- الإعلانات -

عید کے موقعے پر صرف پاکستانی فلمیں

پاکستان میں اس بار عید کے موقعے پر کوئی بھی انڈین فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی اور صرف پاکستانی فلموں کے درمیان ہی مقابلہ ہے۔

طویل عرصے کے بعد ایسا ہوا ہے جب پاکستان میں عید کے تہوار پر کوئی انڈین فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی۔

عید الاضحیٰ کے موقعے پر تین پاکستانی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں جن میں ’ایکٹر ان لا،‘ ’زندگی کتنی حسین ہے‘ اور ’جانان‘ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بعض سینماؤں میں عاشر عظیم کی متنازع فلم ’مالک‘ بھی دکھائی جا رہی ہے جس پر وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اپریل میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم گذشتہ ہفتے سندھ ہائی کورٹ نے یہ پابندی اٹھانے کا حکم صادر کیا تھا۔

’ایکٹر ان لا‘ میں کی کاسٹ میں انڈیا کے معروف اداکار اوم پوری بھی شامل ہیں ۔

گذشتہ برسوں میں عید کے موقعے پر پاکستانی سینماؤں میں صرف انڈیا فلمیں ہی نمائش کے لیے پیش کی گئیں اور کوئی بھی پاکستانی فلم سینما گھروں کی زینت نہیں بن سکی۔ دو ماہ قبل عید الفطر کے موقعے پر ایک پاکستانی فلم کے ساتھ انڈین فلم ’سلطان‘ بھی دکھائی گئی تھی۔

اس سے پہلے پاکستانی سینما گھروں کے مالک نے عید کے موقعے پر پاکستانی فلم نہ ہونے کی وجہ سے پرانی پاکستانی فلموں کی نمائش کی ۔

Image copyrightFB MAALIK
Image caption’مالک‘ پر پابندی تو اٹھ گئی ہے تاہم اسے سینماؤں میں رات کو آخری شو میں دکھایا جا رہا ہے

عید پر فلم بینوں کو نئی فلموں کا انتظار ہوتا ہے جبکہ سینما مالکان کے لیے بھی یہ تہوار کاروباری اعتبار سے بڑے منافع بخش ہوتا ہے اور اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انھیں عید پر معیاری فلمیں مل جائیں ۔

پاکستانی فلمی صعنت کو یہ شکایت رہی ہے کہ عید پر پاکستانی فلموں کے ساتھ انڈین فلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی فلمیں کو پذیرائی نہیں ملتی۔

لاہور کے ایک سینما کے آپریشن مینجر جہانزیب علی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی فلموں کی نمائش سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ ان کے بقول سینما انڈسری کے فروع کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ انڈین فلموں کی نمائش ہونی چاہیے ۔

جہانزیب علی کے مطابق عید پر ایک ساتھ تین پاکستانی فلموں کی نمائش سے یہ شکوہ ختم ہو جائے گا کہ پاکستانی فلموں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔