- الإعلانات -

‘ریپ’ ملزمان کو پھانسی دینے کے بجائے ان کے اعضا کاٹے جائیں، بشریٰ انصاری

چند روز قبل صوبہ پنجاب میں موٹروے پر رات گئے مدد کی منتظر خاتون کو بچوں کے سامنے 2 ملزمان کی جانب سے ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنائے جانے پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کرنے سمیت ملزمان کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر افراد ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم کئی افراد کا ماننا ہے کہ پھانسی دینا آسان سزا ہے، ایسے درندوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

کچھ سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات نے بھی ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی ہے اور ایسی شوبز شخصیات میں سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری بھی شامل ہیں، جن کا ماننا ہے کہ پھانسی دینا چھوٹی سزا ہے۔

بشریٰ انصاری نے ملک میں بچوں اور خواتین کے بڑھتے ریپ واقعات کے حوالے سے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ ریپ ملزمان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ باقی زندگی تڑپتے رہیں اور نشان عبرت بھی بنیں۔

بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں وضاحت کی کہ پھانسی ایک چھوٹی سزا ہے اور ریپ ملزمان کے ہاتھ پاؤں سمیت وہ اعضا کاٹ دیے جائیں جن سے وہ بچوں اور خواتین کے روح تک کو تڑپا دیتے ہیں۔

اداکارہ نے لکھا کہ ریپ ملزمان کے جسمانی اعضا کاٹ کر انہیں رحم کے قابل اور دردناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے، تاکہ وہ جب تک زندہ رہیں ریپ کی شکار خواتین کی طرح تڑپتی زندگی گزاریں اور ہر وقت عذاب کا سامنا کریں۔

انہوں نے ریپ ملزمان کو ایسی عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا کہ باقی ملزمان انہیں دیکھ کر سبق سیکھیں۔

بشریٰ انصاری کے مطابق ملزمان کے جرائم سے خواتین و بچے اور ان کے والدین ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں، اس لیے ایسا گھناؤنا کام کرنے والوں کو بھی اس طرح کی سزا دی جائے کہ وہ زندہ رہ کر ہر لمحے موت کی زندگی گزاریں۔

ساتھ ہی انہوں نے مذہب اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور عزت کے بدلے عزت کا فارمولہ اختیار کیا جائے۔

بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں عالم دین مولانا طارق جمیل کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ریپ واقعات میں ملک و قوم کا ان کے ساتھ کی ضرورت ہے، وہ مذکورہ معاملے پر آگے آکر دھرنا دیں اور آواز بلند کریں۔

واضح رہے کہ موٹروے گینگ ریپ واقعہ 10 سمتبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں رات گئے پیش آیا تھا۔

2 ملزمان فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کے اے ٹی ایم کارڈز لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔

مذکورہ واقعے کے بعد ملک میں احتجاج شروع ہوگیا تھا اور کئی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پر بھی حکومت کی نااہلی اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

دو روز قبل ہی پنجاب حکومت نے دو ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد شناخت کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور 13 ستمبر کو پنجاب حکومت کی جانب سے شناخت کیے گئے ملزم وقار نے گرفتاری دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے الزامات مسترد کردیے تھے۔

ملزمان کی گرفتاری اور انہیں قانونی کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت پر دباؤ کے علاوہ تاحال ملک بھر میں مذکورہ واقعے پر سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے سخت غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی حکومت اور سیاستدانوں سے ریپ کے مجرمان کو سخت سزائیں دلوانے کے لیے قانونی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔