- الإعلانات -

تشدد کیس میں امبر ہرڈ کے بیانات بھی مکمل

معروف ہولی وڈ اداکار 57 سالہ جونی ڈیپ کی جانب سے برطانوی اخبار ‘دی سن‘ کے خلاف اپریل 2018 میں دائر کیے گئے ہرجانے کے مقدمے میں ان کی سابق اہلیہ 34 سالہ امبر ہرڈ کے بیانات بھی مکمل ہوگئے۔

امبر ہرڈ سے قبل جونی ڈیپ کے بیانات بھی 14 جولائی کو مکمل ہوگئے تھے اور ان کی سابق اہلیہ نے 20 جولائی سے اپنے بیانات ریکارڈ کروانا شروع کیے تھے۔

شوبز ویب سائٹ ورائٹی کے مطابق امبر ہرڈ نے 27 جولائی کو اپنے بیانات مکمل کروائے، جس کے بعد برطانوی اخبار ‘دی سن‘ کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔

امبر ہرڈ کے بیانات کے آخری روز اداکار جونی ڈیپ سماعت میں شریک نہیں ہوئے تھے، اس سے قبل وہ تمام سماعتوں کے دوران عدالت میں موجود رہے۔

آخری روز امبر ہرڈ نے عدالت کو بتایا تھا کہ سابق شوہر انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے تھے اور انہیں جیسے ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، وہ اس سے متعلق اپنی والدہ کو موبائل پیغام کے ذریعے آگاہ کرتی تھیں۔

امبر ہرڈ نے اس سے قبل عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایک بار سابق شوہر جونی ڈیپ کو مکا دے مارا تھا، کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے شوہر ان کی بہن کو دھکا دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اہلیہ تشدد کیس میں جونی ڈیپ کے بیانات مکمل
ساتھ ہی امبر ہرڈ نے عدالت میں جونی ڈیپ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق شوہر انہیں اس قدر تشدد کا نشانہ بناتے تھے کہ انہیں کئی بار لگتا تھا کہ وہ مر جائیں گی۔

امبر ہرڈ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے شوہر انہیں دوسرے مرد حضرات سے ریپ کروانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے تھے۔

امبر ہرڈ کے مطابق جونی ڈیپ انہیں کہتے تھے کہ وہ تشدد کرکے ان کا چہرہ اس قدر بگاڑ دیں گے کہ کوئی آئندہ ان سے محبت نہیں کرے گا۔

جونی ڈیپ نے بھی 7 سے 14 جولائی کے درمیان بیانات ریکارڈ کروائے تھے—فوٹو: رائٹرز
امبر ہرڈ نے شوہر کی جانب سے دوسرے مرد حضرات سے ناجائز جنسی تعلقات کے الزامات کو بھی عدالت میں مسترد کیا تھا۔

اس سے قبل جونی ڈیپ نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سابق اہلیہ کو نہیں بلکہ اہلیہ نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جونی ڈیپ نے عدالت کو بتایا تھا کہ امبر ہرڈ نے ایک ایجنڈا کے تحت ان سے شادی کرکے دولت اور شہرت بٹوری۔

دونوں اداکاروں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد 27 اور 28 جولائی کو برطانوی اخبار ‘دی سن‘ کی خاتون وکیل نے اپنے حتمی دلائل دیے اور جونی ڈیپ کو خواتین پر تشدد کرنے والا اور زن بیزار مرد قرار دیا۔

ورائٹی کے مطابق دی سن اخبار کی وکیل ساشا واسا نے دعویٰ کیا کہ جونی ڈیپ نشے کے عادی ہیں اور نشہ کرنے کے بعد ان کا خود پر کنٹرول نہیں رہتا، جس کے بعد وہ پاگلوں کی طرح دوسروں پر حملہ کرتے ہیں۔

برطانوی اخبار ایوننگ اسٹینڈرڈز کے مطابق 28 جولائی کو جونی ڈیپ کے وکلا اور اخبار کے وکلا کے درمیان حتمی جرح ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر عدم ثبوتوں کا الزام عائد کیا۔

جونی ڈیپ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ امبر ہرڈ اور اخبار کی جانب سے پیش کردہ گواہوں کے پاس اپنے کوئی ثبوت موجود نہیں، وہ صرف امبر ہرڈ کی بتائی ہوئی باتوں کو ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

امبر ہرڈ نے 21 سے 27 جولائی تک بیانات ریکارڈ کروائے—فوٹو: اے پی
دلائل کے آخری روز اخبار کے وکلا نے کہا کہ جونی ڈیپ نے جس مضمون کے شائع ہونے کے بعد اخبار پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا، وہ متعدد بار تحقیق کرنے کے بعد شائع کیا گیا اور اس بات کے شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ اداکار نے نشے کی حالت میں سابق بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ عدالت فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ سنانے تک سماعت کو ملتوی کردے گی۔
خیال رہے کہ یہ کیس اپریل 2018 میں جونی ڈیپ نے برطانوی اخبار کے خلاف دائر کیا تھا۔

’دی سن‘ نے اپنے مضمون میں جونی ڈیپ کو ’بیوی پر تشدد کرنے والا‘ شخص قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کس طرح جونی ڈیپ نے اپنی اہلیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

مضمون میں جہاں جونی ڈیپ کو بیوی پر تشدد کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا، وہیں ان کی سابق اہلیہ امبر ہرڈ کو ایک مظلوم خاتون کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔

اخبار کی جانب سے مضمون شائع کیے جانے کے بعد جونی ڈیپ نے اخبار کے خلاف برطانوی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے اخبار کے خلاف 2 لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا۔

اسی کیس کو خارج کروانے کے لیے دی سن نے عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی مگر عدالت نے اخبار کی درخواست مسترد کردی تھی۔

مذکورہ کیس میں جونی ڈیپ کی حمایت میں متعدد خواتین نے بھی بیانات ریکارڈ کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اداکار کو تشدد کرتے نہیں دیکھا۔

سماعتوں کے دوران اداکارہ کی بہن بھی شریک ہوئیں—فوٹو: لندن نیوز پکچر