- الإعلانات -

انتہا پسند ’پدماوت‘ کے بعد کنگنا کی فلم کے پیچھے پڑگئے

ممبئی: بالی ووڈ کی متنازع فلم ’پدماوت‘ کے بعد کنگنا رناوت کی فلم  ُمانی کارنیکا؛ کوئین آف جھانسی‘ بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئی۔ 

بالی ووڈ تاریخ کی سب سے متنازع سمجھے جانے والی فلم’ پدماوت ‘ کو ابتداء سے آخر تک ہندو انتہا پسند جماعت کرنی سینا  کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے انتہاپسندوں کی جانب سے فلم میں تاریخی حقائق مسخ کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے فلم کو ریلیز کرنے کا حکم دیا جو کامیابی سے 2 سو کروڑ سے زائد کا بزنس کرچکی ہے لیکن اب انتہاپسندوں نے اداکارہ کنگنا رناوت کے خلاف محاذ کھڑا کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پور میں ہندو انتہا پسند تنظیم سروا برہمن مہاسبا کے صدر مشرا نے فلم میں حقائق کو مسخ کرنے کا  الزام عائد کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ راجھستان کے مختلف شہروں میں فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘ کی شوٹنگ  کی جارہی ہے جس کی کہانی ٖغیر ملکی مصنف کی کتاب پر مبنی ہے اور اس میں مہارانی لکشمی بائی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ فلم کے پروڈیوسر کو جانچ پڑتال کے لئے خط بھی لکھا تھا لیکن اُن کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انتہا پسند تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ مہارانی لکشمی بائی کا کسی سے معاشقہ ہو سکتا ہے لیکن فلم کی شوٹنگ کے دوران ایسا دکھایا جارہا ہے جب کہ انہوں نے کم عمری میں برطانوی سامراجوں سے لڑتے ہوئے جان گنوائی تھی اگر فلم اُن کی زندگی پر بنائی جارہی ہے تو یہ صرف اُن کی مثبت زندگی پر مبنی ہونی چاہئے۔

واضح رہے کہ کرش کی ہدایت کاری میں بننی والی فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘ میں کنگنا رناوت مرکزی کردار ادا کررہی ہیں جبکہ فلم جون 2018 میں سینما گھروں کی زینت بنے گی۔