- الإعلانات -

بڑھتے ‘ریپ’ واقعات، منیب بٹ بیٹی کے تحفظ کے لیے پریشان

ملک میں حالیہ چند دنوں میں خواتین اور بچوں متعدد ‘ریپ’ واقعات رپورٹ ہونے پر جہاں ملک بھر میں لوگ اضطراب میں مبتلا ہیں، وہیں کئی لوگ حکومت سے ملزمان کے لیے سخت سزاوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے پیر الٰہی بخش (پی آئی بی) کالونی میں کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے واقعے نے سب کے دل ہلا دیے تھے۔

واقعے کے بعد جہاں علاقہ مکینوں نے احتجاج شروع کیا تھا، وہیں سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر حکومت سے کمسن بچی کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا تھا۔

کراچی کی کسمن بچی کے قتل کے خلاف ابھی احتجاج جاری ہی تھا کہ 10 سمتبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں رات گئے موٹروے پر 2 ملزمان نے ایک خاتون کو بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد ملک میں احتجاج شروع ہوگیا تھا اور کئی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پر بھی حکومت کی نااہلی اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

دو روز قبل ہی پنجاب حکومت نے دو ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد شناخت کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور 13 ستمبر کو پنجاب حکومت کی جانب سے شناخت کیے گئے ملزم وقار نے گرفتاری دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے الزامات مسترد کردیے تھے۔

کراچی میں قتل کی گئی بچی اور موٹروے پر ریپ کا نشانہ بنائی گئی خاتون کے ملزمان کی گرفتاری اور انہیں قانونی کٹہرے میں لانے کے لیے تاحال ملک بھر میں مذکورہ واقعے پر سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے سخت غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی حکومت اور سیاستدانوں سے ریپ کے مجرمان کو سخت سزائیں دلوانے کے لیے قانونی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

ایسی ہی شوبز شخصیات میں اداکار منیب بٹ بھی ہیں، جنہوں نے ریپ ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی کم سن بیٹی کی حفاظت کے لیے خدشات کا اظہار بھی کیا۔

منیب بٹ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں سادہ الفاظ میں ملکی حالات کے پیش نظر مستقبل میں اپنی بیٹی کے تحفظ کے لیے خدشات کا اظہار کیا۔

اداکار نے لکھا کہ ‘وہ ہر روز صبح اٹھ کر وہ اپنی بیٹی کو محبت سے، اطمینان سے اور بے حد چاہے سے دیکھتے ہیں’۔

اداکار نے اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ لیکن اب بیٹی کو چاہت اور محبت سے دیکھنے میں خوف شامل ہوگیا ہے اور وہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیا یہ خوف ہمیشہ رہے گا؟

اداکار کی پوسٹ میں درجنوں افراد نے کمنٹس کیے اور ہر کسی نے ان کی بیٹی سمیت پورے ملک کی بچیوں کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں اور ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ والدین کے ایسے خوف کو ختم کرنے کے ملزمان کو سرعام پھانسی دے کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔