- الإعلانات -

ہم جنس پرستوں کی شادی قانونی طور پر جائز قرار نہیں دی جاتی تب تک وہ بھی شادی نہیں کریں گے,کائلی مینوگ

آسٹریلوی گلوکارہ کائلی مینوگ کے منگیتر جن کا تعلق برطانیہ سے ہے کا کہنا ہے کہ جب تک آسٹریلیا میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانونی طور پر جائز قرار نہیں دی جاتی تب تک وہ بھی شادی نہیں کریں گے۔

48 سالہ آسٹریلوی سنگر کائلی مینوگ اور 28 سالہ برطانوی اداکار جوشوا ساسی نے رواں برس کے آغاز اپنی منگنی کا اعلان کیا تھا۔

یہ جوڑا شادی کا مساوی حق دینے کے لیے چلائی جانے والی مہم ’سے آئی ڈو ڈاؤن‘ نامی مہم کا حامی ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کی حکومت نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے حوالے سے عوامی رائے جاننے کے لیے 17 فروری 2017 میں ووٹنگ کرنے کی تجویز دی ہے۔

گذشتہ ہفتے کے آخر میں مسٹر ساسی نے ’یس‘ نامی مہم کے آغاز میں مدد کی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ میلبرن میں شادی کریں گے تاہم وہ تب تک شادی نہیں کریں گے جب تک ہم جنس پرستوں کی شادی کا قانون منظور نہیں ہو جاتا۔

سیون نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے ساسی کا کہنا تھا کہ ’مجھے بہت حیرت ہوئی جب میں نے یہ سنا کہ آسٹریلیا میں ہم جنس پرستوں میں شادی ممنوع ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چاہے یہ مذہبی، اخلاقی یا کوئی بھی معاملہ ہے، یہ میرا حق ہے کہ میں شخص سے شادی کروں، اس شخص سے جس سے میں محبت کرتا ہوں اور دوسرے اپنے جنسی رحجان کی وجہ سے نہیں کرتے۔‘

آسٹریلیا میں ہم جنس پرستوں میں شادی

  • اگر آسٹریلیا کی پارلیمان نے یہ قانون منظور کر لیا تو اگلے برس فروری میں عوام اس پر اپنی رائے دیں گے۔
  • ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا قانون کو تبدیل کرنا چاہیے اور ہم جنس پرست جوڑوں کو شادی کی اجازت دینی چاہیے۔
  • اس پولنگ پر 12 کروڑ روپے لگیں گے جس میں یس اور نو مہم کے فنڈز بھی شامل ہیں۔
  • ہم جنس پرستی کے حق میں بات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی اجازت کے لیے فیصلے کا اختیار پارلیمان کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔
  • ہم جنس پرستوں میں شادی کے کچھ حامیوں کے خیال میں اس پر عوامی بحث مثبت نہیں ہوگی۔