- الإعلانات -

جب تک لوگ کورونا کو سنجیدہ نہیں لیں گے، پاکستان نہیں آؤں گی، بشریٰ انصاری

معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود قوم کی جانب سے احتیاط نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ تب تک ملک واپس نہیں آئیں گی جب تک قوم وبا کو سنجیدہ نہیں لیں گی۔

بشریٰ انصاری کچھ عرصہ قبل ہی بیرون ملک چلی گئی تھیں اور پھر لاک ڈاؤن نافذ ہونے اور فضائی سروس بند ہونے کی وجہ سے وہ وہیں رہ گئی تھیں مگر اب ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ کورونا سے متعلق پاکستانیوں کی غیر سنجیدگی پر بات کرتی دکھائی دیں۔

بشریٰ انصاری نے مختصر ویڈیو میں کورونا وائرس کو سنجیدہ نہ لینے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانیوں نے وبا کو مذاق اور وہم سمجھ رکھا ہے۔

معروف اداکارہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے پیش نظر احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ہی ملک میں اتنا بڑا مسئلہ ہوا اور وہ قوم کے رویے پر افسردہ ہیں اور وہ تب تک وطن واپس نہیں آئیں گی جب تک قوم کورونا کے مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیتی۔
ویڈیو میں اداکارہ نے اپنے روایتی انداز میں کہا کہ وہ اس وقت وطن سے دور ہیں لیکن انہیں ہر وقت ملک کی یاد آتی ہے، دیار غیر میں کچھ بھی اچھا نہیں لیکن وہ مجبوری کی حالت میں وہاں موجود ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہیں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان مت جاؤ، وہاں کوئی بھی وبا کو سنجیدہ نہیں لے رہا اور وہ بھی تب تک وطن واپس نہیں آئیں گی جب تک قوم کورونا کو سنجیدہ نہیں لیتی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں مارچ کے وسط سے لاک ڈاؤن کو نرم کردیا گیا تھا، جس کے بعد اب ملک بھر میں جزوی طور پر معمولات زندگی بحال ہو چکی ہیں، جب کہ 2 جون کو سندھ کی حکومت نے شہروں کے اندر ٹرانسپورٹ چلانے کی بھی اجازت دی تھی۔

لاک ڈاؤن کو نرم کیے جانے کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور 2 جون کو ریکارڈ 4 ہزار تک نئے کیسز سامنے آئے تھے اور 40 سے زائد اموات ہوئی تھیں۔
ملک میں تین جون کی صبح تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 78 ہزار 824 تک جا پہنچی تھی جب کہ اموات کی تعداد 1658 تک جا پہنچی تھی۔

کورونا کے سب سے زیادہ کیس 31 ہزار 83 کیس صوبہ سندھ میں تھے جب کہ پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 27 ہزار 850 تک جا پہنچی تھی۔