- الإعلانات -

معروف ٹی وی میزبان طارق عزیز انتقال کرگئے

‘دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام’ جیسے ڈائیلاگ سے شہرت پانے والے پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان، اداکار اور سیاستدان طارق عزیز 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق طارق عزیز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے ہوا۔

وہ 1936 میں بھارت کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے، ان کے والد میاں عبدالعزیز 1947 میں پاکستان ہجرت کرکے آئے تھے، طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی تھی۔

جس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان، لاہور سے اپنے پیشہ وارانہ کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔

وہ ایک شاعر اور اداکار بھی تھے، انہوں نے کئی ریڈیو اور ٹی وی پروگرامز کیے اور فلموں میں بھی اداکاری کی۔

طارق عزیز نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ چونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے اس لیے وہ اپنے تمام اثاثے و املاک پاکستان کے نام کرتے ہیں۔

طارق عزیز کے انتقال سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر ان سے منسوب اکاؤنٹس سے ٹوئٹس کی گئی تھیں بعد ازاں انہی اکاؤنٹس پر ان کی موت کی تصدیق کی گئی تاہم کچھ ہی دیر بعد ان اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کردیا گیا تھا.

کیریئر
طارق عزیز کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے پہلے اناؤنسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہوں نے نومبر 1964 میں لاہور سے پی ٹی وی کی نشریات کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے 1974 میں پی ٹی وی پر نیلام گھر کے نام سے کوئز پروگرام کی میزبانی بھی کی جو 4 دہائیوں تک جاری رہا، اس پروگرام کو بعد ازاں طارق عزیز شو اور پھر بزم طارق عزیز کا نام دیا گیا تھا۔

انہوں نے نیلام گھر پروگرام میں ‘دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام’ جیسے ڈائیلاگز سے عالمی شہرت پائی۔

طارق عزیز نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پاکستانی فلموں میں سائیڈ رولز بھی کیے، 1969 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم سالگرہ نے بہت کامیابی حاصل کی تھی اور اسی برس 2 نگار ایوارڈز بھی حاصل کیے تھے۔

ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت، جو 1967میں ریلیز ہوئی تھی، اس میں انہوں نے اداکار وحید مراد اور اداکارہ زیبا بختیار کے ساتھ کام کیا تھا ، ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔

طارق عزیز کو ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992 میں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا تھا۔

وہ 1996میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر لاہور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 1997 سے 1999 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

گیم شو میں شرکت
طارق عزیز نے 2016 میں گیم شو ‘انعام گھر’ میں پہلی مرتبہ بطور مہمان شرکت کی تھی، انہوں نے گیم شوز کے شرکا کی کسی مدد کے بغیر تمام سوالات کے جواب دیے تھے۔

بعدازاں انہوں نے گیم شو میں جیتے گئے تمام انعامات ایک فلاحی تنظیم کو عطیہ کردیے تھے۔

اظہار تعزیت
صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ طارق عزیز کے انتقال سے ایک باب بند ہوگیا، مجھے ان کے نیلام گھر کا آغاز یاد رہے گا، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام۔

وزیراعظم عمران خان نے طارق عزیز کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا وہ اپنے وقت کی ایک نامور شخصیت تھے اور ہمارے ٹی وی شوز کے بانی تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے گئے گئے ایک ٹوئٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھی طارق عزیز کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘ان کی پاکستان کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اللہ مرحوم کی روح کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے، آمین’۔

علاوہ ازیں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزرا نے طارق عزیز کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ علم وادب سے محبت رکھنے والے ممتاز فنکار اور پروگرام نیلام گھر کے نامور میزبان طارق عزیز نے ریڈیو اور ٹی وی کے ہر میڈیم پر اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ان کے ایمان کا حصہ تھا اور وہ وطن کی پہچان اور پرجوش آواز تھے، اللہ تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فرار نے معروف میزبان، براڈ کاسٹر اور اینکر طارق عزیز کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ طارق عزیز نے دہائیوں تک پی ٹی وی کے ذریعے پاکستان کے عوام کو تعلیم اور انٹرٹینمنٹ فراہم کی۔

نجی چینل اے آر وائے پر طارق عزیز کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے معروف اداکار جاوید شیخ نے ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

علاوہ ازیں معروف اداکار بہروز سبزواری نے طارق عزیز کو اپنے اساتذہ میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ان کو پی ٹی وی کی پہلی اناؤنسمنٹ کا اعزاز حاصل تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا طارق عزیز کی شخصیت بہت ہما جہت تھی اور ان کا کوئی متبادل نہیں ان کی وفات سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔

بہروز سبزواری نے بھی ان کے بلند درجات اور مغفرت کی دعا کی اور کہا کہ ایک سفر کے دوران وہ ان کے ہمراہ تھے جب انہوں نے بہت سی آیات ترجمے کے ساتھ بتائیں۔

نجی ٹی وی اے آر وائے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف اداکار غلام محی الدین نے کہا کہ طارق عزیز اپنی مثال آپ تھے، پوری انڈسٹری میں کوئی بھی ان جیسا نہیں اور جو اعزازات انہیں ملے وہ کسی کے حصے میں نہیں آئے۔

غلام محی الدین نے کہا کہ طارق عزیز کے پروگرامز میں ان کا ادبی ذوق جھلکتا تھا اور انہیں 2 ہزار کے قریب اشعار یاد تھے۔

معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ طارق عزیز ٹیلی ویژن پر دبستان کی حیثیت رکھتے تھے وہ شاعری بھی بہت عمدہ کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی پاکستان سے محبت کرنا ہے وہ دوسروں کی طرح نعرے نہیں لگاتے تھے بلکہ وطن کی محبت ان کے اندر سے کونپل کی طرح پھوٹتی تھی۔

مستنصر حسین تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ طارق عزیز خوش کلام، خوش گفتار اور بے بہا خوبیوں کے مالک تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں طارق عزیز کی شرافت اور حب الوطنی کا قائل تھا ان میں میڈیا والے فریب نہیں پائے جاتے تھے وہ معصوم شخصیت تھے۔