- الإعلانات -

ترکی خود کے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا "ترکی صدر”

انقرہ:  ترکی نے انقرہ میں بم دھماکے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے سرحد پار سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کی حکومت نے دارالحکومت انقرہ میں بم دھماکہ کرنے والوں کے خلاف ترکی اور سرحد پار سخت جوابی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اس دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 61افراد زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد طیب اردگان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کی وجہ سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔انھوں نے کہاکہ ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقع پر اپنے خود کے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ صدر اردگان نے بھی اپنا آذربائیجان کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔اس سے قبل ترک فوج نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ دھماکہ اشارے پر انتظار کرتے ہوئے فوجی قافلے کے قریب ہوا ہے۔اس دھماکے کے بعد ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو پہلے ہی اپنا دورہ برسلز منسوخ کر چکے ہیں۔وزیر اعظم ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ملک کے صدر طیب اردگان نے کہا ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقع پر اپنے خود کے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کریگا۔انقرہ میں بم دھماکے کے چند گھنٹے بعد طیب اردگان کی طرف جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کے جواب دینے کے لیے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔