- الإعلانات -

لاہور: اداکارہ کا ریپ کرنے کے الزام میں پولیس اہلکار گرفتار

لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کی پولیس نے تھیٹر کی اداکارہ کا ریپ کرنے کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا۔ مذکورہ اداکارہ نے ملزم پولیس اہلکار کے خلاف شکایت درج کروائی کہ وہ اسے گارڈن ٹاؤن کے ہوٹل میں رقص کی تقریب کے لیے لے کر گیا اور وہاں جا کر اسے ریپ کا نشانہ بنایا۔

اداکارہ نے کہا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے رقاصہ ہے اور ملزم نے اسے ایک تقریب میں رقص کرنے کے لیےاس کی خدمات حاصل کی تھیں، لیکن اسے ہوٹل لے جا کر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد فرار ہوگیا۔ بعد ازاں خاتون کی شکایت پر پولیس نے ملزم کے خلاف ریپ کامقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

انسپکٹر جنرل (ٓآئی جی) پنجاب انعام غنی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیپٹل پولیس افسر (سی سی پی او) سے رپورٹ طلب کرلی۔ آئی جی پنجاب نے ملزم کے خلاف الزامات پر محکمہ جاتی انکوائری اور متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے کا حکم دیا۔ رواں ماہ کے وسط میں پنجاب کے ضلع قصور میں محض 48 گھنٹوں کے دوران پولیس کے پاس 4 خواتین اور 3 کم عمر لڑکوں سے مبینہ ریپ کے مقدمات درج ہوئے۔

اس سے قبل 5 اکتوبر کو راولپنڈی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک خاتون کو ان کے بیٹے کے سامنے بندوق کے زور پر جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں ریپ کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے اور 2 اکتوبر کو یہ رپورٹ ہوا تھا کہ لاہور میں ملزمان نے نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی کا مبینہ گینگ ریپ کردیا گیا جبکہ ملتان میں 10 سالہ کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی گئی، جس کے 2 ملزمان کو پولیس کے حوالے بھی کردیا گیا۔

اس سے قبل یکم اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں بس کے انتظار میں کھڑی خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد نشہ آور مشروب پلا کر 6 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اس سے قبل 20 ستمبر کو شوہر اور بچوں کی موجودگی میں 4 مسلح افراد نے خاتون کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا اور زیورات کے علاوہ 20 ہزار روپے بھی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 7 ستمبر کو پنجاب کے گاؤں پنن وال کی رہائشی لڑکی کو اس کے ماموں زاد بھائی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا، پولیس نے 13 ستمبر کو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ 11 ستمبر کو تحصیل تونسہ کے گاؤں بستی لاشاری میں ایک شادی شدہ خاتون کا 2 مشتبہ افراد نے گھر میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا۔

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق 2 بچوں کی والدہ نے بتایا کہ رات 10 بجکر 45 منٹ پر 2 افراد اس وقت گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے جب اس کے بچے 2 سالہ بیٹا اور 6 ماہ کی بیٹی سورہے تھے اور انہیں زبردستی گھر کے ایک کمرے میں لے جا کر ریپ کا نشانہ بنایا۔ 9 ستمبر کو گجرپورہ کے علاقے میں 2 ‘ڈاکوؤں’ نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔ واقعے کی تفصیل سے متعلق پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ 2 مسلح افراد نے خاتون کو اکیلا دیکھا اور اسلحے کے زور پر خاتون اور بچوں کو قریبی کھیت میں لے گئے اور وہاں خاتون کا گینگ ریپ کیا۔