کالم

اشرافیہ کی لوٹ مار۔۔۔ملک کو لیڈرکی ضرورت

کسی ملک کی ترقی اور کامرانی میں وہاں کی لیڈر شپ اور قیا دت کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے ۔ لیڈر اور ملکی قیادت ملک اور عوام کے قسمت بدلتے رہتے ہیں ۔ اگر ہم غور کرلیں یورپ اور بعض ایشائی ممالک نے جو ترقی کی ہے یہ ترقی لیڈر شپ اور قیادت کی مر ہون منت ہے ۔ پاکستان 1947 میں وجود میں آیا ۔ 1947 یا اسکے بعد 120 ممالک وجود میں آئے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان ان 120 ممالک کی فہرست میں سماجی اقتصادی اشاروں میں سب سے نیچے ہے ۔ ہم یورپ یا ترقی یافتہ اقوام کی بات نہیں کرتے اور نہ اُن ممالک سے پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں بلکہ ہم جنوبی ایشاء کی بات کرتے ہیں ۔ جنوبی ایشاء میں سماجی اقتصادی اشاروں میں پاکستان 8 ممالک کی فہرست میں سب سے نیچے ہیں ۔ پاکستان کو وہ قیا دت میسر نہیں ہوئی جو ملک کو بُحران سے نکالیں اور ان کو ترقی دیں ۔ 1954 سے اب تک 14 عام انتخابات ہوئے ۔ وطن عزیز پر 33 سال فوجی حکمران رہے اور 37 سال تک سول حکومت رہی مگر ان 70 سالہ تاریخ میں ذولفقار علی بھٹو اور ایوب خان کے علاوہ کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جو ملک کو صحیح ٹریک پر چڑھائیں ۔ دنیا کے ممالک دن دوگنی رات چو گنی ترقی کر رہے ہیں ، جبکہ پاکستان بے تحا شا وسائل کے باوجود بھی بھی پیچھے کی طرف جا رہا ہے ۔ موجودہ دور میں جن جن لیڈروں نے اپنی ذہانت اور سمجھ بو جھ سے اپنے ممالک کو جو ترقی دی ہے اُن میں وینزویلا کے ہو گو شاویز ، چین کی قیادت، مہاتیر محمد اور طیب اُر دگان شامل ہیں ۔ وینز ویلا کے ہوگو شاویز نے اپنے دور اقتدار میں وینزویلا کی اقتصادیات میں 6 چند اضافہ کیا ۔ اسی طرح چین ، ترکی اور ملائیشیاء کی لیڈر شپ نے ملک کو انتہائی ترقی دی ۔ اگر ہم دنیا کے کئی ممالک پر نظر ڈالیں گو کہ یہ بُہت چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں مگر وہاں کی لیڈر شپ اور قیا دت نے اپنے اپنے ممالک کو بُہت ترقی دی ۔ لگزمبرگ جو رقبے کے لحاظ سے سندھ کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی ایک لاکھ 10 ہزار ڈالرہے ۔ سنگا پو ر کا رقبہ 7 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 82ہزار امریکی ڈالر ہے ۔ اسی طرح سوئزرلینڈ کا کل رقبہ 41 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 78 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ نا روے اور فن لینڈ کا رقبہ بلوچستان کے برابر ہے مگر وہاں کی فی کس آمدنی بالترتیب 71 ہزار ڈالر اور 47 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ آسٹریا کا کل رقبہ گلگت بلتستان کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 45 ہزار ڈالر فی کس ہے ۔ نیوزی لینڈ صوبہ پنجاب کے برابر ہے مگر وہاں فی کس آمدنی 45 ہزار ارب ڈالر فی کس ہے ۔ جبکہ اسکے بر عکس پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہاں پر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحا شا قُد رتی وسائل سے بھی مالا مال فرمایا ہے مگر اس کے باوجود بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی 1458 ڈالر فی کس ہے ۔ اگر ہم غور کرلیں تو ملک اور قوم کے ساتھ مخلص قیادت اور لیڈر شپ ملکی ترقی اور عوام کے فلاح و بہبود کےلئے نئی نئی راہیں اور طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بد قسمتی سے پاکستان کو وہ قیادت میسر نہیں آئی جو اتنا لائق فائق ، ذہین اور دور اندیش ہو تاکہ وہ ملک اور عوام کی قسمت بدل سکیں ۔ پاکستان کے عوام خواہ اُنکا تعلق پنجاب سے ہو یا سندھ سے ، بلو چستان سے ہو یا خیبر پختون خوا سے ، فاٹا سے ہو یا گلگت بلتستان سے ، یہ لوگ انتہائی جفا کش اور محنتی ہیں ۔ فی الوقت 90 لاکھ پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں فکر معاش میں لگے ہوئے ہیں ، جن میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے 57 لاکھ کے قریب پختون ہیں ، جو ملکی معیشت میں انتہائی اہم کر دار ادا کر رہے ہیں اور ملک کوسالانہ 20 ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھیج رہے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کرلیں ہمارے ملک کے لوگ لانچوں ، کشتیوں مو ٹر کار کی ڈگیوں اور دوسرے ناجائز ذراءعوں سے بیرون ممالک جانے کی کو ششیں کرتے ہیں اور ان میں اکثر جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں ۔ وہ اسلئے بیرون ممالک جاتے ہیں کیونکہ وہاں کی لیڈر شپ نے اپنے ممالک کو جنت نظیر بنائے ہوئے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہماری لیڈر شپ اور قیا دت کےلئے پاکستان کمانے کی جگہ ہے ۔ وہ یہاں سے مختلف جائز اور ناجائز طریقوں سے دولت کما کماکر بیرون ممالک بینکوں میں منتقل کرتے ہیں ۔ نہ تو وہ علاج پاکستان میں کرتے ہیں اور نہ اُنکے بچے یہاں پڑھتے ہیں بلکہ یہاں سے کما کماکر بیرون ممالک منتقل کراتے ہیں ۔ اگر ہم مزید غور کرلیں تو وطن عزیز کی ۶ ہزار نام نہاد اشرافیہ نے اس ملک کے ۱۲ کروڑ عوام کو معاشی، ذہنی اور ہر طریقے سے یر غمال بنایا ہوا ہے اور یہی نام نہاد اشرافیہ یکے بعد دیگرے مختلف طریقوں سے اقتدار میں آکر اقتدار کے مزے لوٹتے رہتے ہیں ۔ پہلے انکے دادے پر دادے اور اب انکے بچے بچیاں اقتدار میں ہوتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی سیاسی پا رٹی میں جمہو ریت نہیں ۔ بد قسمتی سے پاکستان کی اکثریت عوام کو ان نام نہاد اشرافیہ نے ہر قسم کے مسائل میں جکڑا ہوا ہے جنکی وجہ سے غریب عوام کو کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں ۔ وہ کبھی ایک کو ووٹ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے کو ، مگر حقیقت میں یہ لوگ ایک ہیں ۔ اگر ہم پاکستان کے سیاسی خاندانوں پر نظر ڈالیں تو بے نظیر اور نواز شریف کے خاندانوں کے علاوہ باقی پاکستان کے تمام سیاست دان آپس میں رشتہ دار ہیں ۔ جب تک سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں ہوگی اور الیکشن ریفارمز نہیں ہونگے، اشرافیہ ملکی قوانین کا احترام نہیں کرے گی، اُس وقت تک انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اس کالم کی تو سط سے میں مسلح افواج سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کو ٹریک پر لائیں کیونکہ پاکستان میں مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے جو اس ملک کو صحیح ٹریک پر لاسکتے ہیں ۔

امریکی سامراج

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی سامراج نے دنیا کو معاشی حوالے سے یرغمال بنایا ہوا ہے اور اس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ قوموں کو جنگوں میں الجھا کر اپنا اسلحہ فروخت کرتا ہے اور تقسیم کرو اور حکومت کرو اس کی پالیسی ہے مگر ابھی عالمی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں چائنا اور روس کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ آئندہ دور ایشیا کا ہے ۔ سی پیک نے دنیا کا سیاسی اور معاشی نقشہ ہی بدل دیا ہے امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے ایشیاء میں خون کا کھیل کھیلا لاکھوں لوگوں کو قتل کیا اور خطے کو آگ میں جھونکے رکھا ۔ مگر اب دنیا جان چکی ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کا کھیل خود کھیلا، افغان جنگ میں بے گناہ لوگوں کا خون کیا ۔ عراق ، افغانستان ، شام ، یمن اور لیبیا میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے واقعات میں بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کی اب کوئی وقعت نہیں رہی ہے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیاں اور جمہوریت کے نام پر فوجی دھمکیاں اور اپنی معیشت کے حوالے بلند بانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں ۔ جب سے امریکہ نے اپنے آپ کو جمہوریت کے نام پر بین الاقوامی جنگوں میں الجھایا ہے اس کی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے جبکہ اس کے مقابل چائنا نے اپنے آپ کو جنگوں سے بچایا ہے تو چائنا کی معاشی ترقی دنیا کیلئے اچھی مثال ہے جبکہ امریکہ اپنی غلط حکمت عملیوں اور جنگوں میں الجھنے کی وجہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کاسب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے ۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ 40 ہزار ڈالر کاقرض بڑھ رہا ہے ۔ اگر سوویت یونین ٹوٹ سکتا ہے تو امریکہ کیوں نہیں امریکہ کا جنگوں میں الجھنے کا سب سے زیادہ فائدہ روس اور چین نے اٹھایا ہے اور اب یہ دنیا کی بڑی معاشی قوتیں ہیں اور لگتا یہ ہے کہ چین اور امریکہ مستقبل میں دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہوں گے اور ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سوویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوجائے گی اور اس کے دیوالیہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔ امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار نہیں ،ایسا اس سے قبل 1790 پھر 1933پھر ایک جزوی بالی بحران 1979اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور 2008 میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لابٹھایا تھا لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکے رکھا یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستدان اپنے ملک کی ان جنگ جو قسم کی پالیسیوں سے بے زاری کا کھلم کھلا اظہار کررہے ہیں ۔ 9;223;11کا واقعہ گویا امریکہ نے اپنے پاءوں پر خود کلہاڑی سے وار کیا ہے اور اس واقعہ کے بعد اربوں ڈالر جنگوں میں جھونک دئے گئے ہیں جس کے نتاءج سب کے سامنے ہیں اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بھی اس کے ذمہ ہے ۔ اور یہ امراب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کو اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے امریکہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کررہا ہے اور اس وقت شام کی حکومت امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہی ہے ۔ اگر سابق امریکی جنگجو صدر جارج بش غور وفکر اور تدبر وفراست اور صحیح انتظامی حکمت عملی سے کام لیتے تو7;46;3 ٹریلین ڈالر یعنی قرض کے ایک تہائی حصے کو تو بچایا جاسکتے تھے ۔ امریکہ کی عراق، لیبیا اورافغانستان میں ’جنگ بازی‘ سے نہ صرف اس کی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے بلکہ اس کے منفی اثرات لگ بھگ پچاس امریکی ریاستوں اور ان کے اتحادیوں پر بھی مرتب ہوں رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قرض ہے اسی قرض کی وجہ سے بدانتظامی اور غلط طرز عمل کا اختیار کرنا اور فوجی کارروائیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنالینا ہے جس نے اس کے سینکڑوں ٹریلین سرمایہ کو بغیر ڈکارمارے ہضم کرلیا اور دنیا کو وہ جنگوں میں اس لئے الجھا رہا ہے کہ اسلحہ فروخت کر کے کمزور معیشت کو سہارا دے سکے اور ممالک کو کمزور کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کر سکے اگر موجودہ حالات میں اس پر ناگفتہ بہ معیشت کو قابو نہیں کیاگیا تو اس آگ کی چنگاریاں دور دور تک پہنچیں گی اور اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہونگے اور جن ممالک کی معیشت کا دارومدار امریکی اور ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر ہے وہ ممالک بری طرح متاثر ہونگے ۔

مسئلہ کشمیر اورعمران خان کی بہترین سفارتکاری

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے وطن واپسی پرایئرپورٹ پر والہانہ استقبال کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قوم کی دعاءوں سے کشمیریوں پر جو مشکل وقت ہے ہم ان کا کیس قوم کی دعاءوں سے اقوام متحدہ کے سامنے بھرپور طریقے سے رکھ ;200;ئے ہیں ۔ قوم کا شکریہ اداکرتا ہوں اور خاص طور پر بشریٰ بیگم کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے میری کامیابی کیلئے بہت دعائیں کیں ۔ ہم سب مقبوضہ کشمیر میں عوام پر مشکل حالات میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، اگر پوری دنیا بھی کشمیریوں کے ساتھ نہ ہو پاکستان پھر بھی کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا ۔ یہ ایک جہاد ہے، ان پر جو بھارت ظلم کررہا ہے ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم اسطرح اپنے اللہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت 80 لاکھ کشمیریوں کو بھارت کی فوج نے کرفیو میں قید کر کے رکھا ہوا ہے ۔ جدوجہد میں اونچ نیچ ;200;تی ہے اچھے برے وقت ;200;تے ہیں ۔ برے وقت میں گھبرانا نہیں ;200;ج کشمیر کے بوڑھے، خواتین، بچے سب ;200;پ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں اس لئے میرا وعدہ ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کرنے والی مودی کی فاشسٹ حکومت کو ہر فورم پر بے نقاب کریں گے جو میرے ساتھ 20 سال سے میرے ساتھ سفر کر رہے ہیں ان کو میں نے بتایا ہے کہ کوشش انسان کی ہوتی ہے کامیابی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ۔ ایئرپورٹ پر وزیر اعظم کی ;200;مد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ ایئرپورٹ ٹرمینل کی سیڑھیوں پر ہر طرف کارکنان اپنے قائد عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بیتابی سے ان کے منتظر رہے ۔ قبل ازیں کارکنان اور پارٹی رہنما گاڑیوں کے جلوسوں میں ایئرپورٹ پہنچے جس سے پارکنگ میں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی رہیں ۔ یواین کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے سفیرکشمیر ہونا ثابت کردیا ، انہوں نے پوری دنیا کاضمیرجھنجھوڑ کررکھ دیا، بین الاقوامی برادری کو ;200;گاہی کرادی کہ فسطائیت کے پیروکار مودی کا اصل چہرہ کیا ہے ،وطن واپسی پربھی انہوں نے بابانگ دہل خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کاساتھ دینا جہاد کے مترادف ہے چونکہ کشمیرہماری شہ رگ ہے اورجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک برصغیرکی تقسیم کا ایجنڈا بھی نامکمل ہے ، ;200;ج سے قبل شاید بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حساس ہونے کا اتنا ادراک نہیں تھا جتنا کہ عمران خان نے کرایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی عمران خان کے اقدامات اورتقریر کے بعدایک خوشی کی لہردوڑ گئی ہے ، اس وقت دنیا بھی کہہ رہی ہے کہ مودی کووادی میں ظلم وستم کاباب بندکرنا ہوگا ۔ نیزامریکہ نے بھی کہاکہ خطے میں اورمذاکرات کے لئے عمران خان کاخطاب بنیاد فراہم کرتا ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ فرارحاصل کیا کیونکہ مودی ;200;ر ایس ایس کی پیداوار ہے اور دہشت گردی اس کے انگ انگ میں بھری ہوئی ہے ، ;200;رایس ایس تنظیم کابنیادی نقطہ نظر ہی مسلمانوں کوتہہ تیغ کرنا ہے اس کو روکنے کے لئے دنیا کو;200;گے بڑھنا ہوگا،اب کام صرف بیانات سے نہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور یہ چیز وزیراعظم پاکستان دنیا کو باورکرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھے گی خواہ اس کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کب تک سیاسی اور اقتصادی مفادات انسانی اور اخلاقی اقدار پر غلبہ برقرار رکھیں گے ۔ پانچ اگست کے بھارتی اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی ذراءع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد عالمی رہنماءوں نے اسی لاکھ کشمیریوں کی حالت زار اور بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش کا اظہارکیا ہے تاہم بعض ملکوں نے اپنے کاروباری اور تجارتی مفادات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والے عالمی انسانی المیے پر ترجیح دی ۔ مودی کو خوش کرنے کی پالیسی اسی پالیسی کا اعادہ ہے جو دوسری جنگ عظیم کا باعث بنی ایسی صورتحال میں عالمی برادری کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا دنیا اسی طرح کے المناک سانحے کیلئے تیار ہے خصوصا ایسے حالات میں جب پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں ;238; بھارت کشمیریوں کی جدوجہد ;200;زادی کو پاکستان کی زیر سرپرستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کررہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جیسے ہی کرفیو کی پابندی میں نرمی کریگا توہ وہ بوکھلاہٹ میں ایک بار پھر علاقائی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریگا ۔ بھارت تنازعہ کشمیر کو دوطرفہ معاملہ قرار دیکر موجودہ کشیدہ صورتحال پر پردہ ڈال رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دوطرفہ مذاکرات سے انکاری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال کا خمیازہ نہ صرف دونوں ملکوں ، کشمیری عوام بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا ہوگا ۔ بھارت جتنا بھی فرار حاصل کرلے بال;200;خراس کو مذاکرات کی میزپر;200;نا ہی ہوگا اور جب تک کوئی تیسرافریق اس مسئلے کو حل نہیں کراتا تو اس کاحل ممکن نہیں ۔ اب مودی نہ تو مقبوضہ کشمیرجاسکتاہے نہ کشمیریوں کے سامنے تقریر کرسکتاہے البتہ اس نے وادی پرجودنیاکی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہے اس میں مقیدلاکھوں کشمیری ;200;ج دنیا کے سامنے سوال کنہ ہیں کہ عالمی برادری ;200;خر کس بات کا انتظار کررہی ہے ۔ یہا ں ہم ایک بات اوربتاتے چلیں کہ پانچ فروری 1948 میں مودی کی دہشت گرد تنظیم ;200;رایس ایس پرپابندی عائد کردی گئی تھی یہ پابندی ان پراس وقت لگائی گئی تھی جب ;200;رایس ایس کے دہشت گردوں نے گاندھی کوقتل کیاتھا اس اعتبار سے بھی دیکھاجائے تو یہ تنظیم دہشت گرد ہے اس تنظیم کے رہنما کرشن گوپال نے باقاعدہ تسلیم کیاہے کہ ہاں ہم دہشت گرد ہیں مودی بھارت اور ;200;رایس ایس ایک ہی ہیں اب اس کے بعد ایسی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی جس سے ان کا دہشت گرد ثابت ہونا باقی ہو،اب یہ بات بالکل ثابت ہوچکی ہے کہ وادی اوربھارت میں یہ دہشت گردی پھیلارہے ہیں دنیا ;200;گے بڑھے، ان کی بربریت کو روکے ورنہ پوری دنیاخطرناک جنگ کی لپیٹ میں ;200;سکتی ہے ۔

عمران خان کے خطاب کے بعدبھارت کی بوکھلاہٹ، ایل

او سی پربلا اشتعال فائرنگ

تمام ترکاوشوں کے باوجودبھارت کاجنگی جنون کسی صورت تھمنے میں نہیں ;200;رہا، ایل او سی پروہ بلا اشتعال فائرنگ سے قطعی طورپرباز نہیں ;200;رہا ۔ گزشتہ روز لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;رکے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی کے نکیال اور رکھ چکری سیکٹرز کی شہری ;200;بادی کونشانہ بنایا جس میں تین شہری بھی زخمی ہوئے ۔ نکیال سیکٹر کے علاقے کوٹلی میں 60 سالہ خاتون اور 13 سالہ بچہ شہید ہوئے ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ کا ;200;غاز 3 بجے شروع ہوا جوساڑھے 6بجے تک جاری رہا ۔ شیلنگ سے 2گھر بھی متاثر ہوئے ۔ خیال رہے کہ بھارتی فورسز نے ;200;بادی کو ایسے وقت پر نشانہ بنایا جب وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد پاکستان پہنچے ہیں ۔ تین روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم ;200;خر تک لڑیں گے اور اس کے نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے ۔ بھارتی فوج کی جانب سے لائن ;200;ف کنٹرول اور ورکنگ باءونڈری پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے اور خاص طور پر مقبوضہ جموں اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد ایل او سی پر بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ بھارت جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے باز نہیں ;200;رہا ۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پرفائرنگ کاسلسلہ شروع کردیا ہے ،بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متاثرہوتے ہیں ۔ بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ پاک فوج کے جوان بھارتی فوج کی فائرنگ کابھرپور جواب دیتے ہیں جس سے دشمن کی توپیں خاموش ہوجاتی ہیں ۔ پاک فورسزکے جوان دن رات سرحدوں پرالرٹ ہیں اور وہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کابھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر پر قوم جشن منائے

عمران خان نے اقوام متحدہ میں زبانی تقریر کر کے سب کو حیران کر دیا ۔ خطرہ تھا کہ ایسے میں ان کی کئی ٹنگ سلپ نہ ہو جائے ۔ لیکن دلیرانہ ہوش مندانہ تقریر کرنے میں خانصاحب کامیاب رہے ۔ اجلاس میں خانصاحب تین پوئنٹ اگر نہ بھی ڈسکس کرتے تو کوئی حرج نہ تھا ۔ یہی وقت کشمیر کاز پر لگاتے اور کہتے کہ آج میں کشمیریوں کا ایک پوائنٹ ایجنڈالے کر حا ضر ہوا ہوں ۔ ایسا کرنے سے شروع میں جو بوریت لوگوں نے محسوس کی وہ نہ ہوتی ۔ عمران کی تقریر نے بھٹو کی یاد تازہ کر دی ۔ یاد تو ضیا الحق کی بھی آئی ۔ ضیا نے جنرل اسمبلی میں تقریر سے پہلے ٹی وی پر تلاوت کرائی گئی ۔ یہ شو کیا گیا کہ یہ پہلے مسلم لیڈر ہیں جھنوں نے اس فورم پر تلاوت کرائی ۔ بعد میں پتہ چلا یہ ایسا نہیں تھا ۔ ہمارا ہر لیڈر ہر سال اس فورم پر اپنے اپنے انداز میں تقریریں کرتا ہے ۔ اپنوں سے داد سمیٹتا ہے ۔ اس بار عمران خان کی ایک منفرد انداز میں تقریر تھی ۔ جس سے کسی میں چبھن ہوئی اور کسی نے اسے پسند کیا ۔ ویسے تواقوام متحدہ کے رول کو سب جانتے ہیں کہ دنیا کے ممالک کے مسائل حل نہیں کرتا ۔ فلسطین کا مسئلہ ہو یا کشمیر کا مسئلہ کا اب تک کئی سالوں سے حل نہیں ہو سکا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس فورم پر تقرریں کرنا بھینس کے آگے بین بجا نا ہے ۔ کیا دنیا نہیں جانتی کہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے ۔ کشمیر یوں کے ساتھ بھارت کیا کر رہا ہے ۔ حالات کے مطابق عمران خان نے بہت اچھی تقریر کی ۔ دعا کریں یہ دشمن کو ہضم ہو جائے ۔ پاکستان واپسی کےلئے جب کچھ گھنٹوں کی مسافت طے کر چکے کے بعد جہاز کو فنی خرابی کے باعث واپس نیویارک اتار لیا گیا ۔ جبکہ جہاز فنی خرابی کے بعد اتنا طویل سفر نہیں کرتا بلکہ کسی قریبی ایئرپورٹ پر ہنگا می لینڈنگ کرتا ہے ۔ یہ اب بعد میں پتہ چلے گا کہ یہ فنی خرا بی جہاز میں تھی یا تقریر کرنے والے میں ۔ بہرحال فنی خرابی دور کر کے دوبارہ اسی ملک کے جہاز میں سوار ہوئے جس نے ہ میں ووٹ نہیں دیا تھا ۔ امید ہے اب ایسا ہی برتاءو اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی جناب کریں گے ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کے دو ہی حل باقی بچے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم دل سے مان لیں گے بھارت بڑا طاقت ور ملک ہے جو وہ چائیے گا ہم مان لیں گے ۔ تانکہ زمین خون سے سرخ نہ ہو ۔ پھر اس جنگ کے پیسے صحت اور ایجوکیشن پر لگائے جائیں اور ہم غربت کے خلاف جنگ کریں جو ہمارے بس میں ہے ۔ دوسرا یہ کہ ہم جنگ میں کود جائیں ۔ پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔ ایسا کرنے سے زمین خون سے سرخ ہو گی ۔ اگر جنگ کی نوبت ایٹمی ہتھیاروں تک جا پہنچی تو پھر بھارت پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے ۔ پھر نہ ہوگا بانس اور نہ بجے کی بانسری ۔ یہی ہوگا قیامت سے پہلے قیامت آ جائے گی ۔ اب یہ فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے ۔ کسی زمانے میں جس طرح ایران اور عراق اشاروں پر ایک دوسرے سے لڑتے تھے آج سعودیہ کی پوزیشن ایران عراق جیسی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ امریکہ نے جنگ شروع کی تو ایران ایک میزائل سے امریکی بیڑے کو تباہ کر دے گا ۔ یاد رہے ایسے ہی بیان ماضی میں صدام اور کرنل قذافی بھی دیا کرتے تھے ۔ پھر یہ مسلمان لیڈر درد ناک موت مرے اور اپنے اپنے ملک بھی تباہ برباد کر کے دنیا سے رخصت ہوئے ۔ لگتا یہی ہے کہ ان قوتوں نے مسلم ممالک کو تباہ کرنے کی باریاں لگا رکھی ہیں ۔ عراق ، لبیا، شام جیسے اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہیں ۔ ایسا ہی حال پاکستان کا 1971ء میں یہ کر چکے ہیں ۔ جس سے بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا ۔ آج ایک بار پھر ایران ، سعودیہ اور ، پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ ایران کی جنگ سعودیہ سے کرانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح بھارت کا پاکستان سے ٹکرانے کا بندوبست ہو چکا ہے ۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ دنیا کشمیر کے ظلم سے بے خبر ہے ۔ ایسا نہیں ہے ۔ یہ سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں ۔ اب ہم اس خوش فہمی میں ہیں کہ اقوام متحدہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائے گا ۔ جب کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ اب بھارت وہ کچھ کر چکا ہے جس کی بھارتی قانون اس کو ایسا کرنے کی جازت نہیں دیتا ۔ بھارت اب اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 ;65; کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکا ہے ۔ جس کی اسے اب کوئی پرواہ نہیں ۔ حال ہی میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی اسمبلی میں کشمیر پر اپنا مقدمہ پیش کیا ۔ جس کی منظوری کےلئے 48 ممالک کی حمایت کی ضروری تھی ۔ پاکستان کو 42 ووٹ ملے اور بھارت کو58 ۔ انڈیا کو ووٹ دینے والوں میں سعودیہ ، امارات ،بحرین ، کویت شامل تھے ۔ پاکستان کو ووٹ دینے والے مسلم ممالک میں ایران ، ترکی ، قطر امان شامل تھے ۔ چین روس جرمنی نے بھی پاکستان کو اپنا ووٹ دیا ۔ رزلٹ یہ نکلا کہ بھارت کی جیت ہوئی اور ہماری ہار ۔ اب ہ میں حقاق سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں ۔ اب تو سمجھ آ جانی چائیے کہ بھارت کی پوزیشن ہم سے بہتر ہے ۔ بھارت کے مقابلے میں ہم اکنامی طور سے کمزور ہیں ، کشمیر میں ہم کشمیریوں کی مدد کرنے سے قاصر ہیں ۔ سچے مسلمان بھی نہیں ہیں ۔ مسلمان ممالک بھی ساتھ نہیں ہیں لہٰذا جو حالات ہمارے سامنے ہیں ۔ اس کے مطابق اب ہ میں فوری یو ٹرن لینا ہو گا ۔ انٹر نیشنل سے نیشنل مسائل کی طرف ہ میں دھیان دینا ہو گا ۔ اپنی اکنا می کو بہتر کرنا ہو گا ۔ ایسے اقدامات اٹھانے ہو نگے جس سے ہماری ملکی معیشت بہتر ہو ۔ ترقی کا پہیہ چلنے لگے ۔ کار خانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنے لگے ۔ بے روز گاری کا خاتمہ ہو ۔ ملک میں امن ہو ۔ اداروں میں ا نصاف کا پرچم بلند ہو ۔ نا انصافی کی چیخ و پکار بند ہو ۔ اس کےلئے ملک کی تما م سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہو گا ۔ ملک کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا ہو گا ۔ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا ۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ۔ ایسا کرنے سے ملکی حالات میں بہتر ی لا ئی جا سکتی ہے ۔ حکومت مستحکم ہو سکتی ہے ۔ بد نام تو ہو ہی گئے ہیں اب کیوں نہ ہم ایک بار پھر وہی کچھ اب بھارت کے ساتھ کریں جو کچھ ہم نے افغانستان میں کرتے ہوئے روس جیسے ملک کو شکست دے دی تھی ۔ ہمارے مسلم ممالک نے کشمیر ایشو پر کس طرح ہم سے آنکھیں پھیریں ہیں ۔ جن پر بھروسہ تھا وہی تکیہ ہوا دینے لگے ۔ لہٰذا اب ہ میں اپنے پاءوں پر کھڑا ہو ناپڑے گا ۔ غیروں کے پاءوں پکڑنے سے بہتر ہے اپنے ہی ناراض سیاسی لوگوں کو راضی کر لیا جائے ۔ معافی دے کر انہیں گلے لگایا جائے کیونکہ دونوں میں خامیاں ایک جیسی موجود ہیں ۔ ایسا کرنے سے پا نچ سال پورے کر سکتے ہیں ۔ جو ہمارے نظام میں خرابیاں ہیں انہیں ملکر آئین سازی کے ذریعے ٹھیک کریں ۔ اداروں کی سمت اور ان کا قبلہ درست کریں ۔ اگر ایسا نہ کیا تو جلد ہی آپ خود بھی اس سسٹم کی لپیٹ میں آ جائیں گے ۔ اگر گھر میں ہی لڑائی افراتفری جاری رکھیں گے تو دشمن اس سے فائدہ اٹھا ئے گا جس سے ملکی نقصان ہو گا ۔ بہتر ی اسی میں ہے کہ یو ٹرن لیتے ہوئے ملک میں افرا تفری کی فضا کو ختم کیا جائے ۔ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو فوری گلے لگایا جائے ۔ سب ملکر اداروں میں بہتری لائیں ۔ قانون سازی کریں اور جو تقریر عمران خان جنرل اسمبلی میں کر آئے ہیں اس پر سب ملکر جشن منائیں اور خیر منائیں ۔

اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے پاکستان ترکی اور ملائیشیا کا اتفاق

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا وہیں نائن الیون کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے پھیلائے جانیوالے اسلامو فوبیا کے منفی تاثرات کو زائل کرنے کی بھی مفصل اور مدلل کوشش کی ۔ 9;47;11 کے بعد بعض مغربی ممالک نے دہشت گردی کو اسلام سے اس طرح جوڑا کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے یا اسلام اور دہشت گردی لازم و ملزوم ہیں ۔ اسی لئے عام آدمی بھی مسلمانوں سے کنی کترانے لگے ۔ اسی وجہ سے اسلامو فوبیا نے جنم لیا ۔ عمران خان نے دنیا پر واضح کیا کہ بنیاد پرست اسلام یا دہشت گرد اسلام نہیں ۔ کچھ بنیاد پرست اور انتہا پسند لوگ اسلام کو کور کے طور پر استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہے ہیں ۔ اسلام صرف ایک ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہ میں سکھایا ۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض سربراہان اسلامی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ ماضی قریب میں خود ہمارے ہاں دہشت گردی اور خود کش حملے ہوئے جن کو نام نہاد مسلمانوں نے اسلام سے جوڑا جبکہ نائن الیون سے پہلے زیادہ تر خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کئے جو ہندو تھے ۔ مگر کسی نے ہندوازم کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا ۔ یہ حقیقت ہے کہ مغربی ممالک میں ہمارے پیارے آخری نبی ;248; کی توہین ہم تمام مسلمانوں کیلئے بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ جب اسلام کی توہین پر مسلمانوں کا ردعمل سامنے آتا ہے تو ہ میں انتہاء پسند کہہ دیا جاتا ہے ۔ اس کی ایک تازہ مثال امریکی صدر ٹرمپ کی ہیوسٹن میں مودی کے جلسے میں نظر آئی جب انہوں نے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اس کیخلاف مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کرکے انہوں نے خود کو بھارت کے ساتھ ایک فریق بنالیا ۔ دہشت گردی کیا ہے;238; دہشت گرد کون ہیں اور کون سی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں ۔ اب تک کوئی عالمی تنظیم یا ملک اس کی تعریف کرنے سے قاصر ہے ۔ جہاں تک امن پسند اقوام اور ممالک کا سوال ہے تو وہ بے گناہ لوگوں کے خون بہانے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ اسلام مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کی جان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ اسلام امن اور رحم کا درس دیتا ہے اور پرتشدد کارروائیوں اور انتہا پسندوں کے رویے کو مستردکرتا ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے جو اپنے پیروکاروں کو راہ راست پر رہنے کا درس دیتا ہے یعنی صراط مستقیم پر چلنے اور مل جل کر معاشرے میں رہنے اور حقوق العباد پر رہنے کا سبق دیتا ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ انسانی جان کی حرمت کو قائم رکھیں اور معاشرے کو امن و ;200;شتی پر چلائیں ‘ مگر گزشتہ چند سالوں میں نام نہاد مسلمان جن کا فلسفہ ہی قتل و غارت گری ہے دین اسلام میں ایک ناسور اور نئے فتنہ کی صورت اختیار کرچکے تھے اور ابوجہل کی طرح جاہلیت پر مبنی فلسفہ پر گامزن تھے ۔ ان لوگوں نے اپنی پہچان کو نام نہاد تحریک طالبان پاکستان بناکر خود کو القاعدہ کہلوانا شروع کردیا ۔ یہ لوگ اپنے سیاسی مفادات کے تحت اسلام کی غلط ترجمانی کرتے اور دنیا بھر میں امت مسلمہ کو ان نام نہاد جہادیوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے مفادات کی خاطر جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے‘ مگر ان لوگوں نے تو اسلام کو اور مسلمانوں کو اس حد تک بدنام کیا کہ پوری مغربی دنیا اسلام کو ایک خوفناک مذہب سمجھنے لگی اور اپنے ممالک میں موجود مسلمانوں کو جو وہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں کو اس طرح شک کی نظر سے د یکھنے لگی کہ جیسے القاعدہ اور تحریک طالبان کا تعلق ہر اس مسلمان سے ہوسکتا ہے جو کہ نماز پڑھتا ہو اور دین اسلام پر سختی سے کاربند ہو ۔ مغربی دنیا ہر ایسے مسلمان کو دہشت گردوں کا ساتھی یا خود دہشت گرد سمجھتے ہیں ۔ اسی اسلامی فوبیا کو ختم کرنے اور مسلمانوں کا بہترین عکس سامنے لانے کےلئے نیویارک میں ہی پاکستان‘ ترکی اور ملائیشیا کا سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان‘ ترک صدر طیب اردوان اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اتفاق کیا ہے کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے اور مسلمانوں کے بیانیہ کو فروغ دینے کیلئے کام کیا جائے گا ۔ مشترکہ فلم سازی اور ٹی وی چینل کے قیام کیلئے بھی کام کیا جائے گا ۔ تینوں ملکوں نے مشترکہ چینل کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چینل کا مقصد اسلامو فوبیا کے چیلنجز سے نمٹنا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشترکہ چینل ہمارے عظیم مذہب اسلام کی ترجمانی کریگا ۔ چینل کے ذریعے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح پیرائے میں پیش کیا جائے گا ۔ دنیا کو بتانے کیلئے مسلمانوں کی تاریخ پر سیریز‘ فل میں بنائی جائیں گی ۔ مسلمانوں کو میڈیا پر باقاعدہ نمائندگی دی جائیگی ۔ یہ بات درست ہے کہ اقوام متحدہ کا فورم بہت اہم ہے جہاں مسلمان اور مسلم ممالک کے قائدین کو اس امر کی وضاحت کرنی چاہئے کہ اسلام اور دہشت گردی دو مختلف چیزیں ہیں ۔ مسلمانوں میں جنونی طبقہ موجود ہے اسی طرح عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سدباب کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ جرمنی اور نیوزی لینڈ میں مساجد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا لیکن اس کا مذہب سے تعلق نہیں جوڑا گیا ۔ ہولوکاسٹ کی وجہ سے یہودیوں کو دلی تکلیف پہنچتی ہے اور مغربی ممالک ہولوکاسٹ کے معاملے میں بہت محتاط ہیں ۔ بالکل اسی طرح انہیں اسلام کے بارے میں حساسیت کا پہلو مدنظر رکھنا چاہئے ۔

عمران خان گریٹ لیڈر

۶۲ فروری کے بعد فوج نے پاکستانی عوام کو بتایا تھا کہ تین ملکوں نے مل کر تین مختلف جگہوں سے پاکستان پر حملہ کیا تھا ۔ پاکستانی فوج کے چوکنا ہونے کی وجہ سے ان حملوں کا ناکام بنایا گیا ۔ ظاہر ہے یہ بھارت امریکا اور اسرائیل ہی ہو سکتے ہیں ۔ ان دشمنوں کے اندازوں کے مطابق پاکستان اس وقت پاکستان معاشی طور پر کنگلا ہو گیا ۔ پاکستان پر دباءو بڑھا کر اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ بھارت نے اپنے طور پر سرجیکل اسٹرائیک بھی کی ۔ پھر ہوائی حملہ کیا،مگر دونوں محازوں پر منہ کی کھائی ۔ اور اب بھارت کے آئین میں کشمیر بارے خصوصی دفعات ۰۷۳ اور ۵۳;241;اے کو ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا ۔ بھارت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کشمیر سے دسبردار ہو جائےگا ۔ لیکن بھارت کے اندازے غلط ہیں کہ پاکستان ان حالات کی وجہ سے اپنی شہ رگ سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔ پانی کی بوند بوند کو ترس کر پاکستان اپنی جان کیوں دے دے ۔ نہیں بلکہ پاکستان عمران خان کی زیر کمان آخری دم تک لڑے گا ۔ پاکستان کی فوج کے مطابق آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے ۔ عمران خان نے اقوام متحدہ میں زور دار اور حقائق پر مبنی تقریر کی ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈر اب سر جوڑ کر بیٹھیں گے ۔ بغیر لکھی تقریر دل سے کی ہے اور دل سے جو بات نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے ۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا ۔ عمران خان مسلم دنیا کا واحد لیڈر ہے جو بغیر کسی لگی لپٹی یا خوف خطر کے اسلام فو بیا، نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں ،پاکستان اور کشمیرکی بات کی ۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کو آخری پیغام دیا ۔ وہ سنہری لفظوں میں لکھنے کے قابل ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ جنگ عظیم کے بعد جنگوں کو روکنے اور قوموں کو انصاف دلانے کی لیے وجود میں آئی تھی ۔ کشمیر بار ے گیارا منظور شدہ قرادادیں اقوام متحدہ کے پاس موجود ہیں ۔ کیا اقوام متحدہ اس لیے مسئلہ کو حل نہیں ہیں کر رہی کہ کشمیر مسئلہ مسلمانوں کا ہے ۔ نائین الیون کے بعد دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ۔ جبکہ اسلام کادہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ کیا سری لنکا میں تامل ہندد ایک مدت تک دہشت گردی نہیں پھیلاتے رہے;238; اس دہشت گردی کو ہند مذہب سے کیوں نہیں جوڑا گیا;238; کیا یورپ میں نیوزی لینڈ کی دومسجد وں میں اللہ کے حضور جھکے ہوئے۰۵نماز ِجمعہ پڑھنے والے مسلمانوں کو ایک عیسائی دہشت گرد نے ہلاک نہیں کیا ۔ کیا یہ عیسائی مذہب کی دہشت گردی نہیں تھی;238; ۔ یورپ میں اپنے ناپاک عزاہم کی تکمیل کےلئے آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں ۔ آپ کو نہیں معلوم کہ دنیا کہ ڈیڑھ ارب مسلمان اپنے پیغمبر;248; سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔ کشمیر میں ستر سال سے مظالم ہو رہے ہیں ۔ پہلے آٹھ لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتی رہی اب نو لاکھ فوج کشمیریوں پر چڑھا دی گئی ہے ۔ ۵۵ دن سے کرفیو لگا ہوا ہے ۔ انٹر نیٹ، ٹی وی، اخبارات،موبائل لینڈ لائین بند ہیں ۔ ۰۸ لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کیاہوا ہے ۔ اگر ۰۸ لاکھ یہودیوں یا عیسائیوں کو کہیں نظر بند کیا جاتا تو اقوام متحدہ کیا کچھ نہیں کرتی ۔ اقوام متحدہ سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جب کرفیو اُٹھے گا ، کشمیری اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں گے اور نو لاکھ فوج ان پر گولیاں چلائی گی ۔ کیا یہ اجتماعی خون ریزی نہ ہو گی ۔ پہلے کی پلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں کواندھا کیا جا چکا ہے ۔ موددی کہتا ہے کشمیر میں اب ترقیاتی کام ہوں ۔ نو لاکھ فوج ترقیاتی کام کرے گی یانو لاکھ فوج کشمیریوں کو قتل نہیں کرے گی ۔ موددی جو آر ایس ایس کا بنیادی تاحیات ممبر ہے ۔ مودی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چل کر مسلمانوں کو بھارت سے نکالیں گے ۔ کیونکہ آر ایس ایس۶۲۹۱ء میں ہٹلر کے نظریات پر بنی ہے ۔ مودی ہندو قوم کی برتری کے تکبر میں مبتلا ہو گیا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ بھارت پاکستان سے ۷ گنا بڑا ہے ۔ کیا وہ ہ میں ختم کرے اور ہم خاموش بیٹھ جائیں ۔ میں اپنے آپ سے سوال کرتاہوں ۔ جب پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو عمران خان لا الہ اللہ پر یقین رکھنے والا آخری دم تک لڑے گا ۔ میں اپنے ملک کے حالات خراب ہونے کے باوجودیہاں اقوام متحدہ میں آیا ہوں کہ دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کو اعتماد میں لوں ۔ پلومہ پرخود کش حملہ کرنے والے لڑکے کے والد نے دنیا کو بتا یا کہ کشمیریوں پرظلم ستم کی وجہ سے میرے لڑکے نے بھارتی فوجی کنوائے پر خود کش حملہ کیا تھا ۔ مودی نے فوراً الزم پاکستان پر لگا دیا ۔ فضائی حملہ کر دیا اور کہا کہ ۰۷۳ دہشت گرد کو قتل کر دیا ہے ۔ ہاں ہمارے چھ(۶) چھیڑ کے درختوں کا نقصان ضرور ہواجس کا ہ میں افسوس ہوا ۔ ہم نے بدلہ لیا بھارت کے دو جہاز مار گرائے ایک پاکستان میں گرا دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔ ایک پائلٹ گرفتار کیا ۔ کیوں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تو ہم نے پائلٹ واپس بھارت کو دے دیا ۔ اب جب کرفیو اُٹھے گا ۔ کشمیری اپنے جائزحقوق کےلئے مظاہرے کریں گے ۔ نو لاکھ فوج ان پر گولیاں چلائے گی ۔ ظلم سے تنگ آ کر پھر کوئی کشمیری پلومہ جیسا واقعہ کرےگا ۔ مودی پاکستان پر الزام لگا کر حملہ کرے گا ۔ ہم نے واپس۶ ۲ فروری سے بھی زیادہ زور سے جواب دیں گے ۔ تو کیا دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ نہیں چھڑ جائے گی ۔ کیا اقوام متحدہ یہ سمجھتی ہے کہ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ دو ملکوں تک معدود رہے گی ۔ نہیں ہر گز نہیں یہ جنگ دو ملکوں تک معدو نہیں یہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔ میں یہی بات بتانے کےلئے اقوام متحدہ میں آیا ہوں ۔ قبل اس کے کہ دو ایٹمی ملکوں میں جنگ شروع ہو ۔ اقوام متحدہ اپنے منشور کے مطابق اس جنگ کو روکے ۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کر کے کشمیر میں رائے شماری کرائے ۔ کشمیر سے فوراً کرفیو اُٹھانے کا بھارت پر زور دے ۔ عمران خان کی پرزور وکالت سے امریکا نے بھارت کو کہا کہ وہ کشمیر سے کرفیوختم کرے ۔ عمران خان کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ میں پہلی بار بھارت کے لیے شیم شیم اور عمران کے لیے تالیں بجائی گئی ۔ اس سے قبل ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں ۲۱;241; دفعہ عمران کو گریٹ لیڈر کہا ۔

عمران خان کی صلاحیتوں کو دنیا تو مان گئی مگراپوزیشن

دانا کہتے ہیں کہ ضمیر کو زرہ بکتر جیسا مضبوط ہونا چاہئے، جی ہاں ، آج مضبوط ضمیروالے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے کئے جانے والے چارحصوں ماحولیات، منی لانڈرنگ، اسلاموفوبیا اورمظلوم کشمیریوں کی داستان پر مبنی خطاب کو تاریخی قرار دے رہے ہیں ۔ جن کے نزدیک بیشک، وزیراعظم پاکستان نے نو لاکھ بھارتی افواج اور آرایس ایس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے نہتے، معصوم مظلوم و محصور مسلمانوں سمیت عالمِ اسلام کا مقدمہ مدلل دلائل اور حق گوئی کے ساتھ پیش کرکے امر ہوگئے ہیں ۔ اِن سے قبل ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ کسی نے یو این اُو میں مظلوم کشمیریوں اور اسلاموفوبیا کا ایسا مقدمہ پیش کیا ہو;234;اور بھارتی افواج اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں کا مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اِس طرح بیان کیا ہو ۔ اور نائن الیون کے بعد امریکا سمیت یورپی ممالک اور اسرائیل و بھارت کا پیدا کردہ اسلاموفوبیا ختم کرنے کی رتی برابر بھی کوشش کی ہو ۔ بیشک ،آج یہ سہرا اور تاج صرف اور صرف وزیراعظم عمران خان کے سر جاتا ہے ۔ جنہوں نے کھل کر مظلوم کشمیریوں اور اسلاموفوبیا کا مقدمہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پیش کیاہے ۔ جبکہ بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے اپوزیشن والے جیسا کہ اِن کا وطیرہ ہے یہ حسبِ عادت و فطرت اور روایات کے مطابق گلاب جامن، رس گلہ اور چم چم میں بھی مرچوں کے بیچ تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اِنہیں وزیراعظم کا یہ خطاب بھی پسند نہیں آیاہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیا جانے والے خطاب مظلوم کشمیر یوں سمیت عالمِ اسلام کا جامع مقدمہ ہے ۔ ہم اِسے مظلوم نہتے کشمیریوں اور عالمِ اسلام سے متعلق تاریخ ساز یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِس جیسا خطاب اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی پچھلی چاردہائیوں میں کہیں نہیں ملتاہے ۔ بہر کیف اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کئے جانے والے تاریخ ساز خطاب سے وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ بائیس کروڑ پاکستانیوں سمیت عالمِ اسلام کے دل بھی جیت لئے ہیں ۔ اِس سے بھی اِنکار نہیں ہے کہ عالمی سطح پر وزیراعظم عمران خان کی مدبرانہ اور سحر انگیز شخصیت کوہمارے پچھلے کئی وزیراعظم کی نسبت ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ آج اِس لئے دنیا وزیراعظم عمران خان کی گرویدہ ہے اور اِسے اپنے لئے عظیم شرف سمجھتی ہے ۔ جِس کی نظر مستقبل کو روشن بنانے پر ہوتی ہے یقینا اُسے مستقبل کی زبان اور چال بھی آتی ہے،وہ اِس کے ہر حربے سے واقف بھی ہوتا ہے مگر جِس کی نظر مستقبل پھر نہیں ہوتی ہے اُسے نہ تو مستقبل کی زبان آتی ہے اور نہ وہ مستقبل کے حربے جان سکتاہے یہ ہماری خوش بختی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مستقبل پر نظر بھی ہے تو اِنہیں اِس کی زبان او ر چالیں بھی خوب چلنی آتی ہیں ۔ ہماری اپوزیشن والے خاطر جمع رکھیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے یو این اُو میں جس اعتماد کے ساتھ مظلوم کشمیری بھائیوں اور عالمِ اسلام کا مقدمہ پیش کیا ہے اِنہیں اِس پر قائم رہنا اور اِسے لے کر چلنا بھی خوب آتاہے وہ تو یہی اپوزیشن والے تھے جنہوں نے ماضی میں نہ تو کہیں نہتے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور نہ ہی اِن سے متعلق اقوام ِ عالم میں اِس طرح سے آواز بلند کی جو اِن کی ذمہ داری تھی ۔ آج جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مظلوم کشمیری بھا ئی بھارتی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر بلک بلک کر سسک سسک کر زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ یہاں بالخصوص ہماری اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے احساس محرومی کے دلدل میں لت پت اور احتساب کے شکنجے میں جکڑے کرپٹ عناصر جو عمران خان کے خطاب پر اعتراضات اور تنقیدوں کے زہریلے نشتر چلارہے ہیں ۔ آج اِنہیں کم از کم اتنا ضرور ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ یو این اُو جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا جذباتی خطاب ماضی کے ہمارے حکمرانوں کی طرح کشمیریوں اور پاکستانیوں کو خوش کرنے کےلئے ہرگز نہیں تھا ۔ یقینا وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے تاریخ ساز خطاب کے آنے والے دِنوں ، ہفتوں اورمہینوں میں حقیقی معنوں میں مثبت اور تعمیری اثرات مرتب ہوں گے ۔ جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے کشمیری بھائیوں کو قابض بھارتی افواج اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں سے نجات دلانے میں معاون و مددگار ثابت ہوکر خطے میں مودی کے جنگی جنون کو خاک میں ملا کر اِس کا منہ کالا کرنے کا بھی عین سبب بن جا ئے گا ۔ بس عنقریب مقبوضہ کشمیرکے کشمیری بھائیوں کے بھی اچھے دن آنے والے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی گئی وزیراعظم عمران خان کاکامیاب امریکی دورہ

وزیر اعظم عمران خان دورہَ امریکہ اور یواین او کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس تشریف لے آئے ہیں ۔ وطن واپسی پر ان کا شاندار اوروالہانہ استقبال کیا گیا ۔ وزیراعظم کا یہ سات روزہ دورہ نہایت ہی کامیاب رہا ہے ۔ انہوں نے اس دورے کے دوران جہاں بین الاقوامی رہنماؤں ،اداروں اور تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقتیں کیں وہیں انہوں نے یواین او کے74ویں سالانہ اجلاس سے تاریخی بھی خطاب کیا جس کی گونج برسوں سنائی دیتی رہے گی ۔ وزیراعظم کا یہ خطاب یواین او کی تاریخ کا شاید طویل ترین خطاب تھا ،جس میں انہوں بین الاقوامی برادری کو امت مسلمہ کے حوالے سے پائے جانے والی مخاصمت کا مدلل جواب دیا ۔ خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے دنیا کی منافقانہ پالیسی کو خوب جھنجوڑا ۔ اپنی پچاس منٹ کی تقریر میں میں انہوں نے نصف وقت مسئلہ کشمیر پر بات کی اور بھارتی مظالم اور بھارت حکومت انسانیت کش پالیسیوں کو خوب بے نقاب کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کو مسلم دنیا میں خوب سراہا جا رہا ہے کہ پہلی بارمسئلہ کشمیر کوانہوں نے حقائق کے تناظر میں مدلل انداز میں اجاگر کیا ہے ۔ اسکے نتیجے میں کئی ممالک نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ۔ چین ملائیشیا اور ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے ۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے منشور ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور باہمی معاہدوں کی بنیاد پرپر امن طریقے سے حل کیا جائے، امید ہے خطے میں جلد امن لوٹ آئیگا ۔ قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں مہاتیر محمد نے جموں و کشمیر کو ایک علیحدہ ملک کہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اس ملک پر حملہ کرکے قبضہ کیا گیا، ہوسکتا ہے اس اقدام کی کوئی وجوہات ہوں لیکن یہ تب بھی غلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا ۔ مہاتیر محمد وہ چوتھے سربراہ تھے، جنہوں نے رواں اجلاس میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا ۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان اور چین کے وزیرخارجہ وانگ یی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ۔ طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیر یوں کو اپنے ہمسایہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ محفوظ مستقبل بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو تصادم کے بجائے مذاکرات، انصاف اور برابری کے ذریعے حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے باوجود خطہ زیر تسلط ہے اور 80 لاکھ افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ تاہم ان سب سے اہم خطاب وزیراعظم عمران خان کا تھا، جس میں انہوں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، ;200;ر ایس ایس کے نظریے، بھارتی وزیراعظم کے اقدامات کو بے نقاب کیا ۔ اس پر بھارت سیخ پا بھی ہوا ہے ۔ عمران خان کے خطاب نے یورپی اور مغربی اقوام کے ایوان تو جھنجوڑے ہی ہیں اُس پار مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی کرفیوکی پابندیاں توڑتے ہوئے دیوانہ وار باہر نکل آئے اورحمایت پر پاکستان زندہ باد عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ بین اقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جب اقوام متحدہ میں اپنی تقریر مکمل کی تو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیکڑوں افراد اپنے گھروں سے باہر ;200;ئے اور ;200;زادی اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے ۔ یہ صورت حال بھارت کو برداشت نہ ہوئی اوربھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں کشمیر میں شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں مزید سختی کردی ۔ عینی شاہدین اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق بھارتی فورسز نے عمران خان کی تقریر کے ایک روز بعد سری نگر کے متعدد علاقوں میں گاڑیوں پر اسپیکر لگا کر اعلان کیا کہ وہ شہریوں کی نقل و حرکت محدود کردی گئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کو روکنے کے لیے اضافی فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ۔ قابض فورسز نے سری نگر کے کاروباری مرکز جانے والے راستوں کو کھاردار تاروں سے بند کردیا ۔ دوسری جانب دو مختلف واقعات میں 6کشمیری شہید ہوگئے اور ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ ردعمل مودی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے کہ آخر کب تک تم پابہ زنجیر رکھوگے،ایک نہ ایک دن یہ زنجیریں ٹوٹ گریں گی ۔ اس وقت کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے جہاں جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میں اس جانب توجہ دلائی وہیں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بگڑے تو نہ میرے اور نہ ہی امریکی صدر کے قابو میں آئیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے، 56 روز سے زائد ہوگئے، 80لاکھ افراد لاک ڈاوَن کا شکار ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائے گا اور یہ انتہائی خطرناک ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو درست طور پر سمجھ نہیں آرہی کہ کشمیر میں ہو کیا رہا ہے ۔ عمران خان نے یہ بات بھی سو فیصد درست کہی کہ جب سے نریندر مودی کی حکومت آئی کشمیریوں پر جبر مزید بڑھا دیا گیا ہے، کشمیری کئی سال سے حق خوداردیت کا مطالبہ کر رہے ہیں ، جب کرفیو ہٹے گا تو وادی کے حالات کھل کر دنیا کے سامنے آجائیں گے ۔ بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان تصادم ہوگا، مجھے خطرہ ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہوگا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندووَں کی اجاداری پر یقین رکھتے ہیں اور انتہا پسند افراد بھارت کو یرغمال بنا کر وہاں حکومت کر رہے ہیں ‘‘ ۔ بلاشبہ بھارت کی سب تدبیریں ناکام ہو رہی ہیں قیدو بند کی صوبتوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہو رہے ۔ چہ جائیکہ کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے پوری وادی میں اشیا خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ لوگوں کو مریض اسپتال لے جانے میں بھی شدید مشکل پیش آرہی ہے، لیکن جب کبھی انہیں موقع ملتا ہے وہ بھارتی فورسز کے لیے درد سر بن جاتے ہیں ۔ مودی حکومت کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی سپریم کورٹ کے ذریعے محفوظ راستہ لیتے ہوئے 370کو بحال کرے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کےلئے بولنے کا حق دے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر آرٹیکل 370 ،35 اے کیس کی سماعت کیلئے بنچ تشکیل دے دیا ہے،5 رکنی یہ بنچ یکم اکتوبر کوسماعت کرےگا ۔ یواین او کی قراردادیں ان کو یہ حق دے رہی ہیں ، کشمیریوں سے ان کا یہ بین الاقوامی حق چھیننا یواین کی قرار دادوں کے سراسر خلاف ورزی ہے ۔

افغانستان میں پر امن صدارتی الیکشن،پاکستان کی مبارکباد

28ستمبر کوجنگ زدہ افغانستان میں طالبان کے حملوں کے خطرات کے باوجود صدارتی انتخاب ہوئے ۔ جس میں موجودہ صدر اشرف غنی کا انکے موجودہ چیف ایگزیکٹو اور شریک اقتدار عبداللہ عبداللہ اور سابق وار لارڈ حکمت یار سے کانٹے دار مقابلہ ہوا ۔ پولنگ کا ;200;غاز مقررہ وقت پر ہوا جو دو گھنٹے کی توسیع کے بعد شام 7 بجے تک بلاتعطل جاری رہا ۔ اگرچہ مجموعی طور پر الیکشن پرامن رہے تاہم کابل، جلال ;200;باد اور قندھار سمیت دیگر علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر بم دھماکوں کے نتیجے میں دو افرادجاں بحق اور 27 سے زائد زخمی ہوئے ۔ مجموعی طور پر5 ہزار 373 پولنگ سینٹرز بنائے گئے تھے72 ہزار سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فراءض انجام دیے ۔ صدارتی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر صدر اشرف غنی نے عوام اور سیکیورٹی فورسز سے اظہار تشکر کیا ۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لینے پر افغان عوام اور بحفاظت انتخابی عمل کے لیے افغان فورسز کے شکرگزار ہیں ، افغان عوام نے اپنی ذمہ داری ادا کردی اب الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے ۔ جبکہ انہوں نے ایک بار پھر طالبان سے امن کا مطالبہ بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے جنگ ختم کرنے کی توقع کرتے ہیں ، وہ عوام کی امن کی خواہش کا احترام کریں ۔ پاکستان نے بھی افغانستان میں صدارتی انتخابات مکمل ہونے پر کابل کو مبارکباد پیش کی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کامیاب انتخابی عمل کی تکمیل پر مبارکباد کے مستحق ہیں افغان عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام مشکلات کے باوجود جمہوری دوام چاہتے ہیں انتخابات کے کامیاب انعقاد پر افغانستان کے لیے پاکستان کے تہنیتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ نئی حکومت تعطل کا شکار امن عمل کو آگے بڑھائے گی ۔

Google Analytics Alternative