- الإعلانات -

تمام فلم ساز ایک ہو جائیں پھر کوئی بھی بات نہیں دبا سکتا،عامر خان

ممبئی سماجی مسائل پر بڑی بے باکی سے اظہار خیال کرنے کی شہرت رکھنے والے بالی ووڈ سپر سٹار عامر خان نے منشیات کے خلاف بننے والی بھارتی فلم ’’اڑتا پنجاب ‘‘پر سنسر بورڈ کی جانب سے بعض پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے سنسر بورڈ کی جانب سے ’’اڑتا پنجاب ‘‘پر کٹ لگانے کی باتوں سے سنسر بورڈ کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آیا ہے، ان کے اس رویے سے اچھا کام کرنے والوں کے لئے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ۔

ذرائع  کے مطابق عامر خان کا کہنا تھا کہ ’’اڑتا پنجاب ‘‘ ایک سماجی فلم ہے جس میں نشے کی لت میں مبتلا افراد کو ایک اچھا اور بہتر سماجی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے ،. مجھے نہیں لگتا کہ فلم میں کچھ ایسا ہے جس میں کچھ کاٹ چھانٹ کرنی چاہئے یا ناظرین کو نہیں دیکھنے دینا چاہئے۔مسٹر پرفیکٹ کا کہنا تھا کہ فلم میں 89 کٹ لگانے کے سینسر بورڈ کے عجیب و غریب فیصلے کے بارے میں کہا کہ اس سے’’ سی بی ایف سی‘‘ کی تصویر خراب ہوگی اور ان کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آئے گا ۔ انہوں نے کہایہ بہت ضروری ہے کہ فلم سازوں کی اپنی ایک آواز ہو، جسے دبایا نہ جاسکے ،کسی بھی معاشرے میں آرٹسٹ کی آواز پر پابندی نہیں ہونی چاہئے، وہ جو بولنا چاہتا ہے، اسے بولنے دینا چاہئے۔ انہوں نے ’’اڑتا پنجاب‘‘ کی ٹیم کو اس کی آگے کی لڑائی کے لئے نیک خواہشات دیں۔