- الإعلانات -

امریکی گلوکارہ چیر کی پاکستان آمد، وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

سری لنکا کی جانب سے تحفے میں ملنے والے ہاتھی کاون کی کمبوڈیا منتقلی سے 2 روز قبل امریکی گلوکارہ و اداکارہ چیر پاکستان پہنچ گئیں۔پاکستان آمد کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، جہاں وزیراعظم نے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں موجود ہاتھی ‘کاون’ کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

چیر دنیا کے ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان میں ناقص حالات میں زندگی گزارنے والے ہاتھی کاون کی آزادی اور دوسرے ملک منتقلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔وزیراعظم آفس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کاون کی منتقلی کے لیے امریکی گلوکارہ کی کوششوں کو سراہا اور اس مہم میں کردار ادا کرنے پر چیر کا شکریہ ادا کیا۔اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے گلوکارہ کو جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں کو توسیع دینے سے متعلق حکومت کے پروگرام میں حصہ لینے اور کردار ادا کرنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔

امریکی گلوکارہ سے ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد اور پاکستان کے تمام افراد کے لیے تقریباً 35 برس تک تفریح کا ذریعہ بننے کے بعد کاون اب کمبوڈیا کے قدرتی مسکن میں دیگر ہاتھیوں کے ساتھ زندگی بسر کر سکے گا جو ایک خوش آئند بات ہے۔ملاقات میں امریکی گلوکارہ چیر نے پاکستان کو صاف و سرسبز ملک بنانے کے حوالے سے وزیراعظم کی قیادت میں حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔چیر نے کہا کہ 10 بلین ٹری سونامی اور محفوظ علاقوں کے فروغ کے منصوبے قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے انتہائی مفید ہیں۔

امریکی گلوکارہ نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تنظیم کی جانب سے حکومت کے سرسبز منصوبوں میں حمایت اور تعاون کی پیشکش بھی کی۔عمران خان سے ملاقات کے بعد گلوکارہ چیر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم سے ملاقات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور کاون کو اپنے ساتھ کمبوڈیا لے جانا ممکن بنانے پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے مزید لکھا کہ کاون 29 نومبر کو کمبوڈیا روانہ ہوگا۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں گلوکارہ چیر نے کاون کی پاکستان سے کمبوڈیا منتقلی کے موقع پر 2 خصوصی گانے تیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہاتھی کی منتقلی کے وقت امریکا سے کمبوڈیا بھی پہنچیں گی۔اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں کاون کی منتقلی کے لیے تیار کیے گئے پنجرے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ ہاتھی کی منتقلی کے حوالے سے بہت خوش ہیں۔قبل ازیں امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق فور پاز انٹرنیشنل سے تعلق رکھنے والے مارٹن باؤر نے کہا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث گلوکارہ چیر کا شیڈول پبلک نہیں کیا گیا تھا۔

مارٹن باؤر نے کہا تھا کہ چیر کا شکریہ لیکن پاکستان کے مقامی سماجی حقوق کے کارکنان کا بھی شکریہ جن کی کوششوں سے کاون کی کہانی سے دنیا بھر میں خبریں بنیں جس سے اس کی منتقلی میں آسانی پیدا ہوگئی۔انہوں نے جانوروں کے حقوق کے لیے نامور شخصیات کی آوازوں کے طاقتور اثرات کو بھی سراہا۔مارٹن باؤر نے کہا کہ اچھے مقاصد کے لیے اپنی آواز اٹھانے والی مشہور شخصیات کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جاتا ہے کیونکہ وہ عوامی گفتگو شروع کرنے اور ذمہ دار حکام پر دباؤ بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں جانوروں سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں، جو مشہور ہیں اور مشہور نہیں اور ان میں سے ہر ایک کا کردار بہت اہم ہے۔واں ہفتے صدر مملکت ڈاکٹر عارف اور خاتون اول ثمینہ علوی نے مرغزار چڑیا گھر کا دورہ کیا تھا اور کاون کو الوداع کیا تھا۔کاون کو الوداع کہنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں شہریوں نے شرکت کی تھی۔

کاون کو ایئربس کے ذریعے کمبوڈیا منتقل کیا جائے گا، ان کی منتقلی کے لیے بنایا گیا لوہے کا پنچرہ پاکستانی انجنیئر محمد عمر ہارون نے تیار کیا ہے، جس پر پاکستانی جھنڈے سمیت پاکستانی ٹرک آرٹ کو بھی سجایا گیا ہے۔فار پاز کی ترجمان ماریون لمبارڈ نے کہا کہ 29 نومبر کو کاون کی روانگی کی تیاریاں صبح 6 بجے شروع ہوں گی اور اسے صبح 10 بجے بے ہوش کیا جائے گا اور پھر دوپہر ایک بجے نور خان ایئربیس منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاون کو روسی کارگو طیارے کے ذریعے کمبوڈیا لے جایا جائے گا۔کاون ہاتھی کو سری لنکا نے 1985 میں تحفے کے طور پر پاکستان کو دیا تھا اور اس وقت اس کی عمر محض ایک سال تھی۔کاون کو اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں رکھا گیا تھا اور انہیں چھوٹے جنگلے اور انتہائی محدود جگہ میں قید کردیا گیا تھا، جس وجہ سے ماہرین نے اس ہاتھی کی ذہنی و جسمانی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کاون ہاتھی کے ساتھی کو بھی سری لنکا سے 1995 میں پاکستان منتقل کیا گیا تھا مگر وہ ہاتھی 2012 میں ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد انسانی حقوق کے رہنماؤں نے کاون کے رہائی کے لیے جدوجہد شروع کی تھی۔کاون کو مرغزار چڑیا گھر سے نکالنے کے لیے گزشتہ دور حکومت کے دوران جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے دنیا بھر کے رہنماؤں نے ایک آن لائن پٹیشن پر 2 لاکھ کے قریب دستخط کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کاون کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

اسے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی پٹیشن کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو دیا گیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوا تو 2016 میں ایک بار پھر عالمی رہنماؤں نے دوسری پٹیشن پر دستخط کرکے حکومت سے دوبارہ ہاتھی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم اس وقت ایسا نہ ہوسکا، جس کے بعد نجی فلاحی تنظیم وائلڈ لائف منیجمنٹ نے مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے تقریباً 2 سال تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد 21 مئی 2020 کو تمام جانوروں کو 60 دن جبکہ کاون ہاتھی کو 30 دن میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔