- الإعلانات -

آج بھی اسکرپٹ پر اپنے نام کے ساتھ معین کا نام لکھ دیتا ہوں، انور مقصود

پاکستان کے نامور مصنف اور میزبان انور مقصود نے مداحوں کی جانب سے پوچھے گئے 10 سوالات کے جوابات دے دیے۔

انور مقصود کے بیٹے گلوکار بلال مقصود نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے مداحوں کی جانب سے انور مقصود سے پوچھے گئے سوالات کیے۔

ویڈیو میں بلال مقصود نے بتایا کہ ان سے سب سے زیادہ یہ سوال پوچھا گیا کہ انور مقصود نوجوان نسل کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟

اس پر انور مقصود کا کہنا تھا کہ ’میں بس یہی کہوں گا کہ پیسے کا ہونا اور پیسے کمانا اچھی بات ہے لیکن اس کے پیچھے کبھی نہیں بھاگنا چاہیے، (آپ کے پاس) جو کچھ ہے اسے ایسا سوچ کر جئیں کہ بہت ہے، کیوں کہ خواہشات تو زندگی بھر بڑھتی ہی جاتی ہیں‘۔

اس دوران بلال مقصود نے ان سے سوال کیا کہ پاکستانی قوم کب جاگے گی؟ تو اس پر انہوں نے مزاحیہ و تنقیدی انداز میں کہا کہ ’جس دن یہ مارننگ شوز بند ہوگئے اس دن قوم سو کر اٹھ جائے گی اور جاگ جائے گی‘۔

بلال مقصود نے ان سے پوچھا کہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور کونسا تھا، جس پر انور مقصود نے بتایا کہ سب سے مشکل دور وہ تھا جب انہوں نے بیکنگ کی لیکن اس مشکل دور نے ہی انہیں دو راستے دکھائے جس پر چل کر وہ آج یہاں پہنچے۔

اپنے والد سے بلال مقصود نے پاکستانی لوگوں کے ترک ڈراموں کو پسند کرنے جنون کے حوالے سے بھی پوچھا۔

جس پر انور مقصود کا کہنا تھا کہ ’وہ ترکی ہیں ہم ٹھرکی ہیں، اسی لیے پیچھے پڑے ہیں‘۔

تاہم اس ویڈیو میں ایک لمحہ یہ بھی آیا کہ جب بلال مقصود نے انور مقصود سے معین اختر کے حوالے سے سوال کیا۔

بلال مقصود نے اپنے والد سے کہا کہ بہت سارے لوگوں نے ان سے معین اختر کے حوالے سے سوال کیا، ’کیا آپ کو ان کی یاد آتی ہے؟‘

اس پر انور مقصود نے ایک شعر سناتے ہوئے کہا کہ معین اختر کی یاد نے انہیں آج تک نہیں چھوڑا، وہ 32 برسوں تک معین اختر کے لیے لکھتے رہے۔

انور مقصود کے مطابق ’جو بڑے لوگ ہوتے ہیں وہ نظروں سے تو دور چلے جاتے ہیں لیکن ہوتے یہیں ہیں، معین اختر ہر گھر میں ہر کسی کے دل میں ہیں‘۔

یاد رہے کہ انور مقصود اور معین اختر نے یادگار شو ’لوز ٹاک‘ میں برسوں تک ایک ساتھ کام کیا۔

اس حوالے سے انور مقصود کا کہنا تھا کہ ’اکثر میں لوز ٹاک جیسا کوئی پروگرام لکھتا ہوں تو اپنا نام لکھنے کے بعد اگلی لائن میں معین کا نام ہی لکھ دیتا ہوں (لیکن) پھر مجھے اسے کاٹنا پڑتا ہے اور کسی اور کا نام لکھنا پڑتا ہے‘۔

خیال رہے کہ 9 برس قبل 22 اپریل 2011 کو نمکین، کرارے اور برجستہ جملے بولنے والے مقبول فنکار معین اختر حرکت قلب بند ہونے کے باعث اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔