- الإعلانات -

امریکی صدر ہونا سنجیدہ کام ہے”براک اوباما”

کیلی فورنیا: امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ داعش جہاں بھی سر اٹھائے گی،اسکے پیچھے جائیں گے، روس کی شام میں کارروائی سے داعش کے خلاف جنگ کو فرق نہیں پڑے گا،روسی صدر کے لئے بہتر ہے کہ وہ سیاسی تبدیلی میں مدد دیں، جنگ بندی کے لئے میونخ معاہدے پر عملدرآمد سے پتہ چلے گا کہ شام میں سیاسی تبدیلی ممکن ہے یا نہیں،ی پبلکنز کی بیان بیازی سے دنیا بھر میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ٹرمپ صدر نہیں بن سکیں گےٍ، امریکی صدر ہونا سنجیدہ کام ہے، یہ ریئلٹی شو کی میزبانی نہیں ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلی فوررنیا میں آسیان سمٹ کے اختتام پر بریفنگ کے دوران صدر اوباما نے کہا وہ داعش کو لیبیا میں قدم جمانے نہیں دیں گے۔ داعش جہاں بھی سر اٹھائے گی،اسکے پیچھے جائیں گے، روس کی شام میں کارروائی سے داعش کے خلاف جنگ کو فرق نہیں پڑے گا۔انھوں نے کہاکہ روسی صدر کے لئے بہتر ہے کہ وہ سیاسی تبدیلی میں مدد دیں، جنگ بندی کے لئے میونخ معاہدے پر عملدرآمد سے پتہ چلے گا کہ شام میں سیاسی تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اتحادی ممالک داعش کو ختم کر دیں گے۔ امریکی صدر اوباما نے ری پبلیکنز کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ری پبلکنز کی بیان بیازی سے دنیا بھر میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ٹرمپ صدر نہیں بن سکیں گےٍ، امریکی صدر ہونا سنجیدہ کام ہے، یہ ریئلٹی شو کی میزبانی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف بیانات اور جذبات بھڑکانے سے ووٹ نہیں ملیں گےٍ اور صرف ٹرمپ ہی نہیں صدارتی انتخابات کے دوڑ میں شامل دیگر ری پبلیکنز کا بھی یہی حال ہےٍ۔امریکا کا صدر بننا مشکل اور سنجیدہ کام ہےٍ، یہ کسی ریئلٹی شو کی میزبانی نہیں ہے۔ انہیں امریکی عوام پر مسلسل اعتماد ہےٍ اور ڈونلڈ ٹرمپ صدر نہیں بن سکتے۔اس سے پہلے امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن نے ایک جلسے کے دوران کتے کی آواز نکال کر ری پبلیکنز کو تنقید کا نشانہ بنایاٍ تھا۔واضح رہے کہ ریاست جنوبی کیرولائنا میں پرائمری پولنگ سے قبل ہی ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان الفاظ کی جنگ میں تیزی آرہی ہےٍ۔ دونوں جانب سے رہنما ایک دوسرے کو خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔