- الإعلانات -

گوہر رشید اور فریال محمود کی کورونا کے پس منظر پر بننے والی فلم ‘لاک ڈاؤن’

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ 4 ماہ سے دنیا بھر کے سینما ہاؤسز بند ہیں اور فلموں کی ریلیز بھی روک دی گئی ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور لوگ کئی ہفتوں تک گھروں میں ہی قید رہے اور اب تک دنیا بھر میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

تاہم اسی کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن نے بہت ساری فلم سازوں، لکھاریوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز کو سوچ کے نئے زاویے بھی دیے اور اب ہولی وڈ سے لے کر بولی وڈ تک کورونا کے معاملے پر فلمیں بنانے کی تیاریاں ہیں۔

دیگر فلم انڈسٹریز کی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری بھی کورونا کی وبا کے پس منظر کی کہانی پر مشتمل فلم بنانے میں مصروف ہے۔

جی ہاں، معروف اداکار گوہر رشید اور فریال محمود سمیت دیگر اداکار اس وقت کورونا کی وبا کے پس منظر میں بنائی جانے والی فلم ‘لاک ڈاؤن’ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

فلم کے حوالے سے گوہر رشید نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ فلم کی کہانی رومانوی جوڑے کے گرد گھومتی ہے، جن کی زندگی کورونا کی وبا اور اس کے باعث لگنے والے ‘لاک ڈاؤن’ کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ فلم کا نام ‘لاک ڈاؤن’ ہے اور اس میں عام افراد کو کورونا سے متاثر ہونے سمیت لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے جوڑے کی کہانی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے گا۔

فلم کے حوالے سے فریال محمود سے ڈان کو بتایا کہ وہ فلم کے حوالے سے زیادہ باتیں نہیں بتا سکتیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلم میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جوڑے کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی فلم میں اُمیدوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مذکورہ فلم ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ نیٹ فلیکس یا ایمازون پر ریلیز کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ فلم کو ریلیز کرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم فلم کی شوٹنگ شروع کردی گئی ہے اور کورونا کی وجہ سے فلم کی ٹیم سماجی فاصلوں کی تدابیر پر مکمل عمل کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ فلم کی کہانی عابدہ احمد اور ابو علیحہ نے لکھی ہے جب کہ ابو علیحہ ہی فلم کی ہدایات دے رہے ہیں۔

فلم کو مونٹ بلینک پروڈیوس کر رہے ہیں۔

فریال محمود نے ڈائریکٹر ابو علیحہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے فلم کی کہانی لکھی ہے وہ قابل رشک ہے اور انہیں ان کے ساتھ کام کرنے میں مزہ آ رہا ہے۔