کالم

ترقی کو فروغ دینے کے لئے تھنک ٹینک بنایاجائے

اگر ہم غور کریں تو ترقی یافتہ اقوام میں تھنک ٹینک ;84;hink ;84;anks ہوتے ہیں جو ان ممالک کےلئے توانائی ، دفاع، زراعت ، خارجہ پالیسی ، ماحولیات ، صنعت و حرفت، تجارت بین الاقوامی تعلقات عامہ کے لئے راہنما اصول اور پالیسیاں بناتے ہیں اور ان ٹھنک ٹینک کے پالیسیوں اور راہنماء اصولوں کی روشنی میں قو میں ، ریاستیں اور ممالک اپنے لئے پالیسیاں بناتے ہیں ، امریکی حکومت کے بارے میں دنیا بھر کے سیاسی ، اقتصادی اور عالمی اُمور کے ما ہرین متفق ہیں کہ اسے نہ توو ہاءٹ ہاءوس میں بیٹھے والا صدر چلاتا ہے اور نہ سینیٹ ایوان نمائندہ گان میں منتخب ہو کر آنے والے اراکین چلاتے ہیں ۔ یہ تو دنیا بھر کو دکھانے کے لئے ایک جمہوری چہرہ ہے ورنہ آپ امریکی صدور یا ممبران سینیٹ سے پو چھ لیں انکو اکثریت کو اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ ملک کی خارجہ پالیسی ، داخلہ یا دفاعی پالیسیوں کے مقا صد اور اہداف کیا ہیں ۔ کسی ملک کے تھنک ٹینک یا پالیسی ادارے وہ آرگنائزیشن ہوتے ہیں جو ملک کے مختلف شعبوں کے ملکی اور بین الاقوامی معاملات اور پالیسی کے بارے میں تحقیق اور غور و حو ص کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک امریکہ ،بر طانیہ ، نیوزی لینڈ اور چین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ یہ ممالک موثر پالیسی اور حکمت عملی اور تھینک ٹینک کی وجہ سے ترقی کر گئے ۔ آج کل بھارت کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 7;46;5ہے ۔ تقریباً 90 فیصد تھینک ٹینک 1952 کے بعد وجود میں آئے ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو امریکہ میں اس وقت 1853 تھنک ٹینک کام کرتے ہیں ۔ چین دوسرے نمبر پر ہے جہان پر تھنک ٹینک کی تعداد 512 بر طانیہ میں 444 اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 293 تھینک ٹینک کام کرتے ہیں اور وہ ملک کے قانون سا زاداروں کی راہنمائی کےلئے ایسے ;84;ipsبتاتے ہیں جو ملک کی ترقی اور کامرانی کےلئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک جنکے پا س تھنک ٹینک ہیں وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ ساءوتھ کو ریا ہمارا پانچ سالہ منصوبہ لے گیا جسکی وجہ سے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم نے منصوبہ بندی چھوڑی تو ہم پتھر اور دھات دو ر کے رہ گئے ۔ مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کم و بیش 230ممالک کی فہرست میں کوئی بھی اسلامی ملک نہیں جسکے پاس تھنک ٹینک ہو ۔ اگر مسلمانوں اور خا ص طور پر پاکستان کے زوال کے اسباب دیکھیں تو مسلمان اور بالخصوص پاکستان کے پاس ہر قسم کے 70 فی صد وسائل ہیں مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاس موثر منصوبہ بندی ، منصوبہ سازی اور ٹھینک ٹینک نہ ہونے کی وجہ سے ہم زوال اور پستیوں میں جا رہے ہیں ۔ پاکستان اور بالخصوص مسلم دنیا میں ماہر اقتصادیات ماہر توانائی ، ماہر علم الرض ، زراعت ، دفاع ، ما حولیا ت اور اسی طرح ہزاروں شعبوں میں ما ریں اور تھنک ٹینک نہ ہونے کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہمارا کوئی ریاستی شعبہ سائنسی بنیادوں پر نہیں جسکی وجہ سے مسلمان اور خاص طور پر پاکستان کے ریاستی ادارے تباہی اور بر بادی کے دہانے پر ہے ۔ آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم کا دور ہے اور دنیا میں وہ ممالک ترقی کے منازل طے کرتے ہیں جنکے پاس مختلف اُمور کے لئے بُہت سارے ما ہریں اور تھنک ٹینک ہو ۔ ترقی یا فتہ ممالک میں مختلف اُمور کے تھنک ٹینک اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر حکومت کورپورٹس اور سفارشات دیتے اور یہ سفارشات قانون ساز اداروں کو منظوری کےلئے دئے جاتے ہیں اور اسی طرح ملک کےلئے موثر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ۔ کسی بھی ملک ملک اور خاص طور پر جمہوری ممالک میں قانوں سازاتنے اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نہیں ہوتے جد ہر چیز کے بارے میں ایک اچھی راہنمائی دے سکیں ۔ اگر ہم پاکستان کے قانون ساز اداروں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیول پر سٹینڈنگ کمیٹیوں کا تجزیہ کریں تو یہ بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے مگر یہ جُز وقتی ہوتے ہیں اور اور یہ بھی اتنے مو ثر نہیں ہو تے کیونکہ انکا ایجوکیشن اور تجربے کا معیار وہ نہیں ہوتا جو تھینک ٹینک کا ہوتا ہے ۔ اس کالم کے توسط سے مسلم اُمہ اور بالخصوص پاکستان کےء حکمرانوں سے یہ استد عا کرتا ہوں کہ مختلف شعبوں میں ترقی اور اسکو فروع دینے کےلئے تھنک ٹینک بنائیں تاکہ ملک میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے تھنک ٹینک کے اصولوں کے راہنمائی میں آگے چل سکیں ۔ وہ دور گیا جب ریاستیں بغیر کسی موثر بندی کے بادشاہ کے حکم کے تابع ہوتی ۔ پاکستان میں مختلف یو نیور سٹیوں اور مختلف اُمور میں ماہروں کو یہ کام دینا چاہئے ۔ ہم بھارت کے ساتھ ہر بات میں ہم سری کرنا چاہتے ہیں مگر افسوس کہ ہم اُنکو ان چیزوں میں کیوں مقابلہ نہیں کرتے ۔ جمہوری طرز حکمرانی کو چھو ڑ کر کسی صا حب علم تجربہ کار شخص کا غلام ہوجا ءو، کیونکہ دو سو گدھوں کے دماغ سے انسانی فکر پیدا نہیں ہو سکتی ۔ پاکستان بننے یا اسکے بعد تقریباً ۹۲۱ ممالک آزاد ہوئے ہیں مگر پاکستان دنیا میں کیا جنوبی ایشیاء میں بھی سماجی اور اقتصادی اشاروں کے لحاظ سے سب سے نیچے ہے ۔ آج کل کی مہنگائی ، بے روز گاری ، لوڈ شیڈنگ ، مس مینجمنٹ ہمارے سامنے ہیں ۔

ترقی کے ثمرات عوام تک لازمی پہنچنے چاہئیں

ملک کی اندرونی اور بیرونی صورتحال کا تقاضا ہے کہ حالات باہمی افہام و تفہیم کے تحت درست ہوں ۔ اگر کوئی مسئلہ بھی درپیش ہو تو وہ گفت و شنید سے حل کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان اس وقت جس ترقی کی منزل کی جانب گامزن ہے وہ بڑی مشکل سے حاصل ہوئی ہے اور اس کا تعین بڑی قربانیوں کے بعد کیا گیا ہے لہٰذا اگر اس ترقی کے ثمرات عوام الناس تک نہ پہنچیں تو کتنے ظلم کی بات ہوگی ۔ جب ترقی کے پھل کی نچلی سطح تک ترسیل نہ ہو تو اس ترقی کا کوئی حاصل وصول نہیں ۔ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے آج قوم اس موڑ پر کھڑی ہے ۔ جہاں سے منزل بہت دور نہیں لیکن اگر ایسے میں کوئی ترقی کی منازل کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کرے تو یہ سراسر نا انصافی کے مترادف ہوگا ۔ ایسے میں حکومت کو یقینی طورپر ایسے اقدامات اٹھانے پڑیں گے کہ جن کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ ہو ۔ ترقی کے ثمرات ضائع نہ ہوں ، امن و امان قائم ہو ، بین الاقوامی سطح پربھی ملک کانام روشن ہو،ہ میں دنیا کے سامنے سبکی برداشت نہ کرناپڑے، اس سلسلے میں ہمارے سیاسی رہنماءوں کوکلیدی کردار ادا کرنا ہوگا ۔ کورکمانڈرکانفرنس جوکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کی زیرصدارت ہوئی ۔ انہوں نے بھی واضح کیاکہ کسی بھی مذموم مقصد کے لئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ کورکمانڈرکانفرنس میں قومی سلامتی اور جیو اسٹرٹیجک حالات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ داخلی سلامتی اور کشمیر کی مکمل صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ کانفرنس میں کور کمانڈرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر حال میں ملک کا دفاع کریں گے، کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملکی امن و استحکام قومی اداروں افواج پاکستان کی قربانیوں کی مرہون منت ہے جبکہ کسی بھی مذموم مقصد کےلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج ملکی اداروں کی مدد کےلئے آئین کے تحت فراءض انجام دیتی رہے گی جبکہ افواج پاکستان ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے تیار ہے جبکہ مشرقی سرحد اور ایل او سی پر ہر قسم کے چیلنجز سے بھی نمٹنے کےلئے ہر دم تیار ہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ اہم قومی معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی ضروری ہے اور یہ ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کےلئے انتہائی ضروری ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ریاستی اداروں کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا استحکام اداروں کے ساتھ وابستہ ہے، ملک کے ادارے مزید مستحکم کریں گے ۔ اے ٹی سی سے لے کر سپریم کورٹ تک ہر جگہ خود پیش ہوا، ریاست پہلے سیاست بعد میں ;200;تی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے ۔ کرتار پور راہداری بین المذاہب ہم ;200;ہنگی کی بہترین مثال ہوگا، دنیا بھر سے ;200;نیوالے سکھ زائرین کو خوش ;200;مدید کہنے کو تیار ہیں ۔ معاشی استحکام کیلئے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں ، کرنٹ اکانٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ۔ تجارتی خسارے میں کمی اور بر;200;مدات میں اضافہ خوش ;200;ئند ہے، مزید اقدامات جاری ہیں ، چند ماہ میں مزید بہتری ;200;ئے گی ۔ اُدھرپاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لی ۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ وزیر اعظم اور حکومت کی کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ، پارلیمنٹ کو جمہوری اقدار کے مطابق بدستور فعال رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، موجودہ حالات میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا کردار اہم تھا اور ہم اس پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کی تاریخی اصلاحات ملک کی تعمیرو ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی ۔ پاکستان کو درپیش معاشی، سفارتی، انتظامی اور دیگر چیلنجز سے نبرد;200;زما ہونے کے لئے وزیرِ اعظم اور حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے اور ہم ابھی تک دھرنے اور احتجاجات میں الجھے ہوئے ہیں اگر دیکھا جائے تو سابقہ تمام سیاسی چہرے ناکام ہوئے ہیں اور ملک کی معاشی تباہی کے یہ سب ذمہ دار ہیں ۔ مفاد پرستی ، چاپلوسی اور انفرادی سوچ اور طرز سیاست نے ملک و قوم کے مستقبل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔ مظاہرے ، جلوس اور دھرنے کسی بھی مسئلے کا حل نہےں ہوتے ، مسائل ہمےشہ مذاکرات سے ہی حل ہوا کرتے ہےں ۔ عوام محض سےاسی تماشے کےلئے اپنے بچوں کو بھوکے نہےں رکھ سکتے ۔ مذاکرات کسی بھی مسئلے کا حل ےا باہمی مفاہمت پےدا کرنے کےلئے بات چےت کے عمل کا نام ہے جب مذاکرات اور مفاہمت سے کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہو تو پھر دھرنا ،احتجاج اور آزادی مارچ کرنا ہٹ دھرمی ہی قرار دی جا سکتی ہے ۔ کیا اپوزیشن فوج پر تنقید کر کے اس مشکل وقت میں بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی ہے ۔ ہماری فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ فوج اب حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا میں ترقیاتی کام کر رہی ہے ۔ سرحد پر بھارت جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسوقت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ فوج فاٹا، اندرون ملک اور مغربی باڈر پر دو لاکھ فوج ہے ۔ کسی طرح بھی ملک کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں ۔ ورنہ اس سے بھارت کو آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے ۔ اپنے مطالبات جمہوری طرز پر پیش کر کے واپس چلے جائیں ۔ یہی جمہوری طریقہ ہے ۔ اگر ملک میں افراتفری ہوئی تو یہ نہ ہی اپوزیشن اورنہ ہی حکومت اور نہ ہی عوام کےلئے اچھا ہو گا ۔ اس سے بھارت فائدہ اُٹھائے گا اور ایک روایت پڑ جائے گی کہ لاکھ دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر کسی بھی حکومت کو گراتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی دفعہ، اللہ اللہ کرکے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے پانچ سال مکمل کیے تھے اوراب موجودہ حکومت کو بھی پانچ سال پورے کرنے کاموقع دیاجائے تاکہ ملک آگے بڑھے ۔

فضل الرحمان کے ساتھ قوم پرست قیادت کاکھڑا ہوناغیرمعمولی بات ہے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیاز ی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،مولانا نے اپوزیشن پارٹیوں اور تمام مکتبہ فکر کے علماء کو اپنے ساتھ کھڑا کیا،ایک دو روز صبر کریں ، مولانا فضل الرحمان اسلام آباد سے چلے جائیں گے ۔ پروگرام میں شریک اینکر پرسن منیب فاروق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ضرور پوچھا جائے گا کہ دھرنے کیلئے فنڈنگ کہاں سے ہوئی،دوسری سیاسی جماعتیں مولانا کی اندھی تقلید نہیں کر رہیں ،وہ ساتھ بھی ہیں اور نہیں بھی،مولانا فضل الرحمان احتجاج سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہے ۔ دوسری جانب کنٹینر کے اندر روزنیوز کو انٹریو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ایس کے نیازی کا میڈیا گروپ سنجیدہ صحافت کا علمبردار ہے ، مولانا فضل الرحمان نے سردار خان نیازی کو اپنا بھائی قرار دیا ، ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک سے جمہوریت مضبوط ہو گی ۔ اصل بات یہ ہے کہ دھرنے سے ملک و قوم کو اور مولانا فضل الرحمان کو کیا حاصل ہوا ;238; مولانا کی جماعت دیوبند یوں کی جماعت ہے لیکن ان دائیں جانب بریلوی انس شاہ نورانی اور دوسری طرف اہل حدیث ابتسام الٰہی کھڑے ہیں یعنی مولانا نے ثابت کیا وہ فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر سارے مکاتب فکر کو لے کر چل سکتے ہیں ۔ مولانا کے ساتھ قوم پرست بھی کھڑے ہیں ۔ اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی بھی، مذہبی جماعت کے رہنما کے ساتھ قوم پرست قیادت کا کھڑا ہونا غیر معمولی بات ہے ۔ قومی سیاست دان بھی مولانا کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ ن لیگ اور پی پی پی اس وقت مولانا کی امامت میں کھڑے ہیں ، ان کے سیاسی امام مولانا ہیں ۔ مولانا پرامن رہے ۔ یہ دنیا کو ایک اچھا پیغام تھا کہ مذہبی طبقہ بہت پُرامن ہے ۔

جناح سے عمران خان تک

برصغیر کے ممتاز دانشور اداکار یوسف خان المعروف یوسف خان دلیپ کمال نے کینسر ہسپتال کی فنڈریزنگ کی تقریب میں عمران خان کے بارے یہ کلمات ادا کئے تھے ۔ ’’کہ خوش قسمت ہے ماں جس کی کو کھ سے عمران خان جیسے سپوت نے جنم لیا ہے اس کی ایمانداری اور وجاہت کی مثال نہیں ‘‘دلیپ کمار صرف عظیم ادا کار ہی نہیں بلکہ ادب فلسفہ اور سماجیات کے ماہر سمجھتے جاتے ہیں انکے یہ کلمات اس وقت گونجے جب عمران خان کا سیا ست سے دور دور تک واسطہ نہ تھا ۔ کسی کا کوئی بھی بڑا کارنامہ تاریخ شاہد ہے ۔ اُن انسانوں کے ہاتھوں سرزد ہوتا ہے جو کائنات کے اصولی نظام جو کہ ایمانداری اور مسلسل جدوجہد کی بنیادوں پر قائم ہو، اور استحکام خوری کے ساتھ واضح نصب العین ہو ۔ ورنہ دنیا میں ذہن اور کوشش کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ اور کامیابی انکی تقدیر میں نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالی کا قانون اس انسان کی کوششوں کو نتیجہ خیز بناتا ہے ۔ جوجمود سے نکل کر حرکت کرتا ہے ۔ لیکن اعلیٰ نصب العین اور مقصد حیات کے ساتھ کوشش کو دوام حاصل ہوتا ہے ۔ عمران خان دنیائے سیاست سے پہلے دنیا بھر میں ایک مشہور کھلاڑی اور طلسماتی شخصیت کے مالک تھے ۔ انکی وجہ شہرت کھیل کا میدان بنا ۔ 1922کے ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کی حیثیت سے جب وہ عروج پر تھے ۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے عزائم کا بر ملا اظہار کیا ۔ پاکستان میں شوکت خانم میموریل ہسپتال ۔ عمران خان کا کرشمہ ہے ۔ جو ایشیاء میں پہلا بڑا چراٹی ادارہ ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا قیام تعلیم کے شعبے میں ایک سنگ میل ہے ۔ ان دونو ں اداروں سے کم آمدن طبقہ مستفید ہو رہا ہے ۔ سیاست میں آمد ان کےلئے ایک حادثہ ثابت ہوا ۔

اللہ جب کسی سے کام لینا چاہے تو وہ دیکھتا ہے ۔ کہ اس انسان کی نیت ، ارادے اور مقاصد کیا ہیں تو اس کو بڑی ذمہ داری سونپ دیتا ہے یہاں اس بات کا ادراک سطحی طور پر نہیں بلکہ گہرائی کا متقاضی ہے ۔ جناح اور عمران خان کی شخصیات ، نجی زندگی ، مقاصد، ناکامیاں اور کامیابیاں عجیب مماثلت رکھتی ہےں ۔ جناح کا نگریس سے مسلم لیگ آتے تو ہندو مسلم اور مسلم مسلم میں نا چاکیاں انہیں انگلستان لے گئیں ۔ جناح اپے عہد کے معروف وکیل تھے ۔ انکی خوبی یہ تھی کہ وہ ایماندار تھے مذہب سے انکا واچبی سے تعلق تھا ۔ لیکن انکی ایمانداری تھی جس پر اپنے عہد کے عظیم مفکر اور فلسفی حضرت علامہ اقبال کی نگہ پڑگئی اور ان دونوں نایفوں نے طویل مباحت ، انکی د لائل اوران کو ایک مقصد کے قریب لے آئی ۔ جو آگے چل کر ۔ جناح ہندوستان آنے پر مجبور ہوا ۔ عمران خان کو بھی کئی بین الاقوامی اور ملکی شخصیات نے سیاست میں آنے کے مشورے دیئے ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست اور بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ملک کےلئے سود مند ثابت ہوسکتاہے ۔ وہ جس کا تعلق کسی سیاسی خانوادے سے نہ ہو ۔ اس وقت اقتدار پر قابض دو سیاسی جماعتوں نے اجارہ قائم کر رکھی تھی اور یہاں تک کہ پاکستان کو اپنے مفادات کےلئے بے دریغ استعمال کر تے رہے ۔ عمران خان نے جب سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا وہی ہوا جو ہوتا تھا ۔ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا گیا اور ان کی بیوی جمائمہ جو مسلمان ہوگئی تھیں ۔ ان کو الزامات کا نشانہ بنایا ۔ جمائمہ کو آخر طلاق لینا پڑی ۔ اسکی شرط یہ تھی کہ عمران برطانیہ میں سکونت اختیار کرے ۔ عدالت میں جج کے ریمارکس عمران خان کی ایمانداری کیلئے سند کا درجہ اختیارز کر گئی ۔ قانون کے مطابق جمائمہ نے اپنی جائیدار کا آدھا حصہ دینا تھا ۔ مگر عمران خان نے لینے سے انگار کیا ۔ جج نے جمائمہ سے کہا کہ آپ ایسے عظیم انسان سے طلاق لے رہی ہیں ۔ آس نے جواب دیا وہ تو میں مانتی ہو ں مگر پاکستان میں سیاستوں میرا جینا دو بھر کیا ۔ جج نے عمران خان سے کہا آپ کیا کہتے ہیں ۔ عمران خان نے اپنی سابقہ ہونے والی بیوی کے بارے کہا کہ یہ ایک عظیم ماں ہے اور میرے بچوں کی اچھی دیکھ بال کرے گی ۔ لیکن مجھے پاکستان اور پاکستان کے عوام عزیز ہیں کیونکہ وہ بہت مصیبت میں ہیں ۔ میں انکے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ جناح کی رتی باتی جو کہ پارسی تھی انکی شادی پر ہندوستان کے مسلمان علماء جن میں حسین احمد مدنی ۔ رئیس الاجرار، مولوی کفایت اللہ نے قائد اعظم کو کافر و مرتد کہا ۔ کہ اس نے پارسی خاتون سے شادی کی ۔ اس شعر کو ہندوستان بھر میں مشہور کیا ۔

اک کافرہ کی خاطر اسلام کو چھوڑا

یہ قائداعظم ہے کہ ہے کافر اعظم

جناح کا نکاح نامہ جو بمبئی کی مسجد میں طے ہوا ۔ اُس مسجد کے خطیب کے دستخط اور رتی بانی مذہب اسلام درج کیا گیا تھا ۔ مگر ان فسادیوں نے قائد کی تحریک اور اقبال کے افکار کو زج پہنچانے کیلئے یہ شیطانی ڈرامہ کھیلا ۔ پروپیگنڈا اُن اشخاص کے بارے میں ہوتا ہے ۔ جب مفادی ٹولے کو یقین ہو چلے کہ اُن کے مفادات بکھرنے والے ہیں ۔ نیشلیسٹ علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا یہاں تک عوام کو گمراہ کرنے کے لئے قائداعظم کو کافر تک قرار دیا ۔ بعینہ جیسے آج اُنہی نیشنلسٹ علماء کی باقیات عمران خان کو کافر یعنی یہودی قرار دیا ہے ۔ جناح کے مقابل انگریزوں ، ہندواؤں اور ان مسلمان علماء نے ایک او ردہم مچا رکھی تھی ۔ مگر ایمانداری قائداعظم نے تن تنہا پاکستان کا کیس لڑا ۔ اگرچہ قائداعظم بھی تحریک پاکستان کے دوران میں ساتھیوں کی دغا کا سامنا کرتے رہے ۔ انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ماسوائے سردار عبدالرب نشتر کے ۔ قائداعظم ;78;o compromiseکا نعرہ بلند کرتے کرے ۔ یہ جیت قائداعظم کی متانت ، ایماندار مسلسل جدوجہد، اعلیٰ نصب العین کی صفات سے ممکن ہوا ۔ اور یہی اللہ کی مدد ہوتی ہے جسطرح بدر کی جنگ میں مسلمانون کی تعداد صرف 313تھی ۔ مگر جو نفسیاتی مدد انکو اللہ اور ملاءکہ کی طرف سے ملی ۔ اس جنگ نے فتح مکہ کی پہلی اینٹ رکھ دی ۔ عمران خان آج اُسی دور سے گزر رہے ہیں جب قائداعظم 1940تا 1947 کے گزر تے ۔ استقلال اور استحکام کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;78;o compromise ان مداری سیاست دانوں کےلئے موت ثابت ہوگا ۔ جناح کے بعد عمران خان ۔ انہتائی مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ۔ اس کی جماعت میں بھی آستین کے سانپ ہیں ۔ 50سال سے جاری اس گندے سیاسی نظام سے تو یہی نمونے نکلنے تھے ۔ جناح کے پاس بھی گندے انڈوں کی بھر مار تھی ۔ لیکن سب جناح کی شخصیت سے مرعوب تھے ۔ انہوں نے صبر سے کام لیا اور مستقبل پر نظر رکھی ۔ اور جونہی قائداعظم وفت پاگئے انہوں نے وہی کیا جس کے لئے مولانا چلا رہے ہیں ۔ جناح کی وفات سے آج کی موجودہ صورتحال یہ قوم جیسے کسی عظیم گناہ کی پاداش میں راندہ درگا ہ ہیں ۔ لیکن قاضی فطرت کا فیصلہ حق کے ساتھ کھڑا رہتا ہے ۔ امتحانات، آزمائشوں سے نکلنے کے بعد ہی مستحکم خودی تشکیل پاتی ہے ۔

مولانا فضل الرحمن کے آباؤں نے جناح کو شدید تکالیف سے گزارا جس طرح آج وہ عمران خان کو للکار رہا ہے ۔ انکے مراسم آج بھی ہندوستان کے ساتھ قدیمی ہیں ۔ دیوبند کے مسلمانوں نے متفقہ طور ہندوستان کے حق میں ووٹ ڈالاتھا ۔ مگر یہ فتنہ پاکستان میں انکا نمائندہ بن کر رہ گیا ۔ ۔ اسفندیار ولی ۔ باچا خان کا پوتا ۔ کانگریس کا حصہ ۔ پاکستان میں ان کا نمائندہ بن کر ۔ انکے مفادات کا تحطظ کر رہا ہے ۔ انہوں نے ببانگ دیل وجود پاکستان سے نفر ت کرتے ہیں ۔ مگران سب خرافات کے باوجود ۔ ۔ ۔ اس کا لی رات نے صبح میں بدلنا ہے ۔ سوچ لیں جناح کی شہادت کے بعد اس ملک کے نالائق طبقات نے قائداعظم کی ساری محنت اور ایمانداری کے انعام کو اپنے لئے زحمت بنا دیا ۔ جس کی شدت آج زور اختیار کر گئی ۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں کی دعا شاید قبول ہوگئی ہے کہ جناح کی شخصیت دوبارہ زندہ ہوگئی اور عمران خان کی صورت جنم لے چکی ہے ۔ اس شخص کی قدر اور پاکستان کا روشن مستقبل دیکھنا اب خواب نہیں ۔ عمران خان کی کرشماتی شخصیت نے نوجوانوں کے سینوں میں اک تحرک پیدا کردی ہے ۔ ایسے کئی عمران اور جناح پیدا ہوتے رہیں گے اور مفکر قرآن کی بصیرت کےمطابق جب جوانوں میں خودی بیدار ہوتی ہے ۔ تو وہ کائنات کی باگ دوڑ سنبھال لیتے ہیں ۔ خراج عقیدت اقبال کےلئے کہ جس کی دورنگیی نے جناح کا انتخاب کیا ۔ اگر جناح کا کردار ہمارے سامنے نہ ہوتا تو عمران خان کہاں سے پیدا ہوتا ۔ قوم خودی اوعظیم با وصف اور ایماندار رہنماؤں کے بل عروج پاتی ہیں

جوانون کو میری آہ سحر دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

منی پور ، آزادی کی راہ پر

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور خطے کوبراہ راست بھارتی عملداری میں لانے کے مودی سرکار کے فیصلے کے بعد بھارت میں ریاستی ٹوٹ پھوٹ بڑھتی جا رہی ہے ۔ 5 اگست کو مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا اعلان کیا تو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کو چونکا کر رکھ دیا ۔ کشمیریوں نے فوری طور پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جلسے ، جلوس، ہڑتالیں کیں جن پر قابو پانے کےلئے وادی میں کرفیو لگا دیا گیا جو آج تین ماہ بعد بھی جوں کا توں ہے ۔ 5 اگست کے بھارتی حکومت کے متنازع فیصلے کے فورا بعد ہی ناگا لینڈ نے بھارت سے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے 14 اگست2019 اپنے 73 ویں یوم آزادی کے طور پر منایا ۔ ناگا لینڈ میں یوم آزادی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ناگا لینڈ کا قومی پرچم اور قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا ۔ ناگا لینڈ نے 14 اگست کو صرف اپنا یوم آزادی ہی نہیں منایا بلکہ پاکستان، کشمیریوں اور خالصتان کے عوام کی طرح بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا یا ۔ چیئرمین نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالزم (این ایس سی این) یروئیوو ٹکو کا 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ بہت زیادہ چیلجز ہیں لیکن بھارت سرکار اور این ایس سی این کو سیاسی ذہانت کے ذریعے ان معاملات کو حل کرنا چاہیے ۔ دونوں ریاستوں کے لیے بہترین سیاسی حل یہی ہے کہ ماضی کی ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر کے آگے بڑھا جائے ۔ ناگا لینڈ کے عوام اپنے آباوَ اجداد کے قومی فیصلے پر بالکل مطمئن ہیں کہ ناگا لینڈ 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ہم ناگا لینڈ کی عوام کے درمیان تقسیم کرنے والے کسی بھی بیرونی فیصلے کو تقسیم نہیں کریں گے ۔ ناگا لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کی آزادی کا اعلان کیا گیا اور ناگا لینڈ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ناگا لینڈ کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا کیونکہ ہماری اپنی زبان، اپنا مذہب اور اپنا کلچر ہے لیکن بھارت نے 1947 سے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا بالکل اسی طرح ناگا لینڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے ۔ ناگا لینڈ بھارت کے شمال مشرق میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پہاڑی خطہ ہے اور یہاں کے لوگ قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ناگا لینڈ کی 88 فیصد آبادی غیر ہندو مذاہب سے تعلق رکھتی ہے جس میں سے 67 فیصد عیسائی جب کہ باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 1951 میں ہونے والے ریفرنڈم کے مطابق ناگا لینڈ کی 99 فیصد سے بھی زائد عوام نے بھارت سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارت نے وہاں اپنی فورسز کو بھیج کر قبضہ کر لیا تھا ۔ ناگا تحریک کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں کا نکل کر اس تاریخی دن کا جشن منانا عوام کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ لوگ حکومت کی پالیسیوں سے تھک چکے ہیں ۔ کوئی اسے ;39;بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے;39; ہونے کی ابتدا کہہ رہا ہے تو کوئی اسے مرکز کی نریندرمودی حکومت کی ناکامی قرار دے رہا ہے جبکہ بعض مبصرین اسے ناگا آزادی کی ;39;نئی لہر;39; کہہ رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ;39;ایک ملک، ایک آئین اور ایک پرچم;39; والا نعرہ کہاں گیا;238;اور اب 31 اکتوبر کو جب کشمیر کی تقسیم پر عملاً عمل درآمد کیا گیا اوروادی کے دونوں حصوں میں بھارت کی مرکزی کے نمائندوں کا تقرر کیا گیا تو ہندوستان کی ریاست منی پور کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے ہندوستان سے یکطرفہ آزادی کا اعلان کر تے ہوئے برطانیہ میں اپنی جلاوطن حکومت کا بھی اعلان کردیا ۔ برطانیہ سے ہندوستان کی آزادی کے دو سال بعد انیس سو انچاس میں منی پور ریاست ہندوستان کا حصہ بنی تھی تاہم وہاں کے مقامی لوگ ایک عرصے سے علیحدگی کے لئے تحریک چلا رہے تھے ۔ خودساختہ منی پور اسٹیٹ کونسل کے وزیر برائے امور خارجہ نارینگبام سمرجیت نے ریاست منی پور کی آزادی کا اعلان بآواز بلند پڑھنے کے بعد لندن میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج تیس اکتوبر سے یہاں سے جلاوطن حکومت چلائیں گے ۔ نارینگبام سمرجیت نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کا رکن بننے کے لیے مختلف اقوام سے خود کو تسلیم کروائیں گے، ہ میں امید ہے کہ کئی ممالک ہماری آزادی کو تسلیم کریں گے ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہم ہندوستان میں آزاد نہیں ہیں ۔ مہاراجہ کا محل ہمارا ہیڈ آفس ہو گا ۔ ملکہ برطانیہ کو بھی آزاد منی پور ریاست کے فیصلے سے متعلق قرارداد پیش کریں گے ۔ کشمیر کی طرح ریاست منی پور میں بھی افسپا جیسا قانون 1958 سے نافذ ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کو بہت سے خصوصی اختیارات حاصل ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ 1979 سے 2012 کے درمیان منی پور میں بہت سے لوگوں کو فرضی مقابلوں میں مارا گیا ہے ۔ ان کے مطابق اس میں نابالغ بچے اور بہت سی خواتین بھی شامل ہیں ۔ جولائی 2017 میں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو شمال مشرقی ریاست منی پور میں 62 لوگوں کی مبینہ فرضی تصادم میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کا حکم دیا تھا ۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں وقتاً فوقتاً علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں ناگا لینڈ میں علیحدہ آئین اور علیحدہ پرچم کے مطالبے نے زور پکڑا تھا لیکن منی پور کی طرح کسی ’جلاوطن حکومت‘ کے قیام کا اعلان شاید پہلی بار کیا گیا ہے ۔ یہ ہندوستان کا اصل چہرہ ہے کہ وہاں تمام اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ۔ سب باری باری آزادی کا اعلان کر رہے ہیں ۔ اب باری خالصتان، ناگالینڈ، میزورم، اروناچل پردیش، میگھالیہ، تریپورہ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کی ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ملکی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چھ سو میں سے دو سو اضلاح میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ صرف علیحدگی کی تحریکیں ہی نہیں نسلی تنازعات اورذات پات کے جھگڑے بڑھ چکے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ بھارت کا وفاق جبر کے نظام کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور خود بھارتی حلقے ماضی میں خبردار کرتے رہے ہیں کہ بھارت ٹوٹ جائے گا ۔

عمران خان نے پہلی دفعہ جراَت سے کشمیر کا مقدمہ پیش کیا

عمران خان پاکستان کی سفارتی تاریخ میں قائد اعظم ;231;کے بعد پہلا سیاسی لیڈر ہے کہ جس نے جراَت سے اسلام، پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ پیش کیا ۔ اب مخالفت برائے مخالفت کرتے ہوئے عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کو توڑا موڑا جائے وہ تو ہر کسی کے اپنے ضمیر کی بات ہے جو چائے وہ کرے ۔ بلاول اور احسن اقبال کو تقریر پسند نہیں آئی ۔ کوئی کہے کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو میں تقریر کیوں نہیں کی;238; اس لیے نہیں کی کہ کشمیر کا مسئلہ نازک مسئلہ ہے ۔ اسے فوراً دنیا کے لیڈروں تک پہنچانا تھا اس لیے عمران خان نے انگریزی میں بات کی ۔ اسے مخا فوں کو برداشت کر لینا چاہیے ۔ اورکشمیر کے مسئلہ نظر رکھنی چاہیے ۔ کوئی کہے کہ عمران خان نے جو کچھ بھی کہا ہے ۔ اقوام متحدہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ۰۷ سال سے کیا کوئی اثر ہوا ہے ۔ ہمارے نذیک یہ عمران خان مخافوں کی ذہنی اخترا ہو گی ۔ کیوں کہ پہلے اور بات تھی اب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے گھڑی ہیں ۔ کشمیر میں ۳۱;241; ہزار عورتوں سے بھارتی فوج نے اجتمائی آبرو ریزی کی ہے ۔ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳;241; اے غیر آ ئینی طریقے سے اپنے آئین سے ہٹا کر کشمیر کو بھارت میں ملا لیا ہے ۔ اب پوزیشن کچھ اور ہے ۔ اب بھارت نے جوا کھیل کر کشمیر کو بھارت میں ملا لیا ہے ۔ عمران خان نے مضبوط دلائل سے اسلام، پاکستان اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سامنے رکھا ہے ۔ سری نگر میں کرفیو توڑ کر آتش بازی کی گئی ۔ بھارتی فوج نے چھ کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ دوسری طرف مودی نے یہ سمجھ رکھا کہ اس نے کراچی میں الطاف کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوخراب کر دیا ۔ پوری مغربی دنیا نے پاکستان کو دہشت گرد اسٹیٹ قرار دینے کے آخری مقام تک پہنچا دیا ہے ۔ مگر یہ سارے شیطان کے وسوسے ہیں ۔ جو بھارت اور مغرب کے دماغ میں بیٹھ گئے ہیں ۔ کیا پاکستان ایٹمی طاقت اس لیے بنا تھا کہایٹم بم کو الماری میں رکھ دینا ہے ۔ یا مغرب کی اسکیم کے مطابق اسے اقوا م متحدہ کے حوالے کر دینا ہے ۔ دشمن یاد رکھے اگر پاکستان نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ۔ پاکستانی عوام ۲۷ سال سے بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں ، پاکستان کے ٹکڑے کرنے اور کشمیر پر قبضے کرنے کے بدلے چکانے ہیں ۔ پاکستانی عوام اپنے سارے اثاثے پاکستان اور پاک فوج کے حوالے کر دی گی ۔ ایک طرف مسلم معاشرہ والا پاکستان جو موت کو گلے لگاتا ہے اور دوسری طرف بھارت کا ہند ومعاشرہ جو لکشمی یعنی دولت کی پوجا کرتا ہے اور یہودیوں کی طرف ہزار ہزار سال زندگی چاہتا ہے اور غزوہ ہند بھی تو برپاہ ہونا ہے ۔ پھر تاریخ دیکھے گی کون کامیاب ہوتا ہے ۔ عمران خان نے بہادری اور شجاعت والا راستہ چنا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم بھارت کی طرف سے پانی بند کر کے سسکیاں لے لے ہلاک ہونے سے جنگ لڑ کر ہلاک ہونے کو ترجیی دے گی ۔ بھارتی میڈیا میں اس پر بحث چل رہی ہے کہ بھارت کو امریکا سے کیا ملا جو مودی نہیں سارے امریکا سے بھارتیوں کو جمع کر کے اور اربوں روپے خرچ کر کے ٹرمپ کی الیکشن مہم چلائی ۔ بھارت امریکا اور اسرائیل کی سب چالیں الٹی بھارت اور امریکا پر پڑیں گی ۔ بھارت ،اسرائیل اور امریکا نے گریٹ گیم کے تحت پاکستان پر جنگ مسلط کی تھی ۔ اس لیے کہ ان کو اسلامی اور ایٹمی پاکستان ہر گز منظور نہیں ۔ اس گریٹ گیم سازش کو پکڑتے ہوئے سابق آرمی چیف جرنل کیانی کا امریکی صدر اوباما کو ایک خط تھا ۔ جس میں لکھا تھا کہ آپ نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے ۔ آپ کا مقصد پاکستان کو دیوالیہ قرار دلا کر اس کے ایٹمی اثاثے ختم کرنے یا اقوام متحدہ کے حوالے کرناچاہتے ہیں ۔ گو کہ اوباما نے اس کی تردید کی تھی ۔ مگر اس سازش کے ساتھ بھارت اور امریکا نے اپنے حصہ کا کام کرتے ہوئے کراچی، بلوچستان، گلگت میں دہشت گرد کاروائیاں کرائیں ۔ کراچی جو پاکستان کو ستر(۰۷) فی صد ریوینیو کما کر دیتا تھا ۔ اسے الطاف اور گلبھوشن یادیو کے ذریعے ڈسٹرب کیا ۔ اسرائیل اور امریکا نے مل کر نائین الیون کا جعلی واقعہ کرایا ۔ پاکستان کو جہاں جہاں سے مدد ملنی تھی ان عرب ملکوں کو تارج کر دیا ۔ پاکستان میں قوم پرستوں کی مدد سے جعلی تحریک طالبان پاکستان بنائی ۔ جس نے پاکستان میں دہشت کا بازار گرم کیا ۔ پشاور فوجی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سو(۰۵۱) بچوں کا شہید کیا ۔ ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹے ۔ ڈکٹیٹر مشرف کو دھوکا دے کر افغانستان پر حملہ کے لیے لاجسٹک سپورٹ حاصل کی ۔ اس سے افغان طالبان کو بھی پاکستان کا مخالف بنایا ۔ اس گریٹ گیم کا مقصد پاکستان کو ختم کرنا تھا ۔ اسلامی ذہن رکھنے والے جرنل گل حمیدمرحوم نے اس گریٹگیم کو اپنے ایک خاص انداز سے پاکستانی عوام کو ہوشیار کرنے کے لیے ا س طرح بیان کیا تھا ۔ ’’افغانستان بہانہ اورپاکستان ٹکانہ‘‘ ۔ خیر بھارت امریکا نے مل کر پاکستان کے بری، بحری اور ہوائی فوج کے اڈوں پر خود کش حملے کروائے ۔ بھارت، اسرائیل اور امریکاکے اپنے اندازوں کے مطابق پاکستان ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ ۶۲ فروری کے بعد فوج نے پاکستانی عوام کو بتایا تھا کہ تین ملکوں نے مل کر تین مختلف جگہوں سے پاکستان پر حملہ کیا تھا ۔ پاکستانی فوج کے چوکنا ہونے کی وجہ سے ان حملوں کا ناکام بنایا گیا ۔ ظاہر ہے یہ بھارت امریکا اور اسرائیل ہی ہو سکتے ہیں ۔ ان دشمنوں کے اندازوں کے مطابق پاکستان اس وقت پاکستان معاشی طور پر کنگلا ہو گیا ۔ پاکستان پر دباءو بڑھا کر اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ بھارت نے اپنے طور پر سرجیکل اسٹرائیک بھی کی ۔ پھرہوائی حملہ کیا،مگر دونوں محازوں پر منہ کی کھائی ۔ اور اب بھارت کے آئین میں کشمیر بارے خصوصی دفعات ۰۷۳ اور ۵۳;241;اے کو ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا ۔ بھارت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کشمیر سے دسبردار ہو جائےگا ۔ لیکن بھارت کے اندازے غلط ہیں کہ پاکستان ان حالات کی وجہ سے اپنی شہ رگ سے دسبردار نہیں ہو سکتا ۔ پانی کی بوند بوند کو ترس کر پاکستان اپنی جان کیوں دے دے ۔ نہیں بلکہ پاکستان عمران خان کی زیر کمان آخری دم تک لڑے گا ۔ پاکستان کی فوج کے مطابق آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے ۔ پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ۶۲ فروری سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت کشمیر کے بارے پیچھے نہیں ہٹ سکتی ۔ عمران خان نے اقوام متحدہ میں زور دار اور حقائق پر مبنی تقریر کی ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈر اب سر جوڑ کر بیٹھیں گے ۔ بغیر لکھی تقریر دل سے کی ہے اور دل سے جو بات نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے ۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا ۔ عمران خان مسلم دنیا کا واحد لیڈر ہے جو بغیر کسی لگی لپٹی یا خوف خطر کے اسلام فو بیا، نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں ،پاکستان اور کشمیرکی بات کی ۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کو آخری پیغام دیا ۔ وہ سنہری لفظوں میں لکھنے کے قابل ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ جنگ عظیم کے بعد جنگوں کو روکنے اور قوموں کو انصاف دلانے کی لیے وجود میں آئی تھی ۔ کشمیر بار ے گیارا(۱۱) منظور شدہ قرادادیں اقوام متحدہ کے پاس موجود ہیں ۔ کیا اقوام متحدہ اس لیے مسئلہ کو حل نہیں ہیں کر رہی کہ کشمیر مسئلہ مسلمانوں کا ہے ۔ نائین الیون کے بعد دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ۔ جبکہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ کیا سری لنکا میں تامل ہندد ایک مدت تک دہشتگردی نہیں پھیلاتے رہے;238; اس دہشت گردی کو ہند مذہب سے کیوں نہیں جوڑا گیا;238; کیا یورپ میں نیوزی لینڈ کی دومسجد وں میں اللہ کے حضور جھکے ہوئے۰۵نماز ِجمعہ پڑھنے والے مسلمانوں کو ایک عیسائی دہشت گرد نے ہلاک نہیں کیا ۔ کیا یہ عیسائی مذہب کی دہشت گردی نہیں تھی;238; ۔ یورپ میں اپنے ناپاک عزاہم کی تکمیل کے لیے آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلہ اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں ۔ آپ کو نہیں معلوم کہ دنیا کہ ڈیڈھ ارب مسلمان اپنے پیغمبر;248; سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔ کشمیر میں ستر سال سے مظالم ہو رہے ہیں ۔ پہلے آٹھ(۸) لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتی رہی اب نو(۹) لاکھ فوج کشمیریوں پر چڑھا دی گئی ہے ۔ ۵۵ دن سے کرفیو لگا ہوا ہے ۔ انٹر نیٹ، ٹی وی، اخبارات، موبائل لینڈ لائین بند ہیں ۔ ۰۸ لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کیاہوا ہے ۔ اگر ۰۸ لاکھ یہودیوں یا عیسائیوں کو کہیں نظر بند کیا جاتا تو اقوام متحدہ کیا کچھ نہیں کرتی ۔ اقوام متحدہ سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جب کرفیو اُٹھے گا ، کشمیری اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں گے اور نو(۹) لاکھ فوج ان پر گولیاں چلائی گی ۔ کیا یہ اجتماہی خون ریزی نہ ہو گی ۔ پہلے کی پلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں کواندھا کیا جا چکا ہے ۔ موددی کہتا ہے کشمیر میں اب ترقیاتی کام ہوں ۔ نو لاکھ فوج ترقیاتی کام کرے گی یانو لاکھ فوج کشمیریوں کو قتل نہیں کرے گی ۔ مودی جو آر ایس ایس کا بنیادی تاحیات ممبر ہے ۔ مودی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چل کر مسلمانوں کو بھارت سے نکالیں گے ۔ کیونکہ آر ایس ایس۶۲۹۱ء میں ہٹلر کے نظریات پر بنی ہے ۔ اسی لیے اس کے ممبر زرد لباس پہنتے ہیں ۔ اپنی ہندو قوم کو مسلمان اور عیسائی قوم سے برتر سمجھتے ہیں ۔ مودی ہندو قوم کی برتری کے تکبر میں مبتلا ہو گیا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ بھارت پاکستان سے ۷ گنا بڑا ہے ۔ کیا وہ ہ میں ختم کرے اور ہم خاموش بیٹھ جائیں ۔ میں اپنے آپ سے سوال کرتاہوں ۔ جب پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو عمران خان لا الہ اللہ پر یقین رکھنے والا آخری دم تک لڑے گا ۔ میں اپنے ملک کے حالات خراب ہونے کے باوجودیہاں اقوام متحدہ میں آیا ہوں کہ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کو اعتماد میں لوں ۔ پلومہ پرخود کش حملہ کرنے والے لڑکے کے والد نے دنیا کو بتا یا کہ کشمیریوں پرظلم ستم کی وجہ سے میرے لڑکے نے بھارتی فوجی کنوائے پر خود کش حملہ کیا تھا ۔ مودی نے فوراً الزم پاکستان پر لگا دیا ۔ فضائی حملہ کر دیا اور کہا کہ ۰۷۳ دہشت گرد کو قتل کر دیا ہے ۔ ہاں ہمارے چھ(۶) چھیڑ کے درختوں کا نقصان ضرور ہواجس کا ہ میں افسوس ہوا ۔ ہم نے بدلہ لیا بھارت کے دو جہاز مار گرائے ایک پاکستان میں گرا دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔ ایک پائلٹ گرفتار کیا ۔ کیوں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تو ہم نے پائلٹ واپس بھارت کو دے دیا ۔ اب جب کرفیو اُٹھے گا ۔ کشمیری اپنے جائزحقوق کے لیے مظاہرے کریں گے ۔ نو لاکھ فوج ان پر گولیاں چلائی گی ۔ ظلم سے تنگ آ کر پھر کوئی کشمیری پلومہ جیسا واقعہ کرےگا ۔ مودی پاکستان پر الزام لگا کر حملہ کرے گا ۔ ہم نے واپس۶ ۲ فروری سے بھی زیادہ زور سے جواب دیں گے ۔ تو کیا دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ نہیں چھڑ جائے گی ۔ کیا اقوام متحدہ یہ سمجھتی ہے کہ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ دو ملکوں تک معدود رہے گی ۔ نہیں ہر گز نہیں یہ جنگ دو ملکوں تک معدو نہیں یہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔ میں یہی بات بتانے کے لیے اقوام متحدہ میں آیا ہوں ۔ قبل اس کے کہ دو ایٹمی ملکوں میں جنگ شروع ہو ۔ اقوام متحدہ اپنے منشور کے مطابق اس جنگ کو روکے ۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کر کے کشمیر میں رائے شماری کرائے ۔ کشمیر سے فوراً کرفیو اُٹھانے کا بھارت پر زور دے ۔ عمران خان کی پرزور وکالت سے امریکا نے بھارت کو کہا کہ وہ کشمیر سے کرفیوختم کرے ۔ عمران خان کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ میں پہلی بار بھارت کے لیے شیم شیم اور عمران کے لیے تالیں بجائی گئی ۔ اس سے قبل ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں ۲۱;241; دفعہ عمران کو گریٹ لیڈر کہا ۔

ناروے میں اوسلو کی بڑی مسجد کے خطیب سے ایک ملاقات

قرون اولیٰ میں مساجد کو معاشرہ میں ایک کلیدی اور مرکزی حیثیت حاصل تھی معاشرتی اور حکومتی امور مساجد میں ہی انجام دئیے جاتے تھے جب بھی غیر ملکی وفود حضور اکرمﷺ سے ملاقات کی غرض سے آتے تھے تو ان کی ملاقاتیں بھی مسجد نبویﷺ میں ہی ہوتی تھیں ان کی رہائش گاہ اور خورو نوش کا بندوبست بھی یہیں کیا جاتا تھا ۔ تجہیزو تکفین سے لے کر شادی بیاہ کی تقریبات بھی مساجد میں ہی منعقد ہوتی تھیں یہاں تک کہ جنگی مشقیں بھی مسجد نبویﷺ میں ہوا کرتی تھیں ۔ عہد نبویﷺ میں نکاح ،درس و تدریس کے علاوہ یہاں تک کہ جہاد کا آغاز بھی یہاں سے ہوتا تھا اور رسول اکرم ﷺ نے جو خطوط قیصرو کسریٰ کو لکھے تھے وہ بھی مسجد میں ہی بیٹھ کر لکھے گئے تھے ۔ لنگر خانہ اور بیت المال بھی یہیں قائم تھا جہاں ضرورت مندوں کی استعانت کی جاتی تھی الغرض معاشرہ کے رسم ورواج ہوں یا دینی تعلیم مسجد کو ایک مرکزی مقام حاصل تھا اس امر کا اظہار سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد جو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قائم ہے کے خطیب و امام اور ڈائریکٹر سید نعمت علی شاہ بخاری مرکزی جماعت اہلسنت رجسٹرڈ ناروے نے راقم الحروف سے گفتگو میں کیا ۔ جہاں میں نے اوسلو میں اپنے قیام کے دوران ان سے ملاقات کی ۔ ناروے کے دورہ کی دعوت 14اگست کمیٹی کے صدر اور فرینڈز آف ڈاکٹر عبدالقدیر خان برائے یورپ کے چیئر مین عامر جاوید شیخ نے دی تھی جبکہ اس ملاقات کا اہتمام محترم طلعت بٹ سینئر ممبر مرکزی جماعت اہلسنت جو ناروے کی ممتاز اور مقبول سیاسی و سماجی شخصیت ہیں جب انہوں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے دوستوں اور خصوصاً سید نعمت علی شاہ بخاری سے ملانے کے لیے لے گئے تو انہوں نے بڑی گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا ۔ میرے ساتھ اس ملاقات میں فاروق بلوچ بھی موجود تھے ۔ رسمی راہ رسم کے بعد انہوں نے بتایا کہ یہ مسجد 6000سکوائر میٹر میں ہے جس کی بنیاد 1976ء میں رکھی گئی تھی تعمیر کے مراحل تیزی سے جاری رہے اور اس مسجد میں باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز 2006ء میں ہوا ۔ مسجد میں نمازوں کے علاوہ درس و تدریس جس میں قرآنی و اسلامی تعلیمات شامل ہیں کا اہتمام ہے اور یہاں ایک لائبریری بھی موجود ہے جس میں اسلامی اور دینی کتب کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود ہے جس سے مسلمانان ناروے استفادہ کرتے رہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں مہمان خانہ بھی موجود ہے جہاں دیگر ممالک اور شہروں سے آئے ہوئے لوگ جو ہوٹلوں میں رہنا پسند نہیں کرتے ہمارے مہمان خانوں میں قیام کرتے ہیں اور دیگر ممالک کے وفود کو بھی اسی مہمان خانے میں ٹھہرایا جاتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد کو آمدنی میں خودکفیل بنانے کے لیے ہم نے مسجد میں شاپنگ مال بھی بنایا ہوا ہے اس کے علاوہ یہاں مقیم مسلمانوں کے لیے ہال بھی قائم ہے جہاں شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر رسومات اد اکی جاتی ہیں اور تجہیزو تدفین کا بھی انتظام ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مسجد میں مرد اور خواتین یہاں تک کے بچوں کے نمازکی ادائیگی کےلئے نہ صرف علیحدہ ہال قائم کیے ہیں بلکہ ان کے مسجد میں داخلے کے لیے راستے بھی الگ الگ رکھے ہوئے ہیں جو شعائر اسلامی کے عین مطابق ہیں ۔ سیدنعمت علی شاہ بخاری نے مزید بتایا کہ ہم نے ہر عمر کے مرد، خواتین اور بچوں کے لیے اسلامی اور قرآنی تعلیمات کا بھی انتظام کیا ہوا ہے اور ہم نے یہ سب کچھ ریاست مدینہ کے تصور اور مسجد نبویﷺ میں ہونے والی سرگرمیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ہے میرے اس استفسار پر کہ مسجد میں دنیاوی باتوں سے اجتناب کرنا کیا ضروری ہے تو انہوں نے بتایا کہ ایسی بات نہیں اسلام دین اور دنیا دونوں کی بات کرتا ہے اس تاکید کے ساتھ کہ دنیا میں کی جانے والی باتیں اسلام سے انحراف کا باعث نہ ہوں اوردنیا کو آخرت پر غلبہ حاصل نہیں ہونا چاہیے اور نبی اکرمﷺ کے فرمودات کو ہر بات میں فوقیت دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یورپ نے ریاست ، چرچ اور پارلیمنٹ کو الگ کیا تو اس کے اثرات مساجد پر بھی ہوئے اور مساجد کو صرف نمازوں اور خطبات تک محدود کر دیا گیاجو درست نہیں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کونسی معاشرتی ذمہ داری یا روایت ہے جو ہم مسجد میں ادا نہیں کرسکتے جبکہ ہماری مساجد میں ایسا نہیں ہے میرے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری مسجد کو خاصی تعداد میں عطیات ملتے ہیں اور پھر مسجد کو اپنی آمدنی بھی اتنی ہے کہ مسجد اپنے اخراجات میں کسی کی محتاج نہیں اور خود کفیل ہے اور اس کی ماہانہ آمدنی دو لاکھ ناروے کرونا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم آسمانی آفات اور دیگر ابتلاء و آزمائش کے لمحوں میں پاکستان کی بڑی مدد بھی کرتے ہیں عام حالات ہر مالی تعاون زکوٰۃ کی مد میں وصول ہونے والی رقوم سے کیا جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی بڑی آفت ہو تو پھر ہم منظم طور پر عطیات کے لیے مہم چلاتے ہیں اور مالی امداد کے علاوہ اشیائے ضروریہ بھی پاکستان بھیجتے ہیں ۔ اوسلو کے لوگ خوشحال بھی ہیں اور فراخ دل بھی اور وہ دل کھول کر تعاون کرتے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کو جب یہ یقین ہوجائے کہ وہ جس مقصد کے لیے تعاون کررہے ہیں ان کی دی گئی مالی امداد اسی مقصد کےلئے خرچ ہوگی تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں وقت لیتے ہیں ۔ سید نعمت علی شاہ بخاری نے بتایا کہ ہم شوکت خانم ہسپتال ، کڈنی سینٹر اسلام آباد اور دیگر رفاہی اداروں کی باقاعدگی سے استعانت کرتے رہتے ہیں ۔ گفتگو کے دوران جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی سربراہی میں بننے والے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا ذکر آیا تو سید نعمت علی شاہ بخاری نے کہا ڈاکٹر صاحب کا غریبوں کے لیے ہسپتال قائم کرنا ایک بہت ہی اچھی بات ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان کو ایٹمی و میزائل قوت بناکر جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ ان کا پاکستان اور پاکستانی قوم پر ایک احسان عظیم ہے اور قوم ان کے اس احسان کا قرض نہیں چکا سکتی ۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی اچھی صحت اور درازی عمر کی دعا کی اور کہا کہ ہم ہسپتال کے کار خیر میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے جو ہمارا فرض ہے ۔

آزادی مارچ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے

آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ایک اعتبار سے وہ درست ہیں کیونکہ انہوں نے کہاکہ سیاست میں حکمت کی ضرورت ہے اور حکمت کے بغیر سیاست کرنا مشکل کام ہے اور یہ کام جذبات سے عاری ہوکر کرنا پڑتا ہے،ساتھ ہی انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا بھی عندیہ دیدیا ہے جوکہ خوش آئند ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا این آراو دینے کا مطلب غداری کے مترادف ہے ۔ اس میں ہم وزیراعظم سے بالکل اتفاق کرتے ہیں جب تک اس ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا کلچر ختم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم ترقی نہیں کرسکتے ۔ کرپٹ شخصیات کا تعلق چاہے اقتدار سے ہو یا اپوزیشن سے انہیں ہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ آزادی مارچ کو اب دھرنے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اس سلسلے میں کپتان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم کو بھی ہدایت کریں کہ وہ زبان بندی رکھیں کیونکہ اس زبان کی چاشنی سے سارے معاملات خراب ہوسکتے ہیں ۔ بیانات بازیوں سے آزادی مارچ کے شرکاء آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں لہذا حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ معاملات ادھر ہی بیٹھ کر حل ہوں ۔ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ،یہ لوگ میرے منہ سے صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز‘جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ نام لئے بغیر اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا ۔ اُدھرجمعیت علمائے اسلام(ف) کی مرکزی شوریٰ کا 6گھنٹے طویل اجلاس ہواجس میں آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیرہائی وے پرآزادی مارچ کے شرکاء کاقیام جاری رہیگا اور وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈلائن میں ایک دن کی توسیع کی جائے گی ۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کا آپشن مسترد کردیا، اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت اور پلان بی پر بھی غور کیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر غور کیا جس کے مطابق اسلام آباد لاک ڈاءون، ملک گیر پہیہ جام اور ملک گیر شٹر ڈاءون شامل ہے ۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش رفت کریں گے اور پورے ملک کو اجتماع گاہ بنائیں گے، جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا، کسی ٹریبونل، الیکشن کمیشن یا عدالت نہیں جائیں گے، مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کاحق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، جنگ جاری رہے گی، حکمرانوں کو جانا ہوگا، بیچارہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے،5سال میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا نہ رولز بن سکے، یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کیساتھ جائیں گے، ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ،آزادی مارچ کے شرکاء کا جوش بڑھتا جارہا ہے ،غیر قانونی اقدام نہیں کرینگے ۔ عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے، لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اسکی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں ۔

افغانستان کے ناظم

الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاملات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور پڑوسی ممالک کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ خصوصی طورپر افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے ۔ حتیٰ کہ ٹرمپ تک نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی ہے ۔ نیز طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستان اہم کردارادا کررہا ہے ایسی صورت میں افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنا انتہائی غیر سفارتکاری کا کردار ہے ۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وہاں پر موجود عملے کو تحفظ فراہم کرے ۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز سے شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ۔ افغان خفیہ ایجنسی کے اہلکار سفارتکاروں کی گاڑیاں روک کرغلط زبان استعمال کرتے ہیں ،تمام سفارتکاروں کو نقل وحرکت کے دوران روکا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ گھر سے لیکر سفارتخانے اور واپسی کے راستے میں کیا جارہا ہے ۔ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے کابل میں اپنے عملے کی سیکیورٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی عملے کو حراساں کرنے اور راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان سے بھی شیئر کی جائے ۔ پاکستانی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے ان کو تحفظ فراہم کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

بھارتی چیرہ دستیاں

روکنا ازحد ضروری

بھارت کی چیرہ دستیاں کسی طرح رکنے میں نہیں آرہی پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیر سایہ کردیا اب اس نے مقبوضہ و جموں کشمیر کو نقشے میں اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کو متنازع قرار دیا ہے ۔ بھارتی اس انتہاپسندانہ اقدام کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی بھونڈی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ، عیار بھارت کی ایک اور مکاری مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار

دے کر عیاں ہوگئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت ایسی حرکتوں سے دنیا کو کسی صورت بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا جوحقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ایسی کوششیں خطے کے امن و امان کو تہہ وبالا ہی کرسکتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی پر بھارت نے ظالمانہ اور غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ لاکھوں دہشت گرد فوج کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کوسلب کررکھا ہے ۔ جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی حرکات کو اچھی طرح دیکھ رہی ہے اس کو چاہیے کہ مودی سرکار کو ان اقدامات سے روکے اس سے پہلے کہ پورا خطہ جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچے گا کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ کے بعد حالات انتہائی ہولناک ہوں گے اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت کے جو دہشت گردانہ اقدام ہیں ان کے آگے رکاوٹ کھڑی کی جائے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی ۔ پاکستان ہر ممکن اقدامات کررہا ہے کہ خطے کے حالات پرامن رہیں اور بھارت سے بھی تعلقات بہتر رہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ یہاں سے فرار ہی حاصل کیا ۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان نے جوکچھ کیا وہ بھی ایک امن کا قیام ہے ۔ راہداری پر پاک بھارت زیرو پوائنٹ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے ۔ سکھ برادری نے اس کا خیر مقدم کیا ہے بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کو بھی چاہیے کہ وہ بھی امن کی جانب قدم بڑھائے ۔

حالات حاضرہ پر ایک نظر

عمران خان کی حکومت قائم ہوئے ابھی ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا کہ سیاسی مخالفین نے اسے جھٹکے دینے شروع کردئیے ہیں ۔ اس عمل کی بڑی وجہ مہنگائی اور وزراء کا اپنے منصب کی مطابقت میں نہ تو کام کرنا یعنی ڈیلیور کرنا اور نہ ہی ذمے دارانہ رویہ ہے ۔ معاشی پالیسیوں کی بات تو الگ رہی ہر گھر میں اخراجات بے قابو ہونے کی باتیں ہیں ۔ آمدنی محدود لگی بندھی تنخواہ دار فکسڈ رقم وصول کرتا ہے اورہر ماہ اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوجانے پر کفِ افسوس ملتا رہتا ہے ۔ پٹرول کی قیمت بڑھ جانے سے اشیائے خوردونوش کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے ۔ آپ خود ہی غورفرمائیں چند ماہ کے عرصے میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کس قدر تیزی دیکھنے کو ملی ۔ آمدنی اگر ہر ماہ پچاس ہزار روپے ہے تو اخراجات ستر ہزار سے بھی تجاوز کرچکے ہوتے ہیں لگژری نہیں سادہ زندگی اور خواہشات اور حسرتوں پر آنسو بہاکر سو جانا مجبوری بن چکی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر گھر غربت کی لکیر کے قریب قریب آتے محسوس ہورہا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک، شبہ نہیں کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو ماما جی کا باڑہ سمجھا اور بے دریغ ملکی دولت کو نت نئے حربوں سے غیر ممالک منتقل کیا ملک غریب ہوتا گیا اور مٹھی بھر افراد طاقت اقتدار کے سہارے امیر سے امیر ترین بنتے چلے گئے ۔ اس کیفیت کو کسی نے شعر میں کیا خوب صورتی سے بیان کیا ہے ’’ بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی + کسے وکیل کریں کس سے منفی چاہیں ۔ عوام بے بس لُٹ پھُٹ کر بھی ان بین الاقوامی لٹیروں کاکچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ ایک حکومت ختم ہوئی تودوسری عنان حکومت سنبھال کر پھر ڈکیتی میں مشغول ہو جاتی عوام کو سبز باغ دکھا کر نیم بیہوشی ایسی طاری کردیتے کہ جب تک وہ ہوش میں آتے انکا سب کچھ لٹ چکا ہوتا سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا ہوا کے مصداق عوام ملک کی معاشی حالت قرضے اور ناکام منصوبوں کے اخراجات برداشت کرتے کرتے مجذوبی کی کیفیت میں داخل ہوگئی ہے ایک مقام پر حیرت کے اندر گم سم منجمد اور جامد ۔ حیران پریشان اس لئے بھی کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض بوڑھا جوان بچہ اور ہر پاگل بھی مقروض یہ کیسا ملک بن گیا کہ جہاں معیشت ڈوبتی رہتی ہے اور اقتدار میں لوگ پھلتے پھولتے رہتے ہیں خلاءوں سے ایک آواز ابھری سراپا سامنے آیا تو لوگوں کی خوشی کی حد نہ رہی انہوں نے شکر کیا کہ ایسا شخص سیاسی اُفق پر ابھرا ہے جسکا دامن کرپشن کے کیچڑ سے داغدار نہیں ۔ وہ ملک سے باہر رہ کر دولت اکٹھی کرتا ہے اور اسے پاکستان میں لاکر سماجی کاموں میں صرف کررہا ہے صحت اور تعلیم اسکی ترجیحات ہیں ۔ لیکن تعجب اس بات پر ہوا کہ وہی تجربہ کار بنجار ے جن کی سرشت میں وفا نہیں انہوں نے اپنی ان سیاسی پارٹیوں کو چھوڑکر قسمت آزمانے کیلئے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا ۔ معمول کے مطابق قسمت نے یاوری دکھائی اور وہ پروانوں کی طرح عمران خان کے گرد جمع ہوگئے ۔ سب اچھا ہے کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا سماعتوں میں داد و تحسین کی آوازیں سنائی دینے لگیں پی ٹی آئی کی اکثریت مقصد سے کھسکنے لگی نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی جسے آئی ایم ایف ورلڈ بینک کی کسی پالیسی کی سمجھ نہیں اس نے ڈیڑھ سال کے عرصے میں مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر زبان کھولنا شروع کردی سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر ایسے مواقع اورحالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اورجلتی پر تیل کاکام ان کا کھیل بن جاتا ہے ۔ یہی کچھ تقریباً اب ہوا اگرچہ مولانا فضل الرحمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے لیکن انہوں نے گاڑی میں ڈینٹ ضرورڈال دیا ہے ۔ ٹیلی ویژن پر حکومتی اراکین چاہے کچھ بھی کہتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا صاحب اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کو سڑوں پر لے آئے ہیں اور اسلام آباد آمد پر بھی واضح تعداد ان کے ساتھ ہے ۔ اللہ نہ کرے کہ حادثات ہوں جمہوریت کی بساط لپیٹ جائے موجودہ حالات قطعی طورپر اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ فوج اندرونی اور بیرونی محاذوں کیلئے توجہ تقسیم کرے ۔ بھارتی ابلیسیت ہر روز دیکھنے کو مل رہی ہے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کردینا اور اسکی آئینی حیثیت کو بدلنے کی مذموم کوشش مودی کے فلسفے کی جھلکیاں ہیں یو این او کی قراردادوں اور دنیا کے کشمیر پر خیالات کو اس نے یکدم فراموش کردیا وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہے ۔ کرفیو مقبوضہ کشمیر میں اب تک ختم نہیں ہوا ۔ زندگی کی گاڑی وہاں برباد ہوچکی ہے ۔ ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ کھانے پینے اور طبی سہولتیں ختم ہیں ۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں ، مساجد میں جانے کی اجازت نہیں ان حالات میں کشمیری بہن بھائیوں کے کس طرح دن گزرتے ہوں گے ۔ ایک لمحہ کیلئے آپ سب کچھ اپنے آپ پر طاری کرکے دیکھیں پھر سمجھ آجائے گی کہ نہتے کشمیری حق خودارادیت کیلئے کس طرح بھیک مانگ رہے ہیں لیکن ہندوستان ڈیٹھ بے حس ظالم جابر ڈریکولین حربوں سے کشمیریوں پر ظلم، ستم جاری رکھے ہوئے ہے ایسے وقت میں جب کہ حکومت پاکستان اندرونی اوربیرونی طورپر کشمیر کاز کیلئے بھرپور انداز میں کام کرنے کے نہ صرف مزید منصوبے بنارہی ہے بلکہ عملی طورپر مصروف بھی ہے تو حکومت گراءوجیسے نعرے اور جلسے جلوس بے وقت کی راگنی معلوم ہوتے ہیں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اور خصوصاً ان کے سربراہان کو اس حقیقت کا علم ہوناچاہیے کہ دھرنوں جلسے جلوسوں سے جہاں عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے وہاں ڈیلی ویجز دہاڑی دار کے دن مزید تنگدستی کی جانب رخ اختیار کرلیتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کا پلیٹ فارم کیوں استعمال نہیں ہوتا حکومت اورا پوزیشن کے اراکین وہاں موجودہوتے ہیں ان کو عوامی مسائل پر بات چیت کے بعد لاءحہ عمل بنانا چاہیے ۔ حکومت کو اسمبلی میں مجبور کیا جاسکتا ہے کہ ان تمام پالیسیوں پر نظرثانی کرے جو عوامی سہولتوں کے برعکس ہوں یا انکی معاشی حالت مزید پریشان کرنے والی ہوں سیاسی جماعتیں اسمبلی میں بات چیت کرنے کی بجائے سڑکوں کارخ کیوں کرلیتے ہیں ۔ ان کے غیر حقیقت پسندانہ اقدامات سے قومی دولت بے مصرف خرچ ہوتی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے پر اٹھنے والے ا خراجات کی تفصیل بتائے یہ ناگہانی اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے ۔ قومی خزانے کی حالت تو پہلے ہی بہت کمزور ہے ۔ اب اگرخدانخواستہ وقت سے پہلے انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے انتظامات پر کتنا خرچ ہوگا کچھ اندازہ ہے ۔ پیسہ کہاں سے آئے گا ۔ سرحدوں پر فوج چوکس ہے دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے ان پر روزانہ اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ بھی ہے گولہ بارودکے بغیرتو جنگ نہیں لڑی جاتی فضائی حدود کی حفاظت کرنے کےلئے کس قدر پیسے چاہیں کچھ معلوم ہے یہ سب اخراجات کے باوجود ملک کی معاشی حالت کمزور ہے پورے کررہا ہے یہ عوام کاپیسہ ہے حکومت اور کہاں سے لائے گی عوام سے لیکر عوام ہی پر خرچ کرے گی لیکن ہم ٹیکس دیتے ہیں اورنہ ہی اصل آمدنی کو ظاہر کرتے ہیں مشیرانکم ٹیکس کس لئے ہیں وہ مالی آنکھ مچولی کھیلنے کے ماہر ہوتے ہیں ان کی خدمات بڑے بڑے سرمایہ دار حاصل کرکے دولت پر ٹیکس دینابچاتے ہیں حکومت اپنے فراءض اورذمے داریاں اسی وقت پورا کرسکتی ہے جب عوام بھی اپنی ذمے داریاں پوری کریں ۔ ہمارے حالات ہی ایسے رہے ہیں کہ ہم سوالی بن کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دروازوں پردستک دیتے ہیں کہ ہمارے کاسہ گدائی میں حسب توفیق امداد ڈالیں اور وہ امداد تو دیتے ہیں لیکن اپنی شرائط پر ، لہٰذا سوالی اورسخی کا کیامقابلہ اور کیا جوڑ ۔ ان کی شرائط ماننا ہی پڑتی ہیں ۔ قرض بھی اتارنا ہوتا ہے اور معیشت کی بحالی میں مزیدمستعدبھی ہونا ہے ۔ دھرنوں جلسے جلوسوں کی اس وقت گنجائش نہیں سیاستدانوں کو ملک کومزیدمقروض نہ کریں مصائب میں اضافہ نہ کریں بلکہ تعاون سے مشکلات کوکم سے کم کرنے کی کوشش کریں ۔ حکومت وقت کو سختی کرنے کی بجائے افہام وتفہیم کاراستہ اپنائے رکھناچاہیے ۔ سیاسی افق پر جوگھٹائیں اس وقت چھائی ہوئی ہیں ان کے چھٹنے کابندوبست ہوجائے ، کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو ۔ حکومت اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اراکین کو بھی شفل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مقابلہ کرنے کی خواہش معاون سے محروم کردیتی ہے ۔ معاونین میں اضافے کی ضرورت ہے ایک شوپربات اشارتاً جو سمجھ آئی ہے جوحسب حال ہے ’’ستم جور ہے یعنی غضب ہے، میرے قاتل کارب میرابھی رب ہے‘‘ موجودہ حالات میں زبان وبیان کی قوت سے مزیدنازک مرحلے پرپہنچ بھی سکتے ہیں اوربہتری کی طرف بھی جاسکتے ہیں ۔ وزیراعظم کی گلگت میں کی گئی تقریرکوسنجیدہ حلقوں میں پسندنہیں کیاگیا ۔ پنجاب کے وزیراطلاعات نے بھی غیرمحتاط بیان دیا جس سے مزیدکشیدگی نے فضا بنائی ۔ کنٹینر والی سیاست اور بیانات اب بہت پیچھے رہ گئے ۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو حالات کی نزاکت سمجھنا چاہیے مولانافضل الرحمان نے جس انداز سے اپنی قوت کی جھلکیاں دکھائی ہیں اورنپے تلے بیانات دیئے ہیں اس سے اس کی سیاسی بصیرت اوربرداشت واضح ہیں ۔ وہ اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ لاقانونیت پھیلا دے یانظم ،ضبط سے جو اس وقت قائم ہے مقاصد حاصل کرلے حکومت کوچاہیے کہ سیاسی جماعتوں سے رابطے اورمشاورت کو یقینی بنائے اورگفت وشنید کے ذریعے پرامن طریقے سے سیاسی کشیدگی پرقابو پائے ۔ حقیقتاً موجودہ حکومت کی واضح اکثریت نہیں چندووٹوں سے وہ برسراقتدار ہے ابھی تک ان سے واضح قانون سازی نہیں ہوسکی آرڈیننسزکے ذریعے کام چل رہا ہے انہیں چاہیے ورکنگ ریلیشنز قائم کرتے ہوئے اپوزیشن کو ساتھ لیکرچلیں تاکہ ملک میں سیاسی انتشارموجودنہ ہونے پائے ابھی تو تقریباً ڈیڑھ سال گزرا ہے ساڑھے تین سال باقی ہیں بڑی منزلوں کے مسافرچھوٹادل نہیں رکھتے اپنی ٹیم کے ممبرزکوشائستگی رواداری اخلاقیات کواپنانے کی تلقین کریں اپنے لب ولہجے میں وقارشائستگی اورمتانت کومدنظررکھے غرور اورتکبراللہ کریم کوناپسندہے مغرور وہ ہوتا ہے جو لاعلم ہو ۔ حقیقت نہ جانتا ہو حکومت کے پاس تو بے شمارذراءع ہیں لمحہ لمحہ باختر ہوتے ہیں لہٰذا وقت کی نبض پرہاتھ رکھنا اس وقت بہت ضروری ہے تاکہ مولانافضل الرحمان بھی عزت سے رخصت ہوجائیں اور حالات بھی بے قابونہ ہوں ۔ معاملات کوحل کرنے میں اخلاص کے ساتھ باہمی احترام بھی ضروری ہے اعتبار اور اعتمادکی فضاء قائم کرکے الجھے ہوئے معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative