کالم

جوانوں کی شہادت، حالات کی سنگینی اور وجوہات

گزشتہ روز ملک میں دو اہم واقعات رونما ہوئے ۔ یہ دونوں واقعات پاک فوج کا ملک کی خاطر جان دینے کی تاریخ میں مزید سنہرا ا ضافہ ہے ۔ ایک واقعہ بلوچستان کے علاقوں ہوشاب اور تربت کے درمیان کو مبنگ آپریشن کے دوران پیش آیا ۔ دوران آپریشن دہشت گردوں کی اچانک فائرنگ سے ایف سی کے ایک افسر سمیت چار جوان شہید ہو گئے ۔ اسی دن دوسرا واقعہ شمالی وزیرستان میں پاک افغان بارڈر پر پاک فوج کی طرف سے گشت کے دوران پیش آیا ۔ جس میں سرحد پار سے دہشت گردوں نے پٹرولنگ پارٹی پر فائرنگ کی ۔ جس کے نتیجے میں پاک فوج کے چھ جوان شہید ہو گئے ۔ ملک و قوم کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے ان فرزندوں پر قوم کو فخر ہے ۔ اور پوری قوم ان بہادر شہیدوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ،وزیراعظم عمران خان اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ان شہداء کو سلام پیش کیا ہے ۔ بے شک جان کی قربانی سے بڑی کوئی قربانی نہیں ہو سکتی ۔ ملک و قوم کے لیئے جانوں کی قربانیاں پیش کرنے کی پاک فوج کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ پاک فوج ملک و قوم کی خاطر جان کی قربانی دینے سے رکنے والی نہیں ہے ۔ اور اسی وجہ سے یہ بات یقینی ہے کہ دشمن جو مرضی کر لے لیکن پاک فوج کے ہوتے ہوئے وہ کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران بہت سارے معاملات پر بات چیت کی گئی ہے ۔ دونوں پاکستانی رہنماء نے امریکہ سے کوئی مطالبہ کیا ہے نہ کچھ مانگا ہے اور نہ ہی کوئی ناقابل عمل وعدے وعید کیئے ہیں ۔ ان دونوں شخصیات نے امریکہ کے آگے حقائق رکھے ہیں ۔ اور امریکہ پر واضح کیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کی چپقلش نے کس طرح دہشت گردی کا رخ اختیار کیا ۔ اور اس دہشت گردی سے پاکستان کتنا متاثر ہوا ۔ پاکستانی فوج نے اور پاکستانی شہریوں نے کس طرح مسلط شدہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور کتنی جانوں کی قربانیاں دیں ۔ کتنے خاندان اس دہشت گردی کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار ہوئے ۔ دونوں پاکستانی رہنماءوں نے کشمیر میں بھارتی جارحیت اور بربریت کا صحیح نقشہ بھی امریکہ کے آگے رکھا اور امریکہ کو یہ نکتہ بڑی وضاحت سے سمجھاےا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور کشمیر پر ناجائز تسلط مزید برقرار رکھنے سے یہ خطہ شدید عدم تحفظ اور کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں پاک بھارت سرحد پر بھارتی سرحدی خلاف ورزیوں اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کے جانی و مالی نقصان پر بھی بات چیت ہوئی ۔ بلوچستان میں بھارتی سازشوں کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات سے بھی امریکہ کو آگاہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ایک 16 طیاروں کے معاملہ پر بھی بات چیت ہوئی ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ اور عسکری اداروں نے حقیقت سمجھنے کے بعد پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے کا عندیہ دیا ۔ اور کشمیر کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے معاملہ پر امریکی صدر کے ساتھ بات چیت کا حوالہ بھی زیر بحث آیا ۔ اگرچہ بھارتی وزیراعظم کے ترجمان نے امریکی صدر کی اس بات کی تردید کی کہ وزیراعظم مودی نے صدر ٹرمپ سے کشمیر کے معاملہ پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ترجمان نے امریکی صدر کے بیان کو جھوٹ قرار دیا ۔ ادھر امریکہ نے بھارتی ترجمان کے بیان کے جواب میں صدر ٹرمپ کے بیان کو حقیقت پر مبنی قرار دیا اور اس پر ڈٹا رہا ۔ سوال یہ ہے کہ نریندر مودی نے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی درخواست کی ہے یا نہیں ۔ لیکن اگر امریکہ اس مسئلہ کے حل کے لیئے کوئی کردار ادا کرے اور دہایءوں پر محیط یہ مسئلہ حل ہو جائے تو اس میں کیا برائی ہے ۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ طے شدہ مسئلہ ہے کشمیر بھارت کا حصہ اور اٹوٹ انگ ہے ۔ تو پھر اس طے شدہ مسئلہ کو دوباری کیا حل کرنا ہے اور بھارت اپنے حصے پر کیوں بات چیت کرے اور کوئی دوسرا اس میں ثالثی کا کردار کیونکر ادا کر سکتا ہے ۔ اگر بھارت کے اس موقف کو تسلیم کیئے بغیر صرف سامنے رکھا جائے ۔ تو پھر بھی بات بڑی واضح ہے کہ اگر یہ موقف درست ہے تو پھر بھارت اس مسئلہ کشمیر کو مسئلہ کہہ کر اقوام متحدہ میں خود کیوں لے کر گیا تھا ۔ اور اس معاملہ پر اقوام متحدہ کی متعدد قرار دادیں کیوں منظور ہوئی پڑی ہیں ۔ اقوام متحدہ نے اس دوران حقیقت حال جاننے کے لیئے دو دفعہ اپنے وفد وہاں کیوں بھیجے ۔ آج انسانی حقوق کے عالمی ادارے جن کے نمائندوں اور عالمی میڈیا کے متعدد اداروں کے نمائندگان نے مقبوضہ وادی کے کئی دورے کرنے کے بعد تسلیم کیا ہے کہ بھارت نے نہ صرف کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہے بلکہ وہاں جبر و تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی انتہاء کر دی ہے ۔ بھارت کے پاس ان تمام حوالوں کا کیا جواب ہے;238; میں نے متعدد بار یہ گزارش کی ہے کہ دشمن بہت مکار ہے اس سے ہر وقت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے دہشت گردی کے گزشتہ روز کے واقعات اور ان میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت اس بات کا غمار ہے کہ بھارت کا افغان امن سے نکال باہر کرنے اور امریکہ طالبان کے درمیان بات چیت اور اب اس عمل میں طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ ایک میز پر پاکستان کا جو کردار اور اہمیت ہے ۔ یہ کامیاب نہ ہو ۔ آنے والے وقت میں ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ہ میں جاگتے رہنا ہوگا ۔ بھارت کی بیوقوفی ہے کہ وہ اپنے عمل سے پاکستان،افغانستان اور اب امریکہ سے تعلقات خراب کر کے عالمی تنہائی کی طرف جا رہا ہے ۔ اب بھارت کے سوچنے کا وقت ہے ۔ دوسری طرف کشمیر کے آزاد ہونے اور بھارت کے ٹکڑے ہونے کا وقت بہت قریب آگیا ہے ۔

سرحد پار سے دہشت گردانہ حملے افغان امن عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان برادر پڑوسی ملک میں قیام امن کےلئے دن رات کوشاں ہے افغان سرحد کے قریب گشت پر مامور پاک فوج کے جوانوں پر افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں چھ جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، یہ حملہ افغانستان کے سرحدی علاقے گردیز سے کیا گیا جبکہ اسی روز بلوچستان میں کومبنگ آپریشن میں مصروف;7067;کی ٹیم پر فائرنگ سے کیپٹن سمیت چار جوان شہید ہو گئے ۔ ایک ہی روز دو مختلف واقعات میں بھاری جانی نقصان پر پوری پاکستانی قوم دل گرفتہ ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ پاک شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔ بلاشبہ ان عظیم قربانیوں ہی کی بدولت ملک میں امن لوٹا ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل رہے ہیں ۔ اس موقع پر سیاسی و عسکری قیادت نے جوانوں کی قربانی کو سلام پیش کیا ہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان دو دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شر پسند عناصر پاکستان کے استحکام کے مخالف ہیں ، وطن کے دفاع میں مسلح افواج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افواج پاکستان کے ان جوانوں کو میرا سلام جو ملک کی سلامتی کیلئے دہشت گردوں سے مقابلے میں مسلسل اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں نوجوان افسر سمیت ان 10 جوانوں کے لواحقین کیساتھ ہیں جنہوں نے آج شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردوں کو للکارا اور جام شہادت نوش کیا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ مادر وطن کا دفاع اور حفاظت ہر قیمت پریقینی بنائیں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں ، یہ حملے دشمن قوتوں کے دم توڑتے عزائم کی علامت ہیں ، ہم اپنے مادر وطن کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے اور اپنی جانیں قربان کرکے مادر وطن کا دفاع کریں گے، پاکستان استحکام سے پائیدار امن کی جانب بڑھ رہا ہے، ایسے میں یہ مایوس دشمن قوتوں کی دم توڑتی کوششیں ہیں اور دنیا کےلئے یہی وقت ہے کہ وہ علاقائی امن کےلئے سہولت فراہم کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے ۔ افغانستان سرحد پر ہوئے حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی جو افغانستان میں آزادانہ طور پر آپریٹ کررہی ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں ہوئے حملے کی ذمہ داری کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اہلکاروں کی شہادت کو امن کی راہ میں بڑی قربانی قرار دیا ۔ قبائلی اضلاع میں امن قائم کیا جاچکا ہے، اب یہاں سرحد کو محفوظ بنانے کےلئے کوششیں جاری ہیں ۔ سرحد پار سے ایسی منظم دہشت گردانہ کارروائیوں کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی بار ایسی بزدلانہ کارروائیاں ہو چکی ہیں ۔ اسی طرح کا واقعہ رواں برس یکم مئی کو پیش آیا تھا، جب 70 سے 80 دہشت گردوں نے افغانستان کے ضلع گیان اور برمل سے سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کردیا تھا ۔ بروقت جوابی کارروائی کے سبب دہشت گرد واپس افغانستان فرار ہوگئے تھے ۔ سرحد پار سے ایسی مذموم کارروائیوں کے ہونے کی بنیادی وجہ افغان حکومت کا عدم تعاون ہے جو بار بار کی شکایات کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری ہے جس کا پہلا مرحلہ گزشتہ برس دسمبر میں مکمل ہو گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں 900 کلومیٹر طویل باڑ کامیابی کے ساتھ لگا دی گئی ہے، جبکہ باقی سرحدی علاقے میں باڑ لگانے کا کام رواں برس ہی مکمل کر لیا جائے گا ۔ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے وقفے وقفے سے متعدد مرتبہ پاک فوج پر حملے کیے ہیں ، جن میں کئی جوان شہید بھی ہوچکے ہیں ۔ بارڈر مینجمنٹ کے تحت کئی بار افغان حکام سے فول پروف سکیورٹی انتظامات پر زور دیا جاتا ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس پار کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کی ;200;زادانہ نقل و حرکت کو روکا جائے ۔ یہاں ٹرمپ انتظامیہ کےلئے بھی تشویش کی بات ہونی چاہیے کہ اگر اس طرح عدم تعاون کا سلسلہ جاری رہا اور سرحد کو غیر محفوظ بنانے کی کوششیں جاری رہیں تو پھر اس کی بات چیت کی حالیہ ساری تگ و دو غارت ہو جائے گی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ افغان حکام کو بارڈر منیجمنٹ کے تحت ٹھوس اقدامات اٹھانے پر مجبور کرے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی گزشتہ روز کے پیغام میں اس جانب عالمی قوتوں کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ دنیا کےلئے یہی وقت ہے کہ وہ علاقائی امن کےلئے سہولت فراہم کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے ۔ سرحد پر باڑ لگانے کیخلاف غنی حکومت کا موقف سرا سر نا مناسب ہے ۔ اب تو امریکی حکومت کو بھی جازت مل گئی ہے کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر مطلوبہ دیوار تعمیر کر لے ۔ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کےلئے پنٹاگون کے فنڈز میں سے ڈھائی ارب ڈالر استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ لہٰذا ٹرمپ حکومت اس معاملے میں افغان حکومت پر زور دے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے ۔

ایف 16طیاروں کیلئے سپورٹ پروگرام کی بحالی خوش آئند

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کے ایف 16طیاروں کیلئے سپورٹ پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ایف 16طیاروں کی تکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کیلئے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جلدمنظور کریگا ۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کے ایف 16 پروگرام میں تعاون جاری رکھنے کے لیے فورین ملٹری سیلز(ایف ایم ایس)یا غیر ملکی فوجی سامان کی فروخت منظور کرنیکا ارادہ کیا ہے ۔ امریکی دفاعی سکیورٹی کو آپریشن ایجنسی نے ضروری دستاویزات فراہم کرتے ہوئے کانگریس کو اس ممکنہ فروخت کے بارے میں اطلاع دے دی ہے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اس فروخت کی پیشکش سے خارجی پالیسی اور امریکہ کی قومی سلامتی کو امریکی اہلکاروں کی 24 گھنٹے نگرانی کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی کو تحفظ حاصل ہوگا ۔ یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس سپورٹ کی پیشکش سے خطے میں فوجی توازن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ اس سے قبل پاکستان کو فراہم ہونے والی تمام ایف ایم ایس سپورٹ پروگرامز ٹرمپ انتظامیہ اسلام آباد پر افغان مقاصد میں واشنگٹن کی مدد نہ کرنے کے الزامات لگاکر روک دیئے گئے تھے تاہم عمران خان کے دورہ واشنگٹن کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دیتی ہے،جو یقینی طور پرپاکستان کےلئے بڑی خوش آئند بات ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں بے پناہ تعاون کیا اور اس سلسلے میں جانی اور معاشی نقصان بھی برداشت کیا ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں سے امریکی رویہ نہایت افسوسناک رہا ۔ امید ہے اب دو طرفہ تعاون کی نئی شروعات بار آور ہونگی ۔

ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع یقینی بنائیں گے

شمالی وزیر ستان میں افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ میں 6جوان شہید جبکہ بلوچستان میں کومبنگ آپریشن کے دوران حملے میں ایک کیپٹن سمیت چار جوان شہید ہو گئے ۔ شمالی وزیرستان میں افغانستان سے دہشت گردوں نے سرحد کی نگرانی پر مامور پاک فوج کے دستے پر حملہ کیا ۔ دہشت گردوں کے حملے پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی جس پر دہشت گرد فرار ہو گئے ۔ دوسری طرف ایف سی اہلکار بلوچستان میں ہوشاب اور تربت کے درمیانی علاقے میں کومبنگ آپریشن میں مصروف تھے کہ اس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں افسر سمیت 4 اہلکار شہید ہو گئے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہادت پانے والے جوانوں کوسلام پیش کرتا ہوں ۔ ملک کے دفاع کےلئے دہشت گردوں کےخلاف لڑتے ہوئے جان قربان کرنے والے سکیورٹی فورسز کے افسر اور جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں اور ورثا کے ساتھ اس غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا اور ان کے اہل خانہ کوسلام پیش کرتا ہوں ۔ ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع یقینی بنائیں گے ۔ یہ حملہ دشمن قوتوں کے دم توڑتے عزائم کی علامت ہے ۔ پاکستان استحکام سے پائیدار امن کی جانب گامزن ہے ۔ عالمی برداری علاقائی امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت خطے میں امن کےلئے پاکستان کی قربانیاں ہیں ۔ سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے قبائلی علاقوں کی صورت حال بہتر ہوئی ۔ اب توجہ سرحدی صورت حال بہتر کرنے پر مرکوز ہے ۔ دشمن عناصر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ کوشش انشاء اللہ ناکام ہو گی ۔ کلبھوشن کیس پر پاکستان کی فتح اور پوری دنیا کے سامنے بھارتی ہزیمت کے بعد اندازہ تھا کہ بھارت کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا ۔ وہ کبھی نچلا بیٹھ ہی نہیں سکتا ۔ سفارتی سطح پر مار کھانے کے بعد اس کے پاس بس یہی ایک محاذ رہ گیا ہے جہاں سے وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ یعنی دہشت گردی کا محاذ ۔ افغانستان میں بیٹھ کر وہ یہ کام ذرا آسانی سے کر سکتا ہے اسی لیے وہ افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتا ۔ ہمارے سرحدی علاقوں ، بلوچستان میں ایف سی، پولیس اور فوجی دستوں و چوکیوں پر کرائے کے افغانی جو بھارت کے زرخرید ہوتے ہیں ، حملہ آور ہوتے ہیں ۔ ان کے ہتھیار، ان کی ملنے والی رقوم سب بھارتی ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں بھارت کی ایک اور سازش بھی منظر عام پر آئی ہے کہ بی جے پی نے نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ اور کراچی کو بھارت کا حصہ بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور پاکستان کو مزید ٹکڑے کرنے کی گھناوَنی سازش کے تحت چاروں صوبوں میں الگ الگ انداز کی سیاسی تحریکوں کو اٹھانے اور ان پر خطیر رقم خرچ کر رہا ہے جبکہ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے اور پاکستان میں موجود علیحدگی پسند اور باغی عناصر کی بھرپور مدد کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے زیر اہتمام ’’نیوز ایکس‘‘ اور ’’چارٹیکل‘‘ کے نام سے دو خصوصی ٹیلی ویڑن سٹیشنز قائم کر دیئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بلکہ پوری دنیا میں جا بجا ایسے سنٹرز قائم ہو چکے ہیں جو پاکستان کے بھگوڑے اور باغی سیاستدانوں کو اپنے اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں ۔ پاکستان کے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں اور خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی، بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے پیچھے بھارتی ایجنسیوں کا پتہ لگایا ہے اور اس کے ٹھوس ثبوت بھی حاصل کر لئے ہیں ۔ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر غیر ملکی میڈیا نے وطن سلامتی کے اداروں کے خلاف کردار کشی شروع کر دی جس کانوٹس لیتے ہوئے اداروں نے چھان بین شروع کی اور یہ پتہ چلا کہ بعض افراد تو کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں ۔ نجانے وہ کہاں ہیں ۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی ایجنسی را نے بلوچستان کے حالات خراب کرنے اور عوام کو حکومت کے خلاف ابھارنے کےلئے اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلکنگ شروع کر رکھی ہے اس کا الزام حکومتی اداروں پر لگایا جاتا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی را کے نیٹ ورک کے توڑ میں مصروف ہیں ۔ بعض اداروں کا خیال ہے کہ بھارتی کیمپ میں جانے والے اور اغوا ہونے والے بلوچ لیڈروں اور دیگر افراد کو جو افغانستان کے کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ را کے زیر ہدایت ہو رہا ہے ان کی تفصیلات پاکستانی میڈیا پر جاری کی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ہمارے اندر رہنے والے ہم ہی سے کچھ لوگ بھارت اور اس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ اس امر کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ براہمداغ بگٹی اور اس کے ساتھی ریاض گل بگٹی اور حمزہ مری اکثر بھارت آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ لوگ بھارت کا سفر افغانستان سے افغان دستاویزات پر دوسرے ناموں سے کرتے ہیں ۔ بھارتی ایجنسی را نے افغانستان کے مختلف علاقوں خواجہ گڑھ، خوست، پکتیا، جلال آباد ، دارگون، دانگ وغیرہ میں بعض این جی اوز اور تعمیراتی کمپنیوں کے نام سے بھرتی آفس بھی کھول رکھے ہیں جہاں مقامی لوگوں کوبھرتی کر کے ان کو بھی تربیت دےکر پاک افغان سرحد پر بھیجا جاتا ہے اور پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کرائی جاتی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ۔۔۔کیا پایا

کے الیکشن سے پہلے عمران خان برمنگھم میرے کرنٹ ;200;فیزز کے ٹی وی پروگرام ;34;منزل بہ منزل ;34; میں تشریف لائے تو میں نے ان سے سوال کیا کہ امریکہ سے دوستی کی ;200;فرز ہمارے پاکستانی لیڈروں کو بہت ;200;تی رہتی ہیں ایسی کوئی ;200;فر ;200;پ کو بھی ملی ہے یا نہیں ;238; عمران خان نے برجستہ جواب دیتے ہوئے بولنے لگے امریکہ کی دوستی میں کوئی برائی نہیں دوستی برابری کی سطح پر ہونی چاہئے یہ جو ہم نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے اتحادی بنے ہیں اس سے پاکستان کا بہت نقصان ہوا ہے ہم نے جانی اور مالی طور پر بہت نقصان اٹھایا ہے عمران خان ان دنوں قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بڑے زور و شور سے بولتے تھے اور امریکہ اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں اور اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت کے سخت مخالف تھے اسی زمانے میں پیپلزپارٹی اور دیگر نے عمران خان کو طالبان خان کے لقب سے پکارنا شروع کیا تھا ۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خان کے لہجے میں امریکہ کے خلاف سخت تلخی ;200;گئی وہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرے کرنے پہنچ گئے میری طرح پاکستان کی عوام میں یہ تاثر عام قائم ہو گیا کہ جیسے عمران خان طالبان کےلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اسی لئے طالبان بھی عمران خان کو اپنا سفیرشاید سمجھتے ہوتے ہو نگے میں طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں خاص کرکے جو خودکش حملوں جیسی کارروائیوں کا سخت مخالف تھا بھلے اس میں امریکی مارے جا رہے تھے یا کوئی افغانی یا کسی پاکستانی کا جانی نقصان ہو امریکی جو کچھ افغانستان میں کر رہے تھے وہ بھی انتہائی غلط اور قابل مذمت تھا ۔ 2013 کے الیکشن کے بعد لندن کے ایک نواحی شہر میں میری ملاقات ایک امریکی سفارت کار سے ہوئی یہ سفارت کار ایک یونیورسٹی ہال میں کوئی پچاس مختلف افراد کے امریکی پالیسیوں کے حوالے سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا جس میں پاکستانی خاصی تعداد میں تھے منتظمین کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ میڈیا کی انٹری نہیں ہونی چاہیئے کوئی فوٹو گرافی بھی نہیں ہوگی لیکن میں مدعو تھا تو وہاں پہنچ گیا میں نے بحیثیت عام ;200;دمی اس سفارت کار سے بہت سارے سوال ایک ہی سانس میں کر ڈالے اور اپنا غصہ بھی نکالا جس میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ امریکہ عمران خان کی مخالفت کیوں کرتا ہے ۔ 2013 کے الیکشن میں امریکہ نے عمران خان کی مخالفت کیوں کی;238; امریکن سفارتکار نے یہی سوال مجھ سے واپس پوچھا کہ امریکی افواج افغانستان میں لڑ رہی ہیں اور عمران خان امریکہ کے خلاف مظاہرے کررہا ہے اور پاکستان اور افغانستان میں عوام کے جذبات بھڑکا رہا ہے تو کیا امریکہ اپنے مخالف کی الیکشن میں حمایت کرتا اس نے یہ بھی شکوہ کیا کہ جبکہ پاکستان کے تمام علما اکرام کی تقریریں ہمارے یعنی امریکہ کےخلاف ہوتی ہیں تمام اخبارات امریکہ کے خلاف 80 ڈگری پر امریکی مخالفت پر مبنی خبریں شاءع کرتے ہیں امریکی سفارتکار نے میری خوب کلاس لی ۔ یاد رہے یہ وہ وقت تھا کہ مولانافضل الرحمن اور دیگر عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیتے تھے ۔ عمران خان کے تین دن کے دورہ امریکہ کو میں نے بہت گہری دلچسپی کے ساتھ مانٹیر کیا میں نے عمران خان کا دورہ شروع ہونے سے پہلے مسلم لیگ ن کے سینٹر مشاہد حسین سید جو لندن پارلیمنٹ میں کشمیر پر ایک سیمینار میں شرکت کےلئے ;200;ئے تھے ان کا انٹرویو کیا مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی سربراہ مملکت کا دورہ امریکہ اس وقت تک نامکمل رہتا ہے جب تک کشمیر افغانستان اور پاک بھارت تعلقات زیر بحث نہ ;200;ئیں میں نے لندن میں مقیم مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متحرک کشمیری رہنما پروفیسر نذیر احمد شال اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر جنرل عبدالقیوم کے بھی انٹرویو کیے ان رہنماءوں نے موجودہ دورے کے بارے میں پیشگی مثبت پیش گوئیاں کی تھیں چونکہ اس میں ہماری سول اور ملٹری قیادت بیک وقت امریکہ کے دورے پر گئی تھی وزیراعظم عمران خان نے اس دورے میں محتاط گفتگو کی ہے جس کی مجھے توقع تھی چونکہ وہ ;200;کسفورڈ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ اور یونیورسٹی ;200;ف بریڈفورڈ کے چانسلر رہ چکے ہیں اور انگریزی زبان پر اردو کی نسبت زیادہ عبور رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر کرکٹ کی وجہ سے اچھی شہرت کے حامل ہیں یہ پلس پوائنٹس ہیں پرچی نما لیڈر جتنے مرضی سمارٹ کپڑے پہن لیں اپنا موقف دوسروں کو سمجھا نہیں سکتے افغانستان کے معاملے میں طالبان سے مذاکرات اور امن کی بحالی کےلئے پاکستان کا رول اہم ہے جس پر امریکہ قائل ہوا یہ ہماری کامیابی ہے کشمیر کا مسئلہ اجاگر ہوا اور دنیا کو پتہ چلا کہ کشمیر میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں یہ بھی ہماری کامیابی ہے وزیراعظم کے دورے میں افغانستان اور کشمیر ہمارے لئے اہم ایشوز تھے جن پر امریکہ نہ صرف راضی ہوا بلکہ فوجی امداد بھی بحال کردی غیرقانونی طور پر رہنے والے پاکستانیوں کے کیس کو وزیراعظم نے اٹھایا اور وزٹ، سٹوڈنٹس اور ورک پرمٹ کے ویزہ سسٹم میں نرمی لانے پر عمران خان نے بات کی پاکستان کی امداد جو سوا ارب ڈالر تھی وہ بھی بحال کرنے کا صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا سب سے بڑھ کر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی جانب پیش قدمی ہوئی امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے جس کو فتح نہیں کیا جاسکتا ویسے بھی امریکہ سے دوطرفہ باہمی تعاون اور تعلقات استوار کرنے میں قطعی طور پر اسلام اور نہ ہی پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق ہے مجھے زاتی طور صدر ٹرمپ اور امریکی کی عالمی طور پر پالیسوں سے ہمیشہ سے شدید اختلافات ہیں خاص کرکے فلسطین اور ایران کے ایشوز پر ۔ اور میں اس پر مسلسل لکھتا اور بولتا رہتا ہوں ۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں پاکستان کی عوام اور دنیا میں ایک پیغام بڑے زور شور سے گیا ہے کہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت ایک ہے امریکہ یورپ اور یوکے میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے ۔ بھارت اس دورے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وزیراعظم نریندرمودی کشمیر پر ثالثی کا کہہ کر پھنس گیا ہے کشمیری عوام کے بھی حوصلے انتہائی بلند ہونے ہیں کہ وہ 70 سالوں سے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ افغانستان میں امن کے راستے کشمیر سے گزرتے ہیں یہ پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران واءٹ ہاءوس میں موجود خاموش چڑیا بھی چہچہانے لگی جیسے پنجرے سے کوئی ;200;زاد ہوا ہو ۔

اپوزیشن کی بے وقت کی راگنی

جمعرات 25جولائی کو 2018 میں ہونے والے عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے ۔ ملک کی تاریخ کے ان11ویں عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت منتخب ہو کر سامنے ;200;ئی تھی ۔ الیکشن کمیشن ;200;ف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی ;200;ئی نے25جولائی کو ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ایک کروڑ 68 لاکھ 51 ہزار240ووٹ حاصل کیے جس کے نتیجے میں اسے مرکز میں حکومت بنانے کا موقع ملا ۔ اس کے علاہ پنجاب اور کے پی کے میں بھی حکومتیں بنائیں جبکہ بلوچستان میں کولیشن حکومت کا حصہ بنی ۔ اس واضح اور نمایاں برتری کے باوجود عام انتخابات میں شکست کھانے والی جماعتوں نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا کر کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ حکومت نے اس سلسلے میں اپوزیشن کے مطالبے کو تسلیم کیا لیکن بعد ازاں اس معاملے کو آگے لے جانے کی کسی نہ کوشش نہ کی ۔ اب جب اپوزیشن کو نیب کارروائیوں کا سامنا ہے تولہجے میں تلخی اوراحتجاج کی راہ اختیار کر لی ہے ۔ جمہوریت میں احتجاج کو ممنوع نہیں کہا جاسکتا بلکہ اسے جمہوریت کا حسن قرارد دیا جاتا ہے مگر اصل نکتہ ٹائمنگ اور ایشوکا ہوتا ہے کہ آپ نے کس ایشو پر کب آواز بلند کرنی ہے ۔ اگر کسی احتجاج کے پیچھے مقاصد کچھ اور ہوں جیسے کہ موجودہ اپوزیشن کے ہیں اور نعرے شور شرابا کسی اور بات کا کیا جائے تو میرے خیال میں آپ بھی اتفاق کریں کرے گے کہ پھر بات پھر بنتی نہیں ہے ۔ ماضی کے احتجاجوں کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ ایسے احتجا ج کا کیا انجام بنتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس حوالے سے بے وقت کی راگنی ہی گائی ہے ۔ 2018کے الیکشن کے بعد جب بڑے بڑے برج الٹ گئے تواس نے سب سے پہلے دھاندلی کا رونا رویا ،احتجاج کی بھی دھمکی دی ،جب حکومت تحقیقات کے لئے راضی ہوئی تو سب آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گئے ۔ اب ایک سال گزرنے پر25جولائی کو یوم سیاہ منایا گیا ،ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں جلسے ہوئے جہاں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی سمیت جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت کی ایسی کی تیسی کرنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔ تاہم مرکز میں کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہ ملی جسکے خلاف یوم سیاہ منایا جارہا تھا ۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن)، کراچی میں پیپلزپارٹی، کوءٹہ میں پی کے میپ اور پشاور میں جے یو ;200;ئی(ف)جلسوں کی میزبانی کی ۔ مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور کے بجائے کوءٹہ میں جلسہ سے خطاب کیا ۔ بلاول زرداری نے کراچی ،لاہور میں نیب کو مطلوب شہباز شریف،جے یو ;200;ئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے پشاور میں جلسے سے مختصر خطاب کیے ۔ بنیادی طور اگر یہ کہا جائے کہ عوام میں ان جماعتوں کے بیانیہ کو پذیرائی نہیں مل رہی تو غلط نہیں ہو گا ۔ ہم نے دیکھا کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی خیبر پختون خواہ میں ضم ہونے والے فاٹا کے علاقوں میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، تو حکومتی جماعت کے علاوہ اپوزیشن کی ان جماعتوں نے بھی بھر پور شرکت کی اورالیکشن لڑا ۔ سوائے مسلم لیگ نون کے جس نے پانچ امیدوار میدان میں اتارے تھے سب نے تقریباً ہر حلقے سے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ فاٹا کی عوام نے نامساعد حالات برداشت کرنے اور پی ٹی ایم جیسے دھڑے کے گمراہ کن پروپیگنڈے کے باوجوداپنا حق رائے دہی آزادانہ استعمال کر کے اپنے اپنے نمائندے چن لیئے ۔ فاٹا کے الیکشن اور اس کے نتاءج ہر حوالے سے حوصلہ افزاء قرار دیئے جا رہے ہیں ۔ لیکن یہ الیکشن مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں تھے ۔ ان دونوں جماعتوں کا تو نام و نشان تک نظر نہ آیا اور انکے سب امیدواروں نے ضمانتیں ضبط کروا لیں ،جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت اور اے این پی ایک دو سیٹیں نکال کر مکمل شرمندگی سے بچ گئیں ۔ یہ علاقے مذہبی جماعتوں کے گڑھ سمجھے جاتے تھے اور امیدکی جارہی تھی جماعت اسلامی یا جے یو ;200;ئی(ف) بھاری کامیابی حاصل کریں گی ۔ جب نتاءج آئے تو میدان آزاد امیدورں نے مارا جبکہ حکومتی جماعت پی ٹی آئی دوسرے نمبر رہی ۔ فاٹا کے الیکشن نتاءج اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے کافی ہیں کہ عوام ان کے بیانیئے کو پذیر ائی نہیں دے رہی ۔ گزشتہ روز کے احتجاجی جلسے بھی متاثر کن ثابت نہیں رہے ۔ بلاول اور مریم صفدر کا وہی گھسٹا پٹا رونا ۔ بلاول کا سارا زور سلیکٹڈ پر رہا جبکہ مریم صفدر کا کہنا تھا کہ ادارے یہ کر رہے، وہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے کہ ;200;پ ہمارے نمائندہ ہیں ، ;200;پ سے پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے عوام خوش نہیں ، اس لیے عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر ;200;گے بڑھیں اور عوام کا ساتھ دیں ۔ شاید محترمہ کا عوامی نبض پر ہاتھ نہیں اور وہ اپنے ارد گرد کے چند حواریوں کے بغض کو ہی عوامی رائے سمجھ بیٹھی ہیں ۔

’’کرتارپورہ راہداری ‘‘ کا کھلنا ۔ سکھ کیمونٹی کا اظہار ِ تشکر

جولائی 2018 کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی میں 116 نشستیں حاصل کرکے سب زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری کچھ آزاد امیدوار اور منتخب جماعتوں نے تحریک انصاف سے اتحاد کیا عمران خان کو342 نشستوں کے ایوان میں 158 نشستیں حاصل ہوگئیں صدر مملکت نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کیا یوں پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کے مقتدراعلیٰ عہدے کا حلف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 18 اگست 2018 کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک پْروقار تقریب میں اْٹھایا تقریب میں ملک کی تینوں افواج کے سربراہان نے دیگر اہم ترین شخصیات جن میں ملکی سیاسی وسماجی زعماوں کے علاوہ دنیا بھر کے معزز سفیر بھی موجود تھے تقریب کی حلف برداری میں عمران خان کی خصوصی دعوت پر بھارت سے نجوت سنگھ سدھو اس تقریب میں شریک ہوئے تھے وہ اگلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے اچانک مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ تقریب ہال میں جب داخل ہوئے تو جنرل قمرجاوید باجوہ نے نجوت سنگھ سدھو کی جانب مسکراکر دیکھا اْس کے بچپن کے نام ;34;شیری;34; سے اْسے پنجابی زبان میں مخاطب کیا اْس کا حال احوال پوچھا سدھو اپنا بچپن کا نام سن کر ہکابکا سا رہ گیا فورا وہ اپنی نشست سے اْٹھا جنرل باجوہ سے بغلگیر ہوگیا جنرل صاحب نے اْس کے کان میں کچھ کہا سدھو مزید خوشگوار حیرت میں اپنی آنکھیں پھاڑ کر دیوانہ وارہوکر اْن سے مصافحہ کرتے ہوئے ہنسنے لگا پاکستانی فوج کے سربراہ نے نجوت سنگھ سدھو کے کان میں یہی کہا تھا کہ ;34;پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم بابا گورونانک کی 550 ویں سالگرہ کے مقدس موقع پر کرتا رپورہ کوریڈورکھول دیں گے;34; بس یہی تھے وہ لمحات، تاریخ نے جنہیں تہذیبوں کے ما بین بدگمانیوں کی دیواروں کو ڈھانے کا نام دیا ہے، 18 اگست 2018 کو وزیراعظم پاکستان کا حلف اْٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی بھارت کے ساتھ بہترخوشگوار تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں چند روز پہلے والے اپنے بیان کو دہرایا کہ ;39;بھارت پاکستان کی طرف ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دوقدم بھارت کی جانب بڑھائے گا بھارتی وزیراعظم مودی نے عمران خان کو پاکستان کاوزیراعظم بننے پر مبارکباد کا فون کیا جواب میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سرکاری طور پر باضابطہ;39;کرتارپورہ کوریڈور;39; کھولنے اعلان کر دیا وہ دن ہے آج ایک برس بیت گیا ہے کرتارپورہ کوریڈور کھولنے کے لئے پاکستانی سائیڈ پر شب وروز موسموں کی شدتوں کی پرواہ کئے بنا زوروشور سے تعمیراتی امور کو پایہ تکمیل پہنچایا جارہا ہے اپنے سلسلہ کلام کو آگے بڑھانے سے قبل ہ میں یہ ماننا اور اچھی طرح سے جان لینا چاہیئے کہ ایسے وقت میں جب بھارت میں ابھی لوک سبھا کے انتخابات ختم ہوئے ہیں مودی وہاں دوبارہ وزیراعظم بنے ہیں جنہوں نے اپنی تمام تر انتخابی مہم پاکستان کے ساتھ مخالفت کو جاری رکھنے کے نعروں کی آڑ میں چلائی یہی کیا کم تھا کہ بھارت میں انتخابی مہمات کا ابھی صحیح سے آغاز نہیں ہواتھا کہ پلوامہ خودکش حملہ ہوگیا جس ہم پاکستانی کیا کہیں خود بھارتی میڈیا اور مودی مخالف کیمپ نے سوالات اْٹھادئیے کہ کیا وجہ ہے کہ بھارت میں جب انتخابات کے دن آتے ہیں دیش میں کہیں نہ کہیں بم دھماکے اور مسلم کش فسادات شروع ہوجاتے ہیں ;39;ہندوایکتائی;39; کا نعرہ لگایا جاتا ہے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر انتخابی ریلیوں میں لعن طعن ہونے لگتی ہے ہندوووٹروں کو ترغیب دی جاتی ہے اْنہیں پاکستان دشمنی پر اکسایا جاتا ہے لیکن اس کے بالکل برعکس پاکستان میں ہمیشہ انتخابات انسانی مسائل پر سیاسی جماعتوں کی کارکردگیوں پر لڑے جاتے ہیں چلیئے بھارت بھی انتخابی ماحول سے نکل چکا اْسے اب تو تسلیم کرلینا چاہیئے کہ جیسا وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے نشری خطاب میں بھارت کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کی بات کی ہے اور پھر 18 اگست 2018 کو ایک اہم قدم اْٹھایا بھارت تسلیم کرئے کہ پاکستان کی جانب سے یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے جس سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی سماجی وثقافتی مشکلات میں کمی آئے گی یقینا نئی دہلی کے لئے بھی یہ ایک سبق بھی ہے کہ اگر انسانیت کی خدمت کا جذبہ سیاسی فیصلوں میں نمایاں ہو تو پھراپنی اندرونی اناوں کا گلہ گھونٹ دینا چاہیئے سیاسی مخالفت اور مخاصمت کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے اختیار میں موجود ہر کام کو انجام دینے میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے سکھ مذہب کو بھارت میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے وہاں دیگر اقلیتوں کےلئے براہمن سماج میں کتنی مشکلات اور دشواریوں میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ;39;گورکھشا;39; تحریک کی منافرت نے بھارت کے گلی محلوں میں مسلمانوں کا امن برباد کرکے رکھ دیا بھارتی نژاد عیسائیوں کےلئے جینا حرام اْن کی عبادتوں کا تحفظ کرنا تو رہا درکنار غرضیکہ آج کا بھارت پاکستان کے نئے امیج سے کچھ تو حاصل کرئے سیکولر ازم طرز حکمرانی ختم کردی گئی ساتھ انسانی برداشت اور رواداری کی جگہ جنونی ہندوتوا کی منافرت نے لے لی جب سے مودی اقتدار میں آئے سرکاری سطح پر انتہا پسندانہ سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے ایسے میں پاکستان نے اگر کرتارپورہ کوریڈورکو سرکاری پیمانے پر اپنی نگرانی میں کھلوانے کا فوری اہتمام کیا ہے تو پھر دنیا کو مانے پڑے گا کہ پاکستان دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران کم وبیش 60 ہزار سے زائد اپنے فوجیوں اورسویلین پاکستانیوں کی بے مثال قربانی پیش کرکے دنیا کی سفاک حیوان صفت دہشت گردی کا قلع قمع کیا اور خطہ میں امن کی بنیاد رکھ دی پاکستان کی طرف سے کرتارپورہ کوریڈور کو کھولنے کی ابتدا سے یہ امر نئی دہلی پر کھل کرواضح ہوجانا چاہیئے کہ بھارت خود ایک کثیرالمذاہب دیش ہے جسے اپنے ہاں آباد ہر اقلیت کو برابر کے یکساں مذہبی اور سماجی وثقافتی آزادیاں ملنی چاہئیں یہ انسانی بقا اور مستقل تحفظ کا حساس معاملہ ہے کیونکہ ہر وہ انسان جو اپنے ملک میں اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار پائے ہمہ وقت جس کی جان ومال کو خطرہ لاحق ہو اْسے پناہ کہاں ملے گی بھارت اقوام متحدہ کا رکن ملک ہے بھارت میں جیسے عام براہمن جاتی کے ہندو کوزندہ رہنے کا حق ہے کھلے عام مندروں میں جانے کا حق ہے مسلمانوں ،عیسائیوں ،بدھ مت سمیت سکھوں کو بھی ایسی ہی کھلی ثقافتی آزادیاں میسرکیوں نہیں ہیں ;238; کرتارپورہ کوریڈور کھولنے کا اعلان کرکے پاکستان نے یقینا سکھوں کی ثقافتی وکالت کا انسانی فرض ادا کیا ہے تاکہ اْنہیں مکمل سماجی وثقافتی تحفظ کے احساس کو روحانی طاقت میسرآجائے ایسے میں بھارت کی سکھ کیمونٹی اب طویل سفر کی مشکلات سے نجات پائے گی اور صرف 4 کلومیٹرکے فاصلے پر واقع پاکستان کے سرحدی ضلع نارووال کے درمیان بننے والے دریائے راوی کا پل پار کرکے ڈیرہ بابا نانک صاحب کے سفید روشن گوردوارے میں جب چاہیں گے آیا کریں گے اب سکھ کیمونٹی بھارتی سائیڈ پر قائم ;39;درشن استھل;39;کو بالکل بھول جائیں یادرہے بھارت نے اس انسانی مسئلہ کو ;39;مسئلہ کشمیر;39;بنانے کی سازشیں رچی ہوئی تھیں جسے پاکستان نے فیصلہ اتھارٹی کو بروئے کار لاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے ۔

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس۔۔۔اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کافیصلہ

احتجاج کرنا کسی بھی جمہوریت کا حسن ہوتاہے ، مگر اس احتجاج کو تعمیری ہونا ضروری ہے، وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مشیروں کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کوروکنے سے منع کردیاہے، ایسے میں اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ بھی تعمیری سیاست کی جانب آئے، جبکہ مشیران کوکہاگیاہے کہ وہ اپوزیشن کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کرے ، بھرپور جواب دیں اور حکومت کانقطہ نظر عوام تک واضح طورپرپہنچائے، ہم یہاں یہ بات بتاتے چلیں کہ آج تک حکومت کو جو سیاسی نقصان ہوا وہ محض ا س وجہ سے کہ کپتان کے مشیر کپتان کے نقطہ نظر کودوٹوک انداز میں عوام تک پہنچانے میں ناکام رہے ، جبکہ اپوزیشن نوازشریف کے بیانیے کو عوام کے سامنے واضح کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی ، چونکہ اس وقت صرف ایک جماعت کی اپوزیشن نہیں متحدہ اپوزیشن ہے جس میں نون لیگ،پیپلزپارٹی، اے این پی، جے یو آئی ف اوردیگرجماعتیں شامل ہیں ، سب متحد ہوکرحکومت کے خلاف سرجوڑ کرلگی ہوئی ہیں ایسے میں حکومت کے مشیر خاطرخواہ کرداراداکرنے میں ناکام نظرآتے ہیں ، اسی وجہ سے کپتان نے مشیروں کو سخت رویہ اپنانے کی ہدایت کی ہے ، تاہم مشیروں کو چاہیے کہ وہ زبان وبیان میں اخلاق کادامن ہاتھ نہ چھوڑیں ، جیسا کہ ماضی قریب میں دیکھنے میں آیاہے کہ جب وزیراعظم نے اپنے وزراء کے عہدے بھی تبدیل کردیئے تھے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹھنڈے مزاج سے کام لیتے ہوئے درپیش سیاسی مسائل کوحل کرے ۔ وزیر اعظم کی صدارت میں حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، چینی ٹیکسٹائل کمپنیوں کے وفد نے بھی ملاقات کی، وزیر اعلیٰ کے پی کے نے صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی، این ڈی ایم اے کے سربراہ نے مون سون کے دوران حفاظتی اقدامات کے بارے میں بتایا، چینی کمپنیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کےلئے پر عزم ہے، حکومت کاروبار میں آسانی کےلئے پالیسیاں بھی نافذ کر رہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے دورہ امریکا پر حکومتی ترجمانوں کو اعتماد میں لیا ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کے کسی جلسے اور ریلی کو نہیں روکا جائے گا ۔ اجلاس میں چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور ترجمانوں نے وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کے نمبر گیم سے ;200;گاہ کیا ۔ حکومت اپوزیشن کے خلاف سخت لاءحہ عمل اپنائے گی جبکہ حکومت نے اپوزیشن کو احتجاج پر سخت رد عمل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لانے کی ہدایت دی اور کہا کہ احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہے گا ۔ کرپشن کیسز میں ملوث لوگ ٹی وی پر ;200;کر خود کو سیاسی شہید بنارہے ہیں اور قوم کو گمراہ کررہے ہیں ۔ معاشی بحران سے نکل آئے ہیں ، اب اشیائے ضرورت میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دے رہے ہیں ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان سے ترک صدر رجب طیب اردگان کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماءوں نے باہمی دلچسپی کے معاملات، دوطرفہ تعلقات اور خطے کے واقعات پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر اعظم نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بھی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ کا اظہار کیا ۔ دونوں رہنماءوں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان بھائی چارے اور قریبی تعاون پر اظہار اطمینان کیا ۔ وزیر اعظم نے ترک صدر کو افغانستان میں مفاہمتی عمل کےلئے پاکستان کی ٹھوس حمایت سے آگاہ کیا، دونوں راہنماءوں نے پاکستان ترکی ملائیشیا سہ ملکی عمل پر بھی بات چیت کی اور آئندہ کے لاءحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے کسی جلسے جلوس کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عوام نے ان کے احتجاج سے لاتعلقی کا اظہا رکر کے ان سے ناطہ توڑا ہے، جن کے بلب فیوز ہو چکے ہیں اور تار کٹ چکے ہیں ، اپوزیشن قوم کو مشکل سے نکالنے کےلئے اور قومی مفاد میں کوئی ایجنڈا اور کوئی لاءحہ عمل سامنے لائے، گزشتہ روز ایک ٹولے نے احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کوشش کی، 25جولائی کو پاکستانی عوام نے ووٹ کی سیاہی ان کے منہ پر ملی تھی اور اس لئے انہوں نے یوم سیاہ منایا ہے، سیاسی بونے اب جگہ جگہ پر بیٹھ کر وزیراعظم پرتنقید کر رہے ہیں ، وزیراعظم قوم کا تشخص بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، قوم نے اپوزیشن کے منفی ہتھکنڈوں کو مستردکردیا ہے، 2008سے 2018تک سابقہ حکمرانوں نے پی آئی اے کو اس طرح استعمال کیا جس طرح چنگ چی رکشوں کا بھی استعمال نہیں ہوتا، ان سے ذاتی سفری اخراجات وصول کرینگے ۔

مسئلہ کشمیر۔۔۔پاکستان کی سفارتی سطح پرزبردست پذیرائی

سفارتی محاذ پرپاکستانی کی زبردست پذیرائی ہورہی ہے ، امریکہ کے ساتھ ساتھ چین نے بھی مسئلہ کشمیر کی امریکی ثالثی کی پیشکش کو سراہا ہے ، جبکہ بھارت میں اس حوالے سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے ، امریکہ نے کہہ دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے مشورے کے مطابق مسئلہ کشمیر اورافغانستان کے مسئلے کو حل کیاجائے ،پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کاداعی رہا اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زوردیا، دورہ امریکہ کے دوران بھی وزیراعظم نے امریکہ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ افغانستان کے مسئلے کاحل فوجی نہیں ، یہ معاملہ بیٹھ کرباہمی گفت وشنید سے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔ اس سلسلے میں چین نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کی حمایت کر دی ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے کوششوں کا حامی ہے ۔ چین کو توقع ہے کہ دونوں ممالک امن اور ہم آہنگی کے تعلقات استوار کرسکتے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر کے مسئلہ سمیت اپنے دوطرفہ تنازعات بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کر سکتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کےلئے پاکستان اور بھارت دونوں کے درمیان بہتر تعلقات ضروری ہیں ۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹگس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات کے بعد عزائم کو آگے بڑھانے کا وقت آگیا ہے ۔ ملاقاتوں میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جائے اور آگے بڑھا جائے ۔ افغان عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں ۔ ہم افغانستان میں قیام امن کےلئے پُر عزم ہیں جس کےلئے عمران خان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر زور دیں گے ۔ خطے میں امن کے لئے دونوں مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر مذاکرات کے ذریعے حل ہونا انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ اس سے نہ صرف خطہ ترقی کرے گا بلکہ کشمیریو ں کی آزادی کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہوگی ۔ بھارت کو بھی یہ جان لیناچاہیے کہ اب وہ تحریک آزادی کشمیر کو کسی صورت دبانہیں سکتا اسی طرح امریکہ بھی افغانستان میں طویل جنگ لڑچکا مگر پھرآخرکار اس کو بھی پاکستان کے مشورے پرہی عمل کرناپڑے گا اورجب یہ مسائل حل ہوتے ہیں تو اس کاسہرا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اوروزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کوجائے گا ۔

افغانستان سے ہمارے ہاں دہشت گردی درآمد ہو رہی ہے

یکٹا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد رابطوں کیلئے اب بھی افغان س میں استعمال کر رہے ہیں ۔ نو کروڑ سموں ،1 ہزار ویب ساءٹس اور تین ہزار سے زائد سوشل میڈیا پیجز کی بندش ناکافی ثابت ہوئی ۔ دہشت گردوں کے انٹرنیٹ رابطے کو چیک کرنا بہت مشکل، قانون میں بھی سقم موجود ہیں ۔ دہشت گردوں نے رابطوں کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رکھا ہے ۔ نیکٹا اور دیگر ادارے سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکنے میں ناکام رہے ۔ افغانستان ہمارا ہمسایہ مسلم ملک ہے ۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کا خواہاں رہاہے کیونکہ جب بھی افغانستان میں بدامنی ہوئی، پاکستان نے اس کا بہت نقصان اٹھایا ہے ۔ ہماری قیادت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ افغانستان میں امن آئے ۔ پاکستان نے افغانستان سے کہا کہ مسائل کا سیاسی حل نکالیں اور معاملات کو بات چیت سے طے کریں ۔ افغانستان دہشت گردوں کی جنت بن چکا ہے اور پوری دنیا سے دہشت گردوہاں کھچے چلے آرہے ہیں کیونکہ وہاں ایسی جگہیں ہیں جن پر افغان گورنمنٹ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ داعش کے خلاف روس، چین اور امریکہ کو بھی تشویش ہے ۔ سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد خطرناک دہشت گردوں نے افغانستان کا رخ کیا ۔ وہاں جا کر یہ دہشت گرد مقامی انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مزید مضبوط ہوگئے ۔ وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کراتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک دہشت گرد جان ولی عرف شینا کو افغانستان کے صوبے کنڑ میں نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا ۔ جان ولی دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث تھا اور متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشنز کے بعد جان ولی عرف شینا باجوڑ ایجنسی سے فرار ہوکر افغانستان چلا گیا تھا ۔ اسی طرح ملا فضل اللہ پر پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر حملہ کرنے اور پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا ۔ پاکستانی حکومت افغان حکومت سے کئی بار یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کیا جائے یا پھر ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کی اجازت دی جائے ۔ فضل اللہ پرگزشتہ برس افغانستان میں اپنی گاڑی میں جاتے ہوئے ڈرون حملہ کیا گیا جس سے وہ موقع پر اپنے محافظوں سمیت ہلاک ہوگیا ۔ افغان صدرکا کہنا ہے کہ افغانستان کے 60 فیصد علاقہ پر ان کی سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے باقی علاقہ پر نہیں ہے ۔ ہمارے مطلوبہ لوگ اسی 40فیصد علاقہ میں ہیں ، جس میں افغان فورسز کا کنٹرول نہیں ہے ۔ اس علاقے میں داعش جڑ پکڑ رہی ہے جو یقیناً پاکستان کیلئے خطرے کا باعث ہے ۔ داعش مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے اور اس میں ایسے دہشت گردوں کو شامل کیا جا رہا ہے جن کا تعلق مشرق وسطیٰ کی ر یاستوں سے ہے ۔ داعش میں اس وقت دس ہزار سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں اور یہ افغانستان کے 34صوبوں میں سے 9صوبوں میں فعال ہیں ۔ پاکستان میں حالیہ حملوں میں طالبان اور داعش دونوں شامل ہیں ۔ ایران بھی خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے ہونے والی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے ۔ داعش افغانستان میں کام کرنیوالے اپنے عسکریت پسندوں کو صوبہ خراسان کا نام دیتی ہے ۔ داعش کی جانب سے افغانستان اور پاکستان میں متعدد حملے کئے جا چکے ہیں ۔ پاکستانی سرکاری ذراءع کاکہنا ہے داعش نے افغانستان کے ایسے خطرناک علاقوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کئے ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں اور یہ سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں ۔ پاکستان، چین، روس اور ایران نے طالبان کیساتھ رابطے قائم کئے ہیں تا کہ انہیں عسکریت پسندی کی کاروائیاں ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے اور مذاکرات کی طرف راغب کیا جا سکے ۔ پاکستان کا عزم ہے کہ اس کی سرزمین افغانستا ن کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی مگر ہمارے خلوص کا اسی طرح جواب نہیں آیا ۔ ہم نے بارڈر مینجمنٹ کی بھی کوشش کی مگر افغانستان نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ۔ افغان حکام کو سوائے پاکستان پر الزام لگانے کے اور کوئی کام نہیں ہے ۔ ہماری اطلاعات کے مطابق بھارت بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف کاروائی کیلئے استعمال کرتا ہے اس پر ہم اقوام متحدہ میں ڈوزیئر بھی جمع کروا چکے ہیں ۔ پاکستان نے اپنے علاقہ سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے ۔ اب امریکہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرے ۔ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ پاکستان کو افغان جنگ کے نتاءج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ افغان مہاجرین، اسلحہ و منشیات سے نمٹنا پڑا ہے ۔ مشرقی افغانستان میں دہشت گردوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔ افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد گروپ ہی پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں ۔ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم شرپسندوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کا خاتمہ، پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے دہشت گردوں کو ختم کرے ۔ افغانستان کے امن و استحکام میں پاکستان کا مفاد ہے ۔ پاکستان کو افغانستان میں جنگ کے نتاءج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان میں امن نہیں لایا جا سکتا ۔ افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف امریکہ کی موثر کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مالی اور مادی امداد کی بجائے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا 120 ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا ۔ پاکستان میں دہشت گردی کا مرکز افغانستان ہے ۔ افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش ہے ۔ تاہم ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے ہاں کوئی بھی دہشت گرد قیادت میں موجود نہیں ۔

Google Analytics Alternative