- الإعلانات -

حمزہ علی عباسی کے متنازعہ فیس بک پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا

سابق اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی ایک حالیہ فیس بک پوسٹ میں اپنےدینی عقائد اور نظریات کا اظہار کیا، جس کے بعد انھیں فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام وغیرہ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پوسٹ ڈالنے کے چند گھنٹوں کے ہی اندر ٹوئٹر پر حمزہ عباسی کے خلاف ٹرینڈ شروع ہو گیا، جس میں اسے شرم کرنے کا کہا گیا ہے

حمزہ علی عباسی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بہت سے موضوعات کو چھیڑا ہے۔ ان میں سے اکثر سے سوشل میڈیا صارفین مطمئن نہیں ہیں اور اس پر اسلام کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ مثلا حمزہ کے مطابق وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور امام مہدی کے ظہور پر یقین نہیں رکھتا۔ اس پر صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

حمزہ عباسی کے مطابق اسلام میں فنون لطیفہ کی تمام اقسام بشمول موسیقی کے جائز ہیں۔اللہ تعالی اور اس کے رسولوں کی گستاخی پر کوئی دنیاوی سزا مقرر نہیں ہے۔ مسلمان غیر مسلموں کے خلاف صرف ظلم کے خاتمے کے لیے جنگ و جدال کر سکتے ہیں۔ حمزہ عباسی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حضور ﷺ سے نکاح اور رخصتی پر بھی جمہور سے ہٹ کر مؤقف بیان کیا ہے۔

حمزہ علی عباسی کی حالیہ پوسٹ کو پچھلے ہفتے بی جے پی کے دو ترجمانوں کی طرف سے حضور ﷺ کی شان میں دیے گئے گستاخانہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے۔ حمزہ عباسی اسلامی سکالر جاوید احمد غامدی کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے اپنی پوسٹ میں غامدی صاب کے ادارے کو ٹیگ بھی کیا ہے۔

حمزہ عباسی نے پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ "وہ جانتے ہیں کہ عوام کی اکثریت ان کے نظریات سے اختلاف کرے گی، بہت سے یہ الزام لگائیں کہ میں نےمغرب اور لبرل دنیا کو خوش کرنے کے لیے اسلام کو توڑا مروڑا ہے، لیکن کسی بھی چیز کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار گالی کی بجائے دلائل کا غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تجزیہ ہونا چاہیے، نہ کہ بات کرنے والے کی نیت پر شک کیا جائے اور یہ دلیل دی جائے کہ اکثریت کیا رائے رکھتی ہے۔”