کالم

مریم نواز اوربلاول بھٹو کاسیاسی مستقبل

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں سفر شروع کر دیا ہے جبکہ دنیا آگے جا رہی ہے ۔ بعض اراکین پارلیمنٹ کی خرید و فروخت، وہی مخالف جماعتوں میں توڑ پھوڑ،وہی الزام تراشیاں ،وہی مخالف صوبائی حکومت کو گرانے کی باتیں ۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان;238; کیا ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ہے ۔ اب تو بات اناء کی تسکین پر بھی آگئی ہے کہ مخالف جماعتوں کا سیاسی طو پر نیست و نابود کر دو ۔ مخالف سیاستدانوں کو کسی نہ کسی طرح پابند سلاسل کر دو ۔ الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہو ۔ حکمران جماعت کے ترجمانوں کی فوج ظفر فوج کی یہ ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ صبح بستر سے بذریعہ ٹوئیٹ الزامات اور دشنام طرازی سے دن کا آغاز کرواور پھر دن میں پریس کانفرنسوں اور بیانات کے زریعے سیاسی مخالفین کو گندہ کرتے رہو ۔ میڈیا کی تنقیدی زبان بند رکھواور شام کو شاباش اسی کو ملے گی جس کی دن بھر کی کارکردگی سب سے بہتر ہوگی ۔ اس وجہ سے اگلے دن ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مقابلہ پھر شروع ہو جاتا ہے اور رات تک جاری رہتا ہے ۔ ترجمانوں کے علاوہ بعض وزراء بھی تنخواہ اور مراعات کا حلال کرنے کی کوشش میں ترجمانوں سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے ہیں ۔ تنخواہ او ر مراعات تو وزارتی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے اور عوام کے مسائل حل کرنے سے حلال ہوتی ہے ۔ لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا چل پڑا ہے ۔ حکمرانوں کو ان باتوں سے فرصت ہو تو عوام کی مشکلات کے حل پر توجہ دیں ۔ ان کو کیا معلوم کہ عام آدمی کے کیا مسائل ہیں ۔ وہ کس طرح روٹی پوری کرتا ہے اور اس کے بچے پیٹ بھر کر روٹی کھا بھی لیتے ہیں یا نہیں ۔ دوائی خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے مریض اور ان کے گھر والے کن کن اذیتوں سے گزرتے ہیں ۔ گیس اور بجلی کے روز بروز بڑھتے بل اور مکان کا کرایہ سفید پوش کیسے ادا کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پڑھے لکھے نوجوان روزگار اور نوکریوں کے حصول کے لیئے کس طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ کیا ملک افراتفری اور بدامنی کی طرف نہیں بڑھ رہا ۔ یہ نہایت ہی توجہ طلب بات ہے ۔ ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کا سنتے تھے ۔ کیا آج ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ بجٹ پاس کرانا ہو یا اب چیئرمین سینیٹ کا معاملہ کیا ہم ماضی میں واپس نہیں چلے گئے ہیں ۔ جب اپوزیشن نے بجٹ کے مسترد اور منظور نہ کرنے کی بات کی تو حکومت نے کس دھڑلے سے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں بجٹ ضرور منظور ہوگا ۔ کیا اس دوران لین دین نہیں ہوا ۔ جس کے نتیجے میں بجٹ منظور کرایا گیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ کر بعض چھوٹی جماعتیں پوری کی پوری بِک گئیں ۔ اور اپنے مفادات حاصل کر لئے ۔ اب یہی کچھ چیئر مین سینٹ کے معاملے میں ہو رہا ہے ۔ حکومت برملا چیئرمین سینٹ کو ڈٹ جانے کا کہہ چکی ہے اور بڑے وثوق سے کہتی ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی ۔ صادق سنجرانی کو کیوں ہٹایا جا رہا ہے یہ الگ بحث ہے لیکن یہ کیسا نیا پاکستان ہے یہ کیسی جمہوریت ہے کہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے کیئے جائیں ۔ میر صادق اور میر جعفر تو ہر جماعت میں اور ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ اپنے ضمیر کے سوداگر کہاں نہیں ہوتے لیکن کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا جو آج نئے پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت وفاقی حکومت کی آنکھ کا کانٹا ہے ۔ برسراقتدار آنے کے بعد تحریک انصاف کی یہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح سندھ کے عوام کے ووٹ کو بے تقدس کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے وہاں اراکین صوبائی اسمبلی کی خریداری کو کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی ۔ پھر متعدد رہنماءوں پر طرح طرح کے مقدمات بنائے گئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماءوں اور اراکین قومی اسمبلی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے ہی رہیں گے ۔ چند ایک کو چھوڑ کر باقی پیپلز پارٹی کی روایت ہے کہ جتنے بھی نا مساعد حالات ہو ں یہ جماعت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے ہیں اور ان کے قدموں میں لغزش نہیں آتی ۔ سندھ حکومت گرانے کی کوشش میں ایک وفاقی وزیر نے گورنر سندھ کو جادوگر بھی کہا ۔ کئی بار گورنر راج کی بھی بات ہوئی لیکن گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر ان افواہوں اور دعوءوں کی تردید کی اور کہا کہ سندھ میں گورنر راج سے متعلق نہ کوئی تجویز زیر غور ہے نہ ہی ایسی ان کی سوچ ہے ۔ ویسے بھی آئینی طور پر گورنر راج نافذ کرنے کےلئے بعض حالات و واقعات ضروری ہیں اور اس وقت صوبے میں ایسے کوئی عوامل نہیں ہیں جن کی بنیاد پر آئینی طور پر گورنر راج نافذ کیا جا سکے ۔ پاکستان کی سیاست میں اور موجودہ حالات میں بلاول بھٹو اور مریم نواز واقعتا ایک تبدیلی ہے ۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز اگرچہ اس وقت ایک صفحے پر ہیں ۔ دونوں حکومت کے مخالف ہیں لیکن دونوں کی سیاسی سوچ میں بہت بڑا فرق ہے ۔ مریم نواز کی ساری توجہ میاں نواز شریف کی رہائی پر ہے ۔ ان کی تمام تقاریر اور بیانات کا محور نواز شریف ہیں ۔ جس کیلئے وہ سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں ۔ یہ ان کا حق بھی ہے کہ وہ اپنے والد کی رہائی کیلئے تمام تر کوششیں کریں لیکن اس کےلئے اپنی جماعت کو استعمال کرنا خود ان کی سیاست کےلئے نقصان دہ ہوگا ۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی تمام تقاریر اور بیانات میں عوام کی مشکلات میں اضافہ اور حکومتی کارکردگی پر تنقید شامل ہوتی ہے ۔ بلاول بھٹو کی سوچ ذولفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سوچ کی عکاس ہے ۔ بلاول بھٹو اپنے نانا کی طرح غریب عوام اور عام آدمی کی بات کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر ان کا یہی طرز بیان اور یہی سیاسی سوچ اور کوششیں رہیں تو بلاشبہ سیاسی مستقبل بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا ۔

کیامسائل کا کوئی حل بھی ہے

پاکستانی عوام مہنگائی سے نیم جان اور نیم پاگل ہو رہی ہے ہر طرف زبانی کلامی نعروں اور دعوووَں کا دور دورہ ہے‘ دنیا آگے کی طرف جارہی ہے اور پاکستانی قوم کوکسی کام کی بجائے دھرنوں دھکوں پر مجبور کیا گیا ہے اور نظام کی لاچاری اس قدر ہے کہ منڈی کے نرخ بھی خود متعین نہیں کر سکتے ہیں اور اس کیلئے سات سمندر پار کے محتاج ہیں سامراج کا قانون نافذ ہے اور آئی ایم ایف کا ڈنڈا چل رہا ہے جس نے عوام کی کمر توڑدی ہے اور پورے پاکستان کو ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیا ہے مہنگائی نے غریبوں کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی ہے کہ غریب کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی ہے ۔ جو عوام کے منتخب نمائندے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سابقہ حکومت کی کارستانی ہے جو خزانہ کوکنگال کر کے گئی ہےدوسری طرف یہ خبریں آرہی ہیں کہ حکومت بجلی گیس تیل پٹرول اور اشیائے خوردنی میں ہر دوسرے دن اضافہ کرکے حکومت اس مد میں بھی روزانہ کھربوں روپے کمارہی ہے مگر یہ بتانا کوئی گوارا نہیں بتاتا کہ یہ اربوں ڈالر اور کھربوں روپیہ کون کھا رہا ہے اور یہ ڈالر کس کے پیٹ میں جا رہا ہے ۔ ملک میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالر کی منظوری منت سماجت اور سخت ترین شرائط پر دے دی ہے اور ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کرنے کی نوید ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کومبارک ہو، ہر طرف سے دوست ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے بھی اربوں ڈالر کا قرضہ دیا اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوا اور قطرکے شیخ نے بھی تین ارب ڈالردینے کا معاہدہ کیا لگتا ایسے ہے جیسے ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے ۔ اربوں ڈالر کو روپوں میں گننا شروع کریں تو عمر حضر چائیے ۔ حکومت کا سر روپوں سے اور دھڑ ڈالروں میں دھنسا ہوا ہے لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وزیراعظم‘ وزراء‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ اور ارکان اسمبلی یہی کہتے رہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے ۔ انفرادی طور پر قوم کاہر فرد ملک کیلئے قربانی دیتا ہے اور ملک کی ترقی کیلئے نیک خواہشات کی تمنا رکھتا ہے لیکن کیا کیا جائے نظام کہ ہمیشہ وہ آڑے آجاتا ہے اور عوام کی خواہشات کو دباتا ہے اور ان کی آرزوءوں کا خون کرتا ہے اور ان کی تمناءوں کو مٹاتا ہے فاسد نظام نے ہر فرد کوآلودہ کردیا ہے بددیانتی اس کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے بھوک سے قوم کا تعلق جڑ گیا ہے اور بد دیانتی ہمارا تعارف بن گیاہے حالانکہ اس ملک سچائی پھیلانے اور عدل اور انصاف پر مبنی نظام اور اعلیٰ اخلاق کو بلند کرنے کیلئے بنا تھا لیکن یہاں کرپشن نافذ کی گئی ہے چونکہ مسلطہ نظام سرمایہ پرستی، نفس پرستی، سفلیت پرستی اور جاہ پرستی کے جراثیموں سے آلودہ ہے اس لیئے ہمارا معاشرہ حیوانی گروہیت کا منظرپیش کر رہاہے ہماری سیاست، معیشت اور تجارت مفلوج ہیں مادہ پرستی ہر شخص کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے دوسروں کو دہوکہ دیناہر شخص کا نصب العین بن گیا ہے اور جھوٹ بولنے کی رواےت عام ہوگئی ہے ہر طرف دہونس اور دہاندلی ہے اور اخلاقی بگاڑ کا عالم ہے اور جھوٹ کو فروغ مل رہاہے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جھوٹ بولا جارہاہے بڑے لوگ جھوٹ بھی بڑے پیمانے پر بولتے ہیں ِاوراور جو چھوٹے حیثیت کے حامل ہیں ان کے جھوٹ کا پیمانہ بھی ذرا چھوٹا ہوتا ہے ۔ یہ امر لائق غور ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے والے عناصر سرمایہ دارانہ نظام کو مذہب کا محافظ سمجھتے ہیں اور مقدس روایات اور مذہبی اقدار کو اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں اور فاسد نظام کا ایک ناکارہ پرزہ بن کر وہ جادووہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق بنے ہوئے ہیں اور بڑی چابکدستی کے ساتھ عوام کو دھوکہ دینے پینترے بدلتے ہیں اور مکر اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے اور اس قبیل کے دیگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک فرقہ واریت اور ہیروئن کلچر کے لپیٹ میں ہے دینی فلسفے کا پھلاءو رک گیا ہے اور خود غرض سیاست دانوں کی گمراہانہ ذہنیت نے پوری قوم کو جہنم کے گڑھے میں ڈالدیا ہے ۔ پاکستانی عوام سچے ہیں ، وہ محب وطن بھی ہیں ان ہمدردی بھی ہے اور وہ قربانی اور ایثار کے جزبہ سے سرشار ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم پر مسلطہ نظام جھوٹا ہے جس نے ہم سب کو جھوٹا بنادیا ہے دیکھا جائے تو پورا معاشرہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے کھا جاتا ہے کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن دیکھا جائے تو ترقی جھوٹ کی ہوئی ہے فاسد نظام کی وجہ سے فحاشی کو فروغ دیا جارہاہے تاکہ قوم کا ہر فرد فحاشی میں مبتلا ہوکر مغلوبیت کا شکار ہوجائے، ہر طرف گروہ بندی اور فرقہ واریت عام ہے چور بازاری ہے اور دو نمبر اشیائے صرف کی تیاری اور خرید وفروخت ہورہی ہے اور پرسان حال کوئی نہیں ہے غلط نظام نے حقیقی دین پر پردے ڈالدئے ہیں اور صرف رسم سامنے نظر آرہاہے آج ہ میں دین کی روح سے واقفیت نہیں ہے جو شخص اعلانیہ دو نمبر کی اشیاء فروخت کرتا ہو اور بے ایمانی اور دہوکہ اس کا شیوہ ہو ا اس کی نیکی کی کیا حیثیت ہوگی;238; ۔ میڈیا سب کو بے نقاب کر رہا ہے یہ عوام کے خیرخواہ ہر وقت لٹھ لیکر ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور تنقید کے گولے ایک دوسرے پر پھینکے بغیران کو چین نہیں آتاہے مگر مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ‘‘ صرف تنقید کی گولہ باری ان کا مشغلہ ہے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا اورایک دوسرے کو تضحیک کا نشانہ بنانا ان کا شیوہ ہے در اصل جھوٹ بولنے سے وہ اپنی ساکھ بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں فی الحقیقت اگر عوام کیلئے کچھ کرتے اور ڈالروں کی برسات میں عوام کو احتجاج‘ مظاہرے‘ ہڑتال‘ بیان اور دھرنوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔ عوام بے چارے ٹیکس دیتے ہیں اورحالت ان کی دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے ، آخر ان ڈالروں اور کھربوں روپوں سے کون سا فلاحی‘ عوامی اور ترقیاتی کام کیا جا رہا ہے;238; یہ ساری دولت ان کاموں پر خرچ ہوتی بھی تو دکھائی کیوں نہیں دیتی;238;اور یہ خوشحالی کس بلا کا نام ہے اگر یہ موجود ہے تو اس کے آثار نظر کیوں نہیں آتے;238; اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ تنقید کے یہ گولے کب تک;238; ۔ کیامسائل کا کوئی حل بھی ہے

علم کی حقیقت!

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے نمائندے اور اللہ کی طرف سے اللہ کے بندوں کو اللہ کاپیغام پہنچانے والے ،اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت سے نوازا تو سب سے پہلے کہا کہ پڑھ اللہ کے نام سے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم دیا ۔ یعنی نبی;248; کونبوت کی ابتدء ہی میں علم سکھایا ۔ اس سے قبل انسان کو علم بیان کرنے کے لیے زبان دی ۔ جبکہ باقی حیوانوں کو بے زبان رکھا ،اسی لیے وہ اپنامدھا بیان نہیں کرسکتے ۔ دیکھئے نا! انسان کی عظمت کا ابلاغ کرنے کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان کا فرشتوں سے مکالمہ کرایا ۔ فرشتوں نے اللہ سے عرض کی، کہ ہم آپ کی کبرایائی بیان کرنے کے لئے موجود ہیں ، تو پھر انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت سمجھ نہیں آتی ۔ اللہ نے فرشتوں کے ان خیال کے جواب میں فرمایا ۔ جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔ اس بات کو ابلاغ عام کےلئے اللہ تعالیٰ نے انسان اور فرشوں کے درمیان مکالمہ کرایا ۔ فرشتوں سے کہا کائنات میں موجود اشیا ء کے نام بتاءو ۔ فرشتوں نے عرض کی کہ ہم وہ وہی کچھ جانتے ہیں جو آپ نے ہ میں تعلیم دی ہے ۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے ۔ اللہ نے آدم ;174; کو کہا کہ تم اشیاء کے نام بتاءو ۔ آدم ;174; نے فر فر اشیاء کے نام بتا دیے ۔ انسان فرشتوں سے مکالمے میں جیت گیا کیونکہ اللہ نے اپنی مصلحت کے تحت فرشتوں کو وہ ہی علم سکھایا تھا جتنی ضرورت تھی ۔ انسان کو اشیاء کے نام اس لیے سکھائے ، تاکہ آگے دنیا میں رہ کر اس علم کی انسان کو ضرورت تھی ۔ انسان اس کائنات میں اللہ کا خلیفہ ہے ۔ اس لیے دنیا کے پہلے انسان، حضرت آدم ;174; کو علم سے مالا مال کیا جبکہ خدا بے زار ، مغرب کے مادہ پرست دانشورں نے شوشہ چھوڑا کہ انسان پہلے جاہل تھا ۔ رفتہ رفتہ اسے علم حاصل ہوا ۔ پھر کہا انسان پہلے بندر تھا ۔ ترقی کرتے کرتے موجودہ شکل میں پہنچا ۔ نہیں ہر گز نہیں !علم تو اللہ نے انسان کو پیدائیش کے وقت ہی سکھا دیا تھا ۔ اس سے قبل ازل سے ابد تک جتنے بھی انسان پیدا ہونے ہیں ان کی روحوں کو اپنے سامنے بیٹھا کر اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے ۔ ’’کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں ۔ سب روحوں نے کہا آپ ہمارے رب ہیں ۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں ‘‘ معلوم ہوا کہ اللہ نے سب انسانوں کو پید ا ہونے سے پہلے ہی اپنی قدرت کمالا سے علم عطا کر دیا تھا ۔ اسی علم کی کی روشنی میں انسان نے دنیاوی علم بھی سیکھا ۔ اللہ تعالی قرآن میں بار بار انسان سے فرماتاہے کہ میری کائنات کا مشاہدہ کرو ۔ ہوا، پانی، روشنی،روز و شب ، چاند، سورج، ستارے، آسمان، زمین، دریا، سمندر، پہاڑوں اور انسان اپنی پیدائش پرغور فکر کرو ۔ تم جتنا جتنا غور فکر کرتے جاءو گے، ہر طرف تمھیں اللہ کی نظر آئے گا ۔ غور و فکر سے تمہارے سامنے کامیابی کے راستے کھلتے جائیں گے ۔ پھراس زمین پر بھی تمہاری عظمت کا بھول بھالا ہوگا ۔ جب میرے پیغمبروں ;174; کی ہدایات کے مطابق دنیا کے معاملات چلاءو گے تو تم کو واپس اسی جنت میں بھی داخل کروں گا جہاں سے تمہارے والدین نکالے گئے تھے ۔ یہ اصل کامیابی ہو گی ۔ مطلب ہوا کہ اسلام نام ہی ہے علم کا ۔ اگر الٰہی علم کے مطابق دنیاوی علم نہیں تو سارے علم جہالت ہیں جو بھی دنیاوی علم اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق ہیں وہ علم ِنافح ہیں ۔ اس میں دنیا کی بھی کامیابی ہے اور آخرت کی بھی ۔ جو بھی علم اللہ کے رسولوں کے بتائے ہوئے الٰہی علم کے مطابق نہیں ،وہ جہالت ہے اور جہالت ہی رہےں گے ۔ اگر دنیا کی بات کی جائے تو رسول;248; اللہ نے مکہ میں جب اللہ کے علم کے مطابق روشنی پھیلائی تو صرف تئیس سالوں میں عرب گلو گلزار بن گیا ۔ اور آگے کے بتیس سالوں میں اُس وقت کی معلوم دنیا جنت نظیر بن گئی ۔ رسول;248; اللہ نے مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں قریش کو علم کی بنیاد پر جھنجوڑا ۔ اللہ کی طرف سے علم سے بھری چھوٹی چھوٹی آیت نازل ہوئیں ۔ سورۃ اخلاص، العصر، الکافرون، الکوثر وغیرہ، جن میں عربوں کوکائنات کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کو اللہ نے بنایاہے ۔ پھر سرداران قریش سے کہا،جس اللہ نے کائنات کو بنایا ہے پھر تم اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے ہو ۔ تم لوگوں نے اپنے اپنے قبیلوں کے بت بنائے ہوئے ہیں ۔ حتیٰ کہ خانہ کعبہ جس کو حضرت ابراھیم ;174; نے خالص اللہ کی عبادت کرنے کے لیے بنایا تھا ۔ اس میں تم نے تین سو ساٹھ بت رکھ دیے ہیں ۔ رسول;248; اللہ نے سردارانِ قریش سے کہا کہ میں تمھیں ایک کلمے کی تعلیم دیتا ہوں ۔ اگر تم میرے اس کلمے پر عمل کرو، تو عرب اور عجم تمہارے مطیع ہو جائیں ۔ پھر جب عرب اس پر عمل کرنے لگے ۔ توصحرا نشین بدو اور اُونٹوں کے چرانے والوں کو دنیا کا امام بنا دیا ۔ پھر اَن پڑھ اُجنڈ عربوں نے دنیا کو تہذیب، تمدن، اخلاق اور حکمرانی کے طریقے سکھائے ۔ جب مسلمان اس دنیا کے حکمران بنے تو دنیا میں ہر طرف علم کی نہریں بہنے لگیں ۔ علم کی افادیت کی مثال دی جائے تو مدینہ میں کافر، قیدیوں کو رسول ;248; اللہ نے مسلمان بچوں کو پڑھنا سکھانے پر رہائی دی ۔ خلفاء راشدین ;230; نے اپنے دور حکومت میں علم کوعام کیا گیا ۔ کئی فیصلوں میں امت کی ماءوں ، حضرت عائشہ صدیقہ ;230; اور حضرت حفصہ ;230; سے رائے معلوم کر کے کئی اہم فیصلے کیے ۔ آج مغرب مسلمانوں پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں سوال اُٹھاتے ہیں ۔ جبکہ پندرہ سو سال پہلے اسلام نے عورتوں کو حقوق دیے ۔ خلفاء نے عورتوں کی رائے کے مطابق فیصلے کیے ۔ مغرب نے خود عورت کو گھر کی ملکہ کے رتبہ سے ہٹاکر شمعِ محفل بنا دیا ہے ۔ لعنت ہے ایسی نام نہاد آزادی پر جس میں عور ت ماں ، بیٹی، بیوی اور بہن کے مقدس رشتوں ہٹا کر اسی بکاءو مال بنا دیا گیا ۔ خلفائے راشدین;230; کے دور میں قرآن کے علم کے مطابق فیصلے کرنے والے قاضیوں کو آزادی دی ۔ حتیٰ کہ قاضی نے حضرت علی;230; کے مقابلہ میں ایک یہودی کے حق میں فیصلہ دیا ۔ مسلم دور حکمرانی میں علم کی روانی تھی ۔ جب ہلاکو نے بغداد پر حملہ کر کے، مسلم حکومت ختم کی ۔ تو اِس ان پڑھ، جہل اور علم دشمن نے مسلمانوں کے کتابوں کے ذخیرے کو آگ لگا دی ۔ دریائے نیل میں اتنی کتابیں ڈالیں کہ اس کا پانی رک گیا ۔ یہ وہ ہی کتابیں تھی جن پر عمل کر کے مسلم حکمران دنیا پر حکومت کرتے رہے ۔ مسلمانوں میں دینی اور دنیاوی علوم کے نام ور لوگ پیدا ہوئے ۔ جن میں محدثین;231; جنہوں نے علم نصاب ایجاد کیا کہ جس میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے متعلق معلومات ملیں ۔ دناوی علوم میں ابن الہیشم،البیرونی،بو علی سینا،الکندی، الفاروبی، الخوارزی، ابن خلدون اور ابن بطوطہ جیسے لوگ شامل ہیں ۔ ان مسلمانوں ہی کی کتابوں سے فائدہ اُٹھا کر مغرب نے ترقی کی ۔ جب علم اورکتابوں سے رشتہ ٹوٹا تو مسلم حکمران نے حق حکمرانی کھو دی ۔ سپین جس پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی ، وہ علم اور کتابوں کی وجہ سے تھی ۔ اس زمانے میں مفت تعلیم دی جاتی تھی ۔ مفت نصابی کتابیں مہیا کی جاتی تھیں ۔ بادشاہوں نے بڑی بڑی لائبریریاں بنائی تھیں ۔ امرا نے بھی اسی پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سلطنت میں اسی طرح کی کئی ذاتی لائبریری بنائی ۔ جس میں پڑھے والوں کو تمام سہولتیں مہیا تھیں ۔ علم کی بنیاد پر مسلمان دنیا میں ایک ہزار سال سے زیادہ حکومت کرتے رہے ۔ جب تعلیم سے رشتہ ناطہ ٹوٹا، تو پھر مسلمانوں سے حکومتیں بھی چھن گئیں اور مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار بھی ہو گئے ۔ اسی پر تو شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال;231; نے کہا تھا کہ: ۔

مگر وہ علم کی موتی، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

اب بھی مسلمان جدید تعلیم حاصل کر کے اور اللہ کے بتائے ہوئے قدیم طریقوں پر عمل کر کے، جیسے اپنے پہلے دور میں عمل کیا تھا، دنیا میں اپناکھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ تو یہ ہے علم کی حقیقت!

وزیراعظم کا اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتوں پر اظہار تشویش

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کو اپنے کامیاب دورہ امریکہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہم امریکہ کو برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں بتانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ بہت جلد ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں گے، ماضی کے ادوار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کا یہ دورہ انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا جس میں انہوں نے کہاکہ ہم امریکہ سے ایڈ نہیں ٹریڈ لینے آئے ہیں ۔ نیز وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ سے پیشے کا خانہ بھی ختم کرنے کی منظوری دی ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے روز مرہ کی اشیاء خوردونوش اور خصوصی طورپر آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے ۔ وزیراعظم کا یہ اقدام سو فیصد درست ہے کیونکہ روٹی کھائے بغیر زندہ نہیں رہا جاسکتا جبکہ اس وقت سادہ روٹی 10روپے کی اور نان 12روپے کا فروخت کیا جارہا ہے اسی طرح دیگر کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اس وقت ملک کا بڑا اور بنیادی مسئلہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، حکومت اس جانب خاطر خواہ توجہ دے ۔ نیز وفاقی کابینہ نے پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کے انتظامی اختیارات متعلقہ وزارتوں سے لے کر کابینہ ڈویژن کو منتقل کرنے اور وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے اخراجات کو قرضہ تحقیقاتی کمیشن کا سیکریٹری مقرر کرنے کی منظوری دی گئی،وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ سے پیشے کا کالم ختم کرنے کی بھی منظوری دی،سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر ممنون کے بیرون ملک دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئیں ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سابق حکمرانوں سے عوام کے ٹیکس کا پیسہ واپس لیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، وزیراعظم نے کابینہ کو دورہ امریکا سے متعلق اعتماد میں لیا ۔ وزیر اعظم گزشتہ روز امریکا کے کامیابی دورے کے بعد پاکستان لوٹے تھے،وزیراعظم عمران خان نے وطن پہنچتے ہی حکومتی امور سنبھال لئے ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں حکمرانوں کے نجی دوروں اور بیرون ملک علاج معالجہ کی مد میں اٹھنے والے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے، کابینہ کو ماضی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کو مختلف طریقوں سے پہنچائے جانے والے نقصانات اور سیاسی مداخلت کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، کابینہ کو بتایا گیا کہ سال2012سے 2018تک کم و بیش 50 پروازوں کو ذاتی مقاصدکے لئے استعمال کیا گیا اور مختلف مقامات کی طرف موڑا گیا، وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک کے کسی حصے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ نہ ہو اور آٹے کی قیمت پر مسلسل نظر رکھی جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ملک کے کسی حصے میں مصنوعی قلت پیدا نہ ہو ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مندرجہ ذیل ریگولیٹری اداروں کو تا حکم ثانی کابینہ ڈویژن کے ماتحت کر دیا جائے تاکہ یہ ادارے بغیر کسی مداخلت اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے سکیں ، ان اداروں میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، فریکیونسی ایلوکیشن بورڈ، اوگرا، نیپرا اور پیپرا شامل ہیں ۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے معاونت سے ملک میں ریگولیشنز اور ریگولیٹری اداروں کا کردار ممکنہ حد تک محدود کیا جائے تاکہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور ریگولیشن کی مد میں حائل رکاوٹوں کو موثر طریقے سے دور کیا جا سکے، کابینہ نے پاکستان اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم کی بھی منظوری دی، کابینہ نے پاسپورٹ سے پیشے کا خانہ (کالم) ختم کرنے کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ کو ماضی میں پاکستان پوسٹ کی صورتحال اور ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان کے نتاءج سے آگاہ کیا گیا ۔ سال 2017-18 میں ادارے کی آمدنی 10;46;8ارب روپے تھی جبکہ 2018-19 میں ادارے کی آمدنی 18;46;05ارب روپے ہو چکی ہے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے ۔ کابینہ کو پاکستان پوسٹ کی بہتری اور اسے جدید انداز میں استوار کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیر مراد سعید کی کاوشوں کو سراہا ۔

نہ یوم سیاہ، نہ یوم نجات، یوم تفکر منانا چاہیے تھا

متحدہ اپوزیشن نے ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جبکہ حکومت نے یوم نجات منایا ہونا یہ چاہیے تھا کہ 25 جولائی کو نہ یوم سیاہ منایا جاتا نہ یوم نجات منایا جاتا، اس کو ’’یوم تفکر‘‘ کے طورپر منایا جاتا کیونکہ بحیثیت قوم اور ہمارے حکمرانوں سمیت تمام سیاسی رہنماءوں کو اس ملک اور قوم کی فکر کرنی چاہیے جس طرح کے ہمارے معاشی ، سرحدی اور بین الاقوامی حالات ہیں ان کے تحت انتہائی غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک من حیث القوم اس ملک کیلئے نہیں سوچیں گے اس وقت تک حالات درست نہیں ہوسکتے ۔ اپوزیشن حکومت کیخلاف محاذ آرائی کرتی رہی اور حکومت پکڑ دھکڑ کرتی رہے جب کہ عوامی حقوق سلب ہوتے رہیں تو پھر سیاسی پراگندہ حالات کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تنقید کرنا اور احتجاجی مظاہرے کرنا جمہوریت کا حسن ہے لیکن یہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ برائے تعمیر ہونی چاہیے، اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اتحاد اچھا نہیں ، ملک اور قوم کے تحفظ کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔ نیز جس نے کرپشن کی ہے اس کو حساب دینا چاہیے، مسائل یوم سیاہ اور یوم نجات منانے سے حل نہیں ہوتے حکومت بھی عملی اقدامات کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ تعمیری سیاست کے راستے کو اپنائے ۔ بطور متحد قوم ہم سب کی منزل صرف اور صرف وطن کی ترقی، ملک کا استحکام اور امن و امان ہونا چاہیے ۔ سب سے پہلے وطن اور اس کے بعد دیگر امور پر توجہ دینی چاہیے ۔ ہماری سیاست کا المیہ ہی یہ رہا کہ ہمیشہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے گوکہ جمہوریت جیسی بھی ہو وہ بہترین ہوتی ہے، حکومت کے اچھے کاموں کو سراہنا چاہیے اور تنقید برائے تعمیر کرنی چاہیے ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کرے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے جو ان کی سننے والی بات ہے اس کو نہ صرف سنا جائے بلکہ عمل بھی کیا جائے ، مخالفت برائے مخالفت اور احتجاج کرنے سے آئے روز معیشت کی حالت دگر گوں ہوتی رہتی ہے ۔ ہم سب کو متحد ہوکر ملک کی ترقی کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔ اب جبکہ وزیراعظم امریکہ کا کامیاب دورہ کرکے آئے ہیں تو اس میں اپوزیشن کو بھی کوتاہ دلی سے کام نہیں لینا چاہیے آخر ہم یہ احتجاجی مظاہرے کرکے بین الاقوامی سطح پر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔ اپنے اچھے وقت کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا ۔

آزادی و خودمختیاری ہماری اولین ترجیح

ہر ریاست کو اپنی سلامتی اور بقا کے لئے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے ہر دم تیار رہنا ہوتا ہے ۔ جدید مسلح افواج ناگزیر ہیں ۔ ہمارے لئے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری اوّلین ترجیح ہے ۔ آج پاکستان بجا طور پر جدید ترین دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس جدید ترین دفاعی نظام موجود ہے ۔ قیام پاکستان سے ہی ہماری دفاعی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے ۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مْلک کو سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین مسائل درپیش ہو گئے تھے، پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رْکن تھا اور امریکی بلاک کا حلیف تھا، لیکن1965ء کی پاک بھارت جنگ میں اس کے حلیف امریکہ نے اس کو نہ صرف اسلحہ کی سپلائی روک دی بلکہ فاضل پْرزوں کی فراہمی بھی بند کر دی ۔ یوں پاکستان جس کا سارا انحصار امریکی ہتھیاروں پر تھا ایک ایسی صورت حال میں پریشانی سے دوچار ہو گیا جہاں نئے دوستوں کی امداد کی ضرورت تھی ۔ سوویت یونین کھل کر بھارت کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ امریکہ نے پاکستان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا ۔ اِن حالات میں چین پاکستان کی مدد کو آیا اور پاکستان کی ہتھیاروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی ۔ اْس وقت تک چین بھی اسلحے کی ٹیکنالوجی میں مغربی دْنیا سے مسابقت نہیں کر سکتا تھا ۔ بہرحال پاکستان نے چین کی مدد سے آہستہ آہستہ اس شعبے میں قدم رکھا اور اب یہ عالم ہے کہ پاکستان دْنیا کے ان معدودے چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو ڈرون ٹیکنالوجی کے حامل ہیں ،’’برق‘‘ اور ’’بْراق‘‘ کے کامیاب تجربے نے پاکستان کو ایک لمبی جست لگا کر دفاع میں نئی رفعتوں سے آشنا کر دیا ہے ۔ پاکستان نے مْلک کے اندر تیار ہونے والے ’’برق‘‘ میزائل بردار ڈرون طیارے ’’بْراق‘‘ کا کامیاب تجربہ کر کے مْلک کے ناقابلِ تسخیر دفاع کو نئی بلندیوں سے روشناس کرا دیا ہے اور اس سلسلے میں نئے اْفق دریافت کر لئے ہیں ۔ اس کامیاب تجربے کے بعد پاکستان نے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے ۔ یہ تجربہ تاریخی کامیابی ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہو گا ۔ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں بھی مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ پاکستان نے براعظم سے براعظم تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے ۔ پاکستان نے شاہین سیریز کے تیسرے میزائل کا جو کامیاب تجربہ کیا ہے اس کے بعد پورا بھارت پاکستان کے میزائلوں کی زد میں ہے ۔ شاہین تھری بلیسٹک میزائل 2750کلو میٹر تک مار سکتا ہے ۔ سمال، میڈیم اور لانگ رینج کے میزائل تجربات کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے ۔ چین کی مدد سے پاکستان جے ایف17تھنڈر طیارے بھی بناچکاہے ۔ اب میزائل بردار ڈرون طیارے کے کامیاب تجربے سے پاکستان کو ایک ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس کا تصور اب تک کئی بڑے ممالک بھی نہیں کر سکتے ۔ دْنیا میں دفاعی سازو سامان کی بڑی مانگ ہے اور دْنیا اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے لئے بھی آمادہ ہے ۔ پاکستان کے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کی دْنیا میں بڑی طلب ہے اور اگر ہم اپنی ضرورت کے زیادہ پیداوار بڑھا سکیں تو ان کی برآمد کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ اسی طرح براق ڈرون طیاروں کی برآمد سے بھی پاکستان زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔ الخالدٹینک پاکستانی فوج کا نیا اور جدید ترین ٹینک ہے ۔ یہ 400 کلومیٹر دور تک بغیر کسی مزاحمت سفر کرسکتا ہے ۔ اس کے اندر ایک 1200 ;7280; یوکرین کا بنایا گیا انتہائی جدید انجن نصب ہے ۔ یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے ۔ اسکا عملہ تین آدمیوں پر مشتمل ہوتاہے ۔ پاک بحریہ کی تاریخ قابل فخر ہے اور اسے جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ یہ تو حقیقت ہے کہ دنیا میں اس وقت دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں انٹیلی جنس ادارے قائم ہیں جو اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں ۔ لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے انٹیلی جنس کا ادارہ آئی ایس آئی کا نام ان تمام انٹیلی جنس اداروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے ۔ آئی ایس آئی اپنی شہرت صرف پاکستان میں ہی نہیں رکھتی بلکہ اس کی تعریف دنیا بھر میں کی جا رہی ہے جو بے شک ہمارے لئے کسی فخر سے کم نہیں ۔ دفاعی مصنوعات کی تیاری میں پاکستانی انجینئرز کا اہم کردار ہے، محدود وسائل کے باوجود ہمارے ماہرین نے اس میدان میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،پاکستانی دفاعی مصنوعات کا معیار دنیا کے بڑے ملکوں کے برابر ہے، ہماری مصنوعات دیکھ کر بیرون ملک سے آئے ہوئے وفود کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ پاکستان دفاعی نظام میں کتنا آگے نکل گیا ہے ۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید ترین دفاعی نظام صرف ترقی یافتہ ملکوں کا استحقاق نہیں ۔ ہمارے مضبوط دفاعی پروگرام کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چار عشروں سے کسی بھی طالع آزما اور توسیع پسندی کے جنون میں مبتلا پاکستان مخالف قوت کو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی جانب میلی نگاہوں سے دیکھنے کی جرات نہیں ہوئی ۔ جوہری توانائی کے حصول کا پاکستانی پروگرام صرف اور صرف ارض پاک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے جملہ شہریوں کی نگاہوں میں لائق رشک سرمایہ افتخار کی حیثیت رکھتا ہے ۔ امریکہ نے بھی پاک فوج کے پروفیشنلزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ پاک فوج منظم اور مضبوط ادارہ ہے‘ ۔ پاکستان کے جوہری پروگرام نے خطے میں توازن پیدا کیا، افواج پاکستان کا دنیا کی بہترین روایتی افواج میں شمار ہوتا ہے ۔ شدید مشکلات کے باوجودپاکستان کاجوہری پروگرام جاری رہناقابل تحسین ہے ۔ آرمی چیف کا کہنا بالکل بجا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے پوری طرح الرٹ ہیں ۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی اور کنٹرول لائن کی خلا ف ورزی کرنے والے کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اس لئے کسی کو بھی بھول میں نہیں رہنا چاہیے ۔ پوری پاکستانی قوم متحد اور پاک افواج کی پشت پر ہے ۔

عدم برداشت ، بڑا بھارتی مسئلہ !

گزشتہ روز بھارتی فلم انڈسٹری اور ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والی 49 نامور شخصیات نے نریندر مودی کو ایک کھلا خط تحریر کیا جس میں بھارت میں بڑی ہی عدم برداشت پر گہری تشویش ظاہر کی گئی، خط میں کہا گیا کہ اقلیتوں اور دلتوں کےخلاف ہجومی تشدد کے واقعات تشویش ناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو رہی ۔ علاوہ ازیں چند روز قبل سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے کہا کہ ہم بھارتی مسلمانوں نے 1947 میں پاکستان نہ جا کر غلطی کی اور اب ہم اس کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو کم از کم اس ڈر کے ماحول میں تو نہ رہنا پڑ رہا ہوتا ۔ مبصرین کے مطابق 2016 میں لوجہاد اور گھر واپسی کے تناظر میں بھارت کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اترپردیش کے متھرا میں کہا تھا‘‘ہم نے کبھی کسی مذہب کو کچلنے کی کوشش نہیں کی ۔ ‘‘ حالانکہ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو کیا وجہ ہے کہ بھارت میں ہر مذہبی رہنما کو سب سے زور عدم برداشت پر دینا پڑا ۔ گوتم بدھ نے بودھ مت کی بنیاد ہی عدم برداشت پر رکھی لیکن اشوک کے بعد امن کے اس سفارت کار کو بھکشووں سمیت ہندوستان سے نکال باہرکردیا گیا ۔ اس مذہب کو ہندوستان سے باہر برما سے لے کر جاپان، کوریا، تھائی لینڈاور چین میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ اب تو بودھ مت نے بھی چین، برما اور سری لنکا میں تشدد کی زعفرانی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ جین مذہب نے بھی تشدد کے خلاف بڑی لڑائی لڑی لیکن ہندو جنونیوں کے آگے اسے بھی گھٹنا ٹیکنا پڑ گئے ۔ مہاتما گاندھی کو شاید کسی حد تک پتہ تھا کہ ہندوءوں میں تشدد کا رجحان ہی ہندوستان کے لئے سب سے بڑا خطرناک مسئلہ ہے ۔ اسی لئے انہوں نے اپنی تحریک کی بنیاد عدم برداشت پر رکھی لیکن بدقسمتی سے وہ خود ہی زعفرانی دہشت گردی کاشکار ہوگئے ۔ اور بھارت کی ہندو اکثریت ان کے قاتلوں کو کامیاب کرکے اپنی انتہا پسندی کا واضح ثبوت دے رہی ہے، ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی باقاعدہ مورتیاں بنا کر مندروں میں اس کی پوجا کی جاتی ہے ۔ پورے بھارت میں اقلیتیں خصوصاً مسلمان سب سے زیادہ زعفرانی دہشت گردی کے واقعات کا شکار ہو رہے ہیں ۔ دوسرا مقام دلتوں کا ہے جن سے اونچی ذات کے ہندو جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں ۔ چند دنوں کے اندر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نام نہاد گائے کے محافظ ہندوءوں کی دہشت گردی کے اتنے خوفناک واقعات پیش آ رہے ہیں جن کی کسی مہذب معاشرے میں توقع بھی نہیں کی جا سکتی ۔ گذشتہ روز ہریانہ کے سونی پت میں ایک دلت نوجوان سے جنونی ہندوءوں کے ایک ٹولے نے بری طرح مار پیٹ کی ۔ اس دلت پر نہ تو گائے کی سمگلنگ کا الزام ہے اور نہ چوری کا ۔ اس کا قصور محض یہ تھا کہ اس نے جانوروں کو پانی پلانے سے انکار کر دیا تھا ۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ جو لوگ گائے کو ماتا مانتے ہیں وہ اس کی خود خدمت کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ درحقیقت ان کےلئے گائے محض اقلیتوں پر مظالم کرنے ، ووٹ اور نوٹ کمانے کا ایک ذریعہ ہے ۔ وہ دلت نوجوان مسلم ہوتا تو دیگر مسلمانوں کی طرح اسے بھی جئے شری رام کا نعرہ لگانے بلکہ وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کرنے والوں کی اکثریت کو خود وہ ترانہ یاد نہیں ہوتا اور کوئی کوئی ہی اس کا مطلب جانتا ہے ۔ زعفرانی دہشت گردی کے واقعات پورے بھارت میں وائرس کی طرح پھیلتے چلے جا رہے ہیں ۔ جیسے بہار کے ویشالی میں آبرو ریزی کی کوشش کی مزاحمت کرنے پر ماں اور بیٹی کے بال کاٹ کر ان کو گاؤں میں گھمایا گیا ۔ علاقے کے اونچی ذات کے ہندوءوں نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر انسانیت کو شرمندہ کرنے والا یہ گھناءونا کام کیا ۔ ماہرین کے مطابق دوسرے ممالک میں اس طرح کے واقعات میں پوری قوم بجا طور پر مظالم کی مخالفت کرتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑے جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارت اور ;828383; میں ایسا نہیں ہوتا ۔ وہاں تو خواتین ونگ کی سربراہ خود مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کی ترغیب دیتی ہیں ۔ اترپردیش کے رام کولا میں ;667480; مہیلا (خواتین) مورچہ کی صدر اور انڈین کانونٹ اسکول کی ڈائرکٹر سنیتا سنگھ گوڑ نے ایک فیس بک پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ ’’ 10 ہندو بھائی ایک ساتھ مل کر کھلے عام سڑک پر مسلمانوں کی بہنوں اور ماءوں کی عصمت دری کریں ،پھر ان کو کاٹ کر کھمبے سے باندھ کر بیچ بازار میں آگ لگا دیں ۔ اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دینا پڑے گا کیونکہ ہندوستان کی حفاظت کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے‘‘ ہریانہ میں جب بڑے پیمانے پر مسلم کش واقعہ پیش آیا تو بے حس ہریانہ حکومت کو اس کا کتنا احساس ہے، اس کا اندازہ وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے‘‘ ۔ بھارت میں جو فرد مسلمانوں کے خلاف جتنے بڑے جرم میں ملوث ہوتا ہے، اسے ;828383; اور بی جے پی میں اتنا ہی بڑا مقام دیا جاتا ہے ۔ چاہے وہ یوگی ادتیہ ناتھ ہو، سادھوی پرگیہ ٹھاکر ہو م سادھوی پراچی یا بی جے پی کے دیگر رہنما ۔ کسی کو وزیراعلیٰ بناکر ہندوستان میں اشتعال انگیز تقاریر کرائی جاتی ہیں ،کسی کو رکن پارلیمان بناکر نوازا جاتا ہے تو کسی کو وزارت سونپ کر اس کے مجرمانہ ماضی پر پردہ دالا جاتا ہے ۔ بی جے پی کے اس رویے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا اصل ایجنڈا کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں انتہائی تیزی سے بڑھنے والی زعفرانی دہشت گردی خود ہندوءوں کو بھی ایک دن اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔ آج کل بھارت کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہنے کےلئے تمام اخلاقیات بھلا کر مسلم دشمنی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری کو محسوس کرنا ہو گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی محض ;667480; کی ہی قابل مذمت روش نہیں بلکہ کانگرس کا ریکارڈ بھی اس ضمن میں کسی طور قابل ستائش نہیں ۔ اکثر بھارتی رہنما اور سیاسی پارٹیاں کھلے عام مذہبی مذہبی رواداری کی کٹر مخالف ہیں ، ان کے خیال میں مسلمانوں پر ہر طرح کے مظالم روا رکھ کر ہندوءوں کو اپنی ہزاروں سالہ ہزیمت کا بدلہ لینا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد سے وہاں ہزاروں مرتبہ اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں ۔ بھارتی حکمرانوں کو سمجھنا چاہیے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کسی ایک آدھ فرد کو کسی بڑے نمائشی عہدے پر فائز کر دینا ہی سیکولر ازم نہیں ، بلکہ یہ اجتماعی رویوں کا آئینہ دار ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اس ضمن میں بھارت اور پاکستان کو ایک پلڑے میں نہیں تولے گی بلکہ مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مذموم سلسلے کو بند کرانے میں اپنا کردار نبھائے گی ۔

مسلمانوں پرظلم وستم جاری

جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کےلئے تیار کرتی ہیں جس کا نام جہاد ہے ۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر اور صاحب نصاب ہوتے ہوئے زندگی میں ایک بار حج کر کے بندہ مسلمانوں کی لسٹ میں توشمار ہو سکتا ہے مگر مومن تب بن سکتا ہے جب خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرے ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرے ۔ مسلمان کو اللہ نے اپنی اس زمین پر خلیفہ بنایا ہے ۔ خلیفہ جیسے دنیوی حکومتیں اپنے اپنے ملک کے صوبوں میں گورنر تعینات کرتی ہیں ۔ کائنات اللہ نے بنائی ہے اور اس کو اللہ ہی چلا رہا ہے ۔ کائنات پر اللہ کی مکمل حکومت ہے ۔ زمین کو اللہ کی کل کائنات کا اگر ایک صوبہ تصور کریں تو یہ بات صحیح سمجھ آ سکتی ہے ۔ اس فلسفہ کو ذہن میں رکھیں کہ انسان اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ (’نمائندہ) ہے ۔ اس کا کام اللہ کے قوانین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا ہے ۔ کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہو تو ان کی مدد کےلئے اُٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم تب دیا ۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیا ۔ مسلمان مکہ سے مدینہ مسلمان ہجرت کے مدینہ چلے گئے ۔ جب سے دنیا قائم ہے جہاد ہوتا رہا ۔ رہتی دنیا تک جہاد ہوتا رہے گا ۔ یہی کا م ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرتے رہے ۔ قرآن کے مطابق پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری بنی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی ;174; نے نہیں آنا ۔ لہٰذایہ کام امت مسلمہ نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا کہ’’اورتم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(البقرۃ: ۰۹۱) جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کےلئے اپنی انتہائی کوشش کرنا ہے ۔ جنگ کےلئے تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ مجاہد وہ ہے جو ہر وقت اللہ کے دین کو قائم رکھنے کےلئے جدوجہد کرتا رہے ۔ اس جدو جہد میں جان بھی چلی جائے تو خوشی سے برداشت کرلیتاہے ۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔ (سورۃ النساء:۵۷) کیا اب کئی ملکوں ، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال نہیں کہ مسلمانوں کو مار پیٹا جارہا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ان کے نوجوانوں پر پیلٹ گنیں چلا کر اندھا کیا جارہا ہے ان کے مزاروں کو بارود سے اُڑایا جارہا ہے ۔ ان کی زرعی زمینوں ِ باغات اور رہائشی مکانات کو گن پاءوڈر چھڑک کر جلایا اور بارود نصب کر کے اُڑایا جا رہا ہے ۔ ہمارے پڑوس میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ۷۴۹۱ء سے بت پرست ہندو ظلم و ستم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرنے دیا جارہا ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے میں شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ جھنڈے لہر کر یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ تکمیل پاکستان کی جد وجہد میں اب تک لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے گھروں پر یہودی نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ وہ دنیا میں تتر بتر ہو گئے ۔ جو فلسطینی، فلسطین میں یہودی قابض فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ان پر بمباری ، راکٹ اور ٹینکوں سے حملے کیے جاتے ہیں ۔ ان کی بستی غزہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ غزہ کو لوگ دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ مانتے ہیں ۔ اس قید خانہ کےلئے باہر سے غذا، دوائیاں ، پانی اور انسانی ضروریات کی اشیا کچھ بھی نہیں آنے دیا جارہاہے ۔ جو کچھ اسرائیل کے یہودی غزہ کے قیدیوں کو دیتے ہیں اسی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک دفعہ ترکی سے ایک بحری جہاز غزہ کے قیدیوں کےلئے انسانی ہمدردی کے تحت سامان ِ ضروریات لے کر اسرائیل پہنچا ۔ اس جہاز میں دنیا کے انسانی حقوق کے نمائندے بھی شامل تھے ۔ امریکا کی ناجائزولاد اسرائیل کے فوجیوں نے کھلے سمندر میں غیر مسلح جہاز پر حملہ کیاجس میں کچھ کو شہید ہوئے اور کچھ کو قید کر لیا گیا ۔ بعد میں ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے ۔ ترکی کے پریشر پر اسرائیل نے معافی مانگی ۔ اس کے علاوہ مصر ، الجزائر،برما، چیچنیا،بوسینیا ، عراق، افغانستان اور عرب بہا ر کے موقع پر افریقی اور وسط ایشا کے مسلمان ملکوں میں استعمار نے دہشت گردی پھیلائی ۔ مظالم کی ایک لمبی کہانی ہے جو ایک مضمون میں مکمل نہیں ہو سکتی ۔ کیا حکمرانوں نے مسلمانوں پر اس ظلم و ستم ، سفاکیت اورتباہی کے متعلق کبھی تحقیق کی ہے ۔ بات یہ ہے استعمارِ جدید نے سارے اسلامی ملکوں کو ایک جدید قسم کی غلامی میں چکڑا ہوا ہے ۔ مسلمان کی طاقت صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میں تھی ۔ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے;238; اسلام کا وسیع مطالعہ بتاتا ہے کہ قوم ،وطن، علاقوں پر علاقعے فتح کرنے ، خزانوں حاصل کرنے کےلئے لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ یہ دنیا کےلئے لڑائی ہے بلکہ مسلمان، اللہ کا اس زمین پر خلیفہ ہونے کے ناطے مسلمانوں یا اللہ کے بندوں پر کہیں بھی جب ظلم و ستم ہو رہا ہو تا ہے، ان کی آزادی ور انصاف دلانے کےلئے لڑا جائے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ کشمیر اور فلسطین جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی آزاد ہو سکتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو پھر سے پہلے والا جہادی مسلمان بنا دے ۔ پھر ساری دنیا کے مسلمان جدید استعمار، چاہے وہ یہودی، عیسائی یابت پرست ہندو ہو، مکمل آزادی نصیب فرمائے گا آمین ۔

 

چھرے مار بھائی

آج بیگم نے شاپنگ کے لیے کہاتو مجھے اچانک وہ چھرے مار یاد آگیاجو بازاروں میں عورتوں کو چھرا مار کر بھاگ جاتا تھا ۔ اسی نے بھلے وقتوں میں اس ’’متعدی وبا‘‘ سے میری جان چھڑائی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ چھری مار اب کہاں ہوگا;238;لیکن اخبار تو پڑھتا تھاتو میں نے بھی یہی سوچا کہ اسے اخباری خط لکھ کر اپنے د ل کی بپتا سناؤں ۔

میرے چھرے مار بھائی!

پہلے میں نے سوچا کہ یہ عرضی تھانیدار کے نام لکھوں گا کہ آپ کو کھلی چھوٹ دے، لیکن پھر سوچا کہ وہ تو صرف ایک تھانے کا انچارج ہے اور اس کے اوپر بھی کئی انچارج، ایسے بندے کو عرضی دینے کا بھلا فائدہ کیا ہوگا;238; غور کرنے کے لیے اپنے ہوٹل چلا گیا ۔ آپ کی یہ غلط فہمی دور کردوں کہ ’’اپنے ہوٹل‘‘ سے مراد یہ نہیں ہے کہ میں کوئی ہوٹل چلاتاہوں ۔ ہوٹل تو شیداہی چلاتاہے ۔ میں تو صرف مالک ہوں ۔ جانے کو تو میں کسی اچھے ہوٹل میں بھی جا سکتا ہوں ، مجھے زیب بھی یہی دیتا ہے لیکن وہاں چائے پیسوں کی ملتی ہے اور یہاں مفت ۔ شیدے کی جرات نہیں ہے کہ مجھ سے پیسے مانگے ۔ وہ بیچارہ ڈرتا ہے کہ اگر پیسے مانگے تو کہیں ہوٹل خالی کراکے طافو کباڑیے کو ہی نہ دے دوں ۔ ہوٹل جاکر سکون سے بیٹھ گیا، کام تو کوئی تھا نہیں ، اس لیے مکمل اطمینان سے غورکرتا رہا کہ کس کی خدمت میں درخواست دائر کروں ;238; پورے دس کپ چائے اڑانے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاکہ یہ خط آپ ہی لکھا جائے ۔

اس زمانے ٹی وی آن کریں یا اخبارات اٹھا لیں ، ہر طرف تمہارا ہی چرچا تھا ۔ ہر گلی، ہر چوک، ہر تھڑے اورہر محفل کا موضوع سخن تم،ایسی شہرت کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی تھی ۔ کوئی تمہیں چھری مار کہتا، کوئی نقاب پوش، کوئی چاقو مار اور کوئی چاقوبردار ۔ پھر ایک وقت آیا کہ تمہیں صفحہ اخبار سے ناپید ہوگئے لیکن آج کل پھر تمہاراذکر سننے میں آرہا ہے ۔ کل ایک بزرگ نے کہہ رہے تھے’’اس کا نام چھری مارتھا‘‘ ۔ ’’نہیں ! چھری تو مؤنث ہے‘‘ دوسرے بزرگ نے جواب دیا’’وہ مرد ہے تو اسے چاقو مارہونا چاہیے‘‘ ۔ یہ سن کر حاجی صاحب نے فرمایا’’ہو سکتا ہے اس نے ’’چھری‘‘ کا نام کسی عورت کی وجہ سے اختیار کیا ہو‘‘ ۔ ’’چھری مؤنث اور چاقومذکر، تو بھلے لوگو! جوڑ تو ہمیشہ نر مادہ کا ہی بنتا ہے نا ں ‘‘پاس بیٹھے شرفو نائی نے ایک ناقابل تردید حقیقت کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اس کی بات سنی اور مسکراتاہوا چل دیا ۔ چاقو ہو، چھری ہو یا پھر خنجر، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ میڈیا نے اس وقت تمہاری صرف منفی تصویرپیش کی تھی، وہ تمہیں ایک چھلاوے کے طور پر پیش کرتا رہا جو ایک موٹر سائیکل پر سوا رہوتا، آتا اور کسی نقاب پوش عورت کو نشانہ بنا کر غائب ہوجاتا ۔ تمہیں عورتوں کا دشمن کہا گیا، پولیس کو بھی مطعون کیا جا تا کہ وہ تمہیں پکڑنے میں ناکا م کیوں ہے;238; کل ہماری انجمن کا اجلاس ہواجس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کہیں اسی پروپیگنڈے سے بددل ہوکرتم گوشہ گمانی میں چلے گئے ۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری حوصلہ افزائی کے لیے خط لکھا جائے تا کہ لوگوں کو تمہارے پازیٹوپہلو سے بھی واقفیت ہو ۔

اے چھری مارمحسن! ہم کس منہ سے آپ کا شکریہ اداکریں ;238; ہم آپ کے احسانات کا بدلہ کبھی نہیں اتارسکیں گے ۔ آج مہینے کی پندرہ تاریخ ہے اورساری تنخوا (عموماتنخواہ ، لکھاجاتا ہے جو غلط ہے)اڑن چھو ۔ مجھے یاد ہے ستائیس تاریخ تک بھی نصف تنخوا باقی ہوتی تھی لیکن ایسا میری شادی کے پچیس سالوں میں صرف تین چار مہینے ہوا اوریہ وہی مہینے تھے جب تم ’’ان ایکشن تھے ۔ جب بھی تنخوا ملتی، بیگم صاحبہ کا پیار بڑھنے لگتا تھا ۔ پہلے پہل تو مجھے اپنی قسمت پر رشک آتا تھا کہ اتناپیار کرنے والی بیوی ملی ہے لیکن پھریہ غلط فہمی دور ہوگئی کہ مطمع نظر میں نہیں بلکہ شاپنگ ہے ۔ تنخواہ ملنے کے بعد پہلا اتوار میرے لیے بہت بھاری ہوتاتھا ۔ پورا ہفتہ صبح سویرے اٹھنا، ناشتہ تیارکرنا، تیار ہونا، بچوں کو سکول چھوڑنا اور پھر وقت پر آفس پہنچنا، سوچتا تھا کہ اتوار کو مزے سے دیر تک سوئیں گے لیکن واہ نصیبا! یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا ۔ رات کو ہی وارننگ دے دی جاتی تھی کہ صبح شاپنگ کے لیے جانا ہے ۔ شاپنگ مال میں جاتے ہی پتا نہیں بیگم کو ایسے کیوں لگتا تھا کہ یہ چیز بھی گویا اس ہی کے لیے بنی ہے ۔ جوں جوں پرس خالی ہوتا جاتا توں توں بیگم کا دل بھرتا جاتا ۔ پرس کے خالی ہونے سے بیگم کے دل کا کیا تعلق ہے;238;یہ ایک کیمسٹری ہے ۔ بہرحال یہ سلسلہ تب تک چلتا رہتا جب تک ہمارے گھر سے تنخواہ نام کی چڑیا اڑنہ جاتی ۔ لاکھ بار منع کیا کہ اتنے سارے کپڑے، زیور، جوتے اور میک اپ کا کرنا کیاہے;238; جواب ملتا’’فلاں فلاں کے گھر منگنی کا فنکشن ہے، کس کس کے گھر میں شادی ہونا ہے، کہاں کہاں چالیسواں اور کہاں کہاں سنت ابراہیمی اداکی جانے والی ہے‘‘ ۔ اس دوران آنکھ لگ جاتی تو وہ مجھے کہنی مار کے کہتیں ’’اجی! سن رہے ہو;238;‘‘

کہتے ہیں کہ ہررات کا سویراضرورہوتا ہے ۔ قسمت نے پلٹا کھایا،منظر نامے میں تم داخل ہوئے اور یہ سارے سلسلے رک گئے ۔ میں اتوار کو خوب دن چڑھے تک سوتارہتا ۔ میں حیران تھا کہ یہ تبدیلی کیونکر آئی ہے;238; پھر پتا چلا کہ اس کا سہرا تمہارے سے سجتاہے ۔ پھر میں بیگم سے شاپنگ کاکہتا لیکن وہ کہتی ’’شاپنگ! ۔ ۔ ۔ کیوں ;238; مروانا ہے مجھے;238; ان دنوں شہر میں ایک نقاب پوش چھری مارآیا ہوا جو حسین اورنوجوان عورتوں پر چاقوسے وار کر کے فرارہوجاتا ہے، میں تو باہرنہیں جاؤں گی‘‘ ۔ بیگم کی بات حقیقت تھی لیکن ’’نوجوان‘‘ کا لفظ ذرا عجیب سالگا ۔ جب یقین ہوگیا کہ بیگم اب باہر جانے والی نہیں تب سے میں بھی ایک فیاض اور سخی شوہر بن گیا جو ہرروز بیگم کو کہتا ہے کہ شاپنگ کے لیے جانا ہے لیکن ہرروز جواب ملتا’’نہیں !‘‘ ۔ یہ سب تمہاری بدولت واقع ہوا تھا اگرتم ایک سال بھی ایکشن میں رہتے تو اب تک لیا ہوا قرضہ بھی واپس کردیاہوتا بلکہ مجھے تو چارسال تک اپنا ذاتی گھر بھی تعمیر ہوتا ہوا نظر آرہا تھالیکن پھر تم غائب ہوگئے اورسب خواب ریت میں مل گئے ۔ اگر تم زندہ ہوتوایک بار پھر مارکیٹ میں آوَ ۔ تمہیں معلوم ہے اب توتبدیلی سرکار نے ہماری بینڈ بجادی ہے ۔ امداد کن امداد ۔

فقط:انجمن باہمی برائے شوہران ِمجبورستان

Google Analytics Alternative