کالم

ہوشربا مہنگائی پر وزیراعظم برہم، قیمتیں کنٹرول کرنے کی ہدایت

ملک کو سب سے اہم اوربڑا مسئلہ مہنگائی اور مضبوط معیشت کا درپیش ہے ۔ آئے دن پٹرولیم مصنوعات، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قدم بہ قدم مسائل ہی مسائل درپیش ہیں ۔ نوجوان نسل ذریعہ معاش کیلئے دھکے کھا رہے ہیں ۔ گیس اور بجلی کے بل ہی عوام کو سکھ کا سانس نہیں لینے دے رہے ۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ اسی وجہ سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بنیادی چیز کی وجہ سے زندگی کی رمق رہتی ہے یعنی آٹے ، گندم کا مسئلہ زیر بحث آیا اور آٹا مہنگا ہونے پر وزیراعظم نے باقاعدہ اظہار ناراضگی کیا اور کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹے کی قیمت میں کسی صورت اضافہ نہ ہو ۔ نیز روزانہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں بھی کنٹرول کی جائیں ۔ وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں مظلوم کشمیروں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے اور بھارتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کو بے نقاب کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے کشمیر مشن کے دوران موثر سفارتکاری کے ذریعے تمام مقررہ اہداف حاصل ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم کی مختلف عالمی رہنماءوں ،تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ براہ راست اوربالواسطہ تقریباً سترملاقاتیں ہوئیں ۔ متعدد عالمی رہنمامقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں جاننے کے لئے ان ملاقاتوں میں شریک ہوئے اور اس سلسلے میں پاکستان کے موقف کوسراہا ۔ وفاقی کابینہ نے گوادر بندرگاہ کو ٹیکسیشن سے مستثنیٰ قرار دینے ،ای کامرس پالیسی اور حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام کےلئے بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی ، ای کامرس معیشت کی ترقی و استحکام اور خصوصا نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے کےلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے،اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی ۔ کابینہ نے نیکٹا کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کرنے کے ضمن میں رولز آف بزنس میں ترمیم جبکہ سعودی پاک انڈسٹرئیل اینڈ ایگریکلچر انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی مدت میں آئندہ پچاس سال کی توسیع کرنے کی بھی منظوری دی ،گمشدہ بچوں کو ڈھونڈ کر والدین سے ملانے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں میرا بچہ الرٹ شروع کیا جائیگا ،وزیراعظم عمران خان نے’’میرابچہ الرٹ‘‘نامی نئی اپلیکیشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بچوں کے اغواء اورلاپتہ ہونے کے افسوسناک واقعات سے کامیابی کے ساتھ نمٹاجاسکے ۔ اپلیکیشن پر رجسٹرڈ کواءف اورمعلومات فوری طورپرآئی جی پولیس اور صوبے کے دیگراعلیٰ عہدیداروں تک پہنچ سکیں گی ۔ کسی بھی واقعے میں پیشرفت کی نگرانی اورمعلومات کےلئے میرابچہ الرٹ اپلیکیشن کو پاکستان سٹیزن پورٹل کے ساتھ منسلک کیاجائے گا ۔ کابینہ نے ڈینگی کا مرض پھیلنے، مصنوعی طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کی شکایت پر تشویش اورناراضگی کا اظہار کیا ۔ ڈینگی نے درجنوں افراد کی جان لی ، کیا انتظامیہ پہلے سو رہی تھی ،اسلام آباد اور پنجاب میں ڈینگی کی صورتحال کا ادراک پہلے کیوں نہیں کیا گیا;238; ڈینگی پر کنٹرول کےلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ڈینگی سے بچاءو کے لئے بروقت اقدامات کیے جائیں ۔ کابینہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے آٹے کی قیمت نہ بڑھانے کی باوجود بھی مصنوعی طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کی شکایت ملی ہے ۔ ان وجوہات کو دیکھنے کی ضرورت ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں آٹے کی قیمت کسی صورت نہ بڑھے اور اس سلسلے میں صوبوں کی مشاورت سے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں ۔ روزمرہ کی اشیاکی قیمتوں کے حوالے سے رپورٹ ہفتہ وار بنیادوں پر پیش کی جائے ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں میں ;34; میرا بچہ الرٹ;34; شروع کیا جا رہا ہے تاکہ گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے اور ان کو انکے والدین سے ملانے میں مدد مل سکے جن افراد کے پاس اینڈرائیڈ فون نہیں ہیں ان کی انٹرنیٹ تک رسائی کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ کابینہ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی جانے والی قرارداد نمبر521کی روشنی میں چینی زبان کو یو این ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی سرکاری زبان قرار دینے کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ کو غیر ملکی پبلک ریلیشنزاداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جن کی خدمات امریکہ میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں حاصل کی گئی ہیں ۔ متروکہ املاک بورڈ کی املاک کے حوالے سے کابینہ کوآئندہ اجلاس میں خصوصی طور پر بریفنگ دی جائے گی ۔

بھارت کی گیدڑ بھبکیاں وہ27فروری کو یاد رکھے

بھارت کا جنگی جنون حد سے تجاوز کرگیا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا، کشیدگی کے باوجودبھارتی مسلح افواج کے اسپیشل آپریشنز ڈویژن نے پاکستانی سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ یہ مشقیں فرسٹ چیف آف کمانڈو آفیسر میجر جنرل اشوک کی سربراہی میں کی گئیں اور بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ کشیدہ تعلقات کے باوجود آئندہ بھی جاری رہیں گی ۔ بھارتی وزیرخارجہ نے دورہ امریکا کے موقع پر روس سے دفاعی میزائل نظام کی خریداری کے معاہدے کا دفاع کیا ہے، اس معاہدے پر بھارت کو امریکی پابندیوں کے خطرے کا سامنا ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر کا کہنا تھا کہ ہمارا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ فوجی سازوسامان کی خریداری ہماری آزادانہ حق ہے ۔ ہم یہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی ملک ہ میں یہ بتائے کہ ہ میں روس سے کیا خریدنا چاہئے اور کیا نہیں خریدنا چاہئے اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی ملک ہ میں یہ بتائے کہ ہ میں امریکا سے کیا خریدنا چاہئے اور کیا نہیں خریدنا چاہئے ۔ جے شنکر نے واشنگٹن کے دورے کے موقع پر امریکی خدشات پر بات چیت کی تاہم روس سے ایس 400 میزائل نظام کی خریداری کے حتمی فیصلے کے بارے میں نہیں بتایا ۔ اُدھر بھارت نے ملکی سطح پر تیار کردہ برہموس سپرسونک کروز میزائل کا ا ڑیسہ کی چاندی پور ٹسٹ رینج سے تجربہ کیا ۔ دفاعی تحقیق وترقی کی تنظیم اوربرہموس ایئر واسپیس نے یہ تجربہ صبح 10 بجکر 20منٹ پرکیا ۔ تجربہ کے دوران میزائل نے اپنی مقررہ 290کلومیٹر کی دوری کو کامیابی کےساتھ طے کیا ۔ بھارت اور روس کے ذریعہ مشترکہ طورپر تیار کیا گیا برہموس میزائل فوج کے تینوں شعبوں میں شامل کیا جاچکا ہے ۔

روز نیوز کا بڑا اعلان، اسلامی چینل کیلئے حکومت کیساتھ جوائنٹ وینچر کی پیشکش

روزنیوز نے سب سے بڑا اعلان کرتے ہوئے امت مسلمہ کیلئے ایک بڑی خبر دی ہے کہ روز نیوز وزیرا عظم پاکستان عمران خان ترکی کے صدر طیب اردگان اور ملائیشیاء کے مہاتیر محمد کی جانب سے جو انگریزی ٹی وی چینل لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے ،اس اسلامی چینل کیلئے حکومت کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنے کیلئے تیار ہیں ،اور روز نیوز اس مبارک سفر میں اپنی خدمات پیش کرنے کا بھی اعلان کرتا ہے،نیز روز نیوز اس سفر میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ شانا بشانہ چلنے کا بھی خواہش مند ہے اور یہ بات کسی عزاز سے کم نہ ہوگی کہ روز نیوزاور حکومت کا اس سلسلے میں جوائنٹ وینچر ہو جائے،اس بات کا اعلان پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیو زکے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے معروف پروگرام’’سچی بات‘‘ میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ روز نیوز اور ہمارا ایجوکیشن چینل 72ملکوں میں دیکھا جاتا ہے،روز نیوز پر پانچ وقت اذان نشر کی جاتی ہے،عمران خان گفتار کے غازی بن گئے ،انہوں نے دنیا کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے،عمران خان کردار کے غازی بنیں گے تو لوگوں کے حالا ت بہتر ہو نگے،پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا کیخلاف چینل کیلئے روز نیوز کی سکرین دینے کیلئے تیار ہوں ،عمران خان بہت ایماندار آدمی ہیں ، ان کا ویڑن قائداعظم کا ویڑن ہے،عمران خان پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ، انہوں نے جنرل اسمبلی میں کلمہ حق کہا،روز نیوز پر کبھی بھی بھارتی مواد یا اشتہارات نشر نہیں کیے گئے،اسلامی چینل کیلئے حکومت کیساتھ جوائنٹ وینچر کرنے کیلئے تیار ہیں ،ہم نے اعلان کر دیا ہے، حکومت چاہے تو کل سے ہی پروگرام شروع کرنے کیلئے تیار ہیں ،عمران خان نے جنرل اسمبلی میں طیب اردوان سے بھی بہتر تقریر کی،عمران خان نے صبر اور تحمل کے ساتھ جذبات میں آئے بغیر تمام ایشوز پر بات کی،دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر مظالم کو برداشت نہیں کیا جا سکتا،2005کے زلزلے اور سیلابوں میں بھی پاک فوج نے امدادی کارروائیاں کیں ،نیب کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہیے ، اسے آزدانہ کام کرنے دینا چاہیے،نیب کو چاہیے کہ کاروباری افراد کے ساتھ نرم رویہ رکھے،مولانا فضل الرحمان سمجھدار ہیں ، وہ بھی کشمیر کو سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہیں ، وہ امن پسند آدمی ہیں ،توقع ہے مولانا فضل الرحمان کوئی آزادی مارچ کا احتجاج کی طرف نہیں جائیں گے، سابق ڈی جی نیب انور شہزاد بھٹی نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کئی وزراء نیب کے نام پر روزانہ ٹی وی پر دہشت پھیلاتے ہیں ،حکومتی وزراء کے بیانات سے عوام میں غلط تاثر جاتا ہے،پاکستان کی معیشت کو استحکام کی سخت ضرورت ہے،نیب نے اگر سلیکٹو کیسز دیکھنے ہیں تو سمجھیں نیب کا کام ختم ہو گیا ہے،سابق سفیر بیگم عابدہ حسین نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی تقریر بڑی موثر تھی، انہوں نے کشمیر کا بھر پور مقدمہ پیش کیا،وزیراعظم عمران خان نے جو وعدے کیے تھے ان پر وہ پورا نہیں اتر رہے، اسلامی انگلش چینل کی نشریات کیلئے روز نیوز کی سکرین پیش کرنا احسن قدم ہے،اینکر پرسن منیب فاروق نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انگلش چینل کیلئے روز نیوز چینل کی کاوش شاندار ہے،وزیراعظم نے اسلامو فوبیا کے حوالے سے نہایت اہم باتیں کیں ،اسلامی انگلش چینل کے ذریعے اسلام کا حقیقی پیغام دنیا تک پہنچانا چاہیے،کچھ فیصلوں میں تاخیراو رکچھ میں جلد بازی نے معیشت کو نقصان پہنچایا ،عمران خان کو ٹیم کے مسائل رہے ہیں ،ایک نا اہل وزیر دوسری وزارت کیلئے کیسے اہل ہو سکتا ۔

اتحادوقت کی ضرورت

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کو ملک بھر کے ہر طبقے نے سراہا ہے اور اس کے چرچے اب تک جاری ہیں ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد عالمی فورم پر کسی نے اسلام ، دہشت گردی اور کشمیر کے بارے میں حقائق بیان کئے ہیں اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بڑی جراَت مگر دانش کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل پر موثر انداز میں اظہار خیال کیا ۔ خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ان کا خطاب خاصی اہمیت کا حامل تھا اور انہوں نے دلائل اور برہان کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور عالمی دنیا پر اس متنازعہ مسئلہ کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس حوالے سے بھارت کی ہٹ دھرمی اور مودی سرکار کا مکروہ چہرہ بھی بے نقاب کیا ان کے اس خطاب سے محصور، مجبور اور مقہور کشمیریوں اور پاکستانیوں کو بڑا حوصلہ ملا ۔ اقوام عالم کے اس پلیٹ فارم پر ایک طویل عرصہ بعد کسی پاکستانی رہنما نے بھرپور انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اور دنیا کو باور کرایا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے معصوم کشمیریوں پر بھارت نے مظالم کے جو پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اس عہد کا بھی اعادہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے کے حقوق کے حصول کےلئے آخری حد تک جائیں گے ۔ ایسے ہی کسی موقع کےلئے اسد اللہ خان غالب نہ کہا تھا

;242;دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ سوچا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور کشمیر دونوں کے درمیان ایک سلگتا ہوا پوائنٹ ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کچھ بھی ہوسکتا ہے جس میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی شامل ہے ۔ جنرل اسمبلی کے مذکورہ اجلاس میں چین اور ترکی نے واضح طور پر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دئیے جانے پر زور دیا جبکہ ملائشیا سمیت بعض دیگر ممالک نے کشمیر کے متنازعہ مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا خطاب بلاشبہ بھرپور اور موثر کن تھا مگر بعض عوامل ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں عمل کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارا مقابلہ بھارت جیسے عیار اور مکار دشمن سے ہے جس کےلئے ہ میں بیرونی اور خصوصا اندرونی طور پر اتحاد کی اشد ضرورت ہے اور اس کے بغیر ہم بھارت کی گھناءونی سازشوں کا منہ توڑ جواب نہ دے سکیں گے ، اس حوالے سے حکومت وقت کا اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ قومی اسمبلی میں اس وقت 342نشستیں ہیں جن میں 177موجودہ مخلوط حکومت کی ہیں جبکہ باقی نشستیں اپوزیشن کے پاس ہیں جو حکومتی اراکین کی طرح عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہیں اور ان میں وہ نمائندے بھی شامل ہیں جو ماضی کی حکومتوں میں شامل رہے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو وزارتوں ، وزارت عظمیٰ اور صدارت کے عہدہ جلیلہ پر بھی فائز رہ چکے ہیں جس کے باعث ان کے باہر کے ممالک کی اعلیٰ شخصیات سے بھی تعلقات تھے اورہیں ۔ دوسری طرف انہیں ملک کے اندر اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی سطح پر بھی حمایت حاصل ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح;231; کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جس کے مطابق پاکستان صرف حکومت کا ہی نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے جس کےلئے حکومت اور اپوزیشن کا ایک پیج پر ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا ٹویٹر پیغام خوش آئند ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مسئلہ کشمیر کے معاملے پر متحد ہیں اور کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد پر ہ میں کوئی تقسیم نہیں کر سکتا ۔ یہ کہہ کر انہوں نے حکومت کو ایک دعوت فکر دی ہے کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں اور حکومت کو بھی دانشمندی کا ثبوت دینا چاہیے یہ بجا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ضرور ہوا مگر 70سالہ پرانا مسئلہ صرف ایک تقریر سے حل نہیں ہو سکتا اس کےلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اہم ترین کام صرف اکیلے حکومت نہیں کرسکتی ۔ اپوزیشن لیڈرکے مذکورہ بیان کی روشنی میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو اس مسئلہ پر اعتماد میں لے اور دو قدم آگے بڑھ کر اپوزیشن سے بات کرے اور اس کے سیاسی تجربوں سے فائدہ اٹھائے اورانہیں اپنا ہمنوا بنائے اور ایسے وفود تشکیل دے جن میں مخالف سیاستدانوں بھی شامل ہوں جو بیرونی دنیا کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم، چیرہ دستیوں ،اس کی ہٹ دھرمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کو آگاہ کرے ۔ اس سے دنیا بھر میں ایک اچھا تاثر جائے گا اور بیرونی دنیا یہ سمجھ پائے گی کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت ، اپوزیشن اور عوام متحد ہیں جو مسئلہ کشمیر کےلئے نیک فعال ہوگا ۔ جہاں تک حکومت مخالف سیاستدانوں کے مبینہ کرپشن مقدمات کا تعلق ہے تو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد حکومت کسی بھی کرپٹ سیاستدان سے کوئی رقم واپس کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بعض معلومات اور بیانات کے مطابق میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت گرفتار سیاستدانوں میں کوئی بھی حکومت کے ساتھ این آر او کرنے کےلئے تیار نہیں ۔ یہاں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سیاستدانوں کے خلاف مبینہ کرپشن مقدمات کو پس پشت ڈال کر ہ میں پوری قوت مسئلہ کشمیر پر مرکوز کرنے چاہیے اگر حکومت نے گرفتار کرنا ہی ہے تو ان کے فرنٹ مینوں کو حراست میں لے کر مقدمات چلائے اور جرم ثابت ہونے پر قرار واقعی سزادے اسی طرح جن سرکاری عہدیداروں کرپشن کیسز ہیں ان پر بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان سے لوٹی ہوئی رقم واپس لی جائے ۔ اس وقت پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت اپوزیشن اور فوج کا اتحاد بہت ضروری ہے نہ کہ ایک دوسرے پر الزامات لگا کر تفریق پیدا کی جائے جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں جب کہ اتحاد کی فضا میں نہ صرف ہم درپیش چیلنجز کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے بلکہ مسئلہ کشمیر کو بھی حل کرانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے ۔

ہم وزیر اعظم عمران خان سے کہیں گے کہ جس طرح وہ اہم معاملات میں یوٹرن لیتے رہے ہیں اس معاملے میں بھی یوٹرن لیں اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیں جو یقینا سود مند ثابت ہوگا اور اگر وہ چاہیں تو محترمہ بشریٰ بی بی سے بھی مشورہ کر سکتے ہیں کیونکہ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ بعض معاملات میں قابل احترام بی بی نے آپ کو مفید مشوروں سے نوازا ہے اور اس معاملے میں بھی ان کا مشورہ مفید رہے گا ۔ اللہ نہ کرے کہ آپ نے جو جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب کیا ہے وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کے خطاب کی طرح رائیگاں نہ ہو ۔

چےن کا قومی دن ۔ ۔ ۔ !

ےکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہورےہ چےن کے قےام کا اعلان ہوا ۔ اس کے بعد ہر سال ےکم اکتوبر کو چےن کے قومی دن کے طور پر مناےا جاتا ہے ۔ اس سال ےکم اکتوبر کو چےن کا 70وےں قومی دن مناےا گےا ۔ اس موقع پر قومی پرےڈ کا اہتمام کیا گےا جس میں پندرہ ہزار فوجی جوانوں نے شرکت کی اور 160 جنگی طےاروں نے حصہ لیا ۔ چےنی صدر شی چن پنگ نے گرےنڈ پرےڈ کا معائنہ کیا اور خطاب بھی کیا ۔ ماءوزے تنگ جدےد چےن کے بانی ہیں ۔ چےنی لوگ افےون ،ہےروئن اور دےگر نشہ آور اشےاء بہت زےادہ استعمال کررہے تھے ۔ ماءوزے تنگ نے اپنے لوگوں سے افےون اور دےگر نشہ آوراشےاء سے جان چھڑوائی اور ان میں محنت و لگن کا جذبہ پےدا کیا ۔ ماءوزے تنگ کو اپنی چےنی زبان سے بہت محبت تھی ۔ ان کا عقےدہ تھا کہ اپنی زبان میں ترقی اور تخلیقی صلاحےتں بہتر انداز میں کام کرسکتی ہےں ۔ وہ انگرےزی جانتا تھا لیکن اس نے پوری زندگی کھبی انگرےزی زبان نہیں بولی ۔ وطن عزےز پاکستان میں المیہ ےہ ہے کہ صرف چند فی صد افراد انگرےزی جانتے ہیں جبکہ زےادہ ترلوگ انگرےزی نہیں جانتے لیکن سرکاری خط و کتابت اور عدالتی فےصلے انگرےزی میں ہوتے ہیں ۔ چےن کے 97فیصد افراد اپنے ہی ملک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق چےن میں تعلیمی نظام بہتراور تعلیمی اخراجات دنےا میں سب سے کم ہیں ۔ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اکثرےت آبادی خط غربت سے نےچے زندگی بسر کررہی ہے لیکن ےہاں عام اور غرےب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلواسکتے ہیں ۔ پاکستان کی سب بڑی اور پرانی پنجاب ےونےورسٹی میں رجسٹرےشن فےس3720 روپے ،اےکولینس فےس2360 روپے ہے ۔ اسی طرح دےگر ےونےورسٹےوں اور تعلیمی اداروں کی فےسےں ہوش ربا ہیں ۔ وزےر اعظم عمران خان نے کہا تھاکہ اےوننگ کلاسز لینے والے طلبہ کی فےسوں میں کمی کی جائے گی لیکن کمی کی بجائے فےسوں میں 25 فی صد اضافہ کردےا گےا ہے ۔ اےک چےنی قول ہے کہ اگر آپ اےک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو مکئی کاشت کرےں ، اگر آپ دس سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو درخت لگائےں ، اگر آپ صدےوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کی تربےت کرےں اور ان کو تعلیم دےں ۔ ہمارے ملک میں پہلے تو پلاننگ نام کی کوئی چےز نہیں ہے ۔ اگر پھر بھی غلطی سے کوئی پلاننگ کرلےں توپھر وہ زمینی حقائق سے متصادم ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ ےہ ہے کہ ہمارے ملک میں مےرٹ بالکل نہیں ہے ۔ سےاسی بنےادوں پر اداروں میں اےسے افراد تعےنات کیے گئے ہیں ، جواس کی اہلیت وقابلیت نہیں رکھتے ہیں ےعنی ہم سائےکل والے سے جہاز اڑاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ پھر اس کا نتےجہ ہی اےسا برآمد ہوتا ہے ۔ وطن عزےز آزاد ہوئے 72سال ہوگئے ہیں لیکن ہم ہر پانچ ،دس سال کے بعد بلدےاتی نظام ، تعلیمی نظام اور دےگر نظام بدلتے رہتے ہیں ۔ پاکستان میں چےن کے تعاون سے اےک کمپلیکس کی تعمےر مکمل ہوئی تو چےن کے وفد کے دورے کے دوران عمارت کی چھت ٹپک رہی تھی تو ان کو بتاےا گےا کہ عمارت ابھی نئی نئی تعمےر ہوئی ہے،اس لئے ٹپک رہی ہے تو چےنی وفد کے اےک رکن نے بتاےا کہ شروع شروع میں ہماری عمارتےں بھی ٹپکتی رہتی تھےں لیکن ہم نے اےک ٹھےکیدار کو گولی سے اڑادےا تو اس کے بعد چھت نئی ہو ےا پرانی نہیں ٹپکتی ہے ۔ عوامی جمہورےہ چےن میں چوری کی سزا موت ہے اور اس کو گولی ماری جاتی ہے ۔ جب تک گولی کا معاوضہ نہیں دےا جاتا ہے،اس وقت تک لاش ورثاء نہیں اٹھا سکتے ۔ ہمارے ملک میں چوروں اور ڈاکوءوں کے حق میں احتجاج کیا جاتا ہے کہ بڑے بڑے چوروں اور ڈاکوءوں کوجیل میں نہ ڈالا جائے ۔ چےنی لوگ احتجاج بہت کم کرتے ہیں لیکن جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو وہ بھی بہت دلچسپ اورزبردست ہے ۔ وہ احتجاج کے دوران کام چھوڑ کر نہیں بےٹھتے بلکہ وہ احتجاجاً چوبےس گھنٹے کام کرتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں احتجاج کے طرےقوں سے آپ باخوبی آگاہ ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں شوکت عزےز دور سے بجلی لوڈشنڈنگ کا بہانہ بنا کر ہفتے میں دو دن چھٹےوں کا رواج شروع ہوگےا ۔ اب ےونےورسٹےاں اور دےگر ادارے ہفتے میں دو دن بند ہوتے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان اےک غرےب اور مقروض ملک ہے ،ےہاں پر چھٹےوں کے بجائے کام کی ضرورت ہے ۔ وزےراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ ہفتہ وار دوچھٹےوں پر قدغن لگائےں اور ےہ ڈرامہ بند کروائےں ۔ لوگوں کوکام کی ترغےب دےں ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے کہ;34; کام ،کام اور صرف کام ۔ ;34; چےن نے پاکستان سے دو سال بعد آزادی حاصل کی لیکن وہ ہر شعبے میں ہم سے آگے ہیں ۔ اگر اپنی نسل اور ملک کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو اپنی گرےبان میں جھانکھنا چاہیے اور اپنی کوتاہیوں پرقابو پانا چاہیے ۔

مقبوضہ کشمیر ۔ گوریلا جنگ کے دہانے پر!

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس میں اپنا تاریخ ساز خطاب کرتے ہوئے دنیا کو آنے والے ممکنہ تباہ کن خطرناک کا برملا احساس دلایا اور باورکرادیا ہے کہ دنیا بالکل یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ کمزور،بے بس،لاچار اور نہتے اقوام اب کبھی بیدار نہیں ہونگے،دنیا کے مالدار متکبر سامراجی ذہنیت کے عادی استبدادی قوتوں کے اَبروئے چشم کی غلامی پر وہ یونہی ہمیشہ تکیہ کیئے مطمئن رہیں گے، ٹس سے مس نہیں ہونگے، چاہے طاقتور جابر وظالم قوتیں اْن پر جتنا ظلم وستم ڈھاتے رہیں اپنا سر وہ کبھی نہیں اْٹھاپائیں گے;238;غاصب اور مطلق العنان سامراجی مفاد پرست معاشی تباہ کاروں کی ذہنی پستیوں کا ذرا اندازہ تو لگائیں اپنی نخوت وغرور کے تکبر نے اْنہیں کتنا بدمست کردیا ہے، جان بوجھ کر تہذیب یافتہ ٹیکنالوجی کی اکیسیویں صدی کی دوسری دہائی کے ختم ہونے پر بھی یہ عالمی معاشی تباہ کار ’’طاقت وقوت‘‘ پر اکتفا کیئے سمجھ رہے ہیں کہ’’دنیا اب بھی اْن کی مٹھی میں ہے;238;‘‘وہ بہت بھولے ہوئے ہیں ;238; پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کس کس انداز کے مدلل اور موثر دلائل سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پانچ بڑی طاقتوں پر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی مصلحت پسندی کو فورا ایک طرف رکھ دیں ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی اس عالمی ادارے کو ’’لیگ آف نیشن‘‘ جیسے بدنام زمانہ حشر سے بچانے کےلئے اپنا خود مختارعالمی کردار جتنی ہوسکے ادا کریں جہاں تک اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی طاقتوں کا یہ کہنا کہ ’’بھارت اور پاکستان باہم مل کر مقبوضہ کشمیر کا کوئی پْرامن حل نکالیں ;238;‘‘ سوال بنتا ہے جناب والہ!کہ اگر متحارب فریقوں نے باہم مل کرہی اپنے لئے پْرامن تصفیہ کرنے ہیں توپھر اقوام متحدہ کے وجود میں لائے جانے کے مقاصد کیا ہیں ;238; 1948 میں جب بھارت خود کشمیر میں جنگ بندی کے لئے گیا تو اْس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس اہم انسانی مسئلہ کو اپنے ایجنڈے پر لیا ہی کیوں تھا;238; اسی وقت کہہ دیا جاتا کہ ’’یہ دوپڑوسی ملکوں کا باہمی مسئلہ ہے خود ہی طے کریں ;238;‘‘اس کا مطلب صاف ہے دنیا نہیں چاہتی کہ دنیا کے پیچیدہ مسائل افہام وتفہیم کے ذریعے سے حل ہوں کہیں اقوام متحدہ وقت کے ساتھ ساتھ رنگ ونسل کے تعصبات کا شکارتو نہیں ہوگیا;238;بوسینا ایک یورپی ملک ہے اسی وجہ سے سرب جارح ملک کو فضائی بمباری کی دھمکی دے کر بوسینا میں مستقل امن قائم کردیا گیا یہی اصول مشرقی تیمور میں اپنا گیا کیونکہ مشرقی تیمور میں عیسائیوں کی اکثریت تھی اقوام متحدہ نے یہ کیسا متعصبانہ مزاج اپنالیا;238;فلسطین کے بارے میں ’’چپ‘‘ روہنگیائی مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام پر مذمتی بیان بازیاں اور مقبوضہ کشمیر کے سنگین سلگتے ہوئے مسئلے پرنیم دلانہ مصلحت پسندی کی عیارانہ پالیسیاں ;238;کہ پاکستان اور بھارت باہمی بات چیت کے ذریعے اس اہم انسانی مسئلہ کو طے کرلیں ;238; کشمیری محکوم ومجبور عوام آخر کب تک مکار وعیار عالمی معاشی تباہ کاروں کے’’لولی پاپ‘‘ پر اپنی قومی وملی آزادی کےلئے اپنے ہاتھوں پر ہاتھ دھرے یونہی بیٹھے رہیں ;238; اکہتربرس کا عرصہ کم نہیں ہوتا،ایسے میں جب بھارت میں انتہائی درجے کی گری ہوئی انسانی عصبیت پرور نفرتوں کی زہرآلود جنونیت سے لیس آرایس ایس نے بھارتی جمہوریت پر ہندوتوا کا شب خون مار دیا ہوا، بھارتی سیکولر معاشرے کو یرغمال بنالیا ہو،مہذب دنیا کیا یونہی بھارت سے بڑی منڈی ہونے کے ناطے تجارتی مفادات کے سودے بازیاں کرتی رہے گئی;238; مقبوضہ وادی میں ایک کروڑ مسلمان بستے ہیں جبکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں بیس کروڑ مسلمان آباد ہیں ، بھارت میں سکھوں ، بدھسٹوں ، جین مذہب اور عیسائیوں کی ایک علیحدہ بڑی تعداد آباد ہے جس کی بقا اور تحفظ کو خطرات پر خطرات لاحق ہیں اور دنیا سوتی رہے;238; تاریخ عالم میں انسانیت کو درپیش سب سے بڑا ’’انسانی المیہ‘‘ بھارت میں رونما ہونے کو ہے،ڈونلڈ ٹرمپ جیسا نسل پرست امریکا میں برسراقتدار اور ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں آرایس ایس جیسی نسل پرست تنظیم کا مستقل ممبر مودی نے کم فہم عام سوجھ بوجھ کے ہندووں کو مسلم کشی کے نام پر،پاکستان دشمنی کے نام پر،کشمیر فتح کرنے کے نام پر، اپریل مئی میں ہونے والے عام چناءو میں اگلے پانچ برس کےلئے ایک بار پھر نئی دہلی کی زمام حکومت سنبھال لی،اور یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ امریکا خود کو تہذیب یافتہ دنیا کا سرخیل مانتا ہے;238; وہاں مودی نے ہیوسٹن کے اجتماع میں یہ کہہ دیا کہ ’’امریکا میں ایک بار پھر ٹرمپ سرکار‘‘ٹرمپ سرکار کو اس کی فورا تردید کرنی چاہیئے تھی جو نہ کی گئی،ٹرمپ نے حیران ہونے تک خود محدود کیئے رکھا;238;باتوں سے باتیں نکتی چلی رہی ہیں ابتدا ہوئی تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فلور پر شائد تاریخ میں پہلی بارمتعدد مثالوں کے ذریعہ کسی پاکستانی قائد نے اسلام اور دہشت گردی کے فرق کو نمایاں کیا ہے دنیا میں سب زیادہ مانے جانے والے مذہب عیسائی کے پیروکاروں کو یہ تک بتایا کہ بحیثیت مسلمان ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین بھی برداشت نہیں کرسکتے،یہ ہماری آفاقی کتاب قرآن مجید کی تعلیمات میں ہ میں بتائی گئی ہیں آخری نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسلمانوں کی والہانہ عقیدت ومودت کے جذبات و احساسات کی نازکتوں سے بھی اْنہیں آگاہ کیا گیا ’’ہیومن جیونوسائیڈ‘‘جو ایڈولف ہٹلر نے ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے نام پر روا رکھے اْن کا ذکر کرکے وزیراعظم عمران خان نے انسانی ضمیروں کو بیدار کرنے کی حتی الا امکان کوشش کی ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ مودی نے آرایس ایس کی نیکر کے اوپر نہ صرف ایڈولف ہٹلرکی وردی چڑھالی بلکہ ’’ہٹلر سائیکی‘‘سے اس قدر متاثروہ دکھائی دینے لگا ہے جس کا بخوبی نظارہ ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں کو گزشتہ اٹھاون دن سے سخت فوجی کرفیو میں اْس نے قید رکھا ہوا ہے یادرہے وزیراعظم پاکستان نے مودی کو ہٹلر سے تشبہیہ کیوں دی وہ اس لئے کہ آسام سے بے دخل کیئے جانے والے انیس لاکھ انسانوں کو جن میں واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے یا بنگالی کیمونسٹ ماونوازوں کی ہے، جنہیں بنگلہ دیش نے اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو مودی سرکار نے ’’حراستی کیمپس‘‘ قائم کرنے کے احکامات دید ئیے، یہاں بھی وہ طریقہ اپنایا گیا جو ہٹلر نے اپنایا تھا اْن ہی انیس لاکھ انسانوں کی کھیپ کو جنہیں بےدخل کیا گیا اْنہیں کہا گیا کہ وہ اپنے لئے خود ’’حراستی کیمپس‘‘ کی تعمیر کریں ، جیسے ہٹلرنے جرمنی سے نکالے گئے یہودیوں سے غیرانسانی رویہ اپنایا تھا اگر دنیا نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو کیا یہ ممکن ہے کہ مقبوضہ وادی سے دنیا کے طویل ترین دورانیہ کا کرفیو جب اْٹھایا جائے گا اور مقبوضہ وادی انسانی لہو میں نہانے لگے گی تو کروڑوں مسلمان کشمیریوں کو آسام جیسے ’’حراستی کیمپوں ‘‘ میں دھکیلا جائے گا;238;’’ خدانخواستہ‘‘دنیا کو یہ عبرتناک وقت دیکھنا پڑے،لہٰذا محکوم انسانی جبلت اپنی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ پھینکنے کےلئے اپنے حقوق کے غاصبوں کو اْن کے انجام تک پہنچانے کےلئے’’چی گورایا‘‘ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر صورت میں گوریلا جنگ کےلئے اب میدان عمل میں اترے گی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، یقینا مقبوضہ وادی میں یہی ایمانی سوچ آجکل ہر گھر میں زیربحث ہے ۔

وزیراعظم صاحب فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے

گزشتہ کالم میں ہم نے اس موضوع پراٹھارہ پوائنٹ ڈسکس کرلئے تھے اب مزیدنکات یہ ہیں ۔

19 ۔ ایف بی آر میں تبدیلیاں لے کر آئیں گے سب سے پہلے بڑی تبدیلی چیئرمین ایف بی آر ایک غیر سرکاری آدمی کو لگایا گیا ہے اور اس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے اور جو اہداف ایف بی آر نے رکھے تھے وہ بھی پورے نہیں کرسکے ہیں ۔

20 ۔ ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے اور ابھی تک کے اعدادوشمار کے مطابق 50 لاکھ سے زائد لوگوں کو نوکریوں سے نکال چکے ہیں ، یہ نوکریاں دینے کی بجائے لوگوں کو نکال رہے ہیں اور ان کے پاس کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے کہ کیسے لوگوں کو روزگار دیا جائے ، کوئی لاءحہ معل نہیں ہے تو یہ وعدہ بھی یقیناً پورا ہوتا نظر نہیں آتا ہے ۔

21 ۔ 50 لاکھ لوگوں کو گھر بنا کر دیں گے اس کیلئے ایک ادارہ قائم ہوچکا ہے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے ۔ ابھی تک کاغذات کی حد تک بات ٹھیک ہے اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہے، اور لوگوں سے ایڈوانس میں کئی کروڑ وصول کیے جاچکے ہیں کیا ہوا تیرا وعدہ کپتان ۔

22 ۔ پاکستان میں انرجی کے شعبے میں بہت سے مسائل ہیں ان کو حل کریں گے ابھی تک بجلی کی قیمتوں میں کوئی کمی نظر نہیں آئی ہے بجلی اور گیس کی قیمتیں کئی دفعہ بڑھ چکی ہیں ۔ اگر پچھلی حکومت سے موازنہ کریں تو 50 فیصد قیمتیں بڑھی ہیں اور اس کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آئے ہیں اور باتوں کی حد تک ہی کام چل رہا ہے پاکستان میں انرجی کے بحران کو حل کرنے میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے بہت کام کیا ہے اور اسی وجہ سے بحران پیدا نہیں ہوا ہے لیکن کپتان کا وعدہ وعدے کی حد تک ٹھیک ہے ۔

23 ۔ سی پیک جس کو گیم چینجر کہا جارہا ہے ہر کام بالکل بند ہوچکا ہے اور اس سے جو فائدہ ہونا چاہیے تھا نہیں حاصل کیا جاسکا اور یہ بھی خطرہ ہی رہا ۔

24 ۔ سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کہیں نظر نہیں آتے ہیں اور یہ بھی وعدے کی حد تک کافی ہے ۔

25 عالمی تجارت کو بڑھائیں گے لیکن عالمی تجارت میں کمی واقع ہورہی ہے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے کیونکہ ملک میں ساری صنعتیں بند ہیں تو عالمی تجارت کیسے ممکن ہے یہ بھی وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا ہے ۔

26 ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں علمی معیشت پر توجہ دیں گے تاکہ اس میں انقلاب لایا جاسکے اور کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے لیکن ابھی تک کوئی آئی ٹی کا بڑا منصوبہ نہیں بنایا جاسکا ہے یہ بھی وعدہ تکمیل کی طرف جاتا نظر نہیں آتا ہے ۔

27 ۔ پاکستان میں زراعت پرتوجہ دی جائے گی اور اس شعبے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے گا لیکن اس کیلئے کوئی عملی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ کھاد مہنگی ہورہی ہے ۔ مشینری مہنگی ہورہی ہے پانی دستیاب نہیں ہے ،مارکیٹ میں خریدار کوئی نہیں ہے تو یہ وعدہ بھی اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے ،کوئی حکمت عملی نہیں ہے باتیں اور صرف باتیں اور وعدے ۔

28 ۔ نئے ڈیم بنانے کی بات ہورہی ہے اور اس کیلئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے مہم چلائی لیکن کامیاب نہ ہوسکی اور ابھی تک حکومت اس کی طرف خاص توجہ نہیں دئیے ہوئے بھاشا ڈیم کا کام شروع ہوچکا ہے جو پرانی حکومتوں کا منصوبہ تھا اور چیئرمین واپڈا کی کارکردگی پربھی سوالیہ نشان ہے;238;

29 ۔ فشریز انڈسٹری پر بھی کوئی توجہ نہیں ہے اس میں کوئی جامع تبدیلی نہیں لے کر آئے ہیں وہ بھی وعدہ ہے ۔

30 ۔ صحت کے شعبے میں آئے روز تبدیلی لانے کی کوشش کررہے ہیں اور ناکام ہوتے جارہے ہیں ، ڈینگی ہی کنٹرول نہیں ہورہا ہے پہلے پنجاب میں دوائیاں مفت ملتی تھیں اب ان کی قیمت مقرر کردی ہے اور صحت کے شعبے میں کوئی بھی نئی چیز نہیں لے کر آئے ہیں اور آئے روز نئے وزیر بنا دئیے جاتے ہیں تو مدینے کی ریاست والے کو صحت کے بارے میں بالکل خبر نہیں ہے اور وعدے پر وعدے کیے جارہے ہیں ۔

31 ۔ تعلیم میں نئی جہت لے کر آئیں گے ، تعلیمی نظام ایک جیسا ہوگا لیکن اگر تعلیم کے شعبے کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار گرتا جارہا ہے اور تعلیم مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے اور اس کیلئے کوئی کام نہیں ہورہا ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کا معیار ایک جیسا نہیں ہے اور موازنہ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

32 ۔ نوجوانوں کی استعداد کا بڑھایں گے کوئی توجہ نہیں ہے اور آج کا نوجوان بہت سے مسائل کا سامنا کررہا ہے ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کے پاس نوکری نہیں ہے تو پھر وہی تعلیم ان کو غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں ارو اس کا قصور وار صرف اور صرف کپتان ہوگا اور یہ وعدہ تو ضرور پورا کرنا چاہیے تھا کیونکہ پوری نوجوان برادری نے آپ کو ووٹ دئیے ہیں ۔

33 ۔ صاف پانی تمام شہریوں کو میسر ہوگا صاف تو دور عام پانی بھی مشکل ہوتا جارہا ہے ۔

34 ۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر توجہ دی جائے گی تاکہ انسانوں کی صحت پر برا اثر نہ پڑے لیکن سیمینار اور جلسوں کی حد تک ٹھیک ہے سونامی ٹری تک ٹھیک ہے ۔

35 ۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایاجائے گا لیکن کوئی عملی اقدامات نہیں ہیں ۔

36 ۔ اپنی ثقافت اورکھیلوں پر توجہ دی جائے گی کوئی نیا گراءونڈ نہیں ہے اور جو نئے سپورٹس میدان بناتاہے اس کیخلاف قومی احتساب بیورو ایکشن میں آجاتی ہے اس کی مثال احسن اقبال نے نارروال میں ایک اعلیٰ معیار کا سپورٹس کمپلیکس بنایا ہے جو ملک کے لئے ایک اثاثہ ہے اور وہاں پر بہت سے کھیلوں کے مقابلے منعقد ہورہے ہیں لیکن چونکہ وہ احسن اقبال نے بنایا ہے اس لئے اس کا کیس نیب میں ہے یہ دہرا معیار آپکو کپتان صاحب چھوڑنا پڑے گا لوگوں کے ساتھ سچ بولنا پڑھے گا اور احسن اقبال جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے میدان بنائے تاکہ معاشرہ ترقی کرسکے اورآپ ان میدانوں کو گرانا چاہتے ہیں ;83;ports ;83;pirit کا مظاہرہ کردیں ۔ کپتان صاحب ۔

37 ۔ پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا اور اس کیلئے آپ نے سیکورٹی اداروں کے ساتھ بل کر عملی اقدامات کیے وہ قابل تحسین ہیں اور اس میں اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا ،نئی پالیسیز بنانا ;68;efence peluirبنانا جسکی بہت سی چیزیں شامل ہیں اور بہت سے اداروں میں اصلاحات کی ہیں وہ بھی ایک اچھا اقدام ہے ۔ اور پاکستان فوج جو سب سے بڑا ادارہ ہے اس میں جو اصلاحات ہوئی ہیں اور ان کے ساتھ مل کر آپ نے جوبھی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں ۔ پاکستانی فوج سے مراد پاکستان بری فوج، بحری فوج، اور فضائی فوج شامل ہیں اور دشمنوں سے نمٹنے کیلئے جو اقدامات کیے ہیں وہ بھی قابل رشک ہیں قابل بیان ہیں اور اس کیلئے آپ اور پاکستانی فوجی قیادت بھی سلام کی حقدار ہے اور جتنی بھی ان کی تعریف اورکلمات کہے جائیں کم ہیں لیکن یہ وعدہ پورا کیا ہے جس میں اندرونی اور بیرونی محاذ پر جتنے خطرات منڈلاتے ہیں ان پر قابو پایاجاسکے گا اور پاکستان کی فوج نے اپنی ایک جامع پالیسی اورحکمت عملی سے دشمنوں پر اپنی ڈھاک بٹھا دی ہے ۔

38 ۔ ان تمام وعدوں کا مقصد وزیراعظم پاکستان کو ;82;eminder دلوانا ہے کہ قوم سے کیے گئے وعدے پورے کریں نہیں تو عوام آپکو اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے اور ویسے بھی جو قوموں کے لیڈر ہوتے ہیں وہ اپنی اقوام سے جھوٹ نہیں بولتے ہیں جھوٹے وعدے نہیں کرتے ہیں جو بات کردیتے ہیں اس سے دوبارہ مکر نہیں جاتے یوٹرن نہیں لیتے ہیں ۔ حکمران اپنی کہی ہوئی بات پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور اس کی پاسداری کرتے ہیں اس کی مثال قائداعظم نے فرمایا ایک فیصلہ کرلو بے شک تمہیں 100 مرتبہ سوچنا پڑے گا اگرکریں تو پھر اس پر قائم رہنا ۔ پاسداری کرنا اور اس سے پڑے نہیں ہٹنا ہے کیا وزیراعظم صاحب لیکن آپ نے قوم سے کیے گئے وعدوں پر سے یوٹرن تو نہیں لے لیا ہے آپ کے بقول یوٹرن عظیم لوگ ہوتے ہیں اگر وعدوں سے یوٹرن لیاتو آپ عظیم نہیں رہیں گے ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔

1 ۔ جب بات کرے تو جھوٹ بوے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، امانت میں خیانت کرے ۔

اب وزیراعظم صاحب آپ نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے وعدوں کی تکمیل کرنی ہے یا خلاف ورزی اورقوم نے دیکھنا ہے کہ اگر خلاف ورزی ہورہی ہے تو پھر آپ نے ایک وعدہ خلاف شخص کو کیسے اعلیٰ منصب پر بٹھا رکھا ہے ۔

وزیراعظم کادورہ میرپور، زلزلہ متاثرین کی بحالی کی ہدایت

وزیراعظم پاکستان جیسے ہی یو این کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو فی الفور زلزلہ سے متاثرین کی عیادت کرنے کیلئے میرپور گئے ۔ متاثرین کو انہوں نے ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ جلد ازجلد بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں وزیراعظم کے یو این کے کامیاب دورے پرا نہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ اراکین نے کہاکہ وزیراعظم نے جس طرح کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیاہے انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ اس موقع سے عمران خان نے پھراعادہ کیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کیساتھ ہیں ۔ اس مسئلہ کو ہر جگہ اٹھاتے رہیں گے ۔ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کے خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ۔ مودی نے جس انداز سے ہٹ دھرمی قائم کررکھی ہے اس سے حالات خراب ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ صدرمملکت نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر جنگ ہوئی تو آخری دم تک لڑیں گے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ اگر اس کوتکلیف پہنچے تو کیونکر پاکستان خاموش بیٹھ سکتاہے ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے معاشی حالات مضبوط کرنے پربھی زور دیتے ہوئے کہاکہ جب تک کسی ملک کے معاشی حالات درست نہ ہوں اس وقت تک کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ مضبوط جمہوریت کیلئے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے ۔ بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے باقاعدہ عملی طورپر ون ونڈو آپریشن کاہونا ضروری ہے ۔ تجارت مضبوط ہوئی تو روزگار کے مواقع کھلیں گے ۔ نیز وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ احساس پروگرام میں غریب اور نادار لوگوں کو شامل کیا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احساس پروگرام کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس نظام ہونا چاہیے ۔ آیا کہیں اقربا پروری تو نہیں ہورہی ۔ جس کا حق ہے اس کو مل رہا ہے یا نہیں جب معاشرے میں غریب خوشحال ہوگا تو آسودگی آئے گی ۔ معاشرے میں بھی امن و امان کا دور دورہ ہوگا ۔ جن شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے ان میں تاجروں کا اعتماد بھی بحال ہونا ضروری ہے ۔ ملک میں متوازن ترقی کیلئے اس میں خواتین کی شرکت بھی ضروری ہے ویسے بھی ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے ۔ اگر ان کو نظر انداز کیا گیا تو ترقی کے مراحل مکمل نہیں ہوسکیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز میرپور میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کادورہ کیا ، میرپور ;200;زاد کشمیر میں ایک اجلاس میں وزیراعظم کو زلزلے سے جانی و مالی نقصان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہاکہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے جبکہ ;200;زاد کشمیر اور میرپور کے لوگوں سے دلی ہمدردی ہے، حکومت متاثرین کی بحالی کےلئے پیکج تشکیل دے رہی ہے ۔ زلزلہ متا ثرین کے لئے ہر ممکن اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ شہر میں بازار اور دکانیں کھلنے کا آغاز اور معمولات زندگی کی بحالی شروع ہوچکی ہے ۔ متاثرہ سڑکیں ٹریفک کے لئے کھل گئی ہیں ۔ تاہم نہر اپر جہلم پر 6 متاثرہ پلوں کی مرمت یا تعمیر شروع نہیں ہو سکی جبکہ 24 ستمبر سے میرپور کے تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ اُدھرو زیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، پارلیمانی پارٹی نے اقوام کے کامیاب دورے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا، عمران خان نے کشمیری اور پاکستانی عوام کے دل جیت لئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے دورے پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاءوں گا، مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کو بے نقاب کرتے رہیں گے، ارکان پارلیمنٹ کشمیر پر حکومتی پالیسیوں کو موثر انداز میں اجاگر کریں ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، کاروباری برادری کو تحفظ فراہم کیے بغیر معیشت ترقی نہیں کر سکتی ، تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے لئے تاجر برادری کا اعتماد بڑھانا چاہیے ، غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ خواتین کو سماجی ، اقتصادی ، ترقی میں شرکت کے لئے مراعات اور سہولیات دی جائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سابق وزیراطلاعات اور موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی ایک بار پھر وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے ۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لے کر کئی بار وزرا کے قلمدان تبدیل کرچکے ہیں ۔

آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی

فضل الرحمان کی جانب سے آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی نہیں دکھائی دے رہی، مسلم لیگ نون نے فضل الرحمان کو آزادی مارچ موخر کرنے کامشورہ دیدیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ فضل الرحمان کاکہنا ہے کہ وہ آزادی مارچ کے لئے اکیلے ہی کافی ہیں لیکن اس دوران حالات کسی اور بات کاتقاضا کررہے ہیں ۔ فضل الرحمان چونکہ زیرک اور نبض شناس سیاستدان ہیں لہٰذا وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے کیونکہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی ۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی گئی تو یہ ریڈلائن کراس کرنے کے مترادف ہوگی ۔ پیپلزپارٹی اس اقدام کے خلاف بڑی تحریک چلائی گی جس کو پوراملک دیکھے گا ۔ فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران اخلاقی حمایت سے بات آگے بڑھ سکتی ہے ایسے میں حکومت کو بھی بصیرت سے کام لینا ہوگا کیونکہ جمہوریت میں مسائل گرفتاریوں سے حل نہیں ہوتے باہمی مذاکرات سے بیٹھ کرمعاملات کو حل کی جانب لے جایا جائے جو سرحدوں کے حالات ہیں اور جس طرح وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے ایسے میں باہمی اتحادویگانگت کاپیغام دنیا کو جانا بہت ضروری ہے ۔ اگر کوئی بھی نفاق سامنے آتا ہے تو اس کافائدہ صرف اور صرف دشمن کو پہنچے گا ۔ اپوزیشن احتجاج ضرور کرے مگر سڑکوں پر نہیں ، جب جمہوریت میں پارلیمنٹ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم موجود ہوتو وہاں احتجاج کرناچاہیے ۔ جمہور نے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے اس وجہ سے ایوان میں بھیجا ہے کہ وہ وہاں جاکرعوامی، سیاسی اور ملک کو درپیش دیگرمسائل کو حل کریں نہ کہ سڑکوں پراحتجاج اور واویلامچاتے رہیں ۔ ایوان بہترین فورم ہے جہاں بیٹھ کرہرمسئلہ حل کیاجاسکتاہے ۔

سفارتی سطح پربڑی تبدیلیاں

حکومت نے مختلف ملکوں میں سفیروں کو تبدیل کیا ہے اور سفراء کوذمہ داریاں دی ہیں جن کے تحت وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور موثرانداز میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کریں گے ۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ میں اے آئی ٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد اعجاز کو ہنگری میں پاکستان کا سفیر، پیانگ یانگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے ۔ ایمبیسڈر منیر اکرم کو ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی جگہ اقوام متحدہ نیویارک میں پاکستان کا مستقبل مندوب مقرر کیا گیا ہے ۔ خلیل احمد ہاشمی ڈائریکٹر جنرل یو این وزارت خارجہ کو اقوام متحدہ جنیوا میں پاکستان کا مستقل مندوب تعینات کر دیا گیا ۔ ٹورنٹو میں پاکستانی سفارتخانے کے قونصل جنرل عمران احمد صدیقی کو ڈھاکہ(بنگلہ دیش) میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا ۔ نیامی، ناءجر میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور احسن کے کے وگن کو مسقط عمان میں پاکستانی سفیر تعینات کر دیا گیا ۔ میجر جنرل ریٹائرڈ محمد سعد خٹک کو سری لنکا میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا جبکہ عبد الحمید پاکستانی سفارت خانے ٹورنٹو میں قونصل جنرل تعینات ہوئے ہیں ۔ ابرار ہاشمی کو ہوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے ۔

سیاسی وعسکری قیادت کی ایک ہی سوچ

ہردلعزیزسیاسی قائد محترم عمران خان نے پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کا جب منصب سنبھالا تو اْنہوں نے وزیراعظم کا حلف اْٹھانے کےلئے منعقدہ اہم تاریخی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے اپنے ماضی کے انڈین کرکٹر دوستوں میں سے سنیل گواسکر،کیپل دیو اور نجوت سنگھ سدھوکو خصوصی طور پراسلام آباد آنے کی دعوت دی سنیل گواسکر اور کیپل دیو اپنی نجی مصروفیات کی باعث اس تقریب میں گو شرکت نہ کرسکے اْنہوں نے اپنا تہنیتی پیغام عمران خان کو پہنچا دیا جبکہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی اور ثقافتی امور کے ریاستی وزیرنجوت سنگھ سدھو لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستہ عمران خان کی دعوت پر دو روز کےلئے پاکستان تشریف لائے لاہور واگہ بارڈر پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے نجوت سنگھ جی کا پْرتپاک استقبال کیا یقینا نجوت سنگھ جی کی زندگی کا یہ دورہ پاکستان اپنی زندگی میں وہ خود کبھی نہ بھلا سکیں گے اسلام آباد میں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی روداد کوہم کیا دہرائیں کیونکہ سبھی باخبر اورخوب آگاہ ہیں کہ ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس اہم رنگارنگ تقریب میں پل پھر میں یکایک ایک موقع بھارت اور دنیا بھر میں آباد کروڑوں سکھوں کےلئے ایک ایسے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند آیا جسے سکھ دنیا اپنی زندگیوں کے لمحات میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی اس سنہری اور یادگار موقع کو ہم کیا نام دیں جن لمحوں میں پاکستان کی عسکری قیادت سمیت نئی منتخب ہونے والی جمہوری قیادت نے سکھ دنیا کے ہر ایک فرد کے انسانی جذبات کوبیش بہا قیمتی موتیوں میں یوں سمجھیں لادھ دیا اور ہم نے بغور دیکھا کہ اس موقع پر جب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے عالمی شہرت یافتہ انڈین سابق کرکٹراورسیاست دان نجوت سنگھ سدھو بغگیر ہورہا تھا تو جوکچھ بھی جنرل باجوہ نے سدھو جی کے کان میں سرگوشی کی تو خوشی سے اْس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اْس کے کانوں میں یکایک سریلی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگی ہونگی گھنٹیوں کی اْن اوازوں میں بابا گورونانک صاحب کے یہ بول اْسے صاف سنائی دے رہے ہونگے سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب نے اپنے پیرو کاروں کو انسانیت کی بقا اور تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے تبلیغ کرتے ہوئے کبھی یہ کہا تھا کہ ‘‘ جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں ، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا’’سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب کے انسانیت پرور اس قول میں اْن کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے ہر فرد کےلئے یہ بڑا اہم سبق پوشیدہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے دنیا میں اْس کا نام اوراْس کا کام باقی رہے گا جس نے دنیا کے انسانوں کے لئے بلا کسی امتیازی سلوک اور بلارنگ ونسل اور ذات پات سے ماورا اور بالاتر ہوکر اْن کےلئے آسانیاں فراہم کیں اور اْن کی دنیا میں رہنمائی کا انسانی فریضہ ادا کیا وہ ہی باقی رہے گا اور گمراہی خود بخود ہر صورت تاریکی اور اندھیرے کی کھائیوں میں کہیں گم ہوجائے گی، بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں سکھ روایات کے مطابق ایسے معجزنما واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوا کہ باباگورو نانک صاحب کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے بابا صاحب کے سوانح نگاروں کے مطابق، کم عمری ہی سے بابا صاحب اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے پانچ برس کی عمر میں گورونانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں ایک روایت کے مطابق کم سنی میں ہی گورونانک صاحب جب کہیں کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تو اْنہیں تیز دھوپ سے بچانے کےلئے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ایک زہریلا ناگ اْن کے سرپر سایہ کیئے رہتا تھا بابا گورو نانک کو زمانے کا عظیم ترین موجد قرار دیا جاتا ہے بابا گورونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب موجودہ پاکستان کے شہر میں 15 اپریل 1469 میں ہوئی اور اْن کی وفات22 ستمبر1539 میں پنجاب کے شہرنارووال کے نزدیکی گاوں کرتارپورہ میں ہوئی بابا گورونانک صاحب سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گوروں میں سے پہلے گروتھے ان کا یوم پیدائش گرونانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک یعنی اکتوبر ۔ نومبر میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے بابا گورونانک صاحب نے سکھ مت کے روحانی سماجی اور سیاسی نظام کر ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اور حسن سیرت پر استوار ہے بابا گورونانک صاحب سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں بڑی عزت واحترام کی حامل مذہبی شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں بابا گوروناک صاحب کی الہامی تعلیمات میں انسانیت کے احترام کو اولین مقام دیا گیا ہے آفاقی مذاہب کے علم پر دسترس رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ سکھ مت توحیدی مذہب ہے اور وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ہندوازم میں جسے اب عرف عام میں ہندوتوا کہا جاتا ہے اس دھرم میں خداءوں اور اوتاروں کی کوئی تعداد ہی نہیں ہے لہٰذا یہی وجوہ ہے کہ سکھ مت کو ہندوازم سے ملایا نہیں جاسکتا ابتدا میں جیسے کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لئے ماہ اگست غیرت مند خوشیوں اور پْرجوش والہانہ ایمانی مسرتوں کا اہم مہینہ ہے اب سے بہتربرس قبل 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی ایماندارانہ قیادت میں ایک آ زاد وخود مختار ریاست پاکستان حاصل کیا تھا چارجون کے مشہور لندن پلان کے تحت تقسیم ہند جب عمل میں لائی گئی تو پنجاب کی تحصیل شکرگڑھ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے جغرافیہ میں آگیا تحصیل شکر گڑھ میں ہی کرتارپورہ میں سکھوں کے روحانی پیشوا باباصاحب گورونانک کا سفید چاند کی مانند چمکتا ہوا مزار ہے، جیسے گرودوارہ کرتارپور کے نام سے دنیا جاننے لگی ہے، کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت 1920 سے 1929 کے درمیان 1;44#44;600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا ۔ اسی مناسبت سے اسے ;39;سری کْھو صاحب;39; کہا جاتا ہے کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا ۔ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بہت تیز رفتاری سے تعمیراتی امور کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ قارئین کو ہم یہ بتادیں کہ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا تعمیراتی کام اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا اور مقررہ مدت تک منصوبے کی تکمیل کےلئے چھوٹ بڑے کنٹریکڑوں کو ملاکرستر سے زائد کمپنیاں ایف ڈبلیواو کے ساتھ مل کر مصرف عمل ہیں کرتارپورزیروپوائنٹ سے لے کر شکرگڑھ روڈ تک سڑک مکمل کردی گئی ہے ۔ دربار صاحب میں داخلہ کےلئے دواطراف گیٹ اور تالاب مکمل کردئیے گئے ہیں لنگرخانہ،مہمان ہال،درشن استھان، ایڈمن بلاک،رہائش گاہوں اور ٹوائلٹس سمیت دیگر عمارتوں کا نوے فی صد بلڈنگ ورک مکمل ہوچکا ہے ماربل گرناءٹ لگانے کے ساتھ ساتھ دروازے، کھڑکیاں ، الیکٹرک ورک، سیوریج، واٹر پلائی اور پلمبنگ کاکام کیا گیا ہے احاطہ دربار صاحب کے سولہ میں سے بارہ پینلز میں آرسی سی کنکریٹ ڈال دیا گیا ہے تمام تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ کمپلیکس دربار،پارکنگ، سڑک اور بارڈرٹرمینل کے اردگردلینڈاسیکپنگ اور خوبصورت پودے لگانے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دوسری جانب بے حد بے رخی کی افسوس ناک صورتحال سے کون واقف نہیں دنیا کل تک شاکی تھی کہ پاکستان میں وہ وقت نجانے کب آئے گا جب اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سوچ کے تابع ہوگی مطلب یہ کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی اس خطے میں امن کےلئے بھارت سے امن بات چیت کے خواہشمند ہونگے اب جبکہ وہ وقت آگیا لیکن بھارت کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے تاحال نہیں ملے مودی سرکار نے تو خطہ میں امن کی جڑبیخ ہی اکھاڑ پھینکی ہے جس کی چرچا آجکل بھارت کی لوک سبھا میں ہرکوئی سن سکتا ہے ۔

ایک اوربھارتی مسجد کی شہادت کا خدشہ

بھارت میں مسلم شناخت کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی مذہبی عبادتگاہوں کومنہدم کرنے کا سلسلہ جو بابری مسجد سے شروع ہوا تھا ، ابھی تک جاری ہے ۔ مسلم تاریخی ورثے اور مساجد کی تذلیل کی جا رہی ہے ۔ بیسیوں مساجد، قبرستانوں ، قلعوں اور دیگر تاریخی عمارات کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا چکا ہے ۔ تاریخی مساجد میں مسلمانوں کو نمازوں کی ادائیگی کی اجازت نہیں ۔ بعض مساجد میں ہندووَں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کی تصاویر لگا رکھی ہیں اور انہیں بطور مندر پوجا جا رہا ہے ۔ بھارتی شہر وارانسی میں ایک ایسی ہی تاریخی مسجد جسے عالمگیر مسجد، بنی مادھو کی درگاہ اور اورنگزیب مسجد بھی کہا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے بنوایا تھا، کو صرف اس لئے مسمار کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ بعض ہندو انتہا پسند موَرخین کے مطابق یہ مسجد ایک مندر کے کھنڈر پر بنائی گئی ہے ۔ 1192 میں تعمیر کی گئی تاریخی قوت الاسلام مسجد جسے قطب الدین ایبک نے تعمیرکروایا تھا، اس میں بھی مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں ۔ بابری مسجد کی طرح راشٹریہ سیوک سنگھ اس مسجد کو بھی مندر قرار دینے کا دعویٰ کر رہی ہے ۔ مندروں کی تعمیر اور تزئین و آرائش کےلئے محکمہ آثار قدیمہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے ۔ ہندو کبھی بھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا ۔ بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے کے بعد بھارتی جنونی ہندووَں کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے بھارت کی مزید دو تاریخی مساجد کو شہید کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔ اس سلسلے میں وشواپریشد کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ بابری مسجد کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارتی مساجد پر ہندووَں کا حق ہے ۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم وشواپریشد مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے میں سرفہرست ہے ۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی تھی ۔ جہاں کہیں مسلمانوں کے نقصان کا معاملہ سامنے آتا ہے تو انتہا پسند اور فرقہ پرست ہندو تنظی میں پیش پیش ہوتی ہیں ۔ ہندوستان میں فرقہ پرست اور انتہا پسند جماعتوں میں سازشی ہندو مختلف سازشوں میں دن رات مصروف ہیں ، جو مسلمانوں کے ہر اس مفاد کو کچلنے کےلئے تیار رہتے ہیں جس میں ان کی ترقی اور خوشحالی مضمر ہو ۔ اگر بھارت اور اس کی ہندو فرقہ پرست جماعتیں اپنے زہر ایک ہی مرتبہ اگل کر ختم کر دیں تو بہتر ہے ۔ ہندوستان میں متعصب ہندوؤں نے صرف بابری مسجد ہی شہید نہیں کی بلکہ انہوں نے بعد میں پھوٹنے والے مسلم کش فسادات میں کم از کم دوہزار مسلمان شہید کئے ۔ چنانچہ مسلمانوں پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ ان کا مستقبل اب بھارت میں غیر محفوظ ہو گیا ہے اور بھارت کی ہر حکومت چاہے وہ کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، اسکا سیکولر ازم کا نعرہ صرف ڈھونگ ہے اور انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کےلئے ایک بہانہ ہے ۔ بھارتی سیاستدانوں اور ذراءع ابلاغ نے ہندو عوام کو اس حد تک متعصب بنا دیا ہے کہ اس نے مسجدوں اور گرجا گھروں کو نذرآتش کرنے والے دہشت گردوں اور جنونیوں کو اپنا ہیرو بنالیاہے ۔ بھارت میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کو ملیچھ، بھارت ماتا کے ٹکڑے کرنے والے اور دہشت گرد کہا جاتا ہے ۔ ان پر تعلیم، تجارت اور سرکاری ملازمتوں کے راستے بند ہیں ۔ انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ۔ تیس فیصد مسلمانوں کو سرکاری طور پر پندرہ فیصد تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ اس تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں نہ دینا پڑیں ۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے ۔ اگرچہ 2001ء میں سرکاری مردم شماری میں بھارتی حکومت نے مسلم آبادی کی شرح 13 فیصد سے معمولی کم بتائی ہے مگر غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان کم وبیش 20 کروڑ کے لگ بھگ ہیں ۔ بھارتی فوج میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ان میں سے بھی اکثر یت انڈین آرمی میں انتہائی معمولی نوعیت کے کاموں پر مامور ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت انڈین آرمی میں مسلم نمائندگی 14 فیصد کے قریب تھی جسے بتدریج کم کر کے ایک فیصد سے بھی کم کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کو علم ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کی تعمیر ایک سنگین معاملہ ہے اور بھارتی مسلمان بھی اس اقدام کو برداشت نہیں کریں گے مگر وہ اس پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ۔ اسی وجہ سے جنونی ہندووَں کی ہمت بڑھ رہی ہے اور وہ مزید مساجد کی شہادت کا سوچنے لگے ہیں ۔

Google Analytics Alternative