- الإعلانات -

ٹک ٹاک کا ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو حکم نامے کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے 22 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت میں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔

بائٹ ڈانس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی قوانین ان کی کمپنی اور ان کے صارفین کے ساتھ مناسب برتاؤ کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔

کمپنی کی جانب سے مختصر بیان میں کہا گیا کہ بائٹ ڈانس آنے والے ہفتے کے آغاز میں ہی امریکی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف درخوست دائر کرے گی۔

اسی حوالے سے برطانوی اخبار دی گارجین نے اے ایف پی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے امریکی حکومت کے خدشات دور کرنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی۔

چینی کمپنی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ڈیٹا کو جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے احکامات سے متفق نہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چینی کمپنی 25 اگست تک ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف امریکی عدالت میں درخواست دائر کرے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ 6 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو آئندہ 45 دن میں اپنے امریکی اثاثے کسی دوسری امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دی تھی۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

ٹک ٹاک کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم بعد ازاں 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا۔

16 اگست کو امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے حکم نامے میں قومی سلامتی کے تحفظات کو جواز بناتے ہوئے بائیٹ ڈانس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ امریکا میں اپنے کاروبار کو اگلے 90 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے۔

امریکی صدر کی جانب سے ٹک ٹاک کے خلاف بندش کے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے جانے کے بعد مائیکرو سافٹ، ایپل، ٹوئٹر اور اوریکل نامی امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے خریدنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔

امریکی حکومت اور خصوصی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے امریکی سرکاری عہدیداروں اور فوجی عہدیداروں کے ٹک ٹاک استعمال پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ٹک ٹاک امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت اور وہاں کی خفیہ ایجنسیز کو فراہم کرتا ہے تاہم ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن، انتظامیہ ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔

ٹک ٹاک کا شمار امریکا میں مشہور ترین ایپس میں ہوتا ہے اور اسے اب تک وہاں تقریباً 18 کروڑ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، جب کہ عالمی سطح پر اسے ایک ارب سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔