- الإعلانات -

شرمین عبید پر کہانی چوری کرنے کا الزام

لولی وڈ کے معروف ہدایتکار سید نور نے پاکستان کی آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے پر اپنی ایک فلم سے کلپ اور کہانی چوری کرنے کا الزام عائد کردیا۔

گزشتہ روز شرمین عبید چنائے کو ’بیسٹ شارٹ ڈاکیو مینٹری‘ کی کیٹیگری میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے تیار کردہ ڈاکیو مینٹری ’اے گرل ان دی ریور: دی پرائس آف فورگیونس‘ پر آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سید نور نے شرمین پر اپنی 2 سال پرانی فلم ‘پرائس آف آنر’ سے کلپ چوری کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں سید نور نے کہا کہ شرمین عبید چنائے نے ان کی فلم کا موضوع اور نام بھی چوری کیا۔

سید نور نے کہا کہ شرمین عبید چنائے نے ان کی فلم پرائس آف آنر کی نقل کی ہے، انہوں نے نہ صرف اس فلم کا موضوع بلکہ اس کا نام بھی چوری کیا۔

اس موقع پر اداکار معمر رانا نے کہا کہ شرمین عبید چنائے نے اپنی ڈاکو مینٹری کے ذریعے دنیا کو پاکستان کا منفی چہرہ دکھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شرمین عبید چنائے کو پاک افغان سرحد پر ڈرون حملوں اور اس کے اثرات پر فلم بنائیں۔

جب سید نور سے پوچھا گیا کہ کیا وہ شرمین عبید چنائے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ابھی تو ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تاہم انہیں اس چوری پر بہت دکھ ہوا ہے۔

دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں چیئرمین میاں رضا ربانی نے شرمین عبید چنائے کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پیش کرنے سے روک دیا۔

ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی شرمین عبید چنائے کو خراج تحسین کی قرارداد پیش کرنا چاہی تو چیئرمین سینیٹ نے قرارداد پیش کرنے سے روک دیا۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اگر کسی کو آسکر ایوارڈ دیا گیا تو یہ قرارداد پیش کرنے کا معیار نہیں، پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئے خواتین رہنماوں نے سڑکوں پر مارچ کیا اور ڈنڈے کھائے۔

چیئرمین سینیٹ نے ہدیت کی کہ قرارداد میں پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئے جدودجہد کرنےوالی خواتین کا بھی ذکر کیا جائے اور ترمیم شدہ قرارداد بدھ کو دوبارہ پیش کی جائے۔