- الإعلانات -

سشانت سنگھ کی خودکشی، مہیش بھٹ کے اہم انکشافات

بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی تفتیش جاری ہے اور فلم ساز مہیش بھٹ نے بھی اسی سلسلے میں آج (28 جولائی کو) پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

سشانت سنگھ راجپوت نے گزشتہ ماہ 14 جون کو ڈپریشن کے باعث اپنی رہائش گاہ پر دوستوں کی موجودگی میں دن کو اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ شک کیا گیا تھا کہ شاید انہی کسی نے قتل کیا ہو، لیکن بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں بھی ان کی خودکشی کی تصدیق ہوئی تھی۔

تاہم اس باوجود ممئی پولیس نے ان کی خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کردی تھی، جس کے تحت اب تک 3 درجن سے زائد شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ پولیس مزید 2 ہفتوں تک اہم شخصیات کے بیانات ریکارڈ کرکے معاملے کو حل کردے گی اور اب تک اطلاعات کے مطابق پولیس کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے تصدیق ہو کہ کسی نے سازش کے تحت انہیں خودکشی پر مجبور کیا ہو۔

اب تک سشانت سنگھ راجپوت کے والدین، سابق مینیجرز، ملازمین، قریبی دوستو، ان کی آخری فلم دل بیچارہ کے ہدایت کار مکیش چھابڑا، ان کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی سمیت 3 درجن سے زائد افراد نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروادیے ہیں۔

پولیس کو فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے رواں ماہ 6 جولائی کو اپنا بیان ریکارڈ کرواتےہوئے کئی انکشاف کیے تھے اور بتایا تھا کہ وہ اداکار کے ساتھ فلم کرنا چاہتے تھے مگر اداکار نے دوسرے پروڈکشن ہاؤسز سے معاہدے کر رکھے تھے، جس وجہ سے وہ ایک ساتھ فلم نہیں کر سکے۔

اور اب معروف فلم ساز مہیش بھٹ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مہیش بھٹ بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آج صبح ساڑھے 11 بجے اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ تھانے پہنچے اور سہ پہر تک بیان ریکارڈ کروایا۔

رپورٹ کے مطابق مہیش بھٹ نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت سے صرف 2 بار ہی ملاقات کی تھی، جس میں سے پہلی ملاقات 2018 اور دوسری و آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی تھی۔

مہیش بھٹ کے مطابق فروری 2020 میں وہ سشانت سنگھ راجپوت کے فلیٹ پر گئے تھے، کیوں کہ اداکار کی طبیعت خراب تھی اور اس دوران ان کے درمیان مہیش بھٹ کی آنے والی کتاب اور ایک یوٹیوب چینل کھولنے سے متعلق باتیں ہوئیں۔

فلم ساز کے مطابق ان کے اور سشانت سنگھ راجپوت کے درمیان کسی طرح کی کوئی فلمی بات نہیں ہوئی۔

حال ہی میں مہیش بھٹ کی سشانت کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی کے ساتھ تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں—فوٹو: فرسٹ پوسٹ
مہیش بھٹ نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ سشانت سنگھ راجپوت ان کی آنے والی فلم سڑک 2 میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے اس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ سشانت سنگھ کو کاسٹ کیا جائے یا نہیں؟

فلم ساز کے مطابق انہوں نے سڑک 2 کے مرکزی کردار کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کو کاسٹ نہیں کیا تھا، کیوں کہ مذکورہ فلم پہلی فلم کے ہیرو سنجے دت کے ساتھ ہی بنائی جانی تھی۔

مزید پڑھیں: سشانت سنگھ کی خودکشی، سلمان خان سے پوچھ گچھ کی چہ مگوئیاں
حال ہی میں بھارتی میڈیا میں مہیش بھٹ کے حوالے سے اس وقت مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوئی تھیں جب ان کی سشانت سنگھ راجپوت کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں کھینچی گئی تصاویر وائرل ہوئی تھیں۔

ریا چکربورتی اور مہیش بھٹ کی پرانی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر فلم ساز پر الزامات کی بارش کردی گئی، تاہم پولیس کے سامنے انہوں نے ریا چکربورتی کے ساتھ تصاویر پر کوئی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے ان سے اس حوالے سے کوئی سوال کیا۔

دوسری جانب فلم ساز کرن جوہر کے پروڈکشن ہاؤس دھرما کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) اپوروا مہتا نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

اپوروا مہتا کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ کرن جوہر کو بھی بلایا جائے گا—فوٹو: انسٹاگرام/ فیس بک
انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک اور خبر میں بتایا کہ کرن جوہر کے پروڈکشن ہاؤس کے سی ای او بھی صبح کے وقت بیان ریکارڈ کروانے پہنچے۔

اپوروا مہتا نے بھی پولیس کو سشانت سنگھ راجپوت اور اپنے پروڈکشن ہاؤس کے درمیان روابط کے حوالے سے آگاہ کیا۔

دھرما پروڈکشن ہاؤس کے سی ای او کے بیان کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتےتک ممکنہ طور پر فلم ساز کرن جوہر کو بھی پولیس بیان ریکارڈ کروانے کے لیے سمن جاری کرے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

بھارتی میڈیا میں چہ مگوئیاں ہیں کہ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا سبب جاننے کے لیے جاری پولیس تفتیش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، کیوں کہ اب تک پولیس کو کوئی خاص شواہد نہیں ملے جن سے پتا لگایا جاسکے کہ اداکار کو سازش کے تحت خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔

سشانت سنگھ کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
Facebook Count
Twitter Share