- الإعلانات -

’درُج پر پابندی‘: صنم سعید نے پاکستانی سنیما کے دوہرے معیار پر سوال اٹھادیا

پاکستانی اداکارہ صنم سعید نے فلم ’دُرج‘ پر عائد پابندی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ جب ہالی وڈ کی تمام فلمیں ملک کے سنیما میں چل سکتی ہیں تو ’دُرج‘ کیوں نہیں؟

یاد رہے کہ اداکار و پروڈیوسر شمعون عباسی کی فلم ’دُرج‘ میں تمام سینسر بورڈ کی جانب سے نازیبا اور خوفزدہ مواد ہونے کے باعث پابندی عائد کی گئی ہے۔

’دُرج‘ کی ریلیز کے لیے ٹیم کی جانب سے درخواست بھی کی گئی لیکن فلم کو ملک کے سنیما گھروں کی زینت بننے کی تاحال اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ایسے میں اداکارہ صنم سعید نے فلم پر عائد پابندی پر سوال اٹھاتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں پوچھا کہ کیوں دُرج جیسی فلموں پر پابندی عائد ہوتی ہے؟

اداکارہ لکھتی ہیں کہ اگر ہالی وڈ فلمیں جنسی اشاروں، تشدد اور تاریک عنوانات کے ساتھ ہمارے سنیما میں چل سکتی ہیں تو پھر ہماری آؤٹ آف دی باکس فلمیں جیسے ’دُرج‘ کیوں نہیں چل سکتیں؟

Sanam Saeed

@sanammodysaeed

Why are films like #Durj
Banned. If Hollywood films with all their sexual innuendos and violence and dark topics can play in our cinemas then why can’t our independent out of the box films like Durj be played??@shamoonAbbashttps://www.facebook.com/145113979161887/posts/1021539141519362/?sfnsn=mo&d=n&vh=e 

109 people are talking about this

شمعون عباسی کی تجسس سے بھرپور فلم ’دُرج‘ کو 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں ریلیز کیا جاچکا ہے جب کہ 18 اکتوبر کو پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا جو پابندی کے باعث ریلیز نہ ہوسکی۔

آدم خور انسانوں کی کہانی پر مبنی فلم کو شمعون عباسی اور پروڈکشن ٹیم نے حقیقی رنگ دینے کے لیے کئی ماہ ریسرچ کی اور انہوں نے کافی وقت دنیا سے الگ تھلگ غاروں میں رہنے والے انسانوں کے ساتھ گزارا تاکہ اِن کے طرز زندگی کو صحیح روپ میں دکھا سکیں۔