- الإعلانات -

خمار بارہ بنکوی اردو غزل کے نامور شاعر

جگر مرادآبادی کی طرح خمار بارہ بنکوی بھی کلاسیکل غزل کے پرجوش حمایتی تھے۔ اس بنا پر انہیں ترقی پسند تحریک کی طرف سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا

لاہور  بارہ بنکی بھارتی ریاست اترپردیش کا ایک ضلع ہے جو فیض آباد ڈویژن میں ہے ۔ اس شہر میں کئی مشہور شخصیات نے جنم لیا ۔ ان میں بھارت کے نادر روزگار اداکار نصیرالدین شاہ اور ایک سابق سیاستدان رفیع احمد قدوائی بھی شامل ہیں ۔ لاجواب نغمہ نگار سرور بارہ بنکوی کا تعلق بھی اس علاقے سے تھا ۔ ایک اور باکمال غزل گو اور گیت نگار بھی بارہ بنکی میں پیدا ہوئے جن کا نام تھا خمار بارہ بنکوی ۔ خمار بارہ بنکوی کو عام طور پر ان کے ایک شہرہ آفاق گیت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ یہ گیت انہوں نے فلم ’’بارہ دری‘‘ کے لئے لکھا تھا اور اس کے بول تھے ’’تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘‘ ۔ یہ گیت کئی عشرے بعد بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ اس گیت کو گلوکار طلعت محمود نے گایا تھا اور بلاشبہ یہ طلعت محمود کے بہترین گیتوں میں سے ایک ہے

۔ 20 ستمبر 1919ء کو پیدا ہونے والے خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدر خان تھا۔ انہوں نے اپنا قلمی نام خمار بارہ بنکوی رکھا۔ بچپن سے ہی ان کوگھر میں ادبی ماحول ملا۔ ان کے والد ڈاکٹر غلام حیدر سلام اور مرثیے لکھتے تھے اور ان کا قلمی نام بہار تھا۔ ان کے چچا قرار بارہ بنکوی بارہ بنکی کے بڑے مشہور شاعر تھے اور انہوں نے خمار بارہ بنکوی کی بڑی رہنمائی کی۔ خمار بارہ بنکوی ان سے ہی اصلاح لیتے تھے۔ ان کے بھائی کاظم حیدر نگار بھی شاعر تھے لیکن ان کا چھوٹی عمر میں ہی انتقال ہو گیا۔ خمار بڑے ذہین طالبعلم تھے۔ انہوںنے سکول کی تعلیم سے فارغ ہو کر لکھنؤ کا رخ کیا تاکہ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر سکیں ۔ یہاں ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور انہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر شاعری شروع کر دی۔ ان کی آواز میں بڑا ترنم تھا اس لئے انہیں مشاعروں میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ پھر ان کی جگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی اور ایک طویل عرصے تک وہ ان سے وابستہ رہے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب جگر مراد آبادی اور خمار بارہ بنکوی مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کا شعر پڑھنے کا انداز بہت دلکش تھا اور پھر دونوں کی آواز بھی بڑی خوبصورت تھی۔ جگر مرادآبادی کی طرح خمار بارہ بنکوی بھی کلاسیکل غزل کے پرجوش حمایتی تھے۔ اس بنا پر انہیں ترقی پسند تحریک کی طرف سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ کلاسیکل غزل کی مسلسل حمایت کرتے رہے۔ انہوں نے فلمی گیت نگاری بھی کی اور اس میدان میں بھی اپنی صلاحیتوںکا لوہا منوایا۔ انہوں نے ’’شاہ جہاں‘ بارہ دری‘ ساز اور آواز اور لو اینڈ گاڈ‘‘ جیسی مشہور فلموں کے نغمات لکھے۔ خمار بارہ بنکوی موسیقار نوشاد کے بہت قریب تھے۔ 1966ء میںانہوںنے نوشاد کی فلم ’’ساز اور آواز‘‘ کے تمام نغمات تحریر کئے۔1986ء میں انہوں نے ’’لو اینڈ گاڈ‘‘ کے دوبارہ گیت لکھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’حدیثِ دیگران‘‘ ’’آتشِ تار‘‘ اور ’’رقصِ مے‘‘ شامل ہیں۔ 1945ء میں خمار بارہ بنکوی ایک مشاعرے کے سلسلے میں ممبئی گئے تو وہاں ان کی ملاقات ہدایت کار اے آر کاردار اور نوشاد سے ہوئی۔

انہوں نے خمار بارہ بنکوی کی غزلیں سنیں اور بڑے متاثرہوئے۔ اس وقت کاردار نے انہیں اپنی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کے گیت لکھنے کیلئے کہا۔ اس فلم کے لئے مجروح سلطانپوری بھی گیت لکھ رہے تھے۔ ان دونوں نغمہ نگاروںکے گیت سپرہٹ ہو گئے۔ ان دونوں نغمہ نگاروں کے گیتوں کو کے ایل سہگل‘ محمد رفیع‘ طلعت محمود‘ لتا منگیشکر‘ شمشاد بیگم اور گیتا دت نے اپنی آواز دی۔ سہگل کا گایا ہوا یہ گیت جو خمار بارہ بنکوی نے لکھا تھا بہت مقبول ہوا۔ اس کے بول تھے ’’چاہ برباد کرے گی ہم کو ہمیںمعلوم نہ تھا‘‘۔ 1955ء میں ’’بارہ دری‘‘ ریلیز ہوئی تو ان کے لکھے ہوئے نغمات نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ گیت تو بہت زیادہ مشہور ہوئے ’’تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘‘ اور ’’بھلا نہیں دینا جی بھلانہیں دینا‘‘ فلم ’’ہلچل‘‘ کے لئے ان کا لکھا ہوا یہ گیت بہت پسند کیا گیا۔ گیت ’’لوٹ لیا میرا قرار‘‘ اسے لتا منگیشکر نے گایا تھا۔ ان کی مشہور ترین فلموں میں ’’شاہ جہاں‘ دل کی بستی‘ روپ لیکھا‘ آدھی رات‘ مہربانی‘ ہلچل‘ جواب‘ رخسانہ‘ شہزادہ‘ کیپٹن شیرو‘ محفل‘ مہندی‘ قاتل‘ بارہ دری اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔

اگرچہ وہ ایک کامیاب نغمہ نگار تھے لیکن انہوں نے مشاعروںکو ترجیح دی۔ پھر وہ فلمی گیتوں کے گرتے ہوئے معیار سے بھی ناخوش تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ایک لمبے عرصے تک اپنے آپ کو بالی وڈ سے دور رکھا۔ ہم ذیل میں خمار بارہ بنکوی کی غزلوں کے کچھ اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ بجھ گیا دل حیات باقی ہے چھپ گیا چاند رات باقی ہے حالِ دل ان سے کہہ چکے سو بار اب بھی کہنے کی بات باقی ہے ۔ اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے آ جا کہ زہر کھائے زمانے گزر گئے ۔ غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس ، سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے ۔ ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی ، جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ۔ پیہم طوافِ کوچۂ جاناں کے دن گئے ، پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی ۔ واضح طور پر یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ خمار بارہ بنکوی اردو غزل کی کلاسیکی روایت کو کس مضبوطی سے لے کر چلتے ہیں ۔ اب ذیل میں ہم خمار بارہ بنکوی کے کچھ اور فلمی گیتوں کا ذکر کر رہے ہیں جن کی مقبولیت بھی ان کے ان گیتوں سے کچھ کم نہیں جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ۔ 1 ۔ دلہن بن کے آئی (ساز اور آواز)،2- من کا پنچھی شور مچائے (ناٹک)،3- دل لے کے چلے تو نہیں جائو گے (ناٹک)،4-رونا ہی لکھا تھا قسمت میں (آدھی رات)،5- تیر پہ تیر کھائے جا (روپ لیکھا)،6- خوشی مانگی تھی (بکھرے موتی)،7- گیت وفا کے گائے چلو (کیپٹن کشور)،8- او راجہ آنکھوں میں تو سما جا (کیپٹن کشور)،9- آج غم کل خوشی (جواب)،10- اے دلِ بے قرار جھوم (شاہ جہاں)۔یہ باکمال غزل گو اور نغمہ نگار1999ء میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا ۔