انٹر ٹینمنٹ

’کارگل سے فوج کو نہ بلایا ہوتا، تو کشمیر آزاد ہوتا‘

بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے تعزیرات ہند کے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر جہاں پاکستانی حکومت اور سیاستدانوں نے احتجاج کیا، وہیں شوبز شخصیات بھی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی دکھائی دیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کی بولی وڈ شخصیات نے بھی مذمت کی اور اس عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوام بھی سراپا احتجاج ہے جبکہ پاکستانی عوام بھی وادی کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جہاں پاکستان کے عوام کشمیریوں کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں، وہیں کئی شخصیات سوشل میڈیا پر وادی کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہیں۔

کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والی شخصیات میں اداکارہ وینا ملک بھی شامل ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف متعدد ٹوئٹس کیے۔

اداکارہ نے مسئلہ کشمیر پر متعدد ٹوئٹ کیے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
اداکارہ نے مسئلہ کشمیر پر متعدد ٹوئٹ کیے — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

وینا ملک نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال سمیت مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر بھی بات کی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم شریف کو بھی آڑے ہاتھوں لی

وینا ملک کے ٹوئٹس پر کئی افراد نے کمنٹس کیے، جن میں سے کچھ افراد نے ان سے اتفاق بھی کیا۔

وینا ملک نے کسی شخس کی نشاندہی کیے بغیر ایک ٹوئٹ کیا کہ ‘اگر 1999 میں ایک ضمیر فروش انسان نے اپنی فوج کو کارگل سے واپس نہ بلایا ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا‘۔

وینا ملک نے اس ٹوئٹ کے ساتھ ’کشمیر بلیڈس، انڈین آرمی ان کشمیر اور سیو کشمیر‘ جیسے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے۔

وینا ملک کے اس ٹوئٹ پر متعدد افراد نے مختلف قسم کے رد عمل کا اظہار کیا اور کئی افراد نے انہیں یاد دلایا کہ کارگل سے فوج کی واپسی کے حوالے سے قوم سب کچھ جانتی ہے۔

کشمیر معاملہ؛ پاکستانی فنکاروں نے انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا

کراچی: بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مزید 70 ہزار بھارتی فوجیوں کی تعنیاتی اوربھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کے اعلان کی حمایت کرنے پر پاکستانی فنکاروں نے انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

گزشتہ روز  بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر نے مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر معتصابہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا آغاز ہوچکا ہے۔ انوپم کھیر کے اس ٹوئٹ کے ردعمل میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اوراب پاکستانی فنکاروں کی جانب سے بھی انہیں کشمیریوں کی نسل کشی کی حمایت کرنے پرتنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اداکارہ ارمینا خان نے انوپم کھیر کے اس معتصبانہ ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی زبان جنگ عظیم کے دوران لاکھوں یہودیوں کے قتل عام سے قبل بھی استعمال کی گئی تھی۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر خوف محسوس ہورہا ہے کہ کیا ہم ایک اور سیاہ دور میں داخل ہونے جارہے ہیں۔ ارمینا خان نے انوپم کھیر کی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تاریخ ان لوگوں پر رحم نہیں کرے گی جو بڑے پیمانے پر نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اداکارہ ارمینا خان کے علاوہ نامور ٹی وی اداکار عثمان مختار نے بھی انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا مسٹر کھیر آپ کی نظر میں مسلمانوں کی نسل کشی مسئلہ کشمیر کا حل ہے؟

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مودی سرکار کے اس فیصلے پر جہاں پاکستانی فنکاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے وہیں بالی ووڈ کے کچھ اداکاروں نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

علی ظفر کے بھائی دانیال ظفر کی پہلی میوزک ویڈیو نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیئے

لاہور: معروف گلوکار علی ظفر کے چھوٹے بھائی گلوکار دانیال ظفر کی پہلی میوزک ویڈیو’ ایک اور ایک دو تین‘ نے ریلیز کے پہلے ہی دن دس لاکھ سے زائد ویووز کے ساتھ انٹرنیٹ پر تہلکہ مچادیا ہے۔

معروف بین الاقوامی گلوکار علی ظفر کے بھائی دانیا ظفر نے بھی بھائی کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے پہلی ہی میوزک ویڈیو ‘ ایک اور ایک دو تین’ کے ذریعے کامیابی کے کئی ریکارڈ اپنے نام کر لئے۔ 5 منٹ اور 11 سیکنڈ کی گانے کی ویڈیو کو محض تین دن میں دس لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے جس کے بعد ان کا گیت موسیقی کے شعبے میں ہمیشہ نمایاں رہنے والے گیتوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

‘ ایک اور ایک دو تین’ گیت کا ویڈیو تخلیقی صلاحیت رکھنے والے مشہور ہدایتکارعبداللہ کی زیر نگرانی بنا ہے جبکہ دانیال ظفر نے نہ صرف گانا گایا ہے بلکہ اس کی دھن بھی خود بنائی اور ویڈیو میں ہانیہ عامر کے ہمراہ نمایاں کردار بھی ادا کیا ہے۔ جب کہ انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں اس گیت کو پسند کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جہاں گیت کی موسیقی اور شاعری بہت اچھی ہے، وہیں ویڈیو بھی بہت منفرد ہے اور نئی نسل بھی اسی لئے اس گیت کو دیکھ کر اپنی رائے دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ دانیال ظفر اس گانے کے مصنف اور ہدایت کا ہے اور موسیقی کی صنعت میں ان کی آمد کسی دھماکے سے کم نہیں ۔ دانیال نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گانے کے ذریعے قوالی اور مغربی سازوں کا فیوژن بہت الگ ہے۔ دوسری جانب ایک اور ایک تین کو دنیا بھر سے ملنے والا رد عمل بھی سب کے سامنے ہے۔ میں اس پر بے حد خوش ہوں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستانی شوبز شخصیات کا احتجاج

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے خلاف جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے شدید احتجاج کیا۔

وہیں پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی بھارتی فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا گیا، جس کے بعد اب انڈین حکومت وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرے گی اور وہاں پر کئی بھارتی قوانین بھی نافذ کیے جا سکیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 بھی بھارتی حکومت نے 1956 میں نافذ کیا تھا اور اس آرٹیکل کے تحت وادی میں بھارتی ترنگے سمیت قومی علامتوں کی بے حرمتی جرم نہیں ہوتا تھا۔

تاہم اب اس خصوصی آرٹیکل کو ختم کرکے وہاں کانسٹی ٹیوشن (ایپلی کیشن ٹو جموں و کشمیر) آرڈر 2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا، جس کے تحت اب بھارتی حکومت وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر انڈین قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

اس فیصلے کے خلاف جہاں جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت سراپا احتجاج ہے، وہیں پاکستان کی سیاسی قیادت و حکومت نے بھی اس فیصلے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سیاسی قیادت کے بعد اب پاکستان کی شوبز شخصیات نے بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور اس عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستانی شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر اداکار حمزہ علی عباسی کی درخواست کے بعد ’اسٹینڈ ود کشمیر‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے بھارتی فیصلے کی شدید مذمت کی۔

حمزہ علی عباسی نے اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس کے ذریعے شوبز شخصیات کو بھارتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا پر کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

حمزہ علی عباسی کی درخواست کے بعد ماہرہ خان، شان شاہد، حریم فاروق، ماورہ حسین، مہوش حیات، ارمینا خان اور فیروز خان سمیت کئی شوبز شخصیات نے اپنے ٹوئیٹس کے ذریعے بھارتی فیصلے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

حمزہ علی عباسی کے بعد اداکار شان شاہد نے اپنے ٹوئیٹ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی گنگا میں اشنان کرنے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’گنگا میں اشنان کرنے سے کشمیری شہیدوں کے خون نہیں دھلے گا‘۔

اداکارہ ماورہ حسین نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کہاں ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کتابوں میں انسانی حقوق کے معیارات مقرر یا لکھ رکھے ہیں، وہ حقیقت میں کہاں ہیں؟ اداکارہ ماہرا خان نے بھی بھارتی حکومت کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اداکارہ مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر دنیا کو جاگنا ہوگا اور انہوں نے بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

ان کے علاوہ بھی دیگر شوبز شخصیات نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

دو قومی نظریہ ٹھکرا کر بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا، محبوبہ مفتی کا اعتراف

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی وغیر آئینی ہے، آج بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور اس فیصلے سے 1947 میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا۔

محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کا آئین سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا یک طرفہ، جانبدرانہ اور خودساختہ فیصلہ ہی نہیں بلکہ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کو ایک ’قابض فورس‘ میں تبدیل کردے گا۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی فیصلے سے برصغیر سے تباہ کن نتائج ہوں گے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگیا جب کہ بھارتی حکومت کے ارادے صاف ظاہر ہیں، وہ چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کی عوام خوف و ہراس کا شکار ہو جائیں۔

مایا علی نے فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ میں اپنے کردار سے پردہ اٹھا دیا

کراچی: اداکارہ مایا علی نے اپنی آنے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ میں اپنے کردار سے متعلق خاموشی توڑ دی ہے۔

ایک ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ میں فلم ’پرے ہٹ لو‘ میں ثانیہ نامی ایک بردبار اور مضبوط لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہوں جو کہ ایک اعلیٰ سوچ اور اپنا فیصلہ خود کرنے والی لڑکی ہوتی ہے، وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کیا اچھا ہے کیا بُرا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ثانیہ اپنے خاندان کی اہمیت بھی سمجھتی ہے۔

مایا علی نے یہ بھی کہا کہ ہر کردار کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور میں ذاتی طور پر یہ محسوس بھی کرتی ہوں کہ فلم ’پرے ہٹ لو‘ میں ثانیہ کا جو کردار میں ادا کر رہی ہوں وہ بہت مضبوط کردار ہے اور اس کردار کا میری ذات سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

مایا علی نے کہا کہ فلم میں شہریار کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا، شوٹنگ کے دوران ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ خود سے ہو رہا ہو، ہم دونوں کے درمیان کیمسٹری قابل تعریف ہے۔

واضح رہے کہ عاصم رضا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ میں مایا علی، شہریار منور، ندیم بیگ، زارہ نور ، حنا دلپزیر اور احمد بٹ اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ فلم رواں ماہ عید الاضحی کے موقع پر سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

بولی وڈ شخصیات کا بھی مقبوضہ کشمیری افراد سے اظہار یکجہتی

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضۃ جموں و کشمیر کی آزاد خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر جہاں پاکستانی شوبز شخصیات نے احتجاج کیا۔

وہیں بولی وڈ و بھارت کی دیگر اہم شوبز و فیشن شخصیات بھی اس فیصلے کے خلاف دکھائی دیں۔

مقبوضہ کشمیر کو آزاد خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے ختم کیے جانے پر مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت سمیت بھارت کے کئی سیاستدانوں نے بھی اس عمل کی مذمت کی ہے۔

سیاسی شخصیات کی طرح فلمی و فیشن شخصیات نے بھی نریندر مودی کی حکومت کے اس عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اس بات کے خدشات ظاہر کیے کہ اس عمل سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے پر جہاں پاکستانی شوبز شخصیات نے احتجاج کرتی دکھائی دیں، وہیں بھارتی فلم انڈسٹری کی شخصیات بھی احتجاج ریکارڈ کرتی دکھائی دیں۔

چند ہفتے قبل ہی بولی وڈ کو خیرباد کہنے کا اعلان کرنے والی مقبوضہ جموں و کشمیر کی اداکارہ زائرہ وسیم نے بھی آرٹیکل 370 کے ختم کیے جانے پر وادی کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

زائرہ وسیم نے اپنے مختصر ٹوئیٹ میں کہا کہ ’یہ بھی گزر جائے گا‘۔

زائرہ وسیم کی طرح بولی وڈ اداکارہ دیا مرزا نے بھی مقبوضہ کشمیر کےلوگوں سے اظہار یکجتی کیا اور انہوں نے ’اسٹینڈ ود کشمیر‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

آل انڈیا ترینیمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی رکن و اداکارہ نغمہ نے بھی مقبوضہ کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور انہوں نے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کو آڑے ہاتھوں بھی لیا۔

نغمہ نے بھارتی حکومت سے سوال کیا کہ کیوں وادی کشمیر میں انٹرنیٹ کو بند کرکے کرفیو نافذ کیا گیا ہے اور کیوں لوگوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟۔

دیا مرزا نے مزید لکھا کہ ’میرے خیالات اور سوچیں کشمیر کے ساتھ ہیں‘۔

اداکار و فلم پروڈیوسر سنجے سوری نے بھی وادی کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر عنیر نے بھی وادی کے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے پوری وادی میں غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مزید تشدد اور کشیدگی کا ایک نیا دور دیکھنے کے خواہاں نہیں ہیں۔

انہوں نے بھی ’اسٹینڈ ود کشمیر‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے وادی کے امن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وینا ملک کشمیریوں کی آواز بن کر میدان میں آگئیں

کراچی: معروف اداکارہ وینا ملک بھارت کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بن کر میدان میں آگئیں۔

وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی ٹوئٹ شیئر کی اور ساتھ ہی اداکارہ نے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو ایک ساتھ ملکر چلنا ہوگا۔

اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ  تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد  جو انسانیت  پر یقین رکھتے ہیں انہیں ساتھ ملنا ہوگا۔ ہم مل کر جانیں بچاسکتے ہیں۔ ہر آواز کی اہمیت ہے خواہ آپ کوئی بھی ہو اور کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں

وینا ملک نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ بھارتی فوج ظلم و جبر سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتی کیوں کہ آزادی کشمیری عوام  کا بنیادی حق ہے۔ فورسز کا استعمال کرکے کوئی بھی کشمیریوں کو بنیادی حقوق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ سید علی گیلانی نے حال ہی میں ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی تاریخ کا بڑا قتل عام کرنے والا ہے، دنیا بھر کے مسلمان ہمیں بچانے کے لیے آگے آئیں، ہم سب مرگئے اور آپ خاموش رہے تو اللہ کو جواب دینا ہوگا۔

Google Analytics Alternative