- الإعلانات -

‘میں ماہرہ کو جانتا تک نہیں، میری نظر میں وہ صرف ایک ماڈل ہیں’

پاکستان کے نامور اداکار فردوس جمال نے گزشتہ سال ایک انٹرویو کے دوران ماہرہ خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس عمر میں ماؤں کا کردار نبھاسکتی ہیں ہیروئن کا نہیں۔

اس انٹرویو کے بعد اداکار کو مداحوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ہم ٹی وی نے فردوس جمال کے ساتھ کسی بھی قسم کا پروفیشنل تعلق نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

اور اب فردوس جمال نے ایک انٹرویو کے ذریعے خود پر ہوئی تنقید اور ماہرہ خان اور عمران اشرف پر دیے بیانات کی وضاحت کردی۔

سنیئر اداکار کا کہنا تھا کہ ‘ماہرہ کے حوالے سے دیا گیا میرا کمنٹ تکنیکی تھا جس پر لوگوں نے کافی تنقید کی، میں کبھی ماہرہ خان سے ملا تک نہیں، نہ میں اسے جانتا ہوں، مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ وہ کراچی میں رہتی ہے، باقی ہم نے کبھی ساتھ کام تک نہیں کیا، کسی نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے کہہ دیا کہ ہاں وہ ایک اسٹار ہیں لیکن وہ اداکارہ نہیں ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ماہرہ خان کا بیک گراؤنڈ ماڈلنگ کا ہے، جب ماڈلز ماڈلنگ کرتے ہیں تو آپ کو خود کو ہر طرح سے خوبصورت دکھانا ہوتا ہے کیوں کہ آپ ایک سیلز مین ہی ہوتے جو چیز کو فروخت کرنے کی کوشش کررہے ہوتے اور آپ ایک پروڈکٹ کی نمائندگی کرتے ہیں کوئی کردار نہیں نبھاتے’۔

اداکار کے مطابق ‘اس لیے ہی میں نے کہا تھا کہ اس اداکارہ میں وہ طریقہ کار نظر آتا جو ماڈلز کا ہوتا ہے’۔

فردوس جمال کا ماننا ہے کہ ماڈلز اپنے لیے کچھ زیادہ ہی فکر مند رہتے ہیں اس لیے میں نے نوٹ کیا ہے کہ بہت کم ماڈلز اچھے اداکار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ فردوس جمال نے ایک انٹرویو میں عمران اشرف کے ڈرامے ‘رانجھا رانجھا کردی’ میں ان کی اداکاری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم اب اداکار نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ عمران اشرف نے بھولا کے کردار کو نبھانے کی اچھی کوشش کی تھی۔

خیال رہے کہ اداکار کے ان بیانات کے بعد ان کے بیٹے حمزہ فردوس نے پاکستان چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں مزید کام نہیں کریں گے۔

اپنے بیٹے کے پاکستانی شوبز چھوڑ کر آئرلینڈ جانے کے فیصلے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ‘میں بس یہ جانتا ہوں کہ میرے بیٹے نے اداکاری سیکھی تھی لیکن ہماری انڈسٹری میں آج کل اچھے اداکاروں کی ضرورت نہیں لوگوں کو صرف ماڈلز کی ضرورت ہے، کیوں کہ آج کل یہاں ماڈلنگ ہی ہورہی ہے’۔

فردوس جمال کے مطابق ‘ہماری انڈسٹری میں کچھ لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں، ان کو کام آجاتا ہے اس کے باوجود اپنے سینیئرز یا خود سے بہتر لوگوں سے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر ان کے بچوں سے بدلہ لیتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ جن کو مجھ سے بدلہ لینا تھا وہ لے نہیں سکے تو انہوں نے میرے بچوں سے بدلہ لیا’۔

یہ بھی پڑھیں: عمران اشرف نے ’بھولا‘ کا کردار اتنے اچھے انداز میں نہیں کیا

ہم ٹی وی کی جانب سے لگائی پابندی پر اداکار کا کہنا تھا کہ ‘میں سب سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر میں نے ہم ٹی وی پر کام ہی کتنا کیا ہے؟ اور ہم ٹی وی کیا خدا ہے؟ وہ اداکار نہیں بناسکتا وہ صرف اسٹار بناتا ہے، فردوس جمال کو کسی ٹی وی نے نہیں اللہ نے بنایا ہے، ہم ٹی وی بننے سے قبل مجھے بہت بڑے اعزازات مل چکے ہیں’۔

ایک موقع پر شوبز انڈسٹری کی اداکاراؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فردوس جمال کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ہاں خواتین اداکاراؤں کا یہ مسئلہ ہے کہ ان کو بس اسکرین پر اچھا نظر آنا ہوتا ہے، میرے اندر یہ عادت نہیں، میں کسی بھی حال میں اسکرین پر آسکتا ہوں’۔

خیال رہے کہ فردوس جمال اپنے کیریئر میں ‘پیارے افضل’، ‘خدا اور محبت’، ‘رومیو ویڈز ہیر’ اور ‘گل و گلزار’ جیسے ڈراموں میں کام کرچکے ہیں۔