- الإعلانات -

دنیا کی سب سے بڑی تھیٹر چین کی’ 1920 کی قیمتوں پر 2020 میں فلمیں’ دیکھنے کی پیشکش

عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ محدود کرنے کے لیے کئی ممالک میں نافذ لاک ڈاؤنز اور سماجی دوری کے اقدامات کے باعث دنیا بھر کے فلم تھیٹرز مارچ کے وسط سے بند ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے ‘ رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ کی بندش کے بعد اب اے ایم سی انٹرٹینمٹ ہولڈنگز نے پہلے مرحلے میں 20 اگست سے امریکا میں 100 سے زائد تھیٹرز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی تھیٹر چین نے کہا ہے کہ وہ 3 ستمبر کو کرسٹوفر نولان کی فلم ‘ ٹینیٹ’کی ریلیز کے لیے امریکا میں موجود 600 میں سے دو تہائی کے قریب تھیٹرز کھولنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

اے ایم سی نے تھیٹرز کھولنے کے اعلان کے ساتھ شائقین کو ایک بہت ہی پرکشش پیشکش کی ہے انہیں فلم دیکھنے کے لیے صرف 15 سینٹس ادا کرنے ہوں گے۔

سی اکمپنی کے مطابق اے ایم سی کے قیام کو 100 سال ہورہے اور اپنے صد سالہ تقریبات کے موقع پر انہوں نے سنیما کھلنے کے پہلے دن ‘1920 کی قیمتوں پر 2020 میں فلمیں’ دیکھنے کی پیشکش کی ہے۔

اس پیشکش کے تحت اے ایم سی سنیما کھلنے کے پہلے روز شائقین کو ٹکٹ کی مد میں صرف 15 سینٹس ادا کرنے ہوں گے

اس کے ساتھ ہی اے ایم سی نے کہا کہ وہ فلم بینوں کی حفاظت اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے حفاظتی اقدامات پر بھی عملدرآمد کررہے ہیں جس میں ماسک پہننا، لوگوں کی تعداد کو محدود کرنا اور وینٹی لیشن سسٹمز کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔

سنیما کھلنے کے بعد بھی ٹکٹیں معمول سے زیادہ سستی ہوں گی، اور ‘انسیپشن’، ‘ بلیک پینتھر’، بیک ٹو دی فیوچر اور ‘ ایمپائر اسٹرائیکس بیک’ کی ٹکٹ کی لاگ 5 ڈالر ہوگی۔

اس کے علاوہ اے ایم سی کی جانب س باکس آفس پر پرانی فلمیں بھی دوبارہ چلائی جائیں گی۔

خیال رہے کہ اے ایم سی کے نام سے یہ کمپنی 1920 میں ریاست میسوری کے شہر کنساس میں قائم کی گئی تھی اور رواں برس اس کے قیام کو 100 سال ہوگئے ہیں۔

صد سالہ تقاریب کے موقع پر ٹکٹوں کی قیمت میں کمی کے علاوہ اکتوبر کے اواخر تک پاپ کارنز پر بھی رعایت دی جائے گی اور سنیما آنے والے افراد 5 ڈالر میں پاپ کارنز حاصل کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اے ایم سی نے 15 جولائی سے اپنے سنیما ہالز کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم یہ فیصلہ 30 جولائی تک مؤخر کردیا گیا۔

اس کے بعد اے ایم سی کے سنیما کھولنے کا معاملہ اگست کے وسط سے اواخر تک التوا کا شکار ہوگیا تھا۔