- الإعلانات -

6 ماہ میں پاکستان سے 65 لاکھ سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز ڈیلیٹ

ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے جس میں روزانہ ہی لاتعداد ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

مگر ان ویڈیوز کی بڑی تعداد کمپنی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جنوری سے جون 2020 کے دوران 10 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ویڈیوز کو اصولوں کی خلاف ورزی پر ڈیلیٹ کیا گیا۔

کمپنی کی جانب سے جاری ششماہی ٹرانسپیرنٹ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا، جس کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے مقابلے میں اس سال کی پہلی ششماہی کے دوران دوگنا زیادہ ویڈیوز کو ایپ سے صاف کیا گیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ 10 کروڑ سے زائد ویڈیوز کا تعلق ٹک ٹاک کے ایک فیصد سے بھی کم اکاؤنٹس سے تھا۔

یوٹیوب کی طرح ٹک ٹاک کی جانب سے اس صفائی کے لیے ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے جو ویڈیو کو مانیٹر، فللیگ اور ہٹانے پر مشتمل طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہے۔

کمپنی کی جانب سے سب سے زیادہ ویڈیو بھارت میں ڈیلیٹ کی گئی جن کی تعداد 3 کروڑ 68 لاکھ سے زائد تھی، جس کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ تعداد 98 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ رہی۔

پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جہاں ٹک ٹاک نے 65 لاکھ 54 ہزار سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ ہوئیں جبکہ برازیل میں 55 لاکھ سے زائد جبکہ برطانیہ میں 29 لاکھ سے زائد رہی۔

کمپنی کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ ویڈیوز کو کسی ویو سے پہلے ہی ڈیلیٹ کردیا گیا تھا، 10 میں سے 3 میں پالیسی کی خلاف ورزی پر مبنی ویڈیوز جنسی سرگرمیوں پر مشتمل تھیں جبکہ 22.3 فیصد کا تعلق بچوں کے تحفظ کے حوالے سے تھا۔

کمپنی نے جولائی میں بتایا تھا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر مواد کے حوالے سے نیا نظام متعارف کرایا گیا تھا تاکہ اسے زیادہ شفاف اور رپورٹ ہونے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کی وجوہات آسان بنائی جاسکیں۔

جب کوئی ویڈیو کمنی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس پر پالیسی کی خلاف ورزی کا لیبل لگایا جاتا ہے اور پھر ہٹا دی جاتی ہے۔

گزشتہ سال کی آخری ششماہی کے دوران مختلف ممالک کی جانب سے ٹک ٹاک کے صارفین کے ڈیٹا سے متعلق درخواستیں جمع کرائی گئیں جن میں سے 6 پاکستان کی جانب سے دی گئیں۔

ویڈیوز ہٹانے یا مواد کی روک تھام کے لیے بھی کے لیے پاکستان کی جانب سے 175 درخواستیں ٹک ٹاک کو دی گئیں۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب کمپنی کی جانب سے فیس بک لائیو اسٹریم کے دوران خودکشی کی ویڈیو ایپ میں وائرل ہونے کے بعد اندرونی طور پر تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ٹی ٹاک کی امریکا میں عارضی چیف ایگزیکٹو ونیسا پاپاس نے 9 سوشل میڈیا کمپنیوں کو خطوط بھھیج کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ایک دوسرے کو اس طرح کے مواد کے بارے میں فوری آگاہ کیا جاسکے۔