- الإعلانات -

مجھے تنقید کا نشانہ بنانے کی وجہ میرا مسلمان ہونا ہے. نصیر الدین شاہ

بولی وڈ اداکار نصیر الدین شاہ کے پاکستان کے حق میں دیئے جانے والے بیانات کے بعد اُن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہونے والی شدید تنقید کے جواب میں اداکار کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں انھیں صرف اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے کیوں کہ وہ ایک مسلمان ہیں. انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں بولی وڈ اداکار کا کہنا تھا، "میرا نام نصیر الدین شاہ ہے اور میرا خیال ہے کہ مجھے صرف اسی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے. مجھے یہ کہتے ہوئے شدید تکلیف ہورہی ہے کہ مجھے آج سے پہلے تک اپنی شناخت معلوم نہیں تھی”. نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا، "میرے خاندان کی 4 نسلیں ہندوستان میں رہائش پذیر ہیں، مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے.” 66 سالہ اداکار نے سوال کیا کہ اگر پاکستان کی اچھی چیزوں کی تعریف کی جائے تو اس میں "ہندوستان مخالف” کیا بات ہے. "اگر میں کہوں کہ عمران خان عظیم ہیں تو کیا اس سے سنیل گواسکر کم درجے کے کرکٹر ہوجائیں گے؟” سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی ہندوستان میں تقریب رونمائی کے موقع پر انتہاپسند ہندو جماعت شیو سینا کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا، "نفرت پھیلانے والے آج ہندوستان میں کھل کر کھیل رہے ہیں”. واضح رہے کہ نصیر الدین شاہ نے بھی دیگر کالم نگاروں اور دانشوروں کے ہمراہ ممبئی میں خورشید قصوری کی کتابِ رونمائی کی تقریب میں شرکت کی تھی. ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا،” میں کئی مرتبہ پاکستان گیا لیکن کسی پرفارمنس میں اس طرح سے رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، نہ پریشان کیا گیا اور نہ ہی کبھی کوئی دھمکی دی گئی، حتیٰ کہ مجھے کبھی بھی اپنے ساتھ سیکیورٹی نہیں لے جانی پڑی۔” نصیرالدین شاہ کے ان بیانات کے بعد انھیں ٹوئٹر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ شیو سینا نے خبردار کیا تھا کہ وہ مبمئی میں خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی نہیں ہونے دے گی، لیکن جب تقریب کے آرگنائزر سدھیندرا کلکرنی نے شیو سینا کی دھمکیوں کو ںظر انداز کردیا تو انتہا پسند جماعت کے کارکنوں نے ان پر سیاہ پینٹ سے حملہ کردیا۔ ہندوستانی ریاست اترپردیش کے ڈسٹرکٹ دادری میں گوشت کھانے پر تشدد سے ایک مسلمان شخص کی ہلاکت اور مصنفوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجاً اپنے ایوارڈ واپس کرنے والے 40 سے زائد ہندوستانی مصنفوں کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ "میری خواہش ہے کہ یہ مصنف اپنے ایوارڈز واپس کرنے کے بجائے اس حوالے سے احتجاجاً کچھ لکھتے کہ ہندوستان میں کیا ہورہا ہے۔” پدما بھوشان، سنگیت ناٹک اکیڈمی اور دیگر اعلیٰ ایوارڈز حاصل کرنے والے اداکار کا مزید کہنا تھا کہ "انھیں ایوارڈز سے کوئی مطلب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ انھیں واپس کرنے کی زحمت نہیں کریں گے”۔