- الإعلانات -

‘می ٹو’ نہیں بلکہ ‘یو ٹو’ مہم کی ضرورت ہے، شلپا شیٹھی

گزشتہ ہفتے بولی وڈ اداکارہ شلپا شیٹھی نے شادی کے 9 سال بعد انکشاف کیا تھا کہ ماضی میں ان کےسلمان خان سے تعلقات رہے ہیں۔

ساتھ ہی اداکارہ نے انکشاف کیا تھا کہ کالج کے زمانے میں بھی ایک لڑکے سے ان کے تعلقات قائم تھے، تاہم بعد ازاں وہ بھی ختم ہوگئے۔

اگرچہ شلپا شیٹھی ماضی میں بھی خواتین کے حقوق اور سماجی مساوات کے حوالے سے بات کرتی رہی ہیں، تاہم اب انہوں نے بولی وڈ میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے خواتین کو اہم مشورہ دیا ہے۔

شلپا شیٹھی نے گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے والی اداکارہ تنوشری دتہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو کسی خوف کے بغیر اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو سامنے لانا چاہیے۔

43 سالہ شلپا شیٹھی چاہتی ہیں کہ تمام اداکارائیں اور خواتین اپنے ساتھ ہونے والے ہراساں اور نامناسب واقعات کو سامنے لائیں، تاہم وہ چاہتی ہیں کہ خواتین ایسے واقعات کو سامنے لاتے وقت ‘می ٹو’ کا استعمال کرنے کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں۔

شلپا شیٹھی کا ماننا ہے کہ خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنا یا انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنا عورتوں کی غلطی نہیں، بلکہ مردوں کی غلطی ہے، اس لیے خواتین کو ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ استعمال کرکے مرد حضرات کو اپنی غلطی کا احساس دلانا چاہیے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی نشریاتی ادارے ‘پریس ٹرسٹ آف انڈیا’ (پی ٹی آئی) سے بات کرتے ہوئے شلپا شیٹھی کا کہنا تھا کہ بولی وڈ خواتین کو چاہیے کہ وہ ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں اور مرد حضرات کو احساس دلائیں کہ وہی غلط تھے۔

شلپا شیٹھی کا کہنا تھا کہ ‘می ٹو’ استعمال کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواتین ہی غلط تھیں اور وہی متاثر ہوئیں، تاہم اگر ‘یو ٹو’ کا استعمال کیا جائے گا تو مرد حضرات کو ہی مجرم سمجھا جائے گا، کیوں کہ ‘یو ٹو’ سے انہیں احساس ہوگا کہ دیگر مرد حضرات کی طرح وہ بھی خواتین کو ہراساں کرنے والوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ‘می ٹو’ کے بجائے ‘یو ٹو’ کا استعمال کریں۔

خیال رہے کہ ’می ٹو’ کے ذریعے خواتین اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات کو بیان کرتی ہیں، سوشل میڈیا پر یہ مہم گزشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوئی تھی، جب ہولی وڈ کی متعدد خواتین نے ہولی وڈ پروڈویسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین نے ہی پہلی بار ٹوئٹر ہر ‘می ٹو’ کا ٹرینڈ استعمال کیا تھا، جس کے بعد اب تک ہولی وڈ سمیت بولی وڈ اور دنیا کے دیگر شعبوں کی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے اس ٹرینڈ استعمال کرتی ہیں۔