- الإعلانات -

’فیشن ڈیزائننگ کو بطور پیشہ بھی اپنایا جا سکتا ہے‘

میر پور خاص سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے صف اول کے فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کہتے ہیں کہ ان کے پاس پاس ڈگری بزنس کی تھی لیکن وہ دلچسپی فیشن ڈیزائننگ میں رکھتے تھے۔ دیپک کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں چچا کے ساتھ گارمنٹس کا کام کرتا تھا تو وہیں سے فیشن ڈیزائننگ کی طرف مائل ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں برائیڈل کا بہترین کام ہو رہا ہے، انڈیا میں بھی برائیڈل کا کام ہو رہا ہے لیکن ان کے اور ہمارے برائیڈل کا موازنہ ہی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جس معیار کا کام ہوتا ہے وہ انڈیا میں ہونا ممکن نہیں۔ ’اس وقت مارکیٹ میں ہر طرح کا کام کرنے والے ڈیزائنرز موجود ہیں، کوئی مینز ویئر بنا رہا ہے تو کوئی مینز اور ویمن ویئر دونوں بنا رہا ہے۔‘

دیپک کہتے ہیں کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ مینز ویئر میں تجربات نہیں کیے جا سکتے وہ غلطی پر ہیں، مینز ویئر میں بھی ویمن ویئر کی طرح تجربات ہوسکتے ہیں۔ دیپک کے مطابق کسی بھی فیشن ڈیزائنر کے لیے اتنا آسان نہیں ہوتا کہ ہر چھ ماہ بعد تجرباتی کلیکشنز نکالے۔ ’سنہ 1994 سے میں نے ایک تجربے کے طور پر چند شرٹس بنائیں جو کہ ہاتھوں ہاتھ بِکیں۔ اس سے میرا حوصلہ بڑھا، جب محسوس کیا کہ لوگ میرے بنائے گئے ڈیزائنز پسند کر رہے ہیں تو پھر 1995 میں پہلی دکان کھولی۔‘

دیپک کہتے ہیں کہ جب انہوں نے فیشن ڈیزائننگ کا کام شروع کیا تو اس وقت فیشن اور مغربی برینڈز نہیں تھے اور لوگوں کو بالکل نہیں پتا تھا کہ مینز ویئر میں تجربات کرنا کیا ہوتا ہے اور لال، پیلی اور گلابی قمیضیں بھی پہنی جا سکتی ہیں۔ ’مجھ سے پہلے امیر عدنان اس کام میں تھے لیکن وہ سوٹس اور ٹائیاں بناتے تھے لیکن میری توجہ مکمل طور پر فیشن ویئر پر تھی، میں نے مینز ویئر اور ویمن ویسٹرن ویئر سے کام شروع کیا۔‘

دیپک بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا پہلا فیشن شو اپنی دکان کے ساتھ ہی منعقد کیا۔ اس روز ان کے کزن صرف ان سے ایک شلوار قمیض لے کر گئے جس پر وہ بہت مایوس ہوئے، لیکن تین دن کے بعد فون آیا کہ دیپک پروانی کے تمام کپڑے بک گئے ہیں۔ ’تب اندازہ ہوا کہ ضروری نہیں لوگ فیشن شو پر پیسے لے کر آئیں بعض اوقات لوگ چیز پسند کرکے چلے جاتے ہیں اور بعد میں خریداری کرتے ہیں۔‘
دیپک پروانی کے اس وقت تین بڑے شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں آؤٹ لیٹس موجود ہیں۔‘

دیپک کہتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے کام شروع کیا اس وقت ونٹر اور سمر سیزن نکالنے کا رواج نہیں تھا، اس وقت صرف کپڑے بنتے تھے کلیکشنز نہیں بنائی جاتی تھیں۔ ’جیسے جیسے لوگوں میں شعور آتا گیا ویسے ویسے انہیں سمجھ آنے لگی کہ فیشن کی فیلڈ کو بطور پیشہ بھی اپنایا جا سکتا ہے، بس یہ ہی چیز سمجھانے میں پندرہ سال لگے۔‘ دیپک کا کہنا ہے کہ فیشن کی دو کونسلز سے لوگ بالکل بھی دو شہروں میں نہیں بٹے بلکہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے کراچی اور لاہور میں لوگوں کو اپنا کام دکھانے کا موقع میسر آتا ہے جیسے ہم لوگ ہر دو تین سال کے بعد اپنا کام لاہور والوں کی نذر کرتے ہیں۔

’کسی بھی کلیکشن کی تیاری میں چار سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں۔ ایک کلیکشن ختم ہوتے ہی اگلے سیزن کی کلیکشن کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ڈیزائنر کلیکشن بنانے کے لیے انسپریشن کہیں سے بھی لے سکتا ہے جیسے میں نے اپنی اسی سال ایک کلیکشن کے لیے انسپریشن لاہور کے شالامار باغ سے لی۔ اسی طرح سے تھر میں خواتین جو رنگ برنگ ملبوسات زیب تن کرتی ہیں ان سے بھی انسپیریشن لی جا سکتی ہے۔

دیپک کے مطابق رضوان بیگ، نیلوفر ،منٹو کاظمی، ثانیہ مسکتیہ، میشا لاکھانی، ندا ازور، ایچ ایس وائے، محسن نوید رانجھا اور حسین ریحار کا کام بہت اچھا ہے۔ ان سب کا اپنا ایک انداز ہے جو دوسروں سے انہیں ممتاز کرتا ہے۔ دیپک اقلیتوں کے لیے بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سارے ڈیزائنرز تنقیدی باتیں کہنا پسند نہیں کرتے یہ ان کا انداز ہے لیکن میں جہاں مجھے ٹھیک لگے بولتا ہوں اور اقلیتوں کے حق میں تو خاص طور پر بات کرتا ہوں، یہ میرا انداز ہے۔‘

دیپک کہتے ہیں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے یہیں جینا ہے اور یہیں مرنا ہے۔
شادی کے بندھن میں اب تک کیوں نہیں بندھے اس پر دیپک کا کہنا ہے کہ ’اقلیت میں لڑکی مل نہیں رہی جیسے ہی ملی شادی کے بندھن میں بندھ جاؤں گا۔‘ یپک کو اپنے زمانے کی ماڈلز میں آمنہ حق اور عالیہ بی بی بہت پسند ہیں، کہتے ہیں کہ ان جیسا خوبصورت چہرہ شاید ہی کسی ماڈل کا ہو۔
دیپک نئے ٹیلنٹ کو پرموٹ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’نئے ٹیلنٹ کو آگے آنے کا موقع ہم نہیں دیں گے تو کون دے گا۔‘


دیپک کے حساب سے عمران خان کے لیے شیروانی بنانا اور شبانہ اعظمی کا یہ کہنا کہ جاوید اختر تمہارا تیارہ کردہ لباس پہن کر وزیراعظم سے ایوارڈ لیں گے ان کے لیے یادگار لمحات ہیں۔ دیپک کو اس بات پر بہت غصہ آتا ہے جب لوگ ان سے سوال کرتے ہیں کہ ڈیزائنر ویئر مہنگے کیوں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے جس کے لیے جو افورڈایبل ہے وہ لے کر پہن لے، جو مہنگے کپڑے نہیں خرید سکتے ان کے لیے سستی کلیکشنز بھی ہوتی ہیں، وہ ان میں سے خریداری کرکے ڈیزائنر ویئر پہننے کا شوق پورا کرلیں۔