کیا ریحام شٹل کاک برقعہ پہنتی تھی اور ان کی پرہیز گاری سے متاثر ہو کر عمران نے شادی کر لی لیکن بعد میں معلوم ہوا وہ تو ایک ’ مغرب ذدہ‘ خاتون ہیں جس سے عمران کا جذبہِ ایمانی مجروح ہو گیا اور بات طلاق تک پہنچ گئی۔
ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ماضی تھا جو شادی کے بعد عمران کے علم میں آیا اور اس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔سوال یہ ہے کون سا ماضی ؟اگر بات ماضی تک جانی ہے تو عمران کا ماضی کیسا ہے؟اس دعوے کی شانِ نزول کیا ہے کہ ’’ میں خواتین کو خوب سمجھتا ہوں‘‘۔ریحام نے تو ایسا کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔عمران خان کے ماضی کو ایک مبینہ توبہ کے پیچھے رکھ کر بھلا دینے کے وعظ کرنے والے کس بے حیائی سے ایک خاتون کی کردار کشی کر رہے ہیں۔آدمی کو گھن آ تی ہے۔

عمران کی محبت میں ایک دعوی یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران کی بہنیں اس شادی سے خوش نہیں تھیں اور عمران اپنی بہنوں کے لاڈلے بھائی ہیں ااور ان سے بہت پیار کرتے ہیں اس لیے بہنوں کی یہ ناراضی بھی معاملات کی خرابی کا باعث بنی۔اس میں بھی عمران کی کردار سازی کا جذبہ کارفرما ہے کہ انہیں ایک ایسے فرد کے روپ میں پیش کیا جائے جو رشتوں کا بہت پاس رکھتا ہے۔رشتوں کا یہ پاس عمران کو اس وقت رکھنا چاہیے تھا جب وہ شادی کر رہے تھے اور بہنیں شامل نہیں ہو رہی تھیں۔کیا ہمیں معلوم نہیں ان کا سگا کزن فوت ہو گیا وہ جنازے میں شریک ہوئے نہ تعزیت کی البتہ اپنی سالگرہ کا کیک ضرور کاٹا۔رشتوں کا پاس اس وقت کہاں گیا تھا؟یہ حقیقت کب تک جھٹلائی جا تی رہے گی کہ رشتوں اور انسانی احساسات کی عمران نے کبھی پرواہ نہیں کی۔

ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عمران ایک درویش منش انسان ہیں اور انہیں یہ بات پسند نہ آئی کہ ریحام نے شادی کے بعد بھاری مالیت کے تحائف لینا شروع کر دیا۔گویا ریحام پرلے درجے کی لالچی خاتون تھیں اور عمران دیو جانسن کلبی کے سچے پیروکار ہیں۔بتانے والے یہ بھی بتا دیتے کہ کیا خود عمران نے کبھی کسی دولت مند سے بھاری مالیت کے تھائف وصول کیے۔وہ جو کروڑوں کی مالیت کی گاڑی عمران کو ایک امیر ترین نے تحفے میں دی کیا وہ بنی گالہ ہی میں ہے یا اسے یہ کہہ کر واپس لودھراں بھیج دیا گیا ہے کہ عمران خان قیمتی تحفے لینے کے سخت خلاف ہیں۔

یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ ریحام اتنی لالچی ہے کہ خاموش رہنے کے لیے لندن میں بہت بڑا گھر مانگ رہی ہے۔لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا ہی کیوں جا رہا ہے؟اس کے بولنے سے کسی کو کیا خوف ہے؟اور کیا یہی خوف تو نہیں جو ریحام کی منظم کردار کشی کروا رہا ہے کہ اسے اتنا بے توقیر کر دو کہ جب وہ بولے تو اس سے کم سے کم نقصان ہو؟

معلوم نہیںیہ عمران سے محبت ہے یا احباب کی ریحام سے ’ پروفیشنل جیلسی‘ ۔۔لیکن ایک مرد کے فضائل بیان کیے جارہے ہیں اور ایک خاتون کی تذلیل کی جا رہی ہے۔حالانکہ ہماری تہذیب اور اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے۔عزت صرف اس کی نہیں ہوتی جو میدانِ سیاست میں ہو، عزت انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔رشتہ ٹوٹ گیا ہے تو ایک شخص کی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے کیا لازم ہے کہ ایک عورت کی تذلیل کی جائے اور اسے گالیاں دی جائیں۔حقوقِ نسواں کے علمبردار کہاں ہیں؟

اب جب کہ بزرگ سیاستدان نے ایک صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا ہے: ہماری کوئی تہذیب ہوتی ہے، تو بہت خوشی ہوئی کہ دیر ہی سے سہی انہیں بھی خیال آ گیا کہ ایک تہذیب ہوتی ہے۔تو جناب تہذیب یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک عورت کی کردار کشی نہ کی جائے۔اور یہ بھی کہ مہمان بیٹھا ہو تو بسکٹ کتے کو نہیں مہمان کو پیش کیا جاتا ہے۔

نو ماہ بائیس دن

uzair-column

کپتان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاستدان پبلک پراپرٹی ہوتا ہے اور اس کے معاملات بھی عوامی ہوتے ہیں عوام جاننا چاہتی ہے کہ اس کے شب وروز کیسے گزر رہے ہیں اس کی سرگرمیاں کیا ہیں ۔وہ کہاں جاتا ہے،وہ کس سے ملتا ہے ،اگر اس میں کوئی دخل اندازی کرے تو پھر محسوس نہیں کرنا چاہیے ۔گذشتہ روز صحافی کے سوال پر کپتان سیخ پا ہوگئے ۔یہ درست ہے کہ عمران اورریحام کے مابین جو کچھ بھی ہوا وہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا مگراس سوال کا عمران خان اچھے طریقے سے بھی جواب دے سکتے تھے ۔مگر شرم کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو خود ہی خیال کرنا چاہیے شاید کپتان یہ بھول گئے ہیں کہ جب وہ دوبارہ ایوان میں گئے تھے تو وزیردفاع نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اسی قسم کے الفاظ استعمال کیے تھے کہ ”کوئی شرم ہونی چاہیے ،کوئی حیا ہونی چاہیے “جس پر پوری پی ٹی آئی سیخ پا ہوگئی تھی اور دوبارہ سے انہوں نے الٹی میٹم دینا شروع کردیا تھا کہ اب وہ ایوان میں نہیں جائیں گے ۔چونکہ سیاست ایک اعصاب کی گیم ہے اور جس کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں وہی فاتح ہوتا ہے ۔کپتان میں یہی سب سے بڑی خرابی ہے کہ وہ ایک دم غصے میں آجاتے ہیں اور معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔گو کہ میڈیا نے اس ایشو کو بے تحاشا اٹھایا اورابھی تک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آتی جارہی ہیں گو کہ ہم اس بات کے مخالف ہیں کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی کو اچھالنا اخلاقیات سے بعید ہے مگر اگر کوئی سیاستدان سے ایسا سوال کر ہی بیٹھے تو پھر کم ازکم اس کو ہی صبر وتحمل سے جواب دینا چاہیے جو بھی سانحہ رونما ہونا تھا وہ تو ہو ہی ہوچکا ہے ۔اب بات یہ ہے کہ یہ جو نو مہینے اور بائیس دن ہیں یہ عمران خان کی ساٹھ ،باسٹھ سالہ زندگی پر بھاری ہیں ۔گو کہ ابھی معاملات دب جائیں گے ،حالات بھی درست ہوجائیں گے مگر گاہے بگاہے یہ دھول کہیں نہ کہیں سے اٹھتی رہے گی اور اگر کپتان اس مسئلے پر اسی طرح گرم وسرد ہوتے رہے تو پھر یقینی طور پر یہ ایشو کسی طرح بھی دب نہ سکے گا ۔ابھی تو ریحام کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا گو کہ شاید معاملہ یہ باہمی اتفاق سے ہی حل ہوا ہو مگر آخر کہیں نہ کہیں تو کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ عین بلدیاتی انتخابات سے قبل اتنا بڑا وقوعہ رونما ہوگیا ۔جس کا تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔اب اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان ان سارے معاملات کو بااحسن خوبی ہینڈل کریں ،غصہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے ،صحافی تو پیدا ہی سوال کرنے کیلئے ہوا ہے ،وہ تو ملک وقوم کی آنکھ ہے ،اس نے ہر چیز عوام کے سامنے پیش کرنی ہے اگرمیڈیا خاموش ہوجائے پھر تو ملک وقوم کا اللہ ہی وارث ہے ۔یہی صحافی جب کسی سے اچھا سوال کریں تو وہ اس سیاستدان کے منظور نظر ہوجاتے ہیں اوراگر کوئی ناپسندیدہ سوال کرگزریں تو پھر وہ اس سیاستدان کی آنکھوں میں چبھنے لگتے ہیں ۔انہی عادات کی وجہ سے کپتان نے ہر موڑ پر نقصان اٹھایا ۔آج سے پہلے انہوں نے جو بھی زندگی میں یوٹرن لیے وہ اتنے قابل ذکر نہیں ہیں ۔گو کہ سیاسی دنیا میں عمران خان کو یوٹرن کا بادشاہ کہا جاتا ہے ،ان کا کوئی پتہ نہیں کہ کس وقت وہ کوئی فیصلہ کربیٹھیں چاہے وہ فیصلہ ان کی ذات کے ہی خلاف ہو ۔مگر دوسری شادی کے بعد عمران کا یہ یوٹرن ناقابل تلافی ہے ۔اس کامداوا کرنے کیلئے یقینی طور پر قربانی دینا پڑے گی ۔اب جو آنے والے دنوں میں سیاست کی جارہی ہے اس میں ن لیگ کی سیاست واضح طور پر کامیابی کی جانب گامزن ہے اور آزاد امیدواروں کی لاٹری نکل آئی ہے ۔دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بات ہے کہ آخر کار پی ٹی آئی جو سر سے لیکر پاﺅں تک بلدیاتی انتخاب میں شامل تھی اس کو اتنی بری شکست کیوں ہوئی ۔عمران خان یہ سوچیں کہ ان کے مدمقابل ن لیگ ،وزیراعظم نوازشریف تھے ۔نوازشریف چونکہ انتہائی ٹھنڈے مزاج کے سیاستدان ہیں اورانہوں نے جو بھی سیاسی چال چلی اس میں ہر قدم پر انہیں کامیابی ملتی رہی ۔سڑکوں پر آنے کے بجائے انہوں نے ایوانوں میں آوازیں اٹھانے پر زور دیا پھر جب دھرنا دیا گیا تو اس وقت بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ کا بھرپور ساتھ دیا ۔آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ کپتان نے جس کو اپنا سیاسی کزن بنایا تھا وہ بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلا گیا پھر آخر یہ دونوں تنہا تنہا رہ گئے اور حکومت فتح حاصل کرتی چلی گئی ۔وہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس سے جو بھی خامیاں ہیں ان کو دور کیا جاسکے ۔اندرون خبریں یہ ہیں کہ سنا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک ا نصاف میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیںاور توڑ پھوڑ جاری ہے ۔ایسے میں کپتان سب کو اعتماد میں لینے میں اگر کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ نو ماہ بائیس دن پاکستان تحریک انصاف کو لے ڈوبیں گے ۔

مودی کو کون لگام ڈالے گا؟

uzair-column

 مودی کے ہاتھ میں اقتدار کیا آیا اس نے خطے کا امن تو تہہ وبالا کیا ہی تھا اندرون ملک بھی مطلق العنانیت انتہا کردی ہے اب تو بی جے پی کے وزیر بھی شیوسینا کے نقش قدم پر چلنا شروع ہوچکے ہیں ۔بی جے پی کی ایک وزیر نے ایک غریب سوالی کو اس وقت برے طریقے سے ٹھوکر ماری جب اس نے اس سے سوال کیا ۔اس کے بعد بھارت کے میڈیا نے اس واقعے کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور مودی حکومت سے برطرفی کا مطالبہ کردیا ۔ابھی مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا ہے اس میں تقریباً ہفتے بھر سے زیادہ دن باقی ہیں اس سے قبل ہی وہاں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھانے شروع کردئیے گئے ہیں ۔کشمیری رہنماﺅں کو پابند سلاسل کردیا ہے اورباقی نوجوانوں کو گرفتار کرکے قیدوبند کی صعوبتوں میں ڈالاجارہا ہے۔آسیہ اندرابی نے مودی کیخلاف نکالی جانیوالی ریلی کی بھی حمایت کردی ہے ۔ظاہر ہے بھارت اس چیز سے خوفزدہ ہے کہ اس نے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی مچا کر قبضہ کررکھا ہے اورہفتے میں کوئی شاید ہی ایسا دن خالی جاتا ہو جب اس سرزمین پر کشمیری سبز ہلالی پرچم نہ لہرا رہے ہوں ۔چونکہ مودی بنیادی طور پر پاکستان مخالف ذہن رکھتا ہے ۔اس نے تو کانگریس کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ہمیں سبق نہ پڑھائے چونکہ یہ ایک تخریب کار وزیراعظم ہے اس وجہ سے کسی سے بھی رائے لینا پسند نہیں کرتا لیکن بڑے بزرگوں نے کہا ہے کہ جب گیڈر کی موت آئے تو وہ شہر کی طرف روانہ ہوجاتا ہے تو مودی کہیںپہلے جنگل میں رہ رہا تھا اب وہ شہر میں آچکا ہے اس لیے اس کو یہ اختیارات اور وزارت عظمیٰ ہضم نہیں ہورہی ۔بہت جلد بھارت ٹکڑوں ٹکڑوں میںتقسیم ہوجائیگا۔مودی کے عنان اقتدار میں آنے کے بعد ایسے ایسے وقوعے پیش آئے ہیں جن کی اس سے قبل شاید تاریخ میں مثال نہ ملتی ہو ۔سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی گئی ،گائے کے ایشو پر قتل عام مچایا گیا حتیٰ کہ اگر کسی نے گائے کے گوشت کھانے کے بارے میں یہ بھی کہا کہ یہ صحت کیلئے مفید ہے تو اسے بھی مودی کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا دراصل شیوسینا کے پیچھے مودی ہی موجود ہے اسی وجہ سے اس نے اس تخریب کار تنظیم کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بین الاقوامی برادری نے بھی کیونکرآنکھیں بند کررکھی ہیں پاکستان اس وقت مسئلہ کشمیر اوربھارت کے حوالے سے جو کردار ادا کررہا ہے اس کو بھی تاریخ میں کلیدی حروف میں تحریر کیا جائیگا۔وزیراعظم نوازشریف نے اوبامہ سے ملاقات کے دوران بھارتی دہشتگردی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایشو کو اٹھایا پھر امریکہ کے حوالے بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی فراہم کیے گئے کہ وہ پاکستان میں کس کس طرح تخریب کاری اور انارکی پھیلا رہا ہے ۔یہ ثبوت اقوام متحدہ کو بھی دئیے گئے ہیں ۔وزیراعظم نے جو بھی موقع آیا اس میں مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا چونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کو کسی بھی طرح پاکستان سے جدا نہیں کیا جاسکتا کمال حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت امریکہ ہو یا اقوام متحدہ اس کے پاس باقاعدہ طور پر بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں جو کہ پاکستان نے فراہم کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے ۔اس بات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کو ایک ”جھگڑے کی ہڈی“ بنا کر رکھا ہوا ہے ۔اس سلسلے میں او آئی سی کو بھی اہم کردارادا کرنے کی ضرورت ہے ۔خطے میں جتنی بھی دہشتگردی پھیل رہی ہے اس میں بھارت اور بھارت کی ایجنسی راءملوث ہے ۔حتیٰ کہ انڈیا کے اندر ہونیوالی دہشتگردی کے واقعات جن کا وہ آئے دن پاکستان پر الزام عائد کرتا رہتا ہے وہ بھی راءکے خود پیدا کردہ ہوتے ہیں محض اس وجہ سے وہ الزام تراشی کرتا ہے تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکے ۔مگر وزیراعظم نوازشریف کی مسئلہ کشمیر اور خارجہ پالیسی اچھی ہونے کی وجہ سے بھارت کواس وقت شکست کا سامنا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس معاملات پر بین الاقوامی دنیا پر مزید دباﺅ بڑھائے ۔اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ بھی واضح ہوگا اور اس کی گھناﺅنی حرکتوں کے بارے میں بھی پوری دنیا کو پتہ چل سکے گا ۔لندن ہو یا امریکہ اس وقت سکھ بھارت کیخلاف میدان عمل میں نکل چکے ہیں اور خالصتان کی تحریک بھی زور پکڑتی جارہی ہے ۔بہت زیادہ امکانات یہ ہیں کہ مودی کے دور اقتدار ہی میں بھارت میں سے کوئی نہ کوئی ایک نیا ملک نکلے گا ۔بھارت کی شکست وریخت کا عمل شروع ہوچکا ہے چونکہ وہاں پر ایک نالائق اور سیاسی رموز سے ناواقف شخص کے ہاتھ حکومت چڑھی ہوئی ہے جس کا مطلب ومقصد صرف پاکستان کیخلاف زہر اگلنا ہے مگر مودی کسی بھی صورت اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ہماری مسلح افواج کسی بھی جنگ سے نمٹنے کیلئے ہمہ تن تیار ہیں اور جب کبھی بھی بھارت کنٹرول لائن پر کوئی بھی ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کو ایسا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے کہ اس کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔

پی ٹی آئی ڈینجر زون میں

uzair-column

پنجاب اورسندھ میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات نے ایک بات تو واضح کردی کہ ابھی پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک طویل مسافت طے کرنا ہوگی ۔یوں تو کپتان یہ سمجھ رہے ہیں کہ 2018ءکے انتخابات میں وہ وزیراعظم ہوںگے ۔اس سے قبل بھی انہوں نے وزارت عظمیٰ کے حصول کیلئے انتھک کوششیں کیں ،دھرنے دئیے ،مظاہرے کیے ،ایوانوں میں آوازیں اٹھائیں ،لاہور سے جلوس لیکر چلے ،وفاقی دارالحکومت پر یلغار کی ،مگر ان تمام اقدامات کے باوجود کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی ،نہ ہی نیا پاکستان بنا اور نہ ہی وہ وزارت عظمیٰ کی سیٹ پر براجمان ہوسکے ۔وزیراعظم نوازشریف جنہوں نے انتہائی ٹھنڈے مزاج سے سیاست کی اور ہمیشہ عمران خان کو یہ سبق دیتے رہے کہ مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ ایوانوں میں ہوتا ہے لہذا تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ قومی اسمبلی میں واپس آئیں ۔پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے دئیے جس پر بڑی واویلا مچی لیکن یہاں پھر نوازشریف نے ایک زیرک سیاستدان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا سیاسی ترپ کا پتہ کھیلا کہ آخر کار عمران خان کو یوٹرن لیکر واپس قومی اسمبلی میں آنا پڑا پھر جب وہ قومی اسمبلی میں آئے تو وزیردفاع نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔اس کے بعد پھر عمران خان نے کہا کہ اب میں اسمبلی نہیں جاﺅنگا مگر حالات پھراسی طرح چلتے رہے ۔ن لیگ سیاسی میدان میں مزید کامیابی کے جھنڈے گاڑھتی رہی اورآخر کار پھر عمران خان نے ایک دن یہ قبول کر ہی لیا کہ اب یوںمحسوس ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے ۔اب اسے کپتان کی بدقسمتی کہیے یا ان کے فیصلے کہ بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل وہ ایک ایسے بڑے سانحے سے دوچار ہوگئے کہ جس کایقینی طور پر انتخابات پر منفی اثر پڑا اور یوں تخت لاہور کا جو کپتان خواب دیکھ رہے تھے وہ چکنا چور ہوگیا اور ن نے جنون کو وائٹ واش کردیا ۔شیر کے سامنے سارے کے سارے ڈھیر ہوگئے ۔ہاں البتہ اس وقت اب آزاد امیدواروں کی اہمیت آسمان پرجاپہنچی ہے ۔پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کوششیں کررہے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح آزاد امیدواروں کواپنے ساتھ ملا لیں ۔مگر اس میدان میںبھی ن لیگ کی پالیسی کامیاب ہی نظر آرہی ہے ۔اب پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماﺅں نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک گیر دورہ کریں مگر ہمارا یہ مشورہ ہے کہ عمران خان پہلے پارٹی کے اندر کے معاملات سیدھے کریں اس کے بعد بے شک وہ ملک گیر دورے پر نکلیں ۔بات تو دراصل یہ بھی ہے کہ جس طرح بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔شاید وہ اتنا نہ سوچ رہے ہوں لیکن شفقت محمود نے اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے اورعمران خان نے چوہدری سرور سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ۔بھلا یہ تو کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی تمام معاملات عمران خان کے ہی ہاتھ میں ہیں ۔پی ٹی آئی میں صرف ایک ہی دولہا ہے اور وہ عمران خان ہیں اور شاید اسی وجہ سے پارٹی کے اندر خلفشار اوراختلافات کی فضاءجنم لیتی رہتی ہے ۔جس کا نتیجہ بلدیاتی انتخابات میں اتنی بری طرح سامنے آیا ہے کہ 2018ءکے انتخابات کیلئے بھی پی ٹی آئی ڈینجر زون میں چلی گئی ہے اور اس زون سے نکلنے کیلئے اسے بہت سارے نئے اقدامات اٹھانا پڑیں گے ۔ایک تو پہلے ہی اس کی ٹرین میں ایسے لوگ سوار ہوچکے ہیں جو کہ لگاتار اس جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یقینی طور پر اس کو ن لیگی کی کامیابی اور وزیراعظم نوازشریف کی بہترین سیاسی حکمت عملی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔سندھ میں بھی پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔البتہ خیرپور میں درپیش آنے والا سانحہ سندھ حکومت کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔گو کہ سائیںنے تحقیقات کا حکم تو دیدیا ہے مگر ظاہر ہے کہ سائیں تو پھر سائیں ہے ۔اس کی تحقیقات بھی سائیں جیسی ہی ہونگی اور نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے ۔بات تو یہ ہے کہ ان گیارہ لوگوں نے اپنی جانیں دیدیں ان کو کیا حاصل ہوا ۔انہیں متعلقہ سیاسی جماعتیں اورسیاسی رہنما سبز باغ ہی دکھاتے رہے کہ حقوق ان کے در پر ملیں گے ،مسائل حل ہوں گے ،علاقہ ترقی کرے گا ،روزگار کے مواقع ملیں گے ،مگر انہوں نے تو اپنی جان ہار دی ۔آخر یہ سبز باغ دکھا کر کب تک قوم کے ساتھ زیادتی کی جاتی رہے گی ۔وہ جو گیارہ قیمتی جانیں گئی ہیں ان کا ذمہ دار کون ہے ،ان کے جو لواحقین ہیں جس میں یقینی طور پر عورتیں ،بچے اوربزرگ بھی شامل ہوں گے انہیں دو وقت کی روٹی کون پہنچائے گا ۔کیا یہ سندھ حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہاں پر وہ امن وامان قائم رکھتی ،اتنا اسلحے کا بے دریغ استعمال کیوں ہوا ،کیا ضابطہ اخلاق پر عمل کرانا ضروری نہیں تھا ،یہ کس کی ذمہ داری تھی ،مگر یہاں تو ہمارے یہاں مسائل ہی کچھ اورنوعیت کے ہوتے ہیں بس وہ گیارہ نعشیں دفنا دیں اور اس کے بعد ساری چیزیں بھی ان کے ہمراہ ہی دفن ہوگئیں ۔

چینی نائب صدر کا دور ہ بھارت اوردہشت گردی

syed-rasool-tagovi

اس پر دو رائے نہیں ہے کہ چین خطے کی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے،مگر بھارت خود کو خطے کا تھانیدار سمجھ کر چین سے الجھا رہتا ہے۔جبکہ پاکستان اور چین خطے میں مثالی دوست ہیں،یہ بات بھارت کو نہیں بھاتی اور سازشیں بنتا رہتا ہے۔اس کی اولین کوشش اور سازش پاکستان کو عدم استحکام سے دو چارکرنا ہے تاکہ وہ خطے میں اِس کے مذموم مقاصد کی راہ میںرکاوٹ نہ بن سکے۔ اس سلسلے میں وہ کبھی سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتا ہے تو کبھی پاک افغان سر حد پر گھناوناگیم کھیلاتا ہے۔ بھارت اب تک ایک سال کے اندر کم از کم 400 بار سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں چکا ہے۔بھارت میں متعین پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے درست کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ کنٹرول لائن پر فائر بندی کے 2003ء کے معاہدے پر باضابطہ طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ گزشتہ روزبنگلور میں میٹ دی پریس خطاب میں انہوں نے کہا بھارت نے لائن آف کنٹرول کی بار بار خلاف ورزیوں سے پاکستان کے 40 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان استحکام چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ سرحدوں پر کوئی فائرنگ نہ ہولیکن سوال یہ ہے کہ یہ بات مودی کے ہوتے ہوئے تو ممکن نہیں ہے،جس کے ہاتھوں پہ ہزاروں مسلمانوں کا خون ہے، اس سے امن کی توقع ممکن نہیں ہے۔مودی کی تو خود بھارت کے اندر ساکھ اتنی خراب ہے کہ ریاست بہار میں نتیش کمار انہیں ”بہاری“ نہیں بلکہ ”باہری“ قرار دے ڈالا ہے،جس پر مودی نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور ایک جلسہ کے شرکاءسے پوچھا کہ آپ بہار کے لوگوں نے مجھے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا کیا میں ”باہری“ ہوں کیا میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں یا بنگلہ دیش کا وزیراعظم ہوں۔ اسی طرح لالو پرساد یادیو نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو آج تک ایسا بے حس لیڈر نہیں ملا جیسا آج ملا ہوا ہے۔یہ سکینڈل کے بادشاہ ہیں او ر اپنے کرتوتوں کو چھپانے کیلئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں“۔جی ہاں مودی حکومت صرف اندرون ملک بے چینی کا باعث نہیں بن رہی ہے بلکہ اسکے پڑوسی بھی شدید خدشات محسوس کرتے ہیں۔ چین بھارت کی کشیدگی آج کی نہیں بلکہ برسوں پر محیط ہے ۔ چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ رینج میں 1962ءمیں جنگ ہوچکی ہے ۔ ایسے موحول میں چین کے نائب صدر لی ین چاو¿ کل 3 نومبر سے 7نومبر تک دورے پر جا رہے ہیں۔ اس دورے سے چین کیا حاصل کرپائے گا،یہ تو بعد میں پتہ چلے گا، تاہم دونوں ممالک کی کشیدگی کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے دورے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہےں۔چین بھارت کے ساتھ کئی بار کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرچکا ہے ،مگر جواب میں ہمیشہ سوائے ہٹ دھرمی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ چین کے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنے، دفاعی تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ سمیت درجنوں معاہدے موجود ہیں۔ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ درجنوں معاہدوں کے باوجود بھارتی ہٹ دھرمی سے سرحدی تنازعات کے حل کا امکان نہیںہے۔
چینی نائب صدر اپنے حالیہ دورے میں مودی حکومت کو یہاں سرحدی خلاف وریوںسے اجتناب کا کہنا چاہیے وہاں ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ جیسی دہشت گرد تنظیم کی پشت پناہی سے بھی باز رہنے کا کہنا چاہئے۔ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو چین میں دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔اس حوالے سے چین کو شدید قسم کے خدشات لاحق ہیں۔ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ افغانستان میں بھی متحرک ہے ،یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ یہی سے بھارتی قونصلیٹ اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرتے ہیں۔پاکستان بھی انہی قونصل خانوں کا شکار رہتا ہے جبکہ بھارت نے یہی کام چین کے خلاف بھی شروع کر رکھاہے۔امید ہے کہ چینی نائب صدر اس معاملے کو بھارت کے سات ضرور اٹھائیں گے۔ای ٹی آئی ایم کے حوالے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت چین کو یقین دہانی کروا چکے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کے دوران اس تنظیم کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فان شینگ لانگ جو چین کے طاقتور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں بھی بھارت کا جلد دورہ کرنے والے ہیں۔اس بات کی تصدیق گزشتہ ہفتے چین کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے معمول کی میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے۔اعلیٰ چینی فوجی عہدیدار ایک ایسے وقت پاکستان اور بھارت کا دورہ کررہے ہیں جب دونوں جنوب ایشیائی حریف ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ ورکنگ بانڈری اورکشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر سرحدی بھارتی فوج کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات ہیں۔چین بھارت اور پاکستان کے درمیان تناو¿ اور کشیدگی کو خطے کی امن و سلامتی کے لیے مضر سمجھتا ہے۔چین کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔یہ دورہ اہم ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بہتری کی طرف لے جانے کی بات کریں ۔چین کی وزارت دفاع کے ترجمان یانگ یوجون کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد دوستانہ تبادلوں کو فروغ دینا اور “مشترکہ طور پر علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے” میں تعاون کرنا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان دوستی اور تعلقات کی ایک تاریخ ہے، رواں سال اپریل کے مہینے میں چین کے صدر شی جنپنگ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان اربوں ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبوں پر دستخط ہوئے جن میں سے اکثر پر کام شروع ہو چکا ہے۔دوسری طرف چین اور بھارت کے تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں ۔

ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت

uzair-column

بلدیاتی انتخابات کا پہلامرحلہ تقریباً مکمل ہوگیا ۔پنجاب میں تو صورتحال کہا جاسکتاہے کہ کنٹرول میں رہی ۔تصادم تو ضرور ہوا ایک شخص بھی فائرنگ سے جاںبحق ہوگیا لیکن سندھ میں تو بلدیاتی انتخابات خون میں ہی نہا گئے ۔وہاں پر فنکشنل لیگ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین تصادم ہوا ۔بڑھتے بڑھتے فائرنگ تک معاملہ جا پہنچا اور گیارہ لاشیں گرگئیں ۔اس دوران انتظامیہ کہاں تھی،پولیس کدھر تھی ،کچھ پتہ نہیں ۔کہا یہ جارہاہے کہ وہ سائیں کے پروٹوکول میں مصروف تھیں ۔کیونکہ ہمارے ملک میں تو غریب عوام پیدا ہی مرنے کیلئے ہوئی ہے ۔سائیں کی زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے ان کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔غریب عوام کامرنا تو معمول کی بات ہے ۔غریب بے چارہ کیا کرے گا ورثاءکو چند لاکھ روپے دیکر ان کے آنسو خشک کردئیے جائیں گے اور پھر اس کے بعد وہی ہوگا جو کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ۔بات دیکھنے اورسوچنے کی یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا اتنا شور مچاتھا تمام انتظامات بھی مکمل تھے ۔بیلٹ پیپرزبھی چھپ گئے تھے ،ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا گیا تھا تو پھر پنجاب اورسندھ میدان جنگ کیوں بنا رہا ۔جگہ جگہ دنگل ہوتے رہے ،دھینگا مشتی کا بازار سرگرم رہا ،اسلحہ کی سرعام نمائش کی جاتی رہی ،کرسیاں حاصل کرنے سے پہلے ہی کرسیاں چل گئیں ،نعرے بازی ،جلسے جلوس نکلتے رہے ،کارکنان آمنے سامنے رہے ،بعض جگہوں پر تو کچھ اس طرح ہوا کہ پولیس تماشائی بنی رہی اور ووٹرزایک دوسرے پر لاتوں ،مکوں کی بارش کرتے رہے ۔لودھراں اورخیرپور یو سی 70،یونین کونسل 250لاہور،دریا خان،وہاڑی،گجرات ،لاڑکانہ ،روہڑی یہ وہ علاقے ہیں جہاںپر انتخابات کم اورجھگڑے زیادہ ہوتے رہے ۔بلکہ گجرات میں تو پولیس گردی کی ایسی زبردست مثال سامنے آئی کہ جو شاید بلدیاتی انتخابات میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملی ۔ایک شخص کو پولیس نے شیر جوانوں نے مل کر خوب مارا کوٹا،ڈنڈوں کی بارش کی اور اس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ۔اسی طرح وہاڑی میں بھی جب ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مابین تصادم شروع ہوا تو پولیس تماشا دیکھتی رہی اور شاید اس چیز کا انتظار کررہی تھی کہ شاید کوئی بڑا سانحہ درپیش آئے تو پھر وہ قدم بڑھائے ۔یا پھر جو ان کے سینئر انچارج صاحبان تھے شاید انہوں نے آگے آرڈر نہ دئیے ہوں کہ تصادم کے درمیان میں آکر اس کو روک سکیں ۔حیران کن بات تو یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کردی گئی تھی ۔اس کے باوجود بھی جھگڑے اورتصادم ہونا بڑے ہی معنی خیز بات ہے ۔بدانتظامی کی تو انتہا دیکھنے میں سامنے آئی کہ نجی ٹی وی چینلز پر فوٹیجز دکھائی جاتی رہیں کہ ایک امیدوار ووٹ حاصل کرنے کیلئے رقم تقسیم کررہا ہے ۔اگراسی طرح کے بلدیاتی انتخابات کرانا مقصد ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکے گا کہ 2018ءمیں ہونیوالے میں قومی انتخابات انارکی کاشکار نہ ہوں ۔ان بلدیاتی انتخابات میں پنجاب میں آخری آمدہ اطلاعات تک ن لیگ نے واضح پوزیشن اختیار کی جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی نے برتری حاصل کی ۔مگر حیران کن بات یہ ہے کہ لاڑکانہ سے جو کہ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ امیدوار برتری لے گیا ۔جبکہ شہباز شریف کے حلقے یوحنا آباد سے بھی پی ٹی آئی نے میدان مار لیا ۔لیکن جنون کہیں پر بھی واضح طور پر سامنے نہیں آسکا اور ن لیگ ہی آگے آگے نظر آتی رہی۔انتخابات تو جیسے ہونے تھے سو وہ ہوگئے ۔اب اس کا دوسرا مرحلہ بھی ہونے جارہا ہے کم از کم دوسرے مرحلے میں ایسے انتظامات کرنے چاہئیں کہ جس کے دوران قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں او ریہ انتظامات ایک ہی صورت میں کیے جاسکتے ہیں کہ پہلے مرحلے کے دوران جن افراد،امیدواروں یا رہنماﺅں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے ان کیخلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے ۔وہ جیتے یا ہارے ہوں ان کے انتخابات کو کالعدم قرار دیکر قرار واقعی سزا کے احکامات دئیے جائیں اور جس کسی نے بھی اسلحہ لہرایا یا سرعام لیکر آیا بلاتفریق اس کو بھی سزاوار قرار دینا چاہیے ۔یہاں بات صرف جرمانے یانااہلی سے نہیں بنے گی بلکہ قید وبند کی جو جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان کا بھی اطلاق ضروری ہے ۔انہی اقدامات کے بعد دوسرا مرحلہ پرسکون ہوسکتا ہے ۔ورنہ خدانخواستہ پھر کوئی بھی ناخوشگوار خبر آسکتی ہے ۔ہم اس وقت جمہوریت کے ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں اور اس کو بااحسن خوبی نبھانا انتہائی ضروری ہے ۔جنون کو چونکہ ایک روز قبل ایسا سانحہ درپیش آگیا جس کی وجہ سے اس کے کارکن دل برداشتہ نظر آئے ۔کیونکہ جب پارٹی کے سربراہ کے ساتھ کوئی ایسا ناخوشگواروقوعہ درپیش آجائے تو اس کا اثر پوری جماعت تک جاتا ہے اور پھر ایک ایسے موقع پر جبکہ دوسرے دن بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہوں تو یقینی طور پر منفی نتائج ہی سامنے آتے ہیں ۔بہرحال یہ ایک ذاتی معاملہ تھا اس کو مزید موضوع بحث بنانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ان چیزوں کو چھوڑتے ہوئے آئے مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔بلدیاتی انتخابات نے ابھی یہ ثابت کردیا ہے کہ آنیوالے انتخابات میں بھی پنجاب ن لیگ کے ہی پاس ہوگا اور جو وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں وہ بھی یہ فیصلہ دینگے کہ تخت لاہور کے بعد تخت اسلام آباد کس کا ہونا ہے ۔

پھر طلاق

Asif-Mehmood

جمائما بھابھی کے بعدعمران خان نے ریحام کو بھی طلاق دے دی ہے۔کل تک جنابِ عارف نظامی کی باجماعت مذمت کے ساتھ اس خبر کی تردیدکرنے والے احباب اب یہ خبر خود سنا رہے ہیں ۔ایک وعظ بھی خبر کے ہمراہ ہے:”معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیشِ نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے“۔یہ احساس گویا واعظ کو بھی ہے کہ طلاق کے اعلان کے باوجود کچھ ایسے پہلو ابھی باقی ہیں جہاں قیاس آرائیوں کا امکان موجود ہے۔رشتے ٹوٹ جائیں تو دکھ ہوتا ہے۔اخلاقیات اور وضع داری کا تقاضا بھی ہے کہ ایسے نازک مواقع پر کلمہِ خیر نہ کہا جا سکے تو خاموش رہا جائے۔مجھے یہ بھی کامل احسا س ہے کہ کسی کے نجی معاملات کو کوچہ و بازار کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔لیکن عمران خان کا معاملہ اور ہے۔وہ ایک متبادل قیادت ہیں اور لاکھوں نوجوان ان سے غلو کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں۔ان کے شب و روز کو محض ذاتی زندگی کا غلاف اوڑھا کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔چند سوالات بہت اہم ہیں۔
زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد ، کہا جاتا ہے کہ، آدمی کے مزاج میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے اور وہ دل کی بجائے اپنے معاملات عقل کے سپرد کر دیتا ہے اوراس کے من کی دنیا میں تفکر و تدبر کے پہلو غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔عمران خان باسٹھ سال کے ایک بزرگ ہیں۔زندگی کی ساٹھ سے زیادہ بہاریں دیکھنے کے بعد وہ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ چند ماہ نہیں چل پاتی تو یہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا ۔(ویسے بھی یہ انوکھی قسم کا ’ ذاتی مسئلہ‘ ہے جس کا اعلان پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات کر رہا ہے۔تحریک انصاف کے دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پارٹی کا عہدیدار ذاتی قسم کی خدمات بھی بجا لائے گا، اور نکاح و طلاق کی خبریں بھی دیا کرے گا۔کیا نئے پاکستان کی لغت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کو ’ منیم جی‘ کہا جاے گا؟پرانے پاکستان کے دیہاتوں میں تو نکاح و طلاق کی خبروں کے ابلاغ پر مامور لوگوں کو کچھ اور کہا جاتا ہے۔)اس کے ہمراہ کچھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔یہ عمران خان کی پہلی شادی بھی نہ تھی۔ایک شادی ان کی جمائما بھابھی کے ساتھ ناکام ہو چکی ہے۔اس شادی اور طلاق سے حاصل ہونے والا تجربہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔دوسری شادی کرتے وقت ان کے پیشِ نظر ہو گا کہ پہلی شادی کیوں ناکام ہوئی اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے انہیں کیسا رفیقِ حیات چاہیے۔۔۔۔۔اس کے با وجود یہ شادی چند ماہ ہی میں ناکام ہو جاتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں میں فہم و تدبر کا کتنا عمل دخل ہے اور کمزور لمحات کے زیرِ اثر جذباتی فیصلے کرنے کا رجحان کس حد تک غالب ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے کیونکہ کل عمران خان اقتدار میں آ گئے تو وہ پوری قوم کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہوں گے۔ایک عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی زندگی میں فیصلہ سازی کا منصب سونپ دیا جائے؟ اور اگر سونپ دیا جائے تو اس کا انجام کیا ہو گا؟
خوب یاد ہے،دھرنے کے دنوں میں کنٹینر پر عمران خان پوری تمکنت اور احساسِ تفاخر کے ساتھ ہاتھ فضا میں بلند کرکے کہتے:” لیڈر“۔۔۔۔۔۔ اورمجمع بے اختیار پکار اٹھتا: ” کبھی جھوٹ نہیں بولتا“۔ لیڈر بزدل نہیں ہوتا۔لیڈر سچ بولتا ہے۔لیڈر جھوٹ نہیں بولتا۔یہ وہ سبق تھا جو روز کنٹینر سے دہرایا جاتا تھا۔لیکن ہوا کیا؟عارف نظامی نے شادی کی خبر دی تو لیڈر نے مان کر نہ دیا۔اور طلاق کی خبر سنائی تو اسے بھی رد کر دیا گیا۔تحریکِ انصاف نے دونوں خبروں کی تردید کی اور دونوں خبریں سچ ثابت ہوئیں۔اب سوال یہ ہے کہ لیڈر کا یہ دعوی کس حد تک درست ہے کہ وہ سچ بولتا ہے؟طلاق کی خبروں کی اہتمام کے ساتھ نفی کی گئی ،کیونکہ لاہور کا انتخابی معرکہ سر پر تھا، گھر میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کی گئی، قربانی کے جانور کے ساتھ تصویر بھی جاری کی گئی کہ دیکھیں یہ خبر جھوٹ ہے، ہم ایک ہیں۔اب اگر لیڈر واقعی سچ بولتا ہے تو اسے بتانا چاہیے کہ نکاح اصل میں کب ہوا تھا؟ کن حالات میں ہوا تھا؟ اور طلاق کب ہوئی؟ کیا شادی کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ معاملات طلاق تک پہنچے یا اس شادی کا انجام طلاق ہی تھا؟بہت سے سخن ہائے گفتنی ہیں جو شخصی احترام میں ناگفتہ چھوڑ رہا ہوں۔تاہم ان سوالات کا جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نکاح سے طلاق تک آپ کی ہر تردید غلط ثابت ہوئی اور سینہ گزٹ درست ثابت ہوا۔سینہ گزٹ کے دراز ہوتے سلسلے کو روکنے کے لیے ایک ’ سچ‘ کی ضرورت ہے۔کیا وہ سامنے آ پائے گا؟
طلاق ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔طلاق کے بعد ریحام ،برادرم مبین رشید کے میڈیاپروگرام میں لندن پہنچتی ہیںجہاںمبین انہیں خوش آ مدید کہتے ہیں ۔ان کے چہرے کی مسکراہٹ میں کہیں حزن و ملال نہیں،ایک فاتحانہ مسکراہٹ اور تمکنت ہے جیسے زبانِ حال سے وہ اب بھی کسی کو چیلنج دے رہی ہوں کہ وہ تر نوالہ نہیں ایک فائٹر ہیں ۔جمائما بھابھی کا عمران سے رشتہ ٹوٹا تو کچھ کھو جانے کا احساس برسوں ان کے ساتھ پھرتا رہا۔ریحام کے ساتھ تو فتح کا احساس ہے۔معلوم نہیں ایسا کیوں ہے؟نعیم الحق بتائیں گے یا چودھری غلام حسین اور عارف نظامی صاحب سے پوچھنا پڑے گا؟
عمران ایک عام آدمی نہیں۔مقبول ترین رہنما ہیں۔ایسے آدمی کی دوسری شادی ناکام ہو جائے تو ان کی شخصیت کا توازن سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اور قیادت کے منصب پر فائز آدمی کے لیے توازن بہت ضروری ہوتا ہے۔لیڈر توازن قائم نہ رکھ سکتا ہو تو اس کی پالیسیاں قوم کو کسی بھی حادثے سے دوچار کر سکتی ہیں۔دھرنے کے دنوں میں بھی عمران خان کی شخصیت کا عدم توازن زیرِ بحث آتا رہا۔اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ عدم توازن نمایاں ہوتا جا رہاہے۔آپ کسی وقت عمران خان کی دھرنے کے دنوں کی تقاریر اکٹھی کریں اور ان کے دعووں کو لکھنا شروع کردیں۔دس منٹ کے بعد آپ دیوار سے ٹکریں مار رہے ہوں گے۔آج اہم اعلان کروں گا، کل اہم ترین اعلان کروں گا، پرسوں ایسا اعلان کروں گا کہ حکومت ہل جائے گی، دو بجے آ جاﺅ، آٹھ بجے جشن ہو گا۔۔۔۔اتنا شورو غوغا اور آ خر میں شانِ بے نیازی سے کہ دیا : پینتیش پنکچر والی بات تو محض ایک سیاسی بیان تھا۔افتخار چودھری کے خلاف روز محاذ سجایا،سپریم کورٹ نے طلب کیا تو معذرت کر لی، باہر آ کر پھر وہی الزام، یہاں تک کہ جوڈیشل کمیشن بن گیا، وہاں پیش تو ہوئے مگر افتخار چودھری کے خلاف ایک ثبوت نہ دے سکے۔یہ سب کیا تھا؟افتادِ طبع؟
عمران خان کے بارے میں یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ وہ رشتوں یا انسانی قدروں کو کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا کا محور صرف ان کی ذات ہے۔سب لوگ اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ان سے محبت کریں ، ضروری نہیں کہ وہ بھی کسی سے محبت کریں۔اسی نرگسیت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے ایک کالم لکھا تھا:” عمران خان ۔۔۔ایک نفسیاتی مطالعہ“۔اس پر میرے ایک فاضل دوست نے گرہ لگائی تھی:” غیر متوازن کالم ۔۔دلیل اور توازن دونوں ہی سے ہاتھ دھو لیے گئے“۔وہ چاہیں تو اس کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیں۔اب کی بار انہیں شاید وہ اتنا غیر متوازن نہ لگے۔

Google Analytics Alternative