- الإعلانات -

پاکستان کی نئی ایکشن فلم

اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستانی سینما کی مقبولیت کا دور واپس پلٹا اور ایکشن اور کامیڈی فلمیں بننے کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ کل بروز جمعہ، ریلیز ہونے والی فلم مالک بھی ایک ایکشن فلم ہے۔ یہ ٹیلی وژن کے معروف اداکار عاشر عظیم کی پہلی فلم ہے۔ انہوں نے 22 برس پہلے پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز سے ڈراما سیریل دھواں سے اداکاری کی حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس کا شمار پی ٹی وی کی ایکشن ڈراما سیریل میں ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کا موضوع کرپشن اور منشیات کی روک تھام تھا، جبکہ اس فلم کا موضوع کرپشن اور ناانصافی ہے۔ عاشر عظیم نے اس فلم کو بناتے ہوئے ڈراما سیریل دھواں کی مقبولیت کو ذہن میں رکھا، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مالک اُس ڈرامے کا فلمی ورژن ہے۔

اس فلم میں عاشر عظیم نے چار ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ اس میں بطور فلم ساز، ہدایت کار، اداکار اور کہانی نویس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر نمایاں اداکاروں میں فرحان علی آغا، ساجد حسن، محمد احتشام الدین، حسن نیازی، عدنان شاہ ٹیپو، راشد فاروقی، تتمیع القلب، نوشیر سیموئل، شکیل حسین، کاشف حسین، عمران میر، بشریٰ عاشر عظیم، لبنیٰ اسلم، پاکیزہ خان، مریم انصاری، ارم اعظم اور دیگر فنکار ہیں۔ فلم میں افواجِ پاکستان کے حقیقی جوانوں نے بھی کام کیا ہے۔

فلم کے موسیقار ساحر علی بگا، گلوکار راحت فتح علی خان اور گیت نگار عمران رضا ہیں، جنہوں نے اپنے حصے کا کام بخوبی نبھایا۔ گیتوں کی دھنیں مدھر اور شاعری دلکش ہے۔ ایک دھن کی شاعری میں بابا فرید کا صوفی کلام بھی شامل کیا گیا۔

فلم کی تشکیل میں افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کا خصوصی تعاون حاصل رہا، جس وجہ سے عسکری مناظر میں جدید ہتھیار، گن شپ ہیلی کاپٹرز، سی ون تھرٹی جہاز، ٹینک اور فوجی جوان بالکل پیشہ ورانہ انداز میں استعمال ہوتے دکھائی دیے۔

فلم کی عکس بندی کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہوئی۔ اس کے فارمیٹ میں ریڈ اور بلیک میجک کیمرے استعمال ہوئے۔ جدید سینما ٹیکنالوجی اور اس فارمیٹ کے ذریعے فلمی مناظر حقیقت سے قریب تر محسوس ہوتے ہیں۔ فلم کی عکس بندی میں ڈرون کیمروں کا بھی استعمال ہوا۔ ہدایت کار کے بقول اس فلم کا تمام تخلیقی اور تکنیکی کام پاکستان میں ہوا اور کسی بیرونی ذرائع سے کوئی مدد نہیں لی گئی۔

فلم کی کہانی کا ابتدائیہ بہت شاندار ہے۔ مختلف سمتوں سے تین کہانیاں ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ پہلی کہانی میں سابق فوجی باپ بیٹا ہیں جن کی ایک سیکورٹی کمپنی ہے۔ ایک تاجر کے بیٹے کا اغواء اور پھر پیشہ ورانہ سیکورٹی کمپنی کے اہلکاروں کے ذریعے اس کی رہائی دکھائی گئی۔ بیٹے کا کردار نبھانے والے عاشر عظیم اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں، جب وہ فوج میں تھے، اس وقت کچھ چینی انجینئرز کو بلوچستان میں اغواء کر لیا گیا تھا اور وہ اسپیشل فورسز کی طرف سے کیے جانے والے آپریشن کی کمان سنبھالتے اور کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔