انٹر ٹینمنٹ

آدم خوروں پر بنی فلم ’درج‘ کو نمائش کی اجازت نہ مل سکی

فلم ساز شمعون عباسی کی آنے والی ہارر فلم ’درج‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی اور اب خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی فلم ملک میں ریلیز نہیں کی جائے گی۔

فلم کی ٹیم کے پاس اجازت نہ دیے جانے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر فلم کی ٹیم نے فلم سینسر بورڈز کے خلاف درخواست دائر کردی تو اس پر سماعت کرنے والا پینل فلم کو ریلیز کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

فلم ساز شمعون عباسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی فلم کو پنجاب اور سندھ سینسر بورڈز کے علاوہ مرکزی سینسر بورڈ نے بھی اجازت نہیں دی۔

شمعون عباسی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سندھ اور پنجاب فلم سینسر بورڈز نے ان کی فلم کو نمائش کی اجازت دی تھی، تاہم مرکزی فلم سینسر بورڈ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے بعد دونوں صوبائی بورڈز نے بھی اجازت منسوخ کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں فلم کو نمائش کی اجازت نہ دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر فلم کو کس اعتراض پر روکا گیا؟

ماہرہ خان نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ
ماہرہ خان نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی فلم میں کوئی بھی قابل اعتراض منظر نہیں اور نہ ہی اس میں شدید خون خرابا دکھایا گیا ہے، تاہم پھر بھی نہ جانے کیوں ان کی فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شمعون عباسی کے مطابق ’درج‘ پنجاب کے 2 بھائیوں کی سچی کہانی سے متاثر ہوکر بنائی گئی فلم ہے اور اس کی کہانی تحقیق کے بعد لکھی گئی۔

ان کے مطابق فلم کی کہانی قبروں سے 100 مردے نکال کر کھانے والے افراد کے گرد گھومتی ہے اور اس میں کوئی بھی ایسا سین نہیں جس کی بنیاد پر فلم کو نمائش سے روکا جائے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس فلم سینسر بورڈز کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اختیار ہے اور وہ اس کو استعمال کریں گے۔

شمون عباسی بھی مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے—اسکرین شاٹ
شمون عباسی بھی مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے—اسکرین شاٹ

دوسری جانب سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر (سی بی ایف سی) کے چیئرمین دانیال گیلانی نے بھی فلم کو نمائش کی اجازت نہ دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں ایسے مناظر تھے جس کی وجہ سے اسے ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: شمعون عباسی کی ’درج‘ کو دنیا بھر میں ریلیز تاریخ مل گئی

واضح رہے کہ ’درج‘ کی کہانی اگرچہ آدم خور انسانوں کے گرد گھومتی ہے لیکن فلم میں ایک ساتھ دوسری کہانیاں بھی دکھائی جائیں گی لیکن تمام کہانیوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔

فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر میں جہاں ایک خاتون کو اپنے لاپتہ شوہر کو تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہیں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ ان کے لاپتہ شوہر کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش قبر سے نکال کر غائب کردی جاتی ہے اور شوہر کو تلاش کرتی خاتون کو کئی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فلم کے ٹریلر کو بہت سراہا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کے ٹریلر کو بہت سراہا گیا تھا—اسکرین شاٹ

جہاں ’درج‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت نہیں مل سکی وہیں اس فلم کو آئندہ ہفتے متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ و یورپ کے دیگر ممالک میں ریلیز کیا جائے گا۔

’درج‘ کی ہدایات شمعون عباسی نے دی ہے جب کہ انہوں نے اس کی کہانی بھی لکھی ہے۔

فلم کی کاسٹ میں جہاں خود شمعون عباسی ایکشن دکھاتے نظر آئیں گے تو وہیں ان کے ساتھ مائرہ خان، شیری شاہ، نعمان جاوید اور دیگر اداکار شامل ہیں۔

شازیہ خشک کا موسیقی چھوڑنے کا اعلان

ملک کی نامور لوک گلوکارہ شازیہ خشک نے موسیقی کو خیرباد کہہ کر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کردیا۔

شازیہ خشک نے 1984 میں گلوکاری کی شروعات کی تھی، انہوں نے پہلی بار سندھ کے شہر جامشورو میں واقع ’سندھ یونیورسٹی‘ میں منعقد ایک کانفرنس میں اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔

انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت نہیں لی تھی اور بطور گلوکارہ کا 1992 میں پاکستان ٹیلی وژن سے کیریئر کا آغاز کیا۔

گلوکاری شروع کرنے سے قبل ہی سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم خشک سے شادی کرلی تھی اور ان کی فرمائش پر ہی انہوں نے موسیقی کو پیشے کے طور پر اختیار کیا۔

شازیہ خشک سندھی و بلوچی ثقافتی لباس شوق سے پہنتی ہیں—فوٹو: فیس بک
شازیہ خشک سندھی و بلوچی ثقافتی لباس شوق سے پہنتی ہیں—فوٹو: فیس بک

شازیہ خشک جامشورو میں ہی محکمہ تعلیم میں ملازمت کرنے والے ایک سرکاری افسر کے گھر میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم حاصل کی۔

شازیہ خشک کی مادری زبان کشمیری تھی تاہم جامشورو میں جنم لینے، وہاں پلنے اور بڑے ہونے کی وجہ سے انہیں سندھی زبان پر عبور حاصل تھا۔

انہوں نے سندھی، اردو، بلوچی، کشمیری، ڈھاٹکی، تھری، پنجابی اور کشمیری سمیت ملک کی دیگر زبانوں میں گیت گائے اور گزشتہ 25 سال سے موسیقی کی دنیا میں راج کرتی رہیں۔

سندھ کے ثقافتی دن پر بھی شازیہ خشک عوامی میلوں میں پرفارمنس کرتی رہی ہیں—فوٹو: اے اسٹاک
سندھ کے ثقافتی دن پر بھی شازیہ خشک عوامی میلوں میں پرفارمنس کرتی رہی ہیں—فوٹو: اے اسٹاک

شازیہ خشک نے پنجابی اور اردو زبان کے بھی متعدد معروف گیت گائے اور انہوں نے تقریباً 12 میوزک البم جاری کیے۔

تاہم اب انہوں نے اچانک موسیقی کو خیرباد کہہ مداحوں کو حیران کردیا۔

شازیہ خشک کو چاروں صوبوں میں یکساں مقبولیت حاصل رہی—فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر
شازیہ خشک کو چاروں صوبوں میں یکساں مقبولیت حاصل رہی—فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر

شازیہ خشک نے موسیقی کو چھوڑ کر اسلامی تعلیمات کے مطابق بقیہ زندگی گزارنے کا اعلان کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکارہ نے اپنی مرضی کے مطابق موسیقی کو چھوڑنے کا فیصلہ کرکے اسلام کی خدمت کرنے کا اعلان کیا۔

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی بیرون ممالک سے میوزک کنسرٹ کرنے کی پیش کش موصول ہو رہی ہیں، تاہم اب وہ مزید موسیقی کی دنیا میں رہنا نہیں چاہتیں اور اب وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں گی۔

شازیہ خشک کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے تحت زندگی گزارنے کی کوشش کریں گی بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کی ترویج بھی کریں گی۔

ڈان نیوز کی جانب سے موسیقی چھوڑنے کے فیصلے کے حوالے سے شازیہ خشک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا اور آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکی کہ شازیہ خشک نے اچانک موسیقی چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا؟

شازیہ خشک کے قریب رہنے والے چند افراد نے بتایا کہ انہوں نے بھی میڈیا کے ذریعے ہی گلوکارہ کی جانب سے موسیقی چھوڑنے کی خبر سنی ہے۔

’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کے بعد ’لندن نہیں جاؤں گا‘

لاہور: ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کے بعد ’لندن نہیں جاؤں گا‘ فلم سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

پاکستان کی سپرہٹ فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کے ہدایت ندیم بیگ اب اپنی ہدایتکاری میں نئی فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ بنارہے ہیں جس میں مرکزی کردارہمایوں سعید ادا کریں گے تاہم اداکارہ کا نام سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ فلم کا اسکرپٹ خلیل الرحمان قمرکی جانب سے لکھا گیا ہے۔ فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ عید الضحی کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔

فلم کا نام سامنے آنے کے بعد فلم کو ندیم بیگ کی پرانی فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کا سیکوئل کہا جارہا تھا پر ہدایتکارکی جانب اس بات کی مکمل تردید کی گئی اورانہوں نے کہا کہ ان کی نئی فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کا سیکوئل نہیں بلکہ بالکل ایک مختلف کہانی ہے جو کامیڈی، رومانس سے بھرپورہے۔

واضح رہے کہ ندیم بیگ کی فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ نے ریکارڈ توڑبزنس کرکے پاکستانی سینما میں نئی تاریخ رقم کردی تھی۔

ہولی وڈ اداکار پر’پورن اسکول‘ چلانے اور کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کا الزام

ماضی میں دنیا کے ’پرکشش ترین مرد‘ کا اعزاز حاصل کرنے والے اور آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد اداکار 41 سالہ جیمز فرانکو کے خلاف 2 نوجوان خواتین نے ’پورن اسکول‘ چلانے اور نوجوان لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کا مقدمہ دائر کردیا۔

’اسپائیڈر مین‘ اور ’127 اور‘ جیسی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والے جیمز فرانکو کے خلاف لاس اینجلس کی سپریم کورٹ میں خواتین نے سول مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان پر سنگین الزامات لگائے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سارہ ٹیتھر پکلان اور ٹونی گال نامی اداکاراؤں نے جیمز فرانکو کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بھی اداکار کے جعلی پورن اسکول میں جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

اداکار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی اداکاراؤں نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں دعویٰ کیا کہ جیمز فرانکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر ایک جعلی ’پورن اسکول‘ چلاتے ہیں، جہاں نئے لڑکوں اور لڑکیوں کو اداکاری کی تربیت دینے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

جیمز فرانکو کے اداکارہ ازابیل پکزاد سے بھی تعلقات کی خبریں ہیں —فوٹو: اے ایف پی
جیمز فرانکو کے اداکارہ ازابیل پکزاد سے بھی تعلقات کی خبریں ہیں —فوٹو: اے ایف پی

درخواست میں کہا گیا کہ اس اسکول میں داخلہ لینے والی کم عمر اداکاراؤں کو فحش ماڈلنگ کے عوض 750 ڈالر رقم کی ادائیگی تک کی جاتی ہے۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ جیمز فرانکو کے جعلی اسکول میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان سے فحش سین عکس بند کروائے جاتے ہیں۔

لڑکیوں کے مطابق دوران تعلیم ان کا بھی جنسی استحصال کیا گیا اور انہیں بھی فحش ماڈلنگ سمیت پورن سین ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اداکار کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ جیمز فرانکو کے اسکول میں ’ماسٹر آف سیکس سین‘ اور ’نیوڈٹی ماڈلنگ‘ جیسے کورس کروائے جاتے رہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ اسکول اداکار نے 2014 میں کھولا اور وہ 2017 تک کام کرتا رہا اور اس دوران ریکارڈ کیے گئے کم عمر لڑکیوں کے فحش سین اور تصاویر کو غلط استعمال کیا گیا۔

ساتھ ہی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ’پورن اسکول‘ میں خصوصی طور پر کم عمر و خوبرو لڑکیوں کی برہنہ اداکاری کرنے اور فحش سین شوٹ کروانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

درخواست دائر کرنے والی خواتین نے اداکار کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے نقصان کو پورا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جیمز فرانکو کے خلاف الزامات لگانے والی خواتین عدالت گئی ہیں، اس سے قبل بھی ان کے خلاف کم عمر لڑکیوں نے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگائے تھے، تاہم وہ ان کے خلاف عدالت نہیں گئی تھیں۔

جیمز فرانکو نے 1997 میں اداکاری کا آغاز کیا لیکن انہیں شہرت 2000 کے بعد ملی اور انہیں 2009 میں ایک فیشن میگزین نے دنیا کے پرکشش ترین مرد حضرات کی فہرست میں نمایاں نمبر پر رکھا۔

دنیا کے پرکشش مرد حضرات کی فہرست میں نام آنے کے بعد کئی خواتین ان کی فین ہوگئیں اور ان کے بہت سارے افیئرز کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

جیمز فرانکو کو اپنے جنسی رجحانات کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے، وہ دبے الفاظ میں ہم جنس پرستی کا اعتراف کرنے سمیت مخالف جنس میں دلچسپی رکھنے کا بھی اعتراف کر چکے ہیں۔

جیمز فرانکو 2009 میں دنیا کے پرکشش ترین مرد بھی رہ چکے ہیں —فوٹو: اے پی
جیمز فرانکو 2009 میں دنیا کے پرکشش ترین مرد بھی رہ چکے ہیں —فوٹو: اے پی

کشمیر سے متعلق بیان نہ دینے پر رابی پیرزادہ نے مہوش حیات کو آڑے ہاتھوں لے لیا

 کراچی: گلوکارہ رابی پیرزادہ نے معصوم کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم سے متعلق بیان نہ دینے پر مہوش حیات کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

رابی پیرزادہ نے انسٹا گرام پر اپنی اور مہوش حیات کی مشترکہ ایک تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مہوش مجھ سے زیادہ بہتر ہیں کیوں کہ میرے والدین مجھے اجازت نہیں دیتے کہ میں ’ بلی‘ جیسے آئٹم سانگ کروں اور خاص لوگوں سے دوستی کروں۔

رابی پیرزادہ نے یہ بھی کہا کہ مہوش حیات کا جتنا تجربہ ہے اتنا تجربہ میرا نہیں لیکن میں تصور بھی نہیں کرسکتی کہ کوئی پاکستانی کشمیر پر لب نہ کھولے خواہ کوئی بھی صورتحال ہو۔

گلوکارہ و اداکارہ رابی پیرزادہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مہوش حیات کی سرجری سے پہلے اور بعد کی تصاویر دیکھی ہیں۔ وہ اب پہلے سے زیادہ حسین ہوگئی ہیں جوکہ سچ بات ہے۔ در حقیقت میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں اپنے چہرے اور ہونٹوں کو بہتر کرسکوں بلکہ میرے نزدیک اللہ کی تخلیق کو بگاڑنے سے بہتر یہ ہے کہ میں اس رقم سے کسی کی مدد کر دوں۔

واضح رہے کہ اداکارہ مہوش حیات کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گفتگو کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

فردوس جمال کے بیانات سے تنگ بیٹے کا شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان

لاہور: سینئر اداکار فردوس جمال کے بیٹے اداکار حمزہ فردوس نے شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

سینئر اداکار فردوس جمال نے کچھ عرصہ قبل ایک انٹریو میں اداکارہ ماہرہ خان کو ’ماں‘ والے کردار کرنے کا مشورہ دیا تھا اور ان کے بیٹے نے ان کے اس بیان کی حمایت کی تھی جب کہ اب انہوں نے ڈرامہ سیریل ’رانجھا رانجھا کردی‘ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے اداکار عمران اشرف کے کردار ’بھولا‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس بار حمزہ فردوس نے اپنے والد کی مخالفت کرتے ہوئے عمران اشرف کے کردار کی تعریف کی لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ اب مزید اپنے والد کے بیانات کا دفاع نہیں کریں گے اس لیے انہوں نے پاکستانی شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کرکے اپنے مداحوں کو حیرت میں مبتلا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملالِ یار اور بن بادل برسات پاکستان میں میرے آخری ڈرامے ثابت ہوں گے۔

واضح رہے حمزہ فردوس ملالِ یار، بن بادل برسات، میرا نصیب، عشق زہ نصیب سمیت متعدد ڈارموں میں کام کرچکے ہیں۔

‘الف’ کا مکمل ٹریلر اور گانا بھی سامنے آگیا

حمزہ علی عباسی اور سجل علی کے جلد ریلیز ہونے والے ڈرامے ‘الف’ کا مکمل ٹریلر اور او ایس ٹی بھی ریلیز کردیا گیا۔

‘الف’ کے ٹریلر میں ڈرامے کی مکمل کاسٹ کو پیش کیا گیا جس میں حمزہ علی عباسی اور سجل علی کے ساتھ احسن خان، کبریٰ خان، عثمان خالد بٹ، سلیم معراج اور سرمد صہبائی شامل ہیں۔

‘الف’ میں حمزہ علی عباسی ‘قلب مومن’ نامی مغرور اور بے باک فلم ساز کا کردار نبھارہے ہیں جبکہ سجل علی ‘مومنہ سلطانہ’ نامی ایک ایسی لڑکی کے روپ میں نظر آئیں جو اداکارہ بننے کی خواہشمند ہیں۔

دوسری جانب احسن خان رومی سے متاثر کردار ادا کررہے ہیں جبکہ کبریٰ خان ایک ڈانسر بنی ہیں۔

اس ڈرامے کا او ایس ٹی (اوریجنل ساؤنڈ ٹریک) شجاع حیدر اور مومنہ مستحسن نے گایا جبکہ اس کی کمپوزیشن خود شجاع حیدر نے دی ہیں۔

یاد رہے کہ ‘الف’ کی کہانی عمیرہ احمد نے تحریر کی جبکہ اس کی ہدایات حسیب حسن دے رہے ہیں۔

ڈرامے کی پہلی قسط 5 اکتوبر کو رات 8 بجے جیو ٹی وی پر نشر ہوگی۔

ریلیز سے قبل ’زندگی تماشا‘ عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد

فلم ساز سرمد کھوسٹ کی فیچر فلم ’زندگی تماشا‘ کا ٹریلر 2 دن قبل ہی جاری کیا گیا تھا، جس نے ریلیز ہوتے ہی شائقین میں پذیرائی حاصل کرلی تھی۔

فلم کے جاری کیے گئے مختصر دورانیے کے ٹریلر سے فلم کی کہانی سمجھنا مشکل ہے، تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی انتہائی حساس اور اہم موضوع کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کے ٹریلر میں عندیہ دیا گیا تھا کہ فلم میں مذہب اور سیاست کا لبادہ اوڑھے لوگ کس طرح اپنا مقاصد حاصل کرتے ہیں۔

فلم میں کچھ کرداروں کو بظاہر اچھے مگر چھپے ہوئے خراب کرداروں میں بھی دکھایا گیا تھا۔

فلم کا ٹریلر دو دن قبل ہی ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کا ٹریلر دو دن قبل ہی ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

ٹریلر میں ہی اگرچہ یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ فلم کا انٹرنیشنل پریمیئر جنوبی کوریا میں ہونے والے ’بوسان فلم فیسٹیول‘ میں ہوگا جو کل سے شروع ہو رہا ہے۔

تاہم اب فلم کے آفیشل ٹوئٹر پر بتایا گیا کہ ’بوسان فلم فیسٹیول‘ میں نہ صرف فلم کی نمائش ہوگی بلکہ اسے اہم ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر بتایا گیا کہ فلم کو بوسان فیسٹیول میں دیے جانے والے ایوارڈ ’کم جیسوئک‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو دنیا بھر سے پیش کی جانے والی سب سے نمایاں فلم کو دیا جائے گا۔

فیسٹیول میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کی فلمیں بھی پیش کی جائیں گی، جن میں مختلف فلموں میں ایوارڈز دیے جائیں گے۔

ایمان سلیمان نے فلم میں اہم کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ
ایمان سلیمان نے فلم میں اہم کردار ادا کیا ہے—اسکرین شاٹ

اگرچہ ’زندگی تماشا‘ کو بوسان فلم فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا، تاہم اسے پاکستان میں ریلیز کرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ فلم کو رواں برس کے اختتام یا پھر 2020 کے آغاز میں ریلیز کیا جائے گا۔

فلم کی کہانی نرمل بانو نے لکھی ہے اور اسے سرمد کھوسٹ نے بنایا ہے، جنہوں نے اس سے قبل ’منٹو‘ بنائی تھی۔

فلم کی کاسٹ میں عارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

Google Analytics Alternative