- الإعلانات -

اخبار کے خلاف دائر مقدمے میں میگھن مارکل کو ناکامی کا سامنا

لندن کی ہائی کورٹ نے برطانوی اخبار دی میل کو میگھن مارکل کی سوانح حیات میں بیان کی گئی باتوں کو قانونی کیس میں ترامیم کے ساتھ شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دی میل نے لندن ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ اسے میگھن مارکل کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں ترامیم کی اجازت دی جائے جو کہ عدالت نے منظور کرلی۔

برطانوی اخبار نے عدالت سے اجازت مانگی تھی کہ اسے میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی رواں برس اگست میں شائع ہونے والی سوانح حیات کا مواد قانونی مقدمے میں شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔

میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی دو مشترکہ لکھاریوں کی لکھی گئی سوانح حیات اگست 2020 میں شائع ہوئی تھی، جس میں ایسی باتیں بھی شامل ہیں جنہیں شاہی جوڑا ذاتی معلومات قرار دیتا رہا ہے اور ایسی باتوں کو شائع کرنے پر شاہی جوڑے نے دی میل کے مذکورہ مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

سوانح حیات میں میگھن مارکل کے والد کے وہ خطوط بھی شامل ہیں، جو انہوں نے اپنی بیٹی کو لکھے تھے اور انہیں دی میل نے 2018 میں شائع کیا تھا، جس پر برطانوی شہزادی نے اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

اخبار کی جانب سے والد کے خطوط شائع کرنے پر میگھن مارکل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان کی ذاتی باتیں تھیں اور اخبار نے انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

اب وہی باتیں ان کی سوانح حیات میں بھی شامل ہیں اور اخبار نے عدالت سے اجازت مانگی تھی کہ کیس کے دلائل میں اسے سوانح حیات کی باتیں شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔

سماعت کے دوران اخبار کے وکلا نے بتایا کہ سوانح حیات میں شامل کئی ذاتی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل مذکورہ باتوں کو خفیہ نہیں بلکہ عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے۔

عدالت نے اخبار کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے مقدمے میں ترامیم کے ساتھ سوانح حیات کا مواد شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

عدالت کی جانب سے برطانوی اخبار کو مقدمے میں مواد شامل کرنے کی اجازت دیے جانے کو میگھن مارکل کی شکست تسلیم کیا جا رہا ہے، کیوں کہ انہوں نے برطانوی اخبار کی مذکورہ درخواست کی مخالفت کی تھی۔

میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی سوانح حیات لکھنے والے دو لکھاریوں میں سے ایک لکھاری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے شاہی جوڑے کی اجازت کے بغیر اور ان کے انٹرویوز کیے بغیر ہی مذکورہ سوانح حیات لکھی تھی۔

جن لکھاریوں نے شاہی جوڑے کی سوانح حیات لکھی، انہیں برطانوی شاہی محل کے معاملات کے حوالے سے طویل تجربہ ہے اور وہ شاہی محل کے حوالے سے دیگر کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ 38 سالہ میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ برطانوی شہزادی نے برطانوی اخبار پر اپنے والد کو لکھے گئے ایک خط کو غلط انداز میں شائع کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ میگھن مارکل نے دی میل آن سنڈے پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنی قانونی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ ویب سائٹ کی جانب سے شائع کردہ خط جعلی ہے اور یہ کہ مذکورہ خط ان کی جانب سے والد کو لکھا جانے والا خط نہیں۔ میل آن سنڈے نے جس خط کو شائع کیا تھا وہ خط دراصل 2018 میں میگھن مارکل نے اپنے والد کو لکھا تھا اور ویب سائٹ نے اسی خط کے متن کو توڑ مروڑ کر اور جملوں کو آگے پیچھے کرکے شائع کیا تھا۔

مذکورہ کیس کا باضابطہ ٹرائل آئندہ سال جنوری میں ہونے کا امکان ہے، اسی کیس کے حوالے سے رواں ماہ اپریل اور مئی میں ابتدائی سماعتیں بھی ہوئی تھیں۔

لندن کی ہائی کورٹ نے برطانوی اخبار دی میل کو میگھن مارکل کی سوانح حیات میں بیان کی گئی باتوں کو قانونی کیس میں ترامیم کے ساتھ شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دی میل نے لندن ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ اسے میگھن مارکل کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں ترامیم کی اجازت دی جائے جو کہ عدالت نے منظور کرلی۔

برطانوی اخبار نے عدالت سے اجازت مانگی تھی کہ اسے میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی رواں برس اگست میں شائع ہونے والی سوانح حیات کا مواد قانونی مقدمے میں شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔

میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی دو مشترکہ لکھاریوں کی لکھی گئی سوانح حیات اگست 2020 میں شائع ہوئی تھی، جس میں ایسی باتیں بھی شامل ہیں جنہیں شاہی جوڑا ذاتی معلومات قرار دیتا رہا ہے اور ایسی باتوں کو شائع کرنے پر شاہی جوڑے نے دی میل کے مذکورہ مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

سوانح حیات میں میگھن مارکل کے والد کے وہ خطوط بھی شامل ہیں، جو انہوں نے اپنی بیٹی کو لکھے تھے اور انہیں دی میل نے 2018 میں شائع کیا تھا، جس پر برطانوی شہزادی نے اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

اخبار کی جانب سے والد کے خطوط شائع کرنے پر میگھن مارکل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان کی ذاتی باتیں تھیں اور اخبار نے انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

اب وہی باتیں ان کی سوانح حیات میں بھی شامل ہیں اور اخبار نے عدالت سے اجازت مانگی تھی کہ کیس کے دلائل میں اسے سوانح حیات کی باتیں شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔

سماعت کے دوران اخبار کے وکلا نے بتایا کہ سوانح حیات میں شامل کئی ذاتی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل مذکورہ باتوں کو خفیہ نہیں بلکہ عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے۔

عدالت نے اخبار کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے مقدمے میں ترامیم کے ساتھ سوانح حیات کا مواد شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

عدالت کی جانب سے برطانوی اخبار کو مقدمے میں مواد شامل کرنے کی اجازت دیے جانے کو میگھن مارکل کی شکست تسلیم کیا جا رہا ہے، کیوں کہ انہوں نے برطانوی اخبار کی مذکورہ درخواست کی مخالفت کی تھی۔

میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی سوانح حیات لکھنے والے دو لکھاریوں میں سے ایک لکھاری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے شاہی جوڑے کی اجازت کے بغیر اور ان کے انٹرویوز کیے بغیر ہی مذکورہ سوانح حیات لکھی تھی۔

جن لکھاریوں نے شاہی جوڑے کی سوانح حیات لکھی، انہیں برطانوی شاہی محل کے معاملات کے حوالے سے طویل تجربہ ہے اور وہ شاہی محل کے حوالے سے دیگر کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ 38 سالہ میگھن مارکل نے برطانوی اخبار کے خلاف اکتوبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ برطانوی شہزادی نے برطانوی اخبار پر اپنے والد کو لکھے گئے ایک خط کو غلط انداز میں شائع کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ میگھن مارکل نے دی میل آن سنڈے پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنی قانونی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ ویب سائٹ کی جانب سے شائع کردہ خط جعلی ہے اور یہ کہ مذکورہ خط ان کی جانب سے والد کو لکھا جانے والا خط نہیں۔ میل آن سنڈے نے جس خط کو شائع کیا تھا وہ خط دراصل 2018 میں میگھن مارکل نے اپنے والد کو لکھا تھا اور ویب سائٹ نے اسی خط کے متن کو توڑ مروڑ کر اور جملوں کو آگے پیچھے کرکے شائع کیا تھا۔

مذکورہ کیس کا باضابطہ ٹرائل آئندہ سال جنوری میں ہونے کا امکان ہے، اسی کیس کے حوالے سے رواں ماہ اپریل اور مئی میں ابتدائی سماعتیں بھی ہوئی تھیں۔