- الإعلانات -

پاکستانی گلوکاروں نے بیرون ممالک پرفارم کرنے کے معاوضے کا مطالبہ ڈالرزو پاونڈز میں کردیا

پاکستانی گلوکاروں نے بیرون ممالک میں منعقدہ پروگراموں میں پرفارم کرنے کا معاوضہ امریکی ،کینڈین ڈالرز، پاونڈز میں لینے کا مطالبہ شروع کردیا۔ایک طرف تو پاپ گلوروں کے معاوضے آسمان سے باتیں کررہے ہیں لیکن دوسری جانب غلام علی ، عابدہ پروین،حمیرا ارشد،جواد احمد،ابرار الحق،عطاءاللہ عیسی خیلوی،اکرم راہی، عارف لوہار،ندیم عباس لونے والااورسائیں ظہور سمیت دیگر فوک اور صوفی گلوکاروں نے بھی امریکی ،کینڈین ڈالرز، پاونڈز میں ہی پروگرام کی فیس لینے کی شرط عائد کررکھی ہے۔ معلوم ہواہے کہ عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خاں،ابرار الحق،حمیرا ارشد اور پاپ اسٹار عاطف اسلم کے معاوضے توکسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور یہ چاروں فنکار اپنے ملک اوربیرون ملک پرفارم کرنے کے لیے منہ مانگا معاوضہ وصول کرلیتے ہیں لیکن ان کے برعکس پاپ بینڈز، فوک ، صوفی سنگرز نے بھی اپنے معاوضے بڑھا دیے ہیں۔اس وقت گلوکارعارف لوہاربیرون ملک پروگرام میں پرفارم کرنے کے لیے 30 سے35 ہزارڈالر معاوضہ وصول کررہے ہیں جب کہ ہوائی ٹکٹ اورہوٹل میں قیام سمیت دیگر اخراجات کی ذمے داری شوآرگنائزرز برداشت کرتے ہیں۔ اسی طرح معرو ف غزل گائیک استاد غلام علی، عابدہ پروین، سائیں ظہور،حمیرا ارشد،جواد احمد،ابرار الحق،عطاءاللہ عیسی خیلوی،اکرم راہی، ندیم عباس لونے والہ اور سمیت دیگر معروف گلوکار اب امریکی ڈالرز میں بھاری معاوضہ وصول کررہے ہیں جب کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معروف گلوکاروں کی اکثریت نے پرائیویٹ بینکوں میں امریکی ،کینڈین ڈالرز، پاونڈز کے خفیہ اکاو¿نٹ بھی کھول رکھے ہیں جہاں پر پروگراموں کی فیس جمع کی جاتی ہے لیکن گلوکاروں کے ساتھ کام کرنے والے میوزیشن کو وہی معمول کا معاوضہ پاکستانی کرنسی میں ادا کیا جاتا ہے۔ ہمارے گلوکار اب زیادہ تر بیرون ملک ہی پرفارم کرتے ہیں اس لیے ان کو شوکی فیس وصول کرنے کے لیے غیرملکی کرنسی میں ہی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے گلوکاروں نے پاکستانی ٹیکس سے بچنے کے لیے برون ممالک میں اکاونٹ کھول رکھے غیرملکی کرنسی میں اکاو¿نٹس کھلوا رکھے ہیں