- الإعلانات -

نادیہ جمیل ہسپتال سے ڈسچارج، کینسر سے آزاد، ذیابطیس کا شکار

معروف اداکارہ نادیہ جمیل کم از کم 3 ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 16 جولائی کو گھر منتقل ہوگئیں۔

نادیہ جمیل رواں برس اپریل میں بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی تھیں اور انہوں نے لندن کے ایک معروف ہسپتال میں علاج شروع کروایا تھا۔

نادیہ جمیل نے رواں برس اپریل کے آغاز میں تصدیق کی تھی کہ وہ بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی ہیں۔

کینسر کی تشخیص کے چند دن بعد ہی 7 اپریل کو اداکارہ کی پہلی سرجری کی گئی تھی جو خوش قسمتی سے کامیاب گئی تھی، جس کے بعد اداکارہ کے مزید علاج کے لیے کیموتھراپی کا آغاز کیا گیا تھا۔

کیموتھراپی کے دوران ہی نادیہ جمیل نے مئی میں اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے اور وہ پہلے دن سے مداحوں کو سوشل میڈیا پر اپنی صحت سے متعلق آگاہ کرتی رہی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ کے دوران نادیہ جمیل نے چند پوسٹس میں مایوسی کی باتیں بھی کیں اور اپنی طبیعت کافی ناساز ہونے اور خود کو تکلیف سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی تھی۔
کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ لڑنے کے باوجود نادیہ جمیل گزشتہ تین ماہ کے دوران بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی دکھائی دیں اور انہوں نے سخت تکلیف کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری اور کبھی خدا کی رحمت سے مایوس نہیں دکھائی دیں۔

جون کے وسط میں نادیہ جمیل کی طبعیت کافی بگڑ گئی تھی اور ڈاکٹرز نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے جسم میں کوئی وائرس موجود ہے، جس کی وجہ سے ان کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا گیا تھا مگر خوش قسمتی سے ان کا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا تھا۔

جون کے وسط میں ہی اداکارہ کے دماغ کا اسکین بھی کیا گیا تھا اور کیموتھراپیز کی وجہ سے وہ کافی کمزور بھی پڑ گئی تھیں تاہم گزشتہ ہفتے سے انہوں نے اپنی صحت بہتر ہونے کی پوسٹس کرنا شروع کی تھیں۔

جولائی کے آغاز میں ہی اداکارہ نے انسٹاگرام اور ٹوئٹس کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کی طبعیت مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور اب وہ پہلے سے کافی اچھا بہتر محسوس کر رہی ہیں۔
اور پھر اداکارہ نے 12 جولائی کو اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں والدہ کے ساتھ ہسپتال سے تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو خوشخبری دی کہ انہوں نے کینسر کو شکست دے دی۔

نادیہ جمیل نے اپنی پوسٹ میں کینسر فری، ذیابطیس اور شگر فری جیسے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنی والدہ، والد اور دیگر اہل خانہ سمیت مداحوں کا بھی دعائیں کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔

اداکارہ نے 12 جولائی کو اپنی پوسٹ میں کینسر فری اور ذیابطیس کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا تھا—اسکرین شاٹ
تصاویر میں اگرچہ نادیہ جمیل کافی کمزور دکھائی دیں تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر خوشی اور خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ موذی مرض کو شکست دینے میں کامیاب گئیں۔

اداکارہ نے جہاں کینسر سے آزاد ہونے کی بات کی تھی، وہیں انہوں نے انکشاف کیا کہ دوراج علاج وہ ذیابطیس کا شکار ہوگئی تھیں اور انہیں اب انسولین کے انجکشن دیے جا رہے ہیں۔
اداکارہ نے واضح کیا تھا کہ اگرچہ وہ کینسر سے آزاد ہوچکی ہیں مگر وہ مزید کچھ دن تک ہسپتال میں رہیں گی اور اب انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

نادیہ جمیل نے اپنی انسٹاگرام پوسٹس میں بتایا کہ انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا اور اب اگرچہ وہ کینسر سے آزاد ہیں تاہم وہ ذیابطیس کا شکار بن چکی ہیں اور اب انہیں انسولین کے انجکشن لگتے رہیں گے۔

اداکارہ نے ہسپتال سے چھٹی ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کئی ہفتوں بعد آسمان دیکھنے پر وہ جذباتی بھی ہوگئیں۔

اداکارہ نے دعائیں کرنے پر مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی خدا کا شکر بھی ادا کیا کہ وہ ایک بار پھر سے خوبصورت دنیا میں حسین زندگی گزارنے جا رہی ہیں۔
انہوں نے کینسر کی تشخیص کے بعد ہسپتال میں اپنے علاج کے دنوں کو بھی یاد کیا اور بتایا کہ کس قدر کیموتھراپی کے دوران انہیں تکلیف ہوتی تھیں اور وہ درد کو برداشت کرنے کے لیے کلمہ اور قرآنی آیات پڑھتی تھیں۔

اداکارہ کے مطابق جب ڈاکٹرز ان کا کینسر کا علاج کر رہے تھے تب وہ آپس میں ان سے متعلق باتیں کرتے تھے کہ ہم انہیں کھونے والے ہیں تاہم اب وہ نئی زندگی ملنے پر خدا کی مشکور ہیں۔

نادیہ جمیل نے لکھا کہ دوران علاج وہ سوچتی تھیں کہ ان کے بیٹے تو زندگی گزار لیں گے مگر ان کے واحد کتے کا کیا ہوگا، کون اس کا خیال رکھے گا۔

نادیہ جمیل نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد دیگر متعدد پوسٹس بھی کیں اور گھر آنے پر ترکی کی کافی پینے کی پوسٹ بھی مداحوں سے شیئر کی اور مداحوں کو یہ بھی بتایا کہ وہ صحت یاب ہونے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا سیر کرنے جائیں گی۔

اداکارہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے بعد مداحوں اور شوبز شخصیات نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔

c