- الإعلانات -

شان ‘ارطغرل غازی’ کے معترف، پی ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف

معروف اداکار و فلم ساز شان شاہدط نے 14 جون کو اپنی ٹوئٹ میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ‘ دیریلیش ارطغرل’ کی تعریف کرتے ہوئے اسے ماسٹر کلاسک پیس قرار دیا تھا۔

شان شاہد کی جانب سے ترک ڈرامے کو کلاسک قرار دینے پر کئی لوگ حیران رہ گئے تھے، کیوں کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کی تھی۔

تاہم 14 جون کو شان شاہد نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں ‘ارطغرل غازی’ کو نیٹ فلیکس پر دیکھ کر مکمل کیا، ڈرامے واقعی ماسٹر پیس ہے۔

انہوں نے ڈرامے کے پروڈیوسر و ہدایت کار سمیت اداکاروں کی بھی تعریف کی تھی۔

شان شاہد کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کیے جانے پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ پہلے انہوں نے دیکھے بغیر ہی ڈرامے کی مخالفت کی اور اب تعریفیں کر رہے ہیں۔

تاہم شان شاہد نے خود پر ہونے والی تنقید کے بعد وضاحتی ٹوئٹ کیا اور بتایا کہ وہ اب بھی ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔
شان شاہد نے تنقید کے بعد اپنی لمبی چوڑی ٹوئٹ میں کہا کہ ان کی جانب سے ڈرامے کی تعریف کو غلط سمجھا گیا اور انہوں نے جو پہلے ڈرامے کے خلاف ٹوئٹ کی تھیں وہ ڈرامے کے خلاف نہیں بلکہ اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت میں تھیں۔

اداکار نے لکھا گہ سرکاری ٹی وی نے گزشتہ 25 سال سے عوام سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا مگر کوئی بھی شاہکار ڈراما نہیں بنا سکی۔

انہوں نے وضاحتی بیان میں ایک بار پھر کہا کہ وہ نہ تو ڈرامے کے پہلے مخالف تھے اور نہ اب ہیں مگر اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے ضرور مخالف ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے تنقید کرنے والوں کے حوالے سے لکھا کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہم سب نفرت، تنقید اور دوسروں پر ملامت کرنے کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ شان شاہد نے ‘ارطغرل غازی’ کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کے چند دن بعد پی 28 اپریل کو ٹوئٹ کرکے اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ جب انہوں نے کئی بیرونی چیزوں کی امپورٹ پر پابندی لگائی ہے تو ڈرامے کو کیوں امپورٹ کر رہے ہیں؟

شان شاہد نے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ انہیں علم ہے کہ جب حالیہ معاشی بحران میں ہم بیرون ممالک کی چیزیں امپورٹ نہیں کر پا رہے تو پھر ہمارا ریاستی ٹی وی پی ٹی وی کیوں بیرون ممالک کے ڈرامے دکھا رہا ہے؟

شان شاہد کی ایسی ٹوئٹس بعد بھی ان پر تنقید کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحتی ٹوئٹس کی تھیں کہ وہ ترک ڈرامے کے مخالف نہیں بلکہ اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے مخالف ہیں۔
ڈان سے بات کے دوران بھی شان شاہد نے کہا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان میں ترک ڈرامے چلتے رہے ہیں اور انہیں سراہا بھی گیا مگر انہیں سرکاری ٹی وی پر نہیں چلایا گیا تھا، جس وجہ سے ان کی مخالفت نہیں کی تھی۔

شان شاہد کی جانب سے ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر چلانے کی مخالفت کے بعد اداکارہ ریما نے بھی اسے پی ٹی وی پر چلانے کی مخالفت کی تھی۔

اسکرین شاٹ
علاوہ ازیں یاسر حسین سمیت منشا پاشا جیسی اداکاراؤں نے بھی اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کی تھی۔

ان تمام شخصیات کا کہنا تھاکہ وہ ترک ڈراموں کے مخالف نہیں بلکہ انہیں پی ٹی وی پر چلانے کے مخالف ہیں۔

مذکورہ ڈرامے کو اپریل کے آخر سے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے اور اس نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور یہ یوٹیوب پر دیکھا جانے والا سب سے مقبول ڈراما بن گیا۔

ارطغرل ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

ڈرامے کو اپریل کے آخر سے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ