- الإعلانات -

نصرت فتح علی خان کی 23 ویں برسی پر ان کے یادگار کلام سنیں

برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے عظیم قوال، موسیقار و گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس گزر گئے۔

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے معروف گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز گلوکار اور منفرد لہجے کے قوال و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان نے سیکڑوں کی تعداد میں انتہائی خوبصورت اور یادگار غزلیں، قوالیاں اور گیت پیش کیے۔

استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو پیدا ہوئے اور انہوں نے انتہائی کم عرصے میں دنیا میں مقبولیت حاصل کی، انہیں نہ صرف اپنے گیتوں بلکہ قوالی کی وجہ سے بھی منفرد حیثیت حاصل تھی۔

استاد نصرت فتح علی خان جگر اور گردوں کے عارضے سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 48 برس کی عمر میں 16 اگست 1997ء کو کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے، کئی بین الاقوامی فنکار اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا۔

استاد نصرت فتح علی خان نے ’دم مست قلندر مست‘، ’علی مولا علی‘، ’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’میرا پیا گھر آیا‘، ’اللہ ہو اللہ ہو‘، ’کنا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘، ’اکھیاں اڈیک دیاں‘، ’کسی دا یار نا وچھڑے’، ’میرا پیا گھر آیا‘، ’آفریں آفریں‘ اور ’میری زندگی‘ جیسے لازوال گیت اور قوالیاں پیش کیں۔ ْ نصرت فتح علی نے قوالی کے 125 آڈیو البم ریلیز کیے جو ورلڈ ریکارڈ بھی ہے، ان کے ترتیب دیے گئے گانوں اور موسیقی کی وجہ سے بولی وڈ کو بھی دنیا بھر میں منفرد شہرت ملی اور آج تک بولی وڈ فلموں میں ان کے تیار کیے گئے گانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

استاد نصرت فتح علی خان کی نمایاں خدمات کے باعث ہی کئی بھارتی اداکار و فلم ساز انہیں فخر سے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی موسیقی میں کوئی تفریق نہیں رکھی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو شاندار موسیقی دی۔

اگرچہ استاد نصرت فتح علی خان کےدرجنوں مقبول گیت اور قوالیاں موجود ہیں، تاہم ہم یہاں ان کے کچھ مقبول کلاموں کو مداحوں کے لیے پیش کر رہےہیں۔