- الإعلانات -

سزائیں ملنے سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی” شرمین عبید”

کراچی: دو مرتبہ آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی فلمساز شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون اتنا مضبوط نہیں اور اس میں بے شمار خامیاں موجود ہیں۔

کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرمین عبید کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ اس قسم کے جرم میں معافی دینے کی اجازت ہے تاہم معافی دینا اس کا حل نہیں، اس کی سزا دینا ضروری ہے تاکہ آئندہ یہ جرم دوبارہ معاشرے میں نہ دیکھا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں ملنے سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی۔

حال ہی میں ساہیوال میں دو بہنوں کے غیرت کے نام پر قتل پر شرمین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کئی واقعات روزانہ ہمارے سامنے آتے ہیں، لیکن سیکڑوں ایسے کیسز بھی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ شرمین عبید چنائے کو اپنی ڈاکیومنٹری فلم ’اے گرل ان دی ریور: دی پرایس آف فارگونس‘ کے لیے اس سال آسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔

’اے گرل اِن دی ریور‘ شرمین عبید چنائے فلمز اور ہوم باکس آفس (ایچ بی او) کی مشترکہ پروڈکشن تھی جس میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کی زندگی کا احوال بیان کیا گیا تھا جو غیرت کے نام پر قتل کی کوشش میں بچ جاتی ہے۔

اپنی فلم کی مرکزی کردار صبا کی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے شرمین کا کہنا تھا یہ کسی ایک لڑکی کی نہیں یہ ہم سب کی کہانی ہے۔

انہوں نے کہا یہ کہانی ہم سب کی لڑائی ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ معاشرے میں ایسی کئی صبا مستقبل میں ہمارے سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے نے اس سے قبل 2012 میں بھی اپنی ڈاکیو مینٹری ’سیونگ فیس‘ پر پاکستان کے لیے پہلا آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔