- الإعلانات -

‘چپ رہو ورنہ تمہیں بھی انجیکشن دے کر سلادوں گا’

بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا جس میں ہر روز نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں اور اب 2013 میں خودکشی کرنے والی بولی وڈ اداکارہ جیا خان کی والدہ نے فلم ساز مہیش بھٹ پر سنگین الزامات عائد کردیے ہیں۔

خیال رہے کہ سشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کو اپنی رہائش گاہ پر دوستوں کی موجودگی میں دن کو اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

جس کے بعد لوگوں نے اس کی وجہ بولی وڈ میں جاری اقربا پروری اور بڑے اداکاروں کی بے رحمی کو قرار دیا تھا اور تفتیش کے دوران مہیش بھٹ، کرن جوہر کے منیجر کو بھی طلب کیا گیا تھا اور اب سی بی آئی کی جانب سے سشانت کے قتل کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اور اب بھارتی چینل انڈیا ٹوڈے کو خصوصی انٹرویو میں رابعہ خان نے فلم ساز مہیش بھٹ پر کئی سنگین الزامات عائد کردیے۔

اداکارہ کی والدہ نے کہا کہ جیا کی آخری رسومات کے موقع پر مہیش بھٹ نے مجھے خاموش رہنے کے لیے کہا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ فلم ساز نے کہا تھا کہ چپ رہو ورنہ تمہیں بھی انجیکشن دے کر سلادیں گے۔

اس سے قبل رابعہ خان نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کے قتل کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت اور جیا خان کی موت کے درمیان پائی جانے والی مماثلت کو بھی بیان کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں وہ پہلی انسان تھی جس نے سشانت کی موت کو قتل بتایا تھا، کیونکہ جیا اور ان کی موت میں کچھ باتیں مشترک تھیں۔

رابعہ خان نے کہا کہ سشانت سنگھ اور جیا دونوں کے ساتھیوں نے انہیں بیار کے جال میں پھنسایا، شادی کا وعدہ کیا، ان کا پیسہ لیا اپنے پیاروں سے دور رکھا اور جب ان کا کنٹرول کم ہونا شروع ہوا تو جان چھڑانے کے لیے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

خیال رہے کہ جیا خان نے 2013 میں خود کو پھندہ لگا کر خودکشی کرلی تھی اور اپنے آخری خط میں سورج پنچولی پر زندگی تباہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اداکار سورج پنجولی کے خلاف2018 کے آغاز میں جیا خان کی خودکشی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

بولی وڈ اداکارہ جیا خان نے اپنا ڈیبیو فلم ‘نشبد’ میں امیتابھ بچن کے ساتھ 2007 میں کیا تھا تاہم 25 برس کی عمر میں انہوں نے خودکشی کرلی تھی جس کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی۔

اداکارہ کی والدہ نے کہا کہ مجھے پولیس پر ہنسی آتی ہے کہ انہوں نے سچ کا پتہ لگانے کے بجائے تحقیقات کو سبوتاژ کرنے میں زیادہ وقت خرچ کیا ہے، انہوں نے اقربا پروری کا راستہ اپنایا کیونکہ ان کے لیے یہی موزوں تھا۔

جیا خان کی موت سے متعلق بات کرتے ہوئے رابعہ خان نے کہا کہ پولیس افسر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سورج پنچولی کو سزا دینے چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بیک گراونڈ کو دیکھیں، وہ میری بیٹی کو مارتا تھا ، میں نے ان سے نارکو ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن انہوں نے منع کردیا تھا۔

رابعہ خان نے کہا کہ پولیس پر فلم مافیا کے ذریعے اتنا دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ بولی وڈ کے سپر اسٹار نے کہا تھا کہ سورج سے پوچھ گچھ مت کریں، انہیں اکیلا چھوڑ دیں، ہم انہیں لانچ کررہے ہیں۔

بولی وڈ مافیا سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں یہ نام نہیں لینا چاہتی، یہ ہر جگہ ہیں اور بولی وڈ میں یہ تاریکی انہی کی پیدا کی ہوئی ہے، چاہے کوئی ریپسٹ ہو یا قاتل اگر وہ اس گٹھ جوڑ کا حصہ ہے تو اسے معافی مل جاتی ہے۔

جیا خان کے ڈپریشن کا شکار ہونے سے متعلق رابعہ خان نے کہا کہ مہیش بھٹ کے علاوہ کس نے ایسا کہا؟ وہ میری بیٹی کے آخری رسومات پر آئے تھے اور کہا تھا کہ جیا ڈپریسڈ تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بتایا تھا کہ وہ کبھی ڈپریسڈ نہیں تھی جس پر مہیش بھٹ نے مجھے کہا تھا کہ ‘ تم چپ ہوجاؤ ورنہ تمہیں بھی انجیکشن دے کر سلادیں گے’۔

رابعہ خان نے مزید کہا کہ متاثرین کو یہاں مجرم بنایا جاتا ہے اور ان کے خاندانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پیسہ مانگ رہے ہیں۔

مہیش بھٹ سے متعلق انہوں نے مزید کہا کہ وہ بولی وڈ مافیا کا ماؤتھ پیس ہیں، وہ کچھ نہیں جانتے۔

جیا خان کی والدہ نے کہا کہ جب 16 برس کی عمر میں میری بیٹی مہیش بھٹ کے لیے کام کررہی تھی تو انہوں نے مجھے ڈرایا دھمکایا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو اکیلا چھوڑ دوں۔

انہوں نے کہا کہ میں جیا کو کیسے اکیلا چھوڑ سکتی تھی؟ میں انصاف کے لیے آواز اٹھاؤں گی اور دنیا کو بتاؤں گی کہ یہ لوگ کیا ہیں۔

جیا خان کی والدہ نے کہا کہ میں مایوس ہوں کیونکہ پولیس مافیا اور غلط لوگوں کا ساتھ دے رہی ہے، مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ایسے باصلاحیت افراد کو قتل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ تفتیش کو روکنے کے لیے پیسہ اور طاقت استعمال کرتے ہیں۔